🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
11-04-1445 ᴴ | 27-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ #عید_غوثیہ  68  #غوث_الاعظم
11-04-1445 ᴴ | 27-10-2023 ᴱ
صلوۃ الغوثیہ | نماز غوثیہ کا طریقہ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#عید_غوثیہ  69  #غوث_الاعظم
3
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
6
حضرت شیخ عبدالملک عرف امان پانی پتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

اسمِ گرامی:
آپ کا نام عبد الملک ۔ اورلقب: امان اللہ تھا ۔ لیکن عام طور پر لوگ امان کے لقب سے زیادہ یاد کرتے تھے ۔

تحصیلِ علم:
شیخ امان اللہ پانی پتی شیخ مودود لاری کے شاگرد تھے ۔ ان اور کثیر علماء سے اکتسابِ فیض کیا ۔

بیعت و خلافت:
آپ رحمۃ اللہ علیہ شیخ محمد حسن رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے ۔ اکثر سلسلوں سے تعلق رکھتے تھے اور مسلک قادریہ میں دو واسطوں سے نعمت اللہ شاہ ولی تک پہنچتے ہیں تمام مسلکوں میں سے مسلک قادریہ آپ پر غالب تھا ۔

سیرت و خصائص:
حضرت شیخ عبد الملک امان اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ ایک صوفی اور توحید پرست عالم تھے اور شیخ ابن عربی کے متعبین میں سے تھے ۔ جماعت صوفیا میں بُلند مرتبہ رکھتے تھے، مسئلہ توحید کی تقریر میں ماہر تھے توحید کی باتیں صاف صاف بیان کرتے اور کہتے تھے کہ آج اگر عدل و انصاف موجود ہوتا تو میں توحید کو برسرِ منبر اس طرح وضاحت سے بیان کرتا کہ اس میں کسی کو انکار کی گنجائش نہ رہتی، نیز فرمایا کرتے تھے کہ ابتداً مجھے صرف دو دلیلیں یاد تھیں لیکن اب اللہ کے فضل سے سولہ دلیلیں یاد ہیں ۔

شیخ امان نے علم تصوف و توحید میں بہت سی کتابیں لکھی ہیں ان میں سے ایک کتاب " اثبات الاحدیث " ہے جس میں اللہ کے حاکم علی الاطلاق ہونے اور کائنات کے حقائق کو علم الیقین کے ساتھ اس طرح بیان کیا ہے کہ گویا آنکھوں دیکھا ہو اور علم کے مطابق کامل ذوق کو کلمات محققین و اہل توحید کے موافق تحریر کیا ہے ۔

مولانا عبد الرحمٰن جامی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب " لوائح " کی کافی مبسوط تفصیلی شرح لکھی ہے جس کے اول میں نہایت جامع اور مفید ایک مقدمہ لکھا ہے ۔ تہذیب اخلاق و عادات میں بلند مقام رکھتے تھے ۔ فرمایا کرتے تھے کہ درویشی میرے نزدیک دو چیزوں میں ہے، ایک خوش اخلاقی اور دوسری محبتِ اہلِ بیت ۔ اور محبت کا کامل درجہ یہ ہے کہ محبوب کے متعلقین سے بھی محبت کی جائے ۔ اللہ سے کمالِ محبت کی نشانی یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہو اور حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے عشق کی علامت یہ ہے کہ آپ کے اہلِ بیت سے محبت ہو ۔

تصوف میں مشربِ ملامتیہ رکھتے تھے ۔ آپ کی مجلس و صحبت میں دنیا کی باتیں کسی کی غیبت اور بے ہودہ گفتگو نہیں ہوتی تھی ۔ اکثر اوقات اشاعتِ علوم اور ذکرِ حق میں بسر کرتے تھے اور تصوف کی کتابوں سے مانوس تھے ۔ ان کے پڑھانے میں ہمیشہ مشغول رہتے تھے اور فرماتے تھے: اے اللہ! ہم کو صوفیا کے اقوال و افعال سے بہرہ ور کر۔ نیز فرمایا کرتے تھے کہ علمِ تصوف کا قول عین حال ہے اور کہتے کہ ہر ایک کو کسی خاص چیز کی رغبت ہوتی ہے اور مجھے کتبِ تصوف کی رغبت ہے ۔

اگر کوئی طلب گارِ حق آپ کے پاس آتا تو اس سے فرماتے کچھ پڑھو کیونکہ ہمارا طریقہ یہی ہے اسی وجہ سے لوگوں کا ہجوم آپ کے پاس نہیں ہوتا تھا آپ کی کوئی علیحدہ خانقاہ نہیں تھی ۔ طالبوں کو عِشق صورت سے منع کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ اس میں مبتلا ہونے سے مبتدی کا کام رک جاتا ہے، اپنی آسائش اور خواب کے لیے کوئی چیز اپنے پاس نہ رکھتے تھے، زمین پر لیٹتے تھے اور غذا تھوڑی کھاتے تھے اور ہر حالت میں فقیروں کو سلوک کی تعلیم دیتے تھے ۔

تاریخِ وصال:
حضرت شیخ امان اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ نے 12 ربیع الثانی 997ھ / بمطابق فروری 1589 ء کو آپ نے انتقال فرمایا ۔

ماخذ و مراجع: اخبار الاخیار

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abdul-malik-aman-panipati
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت شیخ مراد بن علی نقشبندی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

مراد بن علی بن داؤد بن کمال الدین بن صالح بن محمد الحسینی بخاری نقشبندی: محدث، مفسر، مدرس، فقیہ، علوم عقلی و نقلی کے فاضل اور صوفی تھے ۔

ولادت:
۱۰۵۰ھ میں پیدا ہوئے ـ

حج و زیارت کے لیے حرمین گئے، وہاں تین سال قیام کیا، پھر طلب علم میں بخارا، اصفہان، سمر قند، بلخ، بغداد وغیرہ کا سفر کیا ، اور وہاں کے علماء سے ملاقات کی، پھر مکہ معظمہ، مصر اور دمشق کا سفر کرتے ہوئے قسطنطنیہ پہنچے جہاں ۱۲ ربیع الثانی ۱۱۳۲ھ میں وفات پائی ۔

تصانیف:
مفرداتِ قرآنیہ دو جلدوں میں، سلسلہ ذہب اور طریقۂ نقشبندیہ میں بہت سے رسائل تصنیف کیے ۔

( حدائق الحنفیہ )

وصال:
12 ربیع الآخر 1132 ھ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-murad-bin-ali-naqshbandi
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت شیخ جمال اللہ نوشاہی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

حضرت حافظ برخوردار کے فرزند ششم تھے ۔ عالم و فاضل اور عارفِ کامل تھے ۔ زہد و تقویٰ، عبادت و ریاضت اور ترکِ علائق میں بے نظیر تھے ۔ صاحبِ ذوق و شوق و وجد و سماع بھی تھے ۔ حالتِ وجد میں جس پر نظر ڈالتے تھے اُسے بھی بے خود و مدہوش بنادیتے تھے، وہ مست بادۂ الست ہو جاتا ۔ بحالتِ خواب آپ کے دلِ بیدار سے ذکرِ ہُوکی آواز مسلسل آتی رہتی تھی جس کو تمام حاضرین بگوش ہوش سنتے تھے۔ آپ کے فرزند مولانا محمد حیات صاحبِ تذکرۂ نوشاہی رقم طراز ہیں ۔

ایک روز آپ حضرت نوشاہ گنج بخش کے مزار کی زیارت کو گئے ۔ دیکھا کہ وہاب نامی ایک زمیندار موضع اگر ویہ کا مزار کی ملحقہ زمین پر اپنے مویشی چرا رہا ہے۔ آپ نے اسے ایسا کرنے سے منع فرمایا مگر وُہ باز نہ آیا ۔ آپ نے صبر فرمایا اور واپس تشریف لے آئے ۔ اُسی رات بحکمِ الٰہی اس کے تمام مویشی مر گئے ۔ اس پر بھی وُہ شرارتی نا بکار نہ تائب ہوا نہ اپنے مذموم فعل سے باز آیا ۔

دوسری رات چور اس کے مکان میں آئے اور تمام مال و متاع لُوٹ کر لے گئے ۔ یہاں تک کہ وُہ روٹی کے ٹکڑے کو بھی محتاج ہو گیا ۔ شیخ جمال اللہ کی وفات بقول تذکرۂ نوشاہی ۱۲ ربیع الثانی بروز شنبہ ۱۱۴۲ھ میں بہ عہدِ محمد شاہ شام کے وقت ہوئی ۔ مزار موضع ساہنپال میں ہے ۔

گشت چوں روشن بباغ جنتی!
سالِ ترحیلش بہ سرور شد عیاں

آں جمالِ یا کمالِ معرفت
’’ قلبۂ عالم جمالِ معرفت ‘‘ ۱۱۴۲ھ

وصال:
12 ربیع الآخر 1142 ھ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-jamal-ullah-noshahi
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
قاضی سعید الدین فاروقی نظامی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
مولانا قاضی سعید الدین احمد ۔ لقب: فاروقی ، نظامی ۔ قاضی سعید الدین فاروقی نظامی بن قاضی امین الدین بن قاضی نادر علی فاروقی ۔ آپ کے اجداد میں قاضی سراج الدین کو سلسلہ عالیہ قادریہ میں بلا واسطہ خلافت حضرت غوث الاعظم ، اور سلسلہ سہروردیہ میں حضرت شیخ ابو نجیب سہروردی قدس سرہ سے حاصل تھی ـ اسی طرح شیخ حسن زنجانی بھی آپ کے اجداد میں سے ہیں، جن کامزار ِمقدس آج بھی لاہور میں مرجعِ خلائق ہے ۔ (علیہم الرحمۃ والرضوان) ۔

آپ کاسلسلۂ نسب 32 واسطوں سے امیر المومنین حضرت سید نا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے ۔

تاریخِ ولادت:
یکم شعبان المعظم 1292ھ بمطابق 2/ ستمبر 1875ء بروز جمعرات گھاٹم پور ضلع کا نپور یو پی (انڈیا) میں تولد ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
وقت کے مشاہیر علماء کی زیر سر پرستی میں حصول علم کی جدو جہد جاری رکھی بالآخر فارغ التحصیل ہوئے ۔ دینی علوم میں کا مل دستگاہ رکھتے تھے ۔

بیعت و خلافت:
سلاسل عالیہ قادریہ ، چشتیہ نظامیہ، فخریہ صابریہ و نقشبندیہ میں آپ نے جن مشائخ سے اکتساب فیض کیا اور خرقہ و خلافت سے مشرف ہوئے ان میں سے (1) حضرت نور محمد قادری فتح پوری (2) مولانا فضل الرحمن گنج مراد آبادی (3) حضر ت مولانا نور محمد محبوب قلندر دہلوی ثم نیاولی (4) حضرت مولانا شر ف الدین فاروقی صابری (5) اور حضرت مولانا کریم الدین قادری وغیرہ مشہور ہیں ۔

سیرت و خصائص:
خاندانِ فاروقِ اعظم کے سپوتِ جلیل، عالمِ نبیل، قاضیِ اسلام حضرت علامہ مولانا قاضی سعید الدین فاروقی نظامی رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ جامع شریعت و طریقت تھے ۔ شریعت پر سختی سے عمل پیرا تھے ۔ کانپور میں آپ کے آباء و اجداد کرام ہمیشہ عہدہ قضا پرنسل درنسل فائز رہے ، چنانچہ آپ بھی پاکستان نقل مکانی تک اس خدمت پر مامور رہے ۔ شریعتِ اسلامیہ کے مطابق فیصلے کرتے رہے ۔ شہر کی جامع مسجد میں جمعہ وعیدین کے موقع پر تعلیماتِ اسلامی پر خطبے ارشاد فرماتے تھے ۔

اپنے اکابرین کی طرح ہمیشہ تبلیغ و اشاعت دین اور شکستہ دلوں کی دستگیر ی کو اپنا فرض منصبی سمجھتے تھے ۔ مگر اس کے بدلے مالی مفادات کا حصول عار جانتے ۔ ابتداً سرکاری ملازمت سے منسلک ہوئے اور کورٹ آف وارڈز میں بحیثیت ضلع دار فرائض منصبی ادا کرتے رہے۔ لیکن بعض خوارق کے ظہور کی وجہ سے ملازت کو خیر باد کہہ کر موروثی اراضی کی کاشت پر قانع ہو گئے اور اسی سے اپنی اور اہل و عیال کی کفالت کا فریضہ سر انجام دیتے رہے ۔ تمول پسندی کبھی مزاج نہیں رہا۔ نہ کبھی اہل تمول کی صحبت پسند فرمائی ۔ اہل ثرو ت و اقتدار کی آمد سےکبھی خوش نہ ہوئے بلکہ بادل ناخواستہ ان سے ملتے یا اجازت دے دیتے ۔

آخری تہائی رات سے فجر تک مصروف ِعبادت رہتے ۔ جس میں طویل مراقبہ بھی شامل ہوتا ۔ بعد نماز بھی اور ادواشغال کا سلسلہ جاری رہتا ۔ البتہ طلوع آفتاب کے بعد اگر موقعہ میسر آتا تو قدرے آرام کر لیتے ۔ تقسیم ہند کے بعد 1950ء میں آپ نے سفر حج سے واپس آکر ترک وطن کرکے باب الا سلام سندھ (پاکستان) میں تشریف لائے اور کراچی میں مقیم ہو گئے ۔ اس طرح آپ نے پاک سر زمین پر فقط نو سال کا مختصر عرصہ مقیم رہ کر انتقال کیا ۔ قدرت کی طرف سے ذوقِ شاعری ودیعت تھا ۔ شاعری کی تمام اصناف پر مہارت رکھتے تھے ۔ اس لئے آپ کی کتب زیادہ تر منظوم شکل میں ہیں ۔

آپ کے ملفوظات آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہیں ۔ آپ فرماتے ہیں: (1)" بندگی یہ ہے کہ جو اس کا آقا کھلائے کھائے ، جو پہنائے پہن لے، تاکہ آقا راضی رہے۔ یہ بھی کوئی بندگی ہے ؟ کہ ہم چاہیں کہ سب کام ہماری مرضی سے سر انجام پائیں ۔ (2) وصال سے قبل دونوں ہاتھ اٹھا کر پوچھا میرے ہاتھوں میں کیا ہے ۔کہا گیا کہ کچھ نہیں فرمایا: دنیا سے جو بھی جاتا ہے خالی ہاتھ جاتا ہے ۔ نہ کوئی کچھ لے کے آتا ہے اور نہ دنیا سے کچھ لے کر جاتا ہے۔ یہاں کا سب یہیں رہ جاتا ہے ، جو ساتھ جاتاہے وہ نیک عمل ہے مگر شرط یہ کہ خالص ہو ۔

تاریخِ وصال:
بروز جمعۃ المبارک بوقت اذانِ مغرب 12 ربیع الثانی 1379ھ / مطابق 16 اکتوبر 1959ء کو داعیِ اجل کو لبیک کہا ۔ پاپوش نگر قبرستان ناظم آباد کراچی میں گلزار سعید مسجد میں آپ کی خانقاہ مرجع ِخلائق ہے ۔

ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہل سنت (سندھ)

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-qazi-saeeduddin-farooqi-nizami
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
3