🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
استاذ العلماء مولانا محمد قدیر بخش بد ایونی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
حضرت مولانا علامہ محمد قدیر بخش ابن مولانا مفتی حافظ بخش رحمہا اللہ تعالیٰ ۔ والدِ ماجد نے تاریخی نام " منظور الحبیب " (1307ھ) تجویز کیا ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1307ھ، مطابق 1989ء کو میں" آنولہ " (مضافات بریلی، انڈیا) میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
درسِ نظامی کی اکثر و بیشتر کتابیں " مدرسہ شمس العلوم " بدایوں میں حضرت والد ماجد سے پڑھیں ۔ شرح جامی کی ابتداء مولانا شاہ عبد المقتدر بدایونی قدس سرہ سے کی اور بعض درسی کتابیں بھی ان سے پڑھیں ۔

1327ھ 1909ء میں حضرت تاج الفحول شاہ عبدالقادر بدایونی قدس سرہ کے عرس کے موقع پر سند اور دستار فضیلت حاصل کی ۔ بعد ازاں حکیم سید حسن مراد آبادی سے دو سال میں طب کی کتابیں پڑھیں ۔

سیرت و خصائص:
استاذ العلماء والفضلاء ، فاضلِ جلیل ، عالمِ نبیل حضرت علامہ مولانا محمد قدیر بخش بدایونی رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ ایک جید عالم دین تھے ۔ ساری زندگی اسلام کے فروغ کے لئے کوشاں رہے ۔ 1912ء میں " مدرسہ شمس العلوم " بدایوں میں مدرس مقرر ہوئے ۔ 1920ء میں پنجاب یونیورسٹی سے مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا ۔ 1924ء میں مدرسہ تعلیم الاسلام جے پور میں صدر مدرس مقرر ہوئے، اور 32 سال تک نہ صرف محنت و جانفشانی سے علوم دینیہ پڑھائے بلکہ سماجی اور اصلاحی کاموں میں بھی گرانقدر خدمات انجام دیتے رہے ۔

حضرت علامہ مولانا محمد قدیر بخش قدس سرہٗ 1956ء میں مستقل طور پر پاکستان (حیدر آباد ، سندھ) تشریف لے آئے اور یہیں آپ کا وصال ہوا ۔ تمام زندگی آپ کا مقصد علومِ دینیہ کی اشاعت رہا ۔

پروفیسر محمد ایوب قادری کے نام ایک مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں : " میرنی زندگی کا نصب العین علوم دین کی اشاعت ہے ، بحمد اللہ تعالیٰ میں اپنے اساتذہ کے مسلک کے مطابق اس باب میں جدو جہد عمل میں لا رہا ہوں ۔ میں نے درس نظامی کے مروجہ نصاب کی ہی تعلیم جاری رکھی جو بڑی با برکت ہے اور جامعیت علوم و فنون کے اعتبار سے درسِ نظامی کا اکمل ترین نصاب ہے ۔ اس نصاب کی تکمیل سے تمام علوم و فنون کی استعداد پیدا ہو جاتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ درسِ نظامی ملا نظام الدین سہالوی علیہ الرحمۃ کی زندہ کرامت ہے جن کا فیض ہمیشہ جاری رہےگا ۔ اس درس کے ساتھ ساتھ زمانہ کے رجحانات کے پیش نظر پنجاب اور الہٰ آباد کی یونیورسٹیوں کے نصابوں کی تعلیم بھی جاری رکھی جو درس نظامی ہی میں قدر ے ترمیم کے بعد ترتیب دئے گئے ہیں ۔ "

فاتحِ سرحد مولانا عبد الحامد بدایونی علیہ الرحمہ آپ کے تلامذہ میں سے تھے ۔

وصال:
آپ کا وصال بروز ہفتہ 9 ربیع الثانی 1376ھ، مطابق 13 نومبر 1956ء کو ہوا ۔ آپ کی قبر انور حیدر آباد سندھ میں ہے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابرِ اہل سنت ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-muhammad-qadeer-baksh-badayuni
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت شیخ صبغۃ اللہ علیہ الرحمہ

ولادت با سعادت:
آپ حضرت قیوم ثانی کے سب سے بڑے فرزند ہیں ۔ ۱۰۳۲ھ میں پیدا ہوئے ۔ حضرت قیوم اول نے حضرت قیوم ثانی سے فرمایا کہ محمد معصوم! اس فرزند میں اصلی نور دکھائی دیتا ہے ۔ اس کا نام صبغۃ اللہ رکھو ۔

تحصیل علم:
آپ نے علم معقول و منقول انتہائی درجہ تک حاصل کیے ۔ بعد ازاں اپنے والد امجد کی خدمت میں علم باطن حاصل کیا ۔ آپ حضرت قیوم اول کے کمالات کے جامع اور صاحب کرامات تھے ۔ والد بزرگوار نے آپ کو ولایت کا بل و غور کی خلافت دے کر رخصت فرمایا ۔ وہاں آپ سے فیض جاری ہوا۔ ہر صبح و شام ہزار ہا آدمی حلقہ میں شامل ہوئے ۔ ۹ ربیع الثانی ۱۱۲۱ھ میں آپ کا وصال ہوا اور اپنے والد امجد کے قبہ میں دفن کیے گئے ۔

وصال:
9 ربیع الآخر 1121ھ

https://scholars.pk/ur/scholar/sheikh-muhammad-sibghatullah
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
قاضی القضاۃ حضرت سعد بن شمس الدین نابلسی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

قاضی القضاۃ سعد بن شمس الدین محمد بن عبداللہ بن سعد بن ابی بکر ویری نابلسی:

ولادت:
منگل کے روز ۱۷ رجب ۷۶۸ھ کو پیدا ہوئے ـ

نام کنیت لقب اور وطن:
ابو السعادات کنیت اور سعد الدین لقب تھا ۔ اصل میں شہر دیر کے جو شہر نابلس کے پاس واقع ہے، رہنے والے تھے چنانچہ اسی لیے ابن الدیری کے نام سے معروف تھے مگر اخیر کو قاہرہ میں آکر مقیم ہوئے ـ

برے ذکی اور ذی حافظہ تھے، پہلے اپنے والد سے علم پڑھنا شروع کیا اور قرآن کو حفظ کر کے بہت سی کتابیں ۱۲ روز کے عرصہ میں حفظ کیں پھر کمال سریحی اور حمید الدین اور علاء بن نقیب اور شمس بن خطیب شافعی سے استفادہ کیا اور شمس قونوی صاحب ورد البحار اور حافظ الدین صاحب فتاویٰ بزازیہ کی صحبت کی اور برہان ابراہیم بن زین عبد الرحیم بن جماعہ سے روایت احادیث کی سندلی یہاں تک کہ اپنے زمانہ کے امام علامہ اور فقیہ فہامہ ہوئے استحضار مسائل مذہیبہ اور سریع ادراک اور حافظ میں بے نظیر تھے، علمی مباحثہ و مذاکرہ کا نہایت شوق تھا ۔

علم تفسیر خصوصاً فہم معانی تنزیل میں ید طولیٰ رکھتے تھے اور متن حدیث اس قدر یاد رکھتے تھے کہ جس کا بیان نہیں ہو سکتا تھا ۔ آپ کے والد ماجد فقہ وغیرہ میں آپ کو اپنے اوپر مقدم سمجھنے لگے اور آپ کا زکر خیر یہاں تک زمانہ میں مشہور ہوا کہ شاہ رخ بن تیمر بادشاہ ہندوستان نے سرور بار آپ کا حال قاصد ظاہر چقمق سے دریافت کیا،مدت تک تدریس و افتاء میں مشغول رہے، ۸۴۳ھ میں مصر کی دار القضاء حنفیہ کے متولی ہوئے، حج بھی آپ نے کئی دفعہ کیے چنانچہ پہلا حج ۸۰۱ھ میں کیا ۔ آپ سے قاضی محمد بن محمد بن شحنہ نے اخذ کیا ۔

شمس الدین سخاوی نے آپ کے ترجمہ میں لکھا ہے کہ میں نے آپ سے بہت کچھ آپ سے بہت کچھ پڑھا اور فوائد و نظم کو لکھا، چونکہ آپ کو باوجود کثرت اطلاع کے تصنیف و تالیف کا چنداں شوق نہ تھا، اس لیے تصنیفات آپ سے کم ظہور میں آئی اور جو آئی ہے وہ حسبِ ذیل ہے:

شروح عقائد نسفی جس کو زین قاسم حنفی نے آپ سے پڑھا، کواکب النیرات فی وصول ثواب الطاعات الی الاموات، السہام المارقہ فی کبد الزنادقہ، رسالۃ الجس بالتہمۃ، رسالہ ہل تنام الملائکہ ام لا، رسالہ ہل منع الشعر مخصوص بالنبی ام عام لجمیع الانبیاء تکملہ شرح ہدایہ سروجی سات جلد میں ۔ منظومہ نعمانیہ، یہ کتاب نظم میں ہے اور اس عجیب و غریب فوائد بیان ہوئے ہیں ۔

وصال:
وفات آپ کی 9 ربیع الآخر 867ھ کو مصر میں ہوئی، ’’ قبلۂ خلق ‘‘ تاریخ وفات ہے ۔

( حدائق الحنفیہ )

https://scholars.pk/ur/scholar/qazi-ul-qaza-hazrat-saad-bin-shamsuddin-nabulusi
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
شیخ الاسلام حضرت عبداللہ انصاری ہروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: عبداللہ ۔ کنیت: ابو اسماعیل ۔ لقب: شیخ الاسلام، شیخ السالکین، پیرِ ہرات ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
خواجہ عبداللہ انصاری بن ابو منصور بلخی بن جعفربن ابو معاذ بن محمدبن احمد بن جعفر بن ابو منصور تابعی بن ابو ایوب انصاری ۔ (علیہم الرحمۃ والرضوان) ـ

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز جمعۃ المبارک 2 شعبان المعظم 396ھ، مطابق مئی 1006ء کو " ہرات " (افغانستان) میں پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم اور فقہ وغیرہ یحیٰ بن عمار الشیبانی سے حاصل کیے، اس کے بعد علم کے لئے طوس، بسطام، اور بغداد کا سفر کیا، بغداد میں شیخ ابو محمد خلال البغدادی سے استفادہ کیا ۔ علم التصوف شیخ ابو سعید ابو الخیر سے حاصل کیا ۔ آپ کا حافظہ بہت تیز تھا، جو چیز ایک مرتبہ نظر سے گزر جاتی پھر کبھی نہ بھولتی ۔

آپ فرماتے ہیں: مجھے کھانا کھانے کی فرصت نہیں ملتی تھی، بسا اوقات ایسا بھی ہوتا کہ عشاء کی نماز کے احادیث لکھنے بیٹھتا اور صبح ہو جاتی تھی، کبھی میری والدہ روٹی کے لقمے توڑ کر میرے منہ میں ڈالتی اور میں لکھتا رہتا ۔آپ کو تیس ہزار احادیث یاد تھیں ۔

بیعت و خلافت:
آپ حضرت شیخ ابو الحسن خرقانی رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت میں رہے ۔ شیخ ابو عاصم جو کہ آپ کے رشتے دار تھے، ان سے بیعت ہوئے ۔

سیرت و خصائص:
شیخ الاسلام، شیخ السالکین امام العلماء والمحدثین، حامی سنت ماحی بدعت، ناصر ملت حضرت شیخ عبد اللہ انصاری رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ رحمۃ اللہ علیہ تمام علوم کے جامع تھے ۔ حدیث ،تفسیر ، فقہ، لغت، وغیرہ کے ماہرِ کامل تھے ۔ اس وقت کے تمام مشائخ آپ کی طرف رجوع کرتے تھے ۔مقبولِ عام و خاص اور محسودِ زمانہ تھے ۔

علامہ جامی کا فرمان:
مولانا عبد الرحمن جامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "جب کہیں مطلقاً "شیخ الاسلام" لکھا ہوا ہو، تو اس سے مراد آپ کی ذات ہوتی ہے"۔

حضرت شیخ الاسلام فرماتے ہیں:
میں بچپن میں شیخ ابو عاصم کے ہاں تعلیم حاصل کرنے کے لئے جایا کرتا تھا ۔ ان کی زوجہ محترمہ ضعیفہ اور وقت کی ولیہ تھیں ۔ کہنے لگیں : میرے شیخ حضرت خضر علیہ السلام نے اس بچے کو دیکھا اور مجھ سے پوچھنے لگے یہ کون ہیں؟ (حالانکہ وہ خود جانتے تھے یہ کون ہیں) میں نے کہا! یہ عبد اللہ انصاری ہیں، اور میرے شوہر سے پڑھنے آتے ہیں ۔حضرت خضر فرمانے لگے: "ایک دن یہ بچہ وقت کا امام ہوگا، اور مشرق سے مغرب تک اس کا شہرہ ہوگا"۔

آپ ہی فرماتے ہیں:
جو محنت میں نے حدیثِ مصطفیٰ ﷺ کے لئے کی ہے، شاید کسی نے کی ہو ۔ ایک مرتبہ مضافاتِ نیشا پور میں تھاکہ زبردست بارش ہونے لگی ۔ کئی میل تک رکوع کی حالت میں چلتا رہا، تاکہ میری کتب گیلی نہ ہو جائیں ۔ میں نے علم اللہ جل شانہ کی رضا اور سنتِ مصطفیٰ ﷺ کی خدمت کے لئے حاصل کیا ۔ ہر مسئلے پر کئی احادیث بیان کر سکتا ہوں ۔

آپ فرماتے ہیں:
میں نے تین ہزار اساتذہ سے علم حاصل کیا ۔ الحمدللہ! ان میں سے کوئی ایک بھی " بدمذہب " نہیں تھا ۔ سب کے سب" اہل سنت و جماعت" سے تعلق رکھتے تھے ۔ (نفحات الانس: 305) ۔ (اس میں ان لوگوں کے لئے سبق ہے، جواس چیز کا خیال نہیں رکھتے، حدیث میں تو یہ آیا ہے کہ "ان ھذ العلم دین فانظروا عمن تأخذونہ" یعنی یہ علمِ دین ہے ۔غور کرو! کہ تم دین کس سے لے رہےہو ۔ ہم دودھ، اور دوائی تو معتبر آدمی سے حاصل کرتے ہیں، لیکن علمِ دین کے لئے کوئی شرائط نہیں ہیں، آج گمراہی اور بد عقیدگی کی سب سے بڑی وجہ ہی یہی ہے، کہ جس نے اسلام اور قرآن کے نام پر بلایا اس کے پیچھے چل پڑے، یہ نہ دیکھا کہ بلانے والے کا عقیدہ کیا ہے؟)

آپ نے ساری زندگی دینِ مصطفیٰ ﷺ کی خدمت کرتے ہوئے گزاری ۔ دور دراز علاقوں سے لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر قلوب و اذہان کو منور کرتے تھے ۔ بدعتوں کو ختم کرکے سنتوں کو عام کیا ۔ آپ خلافِ شریعت کاموں پر شاہانِ وقت کو بھی معاف نہیں کرتے تھے ۔ نذرانے بہت کم لیتے تھے، اگر کوئی اصرار کرتا تو لے کر اسی وقت فقراء میں تقسیم کر دیا کرتے تھے ۔ انتہائی سادہ غذا ولباس استعمال کرتے، نمود و نمائش سے دور تک واسطہ نہیں تھا ۔

وصال:
آپ کا وصال 9 ربیع الثانی 481ھ، مطابق جولائی 1088ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار " ہرات " (افغانستان) میں مرجعِ خلائق ہے ۔

ماخذ و مراجع:
نفحات الانس ۔ خزینۃ الاصفیاء ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/sheikh-ul-islam-hazrat-abdullah-ansari
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت علامہ مشتاق احمد نظامی الہٰ آبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

ولادت:
خطیب شہیر حضرت مولانا مشتاق احمد نظامی ابن حاجی محرم علی ۱۵ اگست ۱۲۲۹ء کو اپنے وطن پھول پور ضلع الہ آباد میں پیدا ہوئے ـ

دس برس کی عمر میں درجہ چہارم پاس کر کے الہ آباد کے مشہور مدرسہ سُبحانیہ میں داخل ہوئے، اور علامہ نظام الدین بلیاوی مدظلہ سے معقول و منقول کی امہات کتب کے علاوہ صحاح ستہ کا دور کیا اور سند فراغت حاصل کی ـ

رئیس التارکین بقیۃ السلف حضرت مولانا شاہ محمد حبیب الرحمٰن قادری مدظلہٗ العالی سے بھی، جو کہ اس زمانہ میں مدرسہ سبحانیہ کے صدر مدرس تھے چند کتابیں پڑھیں اور بیعت کا تعلق قائم کیا، مدرسہ سُبحانیہ میں درس دیا، اور عالم، مولوی کا کورس مدرسہ مصباح العلوم میں پڑھایا، ایک سال جامعہ حبیبیہ میں تدریسی فرائض انجام دیئے، آپ کو درس نظامی کے جملہ علوم و فنون میں پوری بصیرت حاصل ہے ـ

خطابت:
پورے ہندوستان میں آپ کی خطابت کا غلغلہ ہے: بڑے بڑے جلسوں کی کامیابی آپ کی شرکت پر منحصر ہوتی ہے، بفضلہٖ تعالیٰ خوب قبول عام پایا ہے ـ

آپ اوصاف میں بزرگوں سے حُسن عقیدت نمایاں وصف ہے، نئے حالات اور نئے تقاضوں کے پیش نظر تبلیغ و ارشاد کے لیے علماء مبلغین کو تیار کرنے کے واسطے آپ نے اپنے وطن میں دار العلوم غریب نواز قائم فرمایا ہے، اس کےعلاوہ آپ کے پیش نظر امام احمد رضا کی یاد میں ایک ایسی لائبریری کا قیام ہے جس میں علمائے اہل سنت کی ساری کتابیں اہل قلم کو دست یاب ہو سکیں ۔

آپ کو تقریر وتدریس کی طرح تصنیف و تالیف میں بھی خصوصی سلیقہ ہے ” خون کے آنسو ’’ دو حصے دیوبندی دین کے علماء کے بے ادبی وبے باکی کے رد میں آپ کے مشہور زمانہ تصنیف ہے، اور بہتوں نے اس کو پڑھنے کے بعد دین دیوبندیت سے توبہ کی ہے ۔

وصال: 9 ربیع الآخر شریف ـ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-mushtaq-ahmad-nizami-allahabadi
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2