🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
امام الاولیاء، محبوب سبحانی، قطب ربانی، سرکار غوث الاعظم، حضرت سیدنا شخ عبد القادر جیلانی بغدادی رضی اللہ تبارک و تعالیٰ عنہ

نام و نسب:
اسم گرامی:
شیخ عبد القادر جیلانی ۔ کنیت: ابو محمد ۔ اَلقاب: محبوبِ سبحانی، پیرانِ پیر ، محی الدین ۔ عامۃ المسلمین میں آپ ’’ غوث الاعظم ‘‘ کے نام سے مشہور ہیں ۔ والدِ ماجد کا نام حضرت سیّد ابو صالح موسیٰ ہے ۔

سلسلۂ نسب:
سیّدنا شیخ عبد القادر جیلانی بن سیّد ابو صالح موسیٰ بن سیّد عبد اللہ جیلانی بن سیّد یحییٰ زاہد بن سیّد محمد بن سیّد داؤد بن سیّد موسیٰ بن سیّد عبد اللہ بن سیّد موسیٰ الجون بن سیّد عبد اللہ محض بن سیّدحسن مُثنیّٰ بن سیّدنا امام حسن بن امیر المومنین سیّدنا علی المرتضیٰ ۔

سلسلۂ مادری:
کنیت: ام الخیر ۔ لقب: اَمَۃُ الْجَبَّار ۔ اسم مبارک: فاطمہ بنتِ عبد اللہ صومعی الحسنی رضی اللہ تعالیٰ عنہما ۔

سلسلۂ نسب:
فاطمہ بنتِ سیّد عبد اللہ صومعی بن سیّد ابو جمال بن سیّد محمد بن سیّد محمود بن سیّد طاہر بن سیّد ابو عطار بن سیّد عبد اللہ بن سیّد ابو کمال بن سیّد عیسیٰ بن سیّد علاء الدین بن سیّد محمد بن سیّدنا امام علی رضا بن سیّدنا امام موسیٰ کاظم بن سیّدنا امام جعفر صادق بن سیّدنا امام محمد باقر بن سیّدنا امام زین العابدین بن سیّدنا امام حسین بن سیّدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالٰی عنھم ۔

آپ نجیب الطرفین سیّد ہیں ۔ (تذکرہ قادریّہ، ص 129، از پیر سیّد طاہر علاؤ الدین گیلانی) ـ

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادتِ باسعادت یکم رمضان المبارک 470ھ مطابق 15 مارچ 1078ء کو شمالی ایران میں ’’ بحیرۂ کیسپین ‘‘ کے جنوبی ساحل پر ’’ گیلان ‘‘ نامی قصبے میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
بچپن میں والدِ محترم کا وصال ہو گیا تھا ۔ والدۂ ماجدہ کی آغوش میں تربیت پائی؛ اور انہوں نے تربیت کا حق ادا کر دیا۔ دس سال کی عمر میں مکتب میں پڑھنے جاتے تو فرشتے فرماتے: ’’ اِفْسَحُوْا لِوَلِیِّ اللہ ‘‘ (اللہ کے ولی کے لیے جگہ چھوڑ دو)۔

اپنے قصبہ جیلان میں ہی حفظ کر لیا تھا۔ جب عمر اٹھارہ سال ہوئی تو تحصیلِ علم کے لیے بغداد کا قصد کیا ۔ چھ سو (600) کلو میٹر سے زائد، تکلیف دہ اور خطرناک سفر طے کرکے 488ھ میں بغداد پہنچے۔

بغداد میں علم تجوید اور قراءتِ سبعہ میں مہارت حاصل کی۔ اسی طرح علمِ فقہ و اُصولِ فقہ؛ عرصۂ دراز تک بہت بڑے فقہاء مثلاً ابو الوفا علی بن عقیل حنبلی، ابو الخطاب محفوظ الکلوازنی الحنبلی، قاضی ابو یعلیٰ، محمد بن الحسین بن محمد الفراء الحنبلی، قاضی ابو سعید ـ

اور علمِ حدیث؛ محمد بن الحسن الباقلائی، ابو سعید محمد بن عبد الکریم بن حشیشا، محمد بن محمد الفرسی وغیرہ سے جب کہ علمِ ادب ابو زکریا یحییٰ بن علی التبریزی سے حاصل فرمایا۔ (قلائد الجواہر، ص4)

شیخ عبد الوہاب شعرانی اور شیخ محقق شیخ عبد الحق محدث دہلوی فرماتے ہیں: ’’ یتکلم فی ثلاثۃ عشر علماء ‘‘ غوث الاعظم تیرہ علموں میں بیان فرماتے تھے۔ (سیرتِ غوث الثقلین، ص64)

شیخ عبد الوہاب شعرانی فرماتے ہیں:
مدرسۂ عالیہ میں لوگ آپ سے تفسیر، حدیث، فقہ اور علم کلام پڑھتے، دوپہر سے پہلے اور بعد دونوں وقت تفسیر، حدیث، فقہ، کلام، اصول، صرف و نحو؛ اور بعد نمازِ ظہر قرأتِ سبعہ کے ساتھ قرآن مجید پڑھاتے تھے۔‘‘ (طبقات الکبریٰ ، ج1، ص127) ـ

علم ادب، لغت، اور نحو کے مشہور امام ابو محمد الخشاب نحوی فرماتے ہیں: ’’میں عالم شباب میں علم نحو پڑھتا تھا۔ ایک مرتبہ آپ کی مجلس میں حاضر ہوا۔آپ نے مجھے دیکھ کر فرمایا تم ہمارے پاس رہو، ہم تمہیں زمانے کا سیبویہ بنا دیں گے، آپ کے پاس پڑھنے لگا، بہت قلیل عرصے میں آپ سے وہ سیکھا جو گزشتہ عمر میں حاصل نہ کرسکا تھا۔ مسائلِ نحویہ و علوم عقلیہ و نقلیہ کےاصول و قواعد مجھے اچھی طرح ذہن نشین ہوگئے۔‘‘ (قلائد الجواہر، ص32) ـ

اسی طرح شیخ الاسلام شیخ شہاب الدین سہروردی، شیخ الاسلام علامہ ابن قدامہ حنبلی، قطب الاقطاب شیخ علی بن ہیتی وغیرہم؛ آپ کے شاگرد اور تربیت یافتہ ہیں ۔

آپ کے صاحبزادے سیّد عبد الوہاب فرماتے ہیں: ’’آپ نے 528ھ تا 561ھ تینتیس سال درس و تدریس اور فتاوٰی نویسی کے فرائض سر انجام دیے۔‘‘ (قلائد الجواہر، ص18) ـ

علامہ شعرانی فرماتے ہیں:
’’ کانت فتواہ تعرض علی العلماء باالعراق فتعجبھم اشدا الاعجاب فیقولون سبحان من انعم علیہ ‘‘ یعنی علمائے عراق کے سامنے آپ کےفتاوٰی پیش کیے جاتے تھے، تو ان کو آپ کی علمی قابلیت و صلاحیت پر سخت تعجب ہوتا تھا؛ اور وہ یہ پکار اٹھتے تھے کہ وہ ذات پاک ہے جس نے ان کو ایسی علمی نعمت سےنوازا ہے۔ (طبقات الکبرٰی، ج1، ص127) ـ

آپ کے علمی کمالات کےبارے میں مذکورہ تمام اقوال عشرِ عشیر بھی نہیں ہیں۔ بیان کرنے کا مقصد یہ ہےکہ ہمارےزمانے کے واعظین صرف آپ کی کرامات پر اکتفاء کرکے دادِ تحسین وصول کرتے ہیں، علمی مقام بیان نہیں کیاجاتا، اور اکثر سجادہ و متولیانِ اولیاءِ کرام علم و عمل سے کوسوں دور ہیں؛ اگر ان کو علم دشمن کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا ۔
2
یہ حضرات اپنی مجالس میں علمِ دین اور علماء کی توہین کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ خانقاہیں جو ماضی میں علوم و فنون کا مرکز تھیں آج وہاں کچھ اور مناظر ہیں؛

جیسا کہ
ڈاکٹر اقبال مرحوم نے فرمایا ہے:

قم بِاذنِ اللہ کہہ سکتے تھے جو، رُخصت ہوئے
خانقاہوں میں مجاور رہ گئے یا گور کن

خود غوث الاعظم فرماتے ہیں:
’’ دَرَسْتُ الْعِلْمَ حَتَّى صِرْتُ قُطْبًا
وَنِلْتُ السَّعْدَ مِنْ مَّوْلَى الْمَوَالِيْ ‘‘

ترجمہ:
میں نے علم حاصل کیا یہاں تک کہ قطبیت کے مرتبے پر فائز ہوا، میں نے استاذ الاساتذہ شیخ کامل کے حضور حاضر ہو کر سعادت کی منزلوں کو پایا ۔ ‘‘ (قصیدۂ غوثیہ) ـ

بیعت و خلافت:
سیّدنا ابو سعید مبارک مخزومی کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور خرقۂ خلافت حاصل کیا ۔

سیرت و خصائص:
محبوبِ سبحانی، قطبِ ربانی، شہبازِ لامکانی، محی الدین، شیخ الاسلام، غوث الاعظم سیّدنا شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔

آپ کے اخلاقِ حسنہ اور فضائلِ حمیدہ کی تعریف و توصیف میں تمام متأخرین اولیائے کاملین کے تذکرے بے شمار ہیں۔ قدرت نے آپ کو ایسے اعلیٰ اخلاق و محامد سے متصف فرمایا تھا کہ آپ کے معاصرین آپ کی تحسین کیے بغیر نہیں رہتے تھے ۔

اپنے تو اپنے غیر مسلم بھی آپ کے حسن ِسلوک کے گرویدہ تھے ۔ آپ اسلامی اخلاق اور انسانی اوصاف کے پیکر تھے ۔

شیخ حراوہ فرماتے ہیں:
میں نے اپنی زندگی میں آپ سے بڑھ کر کوئی کریم النفس، رقیق القلب، فراخ دل اور خوش اخلاق نہیں دیکھا ۔

آپ اپنے علوِّ مرتبت اور عظمت کے باوجود ہر چھوٹے بڑے کا لحاظ رکھتے تھے ۔ سلام کرنے میں ہمیشہ سبقت فرماتے تھے ۔ کمزوروں اور مسکینوں کے ساتھ تواضع و انکساری کے ساتھ پیش آتے، لیکن اگر کوئی بادشاہ یا حاکم آجاتا تو آپ مطلقاً تعظیم نہ فرماتے اور نہ ہی ساری عمر کسی بادشاہ یا وزیر کے دروازے پر گئے، نہ عطیات قبول کیے ۔ مفلوک الحال لوگوں کے ساتھ مُروَّت سے پیش آتے ۔ سچائی اور حق گوئی کا دامن کبھی نہیں چھوڑا خواہ کتنے ہی خطرات کیوں نہ درپیش ہوتے، مگر سچ کہنے سے کبھی بھی چوکتے نہیں تھے ۔ حاکموں کے سامنے بھی حق بات کہتے تھے اور کسی کی ناراضگی کو خاطر میں نہیں لاتے تھے، بلکہ مصلحت و خوف کو پاس تک بھٹکنے نہیں دیتے تھے ۔

آپ معروف (نیکی) کا حکم دیتے اور منکرات (برائی) سے روکتے تھے ۔ آپ کے اعلائے کلمۃ الحق نے سلاطین اور امراء کے محلات میں زلزلہ بپا کر دیا تھا ۔ سیّدنا غوثِ اعظم مجسمہ ایثار و سخاوت تھے ۔ دریا دلی کا یہ عالم تھا کہ جو کچھ پاس ہوتا سب غریبوں اور حاجت مندوں میں تقسیم فرما دیتے ـ

عفو و کرم کے پیکر جمیل تھے ۔ کسی پر ظلم برداشت نہیں کرتے اور فوراً امداد پر کمر بستہ ہو جاتے، مگر خود اپنے معاملے میں کبھی بھی غصّہ نہیں آتا ۔ لوگوں کی غلطیوں اور کوتاہیوں سے در گزر فرماتے ۔

امام ابو عبد اللہ محمد یوسف البرزالی لکھتے ہیں: آپ مستحبات الدعوات تھے، ہمیشہ اللہ کے ذکر و فکر میں مشغول رہتے اور کثرتِ ذکر اور خوفِ خدا سے آپ کی آنکھیں اشک بار رہتیں ۔ آپ انتہائی رقیق القلب، شگفتہ رو، کریم النفس ، فراخ دست، ذی علم، بلند اخلاق اور عالی نسب تھے ۔ عبادات اور مجاہدے میں آپ سب سے رفیع الشان تھے اور آپ کا نورانی چہرہ ہمیشہ بشّاش اور تبسُّم آمیز نظر آتا ۔

مفتی عراق محمد بن حامد البغدادی لکھتے ہیں: ’’آپ فحش باتوں سے کوسوں دور تھے، اپنی ذات کے معاملے میں آپ کو نہ کبھی کسی پر غصّہ آیا اور نہ ہی آپ نے کسی سے انتقام لیا، سوائے اس کے کہ کسی نے ایسا کام کیا ہو جو اللہ تعالیٰ کے غضب کا باعث ہو، تو آپ غضب ناک ہو جاتے۔ آپ اللہ تعالیٰ کی توحید کے حوالے سے کسی رُو رعایت کے قائل نہ تھے ۔

کرامات کے علاوہ ہم نے صرف آپ کی سیرتِ مبارکہ کی ایک مختصر جھلک پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔ جس طرح رسول اللہ ﷺ کے معجزات بے شمار ہیں، اسی طرح آپ کی کرامات بھی بے شمار ہیں ۔

آپ خود فرماتے ہیں:
ہر ولی کسی نہ کسی مُقتدا کے نقشِ قدم پر گامزن رہتا ہے اور میں بَدرُ الکمال یعنی سیّد المرسلین ﷺ کے نقش قدم پر ہوں ۔

شریعت کی پابندی:
آپ اپنے مریدین اور شاگردوں کو قرآن و حدیث، اور فقہ و تصوف کی تلقین فرمایا کرتے اور خصوصی طور پر اس بات کی طرف بھی توجہ دلاتے تھے کہ جو تصوف، فقہ کے تابع نہیں وہ اللہ تعالیٰ تک پہنچانے والا نہیں ہے ۔

آپ کا ارشاد گرامی ہے:
شریعت جس حقیقت کی گواہی نہ دے وہ زندیقیت ہے ۔ اپنے رب کی بارگاہ کی طرف کتاب و سنّت کے دو پروں کے ساتھ پرواز کرو ۔ اپنا ہاتھ رسول اللہ ﷺ کے دستِ مبارک میں دے کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری دو ۔ فرض عبادتوں کا ترک زندیقیت اور گناہوں کا ارتکاب معصیت ہے ۔ (الفتح الربانی، 145) ـ

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 11 یا 17 ربیع الآخر 561ھ کو 91 سال کی عمر مبارک میں بغداد میں ہوا ۔ (تذکرۂ مشائخِ قادریّہ رضویہ، ص:256؛ سیرتِ غوث اعظم، ص247) ـ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abdul-qadir-jilani-ghous-pak
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
امام الاولیاء، محبوب سبحانی، قطب ربانی، سرکار غوث الاعظم، حضرت سیدنا شخ عبد القادر جیلانی بغدادی رضی اللہ تبارک و تعالیٰ عنہ نام و نسب: اسم گرامی: شیخ عبد القادر جیلانی ۔ کنیت: ابو محمد ۔ اَلقاب: محبوبِ سبحانی، پیرانِ پیر ، محی الدین ۔ عامۃ المسلمین میں آپ…
دنیا بھر کے تمام سُنّی مسلمانوں کو
عیدِ غوثیہ گیارہویں شریف مبارک ہو
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اسم مبارک عبدالقادر کنیت ابی محمد
لقب : محی الدین + محبوب سبحانی
والد : ابو صالح موسیٰ جنگی دوست
والدہ : حضرت سیدہ ام الخیر فاطمہ
بیعت‌خلافت ابوسعید‌مبارک‌مخزومی
              ازواجِ غوث الاعظم
❶ بی بی مدینہ =  ❷ بی بی صادقہ
بی بی مومنہ = ❹ بی بی محبوبہ
صاحبزادے ²⁰    ★   صاحبزادیاں ²⁹
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ ولادت ⁰¹ رمضان المبارک ⁴⁷⁰ھ
یکم رمضان بروز جمعہ⁴⁷⁰ھ ¹⁰⁷⁵ء
یومِ وصال ¹¹    ربیع الآخر    ⁵⁶¹ھ
¹¹یا¹⁷ ربیع² شب دو شنبہ بعد عشاء
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
پِیروں کے آپ پِیر ہَیں یا غوث المدد
اہل صَفا کے  مِیر ہَیں  یا غوث المدد
https://t.me/islaamic_Knowledge/62121
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
10-04-1445 ᴴ | 26-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
11-04-1445 ᴴ | 27-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
11-04-1445 ᴴ | 27-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
11-04-1445 ᴴ | 27-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
3