🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
عالم کی موت اصل میں عالم کی موت ہے، آپ کے وصال پر علماء و مشائخ کو نہایت افسوس ہوا انہوں نے اپنے جذبات کو نظم میں قلمبند کیا ۔ ان حضرات کے اسماء گرامی درج ذیل ہیں:

٭ شیخ الدلائل حضرت مولانا سید عبد الفتاح رضوانی صاحب مسجد نبوی شریف ، مدینہ منورہ
٭ پیر محمد اسماعیل جان ’’ روشن ‘‘ سر ہندی ( صاحب دیوان روشن فارسی ) سامار و ضلع عمر کوٹ
٭ مولانا حکیم مطیع الرحمن صاحب مطیع ضلع فیض آباد انڈیا
٭ مفتی محمد صاحبداد خان ناصح جمالی ( جامع فتاویٰ قاسمیہ
٭ مولانا محمد عظیم ’’ شیدا ‘‘ سولنگی
(مصنف سیرت مصطفی سندھی) نصیر آباد
٭ مولانا قمر الدین مہیسر صاحب مدیر مہیسر ـ دگانو مہیسر
٭ قاضی محمد ابراہیم صاحب ـ شہداد کوٹ
٭ ماسٹر جان محمد صاحب محسن
٭ مولوی نزیر حسین جتوئی ـ رتودیرو

ان میں سے چند قطعات درج ذیل ہیں:
مفتی محمد صاحبداد خان ’’ ناصح ‘‘ جمالی:

آن امام محمد قاسم
کہ بحسن خصال بود فرید

کس نظیرش ندید در عالم
خلق حق را بخلق نیک خرید

گفت ’’ ناصح ‘‘ سنش بزیب جلوس
’’ طائر روح او بعرش پرید ‘‘
۱۳۴۹ھ

قاضی محمد ابراہیم کارڑائی شہداد کوٹ:

آن فقید المثیل و حبر امین
مفتی عصر فاضل یاسین

بے سر وقف گفتش تاریخ
’’ فخر احناف زیب زمرہٗ دین ‘‘
۱۳۴۹ھ

پیر محمد اسماعیل روشن سر ہندی:

محمد قاسم آں علامہ دہر
نکو رو و نکو خو و نکو نام

ہزاراں طالبان نردش رسانید
نصاب علم حقانی بانجام

زوصلش گفت ’’ روشن ‘‘ باصد آہ !
بگو کل گشت ’’ شمع اہل اسلام ‘‘
۱۳۴۹ھ

حکیم مطیع الرحمن ’’ مطیع ‘‘:

جو محمد قاسم اہل فیض تھے
عالم بے مثل یکتائے جہاں

دے کے داغ غم مہ ذیقعد میں
چل بسے وہ جانب باغ جناں

سال رحلت تم سناوٗ اے ’’ مطیع ‘‘
’’ واصل رب ہو گیا فخر زماں ‘‘

( ماخوذ :۔ تذکرہ مشاہیر سندھ ۔ مہران سوانح نمبر ۱۹۵۷ء ۔ روشن صبح سندھی ۔ مختصر سوانح حیات سندھی طبع قدیم مرتبہ : مولانا محمد حسین کھاوڑ ایڈیٹر الحنیف ) ـ

قطعہ تاریخ وصال:

ضیائی قدر مولانا ضیائی
کہ بودش با محمد خوش دعائی

سر سرمایہ علم و ادب بود
معلی یایہ علم و ادب بود

منا جاتی اجل آمد برمن
بجنت رفست روح جلد ترمن

زمر من جھانے شد یراز غم
کہ موت عالم آمد موت عالم

بخلق احسن و فرخندہ روئی
ازیش عالم بخود بردہ نکوئی

چو بانگ ارجعی درگوش من رفت
زفرط شادمانی ھوش من رفت

رواں جانم بہ جنت شد شتابی
بہ نعمتھائی حق شد بھریابی

بحمد اللہ کہ بودش رحم برمن
کہ اعلیٰ یایہ شد کرم برمن

کہ بود بسیت ھشتم ماہ صفر
ختم شد زندگی من باالمظفر

زصبح روز خمس جاں ازیں رفت
’’ سن او سوئے فردوس بریں رفت ‘‘
۱۳۹۷ھ

’’ضیائی‘‘ درحتش داعی است ھر دم
کہ در جنست بودبس شاد و خرم

مولانا مفتی محمد ابراہیم ’’ ناظم ‘‘ یاسینی

حضرت مولانا حافظ مفتی محمد ابراہیم بن حضرت مولانامفتی محمد ہاشم گڑھی یاسین ( ضلع شکار پور سندھ ) میں ۱۳۰۷ھ بمطابق ۱۸۹۰ء کو تولد ہوئے ۔ آپ حضرت مولانا مفتی محمد قاسم یاسینی ( صاحب فتاویٰ قاسمیہ ) کے چھوٹے بھائی تھے ۔

تعلیم و تربیت:
مفتی محمد ابراہیم نے ناظرہ قرآن مجید اور فارسی کتب کا درس اپنے والد ماجد سے لیا۔ اس کے بعد والد ماجد کے شاگرد قاری حافظ نور محمد کے یہاں قرآن مجید حفظ کیا ۔ والد ماجد کے انتقال کے بعد اسکول کی تعلیم مکمل کر کے عربی علوم و فنون کی تعلیم اپنے بڑے بھائی حضرت مولانا مفتی محمد قاسم یاسینی سے حاصل کی اور مدرسہ ہاشمیہ قاسمیہ گڑھی یاسین سے فارغ التحصیل ہوئے ۔

بیعت:
آپ سلسلۂ نقشبندیہ میں حضرت خواجہ محمد حسن جان سر ہندی کے والد حضرت خواجہ عبدالرحمن سر ہندی (درگاہ ٹنڈو سائینداد) سے بیعت تھے اور سلسلہ قادریہ میں اویسی تھے ۔

درس و تدریس:
آپ تعلیم و تدریس کو خدمت دین بلکہ عبادت سمجھتے تھے ۔ رحلت سے تقریباً ایک برس قبل ایک بار بیمار ہوئے بخار کی شدت سے جسم تپ رہا تھا ۔ غالباً کمزوری کی وجہ سے لرزہ بھی طاری تھا ۔ تکیوں کے سہارے بھی چین کے ساتھ بیٹھ یا لیٹ نہیں سکتے تھے ۔ اس حال میں بھی درس دے رہے تھے ۔ اس وقت آپ کے ایک شاگرد حافظ خیر محمد اوحدی بھی موجود تھے ۔ انہوں نے غرض کیا کہ ایسی کیفیت میں درس دینا ضروری نہیں ہے۔ آپ آرام کیجئے ۔ طلبہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمانے لگے کہ ’’ یہ امید لے کر میرے پاس آتے ہیں میں ان کو نا امید کیسے کروں ‘‘ حدیث شریف کا درس دیتے ہوئے عقیدت و احترام کے تمام لوازمات کو ملحوظ رکھتے تھے اور درس دیتے ہوئے اکثر اوقات روتے رہتے ۔
2
تصنیف و تالیف:
درس و تدریس اور فتاویٰ نویسی سے آپ کو اگر چہ کم فرصت ملی تاہم تیس (۳۰) کے قریب آپ کی اہم تصانیف موجود ہیں جو کہ مختلف زبانوں میں ہیں ۔ ان میں سے بعض مطبوعہ اور اکثر غیر مطبوعہ ہیں ۔

٭ ترجمہ مشکوٰۃ ربع اول ( سندھی )
٭ ازالۃ الارتیاب عن الاحکام الصلوۃ الی القبور و القاب
٭ القول الصواب فی تحقیق قبور قبات
٭ البینات الواضحات فی حکم اعطاء الصدقات الی الشرفاء والسادات( سید وں کو زکوٰۃ دینے کے جواز میں )
٭ تمیز الحلال من الحرام الدفع اوھام الجھال والعوام ۔ ( مطبوعہ رفاہ عام اسٹیسم پریس لاہور ۱۳۴۰ھ؍ ۱۹۲۲ء )
٭ ھدایۃ العباد فیما یتعلق بالضاد ( سندھی )
٭ مامریدان ( منظوم فارسی )
٭ دیوان ناظم ( فارسی )
٭ مجموعہ تاریخ
٭ قوت ایمان ( سندھی )
٭ مناسک حج ( سندھی )
٭ لباس البنی ﷺ سندھی ( کتابچہ )
٭ تعلیم المسلمین ( سندھی )
٭ فتاویٰ ناظم ( قلمی ، غیر مرتب)
٭ سیف اللہ علیٰ من المنکر نداء بیا رسول اللہ
٭ نجات المومنین فی حکم عرس النبی الامین
٭ کشف الغمہ فی امداد النبی الامہ
٭ کشف القناع عن حکم السماع
٭ النظم المقبول فی آداب الرسول ( منظوم فارسی )
٭ جمع القرآن فی زمان سید الانس والجان
٭ القول المبین فی عدم رفع الصوت الامین
٭ توضیح مااحل اللہ مما اھل بہ لغیر اللہ
٭ تفسیر حنفی پارہ الم وعم ( سندھی )
٭ الحجۃ الکافیہ فی جواز الجماعۃ الثانیہ
٭ نھج الانصاف فی حکم مونو گراف
٭ فصل الخطاب فی حکم الغراب
٭ نوری نبی ﷺ
٭ فتاویٰ ہمایونی کا سندھی ترجمہ مع خلاصہ
٭ میلاد نامہ ( منظوم سندھی ) صفحات ۲۱
٭ معراج نامہ ( منظوم سندھی ) صفحات ۱۰ ( دونوں کتابچہ گڑھی یاسین سے شائع ہوئی ہیں )

تلامذہ:
آپ کے تلامذہ کی فہرست بڑی طویل ہے جن میں سے کئی ایک نے بڑی ناموری حاصل کی اور اپنے فضل و کمال کی وجہ سے بلند ترین مقام پر فائز ہوئے ۔
٭ مولانا مفتی عبد الباقی ہمایونی سجادہ نشین درگاہ ہمایون شریف
٭ مفتی اعظم پاکستان مولانا مفتی محمد صاحبداد خان سلطان کوٹی ( سابق شیخ الحدیث جامعہ راشدیہ پیر جو گوٹھ )
٭ نامور ادیب و شاعر مولانا حافظ خیر محمد اوحدی شکارپور
٭ مولانا تاج محمد کٹبار شریف ۔ مولانا عبد العزیز اوڈھو صدر مدرس مدرسہ مجددیہ ، مولانا محمد حسین کھاوڑ، ایڈیٹر الحنیف جیکب آباد ( تذکرہ شعراء سکھر ص: ۲۶۸) ـ

عہدہٗ قضاء:
آپ ۱۳۶۵ھ میں ریاست قلات کے عہدہ قضاء پر بھی فائز ہوئے اور کافی عرصہ تک افتاء کے ساتھ قضاء کے فرائض بھی انجام دیتے رہے ۔

سفر حرمین شریفین:
آپ ۱۳۵۵ھ میں حرمین شریفین کی زیارت سے سعادت افروز ہوئے۔ حج کے بعد بلاد اسلامیہ کی سیاحت کی ۔

عراق میں قیام:
عراق میں کافی عرصہ قیام کیا ۔ بغداد شریف کے ایک عالم و ادیب شیخ صالح کرد کے مہمان تھے اور انہی کی دعوت اور مسلسل اصرار پر عراق تشریف لے گئے تھے۔ شیخ صالح ، شاہ عراق الفیصل اول کے مصاحب تھے ۔ مولانا محمد ابراہیم سے ان کی ملاقات کراچی میں ہوئی تھی ۔ پھر دونوں کے درمیان ایک عرصہ تک خط و کتابت ہوتی رہی ۔ شیخ صالح نے مولانا کے خطوط اپنے حلقہ احباب کے عراقی علماء اور ادیبوں کو دکھائے ۔ انہوں نے خطوط دیکھ کر یہ بات ماننے سے انکار کر دیاکہ یہ کسی عجمی نے لکھے ہیں کہ عجمی اتنی فصاحت و بلاغت اور بے تکلفی کے ساتھ عربی نہیں لکھ سکتا اور نہ ہی اس کی تحریر کردہ عربی میں اتنی گیرائی و گہرائی اور ادبیت ہو سکتی ہے یہ ضرور کوئی اہل عرب ہیں جو عرب سے نقل مکانی کر کے سندھ میں جاکر سکونت پذیر ہو گئے ہیں ۔ اسی وجہ سے شیخ صالح اصرار کرتے رہتے تھے کہ آپ ایک بار عراق ضرور تشریف لائیں تا کہ یہاں کے اہل علم و ادب کے ساتھ آپ کی ملاقات کرائی جائے اور میری بات کی تصدیق ہو سکے ۔ علمائے عراق کے ساتھ مولانامحمد ابراہیم کی بڑی پر لطف اور یاد گار صحبتیں ہوئیں ۔ قیام عراق کے دوران نجف اشرف، کربلا معلی، اور دیگر مزارات مقدسہ سیدنا امام اعظم ابوحنیفہ ، شیخ معروف کرخی ، شیخ سری سقطی، شیخ جنید بغدادی ، شیخ شبلی اور حضرت سیدنا غوث اعظم شیخ محی الدین سید عبد القادر جیلانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے مزارات کی زیارت سے شرف اندوز ہوئے ۔
2
شخصیت:
آپ نہ صرف مدرس ، مفتی اورقاضی تھے بلکہ ادیب ، شاعر، محقق مصنف اور حاضر جواب مناظر تھے۔ عربی و فارسی زبان اور شعر و ادب پر اس قدر دسترس رکھتے تھے جس قدر اپنی مادری زبان سندھی پر اور اس کے شعر و ادب پر رکھتے تھے۔ زندہ دلی ، شگفتگی ، سخن فہمی اور نکتہ رسی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے ۔ مزاج میں بے انتہا خود داری اور خود اعتمادی تھی ۔ کتب متداولہ کا عمر بھر درس دیا ان کی امتیاز ی خصوصیت یہ تھی کہ فقہ اور اصول فقہ میں غیر معمولی مہارت رکھتے تھے۔ ان کے بے شمار فتاویٰ موجود ہیں جو انہوں نے وقتاً فوقتاً ہر مسئلہ پر تحریر کئے ہیں ۔ آپ کا ہر فتویٰ مدلل اور مستند حوالہ جات سے مزین ہوتا تھا۔ آپ اہل سنت و جماعت کے قابل فخر سر مایہ تھے ۔ اہل سنت و جماعت سندھ کی تنظیم ’’ جمعیت الاحناف سندھ ‘‘ جو کہ سندھ کے نامور علماء نے فرقہ جدیدہ وہابیت دیوبند یت کے اصل کردار کر واضح کرنے اور عوام الناس کو ان کے عقائد باطلہ سے بچانے کے لئے بناتی تھی آپ اس تنظیم کے ناظم تھے اسی لئے اپنا پہلا تخلص ’’ حافظ ‘‘ ترک کر کے ’’ ناظم ‘‘ تخلص اختیار کیا ۔

مولانا محمد ابراہیم انتہائی نیکو کار، متقی اور عبادت گذار تھے ۔ سنت نبوی کے تابع اور حضور اکرم ﷺ کے عاشق زار، گھر کے قریب مسجد تھی نصف شب کے بعد مسجد میں جاتے تہجد ادا کر کے پہلے ذکر و فکر میں مشغول ہوتے اور پھر کھڑ ے ہو کر ہاتھ باندھ کر قصیدہ بردہ شریف پڑھنے اور جب اس شعر پر پہنچتے تو بار بار اس کی تکرار کرتے کہ:

ھو الحبیب الذی ترجیٰ شفاعتہ
لکل ھول من الاھوال مقتحم

اور زار وقطار روتے ہوئے اور اسی کیفیت میں پڑھتے اور قصیدہ بردہ شریف کا ختم فرماتے ۔

سراج العاشقین حضرت خواجہ غلام فرید چشتی ( کوٹ مٹھن شریف ) کے خلیفہ ، عاشق رسول ، بلبل چمن رسالت مولانا محمد یار گڑھی شریف والے مولانا مفتی محمد ابراہیم صاحب کے اوصاف بیان کرتے ہیں:

خلیل وقت ابراہیم نامے
امامے حجت ہر خاص دعائے

اولاد:
آپ کو اکلوتا بیٹا حاجی محمد احسان سومرو پیدا ہوا، ان کا آپ کی زندگی میں ۱۹۶۰ء کو انتقال ہوا ۔

وصال:
مفتی محمد ابراہیم نے ۷ شعبان المعظم ۱۳۸۴ھ بمطابق ۱۲ دسمبر ۱۹۶۴ء کو ۷۷ سال کی عمر میں ندائے ارجعی کو لبیک کہہ کر واصل بحق ہوئے ۔ آپ کا مزار شریف گڑھی یسین میں زائرین کیلئے حصول برکت کا ذریعہ ہے ۔ آپ نے اپنے وصال سے قبل خود اپنا قطعہ تاریخ وصال کہاجو کہ درج ذیل ہے: ( مفتی محمد قاسم یاسینی اویسی کے ارسال کردہ مواد سے ماخوذ ہے ) ـ

ہرچہ آن دوست نمودہ است ہمہ دان کہ نکواست
باشد پسندیدہ دل آنچہ پسندیدہ اوست

خود بگفتا بدم آخر باطبع پاک
حمد اللہ کہ نمردیم رسیدیم بدوست
۱۲۷۷۔۱۰۷۔ ۱۳۸۴ھ

( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-qasim-yasini
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت خواجہ بدر الدین غزنوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفۂ اعظم تھے، آپ کا وطن غزنی تھا، اکثر سماع میں محو رہتے، وقت کے مشائخ آپ کی بزرگی کے معترف تھے اور آپ کا ذکر اچھے طریقے سے کرتے، آپ خود بھی مجلسِ وعظ برپا کرتے آپ کی ایسی مجالس میں حضرت خواجہ فرید الدین گنج شکر حاضر ہوا کرتے تھے ۔

جن دنوں آپ غزنی سے بر صغیر ہندوستان میں تشریف لائے تو سب سے پہلے آپ نے لاہور میں قیام کیا اور پھر دہلی گئے، وہاں جاکر قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید ہوئے ۔

سیر الاولیاء کے مصنف نے لکھا ہے کہ شیخ بدر الدین حضرت خضر علیہ السلام سے ملا کرتے تھے، حضرت خضر بھی آپ کی مجالس میں تشریف لاتے، ایک دن آپ کے والد نے کہا کہ اگر میری حضرت خضر سے ملاقات کرا دو تو بڑی اچھی بات ہوگی، ایک دن آپ مسجد میں تقریر کر رہے تھے تو ایک شخص عام لوگوں سے ہٹ کر دور بیٹھا ہوا تھا حضرت شیخ بدرالدین نے اپنے والد کو اشارہ کرکے کہا کہ دیکھیے وہ خواجہ خضر بیٹھے ہیں، والد نے دل میں کہا کہ مجلسِ وعظ کے بعد میں خواجہ خضر سے مل لوں گا مجلسِ ختم ہوئی تو حضرت خضر بھی غائب تھے ۔

شیخ بدرالدین ۶۵۷ھ ( 16 ربیع الآخر 657 ) میں فوت ہوئے آپ کا مزار خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کے پاؤں کی طرف ہے ۔

بدر الدین چوں بخلد روشن شد
سالِ ترحیل آں شہِ حق بیں

کاشف راز اولیاء فرما ۶۵۷ھ
نیز پیر سعید بدرالدین ۶۵۷ھ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-badruddin-ghaznavi
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت امام قشیری رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
عبدالکریم ۔ کنیت: ابو القاسم ۔ القاب: زین الاسلام، استاذ الصوفیاء، شیخ الجماعۃ، مقدمۃ الطائفہ، صاحبِ رسالہ قشیریہ ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
ابو القاسم عبد الکریم قشیری بن ہوازن بن عبد الملک بن طلحہ بن محمد نیشاپوری ۔ قبیلۂ قشیر کی نسبت سے قشیری کہلاتے ہیں ۔ (علیہم الرحمۃ والرضوان) ـ

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت ماہِ ربیع الاول 376ھ /مطابق جولائی 986ء کو بمقام " استواء " مضافاتِ نیشاپور میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
آپ نے علم کے لئے کئی بلادِ اسلامیہ کا سفر کیا اور متعدد مشاہیرِ اسلام سے اخذ ِعلم کیا ۔ جن ابوالحسین بن بشران ، ابن الفضل بغدادی، ابو محمد کوفی، ابو نعیم، ابو القاسم بن حبیب قاضی، ابو بکر طوسی ۔ مشہور محدث امام ابو بکر بیہقی اور امام الحرمین جوینی کی صحبت میں رہے، اور ان کی معیت میں حج کی سعادت بھی حاصل کی، اسی طرح تصوف اور اخلاق کے متعدد شیوخ ہیں ۔

بیعت و خلافت:
آپ حضرت شیخ ابو علی دقاق رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور خرقۂ خلافت سے مشرف کیے گئے ۔

سیرت و خصائص:
زین الاسلام ،حجۃ الاسلام ، شیخ الاسلام ، امام الاولیاء ، استاذ الصوفیاء ، رئیس العرفاء شیخ ابو القاسم عبد الکریم قشیری رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ رحمۃ اللہ علیہ اپنے وقت کے سب سے بڑے فقیہ، صوفی، عابد، زاہد، متکلم، اور متشرع تھے ۔ تمام علومِ عقلیہ و نقلیہ کے ماہرِ کامل تھے ۔ جامعِ شریعت و طریقت تھے ۔ ظاہری و باطنی علوم میں " مرج البحرین " تھے ۔

تصنیفات:
آپ کی بہت تصانیف ہیں ۔ ان میں سے زیادہ مشہور " رسالہ قشیریہ " اور " لطائف الاشارات فی التفسیر " ہیں ۔

داتا علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ نے آپ علیہ الرحمہ سے علمی و روحانی استفادہ فرمایا ہے ۔ اس لحاظ سے داتا صاحب آپ کے شاگرد ہیں ۔

داتا صاحب فرماتے ہیں:
متأخرین صوفیہ کے امام، الاستاذ، زین الاسلام، شیخ ابو القاسم حضرت عبد الکریم بن ہواز قشیری رحنمۃ اللہ علیہ ۔ اپنے زمانے کے بدیع المثال لوگوں میں سے تھے ۔ مرتبے میں رفیع المثال، اور منازلِ سلوک میں علو الحال تھے ۔ ان کی بزرگی کا زمانہ معترف ہے ۔ ان کے فضائل بے شمار ہیں ۔ ہر علم میں ان کے لطائف بے حد و بے حساب ہیں ۔ تصانیف بہت زیادہ ہیں ۔ اللہ جل شانہ نے آپ کے حال و قال کو حشو و زوائد سے محفوظ فرما دیا تھا ۔ (کشف المحجوب ، ص:328) ـ

خطیب بغدادی فرماتے ہیں:
آپ ثقہ، واعظ، نکتہ داں، مذہبِ اشاعرہ کے اصول، اور مذہبِ شافعی کے فروع میں مہارت رکھتے تھے ۔

ابن الصلاح فرماتے ہیں:
حدیث، تفسیر، فقہ، اصول، ادب، صرف، نحو، شعر، تصوف، اور شریعت و حقیقت کے جامع تھے ۔

ابو اسحاق الصیرفینی فرماتے ہیں:
میں نے آپ جیسا صاحبِ علم و فن، جامع شریعت و طریقت نہیں دیکھا ۔

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال بروز اتوار 16 ربیع الثانی 465ھ / مطابق 29 دسمبر 1072ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار نیشاپور میں ہے ۔

ماخذ و مراجع:
کشف المحجوب ، طبقات الشافعیہ ۔ وفیات الاعیان ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-qushayri
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
15-04-1445 ᴴ | 31-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
16-04-1445 ᴴ | 01-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1