🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت ابراہیم حلبی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

ابراہیم بن مصطفیٰ بن ابراہیم حلبی مداری نزیل قسطنطنیہ: علامۂ کبیر، فہامہ شہیر، علوم عقلیہ و نقلیہ میں خدا کی ایک بڑی نشانی اور صاحب تصانیف باہرہ مستغنی عن الاوصاف تھے ۔

حلب میں پیدا ہوئے، اصل میں آپ مداری تھے کہ خدا نے آپ کے دل میں علم کا شوق ڈالا اور مصر میں جاکر سات سال تک تحصیل علوم و فنون میں مشغول رہے پھر دمشق میں جاکر وہاں کی ایک جماعت فضلاء سے اخذ کیا اور تصوف کو شیخ عبد الغنی نابلسی وغیرہ سے حاصل کیا ـ

پھر قاہرہ میں مراجعت کی اور منقولات و معقولات کو سید علی الضریر حنفی وغیرہ سے اخذ کیا یہاں تک کہ فائق اقران ہوئے اور مشائخ نے آپ کو تدریس کی اجازت دی ۔

آپ نے ہی پہلے پہل اس ملک میں در مختار کو پڑھا اور پہلے پہل اس کا حاشیہ تصنیف کیا آپ کے ذکاء اور فضیلت کے سبب سے بڑی شہرت ہوئی اور کثرت سے طلباء آپ کے پاس جمع ہوئے ۔

قسطنطنیہ میں آکر شیخ الاسلام علامہ روم مولیٰ عبد اللہ مشہور بہ ایرانی کے پاس ٹھہرے اور انہوں نے آپ کی بڑی عزت کی وہاں ایک جماعت علمائے روم نے آپ سے پڑھا جن میں سے راغب پاشا صاحب سفینۃ الراغب وغیرہ ہیں اور اکثر ازہر کے محققین آپ کے شاگردوں میں سے ہیں۔آپ مطالعۂ کتب میں دن رات مصروف رہتے تھے ۔

آپ کی تصنیفات سے حاشیہ در مختار اور ایک رسالہ عروض میں، وغیرہ کتابیں یادگار ہیں ۔

وصال:
وفات آپ کی ربیع الآخر ۱۱۹۰ھ میں ہوئی اور قسطنطنیہ میں خالد بن زید ابی ایوب انصاری کے پاس دفن کیے گئے ۔ ’’ شمع حق پرستی ‘‘ تاریخ وفات ہے ۔

( حدائق الحنفیہ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-ibrahim-halbi
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت شیخ ابراہیم بن عبد الرحمٰن دمشقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

ابراہیم بن عبد الرحمٰن بن محمد بن عماد الدین عمادی دمشقی: ۱۰۱۲ھ میں پیدا ہوئے، ملک شام کے مشہور فضلاء و بلغاء میں سے علم ادب اور نظم و نثر میں بارع، فقیہ کثیر المحفوظات، محدث فاضل، مقبول الہیأت، عظیم الہیبۃ تھے ۔

ابتداء میں علوم اپنے والدِ ماجد سے پڑھے پھر بور مینی میں حسن بن محمد سے مختلف علوم و فنون حاصل کیے اور حدیث کو احمد عیشاوی وغیرہ سے اخذ کیا ۔

باپ کی وفات کے بعد اپنے منجھلے بھائی کے ساتھ روم کا سفر کیا ۔ دو دفعہ حج کیا اور دوسری دفعہ کے حج کے وقت رکب شامی ہیں قاضی مقرر ہوئے ۔

وصال:
اخیر عمر میں فالج ہو گیا جس میں ڈیڑھ سال مبتلا رہ کر شنبہ کے روز ۱۰ ربیع الثانی ۱۰۷۸ھ میں وفات پائی اور مقبرہ باب الصغیر میں اپنے والد کی قبر کے پاس مدفون ہوئے ۔ ’’ لوح محفوظ ‘‘ تاریخ وفات ہے ۔

( حدائق الحنفیہ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-ibrahim-bin-abdul-rahman-dimashqi
2