🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
13-04-1445 ᴴ | 29-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
13-04-1445 ᴴ | 29-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
13-04-1445 ᴴ | 29-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
13-04-1445 ᴴ | 29-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اپنے خاندان کو محفوظ کرنے کے لئے کچھ کام کر لیجئے کیونکہ جو کچھ ہوتا دکھائی دے رہا ہے وہ بیان سے باہر ہے ـ از ڈاکٹر اسمٰعیل بدایونی ـ ضیاء طیبہ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
شادی کو آسان کیجئے ...
نکاح کے لئے 6 ضروری کام
دو فرائض: ایجاب و قبول ـ ایک واجب: مہر ـ اور تین سنتیں: خطبۂ نکاح ، تقسیمِ چھوہارہ اور ولیمہ ـ شادی سَستی ہے اسے ہمارے رسم و رواج نے مہنگا کر دیا ہے ـ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اولاد کی شادی جلدی کرو
فرمانِ حضرت عمر رضی الله عنه
جب تمہاری اولاد بالغ یو جائے تو ان کا نکاح کر دو اور ان کے گناہوں کا بوجھ اپنے کندھوں پر مت اُٹھاؤ ـ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
@Muhammad_Jamaluddin_Khan
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اپنے خاندان کو محفوظ کرنے کے لئے کچھ کام کر لیجئے کیونکہ جو کچھ ہوتا دکھائی دے رہا ہے وہ بیان سے باہر ہے ـ از ڈاکٹر اسمٰعیل بدایونی ـ ضیاء طیبہ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
شادی کو آسان کیجئے ...
نکاح کے لئے 6 ضروری کام
دو فرائض: ایجاب و قبول ـ ایک واجب: مہر ـ اور تین سنتیں: خطبۂ نکاح ، تقسیمِ چھوہارہ اور ولیمہ ـ شادی سَستی ہے اسے ہمارے رسم و رواج نے مہنگا کر دیا ہے ـ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اولاد کی شادی جلدی کرو
فرمانِ حضرت عمر رضی الله عنه
جب تمہاری اولاد بالغ یو جائے تو ان کا نکاح کر دو اور ان کے گناہوں کا بوجھ اپنے کندھوں پر مت اُٹھاؤ ـ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
@Muhammad_Jamaluddin_Khan
❤3
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤3
خواجہ محمد مقبول الرسول للہی شریف رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: خواجہ مقبول الرسول ۔ للہ شریف کی نسبت سے " للہی " کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
پیر طریقت حضرت خواجہ محمد مقبول الرسول بن حضرت خواجہ عبد الرسول للّٰہی بن قاضی غلام حسین ۔ آپ کے مورث اعلیٰ ، حضرت خواجہ غلام نبی للّٰہی خلیفۂ حضرت مولانا غلام محی الدین قصوری، دائم الحضوری اپنے دور کے مقتدر عالم دین اور بلند پایہ شیخِ طریقت تھے ۔ (قدس سرہم) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز پیر 17 ذو الحج 1323ھ / مطابق 12 فروری 1906ء کو " للہ شریف " ضلع جہلم میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے والدِ گرامی سے حاصل کی، پھر آپ کے والدِ ماجد حضرت خواجہ عبد الرسول للہی علیہ الرحمہ نے آپ کو حضرت خواجہ غلام حسن (ڈھڈیاں ضلع جہلم) خلیفۂ اعظم حضرت خواجہ غلام نبی رحمہم اللہ تعالیٰ کے سپرد کیا اور فرمایا: " ایسا نہ ہو کہ ہم دنیا سے رخصت ہو جائیں اور ان کی تعلیم و تربیت ادھوری رہ جائے، لہٰذ آپ انہیں ظاہری علوم کے ساتھ باطنی علوم و فیوض سے بھی نوازیں" ۔
کچھ دن بعد ہی حضرت خواجہ عبد الرسول کا انتقال ہو گیا ۔ حضرت خواجہ غلام حسن علیہ الرحمہ نے پوری توجہ سے خواجہ مقبول الرسول کی تربیت فرمائی، اور برسوں کا کام مہینوں میں مکمل فرما دیا ۔ خواجہ صاحب اردو اور فارسی پر کامل عبور رکھتے تھے ۔ دونوں زبانوں میں بلا تکلف تحریر و تقریرپر قادر تھے ۔
بیعت و خلافت:
آپ اپنے والدِ گرامی حضرت عبد الرسول للہی علیہ الرحمہ کے مرید و خلیفہ تھے ۔
سیرت و خصائص:
ولی العصر، زبدۃ العارفین، عمدۃ الکاملین، قدوۃ السالکین، محبوب المشائخ ، پیرِ طریقت امیرِ شریعت حضرت خواجہ مقبول الرسول للہی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ جامعِ شریعت و طریقت تھے ۔ آپ کو دیکھ کر اسلاف کی یاد تازہ ہو جاتی تھی ۔ مشائخِ نقشبندیہ کی تعلیمات کی عملی تصویر تھے ۔ آپ بڑے خلیق، ملنسار اور سادگی پسند تھے ۔ علماء کی تعظیم، غرباء سے محبت اور امراء سے بے نیازی آپ کے امتیازی اوصاف تھے ۔ تواضع و انکسار کے پیکر تھے ۔ متعلقین کو بھی یہی درس دیتے تھے ۔ کوئی عقیدت مند خوشی اور اخلاص سے تحفہ پیش کرتا تو قبول فرما لیتے ورنہ قیمت دِئے بغیر لینا پسند نہ فرماتے ۔ اتباعِ سنتِ مبارکہ کی پوری سعی فرماتے اور متبعین کو بھی سنت مطہرہ پر عمل پیرا ہونے کی تلقین فرماتے ۔
تحریکِ پاکستان میں کردار:
قیامِ پاکستان کی تحریک میں کارہائے نمایاں انجام دئے ۔ مسلم لیگ کے نمائندوں کو کامیاب کرانے کے لئے زبانی اور خطوط کے ذریعے رغبت دلاتے رہے ۔ اگر کسی مرید نے انتخابات میں مخالف پارٹی کو اوٹ دیا تو اس پر سخت ناراض ہوئے ۔ بر صغیر کی تقسیم سے پہلے آپ نے میاں کامل دین کو بلایا اور فرمایا: " قائد اعظم آزادیِ ملک کی خاطر اپنے آرام کو چھوڑ کر ظاہری کوشش میں مصروف ہیں ۔ ہمیں چاہئے کہ باطنی طور پر کوشش کریں لہٰذا تم ہر روز درود پاک ، استغفار ، لاحول ولا قوۃ ، اور یا حیّ یا قیوم تین تین ہزار بار اور سورۂ مزمل چالیس بار پڑھ کر آزادی کے لئے دعا کیا کرو " ۔
میاں کامل دین نے ایک سال تک یہ معمول جاری رکھا، بعد ازاں آپ انہیں ایک خط لکھا کہ پاکستان کی بنیاد تحت الثریٰ تک چلی گئی ہے ۔ اس خط کے ایک ماہ بعد پاکستان کا اعلان ہو گیا جس سے آپ بہت مسرور ہوئے لیکن ابھی چند ماہ ہی گزرنے پائے تھے کہ قائد اعظم کا انتقال ہو گیا ۔ ہندوستان نے کشمیر پر بھاری حملہ کر دیا، ادھر حیدر آباد دکن پر ہندوستان کا تسلط ہو گیا، ان تمام واقعات سے آپ بڑے مغموم اور پریشان ہوئے ۔ لیکن یہ بات باعثِ اطمینان تھی کہ یہ واقعات مسلمانوں کے لئے تازیانۂ عبرت ہیں ۔
چنانچہ ایک مکتوب میں لکھتے ہیں: " قائد اعظم صاحب کے انتقال سے جو مسلمانانِ پاکستان و مسلمانانِ عالم کو رنج و الم ہوا وہ محتاج بیان نہیں، " للہ " جیسے بے حس شہر میں چار چار پانچ پانچ سال کے بچوں نے بھی دو تین دن تک کچھ نہ کھایا اور دھاڑیں مار کر روتے رہے ۔ اس سے اندازہ ہو سکتا ہے، اوپر سے حیدر آباد کا معاملہ پیش آیا، اس سے تو مسلمانوں کی کمر ٹوٹ گئی " ۔
مگر بقول شخصے:؏،
خدا شرے بر انگیز دکہ خیر ما دراں باشد۔
ان صدموں نے جو ایک ساتھ آئے ہیں، مسلمانوں کی آنکھیں کھول دی ہیں ۔ جو لوگ سستی سے کام لے رہے تھے وہ بہت چوکنے ہو گئے ہیں اور بھاری ذمہ داری محسوس کرنے لگے ہیں گویا تازیانۂ عبرت ثابت ہوا " ۔
نام و نسب:
اسمِ گرامی: خواجہ مقبول الرسول ۔ للہ شریف کی نسبت سے " للہی " کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
پیر طریقت حضرت خواجہ محمد مقبول الرسول بن حضرت خواجہ عبد الرسول للّٰہی بن قاضی غلام حسین ۔ آپ کے مورث اعلیٰ ، حضرت خواجہ غلام نبی للّٰہی خلیفۂ حضرت مولانا غلام محی الدین قصوری، دائم الحضوری اپنے دور کے مقتدر عالم دین اور بلند پایہ شیخِ طریقت تھے ۔ (قدس سرہم) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز پیر 17 ذو الحج 1323ھ / مطابق 12 فروری 1906ء کو " للہ شریف " ضلع جہلم میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے والدِ گرامی سے حاصل کی، پھر آپ کے والدِ ماجد حضرت خواجہ عبد الرسول للہی علیہ الرحمہ نے آپ کو حضرت خواجہ غلام حسن (ڈھڈیاں ضلع جہلم) خلیفۂ اعظم حضرت خواجہ غلام نبی رحمہم اللہ تعالیٰ کے سپرد کیا اور فرمایا: " ایسا نہ ہو کہ ہم دنیا سے رخصت ہو جائیں اور ان کی تعلیم و تربیت ادھوری رہ جائے، لہٰذ آپ انہیں ظاہری علوم کے ساتھ باطنی علوم و فیوض سے بھی نوازیں" ۔
کچھ دن بعد ہی حضرت خواجہ عبد الرسول کا انتقال ہو گیا ۔ حضرت خواجہ غلام حسن علیہ الرحمہ نے پوری توجہ سے خواجہ مقبول الرسول کی تربیت فرمائی، اور برسوں کا کام مہینوں میں مکمل فرما دیا ۔ خواجہ صاحب اردو اور فارسی پر کامل عبور رکھتے تھے ۔ دونوں زبانوں میں بلا تکلف تحریر و تقریرپر قادر تھے ۔
بیعت و خلافت:
آپ اپنے والدِ گرامی حضرت عبد الرسول للہی علیہ الرحمہ کے مرید و خلیفہ تھے ۔
سیرت و خصائص:
ولی العصر، زبدۃ العارفین، عمدۃ الکاملین، قدوۃ السالکین، محبوب المشائخ ، پیرِ طریقت امیرِ شریعت حضرت خواجہ مقبول الرسول للہی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ جامعِ شریعت و طریقت تھے ۔ آپ کو دیکھ کر اسلاف کی یاد تازہ ہو جاتی تھی ۔ مشائخِ نقشبندیہ کی تعلیمات کی عملی تصویر تھے ۔ آپ بڑے خلیق، ملنسار اور سادگی پسند تھے ۔ علماء کی تعظیم، غرباء سے محبت اور امراء سے بے نیازی آپ کے امتیازی اوصاف تھے ۔ تواضع و انکسار کے پیکر تھے ۔ متعلقین کو بھی یہی درس دیتے تھے ۔ کوئی عقیدت مند خوشی اور اخلاص سے تحفہ پیش کرتا تو قبول فرما لیتے ورنہ قیمت دِئے بغیر لینا پسند نہ فرماتے ۔ اتباعِ سنتِ مبارکہ کی پوری سعی فرماتے اور متبعین کو بھی سنت مطہرہ پر عمل پیرا ہونے کی تلقین فرماتے ۔
تحریکِ پاکستان میں کردار:
قیامِ پاکستان کی تحریک میں کارہائے نمایاں انجام دئے ۔ مسلم لیگ کے نمائندوں کو کامیاب کرانے کے لئے زبانی اور خطوط کے ذریعے رغبت دلاتے رہے ۔ اگر کسی مرید نے انتخابات میں مخالف پارٹی کو اوٹ دیا تو اس پر سخت ناراض ہوئے ۔ بر صغیر کی تقسیم سے پہلے آپ نے میاں کامل دین کو بلایا اور فرمایا: " قائد اعظم آزادیِ ملک کی خاطر اپنے آرام کو چھوڑ کر ظاہری کوشش میں مصروف ہیں ۔ ہمیں چاہئے کہ باطنی طور پر کوشش کریں لہٰذا تم ہر روز درود پاک ، استغفار ، لاحول ولا قوۃ ، اور یا حیّ یا قیوم تین تین ہزار بار اور سورۂ مزمل چالیس بار پڑھ کر آزادی کے لئے دعا کیا کرو " ۔
میاں کامل دین نے ایک سال تک یہ معمول جاری رکھا، بعد ازاں آپ انہیں ایک خط لکھا کہ پاکستان کی بنیاد تحت الثریٰ تک چلی گئی ہے ۔ اس خط کے ایک ماہ بعد پاکستان کا اعلان ہو گیا جس سے آپ بہت مسرور ہوئے لیکن ابھی چند ماہ ہی گزرنے پائے تھے کہ قائد اعظم کا انتقال ہو گیا ۔ ہندوستان نے کشمیر پر بھاری حملہ کر دیا، ادھر حیدر آباد دکن پر ہندوستان کا تسلط ہو گیا، ان تمام واقعات سے آپ بڑے مغموم اور پریشان ہوئے ۔ لیکن یہ بات باعثِ اطمینان تھی کہ یہ واقعات مسلمانوں کے لئے تازیانۂ عبرت ہیں ۔
چنانچہ ایک مکتوب میں لکھتے ہیں: " قائد اعظم صاحب کے انتقال سے جو مسلمانانِ پاکستان و مسلمانانِ عالم کو رنج و الم ہوا وہ محتاج بیان نہیں، " للہ " جیسے بے حس شہر میں چار چار پانچ پانچ سال کے بچوں نے بھی دو تین دن تک کچھ نہ کھایا اور دھاڑیں مار کر روتے رہے ۔ اس سے اندازہ ہو سکتا ہے، اوپر سے حیدر آباد کا معاملہ پیش آیا، اس سے تو مسلمانوں کی کمر ٹوٹ گئی " ۔
مگر بقول شخصے:؏،
خدا شرے بر انگیز دکہ خیر ما دراں باشد۔
ان صدموں نے جو ایک ساتھ آئے ہیں، مسلمانوں کی آنکھیں کھول دی ہیں ۔ جو لوگ سستی سے کام لے رہے تھے وہ بہت چوکنے ہو گئے ہیں اور بھاری ذمہ داری محسوس کرنے لگے ہیں گویا تازیانۂ عبرت ثابت ہوا " ۔
❤2