قاضی القضاۃ حضرت سعد بن شمس الدین نابلسی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
قاضی القضاۃ سعد بن شمس الدین محمد بن عبداللہ بن سعد بن ابی بکر ویری نابلسی:
ولادت:
منگل کے روز ۱۷ رجب ۷۶۸ھ کو پیدا ہوئے ـ
نام کنیت لقب اور وطن:
ابو السعادات کنیت اور سعد الدین لقب تھا ۔ اصل میں شہر دیر کے جو شہر نابلس کے پاس واقع ہے، رہنے والے تھے چنانچہ اسی لیے ابن الدیری کے نام سے معروف تھے مگر اخیر کو قاہرہ میں آکر مقیم ہوئے ـ
برے ذکی اور ذی حافظہ تھے، پہلے اپنے والد سے علم پڑھنا شروع کیا اور قرآن کو حفظ کر کے بہت سی کتابیں ۱۲ روز کے عرصہ میں حفظ کیں پھر کمال سریحی اور حمید الدین اور علاء بن نقیب اور شمس بن خطیب شافعی سے استفادہ کیا اور شمس قونوی صاحب ورد البحار اور حافظ الدین صاحب فتاویٰ بزازیہ کی صحبت کی اور برہان ابراہیم بن زین عبد الرحیم بن جماعہ سے روایت احادیث کی سندلی یہاں تک کہ اپنے زمانہ کے امام علامہ اور فقیہ فہامہ ہوئے استحضار مسائل مذہیبہ اور سریع ادراک اور حافظ میں بے نظیر تھے، علمی مباحثہ و مذاکرہ کا نہایت شوق تھا ۔
علم تفسیر خصوصاً فہم معانی تنزیل میں ید طولیٰ رکھتے تھے اور متن حدیث اس قدر یاد رکھتے تھے کہ جس کا بیان نہیں ہو سکتا تھا ۔ آپ کے والد ماجد فقہ وغیرہ میں آپ کو اپنے اوپر مقدم سمجھنے لگے اور آپ کا زکر خیر یہاں تک زمانہ میں مشہور ہوا کہ شاہ رخ بن تیمر بادشاہ ہندوستان نے سرور بار آپ کا حال قاصد ظاہر چقمق سے دریافت کیا،مدت تک تدریس و افتاء میں مشغول رہے، ۸۴۳ھ میں مصر کی دار القضاء حنفیہ کے متولی ہوئے، حج بھی آپ نے کئی دفعہ کیے چنانچہ پہلا حج ۸۰۱ھ میں کیا ۔ آپ سے قاضی محمد بن محمد بن شحنہ نے اخذ کیا ۔
شمس الدین سخاوی نے آپ کے ترجمہ میں لکھا ہے کہ میں نے آپ سے بہت کچھ آپ سے بہت کچھ پڑھا اور فوائد و نظم کو لکھا، چونکہ آپ کو باوجود کثرت اطلاع کے تصنیف و تالیف کا چنداں شوق نہ تھا، اس لیے تصنیفات آپ سے کم ظہور میں آئی اور جو آئی ہے وہ حسبِ ذیل ہے:
شروح عقائد نسفی جس کو زین قاسم حنفی نے آپ سے پڑھا، کواکب النیرات فی وصول ثواب الطاعات الی الاموات، السہام المارقہ فی کبد الزنادقہ، رسالۃ الجس بالتہمۃ، رسالہ ہل تنام الملائکہ ام لا، رسالہ ہل منع الشعر مخصوص بالنبی ام عام لجمیع الانبیاء تکملہ شرح ہدایہ سروجی سات جلد میں ۔ منظومہ نعمانیہ، یہ کتاب نظم میں ہے اور اس عجیب و غریب فوائد بیان ہوئے ہیں ۔
وصال:
وفات آپ کی 9 ربیع الآخر 867ھ کو مصر میں ہوئی، ’’ قبلۂ خلق ‘‘ تاریخ وفات ہے ۔
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/qazi-ul-qaza-hazrat-saad-bin-shamsuddin-nabulusi
قاضی القضاۃ سعد بن شمس الدین محمد بن عبداللہ بن سعد بن ابی بکر ویری نابلسی:
ولادت:
منگل کے روز ۱۷ رجب ۷۶۸ھ کو پیدا ہوئے ـ
نام کنیت لقب اور وطن:
ابو السعادات کنیت اور سعد الدین لقب تھا ۔ اصل میں شہر دیر کے جو شہر نابلس کے پاس واقع ہے، رہنے والے تھے چنانچہ اسی لیے ابن الدیری کے نام سے معروف تھے مگر اخیر کو قاہرہ میں آکر مقیم ہوئے ـ
برے ذکی اور ذی حافظہ تھے، پہلے اپنے والد سے علم پڑھنا شروع کیا اور قرآن کو حفظ کر کے بہت سی کتابیں ۱۲ روز کے عرصہ میں حفظ کیں پھر کمال سریحی اور حمید الدین اور علاء بن نقیب اور شمس بن خطیب شافعی سے استفادہ کیا اور شمس قونوی صاحب ورد البحار اور حافظ الدین صاحب فتاویٰ بزازیہ کی صحبت کی اور برہان ابراہیم بن زین عبد الرحیم بن جماعہ سے روایت احادیث کی سندلی یہاں تک کہ اپنے زمانہ کے امام علامہ اور فقیہ فہامہ ہوئے استحضار مسائل مذہیبہ اور سریع ادراک اور حافظ میں بے نظیر تھے، علمی مباحثہ و مذاکرہ کا نہایت شوق تھا ۔
علم تفسیر خصوصاً فہم معانی تنزیل میں ید طولیٰ رکھتے تھے اور متن حدیث اس قدر یاد رکھتے تھے کہ جس کا بیان نہیں ہو سکتا تھا ۔ آپ کے والد ماجد فقہ وغیرہ میں آپ کو اپنے اوپر مقدم سمجھنے لگے اور آپ کا زکر خیر یہاں تک زمانہ میں مشہور ہوا کہ شاہ رخ بن تیمر بادشاہ ہندوستان نے سرور بار آپ کا حال قاصد ظاہر چقمق سے دریافت کیا،مدت تک تدریس و افتاء میں مشغول رہے، ۸۴۳ھ میں مصر کی دار القضاء حنفیہ کے متولی ہوئے، حج بھی آپ نے کئی دفعہ کیے چنانچہ پہلا حج ۸۰۱ھ میں کیا ۔ آپ سے قاضی محمد بن محمد بن شحنہ نے اخذ کیا ۔
شمس الدین سخاوی نے آپ کے ترجمہ میں لکھا ہے کہ میں نے آپ سے بہت کچھ آپ سے بہت کچھ پڑھا اور فوائد و نظم کو لکھا، چونکہ آپ کو باوجود کثرت اطلاع کے تصنیف و تالیف کا چنداں شوق نہ تھا، اس لیے تصنیفات آپ سے کم ظہور میں آئی اور جو آئی ہے وہ حسبِ ذیل ہے:
شروح عقائد نسفی جس کو زین قاسم حنفی نے آپ سے پڑھا، کواکب النیرات فی وصول ثواب الطاعات الی الاموات، السہام المارقہ فی کبد الزنادقہ، رسالۃ الجس بالتہمۃ، رسالہ ہل تنام الملائکہ ام لا، رسالہ ہل منع الشعر مخصوص بالنبی ام عام لجمیع الانبیاء تکملہ شرح ہدایہ سروجی سات جلد میں ۔ منظومہ نعمانیہ، یہ کتاب نظم میں ہے اور اس عجیب و غریب فوائد بیان ہوئے ہیں ۔
وصال:
وفات آپ کی 9 ربیع الآخر 867ھ کو مصر میں ہوئی، ’’ قبلۂ خلق ‘‘ تاریخ وفات ہے ۔
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/qazi-ul-qaza-hazrat-saad-bin-shamsuddin-nabulusi
scholars.pk
Qazi-ul-Qaza Hazrat Saad Bin Shamsuddin Nabulusi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
شیخ الاسلام حضرت عبداللہ انصاری ہروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: عبداللہ ۔ کنیت: ابو اسماعیل ۔ لقب: شیخ الاسلام، شیخ السالکین، پیرِ ہرات ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
خواجہ عبداللہ انصاری بن ابو منصور بلخی بن جعفربن ابو معاذ بن محمدبن احمد بن جعفر بن ابو منصور تابعی بن ابو ایوب انصاری ۔ (علیہم الرحمۃ والرضوان) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز جمعۃ المبارک 2 شعبان المعظم 396ھ، مطابق مئی 1006ء کو " ہرات " (افغانستان) میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم اور فقہ وغیرہ یحیٰ بن عمار الشیبانی سے حاصل کیے، اس کے بعد علم کے لئے طوس، بسطام، اور بغداد کا سفر کیا، بغداد میں شیخ ابو محمد خلال البغدادی سے استفادہ کیا ۔ علم التصوف شیخ ابو سعید ابو الخیر سے حاصل کیا ۔ آپ کا حافظہ بہت تیز تھا، جو چیز ایک مرتبہ نظر سے گزر جاتی پھر کبھی نہ بھولتی ۔
آپ فرماتے ہیں: مجھے کھانا کھانے کی فرصت نہیں ملتی تھی، بسا اوقات ایسا بھی ہوتا کہ عشاء کی نماز کے احادیث لکھنے بیٹھتا اور صبح ہو جاتی تھی، کبھی میری والدہ روٹی کے لقمے توڑ کر میرے منہ میں ڈالتی اور میں لکھتا رہتا ۔آپ کو تیس ہزار احادیث یاد تھیں ۔
بیعت و خلافت:
آپ حضرت شیخ ابو الحسن خرقانی رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت میں رہے ۔ شیخ ابو عاصم جو کہ آپ کے رشتے دار تھے، ان سے بیعت ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
شیخ الاسلام، شیخ السالکین امام العلماء والمحدثین، حامی سنت ماحی بدعت، ناصر ملت حضرت شیخ عبد اللہ انصاری رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ تمام علوم کے جامع تھے ۔ حدیث ،تفسیر ، فقہ، لغت، وغیرہ کے ماہرِ کامل تھے ۔ اس وقت کے تمام مشائخ آپ کی طرف رجوع کرتے تھے ۔مقبولِ عام و خاص اور محسودِ زمانہ تھے ۔
علامہ جامی کا فرمان:
مولانا عبد الرحمن جامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "جب کہیں مطلقاً "شیخ الاسلام" لکھا ہوا ہو، تو اس سے مراد آپ کی ذات ہوتی ہے"۔
حضرت شیخ الاسلام فرماتے ہیں:
میں بچپن میں شیخ ابو عاصم کے ہاں تعلیم حاصل کرنے کے لئے جایا کرتا تھا ۔ ان کی زوجہ محترمہ ضعیفہ اور وقت کی ولیہ تھیں ۔ کہنے لگیں : میرے شیخ حضرت خضر علیہ السلام نے اس بچے کو دیکھا اور مجھ سے پوچھنے لگے یہ کون ہیں؟ (حالانکہ وہ خود جانتے تھے یہ کون ہیں) میں نے کہا! یہ عبد اللہ انصاری ہیں، اور میرے شوہر سے پڑھنے آتے ہیں ۔حضرت خضر فرمانے لگے: "ایک دن یہ بچہ وقت کا امام ہوگا، اور مشرق سے مغرب تک اس کا شہرہ ہوگا"۔
آپ ہی فرماتے ہیں:
جو محنت میں نے حدیثِ مصطفیٰ ﷺ کے لئے کی ہے، شاید کسی نے کی ہو ۔ ایک مرتبہ مضافاتِ نیشا پور میں تھاکہ زبردست بارش ہونے لگی ۔ کئی میل تک رکوع کی حالت میں چلتا رہا، تاکہ میری کتب گیلی نہ ہو جائیں ۔ میں نے علم اللہ جل شانہ کی رضا اور سنتِ مصطفیٰ ﷺ کی خدمت کے لئے حاصل کیا ۔ ہر مسئلے پر کئی احادیث بیان کر سکتا ہوں ۔
آپ فرماتے ہیں:
میں نے تین ہزار اساتذہ سے علم حاصل کیا ۔ الحمدللہ! ان میں سے کوئی ایک بھی " بدمذہب " نہیں تھا ۔ سب کے سب" اہل سنت و جماعت" سے تعلق رکھتے تھے ۔ (نفحات الانس: 305) ۔ (اس میں ان لوگوں کے لئے سبق ہے، جواس چیز کا خیال نہیں رکھتے، حدیث میں تو یہ آیا ہے کہ "ان ھذ العلم دین فانظروا عمن تأخذونہ" یعنی یہ علمِ دین ہے ۔غور کرو! کہ تم دین کس سے لے رہےہو ۔ ہم دودھ، اور دوائی تو معتبر آدمی سے حاصل کرتے ہیں، لیکن علمِ دین کے لئے کوئی شرائط نہیں ہیں، آج گمراہی اور بد عقیدگی کی سب سے بڑی وجہ ہی یہی ہے، کہ جس نے اسلام اور قرآن کے نام پر بلایا اس کے پیچھے چل پڑے، یہ نہ دیکھا کہ بلانے والے کا عقیدہ کیا ہے؟)
آپ نے ساری زندگی دینِ مصطفیٰ ﷺ کی خدمت کرتے ہوئے گزاری ۔ دور دراز علاقوں سے لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر قلوب و اذہان کو منور کرتے تھے ۔ بدعتوں کو ختم کرکے سنتوں کو عام کیا ۔ آپ خلافِ شریعت کاموں پر شاہانِ وقت کو بھی معاف نہیں کرتے تھے ۔ نذرانے بہت کم لیتے تھے، اگر کوئی اصرار کرتا تو لے کر اسی وقت فقراء میں تقسیم کر دیا کرتے تھے ۔ انتہائی سادہ غذا ولباس استعمال کرتے، نمود و نمائش سے دور تک واسطہ نہیں تھا ۔
وصال:
آپ کا وصال 9 ربیع الثانی 481ھ، مطابق جولائی 1088ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار " ہرات " (افغانستان) میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
نفحات الانس ۔ خزینۃ الاصفیاء ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/sheikh-ul-islam-hazrat-abdullah-ansari
نام و نسب:
اسمِ گرامی: عبداللہ ۔ کنیت: ابو اسماعیل ۔ لقب: شیخ الاسلام، شیخ السالکین، پیرِ ہرات ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
خواجہ عبداللہ انصاری بن ابو منصور بلخی بن جعفربن ابو معاذ بن محمدبن احمد بن جعفر بن ابو منصور تابعی بن ابو ایوب انصاری ۔ (علیہم الرحمۃ والرضوان) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز جمعۃ المبارک 2 شعبان المعظم 396ھ، مطابق مئی 1006ء کو " ہرات " (افغانستان) میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم اور فقہ وغیرہ یحیٰ بن عمار الشیبانی سے حاصل کیے، اس کے بعد علم کے لئے طوس، بسطام، اور بغداد کا سفر کیا، بغداد میں شیخ ابو محمد خلال البغدادی سے استفادہ کیا ۔ علم التصوف شیخ ابو سعید ابو الخیر سے حاصل کیا ۔ آپ کا حافظہ بہت تیز تھا، جو چیز ایک مرتبہ نظر سے گزر جاتی پھر کبھی نہ بھولتی ۔
آپ فرماتے ہیں: مجھے کھانا کھانے کی فرصت نہیں ملتی تھی، بسا اوقات ایسا بھی ہوتا کہ عشاء کی نماز کے احادیث لکھنے بیٹھتا اور صبح ہو جاتی تھی، کبھی میری والدہ روٹی کے لقمے توڑ کر میرے منہ میں ڈالتی اور میں لکھتا رہتا ۔آپ کو تیس ہزار احادیث یاد تھیں ۔
بیعت و خلافت:
آپ حضرت شیخ ابو الحسن خرقانی رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت میں رہے ۔ شیخ ابو عاصم جو کہ آپ کے رشتے دار تھے، ان سے بیعت ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
شیخ الاسلام، شیخ السالکین امام العلماء والمحدثین، حامی سنت ماحی بدعت، ناصر ملت حضرت شیخ عبد اللہ انصاری رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ تمام علوم کے جامع تھے ۔ حدیث ،تفسیر ، فقہ، لغت، وغیرہ کے ماہرِ کامل تھے ۔ اس وقت کے تمام مشائخ آپ کی طرف رجوع کرتے تھے ۔مقبولِ عام و خاص اور محسودِ زمانہ تھے ۔
علامہ جامی کا فرمان:
مولانا عبد الرحمن جامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "جب کہیں مطلقاً "شیخ الاسلام" لکھا ہوا ہو، تو اس سے مراد آپ کی ذات ہوتی ہے"۔
حضرت شیخ الاسلام فرماتے ہیں:
میں بچپن میں شیخ ابو عاصم کے ہاں تعلیم حاصل کرنے کے لئے جایا کرتا تھا ۔ ان کی زوجہ محترمہ ضعیفہ اور وقت کی ولیہ تھیں ۔ کہنے لگیں : میرے شیخ حضرت خضر علیہ السلام نے اس بچے کو دیکھا اور مجھ سے پوچھنے لگے یہ کون ہیں؟ (حالانکہ وہ خود جانتے تھے یہ کون ہیں) میں نے کہا! یہ عبد اللہ انصاری ہیں، اور میرے شوہر سے پڑھنے آتے ہیں ۔حضرت خضر فرمانے لگے: "ایک دن یہ بچہ وقت کا امام ہوگا، اور مشرق سے مغرب تک اس کا شہرہ ہوگا"۔
آپ ہی فرماتے ہیں:
جو محنت میں نے حدیثِ مصطفیٰ ﷺ کے لئے کی ہے، شاید کسی نے کی ہو ۔ ایک مرتبہ مضافاتِ نیشا پور میں تھاکہ زبردست بارش ہونے لگی ۔ کئی میل تک رکوع کی حالت میں چلتا رہا، تاکہ میری کتب گیلی نہ ہو جائیں ۔ میں نے علم اللہ جل شانہ کی رضا اور سنتِ مصطفیٰ ﷺ کی خدمت کے لئے حاصل کیا ۔ ہر مسئلے پر کئی احادیث بیان کر سکتا ہوں ۔
آپ فرماتے ہیں:
میں نے تین ہزار اساتذہ سے علم حاصل کیا ۔ الحمدللہ! ان میں سے کوئی ایک بھی " بدمذہب " نہیں تھا ۔ سب کے سب" اہل سنت و جماعت" سے تعلق رکھتے تھے ۔ (نفحات الانس: 305) ۔ (اس میں ان لوگوں کے لئے سبق ہے، جواس چیز کا خیال نہیں رکھتے، حدیث میں تو یہ آیا ہے کہ "ان ھذ العلم دین فانظروا عمن تأخذونہ" یعنی یہ علمِ دین ہے ۔غور کرو! کہ تم دین کس سے لے رہےہو ۔ ہم دودھ، اور دوائی تو معتبر آدمی سے حاصل کرتے ہیں، لیکن علمِ دین کے لئے کوئی شرائط نہیں ہیں، آج گمراہی اور بد عقیدگی کی سب سے بڑی وجہ ہی یہی ہے، کہ جس نے اسلام اور قرآن کے نام پر بلایا اس کے پیچھے چل پڑے، یہ نہ دیکھا کہ بلانے والے کا عقیدہ کیا ہے؟)
آپ نے ساری زندگی دینِ مصطفیٰ ﷺ کی خدمت کرتے ہوئے گزاری ۔ دور دراز علاقوں سے لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر قلوب و اذہان کو منور کرتے تھے ۔ بدعتوں کو ختم کرکے سنتوں کو عام کیا ۔ آپ خلافِ شریعت کاموں پر شاہانِ وقت کو بھی معاف نہیں کرتے تھے ۔ نذرانے بہت کم لیتے تھے، اگر کوئی اصرار کرتا تو لے کر اسی وقت فقراء میں تقسیم کر دیا کرتے تھے ۔ انتہائی سادہ غذا ولباس استعمال کرتے، نمود و نمائش سے دور تک واسطہ نہیں تھا ۔
وصال:
آپ کا وصال 9 ربیع الثانی 481ھ، مطابق جولائی 1088ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار " ہرات " (افغانستان) میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
نفحات الانس ۔ خزینۃ الاصفیاء ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/sheikh-ul-islam-hazrat-abdullah-ansari
scholars.pk
Sheikh-ul-Islam Hazrat Abdullah Ansari
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
حضرت علامہ مشتاق احمد نظامی الہٰ آبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ولادت:
خطیب شہیر حضرت مولانا مشتاق احمد نظامی ابن حاجی محرم علی ۱۵ اگست ۱۲۲۹ء کو اپنے وطن پھول پور ضلع الہ آباد میں پیدا ہوئے ـ
دس برس کی عمر میں درجہ چہارم پاس کر کے الہ آباد کے مشہور مدرسہ سُبحانیہ میں داخل ہوئے، اور علامہ نظام الدین بلیاوی مدظلہ سے معقول و منقول کی امہات کتب کے علاوہ صحاح ستہ کا دور کیا اور سند فراغت حاصل کی ـ
رئیس التارکین بقیۃ السلف حضرت مولانا شاہ محمد حبیب الرحمٰن قادری مدظلہٗ العالی سے بھی، جو کہ اس زمانہ میں مدرسہ سبحانیہ کے صدر مدرس تھے چند کتابیں پڑھیں اور بیعت کا تعلق قائم کیا، مدرسہ سُبحانیہ میں درس دیا، اور عالم، مولوی کا کورس مدرسہ مصباح العلوم میں پڑھایا، ایک سال جامعہ حبیبیہ میں تدریسی فرائض انجام دیئے، آپ کو درس نظامی کے جملہ علوم و فنون میں پوری بصیرت حاصل ہے ـ
خطابت:
پورے ہندوستان میں آپ کی خطابت کا غلغلہ ہے: بڑے بڑے جلسوں کی کامیابی آپ کی شرکت پر منحصر ہوتی ہے، بفضلہٖ تعالیٰ خوب قبول عام پایا ہے ـ
آپ اوصاف میں بزرگوں سے حُسن عقیدت نمایاں وصف ہے، نئے حالات اور نئے تقاضوں کے پیش نظر تبلیغ و ارشاد کے لیے علماء مبلغین کو تیار کرنے کے واسطے آپ نے اپنے وطن میں دار العلوم غریب نواز قائم فرمایا ہے، اس کےعلاوہ آپ کے پیش نظر امام احمد رضا کی یاد میں ایک ایسی لائبریری کا قیام ہے جس میں علمائے اہل سنت کی ساری کتابیں اہل قلم کو دست یاب ہو سکیں ۔
آپ کو تقریر وتدریس کی طرح تصنیف و تالیف میں بھی خصوصی سلیقہ ہے ” خون کے آنسو ’’ دو حصے دیوبندی دین کے علماء کے بے ادبی وبے باکی کے رد میں آپ کے مشہور زمانہ تصنیف ہے، اور بہتوں نے اس کو پڑھنے کے بعد دین دیوبندیت سے توبہ کی ہے ۔
وصال: 9 ربیع الآخر شریف ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-mushtaq-ahmad-nizami-allahabadi
ولادت:
خطیب شہیر حضرت مولانا مشتاق احمد نظامی ابن حاجی محرم علی ۱۵ اگست ۱۲۲۹ء کو اپنے وطن پھول پور ضلع الہ آباد میں پیدا ہوئے ـ
دس برس کی عمر میں درجہ چہارم پاس کر کے الہ آباد کے مشہور مدرسہ سُبحانیہ میں داخل ہوئے، اور علامہ نظام الدین بلیاوی مدظلہ سے معقول و منقول کی امہات کتب کے علاوہ صحاح ستہ کا دور کیا اور سند فراغت حاصل کی ـ
رئیس التارکین بقیۃ السلف حضرت مولانا شاہ محمد حبیب الرحمٰن قادری مدظلہٗ العالی سے بھی، جو کہ اس زمانہ میں مدرسہ سبحانیہ کے صدر مدرس تھے چند کتابیں پڑھیں اور بیعت کا تعلق قائم کیا، مدرسہ سُبحانیہ میں درس دیا، اور عالم، مولوی کا کورس مدرسہ مصباح العلوم میں پڑھایا، ایک سال جامعہ حبیبیہ میں تدریسی فرائض انجام دیئے، آپ کو درس نظامی کے جملہ علوم و فنون میں پوری بصیرت حاصل ہے ـ
خطابت:
پورے ہندوستان میں آپ کی خطابت کا غلغلہ ہے: بڑے بڑے جلسوں کی کامیابی آپ کی شرکت پر منحصر ہوتی ہے، بفضلہٖ تعالیٰ خوب قبول عام پایا ہے ـ
آپ اوصاف میں بزرگوں سے حُسن عقیدت نمایاں وصف ہے، نئے حالات اور نئے تقاضوں کے پیش نظر تبلیغ و ارشاد کے لیے علماء مبلغین کو تیار کرنے کے واسطے آپ نے اپنے وطن میں دار العلوم غریب نواز قائم فرمایا ہے، اس کےعلاوہ آپ کے پیش نظر امام احمد رضا کی یاد میں ایک ایسی لائبریری کا قیام ہے جس میں علمائے اہل سنت کی ساری کتابیں اہل قلم کو دست یاب ہو سکیں ۔
آپ کو تقریر وتدریس کی طرح تصنیف و تالیف میں بھی خصوصی سلیقہ ہے ” خون کے آنسو ’’ دو حصے دیوبندی دین کے علماء کے بے ادبی وبے باکی کے رد میں آپ کے مشہور زمانہ تصنیف ہے، اور بہتوں نے اس کو پڑھنے کے بعد دین دیوبندیت سے توبہ کی ہے ۔
وصال: 9 ربیع الآخر شریف ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-mushtaq-ahmad-nizami-allahabadi
scholars.pk
Hazrat Allama Mushtaq Ahmad Nizami Allahabadi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
08-04-1445 ᴴ | 24-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
09-04-1445 ᴴ | 25-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2