Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
استاذ العلماء مولانا محمد قدیر بخش بد ایونی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت مولانا علامہ محمد قدیر بخش ابن مولانا مفتی حافظ بخش رحمہا اللہ تعالیٰ ۔ والدِ ماجد نے تاریخی نام " منظور الحبیب " (1307ھ) تجویز کیا ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1307ھ، مطابق 1989ء کو میں" آنولہ " (مضافات بریلی، انڈیا) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
درسِ نظامی کی اکثر و بیشتر کتابیں " مدرسہ شمس العلوم " بدایوں میں حضرت والد ماجد سے پڑھیں ۔ شرح جامی کی ابتداء مولانا شاہ عبد المقتدر بدایونی قدس سرہ سے کی اور بعض درسی کتابیں بھی ان سے پڑھیں ۔
1327ھ 1909ء میں حضرت تاج الفحول شاہ عبدالقادر بدایونی قدس سرہ کے عرس کے موقع پر سند اور دستار فضیلت حاصل کی ۔ بعد ازاں حکیم سید حسن مراد آبادی سے دو سال میں طب کی کتابیں پڑھیں ۔
سیرت و خصائص:
استاذ العلماء والفضلاء ، فاضلِ جلیل ، عالمِ نبیل حضرت علامہ مولانا محمد قدیر بخش بدایونی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ ایک جید عالم دین تھے ۔ ساری زندگی اسلام کے فروغ کے لئے کوشاں رہے ۔ 1912ء میں " مدرسہ شمس العلوم " بدایوں میں مدرس مقرر ہوئے ۔ 1920ء میں پنجاب یونیورسٹی سے مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا ۔ 1924ء میں مدرسہ تعلیم الاسلام جے پور میں صدر مدرس مقرر ہوئے، اور 32 سال تک نہ صرف محنت و جانفشانی سے علوم دینیہ پڑھائے بلکہ سماجی اور اصلاحی کاموں میں بھی گرانقدر خدمات انجام دیتے رہے ۔
حضرت علامہ مولانا محمد قدیر بخش قدس سرہٗ 1956ء میں مستقل طور پر پاکستان (حیدر آباد ، سندھ) تشریف لے آئے اور یہیں آپ کا وصال ہوا ۔ تمام زندگی آپ کا مقصد علومِ دینیہ کی اشاعت رہا ۔
پروفیسر محمد ایوب قادری کے نام ایک مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں : " میرنی زندگی کا نصب العین علوم دین کی اشاعت ہے ، بحمد اللہ تعالیٰ میں اپنے اساتذہ کے مسلک کے مطابق اس باب میں جدو جہد عمل میں لا رہا ہوں ۔ میں نے درس نظامی کے مروجہ نصاب کی ہی تعلیم جاری رکھی جو بڑی با برکت ہے اور جامعیت علوم و فنون کے اعتبار سے درسِ نظامی کا اکمل ترین نصاب ہے ۔ اس نصاب کی تکمیل سے تمام علوم و فنون کی استعداد پیدا ہو جاتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ درسِ نظامی ملا نظام الدین سہالوی علیہ الرحمۃ کی زندہ کرامت ہے جن کا فیض ہمیشہ جاری رہےگا ۔ اس درس کے ساتھ ساتھ زمانہ کے رجحانات کے پیش نظر پنجاب اور الہٰ آباد کی یونیورسٹیوں کے نصابوں کی تعلیم بھی جاری رکھی جو درس نظامی ہی میں قدر ے ترمیم کے بعد ترتیب دئے گئے ہیں ۔ "
فاتحِ سرحد مولانا عبد الحامد بدایونی علیہ الرحمہ آپ کے تلامذہ میں سے تھے ۔
وصال:
آپ کا وصال بروز ہفتہ 9 ربیع الثانی 1376ھ، مطابق 13 نومبر 1956ء کو ہوا ۔ آپ کی قبر انور حیدر آباد سندھ میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابرِ اہل سنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-muhammad-qadeer-baksh-badayuni
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت مولانا علامہ محمد قدیر بخش ابن مولانا مفتی حافظ بخش رحمہا اللہ تعالیٰ ۔ والدِ ماجد نے تاریخی نام " منظور الحبیب " (1307ھ) تجویز کیا ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1307ھ، مطابق 1989ء کو میں" آنولہ " (مضافات بریلی، انڈیا) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
درسِ نظامی کی اکثر و بیشتر کتابیں " مدرسہ شمس العلوم " بدایوں میں حضرت والد ماجد سے پڑھیں ۔ شرح جامی کی ابتداء مولانا شاہ عبد المقتدر بدایونی قدس سرہ سے کی اور بعض درسی کتابیں بھی ان سے پڑھیں ۔
1327ھ 1909ء میں حضرت تاج الفحول شاہ عبدالقادر بدایونی قدس سرہ کے عرس کے موقع پر سند اور دستار فضیلت حاصل کی ۔ بعد ازاں حکیم سید حسن مراد آبادی سے دو سال میں طب کی کتابیں پڑھیں ۔
سیرت و خصائص:
استاذ العلماء والفضلاء ، فاضلِ جلیل ، عالمِ نبیل حضرت علامہ مولانا محمد قدیر بخش بدایونی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ ایک جید عالم دین تھے ۔ ساری زندگی اسلام کے فروغ کے لئے کوشاں رہے ۔ 1912ء میں " مدرسہ شمس العلوم " بدایوں میں مدرس مقرر ہوئے ۔ 1920ء میں پنجاب یونیورسٹی سے مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا ۔ 1924ء میں مدرسہ تعلیم الاسلام جے پور میں صدر مدرس مقرر ہوئے، اور 32 سال تک نہ صرف محنت و جانفشانی سے علوم دینیہ پڑھائے بلکہ سماجی اور اصلاحی کاموں میں بھی گرانقدر خدمات انجام دیتے رہے ۔
حضرت علامہ مولانا محمد قدیر بخش قدس سرہٗ 1956ء میں مستقل طور پر پاکستان (حیدر آباد ، سندھ) تشریف لے آئے اور یہیں آپ کا وصال ہوا ۔ تمام زندگی آپ کا مقصد علومِ دینیہ کی اشاعت رہا ۔
پروفیسر محمد ایوب قادری کے نام ایک مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں : " میرنی زندگی کا نصب العین علوم دین کی اشاعت ہے ، بحمد اللہ تعالیٰ میں اپنے اساتذہ کے مسلک کے مطابق اس باب میں جدو جہد عمل میں لا رہا ہوں ۔ میں نے درس نظامی کے مروجہ نصاب کی ہی تعلیم جاری رکھی جو بڑی با برکت ہے اور جامعیت علوم و فنون کے اعتبار سے درسِ نظامی کا اکمل ترین نصاب ہے ۔ اس نصاب کی تکمیل سے تمام علوم و فنون کی استعداد پیدا ہو جاتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ درسِ نظامی ملا نظام الدین سہالوی علیہ الرحمۃ کی زندہ کرامت ہے جن کا فیض ہمیشہ جاری رہےگا ۔ اس درس کے ساتھ ساتھ زمانہ کے رجحانات کے پیش نظر پنجاب اور الہٰ آباد کی یونیورسٹیوں کے نصابوں کی تعلیم بھی جاری رکھی جو درس نظامی ہی میں قدر ے ترمیم کے بعد ترتیب دئے گئے ہیں ۔ "
فاتحِ سرحد مولانا عبد الحامد بدایونی علیہ الرحمہ آپ کے تلامذہ میں سے تھے ۔
وصال:
آپ کا وصال بروز ہفتہ 9 ربیع الثانی 1376ھ، مطابق 13 نومبر 1956ء کو ہوا ۔ آپ کی قبر انور حیدر آباد سندھ میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابرِ اہل سنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-muhammad-qadeer-baksh-badayuni
scholars.pk
Hazrat Molana Muhammad Qadeer Baksh Badayuni
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2