Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤3
حضرت مولانا غلام رسول دیپر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
مولانا غلام رسول دیپر گوٹھ احمد آباد ( وایا خیر پورناتھن شاہ تحصیل میہڑ ضلع دادو ) میں تولد ہوئے ۔
تعلیم و تربیت:
ابتدائی تعلیم کا آغاز اپنے گوٹھ کی مسجد کے مکتب سے کیا، اس کے بعد علامہ مفتی غلام محمد لغاری قاسمی سے بعض کتب پڑھیں ، بقیہ درس نظامی جامعہ عربیہ قاسم العلوم درگاہ مشوری شریف میں پورا کر کے فارغ التحصیل ہوئے ۔
درس و تدریس:
آپ کی زندگی کے شب و روز درس و تدریس میں صرف ہوئے۔ گوٹھ مصری ( تحصیل خیر پور ناتھن شاہ ) میں بارہ برس ، مدرسہ مجددیہ اشرفیہ درگاہ ویھڑ شریف میں بارہ برس اور ماتلی ( ضلع بدین ) میں دس برس درس دیا۔ اس طرح ۳۴ سال درس و تدریس میں گذارے ۔
بیعت:
حضرت خواجہ محمد اشرف مجددی ( درگاہ ویھڑ شریف وایا بھان سید آباد ضلع دادو ) سے سلسلہ عالیہ نشبندیہ میں دست بیعت ہوئے ۔
شادی و اولاد:
ایک شادی کی اس سے ایک ہی بیٹی تولد ہوئی ۔
وصال:
مفتی مولانا غلام رسول کے آخری دن اپنے آبائی گوٹھ احمد آباد میں بسر ہوئے ، وہیں ۱۱ ربیع الآخر ۱۴۱۳ ھ / ۱۹ اکتوبر ۱۹۹۲ء بروز جمعہ بارہ بجے دوپہر کو اس حال میں انتقال کیا کہ کلمۂ شہادت زبان پر جاری تھا ۔
[ لاڑکانہ سے حافظ عبد الستار ابڑو نے معلومات فراہم کی ۔ ]
( انوارِ علماءِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-ghulam-rasool
مولانا غلام رسول دیپر گوٹھ احمد آباد ( وایا خیر پورناتھن شاہ تحصیل میہڑ ضلع دادو ) میں تولد ہوئے ۔
تعلیم و تربیت:
ابتدائی تعلیم کا آغاز اپنے گوٹھ کی مسجد کے مکتب سے کیا، اس کے بعد علامہ مفتی غلام محمد لغاری قاسمی سے بعض کتب پڑھیں ، بقیہ درس نظامی جامعہ عربیہ قاسم العلوم درگاہ مشوری شریف میں پورا کر کے فارغ التحصیل ہوئے ۔
درس و تدریس:
آپ کی زندگی کے شب و روز درس و تدریس میں صرف ہوئے۔ گوٹھ مصری ( تحصیل خیر پور ناتھن شاہ ) میں بارہ برس ، مدرسہ مجددیہ اشرفیہ درگاہ ویھڑ شریف میں بارہ برس اور ماتلی ( ضلع بدین ) میں دس برس درس دیا۔ اس طرح ۳۴ سال درس و تدریس میں گذارے ۔
بیعت:
حضرت خواجہ محمد اشرف مجددی ( درگاہ ویھڑ شریف وایا بھان سید آباد ضلع دادو ) سے سلسلہ عالیہ نشبندیہ میں دست بیعت ہوئے ۔
شادی و اولاد:
ایک شادی کی اس سے ایک ہی بیٹی تولد ہوئی ۔
وصال:
مفتی مولانا غلام رسول کے آخری دن اپنے آبائی گوٹھ احمد آباد میں بسر ہوئے ، وہیں ۱۱ ربیع الآخر ۱۴۱۳ ھ / ۱۹ اکتوبر ۱۹۹۲ء بروز جمعہ بارہ بجے دوپہر کو اس حال میں انتقال کیا کہ کلمۂ شہادت زبان پر جاری تھا ۔
[ لاڑکانہ سے حافظ عبد الستار ابڑو نے معلومات فراہم کی ۔ ]
( انوارِ علماءِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-ghulam-rasool
scholars.pk
Hazrat Molana Ghulam Rasool
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
حضرت سید حاجی عبد اللہ گیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
والد کا نام سیّد اسماعیل بن سیّد اسحاق تھا ۔
آپ علیہ الرحمہ سلسلۂ قادریہ کے مشائخ کبار میں سے تھے ۔ عالم و فاضل، عابد و زاہد اور متوکل و مستغنی المزاج بزرگ تھے ۔
عمر بھر درس و تدریس اور ہدایتِ خلق میں مصروف رہے ۔ کسی امیر و سلطان کے دروازے پر نہیں گئے ۔ دنیا و اہل دنیا سے کچھ سرو کار نہ تھا ۔ نواب زکریا خاں ناظم لاہور اور اس کے امراء آپ کے عقیدت مندوں میں داخل تھے ۔
وصال:
۱۱ ربیع الثانی ۱۱۴۱ھ میں وفات پائی ۔ مزار سیّد اسماعیل محدّث لاہوری کے مزار کے متصل ہے ۔
رفت از دنیا چو در خلدِ بریں!
سالِ ترحیلش بخواں ’’ عاشق سخی ‘‘
۱۱۴۱ھ
سیّد عبداللہ پیرِ رہنما
نیز فرما ’’ اہلِ نعمت مقتدا ‘‘
۱۱۴۱ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-haji-abdullah-gilani
والد کا نام سیّد اسماعیل بن سیّد اسحاق تھا ۔
آپ علیہ الرحمہ سلسلۂ قادریہ کے مشائخ کبار میں سے تھے ۔ عالم و فاضل، عابد و زاہد اور متوکل و مستغنی المزاج بزرگ تھے ۔
عمر بھر درس و تدریس اور ہدایتِ خلق میں مصروف رہے ۔ کسی امیر و سلطان کے دروازے پر نہیں گئے ۔ دنیا و اہل دنیا سے کچھ سرو کار نہ تھا ۔ نواب زکریا خاں ناظم لاہور اور اس کے امراء آپ کے عقیدت مندوں میں داخل تھے ۔
وصال:
۱۱ ربیع الثانی ۱۱۴۱ھ میں وفات پائی ۔ مزار سیّد اسماعیل محدّث لاہوری کے مزار کے متصل ہے ۔
رفت از دنیا چو در خلدِ بریں!
سالِ ترحیلش بخواں ’’ عاشق سخی ‘‘
۱۱۴۱ھ
سیّد عبداللہ پیرِ رہنما
نیز فرما ’’ اہلِ نعمت مقتدا ‘‘
۱۱۴۱ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-haji-abdullah-gilani
scholars.pk
Hazrat Syed Haji Abdullah Gilani
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
حضرت سید بہاؤ الدین جونپوری رزق کشا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ جونپور کے علاقہ کے مشہور مشائخ میں سے تھے ۔ حضرت شیخ محمد عیسیٰ کے مرید تھے ترک و تجرید اور صدق و ورع میں ثابت قدم تھے کہتے ہیں کہ ایک شخص شیخ حسین نام تھا جو گجرات سے چل کر آپ کی زیارت کے لیے آیا یہ شخص شیخ محمد عیسیٰ کی زیارت کرنا چاہتا تھا شیخ بہاْؤالدین طالب علم تھے وہ اِس نوجوان کے ساتھ بھی اٹھنے بیٹھنے لگا اُس نے دیکھا کہ شیخ بہاؤالدین نوجوان بھی ہے اور فقیر مستحق بھی ہے ـ
اُسے اس پر بڑا ترس آیا کہنے لگا کہ میرے ساتھ جنگل میں چلو وہ ساتھ ہو لیے جنگل میں پہنچ کر اُس نے کیمیا کا ایک نسخہ نکالا اور اُس کو دے کر کہا یہ لے لو اور جب تجھے ضرورت ہو اِس کا استعمال کرنا اگر ختم ہو جائے تو پھر مجھے آکر کہنا تاکہ تمہیں میں کوئی اور عمل سِکھا دوں شیخ بہاؤ الدین نے عرض کیا میں تو آپ سے کسی اور کیمیا کی امید لے کر آیا تھا مجھے اِس کیمیا کی ضرورت نہیں مجھے تو یہ کیمیا گری فائدہ نہیں پہنچا سکتی یہ بات حضرت شیخ محمد عیسیٰ نے سنی تو بڑے خوش ہوئے اور اُس کی باطنی تربیت پر زیادہ توجہ دینے لگے ایک عرصہ کے بعد شیخ محمد عیسیٰ نے آپ کو خلافت دی اور خرقہ تبرک دے کر رخصت کر دیا ۔
شیخ بہاؤ الدین نے شیخ حسین کا دامن پکڑ لیا اور التجا کی کہ مجھے بھی کچھ روحانیت سے حصہ ملنا چاہیے انہوں نے فرمایا تمہارا پیر اسی شہر میں رہتا ہے ہم سے تو اتنا ہی فیض حاصل ہو سکتا تھا ایک عرصہ کے بعد شیخ بہاؤ الدین شیخ محمد عیسیٰ کی مجلس میں رہے مرید ہوئے بڑی نعمتیں پائیں مگر ابھی تک خلافت نہ ملی تھی کہ حضرت شیخ کی موت کا وقت قریب آگیا تھا آپ نے مرنے سے پلے فرمایا بہاؤ الدین تمارا خرقہ خلافت ایک سیّد کے پاس ہے جو مانک پور میں آئے گا کچھ عرصے کے بعد راجی حامد شاہ جونپور آئے شیخ بہاؤالدین اُن کے استقبال کو آگے بڑھے پہلی ہی ملاقات میں اُن کو خرقہ و خلافت عطا فرما دیا ۔
وصال:
شیخ بہاؤ الدین ۹۴۷ھ میں فوت ہوئے ۔
رفت از دنیا بفردوس بریں
چوں بہاؤ الدین ولی نیکو شعار
آفتاب جنتی شد جلوہ گر
برسال وصل آں عالی تبار ۹۴۷ھ
آپ جونپور کے معروف مشائخ میں سے تھے اور شیخ محمد عیسیٰ کے مریدوں میں سے تھے ۔ تارک الدنیا، مجرد، صداقت و پاکیزگی کا مجسمہ بزرگ تھے ۔
شیخ حسین ایک بزرگ تھے جو دولقہ علاقہ گجرات سے شیخ عیسیٰ کی زیارت کے لیے جونپور آئے، شیخ بہاؤالدین اس وقت طالب علم تھے ان کی شیخ حسین سے ملاقات ہو گئی اور شیخ حسین کیمیا بنانا بھی جانتے تھے، ان کو شیخ بہاؤ الدین جیسے طالب علم کی فقیری کو دیکھ کر صدمہ ہوا اور ان سے کہا کہ تم ہمارے ساتھ جنگل چلو ـ
چنانچہ دونوں جنگل میں گئے، شیخ حسین نے وہاں کیمیا کی اکسیر بنا کر ان کو دی اور کہا کہ جب کوئی ضرورت محسوس ہو تو اس سے سونا بنا لیا کرنا اور جب یہ ختم ہو جائے تو پھر ہم سے کہنا ہم تمہیں اور بنا دیں گے ان تمام باتوں کو سننے کے بعد شیخ بہاؤ الدین نے عرض کیا کہ حضرت مجھے آپ سے اس کیمیا کی اکسیر لینے کی نہ ضرورت ہے اور نہ خواہش، میں تو آپ سے ایک دوسری قسم کی اکسیر لینا چاہتا ہوں ـ
یہ سن کر شیخ حسین بہت مسرور ہوئے اوران کی باطنی تربیت کی طرف مزید توجہ مبذول فرمادی اور اس باطنی تربیت کا سلسلہ اس وقت تک جاری رکھا جب تک کہ خود شیخ عیسیٰ سے خلافت نہ لے لی، اور جب شیخ حسین خرقہ خلافت لے کر اپنے وطن دولقہ روانہ ہونے لگے تو شیخ بہاؤ الدین نے ان سے عرض کیا کہ اب آپ مجھے مرید کرکے اجازت دیدیں مگر شیخ حسین نے فرمایا کہ آپ کے شیخ تو فی الواقع اسی اسی شہر میں ہیں ہم سے آپ کو جتنا فائدہ منظور تھا وہ ہو گیا، اس کے بعد شیخ حسین اپنے وطن چلے گئے، اس کے کئی روز بعد شیخ حسین کا قلب شیخ محمد عیسیٰ کی جانب متوجہ ہوا اور ان سے مرید ہو کر فیض حاصل کیا، ابھی آپ خلافت حاصل کرنے نہ پائے تھے کہ شیخ خدا کو پیارے ہو گئے ـ
اور آخری وقت یہ فرما گئے کہ اے بہاؤ الدین! تمہارا خرقہ خلافت اس سید کے پاس ہے جو مانک پور میں تشریف لائیں گے چنانچہ راجی سید حامد شاہ کسی وقت جونپور آئے، شیخ بہاؤالدین نے ان کا استقبال کیا اور انہوں نے پہلی ہی ملاقات میں آپ کو خرقہ خلافت پہنا کر اپنا خلیفہ بنا لیا ۔
( اخبار الاخیار )
وصال:
11 ربیع الاٰخر 947ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-bahauddin-jonpuri
آپ جونپور کے علاقہ کے مشہور مشائخ میں سے تھے ۔ حضرت شیخ محمد عیسیٰ کے مرید تھے ترک و تجرید اور صدق و ورع میں ثابت قدم تھے کہتے ہیں کہ ایک شخص شیخ حسین نام تھا جو گجرات سے چل کر آپ کی زیارت کے لیے آیا یہ شخص شیخ محمد عیسیٰ کی زیارت کرنا چاہتا تھا شیخ بہاْؤالدین طالب علم تھے وہ اِس نوجوان کے ساتھ بھی اٹھنے بیٹھنے لگا اُس نے دیکھا کہ شیخ بہاؤالدین نوجوان بھی ہے اور فقیر مستحق بھی ہے ـ
اُسے اس پر بڑا ترس آیا کہنے لگا کہ میرے ساتھ جنگل میں چلو وہ ساتھ ہو لیے جنگل میں پہنچ کر اُس نے کیمیا کا ایک نسخہ نکالا اور اُس کو دے کر کہا یہ لے لو اور جب تجھے ضرورت ہو اِس کا استعمال کرنا اگر ختم ہو جائے تو پھر مجھے آکر کہنا تاکہ تمہیں میں کوئی اور عمل سِکھا دوں شیخ بہاؤ الدین نے عرض کیا میں تو آپ سے کسی اور کیمیا کی امید لے کر آیا تھا مجھے اِس کیمیا کی ضرورت نہیں مجھے تو یہ کیمیا گری فائدہ نہیں پہنچا سکتی یہ بات حضرت شیخ محمد عیسیٰ نے سنی تو بڑے خوش ہوئے اور اُس کی باطنی تربیت پر زیادہ توجہ دینے لگے ایک عرصہ کے بعد شیخ محمد عیسیٰ نے آپ کو خلافت دی اور خرقہ تبرک دے کر رخصت کر دیا ۔
شیخ بہاؤ الدین نے شیخ حسین کا دامن پکڑ لیا اور التجا کی کہ مجھے بھی کچھ روحانیت سے حصہ ملنا چاہیے انہوں نے فرمایا تمہارا پیر اسی شہر میں رہتا ہے ہم سے تو اتنا ہی فیض حاصل ہو سکتا تھا ایک عرصہ کے بعد شیخ بہاؤ الدین شیخ محمد عیسیٰ کی مجلس میں رہے مرید ہوئے بڑی نعمتیں پائیں مگر ابھی تک خلافت نہ ملی تھی کہ حضرت شیخ کی موت کا وقت قریب آگیا تھا آپ نے مرنے سے پلے فرمایا بہاؤ الدین تمارا خرقہ خلافت ایک سیّد کے پاس ہے جو مانک پور میں آئے گا کچھ عرصے کے بعد راجی حامد شاہ جونپور آئے شیخ بہاؤالدین اُن کے استقبال کو آگے بڑھے پہلی ہی ملاقات میں اُن کو خرقہ و خلافت عطا فرما دیا ۔
وصال:
شیخ بہاؤ الدین ۹۴۷ھ میں فوت ہوئے ۔
رفت از دنیا بفردوس بریں
چوں بہاؤ الدین ولی نیکو شعار
آفتاب جنتی شد جلوہ گر
برسال وصل آں عالی تبار ۹۴۷ھ
آپ جونپور کے معروف مشائخ میں سے تھے اور شیخ محمد عیسیٰ کے مریدوں میں سے تھے ۔ تارک الدنیا، مجرد، صداقت و پاکیزگی کا مجسمہ بزرگ تھے ۔
شیخ حسین ایک بزرگ تھے جو دولقہ علاقہ گجرات سے شیخ عیسیٰ کی زیارت کے لیے جونپور آئے، شیخ بہاؤالدین اس وقت طالب علم تھے ان کی شیخ حسین سے ملاقات ہو گئی اور شیخ حسین کیمیا بنانا بھی جانتے تھے، ان کو شیخ بہاؤ الدین جیسے طالب علم کی فقیری کو دیکھ کر صدمہ ہوا اور ان سے کہا کہ تم ہمارے ساتھ جنگل چلو ـ
چنانچہ دونوں جنگل میں گئے، شیخ حسین نے وہاں کیمیا کی اکسیر بنا کر ان کو دی اور کہا کہ جب کوئی ضرورت محسوس ہو تو اس سے سونا بنا لیا کرنا اور جب یہ ختم ہو جائے تو پھر ہم سے کہنا ہم تمہیں اور بنا دیں گے ان تمام باتوں کو سننے کے بعد شیخ بہاؤ الدین نے عرض کیا کہ حضرت مجھے آپ سے اس کیمیا کی اکسیر لینے کی نہ ضرورت ہے اور نہ خواہش، میں تو آپ سے ایک دوسری قسم کی اکسیر لینا چاہتا ہوں ـ
یہ سن کر شیخ حسین بہت مسرور ہوئے اوران کی باطنی تربیت کی طرف مزید توجہ مبذول فرمادی اور اس باطنی تربیت کا سلسلہ اس وقت تک جاری رکھا جب تک کہ خود شیخ عیسیٰ سے خلافت نہ لے لی، اور جب شیخ حسین خرقہ خلافت لے کر اپنے وطن دولقہ روانہ ہونے لگے تو شیخ بہاؤ الدین نے ان سے عرض کیا کہ اب آپ مجھے مرید کرکے اجازت دیدیں مگر شیخ حسین نے فرمایا کہ آپ کے شیخ تو فی الواقع اسی اسی شہر میں ہیں ہم سے آپ کو جتنا فائدہ منظور تھا وہ ہو گیا، اس کے بعد شیخ حسین اپنے وطن چلے گئے، اس کے کئی روز بعد شیخ حسین کا قلب شیخ محمد عیسیٰ کی جانب متوجہ ہوا اور ان سے مرید ہو کر فیض حاصل کیا، ابھی آپ خلافت حاصل کرنے نہ پائے تھے کہ شیخ خدا کو پیارے ہو گئے ـ
اور آخری وقت یہ فرما گئے کہ اے بہاؤ الدین! تمہارا خرقہ خلافت اس سید کے پاس ہے جو مانک پور میں تشریف لائیں گے چنانچہ راجی سید حامد شاہ کسی وقت جونپور آئے، شیخ بہاؤالدین نے ان کا استقبال کیا اور انہوں نے پہلی ہی ملاقات میں آپ کو خرقہ خلافت پہنا کر اپنا خلیفہ بنا لیا ۔
( اخبار الاخیار )
وصال:
11 ربیع الاٰخر 947ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-bahauddin-jonpuri
scholars.pk
Hazrat Syed Bahauddin Jonpuri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2