🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
3
حضرت مولانا غلام رسول دیپر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

مولانا غلام رسول دیپر گوٹھ احمد آباد ( وایا خیر پورناتھن شاہ تحصیل میہڑ ضلع دادو ) میں تولد ہوئے ۔

تعلیم و تربیت:
ابتدائی تعلیم کا آغاز اپنے گوٹھ کی مسجد کے مکتب سے کیا، اس کے بعد علامہ مفتی غلام محمد لغاری قاسمی سے بعض کتب پڑھیں ، بقیہ درس نظامی جامعہ عربیہ قاسم العلوم درگاہ مشوری شریف میں پورا کر کے فارغ التحصیل ہوئے ۔

درس و تدریس:
آپ کی زندگی کے شب و روز درس و تدریس میں صرف ہوئے۔ گوٹھ مصری ( تحصیل خیر پور ناتھن شاہ ) میں بارہ برس ، مدرسہ مجددیہ اشرفیہ درگاہ ویھڑ شریف میں بارہ برس اور ماتلی ( ضلع بدین ) میں دس برس درس دیا۔ اس طرح ۳۴ سال درس و تدریس میں گذارے ۔

بیعت:
حضرت خواجہ محمد اشرف مجددی ( درگاہ ویھڑ شریف وایا بھان سید آباد ضلع دادو ) سے سلسلہ عالیہ نشبندیہ میں دست بیعت ہوئے ۔

شادی و اولاد:
ایک شادی کی اس سے ایک ہی بیٹی تولد ہوئی ۔

وصال:
مفتی مولانا غلام رسول کے آخری دن اپنے آبائی گوٹھ احمد آباد میں بسر ہوئے ، وہیں ۱۱ ربیع الآخر ۱۴۱۳ ھ / ۱۹ اکتوبر ۱۹۹۲ء بروز جمعہ بارہ بجے دوپہر کو اس حال میں انتقال کیا کہ کلمۂ شہادت زبان پر جاری تھا ۔

[ لاڑکانہ سے حافظ عبد الستار ابڑو نے معلومات فراہم کی ۔ ]


( انوارِ علماءِ اہلسنت )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-ghulam-rasool
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت سید حاجی عبد اللہ گیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

والد کا نام سیّد اسماعیل بن سیّد اسحاق تھا ۔

آپ علیہ الرحمہ سلسلۂ قادریہ کے مشائخ کبار میں سے تھے ۔ عالم و فاضل، عابد و زاہد اور متوکل و مستغنی المزاج بزرگ تھے ۔

عمر بھر درس و تدریس اور ہدایتِ خلق میں مصروف رہے ۔ کسی امیر و سلطان کے دروازے پر نہیں گئے ۔ دنیا و اہل دنیا سے کچھ سرو کار نہ تھا ۔ نواب زکریا خاں ناظم لاہور اور اس کے امراء آپ کے عقیدت مندوں میں داخل تھے ۔

وصال:
۱۱ ربیع الثانی ۱۱۴۱ھ میں وفات پائی ۔ مزار سیّد اسماعیل محدّث لاہوری کے مزار کے متصل ہے ۔

رفت از دنیا چو در خلدِ بریں!
سالِ ترحیلش بخواں ’’ عاشق سخی ‘‘
۱۱۴۱ھ

سیّد عبداللہ پیرِ رہنما
نیز فرما ’’ اہلِ نعمت مقتدا ‘‘
۱۱۴۱ھ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-haji-abdullah-gilani
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت سید بہاؤ الدین جونپوری رزق کشا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ جونپور کے علاقہ کے مشہور مشائخ میں سے تھے ۔ حضرت شیخ محمد عیسیٰ کے مرید تھے ترک و تجرید اور صدق و ورع میں ثابت قدم تھے کہتے ہیں کہ ایک شخص شیخ حسین نام تھا جو گجرات سے چل کر آپ کی زیارت کے لیے آیا یہ شخص شیخ محمد عیسیٰ کی زیارت کرنا چاہتا تھا شیخ بہاْؤالدین طالب علم تھے وہ اِس نوجوان کے ساتھ بھی اٹھنے بیٹھنے لگا اُس نے دیکھا کہ شیخ بہاؤالدین نوجوان بھی ہے اور فقیر مستحق بھی ہے ـ

اُسے اس پر بڑا ترس آیا کہنے لگا کہ میرے ساتھ جنگل میں چلو وہ ساتھ ہو لیے جنگل میں پہنچ کر اُس نے کیمیا کا ایک نسخہ نکالا اور اُس کو دے کر کہا یہ لے لو اور جب تجھے ضرورت ہو اِس کا استعمال کرنا اگر ختم ہو جائے تو پھر مجھے آکر کہنا تاکہ تمہیں میں کوئی اور عمل سِکھا دوں شیخ بہاؤ الدین نے عرض کیا میں تو آپ سے کسی اور کیمیا کی امید لے کر آیا تھا مجھے اِس کیمیا کی ضرورت نہیں مجھے تو یہ کیمیا گری فائدہ نہیں پہنچا سکتی یہ بات حضرت شیخ محمد عیسیٰ نے سنی تو بڑے خوش ہوئے اور اُس کی باطنی تربیت پر زیادہ توجہ دینے لگے ایک عرصہ کے بعد شیخ محمد عیسیٰ نے آپ کو خلافت دی اور خرقہ تبرک دے کر رخصت کر دیا ۔

شیخ بہاؤ الدین نے شیخ حسین کا دامن پکڑ لیا اور التجا کی کہ مجھے بھی کچھ روحانیت سے حصہ ملنا چاہیے انہوں نے فرمایا تمہارا پیر اسی شہر میں رہتا ہے ہم سے تو اتنا ہی فیض حاصل ہو سکتا تھا ایک عرصہ کے بعد شیخ بہاؤ الدین شیخ محمد عیسیٰ کی مجلس میں رہے مرید ہوئے بڑی نعمتیں پائیں مگر ابھی تک خلافت نہ ملی تھی کہ حضرت شیخ کی موت کا وقت قریب آگیا تھا آپ نے مرنے سے پلے فرمایا بہاؤ الدین تمارا خرقہ خلافت ایک سیّد کے پاس ہے جو مانک پور میں آئے گا کچھ عرصے کے بعد راجی حامد شاہ جونپور آئے شیخ بہاؤالدین اُن کے استقبال کو آگے بڑھے پہلی ہی ملاقات میں اُن کو خرقہ و خلافت عطا فرما دیا ۔

وصال:
شیخ بہاؤ الدین ۹۴۷ھ میں فوت ہوئے ۔

رفت از دنیا بفردوس بریں
چوں بہاؤ الدین ولی نیکو شعار

آفتاب جنتی شد جلوہ گر
برسال وصل آں عالی تبار ۹۴۷ھ

آپ جونپور کے معروف مشائخ میں سے تھے اور شیخ محمد عیسیٰ کے مریدوں میں سے تھے ۔ تارک الدنیا، مجرد، صداقت و پاکیزگی کا مجسمہ بزرگ تھے ۔

شیخ حسین ایک بزرگ تھے جو دولقہ علاقہ گجرات سے شیخ عیسیٰ کی زیارت کے لیے جونپور آئے، شیخ بہاؤالدین اس وقت طالب علم تھے ان کی شیخ حسین سے ملاقات ہو گئی اور شیخ حسین کیمیا بنانا بھی جانتے تھے، ان کو شیخ بہاؤ الدین جیسے طالب علم کی فقیری کو دیکھ کر صدمہ ہوا اور ان سے کہا کہ تم ہمارے ساتھ جنگل چلو ـ

چنانچہ دونوں جنگل میں گئے، شیخ حسین نے وہاں کیمیا کی اکسیر بنا کر ان کو دی اور کہا کہ جب کوئی ضرورت محسوس ہو تو اس سے سونا بنا لیا کرنا اور جب یہ ختم ہو جائے تو پھر ہم سے کہنا ہم تمہیں اور بنا دیں گے ان تمام باتوں کو سننے کے بعد شیخ بہاؤ الدین نے عرض کیا کہ حضرت مجھے آپ سے اس کیمیا کی اکسیر لینے کی نہ ضرورت ہے اور نہ خواہش، میں تو آپ سے ایک دوسری قسم کی اکسیر لینا چاہتا ہوں ـ

یہ سن کر شیخ حسین بہت مسرور ہوئے اوران کی باطنی تربیت کی طرف مزید توجہ مبذول فرمادی اور اس باطنی تربیت کا سلسلہ اس وقت تک جاری رکھا جب تک کہ خود شیخ عیسیٰ سے خلافت نہ لے لی، اور جب شیخ حسین خرقہ خلافت لے کر اپنے وطن دولقہ روانہ ہونے لگے تو شیخ بہاؤ الدین نے ان سے عرض کیا کہ اب آپ مجھے مرید کرکے اجازت دیدیں مگر شیخ حسین نے فرمایا کہ آپ کے شیخ تو فی الواقع اسی اسی شہر میں ہیں ہم سے آپ کو جتنا فائدہ منظور تھا وہ ہو گیا، اس کے بعد شیخ حسین اپنے وطن چلے گئے، اس کے کئی روز بعد شیخ حسین کا قلب شیخ محمد عیسیٰ کی جانب متوجہ ہوا اور ان سے مرید ہو کر فیض حاصل کیا، ابھی آپ خلافت حاصل کرنے نہ پائے تھے کہ شیخ خدا کو پیارے ہو گئے ـ

اور آخری وقت یہ فرما گئے کہ اے بہاؤ الدین! تمہارا خرقہ خلافت اس سید کے پاس ہے جو مانک پور میں تشریف لائیں گے چنانچہ راجی سید حامد شاہ کسی وقت جونپور آئے، شیخ بہاؤالدین نے ان کا استقبال کیا اور انہوں نے پہلی ہی ملاقات میں آپ کو خرقہ خلافت پہنا کر اپنا خلیفہ بنا لیا ۔

( اخبار الاخیار )

وصال:
11 ربیع الاٰخر 947ھ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-bahauddin-jonpuri
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت علامہ محمد عادل حنفی الہ آبادی کانپوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

وطن اور ولادت:
دف قصبہ مارہ، ضلع، الہ آباد تاریخ ولادت 11 ربیع الآخر 1241 ھ ، غلام نعیم تاریخی نام، چھ سال کی عمر میں اپنے دادا شیخ محی الدین بخش بن کریم بخش کے پاس فتح پور آئے، جہاں وہ مصنف تھے، اور یہاں کے علماء سے عافیہ تک پڑھا، بیس کی عمر میں مولانا شاہ سلامت اللہ کشفی کی خدمت میں حاضر ہوئے ـ

حضرت کشفی نے فراغت کے بعد دس ربیع الآخر ۱۲۷۶ھ میں سند فضیلت مرحمت کی، ۱۲۸۲ھ میں علامہ سید احمد وحلان شیخ الحرم مکی نے سند ارسال کی اور قدوۃ العلماء الاعلام کے لقب سے یاد کیا، جس کے واقعی آپ مصداق تھے ـ

جمادی الاولیٰ ۱۲۹۲ھ میں دہلی میں حضرت قطب عالم شاہ عبد العزیز کوند قدس سرہٗ کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوئے، اسی مجلس میں اہل بیت تامہ کی بنا پر مجاز مطلق کی سند عطا ہوئی، اور شاہ مشتاق احمد کے لقب سے سر فراز ہوئے ـ

بیعت و خلافت:
۲۱ محرم ۱۲۹۷ھ میں حضرت شاہ ابو الحسن احمد نوری سجادہ نشین مارہرہ شریف نے اجازت و خلافت دی ـ

تصانیف:
آپ کی تصانیف میں تنزیہ الفوار عن سوء الاعتقاد رد وہابیہ میں مشہور کتاب ہے، آپ کے فتاویٰ کی ضخیم جلدیں محفوظ تھیں جو دیمک کی نذر ہو گئیں، آپ کی مہر کا سجع حاکم محکمۂ شرعی محمد عادل تھا، ۱۱ ذی الحجہ ۱۳۲۵ھ آپ کے نواسہ تھے ۔

وصال:
11 ذو الحجہ 1325 ھ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-muhammad-adil-hanafi-allahabadi-kanpuri
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
فقیہ المفخم، حضرت مفتی اعجاز ولی خاں بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: مفتی اعجاز ولی خاں رضوی ۔ لقب: فقیہ المفخم، استاذ العلماء ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
استاذ العلماء فقیہ المفخم مولانا مفتی محمد اعجاز ولی خاں رضوی بن مولانا سردار ولی خاں (متوفی ۶؍ صفر ۱۳۹۵ھ؍ ۱۸؍ فروری۱۹۷۵ء بمقام پیر جو گوٹھ سندھ) بن مولانا ہادی علی خاں بن مولانا رضا علی خاں (جد امجد امام احمد رضا خاں قادری بریلوی)۔علیہم الرحمۃ والرضوان۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 11 ربیع الثانی 1332ھ مطابق 20 مارچ 1914ء کو بریلی شریف میں ہوئی۔

تحصیلِ علم:
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری فاضل بریلوی قدس سرہٗ سے مفتی محمد اعجاز ولی خاں نے قرآن مجید شروع کیا، اور حافظ عبد الکریم قادری بریلوی سے مکمل کیا ۔ پھر درسی کتابیں متوسطات تک برادر معظم مولانا مفتی تقدس علی خاں رضوی علیہ الرحمہ شیخ الحدیث جامعہ راشدیہ پیر گوٹھ سندھ، مولانا مختار احمد سلطان پوری اور مولانا الشاہ محمد حسنین رضا خاں بریلوی سے پڑھیں ۔ شرح جامی حضور مفتی اعظم علامہ مولانا مصطفیٰ رضا نوری بریلوی سے اور تفسیر جلالین حضرت مولانا سردار علی خاں علیہ الرحمۃ سے پڑھیں۔

حضرت مفتی اعجاز ولی خاں نے 1352ھ؍ 1929ء میں حضور مفتی اعظم قدس سرہٗ سے سند حدیث حاصل کی بعد ازاں حجۃ الاسلام مولانا محمد حامد رضا بریلوی قدس سرہٗ سے بھی سند حدیث حاصل کی۔ پھر مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے صدر الشریعہ مولانا امجد علی رضوی اعظمی علیہ الرحمۃ کی خدمت میں مدرسہ سعیدیہ دادوں میں حاضر ہوئے اور تحصیل علوم کے بعد حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ سے سند حاصل کی۔

بیعت و خلافت:
حضرت مفتی محمد اعجاز ولی خاں علیہ الرحمہ سلسلۂ قادریہ میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری فاضل بریلی قدس سرہٗ سے بیعت ہوئے اور حضور مفتی اعظم علامہ مولانا مصطفیٰ رضا نوری بریلی قدس سرہٗ سے سلسلۂ قادریہ رضویہ میں اجازت وخلافت سے مشرف ہوئے۔

سیرت و خصائص:
استاذ العلماء، رئیس الفقہاء، مرجع الفضلاء، سند الاتقیاء، جامع علوم عقلیہ و نقلیہ حضرت علامہ مولانا مفتی اعجاز ولی خاں رضوی قادری بریلوی رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ علیہ الرحمہ خاندانِ اعلیٰ حضرت مجدد اسلام کے عظیم فرد اور فقیہ العصر تھے ۔ مفتی محمد اعجاز ولی خاں نے تکمیل علوم کے بعد این، بی ہائی اسکول بریلی میں تدریس کا سلسلہ شروع کیا، پھر کچھ عرصہ دار العلوم منظر اسلام اور کچھ عرصہ دارالعلوم مظہر اسلام (مسجد بی بی جی صاحبہ) بریلی میں پڑھاتے رہے ۔

1945ء میں مفتی اعجاز ولی خاں مدرسہ منہاج العلوم پانی پت متصل مزار مولانا سید غوث علی شاہ پانی پتی قدس سرہٗ تشریف لے گے، اور ایک سال فرائض تدریس انجام دینے کے بعد دار العلوم منظر اسلام بریلی میں چلے آئے۔

تقسیم ملک کے بعد 20 دسمبر 1947ء کو پاکستان آ کر جامعہ محمدی شریف جھنگ میں 1951ء تک شیخ الحدیث رہے۔ بعد ازاں کچھ عرصہ دارالعلوم اہلِ سنت و جماعت جہلم میں رہے، جون 1954ء میں شیخ الحدیث والفقہ کی حیثیت میں جامعہ نعیمیہ لاہور تشریف لے آئے اور تقریباً چھ سال تک بحسن و خوبی کام کیا۔ مفتی محمد اعجاز ولی خاں 1960ء میں جامعہ نعمانیہ لاہور میں شیخ الحدیث مقرر ہوئے، 1973ء میں جامعہ نعمانیہ لاہور کی جانب سے جمعیۃ علماءِ پاکستان سے وابستگی پر اعتراض کیا گیا تو مفتی اعجاز ولی خاں نے استعفیٰ دے دیا،اور جامعہ نظامیہ لاہور میں شیخ الحدیث مقرر ہوگئے، افسوس کہ مفتی محمد اعجاز ولی خاں رضوی جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور میں صرف دو دن تشریف لائے گزرے تھے کہ مرض وفات لاحق ہوگیا، اور جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور کے طلبہ آپ سے مستفیض نہ ہوسکے۔

تحریکِ پاکستان میں کردار:
حضرت مفتی محمد اعجاز ولی خاں علیہ الرحمۃ 1937ء ہی سے تحریک مسلم لیگ کی حمایت و اعانت فرماتے رہے۔ 1940ء میں جب لاہور میں قرار دادِ پاکستان منظور ہوئی تو مفتی محمد اعجاز ولی خاں نے اس کی حمایت میں دار الافتاء رضوی بریلی سےفتویٰ جاری کیا۔ 1945ء اور 1946ء میں مشرقی پنجاب کا دورہ کر کے پاکستان کے لیے فضا ہموار کی۔ 1953ء میں تحریک ختم نبوت میں حصہ لینے کی بنا پر ایک سودن تک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظر بند رہے۔

قومی سیاست میں کردار:
حضرت مفتی محمد اعجاز ولی خاں ابتداء ہی سے جمعیت علماءِ پاکستان کے معاون رہے۔ حضرت علامہ ابو الحسنات قدس سرہٗ کے دور میں مجلس عاملہ کے رکن اور حضرت علامہ عبد الحامد بدایونی کے دورِ صدارت میں مغربی پاکستان کے صدر رہے ۔ حضرت خواجہ محمد قمر الدین سیالوی کے دور صدارت میں خازن رہے ۔ مئی 1971ء میں جمعیت علماءِ پاکستان صوبۂ پنجاب کے صدر مقرر کیے گئے، اور جمعیت علماء پاکستان سے وابستگی کی بنا پر منصب شیخ الحدیث سے استعفیٰ دے دیا ۔ (تذکرہ اکابر اہل سنت:65)
2
چند یادگاریں:
1954ء میں حضرت داتا گنج بخش قدس سرہٗ کے مزارِ انوار کے قریب جامعہ گنج بخش قائم کیا۔ غالباً 1956ء میں جامعہ مسجد محلہ اسلام پورہ میں خطیب مقرر ہوئے اور وہاں دارالعلوم حامدیہ رضویہ قائم کیا۔ مفتی محمد اعجاز ولی خاں نےگنج بخش کے نام سے ایک ماہ نامہ بھی جاری کیا جو ایک عرصے تک جاری رہنے کے بعد بند ہوگیا۔

علم و فضل:
مفتی محمد اعجاز ولی خاں حسنِ اخلاق، ایثار و قربانی، حق گوئی، صاف دلی، بے نفسی، علم پروری، قوتِ حافظہ، مسائل فقہیہ کے استحضار، صلابت رائے اور تاریخ گوئی میں اپنی مثال آپ تھے۔ بےشمار علماءِ کرام نے مفتی محمد اعجاز ولی خاں سے اکتسابِ فیض کیا۔

تصانیف:
۱۔ قانون میراث
۲۔ تسہیل الواضح خلاصہ النحو الواضح
۳۔ تنویر القرآن (تفسیر قرآن بر حاشیہ کنز الایمان)
۴۔ ترجمہ مکتوبات شیخ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہٗ
۵۔ ترجمہ کشف الاسرار، مختلف کتب پر مقدمہ اور بے شمار فتاویٰ ہیں۔

تاریخِ وصال:
آپ کاوصال پرملال 24 شوال المکرم 1393ھ مطابق 20 نومبر 1973ء بروز منگل ہوا ۔ نماز جنازہ مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا سید ابو البرکات رضوی نے پڑھائی، میانی صاحب بہاول پور روڈ لاہور میں مولانا غلام محمد ترنم قدس سرہٗ کے سرہانے آخری آرام گاہ بنی۔حضرت مولانا محمد ابراہیم خوشتر صدیقی رضوی نے تاریخی وصال کہی۔

رخصت ہوا جہان سے یہ کون باکمال
بوجھل ہوئی زمیں تو فلک غم سے ہے نڈھال

عقبیٰ کی فکر، دین کا جس کو رہا خیال
از عاقبت بخیر1393ھ ہے اس کا سنِ وصال

ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہل سنت ۔ مفتیِ اعظم اور ان کے خلفاء ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-ejaz-wali-khan
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
امام الاولیاء، محبوب سبحانی، قطب ربانی، سرکار غوث الاعظم، حضرت سیدنا شخ عبد القادر جیلانی بغدادی رضی اللہ تبارک و تعالیٰ عنہ

نام و نسب:
اسم گرامی:
شیخ عبد القادر جیلانی ۔ کنیت: ابو محمد ۔ اَلقاب: محبوبِ سبحانی، پیرانِ پیر ، محی الدین ۔ عامۃ المسلمین میں آپ ’’ غوث الاعظم ‘‘ کے نام سے مشہور ہیں ۔ والدِ ماجد کا نام حضرت سیّد ابو صالح موسیٰ ہے ۔

سلسلۂ نسب:
سیّدنا شیخ عبد القادر جیلانی بن سیّد ابو صالح موسیٰ بن سیّد عبد اللہ جیلانی بن سیّد یحییٰ زاہد بن سیّد محمد بن سیّد داؤد بن سیّد موسیٰ بن سیّد عبد اللہ بن سیّد موسیٰ الجون بن سیّد عبد اللہ محض بن سیّدحسن مُثنیّٰ بن سیّدنا امام حسن بن امیر المومنین سیّدنا علی المرتضیٰ ۔

سلسلۂ مادری:
کنیت: ام الخیر ۔ لقب: اَمَۃُ الْجَبَّار ۔ اسم مبارک: فاطمہ بنتِ عبد اللہ صومعی الحسنی رضی اللہ تعالیٰ عنہما ۔

سلسلۂ نسب:
فاطمہ بنتِ سیّد عبد اللہ صومعی بن سیّد ابو جمال بن سیّد محمد بن سیّد محمود بن سیّد طاہر بن سیّد ابو عطار بن سیّد عبد اللہ بن سیّد ابو کمال بن سیّد عیسیٰ بن سیّد علاء الدین بن سیّد محمد بن سیّدنا امام علی رضا بن سیّدنا امام موسیٰ کاظم بن سیّدنا امام جعفر صادق بن سیّدنا امام محمد باقر بن سیّدنا امام زین العابدین بن سیّدنا امام حسین بن سیّدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالٰی عنھم ۔

آپ نجیب الطرفین سیّد ہیں ۔ (تذکرہ قادریّہ، ص 129، از پیر سیّد طاہر علاؤ الدین گیلانی) ـ

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادتِ باسعادت یکم رمضان المبارک 470ھ مطابق 15 مارچ 1078ء کو شمالی ایران میں ’’ بحیرۂ کیسپین ‘‘ کے جنوبی ساحل پر ’’ گیلان ‘‘ نامی قصبے میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
بچپن میں والدِ محترم کا وصال ہو گیا تھا ۔ والدۂ ماجدہ کی آغوش میں تربیت پائی؛ اور انہوں نے تربیت کا حق ادا کر دیا۔ دس سال کی عمر میں مکتب میں پڑھنے جاتے تو فرشتے فرماتے: ’’ اِفْسَحُوْا لِوَلِیِّ اللہ ‘‘ (اللہ کے ولی کے لیے جگہ چھوڑ دو)۔

اپنے قصبہ جیلان میں ہی حفظ کر لیا تھا۔ جب عمر اٹھارہ سال ہوئی تو تحصیلِ علم کے لیے بغداد کا قصد کیا ۔ چھ سو (600) کلو میٹر سے زائد، تکلیف دہ اور خطرناک سفر طے کرکے 488ھ میں بغداد پہنچے۔

بغداد میں علم تجوید اور قراءتِ سبعہ میں مہارت حاصل کی۔ اسی طرح علمِ فقہ و اُصولِ فقہ؛ عرصۂ دراز تک بہت بڑے فقہاء مثلاً ابو الوفا علی بن عقیل حنبلی، ابو الخطاب محفوظ الکلوازنی الحنبلی، قاضی ابو یعلیٰ، محمد بن الحسین بن محمد الفراء الحنبلی، قاضی ابو سعید ـ

اور علمِ حدیث؛ محمد بن الحسن الباقلائی، ابو سعید محمد بن عبد الکریم بن حشیشا، محمد بن محمد الفرسی وغیرہ سے جب کہ علمِ ادب ابو زکریا یحییٰ بن علی التبریزی سے حاصل فرمایا۔ (قلائد الجواہر، ص4)

شیخ عبد الوہاب شعرانی اور شیخ محقق شیخ عبد الحق محدث دہلوی فرماتے ہیں: ’’ یتکلم فی ثلاثۃ عشر علماء ‘‘ غوث الاعظم تیرہ علموں میں بیان فرماتے تھے۔ (سیرتِ غوث الثقلین، ص64)

شیخ عبد الوہاب شعرانی فرماتے ہیں:
مدرسۂ عالیہ میں لوگ آپ سے تفسیر، حدیث، فقہ اور علم کلام پڑھتے، دوپہر سے پہلے اور بعد دونوں وقت تفسیر، حدیث، فقہ، کلام، اصول، صرف و نحو؛ اور بعد نمازِ ظہر قرأتِ سبعہ کے ساتھ قرآن مجید پڑھاتے تھے۔‘‘ (طبقات الکبریٰ ، ج1، ص127) ـ

علم ادب، لغت، اور نحو کے مشہور امام ابو محمد الخشاب نحوی فرماتے ہیں: ’’میں عالم شباب میں علم نحو پڑھتا تھا۔ ایک مرتبہ آپ کی مجلس میں حاضر ہوا۔آپ نے مجھے دیکھ کر فرمایا تم ہمارے پاس رہو، ہم تمہیں زمانے کا سیبویہ بنا دیں گے، آپ کے پاس پڑھنے لگا، بہت قلیل عرصے میں آپ سے وہ سیکھا جو گزشتہ عمر میں حاصل نہ کرسکا تھا۔ مسائلِ نحویہ و علوم عقلیہ و نقلیہ کےاصول و قواعد مجھے اچھی طرح ذہن نشین ہوگئے۔‘‘ (قلائد الجواہر، ص32) ـ

اسی طرح شیخ الاسلام شیخ شہاب الدین سہروردی، شیخ الاسلام علامہ ابن قدامہ حنبلی، قطب الاقطاب شیخ علی بن ہیتی وغیرہم؛ آپ کے شاگرد اور تربیت یافتہ ہیں ۔

آپ کے صاحبزادے سیّد عبد الوہاب فرماتے ہیں: ’’آپ نے 528ھ تا 561ھ تینتیس سال درس و تدریس اور فتاوٰی نویسی کے فرائض سر انجام دیے۔‘‘ (قلائد الجواہر، ص18) ـ

علامہ شعرانی فرماتے ہیں:
’’ کانت فتواہ تعرض علی العلماء باالعراق فتعجبھم اشدا الاعجاب فیقولون سبحان من انعم علیہ ‘‘ یعنی علمائے عراق کے سامنے آپ کےفتاوٰی پیش کیے جاتے تھے، تو ان کو آپ کی علمی قابلیت و صلاحیت پر سخت تعجب ہوتا تھا؛ اور وہ یہ پکار اٹھتے تھے کہ وہ ذات پاک ہے جس نے ان کو ایسی علمی نعمت سےنوازا ہے۔ (طبقات الکبرٰی، ج1، ص127) ـ

آپ کے علمی کمالات کےبارے میں مذکورہ تمام اقوال عشرِ عشیر بھی نہیں ہیں۔ بیان کرنے کا مقصد یہ ہےکہ ہمارےزمانے کے واعظین صرف آپ کی کرامات پر اکتفاء کرکے دادِ تحسین وصول کرتے ہیں، علمی مقام بیان نہیں کیاجاتا، اور اکثر سجادہ و متولیانِ اولیاءِ کرام علم و عمل سے کوسوں دور ہیں؛ اگر ان کو علم دشمن کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا ۔
2
یہ حضرات اپنی مجالس میں علمِ دین اور علماء کی توہین کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ خانقاہیں جو ماضی میں علوم و فنون کا مرکز تھیں آج وہاں کچھ اور مناظر ہیں؛

جیسا کہ
ڈاکٹر اقبال مرحوم نے فرمایا ہے:

قم بِاذنِ اللہ کہہ سکتے تھے جو، رُخصت ہوئے
خانقاہوں میں مجاور رہ گئے یا گور کن

خود غوث الاعظم فرماتے ہیں:
’’ دَرَسْتُ الْعِلْمَ حَتَّى صِرْتُ قُطْبًا
وَنِلْتُ السَّعْدَ مِنْ مَّوْلَى الْمَوَالِيْ ‘‘

ترجمہ:
میں نے علم حاصل کیا یہاں تک کہ قطبیت کے مرتبے پر فائز ہوا، میں نے استاذ الاساتذہ شیخ کامل کے حضور حاضر ہو کر سعادت کی منزلوں کو پایا ۔ ‘‘ (قصیدۂ غوثیہ) ـ

بیعت و خلافت:
سیّدنا ابو سعید مبارک مخزومی کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور خرقۂ خلافت حاصل کیا ۔

سیرت و خصائص:
محبوبِ سبحانی، قطبِ ربانی، شہبازِ لامکانی، محی الدین، شیخ الاسلام، غوث الاعظم سیّدنا شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔

آپ کے اخلاقِ حسنہ اور فضائلِ حمیدہ کی تعریف و توصیف میں تمام متأخرین اولیائے کاملین کے تذکرے بے شمار ہیں۔ قدرت نے آپ کو ایسے اعلیٰ اخلاق و محامد سے متصف فرمایا تھا کہ آپ کے معاصرین آپ کی تحسین کیے بغیر نہیں رہتے تھے ۔

اپنے تو اپنے غیر مسلم بھی آپ کے حسن ِسلوک کے گرویدہ تھے ۔ آپ اسلامی اخلاق اور انسانی اوصاف کے پیکر تھے ۔

شیخ حراوہ فرماتے ہیں:
میں نے اپنی زندگی میں آپ سے بڑھ کر کوئی کریم النفس، رقیق القلب، فراخ دل اور خوش اخلاق نہیں دیکھا ۔

آپ اپنے علوِّ مرتبت اور عظمت کے باوجود ہر چھوٹے بڑے کا لحاظ رکھتے تھے ۔ سلام کرنے میں ہمیشہ سبقت فرماتے تھے ۔ کمزوروں اور مسکینوں کے ساتھ تواضع و انکساری کے ساتھ پیش آتے، لیکن اگر کوئی بادشاہ یا حاکم آجاتا تو آپ مطلقاً تعظیم نہ فرماتے اور نہ ہی ساری عمر کسی بادشاہ یا وزیر کے دروازے پر گئے، نہ عطیات قبول کیے ۔ مفلوک الحال لوگوں کے ساتھ مُروَّت سے پیش آتے ۔ سچائی اور حق گوئی کا دامن کبھی نہیں چھوڑا خواہ کتنے ہی خطرات کیوں نہ درپیش ہوتے، مگر سچ کہنے سے کبھی بھی چوکتے نہیں تھے ۔ حاکموں کے سامنے بھی حق بات کہتے تھے اور کسی کی ناراضگی کو خاطر میں نہیں لاتے تھے، بلکہ مصلحت و خوف کو پاس تک بھٹکنے نہیں دیتے تھے ۔

آپ معروف (نیکی) کا حکم دیتے اور منکرات (برائی) سے روکتے تھے ۔ آپ کے اعلائے کلمۃ الحق نے سلاطین اور امراء کے محلات میں زلزلہ بپا کر دیا تھا ۔ سیّدنا غوثِ اعظم مجسمہ ایثار و سخاوت تھے ۔ دریا دلی کا یہ عالم تھا کہ جو کچھ پاس ہوتا سب غریبوں اور حاجت مندوں میں تقسیم فرما دیتے ـ

عفو و کرم کے پیکر جمیل تھے ۔ کسی پر ظلم برداشت نہیں کرتے اور فوراً امداد پر کمر بستہ ہو جاتے، مگر خود اپنے معاملے میں کبھی بھی غصّہ نہیں آتا ۔ لوگوں کی غلطیوں اور کوتاہیوں سے در گزر فرماتے ۔

امام ابو عبد اللہ محمد یوسف البرزالی لکھتے ہیں: آپ مستحبات الدعوات تھے، ہمیشہ اللہ کے ذکر و فکر میں مشغول رہتے اور کثرتِ ذکر اور خوفِ خدا سے آپ کی آنکھیں اشک بار رہتیں ۔ آپ انتہائی رقیق القلب، شگفتہ رو، کریم النفس ، فراخ دست، ذی علم، بلند اخلاق اور عالی نسب تھے ۔ عبادات اور مجاہدے میں آپ سب سے رفیع الشان تھے اور آپ کا نورانی چہرہ ہمیشہ بشّاش اور تبسُّم آمیز نظر آتا ۔

مفتی عراق محمد بن حامد البغدادی لکھتے ہیں: ’’آپ فحش باتوں سے کوسوں دور تھے، اپنی ذات کے معاملے میں آپ کو نہ کبھی کسی پر غصّہ آیا اور نہ ہی آپ نے کسی سے انتقام لیا، سوائے اس کے کہ کسی نے ایسا کام کیا ہو جو اللہ تعالیٰ کے غضب کا باعث ہو، تو آپ غضب ناک ہو جاتے۔ آپ اللہ تعالیٰ کی توحید کے حوالے سے کسی رُو رعایت کے قائل نہ تھے ۔

کرامات کے علاوہ ہم نے صرف آپ کی سیرتِ مبارکہ کی ایک مختصر جھلک پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔ جس طرح رسول اللہ ﷺ کے معجزات بے شمار ہیں، اسی طرح آپ کی کرامات بھی بے شمار ہیں ۔

آپ خود فرماتے ہیں:
ہر ولی کسی نہ کسی مُقتدا کے نقشِ قدم پر گامزن رہتا ہے اور میں بَدرُ الکمال یعنی سیّد المرسلین ﷺ کے نقش قدم پر ہوں ۔

شریعت کی پابندی:
آپ اپنے مریدین اور شاگردوں کو قرآن و حدیث، اور فقہ و تصوف کی تلقین فرمایا کرتے اور خصوصی طور پر اس بات کی طرف بھی توجہ دلاتے تھے کہ جو تصوف، فقہ کے تابع نہیں وہ اللہ تعالیٰ تک پہنچانے والا نہیں ہے ۔

آپ کا ارشاد گرامی ہے:
شریعت جس حقیقت کی گواہی نہ دے وہ زندیقیت ہے ۔ اپنے رب کی بارگاہ کی طرف کتاب و سنّت کے دو پروں کے ساتھ پرواز کرو ۔ اپنا ہاتھ رسول اللہ ﷺ کے دستِ مبارک میں دے کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری دو ۔ فرض عبادتوں کا ترک زندیقیت اور گناہوں کا ارتکاب معصیت ہے ۔ (الفتح الربانی، 145) ـ

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 11 یا 17 ربیع الآخر 561ھ کو 91 سال کی عمر مبارک میں بغداد میں ہوا ۔ (تذکرۂ مشائخِ قادریّہ رضویہ، ص:256؛ سیرتِ غوث اعظم، ص247) ـ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abdul-qadir-jilani-ghous-pak
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
امام الاولیاء، محبوب سبحانی، قطب ربانی، سرکار غوث الاعظم، حضرت سیدنا شخ عبد القادر جیلانی بغدادی رضی اللہ تبارک و تعالیٰ عنہ نام و نسب: اسم گرامی: شیخ عبد القادر جیلانی ۔ کنیت: ابو محمد ۔ اَلقاب: محبوبِ سبحانی، پیرانِ پیر ، محی الدین ۔ عامۃ المسلمین میں آپ…
دنیا بھر کے تمام سُنّی مسلمانوں کو
عیدِ غوثیہ گیارہویں شریف مبارک ہو
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اسم مبارک عبدالقادر کنیت ابی محمد
لقب : محی الدین + محبوب سبحانی
والد : ابو صالح موسیٰ جنگی دوست
والدہ : حضرت سیدہ ام الخیر فاطمہ
بیعت‌خلافت ابوسعید‌مبارک‌مخزومی
              ازواجِ غوث الاعظم
❶ بی بی مدینہ =  ❷ بی بی صادقہ
بی بی مومنہ = ❹ بی بی محبوبہ
صاحبزادے ²⁰    ★   صاحبزادیاں ²⁹
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ ولادت ⁰¹ رمضان المبارک ⁴⁷⁰ھ
یکم رمضان بروز جمعہ⁴⁷⁰ھ ¹⁰⁷⁵ء
یومِ وصال ¹¹    ربیع الآخر    ⁵⁶¹ھ
¹¹یا¹⁷ ربیع² شب دو شنبہ بعد عشاء
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
پِیروں کے آپ پِیر ہَیں یا غوث المدد
اہل صَفا کے  مِیر ہَیں  یا غوث المدد
https://t.me/islaamic_Knowledge/62121
2