حضرت مولانا خجندی علیہ الرحمہ کو اللہ جل شانہ نے وسعتِ علمی کے ساتھ ساتھ انتظامی امور میں بے شمار صلاحیتیں عطاء فرمائی تھیں ۔
آپ کا ہر کام حسنِ انتظام کا اعلیٰ شاہکار ہوتا تھا ۔ آپ جہاں بھی تشریف لے گئے اپنی ایمانی فراست اور انتظامی صلاحیت کی بدولت اہل ایمان کی نگاہوں اور عقیدتوں کا مرکز بنے رہے ۔
ممبئی میں عیدین کا اجتماع ایک مثالی اجتماع ہوتا تھا، جس میں کثیر مجمع، اور لاؤڈ اسپیکر کا انتظام اور پھر ایسے مواقع سے فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کی ذہن سازی، اور ان کے مستقبل لئے لائحہ عمل اور مسلم قائدین و زعماء کی شرکت اور ان کا خطاب، جس میں علی برادران اور قائد اعظم محمد علی جناح کا خطاب بھی ہوتا تھا ۔ یہ سب حضرت کی اقتداء میں عیدین اور جمعہ ادا کرتے تھے،
آپ کے زہد و تقویٰ اور ملت اسلامیہ کی ہمدردی، اور اسلام سے محبت، اور آپ کے پر اثر خطابات سے بہت متائثر تھے ۔ اسی طرح عید میلاد النبی ﷺ کا مثالی جلوس، جس کے حسن انتظام کی تعریف غیر مسلم بھی کرتھے تھے ۔ اسی طرح تحریکِ خلافت میں آپ اور آپ کے برادر اکبر حضرت علامہ شاہ احمد مختار صدیقی اور برادر اصغر مولانا شاہ عبد العلیم صدیقی کا کردار سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہے ۔ اس کے لئے آپ نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔
اسی طرح مسلم لیگ کی تنظیم ِنو اور ترقی میں آپ کا اہم کردار ہے ۔ جب "آل انڈیا مسلم لیگ "قائم ہوئی تو آپ اس کے اولین ارکان میں شامل ہوئے ۔ آل انڈیا مسلم لیگ کا اجلاس 1930ء کوالہ آباد میں مفکر اسلام علامہ محمد اقبال علیہ الرحمہ کی زیر صدارت ہوا، جو بالآخر قیام پاکستان کا سنگ میل ثابت ہوا ۔ اس کے پیچھے ہمارے اکابرین کی شب وروز کی محنتیں، اور ان کا خلوص شامل تھا۔اس کے بعد جمعیت العلماء قائم ہوئی تو اس میں بڑےبڑے زعمائے ملت شریک ہوئے، اس کی صدارت و قیادت کے لئے بالاتفاق حضرت قبلہ ہی کی ذاتِ گرامی منتخب ہوئی۔
مولانا نذیر احمد خجندی علیہ الرحمہ کی جہاں تعلیمی، قومی، ملی، سیاسی خدمات باعث افتخار ہیں، وہیں آپ کی قلمی نگارشات لائق صد تحسین ہیں، صحافت میں آپ کی بڑی خدمات ہیں، آپ نے اس میں مذہبی اورقومی مضامین لکھے، جس میں تحریک خلافت، تحریک پاکستان کی علمی و ادبی حلقوں میں راہ ہموار کی، اسی طرح شعار اہلسنت کا بھرپور دفاع کیا، اور ایام کی مناسبت سے مفید مضامین تحریر فرمائے، اسی طرح اللہ جل شانہ نے آپ کو عربی و فارسی اور اردو میں نظم اور نثر دونوں میں مہارت عطاء فرمائی تھی۔آپ کاشمار اس وقت کےصف اول کےشعراء میں ہوتاتھا۔آپ ذوق لطیف کےمالک تھے۔اس کےلئے بڑےمشاعروں کااہتمام فرماتےتھے، جس میں ملک بھر سےشعراءمشق سخن فرماتےتھے۔
بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح سےتعلقات: بانی پاکستان قاٖئد اعظم محمد علی جناح علیہ الرحمہ سےحضرت مولانا خجندی کےبڑےگہرے مراسم وتعلقات تھے۔قائد اعظم ممبئی میں آپ کےپیچھے عیدین اور جمعےکی نماز اداکرتےتھے،اورعید کےموقع پر آپ کی خدمت میں ایک قیمتی شال پیش کرتےتھے۔ (جب جب تذکرہ خجندی ہوا:95)۔
قیام پاکستان کےتین دن بعد بھی بانیِ پاکستان نے پہلی نمازِ عید امام اہلسنت مولانا شاہ عبدالعلیم صدیقی کی اقتداء میں ادا فرمائی ۔ (ایضاً:93)
قائد اعظم محمد علی جناح کا نکاح: قائد اعظم محمد علی جناح کی اہلیہ نے 18/اپریل 1918ء کو آپ کےدستِ اقدس پراسلام قبول کیا،آپ نےاس کانام "مریم بائی"رکھا(لیکن رشتہ ازدواج میں منسلک ہونےکےبعد"رتی جناح/رتن بائی"کےنام سےشہرت پائی)اور اہل سنت وجماعت کے طریقے پر آپ نے ان کانکاح پڑھایا۔(ایضاً:96)
تذکرہ علماء اہل سنت میں ہے:
فراغت کے بعد صحافت کی راہ کو اپنایا، میرٹھ سے تاجر اخبار جاری کیا اور آپ کی زندگی کا زیادہ حصہ ممبئی میں گذرا، حضرت مولانا شاہ خیر الدین رحمۃ اللہ علیہ کی تعمیر کی ہوئی مسجد خیر الدین کے آپ امام وخطیب اور ناظم تھے، آزاد پارک میں عیدین کے امام آپ ہی تھے، بمبئی کی قدیم جمعیۃ علماء کے ناظم بھی رہے، تحریک خلافت میں بھی حصہ لیا، اور اسی سلسلہ میں جیل گئے،آپ جادوبیان مقرر،اور فن مناظرہ میں آپ کامل دستگاہ تھی،دیوبندیوں، وہابیوں اور آریوں سے مناظرے کیے اور مذکورہ فرقۂ باطلہ کو ذلتیں دیں۔ آپ نے اشاعت اسلام کے لیے کافی کوشش کی،تبلیغ اسلام کےلیے برما وغیرہ کا سفر کیا، انتقال سے ڈیڑھ برس پہلے آپ مدینہ منورہ چلے گئے تھے، بڑے ذوق وشوق سے پنج وقتہ نماز مسجد نبوی میں ادا کرتے تھے اور صلوٰۃ وسلام کا نذرانہ بارگاہِ رسالت میں پیش کرتےتھے۔
تاریخِ وصال:
آپ کاوصال محقق مولانا ندیم احمد ندیم نورانی زیدمجدہ وعلمہ کی تحقیق کےمطابق 6/شعبان المعظم 1368ھ،مطابق جون/1949ء
کومدینۃ المنورہ میں ہوا،اورجنت البقیع میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کےقدموں میں آسودہ خاک ہوئے۔
ماخذومراجع:
جب جب تذکرہ خجندی ہوا۔تذکرہ علماء اہل سنت۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-nazeer-ahmad-siddiqi-khujandi
آپ کا ہر کام حسنِ انتظام کا اعلیٰ شاہکار ہوتا تھا ۔ آپ جہاں بھی تشریف لے گئے اپنی ایمانی فراست اور انتظامی صلاحیت کی بدولت اہل ایمان کی نگاہوں اور عقیدتوں کا مرکز بنے رہے ۔
ممبئی میں عیدین کا اجتماع ایک مثالی اجتماع ہوتا تھا، جس میں کثیر مجمع، اور لاؤڈ اسپیکر کا انتظام اور پھر ایسے مواقع سے فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کی ذہن سازی، اور ان کے مستقبل لئے لائحہ عمل اور مسلم قائدین و زعماء کی شرکت اور ان کا خطاب، جس میں علی برادران اور قائد اعظم محمد علی جناح کا خطاب بھی ہوتا تھا ۔ یہ سب حضرت کی اقتداء میں عیدین اور جمعہ ادا کرتے تھے،
آپ کے زہد و تقویٰ اور ملت اسلامیہ کی ہمدردی، اور اسلام سے محبت، اور آپ کے پر اثر خطابات سے بہت متائثر تھے ۔ اسی طرح عید میلاد النبی ﷺ کا مثالی جلوس، جس کے حسن انتظام کی تعریف غیر مسلم بھی کرتھے تھے ۔ اسی طرح تحریکِ خلافت میں آپ اور آپ کے برادر اکبر حضرت علامہ شاہ احمد مختار صدیقی اور برادر اصغر مولانا شاہ عبد العلیم صدیقی کا کردار سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہے ۔ اس کے لئے آپ نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔
اسی طرح مسلم لیگ کی تنظیم ِنو اور ترقی میں آپ کا اہم کردار ہے ۔ جب "آل انڈیا مسلم لیگ "قائم ہوئی تو آپ اس کے اولین ارکان میں شامل ہوئے ۔ آل انڈیا مسلم لیگ کا اجلاس 1930ء کوالہ آباد میں مفکر اسلام علامہ محمد اقبال علیہ الرحمہ کی زیر صدارت ہوا، جو بالآخر قیام پاکستان کا سنگ میل ثابت ہوا ۔ اس کے پیچھے ہمارے اکابرین کی شب وروز کی محنتیں، اور ان کا خلوص شامل تھا۔اس کے بعد جمعیت العلماء قائم ہوئی تو اس میں بڑےبڑے زعمائے ملت شریک ہوئے، اس کی صدارت و قیادت کے لئے بالاتفاق حضرت قبلہ ہی کی ذاتِ گرامی منتخب ہوئی۔
مولانا نذیر احمد خجندی علیہ الرحمہ کی جہاں تعلیمی، قومی، ملی، سیاسی خدمات باعث افتخار ہیں، وہیں آپ کی قلمی نگارشات لائق صد تحسین ہیں، صحافت میں آپ کی بڑی خدمات ہیں، آپ نے اس میں مذہبی اورقومی مضامین لکھے، جس میں تحریک خلافت، تحریک پاکستان کی علمی و ادبی حلقوں میں راہ ہموار کی، اسی طرح شعار اہلسنت کا بھرپور دفاع کیا، اور ایام کی مناسبت سے مفید مضامین تحریر فرمائے، اسی طرح اللہ جل شانہ نے آپ کو عربی و فارسی اور اردو میں نظم اور نثر دونوں میں مہارت عطاء فرمائی تھی۔آپ کاشمار اس وقت کےصف اول کےشعراء میں ہوتاتھا۔آپ ذوق لطیف کےمالک تھے۔اس کےلئے بڑےمشاعروں کااہتمام فرماتےتھے، جس میں ملک بھر سےشعراءمشق سخن فرماتےتھے۔
بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح سےتعلقات: بانی پاکستان قاٖئد اعظم محمد علی جناح علیہ الرحمہ سےحضرت مولانا خجندی کےبڑےگہرے مراسم وتعلقات تھے۔قائد اعظم ممبئی میں آپ کےپیچھے عیدین اور جمعےکی نماز اداکرتےتھے،اورعید کےموقع پر آپ کی خدمت میں ایک قیمتی شال پیش کرتےتھے۔ (جب جب تذکرہ خجندی ہوا:95)۔
قیام پاکستان کےتین دن بعد بھی بانیِ پاکستان نے پہلی نمازِ عید امام اہلسنت مولانا شاہ عبدالعلیم صدیقی کی اقتداء میں ادا فرمائی ۔ (ایضاً:93)
قائد اعظم محمد علی جناح کا نکاح: قائد اعظم محمد علی جناح کی اہلیہ نے 18/اپریل 1918ء کو آپ کےدستِ اقدس پراسلام قبول کیا،آپ نےاس کانام "مریم بائی"رکھا(لیکن رشتہ ازدواج میں منسلک ہونےکےبعد"رتی جناح/رتن بائی"کےنام سےشہرت پائی)اور اہل سنت وجماعت کے طریقے پر آپ نے ان کانکاح پڑھایا۔(ایضاً:96)
تذکرہ علماء اہل سنت میں ہے:
فراغت کے بعد صحافت کی راہ کو اپنایا، میرٹھ سے تاجر اخبار جاری کیا اور آپ کی زندگی کا زیادہ حصہ ممبئی میں گذرا، حضرت مولانا شاہ خیر الدین رحمۃ اللہ علیہ کی تعمیر کی ہوئی مسجد خیر الدین کے آپ امام وخطیب اور ناظم تھے، آزاد پارک میں عیدین کے امام آپ ہی تھے، بمبئی کی قدیم جمعیۃ علماء کے ناظم بھی رہے، تحریک خلافت میں بھی حصہ لیا، اور اسی سلسلہ میں جیل گئے،آپ جادوبیان مقرر،اور فن مناظرہ میں آپ کامل دستگاہ تھی،دیوبندیوں، وہابیوں اور آریوں سے مناظرے کیے اور مذکورہ فرقۂ باطلہ کو ذلتیں دیں۔ آپ نے اشاعت اسلام کے لیے کافی کوشش کی،تبلیغ اسلام کےلیے برما وغیرہ کا سفر کیا، انتقال سے ڈیڑھ برس پہلے آپ مدینہ منورہ چلے گئے تھے، بڑے ذوق وشوق سے پنج وقتہ نماز مسجد نبوی میں ادا کرتے تھے اور صلوٰۃ وسلام کا نذرانہ بارگاہِ رسالت میں پیش کرتےتھے۔
تاریخِ وصال:
آپ کاوصال محقق مولانا ندیم احمد ندیم نورانی زیدمجدہ وعلمہ کی تحقیق کےمطابق 6/شعبان المعظم 1368ھ،مطابق جون/1949ء
کومدینۃ المنورہ میں ہوا،اورجنت البقیع میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کےقدموں میں آسودہ خاک ہوئے۔
ماخذومراجع:
جب جب تذکرہ خجندی ہوا۔تذکرہ علماء اہل سنت۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-nazeer-ahmad-siddiqi-khujandi
scholars.pk
Hazrat Allama Molana Nazeer Ahmad Siddiqi Khujandi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
حضرت سید موسٰی جون
رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
جد مکرم حضور غوث اعظم
رضی اللہ تعالیٰ عنہ
وصال:
13 ربیع الآخر 213 ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-moosa-june
https://t.me/islaamic_Knowledge/62275
رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
جد مکرم حضور غوث اعظم
رضی اللہ تعالیٰ عنہ
وصال:
13 ربیع الآخر 213 ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-moosa-june
https://t.me/islaamic_Knowledge/62275
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
12-04-1445 ᴴ | 28-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
13-04-1445 ᴴ | 29-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
13-04-1445 ᴴ | 29-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
13-04-1445 ᴴ | 29-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2