حضرت خضر رومی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
خضر بیگ بن قاضی جلال الدین صدر الدین بن حاجی ابراہیم رومی۸۱۰ھ میں پیدا ہوئے اور شہر سفری حصار میں جو بلاد روم میں سے ایک شہر ہے، پرورش پائی ۔ پہلے اپنے والدِ ماجد سے جو یہاں کے قاضی تھے، تعلیم پاتے رہے پھر مولیٰ احمد بن اومغان المشہور بہ مولیٰ یگان کی خدمت میں حاضر ہوکر کمالیت کا رتبہ اور فضیلت کا درجہ حاصل کیا ۔
جب ۸۳۷ھ میں سفری حصار کے مدرس مقرر ہوئے تو آپ کو اور بھی علوم غریبہ اور فنون عجیبہ حاصل ہوئے یہاں تک کہ حکایت کرتے ہیں کہ اوائل جلوس سلطان محمد خاں بن مراد خاں میں ایک شخص عجمی جو مختلف علوم میں بڑا متجر تھا، بادشاہ کے دربار میں آکر مباحثہ کا خواہاں ہوا، اس وقت جتنے بڑے بڑے عالم و فاضل تھے وہ اس کے مباحثہ کے لیے جمع ہوئے لیکن جب اس نے سوالات پیش کیے تو ان کے جواب دینے سے سب کے سب عاجز آ گئے، اس سے بادشاہ کو نہایت بے قراری اور عار دامن گیر ہوئی پس اس نے کسی ایسے شخص کے طلب کرنے کا حکم دیا جو علوم غیربہ میں مہارت رکھتا ہو، سب لوگوں نے آپ کی طرف اشارہ کیا، سو آپ فوراً حاضر کیے گئے ـ
اس وقت آپ نوجوان تھے، عجمی بنظر حقارت آپ کو دیکھ کر ہنسنے لگا ۔ آپ نے فرمایا کہ تجھے جو سوال کرنا ہے وہ پیش کر، اس نے مختلف علوم میں کئی ایک سوال کیے جن کا جواب آپ نے نہایت خوبی سے دیا ۔
پھر آپ نے ایسے سو فن میں اس سے سوال کیے جن کو وہ ہر گز نہ جانتا تھا پس وہ بند ہوکر خاموش ہو گیا ۔ بادشاہ کو اس بات سے بڑی خوشی حاصل ہوئی اور آپ کی بڑی تعریف و تکریم کی اور شہر بردسا کے مدرسہ کا مدرس مقرر کیا ۔
جب سلطان نے قسطنطنیہ کو فتح کیا تو آپ کو وہاں کا قاضی بنایا پھر آپ نے ۸۵۹ھ میں مکہ معطمہ کا حج کیا ۔ آپ کے شاگردوں میں مصلح الدین المعروف بہ خواجہ زادہ اور شمس الدین المشہور خطیب زادہ اور خیر الدین معلم سلطان محمد خاں معروف و مشہور ہیں ۔
تصانیف:
ایک کتاب عقائد کی نظم میں تصنیف کی جس کی شرح آپ کے شاگرد شمس الدین احمد خیالی نے لکھی ہے، علاوہ اس کے ایک مختصر کتاب علم عروض میں اور تفتازانی کے حاشیہ تفسیر کشاف پر حواشی تصنیف فرمائے ـ
وصال:
14 ربیع الآخر 746ھ میں انتقال کیا ۔
’’ گنج معرفت ‘‘ تاریخ وفات ہے ۔
( حدائق الحنفیہ )
آپ قلندر قسم کے بزرگ تھے، رُوم کے رہنے والے تھے، آپ سے بے شمار کرامتیں ظاہر ہوا کرتی تھیں، ابتداً کسی کو اپنا مُرید نہ بنایا کرتے تھے، آپ خواجہ بختیار اوشی کی زندگی ہی میں دہلی تشریف لائے تھے، چنانچہ آپ نے خواجہ صاحب سے روحانی فیض حاصل کیا ۔ خواجہ صاحب نے اپنی کلاہ اور خرقہ شاہ خضر کی قیام گاہ پر بھیجوا کر رخصت کیا، اس کے بعد شاہ خضر کو جون پور جانے کا اتفاق ہوا، جب آپ موضع سر ہر پور پہنچے تو وہاں شاہ قطب آپ کے مرید ہو گئے، آپ نے شاہ قطب کو خلافت دینے کے بعد پھر اپنے اصلی وطن رُوم کا رُخ کیا، اس وقت بھی ہندوستان میں آپ کا سلسلہ قائم ہے جس کو سلسلۂ قنطوریہ چشتیہ کہتے ہیں ۔
( اخبار الاخیار )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khizar-roomi
خضر بیگ بن قاضی جلال الدین صدر الدین بن حاجی ابراہیم رومی۸۱۰ھ میں پیدا ہوئے اور شہر سفری حصار میں جو بلاد روم میں سے ایک شہر ہے، پرورش پائی ۔ پہلے اپنے والدِ ماجد سے جو یہاں کے قاضی تھے، تعلیم پاتے رہے پھر مولیٰ احمد بن اومغان المشہور بہ مولیٰ یگان کی خدمت میں حاضر ہوکر کمالیت کا رتبہ اور فضیلت کا درجہ حاصل کیا ۔
جب ۸۳۷ھ میں سفری حصار کے مدرس مقرر ہوئے تو آپ کو اور بھی علوم غریبہ اور فنون عجیبہ حاصل ہوئے یہاں تک کہ حکایت کرتے ہیں کہ اوائل جلوس سلطان محمد خاں بن مراد خاں میں ایک شخص عجمی جو مختلف علوم میں بڑا متجر تھا، بادشاہ کے دربار میں آکر مباحثہ کا خواہاں ہوا، اس وقت جتنے بڑے بڑے عالم و فاضل تھے وہ اس کے مباحثہ کے لیے جمع ہوئے لیکن جب اس نے سوالات پیش کیے تو ان کے جواب دینے سے سب کے سب عاجز آ گئے، اس سے بادشاہ کو نہایت بے قراری اور عار دامن گیر ہوئی پس اس نے کسی ایسے شخص کے طلب کرنے کا حکم دیا جو علوم غیربہ میں مہارت رکھتا ہو، سب لوگوں نے آپ کی طرف اشارہ کیا، سو آپ فوراً حاضر کیے گئے ـ
اس وقت آپ نوجوان تھے، عجمی بنظر حقارت آپ کو دیکھ کر ہنسنے لگا ۔ آپ نے فرمایا کہ تجھے جو سوال کرنا ہے وہ پیش کر، اس نے مختلف علوم میں کئی ایک سوال کیے جن کا جواب آپ نے نہایت خوبی سے دیا ۔
پھر آپ نے ایسے سو فن میں اس سے سوال کیے جن کو وہ ہر گز نہ جانتا تھا پس وہ بند ہوکر خاموش ہو گیا ۔ بادشاہ کو اس بات سے بڑی خوشی حاصل ہوئی اور آپ کی بڑی تعریف و تکریم کی اور شہر بردسا کے مدرسہ کا مدرس مقرر کیا ۔
جب سلطان نے قسطنطنیہ کو فتح کیا تو آپ کو وہاں کا قاضی بنایا پھر آپ نے ۸۵۹ھ میں مکہ معطمہ کا حج کیا ۔ آپ کے شاگردوں میں مصلح الدین المعروف بہ خواجہ زادہ اور شمس الدین المشہور خطیب زادہ اور خیر الدین معلم سلطان محمد خاں معروف و مشہور ہیں ۔
تصانیف:
ایک کتاب عقائد کی نظم میں تصنیف کی جس کی شرح آپ کے شاگرد شمس الدین احمد خیالی نے لکھی ہے، علاوہ اس کے ایک مختصر کتاب علم عروض میں اور تفتازانی کے حاشیہ تفسیر کشاف پر حواشی تصنیف فرمائے ـ
وصال:
14 ربیع الآخر 746ھ میں انتقال کیا ۔
’’ گنج معرفت ‘‘ تاریخ وفات ہے ۔
( حدائق الحنفیہ )
آپ قلندر قسم کے بزرگ تھے، رُوم کے رہنے والے تھے، آپ سے بے شمار کرامتیں ظاہر ہوا کرتی تھیں، ابتداً کسی کو اپنا مُرید نہ بنایا کرتے تھے، آپ خواجہ بختیار اوشی کی زندگی ہی میں دہلی تشریف لائے تھے، چنانچہ آپ نے خواجہ صاحب سے روحانی فیض حاصل کیا ۔ خواجہ صاحب نے اپنی کلاہ اور خرقہ شاہ خضر کی قیام گاہ پر بھیجوا کر رخصت کیا، اس کے بعد شاہ خضر کو جون پور جانے کا اتفاق ہوا، جب آپ موضع سر ہر پور پہنچے تو وہاں شاہ قطب آپ کے مرید ہو گئے، آپ نے شاہ قطب کو خلافت دینے کے بعد پھر اپنے اصلی وطن رُوم کا رُخ کیا، اس وقت بھی ہندوستان میں آپ کا سلسلہ قائم ہے جس کو سلسلۂ قنطوریہ چشتیہ کہتے ہیں ۔
( اخبار الاخیار )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khizar-roomi
scholars.pk
Hazrat Khizar Roomi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
حضرت شرف الدین ابو اسحاق شامی چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
اسمِ گرامی:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کی کنیت: ابو اسحاق ۔ اور لقب: شرف الدین تھا ۔
بیعت و خلافت:
شیخ ابو اسحاق شامی نے شیخ ممشاد علی دینوری کے دستِ حق پرست پر بیعت کی اور خرقۂ خلافت بھی حاصل کیا رحمۃ اللہ علیہما ۔
سیرت و خصائص:
حضرت شرف الدین ابو اسحاق شامی چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سلسلۂ ٔچشتیہ کے نامی گرامی بزرگوں میں سے تھے ۔ ظاہری اور باطنی علوم میں ممتاز تھے ۔ زہد و ریاضت میں بے مثال، خلق سے بے نیاز اور خالق سے ہی ہمراز تھے ۔ درویشوں سے محبت کرتے ۔ اولیاء اللہ میں ممتاز مقام رکھتے تھے ۔ فقراء میں بلند رتبہ تھے ۔ سات دن کے بعد افطار کرتے تھے کہ " معراج الفقراء جوع " (بھوک ہی فقراء کی معراج ہے) ـ
مرید ہونے سے پہلے چالیس روز تک استخارہ کیا آخر ہاتف غیبی نے آواز دی " اے ابو اسحاق! جاؤ، اور ممشاد دینوری کی خدمت میں حاضری دو " آپ خواجہ دینوری کی خدمت میں پہنچے، سات سال خدمت میں رہے پھر تکمیل کو پہنچے، خرقۂ خلافت پایا ۔ آپ کی ذات والا صفات خانوادۂ چشت میں ممتاز تھی ۔ آپ قصبۂ چشت میں قیام پذیر تھے ۔ خلافت پانے کے بعد پیر دستگیر سے رخصت لے کر چشت میں واپس آئے اور خواجۂ چشت کے نام سے مشہور ہوئے ۔
ان ہی دنوں چشت میں اور بھی کئی بزرگان دین قیام فرما تھے ان میں خواجہ ابو احمر ابدال چشتی، خواجہ ابو محمد بن ابو احمد ابدال چشتی، ناصر الدین، خواجہ ابو یوسف چشتی اور خواجہ مودود چشتی کے اسمائے گرامی مشہور ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ چاروں بزرگ دین کے ستون مانے جاتے تھے ۔ لاکھوں گناہ گاروں نے آپ کی راہنمائی میں توبہ کی اور بے شمار مرید درجۂ ولایت کو پہنچے ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 14 ربیع الثانی 329 ھ /بمطابق جنوری 941ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار بارک " عکہ " میں ہے جو ملکِ شام میں ہے ۔ کہتے ہیں وصال کے وقت سے ہر شب شام سے صبح تک آپ کے مزار پر غیب سے چراغ روشن ہو جاتا ہے اور آندھیاں آئیں یا بارش کا طوفان ہو اس چراغ کو کوئی گزند نہیں پہنچتا ۔
ماخذ و مراجع:
اقتباس الانوار ۔ سیر الاولیاء ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sharfuddin-abu-ishaq-shami
اسمِ گرامی:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کی کنیت: ابو اسحاق ۔ اور لقب: شرف الدین تھا ۔
بیعت و خلافت:
شیخ ابو اسحاق شامی نے شیخ ممشاد علی دینوری کے دستِ حق پرست پر بیعت کی اور خرقۂ خلافت بھی حاصل کیا رحمۃ اللہ علیہما ۔
سیرت و خصائص:
حضرت شرف الدین ابو اسحاق شامی چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سلسلۂ ٔچشتیہ کے نامی گرامی بزرگوں میں سے تھے ۔ ظاہری اور باطنی علوم میں ممتاز تھے ۔ زہد و ریاضت میں بے مثال، خلق سے بے نیاز اور خالق سے ہی ہمراز تھے ۔ درویشوں سے محبت کرتے ۔ اولیاء اللہ میں ممتاز مقام رکھتے تھے ۔ فقراء میں بلند رتبہ تھے ۔ سات دن کے بعد افطار کرتے تھے کہ " معراج الفقراء جوع " (بھوک ہی فقراء کی معراج ہے) ـ
مرید ہونے سے پہلے چالیس روز تک استخارہ کیا آخر ہاتف غیبی نے آواز دی " اے ابو اسحاق! جاؤ، اور ممشاد دینوری کی خدمت میں حاضری دو " آپ خواجہ دینوری کی خدمت میں پہنچے، سات سال خدمت میں رہے پھر تکمیل کو پہنچے، خرقۂ خلافت پایا ۔ آپ کی ذات والا صفات خانوادۂ چشت میں ممتاز تھی ۔ آپ قصبۂ چشت میں قیام پذیر تھے ۔ خلافت پانے کے بعد پیر دستگیر سے رخصت لے کر چشت میں واپس آئے اور خواجۂ چشت کے نام سے مشہور ہوئے ۔
ان ہی دنوں چشت میں اور بھی کئی بزرگان دین قیام فرما تھے ان میں خواجہ ابو احمر ابدال چشتی، خواجہ ابو محمد بن ابو احمد ابدال چشتی، ناصر الدین، خواجہ ابو یوسف چشتی اور خواجہ مودود چشتی کے اسمائے گرامی مشہور ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ چاروں بزرگ دین کے ستون مانے جاتے تھے ۔ لاکھوں گناہ گاروں نے آپ کی راہنمائی میں توبہ کی اور بے شمار مرید درجۂ ولایت کو پہنچے ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 14 ربیع الثانی 329 ھ /بمطابق جنوری 941ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار بارک " عکہ " میں ہے جو ملکِ شام میں ہے ۔ کہتے ہیں وصال کے وقت سے ہر شب شام سے صبح تک آپ کے مزار پر غیب سے چراغ روشن ہو جاتا ہے اور آندھیاں آئیں یا بارش کا طوفان ہو اس چراغ کو کوئی گزند نہیں پہنچتا ۔
ماخذ و مراجع:
اقتباس الانوار ۔ سیر الاولیاء ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sharfuddin-abu-ishaq-shami
scholars.pk
Hazrat Sharfuddin Abu Ishaq Shami
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
حضرت شاہ حمزہ عینی قادری مارہروی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: سید شاہ حمزہ عینی قادری مارہروی ۔ لقب: اسد العارفین، قطب الکاملین ۔ تخلص: عینی ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت شاہ حمزہ مارہروی بن سید شاہ آل محمد بن صاحب البرکات سید شاہ برکت اللہ مارہروی بن سید شاہ اویس بلگرامی بن سید شاہ عبد الجلیل بلگرامی بن سید میر عبدالواحد بلگرامی ۔ الیٰ آخرہ ۔ علیہم الرحمہ ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 14 ربیع الثانی 1131ھ مطابق مارچ 1719ء کو مارہرہ مطہرہ (ہند) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے اپنے والدِ گرامی کی خدمت میں جملہ علومِ ظاہری و باطنی کی تکمیل کی ۔ والد گرامی کے علاوہ شمس العلماء حضرت مولانا محمد باقر علیہ الرحمہ سے مختلف علوم و فنون کی تحصیل فرمائی، فنِ طب حکیم عطاء اللہ صاحب مرحوم، اور شیخ ڈھڈھا لاہوری سے بھی متعدد درسیات کتب حاصل فرمائی ۔ (تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ:351)
بیعت و خلافت:
اپنے والد گرامی حضرت سید شاہ آلِ محمد علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے، اور منازلِ سلوک طے کرنےکے بعد خلافت و اجازت سے مشرف ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
اسد العارفین، قطب الکاملین، حجۃ الواصلین، سند الصالحین، مجمع البحرین، نجیب الطریقین، حضرت سید شاہ حمزہ مارہروی علیہ الرحمہ ۔
آپ علیہ الرحمہ سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کے پینتیسویں 35 امام اور شیخِ طریقت ہیں ۔
آپ علم و فضل میں یکتا، مایہ ناز مصنف، عدیم النظیر صوفی، اور باکرامت اولیاء اللہ میں سے تھے ۔ آپ نہایت ہی ذہین و فطین تھے ۔ گیارہ سال کی مدت میں اپنے جدِ امجد حضرت سید شاہ برکت اللہ علیہ الرحمہ کی تربیت میں رہ کر فیوض و برکات حاصل کیے ۔ حضرت شاہ برکت اللہ علیہ الرحمہ نے اپنی کلاہ مبارک آپ کے سر پر چار سال کی عمر ہی میں رکھ دیا تھا ۔ اسی طرح آپ کو مطالعے کا خاص ذوق تھا ۔ بِالخصوص حضرت شیخِ اکبر کی کتب سے تو خصوصی شغف تھا ۔ خاص خدام کو ان کا درس دیتے ۔
آپ کی جلالتِ شانِ آپ کی تصنیفات و تالیفات خصوصاً ” فص الکلمات ‘‘ سے بآسانی مِل سکتا ہے ۔ اس کتاب کی شان نرالی ہے ۔ دیگر تمام کتب سے بے نیاز کر دیتی ہے ۔ اللہ ﷻ نے آپ کو خصوصی کمالات عطاء فرمائے تھے ۔ جو ایک شخصیت میں بہت کم موجود ہوتے ہیں۔جب مسائل پر گفتگو فرماتے، تو معلوم ہوتا فقیہ العصر ہیں، اور کبھی ایک شیخ عارف ہیں کہ ہزاروں بندگانِ خدا آپ سے فیض یاب ہو رہے ہیں ۔
کبھی ایک مسیحا طبیب ہیں کہ صدہا مریض شفاء یاب ہو رہے ہیں ۔ کبھی ایک کریم دریا دل سخی کہ سائلوں کی تلاش میں مستغرق ہیں، کبھی ایک مدبر شجاع کہ بڑے بڑے عقلاء و سیاست دان امورِ مشکلہ میں حضور والا سے تدابیر پوچھ رہے ہیں ۔ بادشاہ و وزراء درِ دولت پر حاضر ہیں، اور امورِ سلطنت حل فرما رہے ہیں ۔ پھر ہر شان میں وحدت و عینیت ہویدا تھی ۔ حضرت کی ذات شریف دنیا و دین، فقر و شہنشاہی، شریعت و طریقت ، معرفت و حقیقت کی جامع تھی ۔
نمازِ تہجد:
دس سال کی عمر شریف سے نمازِ تہجد شروع فرمائی تو وصال شریف تک کبھی قضاء نہ ہوئی ۔ اشاعتِ اسلام اور اصلاحِ مسلمین آپ کا خاص وصف تھا ۔ آپ کی زندگی اسلام اور مسلمین کے لئے وقف تھی ۔ ہمہ وقت عبادت و ریاضت میں مصروف نظر آتے، یا وعظ و تلقین، یا امورِ مسلمین میں ۔
مولا علی کی زیارت:
آپ نہایت ہی منکسر المزاج اور با اخلاق شخصیت کے حامل تھے ۔ تکبر، تصنع، ریاء، عالی نسب و منصب کا شائبہ تک کبھی نہیں گزرا ۔
آپ فرماتے ہیں: ’’ایک روز فقیر کو خیال آیا کہ نسبتِ ظنی سے سیادت ساداتِ بلگرام مشہور و مسلم ہے، لیکن یقین و وثوق نہیں، جیسے ہی یہ خیال آیا کہ فوراً دیکھتا ہوں کہ حضور مولی المسلمین، امیر المؤمنین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم تشریف فرما ہیں، اور دونوں بازو چوکھٹ سنگی کے جو خانقاہ برکاتیہ میں نصب ہے، تھامے کھڑے ہیں، اور اِرشاد فرماتے ہیں کہ ’’تم ہمارے بیٹے ہو، اور پیارے بیٹے ہو ‘‘ ۔ (ایضا: 352) ـ
جود و سخا:
آپ جود و سخا، بخشش و عطاء میں یگانہ روزگار تھے ۔ اپنے والد ماجد کے عرس شریف میں مہمانوں کی خاطر داری کی ایک ایسی مثال قائم کی کہ اپنے وقت کا شہنشاہ بھی ایسی پر تکلف دعوت شاید ہی کر سکے ۔ عرس مبارک میں مہمانوں کے لئے سو سے زیادہ انواع کے کھانوں سے مہمانوں کی تواضع فرماتے، اور پھر اس میں تخفیف کر دی تھی، پھر بھی مہمانوں کو پچیس اقسام کے کھانے ہر سال برابر تقسیم ہوتے تھے ـ اس میں شاہ و گدا کی کوئی تخصیص نہیں تھی ۔
شانِ بے نیازی:
حضرت قطب الکاملین سید شاہ حمزہ کی ذات اپنے اسلاف کی آئینہ دار تھی، اور بڑے بڑے امراء و سلاطینِ وقت اپنے خدام و فوج کے ساتھ آپ کی خدمت میں مارہرہ شریف حاضر ہوتے، کئی دن خانقاہ میں قیام کرتے، اور انواع و اقسام کے کھانوں سےان لوگوں کی مہمان نوازی کی جاتی ۔ مگر حضرت کبھی بھی ان لوگوں کو باریابی کی اجازت نہیں دیتے تھے، اور آپ کے معمولات میں ذرہ برابر فرق نہیں آتا تھا ۔
نام و نسب:
اسم گرامی: سید شاہ حمزہ عینی قادری مارہروی ۔ لقب: اسد العارفین، قطب الکاملین ۔ تخلص: عینی ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت شاہ حمزہ مارہروی بن سید شاہ آل محمد بن صاحب البرکات سید شاہ برکت اللہ مارہروی بن سید شاہ اویس بلگرامی بن سید شاہ عبد الجلیل بلگرامی بن سید میر عبدالواحد بلگرامی ۔ الیٰ آخرہ ۔ علیہم الرحمہ ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 14 ربیع الثانی 1131ھ مطابق مارچ 1719ء کو مارہرہ مطہرہ (ہند) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے اپنے والدِ گرامی کی خدمت میں جملہ علومِ ظاہری و باطنی کی تکمیل کی ۔ والد گرامی کے علاوہ شمس العلماء حضرت مولانا محمد باقر علیہ الرحمہ سے مختلف علوم و فنون کی تحصیل فرمائی، فنِ طب حکیم عطاء اللہ صاحب مرحوم، اور شیخ ڈھڈھا لاہوری سے بھی متعدد درسیات کتب حاصل فرمائی ۔ (تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ:351)
بیعت و خلافت:
اپنے والد گرامی حضرت سید شاہ آلِ محمد علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے، اور منازلِ سلوک طے کرنےکے بعد خلافت و اجازت سے مشرف ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
اسد العارفین، قطب الکاملین، حجۃ الواصلین، سند الصالحین، مجمع البحرین، نجیب الطریقین، حضرت سید شاہ حمزہ مارہروی علیہ الرحمہ ۔
آپ علیہ الرحمہ سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کے پینتیسویں 35 امام اور شیخِ طریقت ہیں ۔
آپ علم و فضل میں یکتا، مایہ ناز مصنف، عدیم النظیر صوفی، اور باکرامت اولیاء اللہ میں سے تھے ۔ آپ نہایت ہی ذہین و فطین تھے ۔ گیارہ سال کی مدت میں اپنے جدِ امجد حضرت سید شاہ برکت اللہ علیہ الرحمہ کی تربیت میں رہ کر فیوض و برکات حاصل کیے ۔ حضرت شاہ برکت اللہ علیہ الرحمہ نے اپنی کلاہ مبارک آپ کے سر پر چار سال کی عمر ہی میں رکھ دیا تھا ۔ اسی طرح آپ کو مطالعے کا خاص ذوق تھا ۔ بِالخصوص حضرت شیخِ اکبر کی کتب سے تو خصوصی شغف تھا ۔ خاص خدام کو ان کا درس دیتے ۔
آپ کی جلالتِ شانِ آپ کی تصنیفات و تالیفات خصوصاً ” فص الکلمات ‘‘ سے بآسانی مِل سکتا ہے ۔ اس کتاب کی شان نرالی ہے ۔ دیگر تمام کتب سے بے نیاز کر دیتی ہے ۔ اللہ ﷻ نے آپ کو خصوصی کمالات عطاء فرمائے تھے ۔ جو ایک شخصیت میں بہت کم موجود ہوتے ہیں۔جب مسائل پر گفتگو فرماتے، تو معلوم ہوتا فقیہ العصر ہیں، اور کبھی ایک شیخ عارف ہیں کہ ہزاروں بندگانِ خدا آپ سے فیض یاب ہو رہے ہیں ۔
کبھی ایک مسیحا طبیب ہیں کہ صدہا مریض شفاء یاب ہو رہے ہیں ۔ کبھی ایک کریم دریا دل سخی کہ سائلوں کی تلاش میں مستغرق ہیں، کبھی ایک مدبر شجاع کہ بڑے بڑے عقلاء و سیاست دان امورِ مشکلہ میں حضور والا سے تدابیر پوچھ رہے ہیں ۔ بادشاہ و وزراء درِ دولت پر حاضر ہیں، اور امورِ سلطنت حل فرما رہے ہیں ۔ پھر ہر شان میں وحدت و عینیت ہویدا تھی ۔ حضرت کی ذات شریف دنیا و دین، فقر و شہنشاہی، شریعت و طریقت ، معرفت و حقیقت کی جامع تھی ۔
نمازِ تہجد:
دس سال کی عمر شریف سے نمازِ تہجد شروع فرمائی تو وصال شریف تک کبھی قضاء نہ ہوئی ۔ اشاعتِ اسلام اور اصلاحِ مسلمین آپ کا خاص وصف تھا ۔ آپ کی زندگی اسلام اور مسلمین کے لئے وقف تھی ۔ ہمہ وقت عبادت و ریاضت میں مصروف نظر آتے، یا وعظ و تلقین، یا امورِ مسلمین میں ۔
مولا علی کی زیارت:
آپ نہایت ہی منکسر المزاج اور با اخلاق شخصیت کے حامل تھے ۔ تکبر، تصنع، ریاء، عالی نسب و منصب کا شائبہ تک کبھی نہیں گزرا ۔
آپ فرماتے ہیں: ’’ایک روز فقیر کو خیال آیا کہ نسبتِ ظنی سے سیادت ساداتِ بلگرام مشہور و مسلم ہے، لیکن یقین و وثوق نہیں، جیسے ہی یہ خیال آیا کہ فوراً دیکھتا ہوں کہ حضور مولی المسلمین، امیر المؤمنین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم تشریف فرما ہیں، اور دونوں بازو چوکھٹ سنگی کے جو خانقاہ برکاتیہ میں نصب ہے، تھامے کھڑے ہیں، اور اِرشاد فرماتے ہیں کہ ’’تم ہمارے بیٹے ہو، اور پیارے بیٹے ہو ‘‘ ۔ (ایضا: 352) ـ
جود و سخا:
آپ جود و سخا، بخشش و عطاء میں یگانہ روزگار تھے ۔ اپنے والد ماجد کے عرس شریف میں مہمانوں کی خاطر داری کی ایک ایسی مثال قائم کی کہ اپنے وقت کا شہنشاہ بھی ایسی پر تکلف دعوت شاید ہی کر سکے ۔ عرس مبارک میں مہمانوں کے لئے سو سے زیادہ انواع کے کھانوں سے مہمانوں کی تواضع فرماتے، اور پھر اس میں تخفیف کر دی تھی، پھر بھی مہمانوں کو پچیس اقسام کے کھانے ہر سال برابر تقسیم ہوتے تھے ـ اس میں شاہ و گدا کی کوئی تخصیص نہیں تھی ۔
شانِ بے نیازی:
حضرت قطب الکاملین سید شاہ حمزہ کی ذات اپنے اسلاف کی آئینہ دار تھی، اور بڑے بڑے امراء و سلاطینِ وقت اپنے خدام و فوج کے ساتھ آپ کی خدمت میں مارہرہ شریف حاضر ہوتے، کئی دن خانقاہ میں قیام کرتے، اور انواع و اقسام کے کھانوں سےان لوگوں کی مہمان نوازی کی جاتی ۔ مگر حضرت کبھی بھی ان لوگوں کو باریابی کی اجازت نہیں دیتے تھے، اور آپ کے معمولات میں ذرہ برابر فرق نہیں آتا تھا ۔
❤2
زیارتِ سرکارِ دو عالم ﷺ:
ایک باکمال درویش نے آپ کی خدمت مبارکہ میں ایک درود شریف نذر کیا ۔ حضرت نے اسے پسند فرما کر رکھ لیا ۔ اِسی شب میں حضورِ اقدس ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’صاحبزادے اٹھو! اور درود شریف پڑھو ‘‘ ۔ آپ بیدار ہوئے، غسل فرمایا، عطر لگایا، بخور وغیرہ روشن کئے اور اس درود شریف کا ورد شروع کر دیا ۔ ابھی درود شریف ختم بھی نہ کیا تھا کہ زیارتِ سرور کونین ﷺ سے مشرف ہوئے اور آپ علیہ الرحمہ نے سر کی آنکھوں سے نبی کریم ﷺ کا دیدار کیا ۔ آپ تعظیماً کھڑے ہو گئے اور درود شریف کے بقیہ اعداد پورے کئے ۔ درود شریف تمام ہونے تک آقا ئے دو عالم ﷺ آپ کے پاس تشریف فرما رہے ۔ مذکورہ درویش کا نام مولانا محمد مکرم مرید شاہ پشاوری علیہ الرحمہ ہے جو 1174ھ کو احمد شاہ درانی کے ساتھ ہندوستان آئے تھے ۔ (ایضا: 353) ـ
علمی و تصنیفی خدمات:
آپ کو مطالعے کا خاص ذوق تھا، اور جو کتابیں مطالعہ فرماتے اول سے آخر تک دیکھتے، اور پسندیدہ فوائد اس کے اول یا آخر یا اس پر حاشیہ تحریر فرما دیتے ۔ آپ کے کتب خانہ میں مختلف علوم و فنون کی کتب جمع تھیں ۔ جن کی تعداد سولہ ہزار کے قریب تھی ۔ نادر و نایاب کتب کی کتابت خود کرتے، یا کسی کاتب سے کروا کر کتب خانہ میں داخل کر دیتے ۔ اسی طرح اللہ جل شانہ نے آپ کو ذوقِ شاعری بھی عمدہ عطاء فرمایا تھا ۔ آپ کے اکثر اشعار فارسی اور اردو میں ملتے ہیں ۔ مشہور زمانہ منقبت
غوث اعظم بمن بے سرو ساماں مددے
قبلۂ دیں مددے کعبۂ ایماں مددے ‘‘
یہ منقبت آپ علیہ الرحمہ ہی کی ہے ۔
تصنیفات:
آپ کو تصنیف و تالیف سے خاص شغف تھا
1 کاشف الاستار ۔
2 فص الکلمات ۔
یہ کتاب تمام علوم و فنون کی جامع ہے ـ
3 مثنوی اتفاقیہ ۔
4 قصیدہ گوہربار ۔
5 رسالہ عقائد ۔
وہابیوں نے ایک کتاب ’’خزینۃ الاولیاء‘‘ گھڑ کر آپ کی طرف منسوب کر دی ۔ اس سے عوام کو دھوکہ دیتے ہیں ۔ یہ کتاب آپ کی ہرگز نہیں ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ؛جلد 29،ص، 68) ـ
اولاد و خلفاء:
آپ علیہ الرحمہ کی پانچ اولادیں ہوئیں:
۱ شاہ آل احمد اچھے میاں ـ
۲ شاہ برکات ستھرے میاں ـ
۳ شاہ آل حسین سچے میاں ـ
۴ سید علی ـ
ان کا وصال بچپن میں ہی ہو گیا تھا،
۵ اور ایک صاحبزادی تھی ۔ علیہم الرحمہ
آپ کے خلفاءِ کرام کی تعداد اکتیس ہے،
اکثر خلفاءِ کرام سے سلسلہ جاری ہے ۔
تاریخِ وصال:
14 محرم الحرام 1198ھ مطابق 10 دسمبر 1783ء، بروز بدھ، بعد نماز مغرب واصل باللہ ہوئے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/asad-ul-aarifeen-hazrat-syed-shah-hamza-barkati-qadri-marehravi
ایک باکمال درویش نے آپ کی خدمت مبارکہ میں ایک درود شریف نذر کیا ۔ حضرت نے اسے پسند فرما کر رکھ لیا ۔ اِسی شب میں حضورِ اقدس ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’صاحبزادے اٹھو! اور درود شریف پڑھو ‘‘ ۔ آپ بیدار ہوئے، غسل فرمایا، عطر لگایا، بخور وغیرہ روشن کئے اور اس درود شریف کا ورد شروع کر دیا ۔ ابھی درود شریف ختم بھی نہ کیا تھا کہ زیارتِ سرور کونین ﷺ سے مشرف ہوئے اور آپ علیہ الرحمہ نے سر کی آنکھوں سے نبی کریم ﷺ کا دیدار کیا ۔ آپ تعظیماً کھڑے ہو گئے اور درود شریف کے بقیہ اعداد پورے کئے ۔ درود شریف تمام ہونے تک آقا ئے دو عالم ﷺ آپ کے پاس تشریف فرما رہے ۔ مذکورہ درویش کا نام مولانا محمد مکرم مرید شاہ پشاوری علیہ الرحمہ ہے جو 1174ھ کو احمد شاہ درانی کے ساتھ ہندوستان آئے تھے ۔ (ایضا: 353) ـ
علمی و تصنیفی خدمات:
آپ کو مطالعے کا خاص ذوق تھا، اور جو کتابیں مطالعہ فرماتے اول سے آخر تک دیکھتے، اور پسندیدہ فوائد اس کے اول یا آخر یا اس پر حاشیہ تحریر فرما دیتے ۔ آپ کے کتب خانہ میں مختلف علوم و فنون کی کتب جمع تھیں ۔ جن کی تعداد سولہ ہزار کے قریب تھی ۔ نادر و نایاب کتب کی کتابت خود کرتے، یا کسی کاتب سے کروا کر کتب خانہ میں داخل کر دیتے ۔ اسی طرح اللہ جل شانہ نے آپ کو ذوقِ شاعری بھی عمدہ عطاء فرمایا تھا ۔ آپ کے اکثر اشعار فارسی اور اردو میں ملتے ہیں ۔ مشہور زمانہ منقبت
غوث اعظم بمن بے سرو ساماں مددے
قبلۂ دیں مددے کعبۂ ایماں مددے ‘‘
یہ منقبت آپ علیہ الرحمہ ہی کی ہے ۔
تصنیفات:
آپ کو تصنیف و تالیف سے خاص شغف تھا
1 کاشف الاستار ۔
2 فص الکلمات ۔
یہ کتاب تمام علوم و فنون کی جامع ہے ـ
3 مثنوی اتفاقیہ ۔
4 قصیدہ گوہربار ۔
5 رسالہ عقائد ۔
وہابیوں نے ایک کتاب ’’خزینۃ الاولیاء‘‘ گھڑ کر آپ کی طرف منسوب کر دی ۔ اس سے عوام کو دھوکہ دیتے ہیں ۔ یہ کتاب آپ کی ہرگز نہیں ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ؛جلد 29،ص، 68) ـ
اولاد و خلفاء:
آپ علیہ الرحمہ کی پانچ اولادیں ہوئیں:
۱ شاہ آل احمد اچھے میاں ـ
۲ شاہ برکات ستھرے میاں ـ
۳ شاہ آل حسین سچے میاں ـ
۴ سید علی ـ
ان کا وصال بچپن میں ہی ہو گیا تھا،
۵ اور ایک صاحبزادی تھی ۔ علیہم الرحمہ
آپ کے خلفاءِ کرام کی تعداد اکتیس ہے،
اکثر خلفاءِ کرام سے سلسلہ جاری ہے ۔
تاریخِ وصال:
14 محرم الحرام 1198ھ مطابق 10 دسمبر 1783ء، بروز بدھ، بعد نماز مغرب واصل باللہ ہوئے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/asad-ul-aarifeen-hazrat-syed-shah-hamza-barkati-qadri-marehravi
❤2
زبدۃ الواصلین، حضرت سید شاہ حمزہ عینی مارہروی علیه رحمة الله القوي کی ولادت ۱۱۳۱ھ مارہرہ شریف (یو پی) ہند میں ہوئی اور یہیں ۱٤ محرم الحرام ۱۱۹۸ھ کو وصال فرمایا۔ آپ عالمِ باعمل، سلسلۂ عالیہ قادریہ برکاتیہ کے عظیم شیخِ طریقت، کئی کتب کے مصنف اور مارہرہ شریف کی وسیع لائبریری کے بانی ہیں۔ آپ کا مزار شریف ”درگاہ شاہ برکت الله“ کے دالان میں شرقی گنبد میں ہے۔ (تاریخ خاندان برکات، صفحہ ۲۰ تا ۲۳)
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/755707071673531/
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/755707071673531/
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
13-04-1445 ᴴ | 29-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
14-04-1445 ᴴ | 30-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2