🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
13-04-1445 ᴴ | 29-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
13-04-1445 ᴴ | 29-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
13-04-1445 ᴴ | 29-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
13-04-1445 ᴴ | 29-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اپنے خاندان کو محفوظ کرنے کے لئے کچھ کام کر لیجئے کیونکہ جو کچھ ہوتا دکھائی دے رہا ہے وہ بیان سے باہر ہے ـ از ڈاکٹر اسمٰعیل بدایونی ـ ضیاء طیبہ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
شادی کو آسان کیجئے ...
نکاح کے لئے 6 ضروری کام
دو فرائض: ایجاب و قبول ـ ایک واجب: مہر ـ اور تین سنتیں: خطبۂ نکاح ، تقسیمِ چھوہارہ اور ولیمہ ـ شادی سَستی ہے اسے ہمارے رسم و رواج نے مہنگا کر دیا ہے ـ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اولاد کی شادی جلدی کرو
فرمانِ حضرت عمر رضی الله عنه
جب تمہاری اولاد بالغ یو جائے تو ان کا نکاح کر دو اور ان کے گناہوں کا بوجھ اپنے کندھوں پر مت اُٹھاؤ ـ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
@Muhammad_Jamaluddin_Khan
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اپنے خاندان کو محفوظ کرنے کے لئے کچھ کام کر لیجئے کیونکہ جو کچھ ہوتا دکھائی دے رہا ہے وہ بیان سے باہر ہے ـ از ڈاکٹر اسمٰعیل بدایونی ـ ضیاء طیبہ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
شادی کو آسان کیجئے ...
نکاح کے لئے 6 ضروری کام
دو فرائض: ایجاب و قبول ـ ایک واجب: مہر ـ اور تین سنتیں: خطبۂ نکاح ، تقسیمِ چھوہارہ اور ولیمہ ـ شادی سَستی ہے اسے ہمارے رسم و رواج نے مہنگا کر دیا ہے ـ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اولاد کی شادی جلدی کرو
فرمانِ حضرت عمر رضی الله عنه
جب تمہاری اولاد بالغ یو جائے تو ان کا نکاح کر دو اور ان کے گناہوں کا بوجھ اپنے کندھوں پر مت اُٹھاؤ ـ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
@Muhammad_Jamaluddin_Khan
❤3
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤3
خواجہ محمد مقبول الرسول للہی شریف رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: خواجہ مقبول الرسول ۔ للہ شریف کی نسبت سے " للہی " کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
پیر طریقت حضرت خواجہ محمد مقبول الرسول بن حضرت خواجہ عبد الرسول للّٰہی بن قاضی غلام حسین ۔ آپ کے مورث اعلیٰ ، حضرت خواجہ غلام نبی للّٰہی خلیفۂ حضرت مولانا غلام محی الدین قصوری، دائم الحضوری اپنے دور کے مقتدر عالم دین اور بلند پایہ شیخِ طریقت تھے ۔ (قدس سرہم) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز پیر 17 ذو الحج 1323ھ / مطابق 12 فروری 1906ء کو " للہ شریف " ضلع جہلم میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے والدِ گرامی سے حاصل کی، پھر آپ کے والدِ ماجد حضرت خواجہ عبد الرسول للہی علیہ الرحمہ نے آپ کو حضرت خواجہ غلام حسن (ڈھڈیاں ضلع جہلم) خلیفۂ اعظم حضرت خواجہ غلام نبی رحمہم اللہ تعالیٰ کے سپرد کیا اور فرمایا: " ایسا نہ ہو کہ ہم دنیا سے رخصت ہو جائیں اور ان کی تعلیم و تربیت ادھوری رہ جائے، لہٰذ آپ انہیں ظاہری علوم کے ساتھ باطنی علوم و فیوض سے بھی نوازیں" ۔
کچھ دن بعد ہی حضرت خواجہ عبد الرسول کا انتقال ہو گیا ۔ حضرت خواجہ غلام حسن علیہ الرحمہ نے پوری توجہ سے خواجہ مقبول الرسول کی تربیت فرمائی، اور برسوں کا کام مہینوں میں مکمل فرما دیا ۔ خواجہ صاحب اردو اور فارسی پر کامل عبور رکھتے تھے ۔ دونوں زبانوں میں بلا تکلف تحریر و تقریرپر قادر تھے ۔
بیعت و خلافت:
آپ اپنے والدِ گرامی حضرت عبد الرسول للہی علیہ الرحمہ کے مرید و خلیفہ تھے ۔
سیرت و خصائص:
ولی العصر، زبدۃ العارفین، عمدۃ الکاملین، قدوۃ السالکین، محبوب المشائخ ، پیرِ طریقت امیرِ شریعت حضرت خواجہ مقبول الرسول للہی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ جامعِ شریعت و طریقت تھے ۔ آپ کو دیکھ کر اسلاف کی یاد تازہ ہو جاتی تھی ۔ مشائخِ نقشبندیہ کی تعلیمات کی عملی تصویر تھے ۔ آپ بڑے خلیق، ملنسار اور سادگی پسند تھے ۔ علماء کی تعظیم، غرباء سے محبت اور امراء سے بے نیازی آپ کے امتیازی اوصاف تھے ۔ تواضع و انکسار کے پیکر تھے ۔ متعلقین کو بھی یہی درس دیتے تھے ۔ کوئی عقیدت مند خوشی اور اخلاص سے تحفہ پیش کرتا تو قبول فرما لیتے ورنہ قیمت دِئے بغیر لینا پسند نہ فرماتے ۔ اتباعِ سنتِ مبارکہ کی پوری سعی فرماتے اور متبعین کو بھی سنت مطہرہ پر عمل پیرا ہونے کی تلقین فرماتے ۔
تحریکِ پاکستان میں کردار:
قیامِ پاکستان کی تحریک میں کارہائے نمایاں انجام دئے ۔ مسلم لیگ کے نمائندوں کو کامیاب کرانے کے لئے زبانی اور خطوط کے ذریعے رغبت دلاتے رہے ۔ اگر کسی مرید نے انتخابات میں مخالف پارٹی کو اوٹ دیا تو اس پر سخت ناراض ہوئے ۔ بر صغیر کی تقسیم سے پہلے آپ نے میاں کامل دین کو بلایا اور فرمایا: " قائد اعظم آزادیِ ملک کی خاطر اپنے آرام کو چھوڑ کر ظاہری کوشش میں مصروف ہیں ۔ ہمیں چاہئے کہ باطنی طور پر کوشش کریں لہٰذا تم ہر روز درود پاک ، استغفار ، لاحول ولا قوۃ ، اور یا حیّ یا قیوم تین تین ہزار بار اور سورۂ مزمل چالیس بار پڑھ کر آزادی کے لئے دعا کیا کرو " ۔
میاں کامل دین نے ایک سال تک یہ معمول جاری رکھا، بعد ازاں آپ انہیں ایک خط لکھا کہ پاکستان کی بنیاد تحت الثریٰ تک چلی گئی ہے ۔ اس خط کے ایک ماہ بعد پاکستان کا اعلان ہو گیا جس سے آپ بہت مسرور ہوئے لیکن ابھی چند ماہ ہی گزرنے پائے تھے کہ قائد اعظم کا انتقال ہو گیا ۔ ہندوستان نے کشمیر پر بھاری حملہ کر دیا، ادھر حیدر آباد دکن پر ہندوستان کا تسلط ہو گیا، ان تمام واقعات سے آپ بڑے مغموم اور پریشان ہوئے ۔ لیکن یہ بات باعثِ اطمینان تھی کہ یہ واقعات مسلمانوں کے لئے تازیانۂ عبرت ہیں ۔
چنانچہ ایک مکتوب میں لکھتے ہیں: " قائد اعظم صاحب کے انتقال سے جو مسلمانانِ پاکستان و مسلمانانِ عالم کو رنج و الم ہوا وہ محتاج بیان نہیں، " للہ " جیسے بے حس شہر میں چار چار پانچ پانچ سال کے بچوں نے بھی دو تین دن تک کچھ نہ کھایا اور دھاڑیں مار کر روتے رہے ۔ اس سے اندازہ ہو سکتا ہے، اوپر سے حیدر آباد کا معاملہ پیش آیا، اس سے تو مسلمانوں کی کمر ٹوٹ گئی " ۔
مگر بقول شخصے:؏،
خدا شرے بر انگیز دکہ خیر ما دراں باشد۔
ان صدموں نے جو ایک ساتھ آئے ہیں، مسلمانوں کی آنکھیں کھول دی ہیں ۔ جو لوگ سستی سے کام لے رہے تھے وہ بہت چوکنے ہو گئے ہیں اور بھاری ذمہ داری محسوس کرنے لگے ہیں گویا تازیانۂ عبرت ثابت ہوا " ۔
نام و نسب:
اسمِ گرامی: خواجہ مقبول الرسول ۔ للہ شریف کی نسبت سے " للہی " کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
پیر طریقت حضرت خواجہ محمد مقبول الرسول بن حضرت خواجہ عبد الرسول للّٰہی بن قاضی غلام حسین ۔ آپ کے مورث اعلیٰ ، حضرت خواجہ غلام نبی للّٰہی خلیفۂ حضرت مولانا غلام محی الدین قصوری، دائم الحضوری اپنے دور کے مقتدر عالم دین اور بلند پایہ شیخِ طریقت تھے ۔ (قدس سرہم) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز پیر 17 ذو الحج 1323ھ / مطابق 12 فروری 1906ء کو " للہ شریف " ضلع جہلم میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے والدِ گرامی سے حاصل کی، پھر آپ کے والدِ ماجد حضرت خواجہ عبد الرسول للہی علیہ الرحمہ نے آپ کو حضرت خواجہ غلام حسن (ڈھڈیاں ضلع جہلم) خلیفۂ اعظم حضرت خواجہ غلام نبی رحمہم اللہ تعالیٰ کے سپرد کیا اور فرمایا: " ایسا نہ ہو کہ ہم دنیا سے رخصت ہو جائیں اور ان کی تعلیم و تربیت ادھوری رہ جائے، لہٰذ آپ انہیں ظاہری علوم کے ساتھ باطنی علوم و فیوض سے بھی نوازیں" ۔
کچھ دن بعد ہی حضرت خواجہ عبد الرسول کا انتقال ہو گیا ۔ حضرت خواجہ غلام حسن علیہ الرحمہ نے پوری توجہ سے خواجہ مقبول الرسول کی تربیت فرمائی، اور برسوں کا کام مہینوں میں مکمل فرما دیا ۔ خواجہ صاحب اردو اور فارسی پر کامل عبور رکھتے تھے ۔ دونوں زبانوں میں بلا تکلف تحریر و تقریرپر قادر تھے ۔
بیعت و خلافت:
آپ اپنے والدِ گرامی حضرت عبد الرسول للہی علیہ الرحمہ کے مرید و خلیفہ تھے ۔
سیرت و خصائص:
ولی العصر، زبدۃ العارفین، عمدۃ الکاملین، قدوۃ السالکین، محبوب المشائخ ، پیرِ طریقت امیرِ شریعت حضرت خواجہ مقبول الرسول للہی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ جامعِ شریعت و طریقت تھے ۔ آپ کو دیکھ کر اسلاف کی یاد تازہ ہو جاتی تھی ۔ مشائخِ نقشبندیہ کی تعلیمات کی عملی تصویر تھے ۔ آپ بڑے خلیق، ملنسار اور سادگی پسند تھے ۔ علماء کی تعظیم، غرباء سے محبت اور امراء سے بے نیازی آپ کے امتیازی اوصاف تھے ۔ تواضع و انکسار کے پیکر تھے ۔ متعلقین کو بھی یہی درس دیتے تھے ۔ کوئی عقیدت مند خوشی اور اخلاص سے تحفہ پیش کرتا تو قبول فرما لیتے ورنہ قیمت دِئے بغیر لینا پسند نہ فرماتے ۔ اتباعِ سنتِ مبارکہ کی پوری سعی فرماتے اور متبعین کو بھی سنت مطہرہ پر عمل پیرا ہونے کی تلقین فرماتے ۔
تحریکِ پاکستان میں کردار:
قیامِ پاکستان کی تحریک میں کارہائے نمایاں انجام دئے ۔ مسلم لیگ کے نمائندوں کو کامیاب کرانے کے لئے زبانی اور خطوط کے ذریعے رغبت دلاتے رہے ۔ اگر کسی مرید نے انتخابات میں مخالف پارٹی کو اوٹ دیا تو اس پر سخت ناراض ہوئے ۔ بر صغیر کی تقسیم سے پہلے آپ نے میاں کامل دین کو بلایا اور فرمایا: " قائد اعظم آزادیِ ملک کی خاطر اپنے آرام کو چھوڑ کر ظاہری کوشش میں مصروف ہیں ۔ ہمیں چاہئے کہ باطنی طور پر کوشش کریں لہٰذا تم ہر روز درود پاک ، استغفار ، لاحول ولا قوۃ ، اور یا حیّ یا قیوم تین تین ہزار بار اور سورۂ مزمل چالیس بار پڑھ کر آزادی کے لئے دعا کیا کرو " ۔
میاں کامل دین نے ایک سال تک یہ معمول جاری رکھا، بعد ازاں آپ انہیں ایک خط لکھا کہ پاکستان کی بنیاد تحت الثریٰ تک چلی گئی ہے ۔ اس خط کے ایک ماہ بعد پاکستان کا اعلان ہو گیا جس سے آپ بہت مسرور ہوئے لیکن ابھی چند ماہ ہی گزرنے پائے تھے کہ قائد اعظم کا انتقال ہو گیا ۔ ہندوستان نے کشمیر پر بھاری حملہ کر دیا، ادھر حیدر آباد دکن پر ہندوستان کا تسلط ہو گیا، ان تمام واقعات سے آپ بڑے مغموم اور پریشان ہوئے ۔ لیکن یہ بات باعثِ اطمینان تھی کہ یہ واقعات مسلمانوں کے لئے تازیانۂ عبرت ہیں ۔
چنانچہ ایک مکتوب میں لکھتے ہیں: " قائد اعظم صاحب کے انتقال سے جو مسلمانانِ پاکستان و مسلمانانِ عالم کو رنج و الم ہوا وہ محتاج بیان نہیں، " للہ " جیسے بے حس شہر میں چار چار پانچ پانچ سال کے بچوں نے بھی دو تین دن تک کچھ نہ کھایا اور دھاڑیں مار کر روتے رہے ۔ اس سے اندازہ ہو سکتا ہے، اوپر سے حیدر آباد کا معاملہ پیش آیا، اس سے تو مسلمانوں کی کمر ٹوٹ گئی " ۔
مگر بقول شخصے:؏،
خدا شرے بر انگیز دکہ خیر ما دراں باشد۔
ان صدموں نے جو ایک ساتھ آئے ہیں، مسلمانوں کی آنکھیں کھول دی ہیں ۔ جو لوگ سستی سے کام لے رہے تھے وہ بہت چوکنے ہو گئے ہیں اور بھاری ذمہ داری محسوس کرنے لگے ہیں گویا تازیانۂ عبرت ثابت ہوا " ۔
❤2
آپ کے نزدیک سب سے بڑی کرامت اتباع شریعت پر استقامت اور تبلیغِ دین تھی ۔ ایک مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں: "چاہئے کہ نمازِ پنج گانہ باوقاتِ مسنونہ، اوراد طریقۂ عالیہ نقشبندیہ قادریہ، ہرگز قضاء نہ کریں ۔ خصوصاً بوقتِ شام شجرہ شریف مروجہ، اور بوقت ِسحر شجرہ شریف ذہبیہ پڑھیں ۔ اشد تاکید ہے کہ امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا خیال ہر وقت رکھنا اشد ضروری ہے ۔
؏: " کارِایں است دیگر ہمہ ہیچ " ۔
یہی وجہ ہے کہ للہ شریف پورے قصبے میں اتباع شریعت کا خاص خیال رکھا جاتا تھا، آپ کی زندگی میں کسی کو جرات نہیں ہوتی تھی کہ شادی بیاہ کے موقع پر غیر شرعی کام کرے، اور رمضان المبارک میں دن کے اوقات میں کسی کو سرِ عام کھانے کی جرات نہیں ہوتی تھی ۔
اسی طرح ہر قسم کی غیر شرعی حرکات پر سختی سے نوٹس لیا جاتا تھا ۔ یہ صرف اپنے قصبے کے ساتھ خاص نہیں تھا بلکہ جہاں جہاں مریدین و متوسلین تھے، وہاں پہ بھی شرعی احکام کا خاص خیال رکھا جاتا تھا ۔
چنانچہ ضلع گجرات کے ایک مرید کے بارے معلوم ہوا کہ اس نے بغیر نکاح ایک عورت کو گھر میں رکھا ہوا ہے ۔ آپ نے اسے منع کیا لیکن وہ باز نہ آیا، تو آپ نے اس کے پورے خاندان سے قطع تعلق کر لیا ۔ یہاں تک کہ اس گاؤں میں جانا چھوڑ دیا ۔ لوگوں نے بہت منت کی، مگر آپ نے فرمایا: " جب تک یہ خرابی دور نہیں کروگے اس وقت تک قدم نہیں رکھوں گا " ۔
وصال:
آپ کا وصال 14 ربیع الثانی 1368ھ / بمطابق 13 فروری 1949ء ، بروز اتوار ، بوقتِ سحری ہوا ۔
آخری الفاظ:
آخری الفاظ " استغفراللہ " تھے ۔
آپ کا مزار پر انوار " للہ شریف " تحصیل پنڈ دادن خان، ضلع جہلم پاکستان میں مرجع خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہلسنت ۔ تاریخ مشائخ نقشبندیہ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-muhammad-maqbool-ur-rasool
؏: " کارِایں است دیگر ہمہ ہیچ " ۔
یہی وجہ ہے کہ للہ شریف پورے قصبے میں اتباع شریعت کا خاص خیال رکھا جاتا تھا، آپ کی زندگی میں کسی کو جرات نہیں ہوتی تھی کہ شادی بیاہ کے موقع پر غیر شرعی کام کرے، اور رمضان المبارک میں دن کے اوقات میں کسی کو سرِ عام کھانے کی جرات نہیں ہوتی تھی ۔
اسی طرح ہر قسم کی غیر شرعی حرکات پر سختی سے نوٹس لیا جاتا تھا ۔ یہ صرف اپنے قصبے کے ساتھ خاص نہیں تھا بلکہ جہاں جہاں مریدین و متوسلین تھے، وہاں پہ بھی شرعی احکام کا خاص خیال رکھا جاتا تھا ۔
چنانچہ ضلع گجرات کے ایک مرید کے بارے معلوم ہوا کہ اس نے بغیر نکاح ایک عورت کو گھر میں رکھا ہوا ہے ۔ آپ نے اسے منع کیا لیکن وہ باز نہ آیا، تو آپ نے اس کے پورے خاندان سے قطع تعلق کر لیا ۔ یہاں تک کہ اس گاؤں میں جانا چھوڑ دیا ۔ لوگوں نے بہت منت کی، مگر آپ نے فرمایا: " جب تک یہ خرابی دور نہیں کروگے اس وقت تک قدم نہیں رکھوں گا " ۔
وصال:
آپ کا وصال 14 ربیع الثانی 1368ھ / بمطابق 13 فروری 1949ء ، بروز اتوار ، بوقتِ سحری ہوا ۔
آخری الفاظ:
آخری الفاظ " استغفراللہ " تھے ۔
آپ کا مزار پر انوار " للہ شریف " تحصیل پنڈ دادن خان، ضلع جہلم پاکستان میں مرجع خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہلسنت ۔ تاریخ مشائخ نقشبندیہ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-muhammad-maqbool-ur-rasool
scholars.pk
Hazrat Khawaja Muhammad Maqbool-ur-Rasool
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
Peer-e-Tariqat Hazrat Khawaja Muhammad Maqbool-ur-Rasool
❤2
حضرت خضر رومی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
خضر بیگ بن قاضی جلال الدین صدر الدین بن حاجی ابراہیم رومی۸۱۰ھ میں پیدا ہوئے اور شہر سفری حصار میں جو بلاد روم میں سے ایک شہر ہے، پرورش پائی ۔ پہلے اپنے والدِ ماجد سے جو یہاں کے قاضی تھے، تعلیم پاتے رہے پھر مولیٰ احمد بن اومغان المشہور بہ مولیٰ یگان کی خدمت میں حاضر ہوکر کمالیت کا رتبہ اور فضیلت کا درجہ حاصل کیا ۔
جب ۸۳۷ھ میں سفری حصار کے مدرس مقرر ہوئے تو آپ کو اور بھی علوم غریبہ اور فنون عجیبہ حاصل ہوئے یہاں تک کہ حکایت کرتے ہیں کہ اوائل جلوس سلطان محمد خاں بن مراد خاں میں ایک شخص عجمی جو مختلف علوم میں بڑا متجر تھا، بادشاہ کے دربار میں آکر مباحثہ کا خواہاں ہوا، اس وقت جتنے بڑے بڑے عالم و فاضل تھے وہ اس کے مباحثہ کے لیے جمع ہوئے لیکن جب اس نے سوالات پیش کیے تو ان کے جواب دینے سے سب کے سب عاجز آ گئے، اس سے بادشاہ کو نہایت بے قراری اور عار دامن گیر ہوئی پس اس نے کسی ایسے شخص کے طلب کرنے کا حکم دیا جو علوم غیربہ میں مہارت رکھتا ہو، سب لوگوں نے آپ کی طرف اشارہ کیا، سو آپ فوراً حاضر کیے گئے ـ
اس وقت آپ نوجوان تھے، عجمی بنظر حقارت آپ کو دیکھ کر ہنسنے لگا ۔ آپ نے فرمایا کہ تجھے جو سوال کرنا ہے وہ پیش کر، اس نے مختلف علوم میں کئی ایک سوال کیے جن کا جواب آپ نے نہایت خوبی سے دیا ۔
پھر آپ نے ایسے سو فن میں اس سے سوال کیے جن کو وہ ہر گز نہ جانتا تھا پس وہ بند ہوکر خاموش ہو گیا ۔ بادشاہ کو اس بات سے بڑی خوشی حاصل ہوئی اور آپ کی بڑی تعریف و تکریم کی اور شہر بردسا کے مدرسہ کا مدرس مقرر کیا ۔
جب سلطان نے قسطنطنیہ کو فتح کیا تو آپ کو وہاں کا قاضی بنایا پھر آپ نے ۸۵۹ھ میں مکہ معطمہ کا حج کیا ۔ آپ کے شاگردوں میں مصلح الدین المعروف بہ خواجہ زادہ اور شمس الدین المشہور خطیب زادہ اور خیر الدین معلم سلطان محمد خاں معروف و مشہور ہیں ۔
تصانیف:
ایک کتاب عقائد کی نظم میں تصنیف کی جس کی شرح آپ کے شاگرد شمس الدین احمد خیالی نے لکھی ہے، علاوہ اس کے ایک مختصر کتاب علم عروض میں اور تفتازانی کے حاشیہ تفسیر کشاف پر حواشی تصنیف فرمائے ـ
وصال:
14 ربیع الآخر 746ھ میں انتقال کیا ۔
’’ گنج معرفت ‘‘ تاریخ وفات ہے ۔
( حدائق الحنفیہ )
آپ قلندر قسم کے بزرگ تھے، رُوم کے رہنے والے تھے، آپ سے بے شمار کرامتیں ظاہر ہوا کرتی تھیں، ابتداً کسی کو اپنا مُرید نہ بنایا کرتے تھے، آپ خواجہ بختیار اوشی کی زندگی ہی میں دہلی تشریف لائے تھے، چنانچہ آپ نے خواجہ صاحب سے روحانی فیض حاصل کیا ۔ خواجہ صاحب نے اپنی کلاہ اور خرقہ شاہ خضر کی قیام گاہ پر بھیجوا کر رخصت کیا، اس کے بعد شاہ خضر کو جون پور جانے کا اتفاق ہوا، جب آپ موضع سر ہر پور پہنچے تو وہاں شاہ قطب آپ کے مرید ہو گئے، آپ نے شاہ قطب کو خلافت دینے کے بعد پھر اپنے اصلی وطن رُوم کا رُخ کیا، اس وقت بھی ہندوستان میں آپ کا سلسلہ قائم ہے جس کو سلسلۂ قنطوریہ چشتیہ کہتے ہیں ۔
( اخبار الاخیار )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khizar-roomi
خضر بیگ بن قاضی جلال الدین صدر الدین بن حاجی ابراہیم رومی۸۱۰ھ میں پیدا ہوئے اور شہر سفری حصار میں جو بلاد روم میں سے ایک شہر ہے، پرورش پائی ۔ پہلے اپنے والدِ ماجد سے جو یہاں کے قاضی تھے، تعلیم پاتے رہے پھر مولیٰ احمد بن اومغان المشہور بہ مولیٰ یگان کی خدمت میں حاضر ہوکر کمالیت کا رتبہ اور فضیلت کا درجہ حاصل کیا ۔
جب ۸۳۷ھ میں سفری حصار کے مدرس مقرر ہوئے تو آپ کو اور بھی علوم غریبہ اور فنون عجیبہ حاصل ہوئے یہاں تک کہ حکایت کرتے ہیں کہ اوائل جلوس سلطان محمد خاں بن مراد خاں میں ایک شخص عجمی جو مختلف علوم میں بڑا متجر تھا، بادشاہ کے دربار میں آکر مباحثہ کا خواہاں ہوا، اس وقت جتنے بڑے بڑے عالم و فاضل تھے وہ اس کے مباحثہ کے لیے جمع ہوئے لیکن جب اس نے سوالات پیش کیے تو ان کے جواب دینے سے سب کے سب عاجز آ گئے، اس سے بادشاہ کو نہایت بے قراری اور عار دامن گیر ہوئی پس اس نے کسی ایسے شخص کے طلب کرنے کا حکم دیا جو علوم غیربہ میں مہارت رکھتا ہو، سب لوگوں نے آپ کی طرف اشارہ کیا، سو آپ فوراً حاضر کیے گئے ـ
اس وقت آپ نوجوان تھے، عجمی بنظر حقارت آپ کو دیکھ کر ہنسنے لگا ۔ آپ نے فرمایا کہ تجھے جو سوال کرنا ہے وہ پیش کر، اس نے مختلف علوم میں کئی ایک سوال کیے جن کا جواب آپ نے نہایت خوبی سے دیا ۔
پھر آپ نے ایسے سو فن میں اس سے سوال کیے جن کو وہ ہر گز نہ جانتا تھا پس وہ بند ہوکر خاموش ہو گیا ۔ بادشاہ کو اس بات سے بڑی خوشی حاصل ہوئی اور آپ کی بڑی تعریف و تکریم کی اور شہر بردسا کے مدرسہ کا مدرس مقرر کیا ۔
جب سلطان نے قسطنطنیہ کو فتح کیا تو آپ کو وہاں کا قاضی بنایا پھر آپ نے ۸۵۹ھ میں مکہ معطمہ کا حج کیا ۔ آپ کے شاگردوں میں مصلح الدین المعروف بہ خواجہ زادہ اور شمس الدین المشہور خطیب زادہ اور خیر الدین معلم سلطان محمد خاں معروف و مشہور ہیں ۔
تصانیف:
ایک کتاب عقائد کی نظم میں تصنیف کی جس کی شرح آپ کے شاگرد شمس الدین احمد خیالی نے لکھی ہے، علاوہ اس کے ایک مختصر کتاب علم عروض میں اور تفتازانی کے حاشیہ تفسیر کشاف پر حواشی تصنیف فرمائے ـ
وصال:
14 ربیع الآخر 746ھ میں انتقال کیا ۔
’’ گنج معرفت ‘‘ تاریخ وفات ہے ۔
( حدائق الحنفیہ )
آپ قلندر قسم کے بزرگ تھے، رُوم کے رہنے والے تھے، آپ سے بے شمار کرامتیں ظاہر ہوا کرتی تھیں، ابتداً کسی کو اپنا مُرید نہ بنایا کرتے تھے، آپ خواجہ بختیار اوشی کی زندگی ہی میں دہلی تشریف لائے تھے، چنانچہ آپ نے خواجہ صاحب سے روحانی فیض حاصل کیا ۔ خواجہ صاحب نے اپنی کلاہ اور خرقہ شاہ خضر کی قیام گاہ پر بھیجوا کر رخصت کیا، اس کے بعد شاہ خضر کو جون پور جانے کا اتفاق ہوا، جب آپ موضع سر ہر پور پہنچے تو وہاں شاہ قطب آپ کے مرید ہو گئے، آپ نے شاہ قطب کو خلافت دینے کے بعد پھر اپنے اصلی وطن رُوم کا رُخ کیا، اس وقت بھی ہندوستان میں آپ کا سلسلہ قائم ہے جس کو سلسلۂ قنطوریہ چشتیہ کہتے ہیں ۔
( اخبار الاخیار )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khizar-roomi
scholars.pk
Hazrat Khizar Roomi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
حضرت شرف الدین ابو اسحاق شامی چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
اسمِ گرامی:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کی کنیت: ابو اسحاق ۔ اور لقب: شرف الدین تھا ۔
بیعت و خلافت:
شیخ ابو اسحاق شامی نے شیخ ممشاد علی دینوری کے دستِ حق پرست پر بیعت کی اور خرقۂ خلافت بھی حاصل کیا رحمۃ اللہ علیہما ۔
سیرت و خصائص:
حضرت شرف الدین ابو اسحاق شامی چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سلسلۂ ٔچشتیہ کے نامی گرامی بزرگوں میں سے تھے ۔ ظاہری اور باطنی علوم میں ممتاز تھے ۔ زہد و ریاضت میں بے مثال، خلق سے بے نیاز اور خالق سے ہی ہمراز تھے ۔ درویشوں سے محبت کرتے ۔ اولیاء اللہ میں ممتاز مقام رکھتے تھے ۔ فقراء میں بلند رتبہ تھے ۔ سات دن کے بعد افطار کرتے تھے کہ " معراج الفقراء جوع " (بھوک ہی فقراء کی معراج ہے) ـ
مرید ہونے سے پہلے چالیس روز تک استخارہ کیا آخر ہاتف غیبی نے آواز دی " اے ابو اسحاق! جاؤ، اور ممشاد دینوری کی خدمت میں حاضری دو " آپ خواجہ دینوری کی خدمت میں پہنچے، سات سال خدمت میں رہے پھر تکمیل کو پہنچے، خرقۂ خلافت پایا ۔ آپ کی ذات والا صفات خانوادۂ چشت میں ممتاز تھی ۔ آپ قصبۂ چشت میں قیام پذیر تھے ۔ خلافت پانے کے بعد پیر دستگیر سے رخصت لے کر چشت میں واپس آئے اور خواجۂ چشت کے نام سے مشہور ہوئے ۔
ان ہی دنوں چشت میں اور بھی کئی بزرگان دین قیام فرما تھے ان میں خواجہ ابو احمر ابدال چشتی، خواجہ ابو محمد بن ابو احمد ابدال چشتی، ناصر الدین، خواجہ ابو یوسف چشتی اور خواجہ مودود چشتی کے اسمائے گرامی مشہور ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ چاروں بزرگ دین کے ستون مانے جاتے تھے ۔ لاکھوں گناہ گاروں نے آپ کی راہنمائی میں توبہ کی اور بے شمار مرید درجۂ ولایت کو پہنچے ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 14 ربیع الثانی 329 ھ /بمطابق جنوری 941ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار بارک " عکہ " میں ہے جو ملکِ شام میں ہے ۔ کہتے ہیں وصال کے وقت سے ہر شب شام سے صبح تک آپ کے مزار پر غیب سے چراغ روشن ہو جاتا ہے اور آندھیاں آئیں یا بارش کا طوفان ہو اس چراغ کو کوئی گزند نہیں پہنچتا ۔
ماخذ و مراجع:
اقتباس الانوار ۔ سیر الاولیاء ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sharfuddin-abu-ishaq-shami
اسمِ گرامی:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کی کنیت: ابو اسحاق ۔ اور لقب: شرف الدین تھا ۔
بیعت و خلافت:
شیخ ابو اسحاق شامی نے شیخ ممشاد علی دینوری کے دستِ حق پرست پر بیعت کی اور خرقۂ خلافت بھی حاصل کیا رحمۃ اللہ علیہما ۔
سیرت و خصائص:
حضرت شرف الدین ابو اسحاق شامی چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سلسلۂ ٔچشتیہ کے نامی گرامی بزرگوں میں سے تھے ۔ ظاہری اور باطنی علوم میں ممتاز تھے ۔ زہد و ریاضت میں بے مثال، خلق سے بے نیاز اور خالق سے ہی ہمراز تھے ۔ درویشوں سے محبت کرتے ۔ اولیاء اللہ میں ممتاز مقام رکھتے تھے ۔ فقراء میں بلند رتبہ تھے ۔ سات دن کے بعد افطار کرتے تھے کہ " معراج الفقراء جوع " (بھوک ہی فقراء کی معراج ہے) ـ
مرید ہونے سے پہلے چالیس روز تک استخارہ کیا آخر ہاتف غیبی نے آواز دی " اے ابو اسحاق! جاؤ، اور ممشاد دینوری کی خدمت میں حاضری دو " آپ خواجہ دینوری کی خدمت میں پہنچے، سات سال خدمت میں رہے پھر تکمیل کو پہنچے، خرقۂ خلافت پایا ۔ آپ کی ذات والا صفات خانوادۂ چشت میں ممتاز تھی ۔ آپ قصبۂ چشت میں قیام پذیر تھے ۔ خلافت پانے کے بعد پیر دستگیر سے رخصت لے کر چشت میں واپس آئے اور خواجۂ چشت کے نام سے مشہور ہوئے ۔
ان ہی دنوں چشت میں اور بھی کئی بزرگان دین قیام فرما تھے ان میں خواجہ ابو احمر ابدال چشتی، خواجہ ابو محمد بن ابو احمد ابدال چشتی، ناصر الدین، خواجہ ابو یوسف چشتی اور خواجہ مودود چشتی کے اسمائے گرامی مشہور ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ چاروں بزرگ دین کے ستون مانے جاتے تھے ۔ لاکھوں گناہ گاروں نے آپ کی راہنمائی میں توبہ کی اور بے شمار مرید درجۂ ولایت کو پہنچے ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 14 ربیع الثانی 329 ھ /بمطابق جنوری 941ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار بارک " عکہ " میں ہے جو ملکِ شام میں ہے ۔ کہتے ہیں وصال کے وقت سے ہر شب شام سے صبح تک آپ کے مزار پر غیب سے چراغ روشن ہو جاتا ہے اور آندھیاں آئیں یا بارش کا طوفان ہو اس چراغ کو کوئی گزند نہیں پہنچتا ۔
ماخذ و مراجع:
اقتباس الانوار ۔ سیر الاولیاء ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sharfuddin-abu-ishaq-shami
scholars.pk
Hazrat Sharfuddin Abu Ishaq Shami
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2