🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
07-04-1445 ᴴ | 23-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
07-04-1445 ᴴ | 23-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
فاضل جلیل حضرت مولانا عبد الغنی صابری رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
مولانا عبدالغنی ۔ والد کا اسمِ گرامی: مولانا حکیم غلام رسول علیہ الرحمہ ۔

تاریخِ ولادت:
مولانا عبد الغنی 1311ھ، مطابق 1893ء کو میں بمقام وسوہہ (ضلع ہوشیار پور ، بھارت ) میں پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
آپ کے اساتذہ کے بارے میں تفصیلات نہ مل سکیں ۔ صرف اتنا معلوم ہو سکا کہ امر تسر کے کسی مدرسہ میں تعلیم حاصل کی ۔ ابتداءً آپ غیر مقلد تھے ۔جب کہ آپ کے والدِماجد اور برادر گرامی دولت علی عارف، سنی حنفی تھے ۔ عارف باللہ حضرت شاہ سراج الحق گور داسپوری قدس سرہ کی مجلس میں حاضری کا یہ اثر ہوا کہ آپ صحیح العقیدہ سنی بن گئے ۔

؎ نگاہِ ولی میں وہ تاثیر دیکھی بدلتی ہزاروں کی تقدیر دیکھی

بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ چشتیہ صابریہ میں شیخِ طریقت حضرت شاہ سراج الحق گورداسپوری علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے۔منازلِ سلوک طے کرنے کے بعد خلافت سے مشرف ہوئے۔ان کے علاوہ حضرت میاں شیر محمد شر قپوری، حضرت میاں عبد الخالق (جہا ن خیلاں ، ہوشیار پور ) امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری ، حضرت پیر سید جماعت علی شاہ لاثانی علی پوری اور سائیں فتح علی مدفون بی بی پاکدا من (لاہور) وغیر ہم (قدست اسرارہم) سے بھی مستفیض ہوئے ۔

سیرت و خصائص:
فاضلِ جلیل ، عالم نبیل، مرشد العلماء، حضرت علامہ مولانا عبد الغنی چشتی صابری رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ علیہ الرحمہ تبلیغِ دین کا بے پناہ جذبہ رکھتے تھے ۔ کئی کئی ماہ بسلسلہ تبلیغ گھر سے باہر رہتے، کسی سے معاوضہ طلب نہ کرتے ، فرمایا کرتے تھے: پنجاب کا کوئی گاؤں اور پاک و ہند کا کوئی شہر ایسا نہیں جہاں میں نے تبلیغ نہ کی ہو ۔ اعلاء کلمۃ الحق آپ کا شیوہ تھا ، اہل ثروت کے سامنے جھکنا کبھی گوارنہ کیا مسلمانوں کی زبوں حالی اور تجارتی و تعلیمی میدان میں ہندؤں کی اجارہ داری کو بہ نگاہِ تشویش دیکھتے تھے۔اسی بناء پر چند متمول مسلمانوں کے تعاون سے آپ نے اسلامیہ ہائی سکول وسوہہ قائم کیا جس کی بنیاد امیر ملت محدث علی پوری قدس سرہ نے رکھی ۔ اپنی گرہ سے زرِ کثیر صرف کر کے مسلمانوں کو تجارت کا مشورہ دیا ۔ تحریک پاکستان شروع ہوئی تو مسلم لیگ میں شامل ہو گئے اور امیر ملت حضرت پیر جماعت علی محدث علی پوری قدس سرہ کی معیت میں شہر بہ شہر نظریۂ پاکستان کے حق میں تقریریں کیں ۔

یوں تو آٖپ کے تعلقات بہت سے علماءِ کرام سے تھے،لیکن چند علماء ومشائخ سے آپ کے گہرے تعلقات وروابط تھے۔ حضرت مولانا سید محمد محدث کچھو چھوی ، حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خاں بریلوی ،صدر الشریعہ مولانا امجد علی اعظمی ، صدر الافاضل مولانا سید محمد نعیم الدین ۔ علیہم الرحمۃ ۔

آپ کی خدمت میں دیو بندی اور اہل حدیث بھی عقیدت و احترام سے حاضر ہوا کرتے تھے ، ایک دفعہ فرمایا: "دیوبندی اور اہل حدیث بھی مولانا سید محمد دیدار علی شاہ کے علم کا لوہا مانتے تھے ، واقعی ان کا علم بہت زیادہ تھا ۔"
2
آپ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی قدس سرہ سے والہانہ عقیدت رکھتے تھے ۔ مولانا علی اصغر چشتی ( لاہور) کے نام ایک مکتوب میں لکھتے ہیں: بفضل خدا اہل سنت و جماعت ہوں ، بریلوی حضرات سے عقیدت ہے اور میرے پیر و مرشد (شاہ سراج الحق گور داسپوی) حضرت قبلہ مجدد ملت دو ر حاضر (امام احمد رضا بریلوی) رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اچھی عقیدت رکھتے تھے بلکہ آپ کا فرمان تھا : "اگر احمد رضا رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شخصیت ہندوستان میں نہ ہوتی تو تمام اہلِ  ہندو ہابیت کا سبق پڑھتے اور آپ کا علم تمام علماء سے اعلیٰ تھا "۔ محدث اعظم پاکستان مولانا سردار احمد  قادری چشتی صابری  رحمۃ اللہ علیہ آپ کو قدرو منزلت کی نگاہ سے دیکھتے تھے ۔      

حضرت مولانا عبد الغنی رحمہ اللہ تعالیٰ عبادت وریاضت میں اپنی مثال آپ تھے ۔ اٹھارہ سال کی عمر میں نماز تہجد اور اعتکاف کی ابتدا کی اور باقادعد گی سے ادا کرتے رہے ۔ حتٰی کہ 1955ء میں ٹانگ ٹوٹ جانے سے معذور ہو گئے ۔ عشاء کے بعد جلد ہی سو جاتے اور رات کے بارہ بجے اٹھ کر نوافل  ادا کرتے اور پھر صبح کی نماز تک ذکر با لجہرمیں مصروف رہتے ،۔نبی کریم ﷺ کا ذکر ِخیر کرتے یا سنتے تو بے اختیار آنکھیں اشکبار ہو جاتیں ۔

قیامِ پاکستان کے بعد لاہور تشریف لا کر بادامی باغ میں مقیم ہو گئے۔ پہلے بیگم شاہی مسجد میں خطبہ دیتے رہے ۔پھر 1949ء سے 1956ء تک جامع مسجد شاہ ابو المعالی قدس سرہ میں فی سبیل اللہ خطبہ دیتے رہے ۔ 1956ء میں حرمین شریفین کی حاضری سے مشرف ہوئے اس سفر میں حضرت قبلہ شیخ الحدیث مولانا سردار احمد قدس سرہ کے ہمسفر رہے ۔

وصال:
8 ربیع الثانی1379ھ، مطابق 11 اکتوبر 1959ء بروز اتوار کو وصال ہوا ۔ بادامی باغ ریلوے سٹیشن کے شمال میں ایک گنبد میں آپ کا مزار ہے جہاں ہر سال 11 اکتوبر کو آپ کا عرس ہوتا ہے ۔

ماخذ و مراجع: تذکرہ اکابِر اہل سنت ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-ghani-sabri
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت مولانا جمال الدین فرنگی محلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
حضرت مولانا جمال الدین ۔ لقب: ملک العلماء ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا جمال الدین بن مولانا علاء الدین بن مولانا شیخ انوار الحق ۔ حضرت بحر العلوم لکھنوی کے نواسے تھے ۔ (علیہم الرحمہ) ـ

مولد:
اپنے آبائی مکان فرنگی محل (لکھنؤ) میں پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
اپنے والد ، نانا اورچچا حضرت مولانا نور الحق سے کتبِ درسیہ کی تحصیل کی ۔ آپ اپنے وقت کے جید عالمِ دین تھے ۔ تمام علوم میں بالعموم اور معقولات میں بالخصوص مہارتِ تامہ رکھتے تھے ۔

بیعت و خلافت:
آپ اپنے والد گرامی کے مرید وخلیفہ تھے ۔

سیرت و خصائص:
غیظ المنافقین، مہلک الوہابیین، جامع المعقولات والمنقولات، امام المناطقہ ، رئیس العلماء حضرت علامہ مولانا جمال الدین فرنگی محلی رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ جامع اور باکمال شخصیت کے مالک تھے ۔ ساری زندگی درس وتدریس ، وعظ و نصیحت ، رد بدمذہباں، اور مسلک اہل سنت کی تبلیغ و اشاعت میں مشغول رہے ۔ حصولِ علم کے بعد آپ کرناٹک صوبہ مدراس چلے گئے ۔ یہاں آپ کے والد مدرسہ کلاں میں صدر مدرس تھے ۔ اس سے پہلے آپ کے نامور نانا صدر مدرس تھے ۔

والد کے انتقال 1242ھ کے بعد بھی آپ کر ناٹک میں ہی مقیم رہ کر دینِ متین کو چار چاند لگا دیے ۔ مسلکِ حق کی خوب اشاعت فرمائی ۔ آپ نے ان علاقوں میں ردِّ وہابیت کا مجاہدۂ عظیم انجام دیا ۔

ان علاقوں میں مولوی محمد علی رام پوری خلیفہ سید احمد رائے بریلوی نے پیری مریدی کے دجل و فریب سے بہت سے سادہ لوح قسم کے افراد مرید کر لیے تھے ۔ آپ نے مسئلہ شفاعت پر مولوی محمد علی سے مناظرہ کیا، اس کو شکستِ فاش دی، اور اس کو مجبور کیا کہ تقویۃ الایمان کی قابلِ اعتراض عبارتوں سے اپنی برأت کا اظہار کریں ۔ مولوی محمد علی رام پوری نے مسجد والا جاہی میں بعد نماز جمعہ تحریری برأت نامہ پیش کیا ۔ جو تمام حاضرین کو سنایا گیا ۔ مگر اس مجمل برأت نامے سے آپ مطمئن نہ ہوئے، مولوی محمد علی رام پوری نے دوسرا برأت نامہ پیش کیا ۔ مگر ایک طرف برأت نامہ پیش کیا اور دوسری طرف ایسی تقریریں کرتے جس سے مولوی اسمٰعیل وسید احمد کی تعریف و توصیف بھی ظاہر ہوتی ۔ آپ نے ان کی حرکتوں کے پیش نظر ایک فتویٰ مرتب فرمایا ۔ اور علماء سے دستخط کراکے اس کےقتل کےحکم کا شرعی کا اعلان کردیا۔مولوی محمد علی اس فتوے کے ڈر سے کلکتہ فرار ہوگیا،اور اسطرح یہ علاقہ فتنۂ وہابیہ سے مامون ہو گیا ۔

اس وقت فتنۂ وہابیہ برِّ صغیر میں اپنے پر پرزے نکال رہا تھا، مولانا نے اس فتنے کو ختم کرنے کے لئے بہت کوششیں فرماٖئیں، اور کافی حد تک کامیاب بھی ہوئے ۔ اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر عطاء فرمائے ۔ " نزہۃ الخواطر " کے مصنف صاحب آپ کی ہاتھوں وہابی دھرم کی ذلت اور اپنے بڑوں کی شکست پر بڑے سیخ پا ہوئے، اس سے حضرت کی شان میں توکوئی کمی نہیں ہوئی، البتہ مصنف کو ورق سیاہ کرنے کے علاوہ اور کچھ حاصل نہیں ہوا ۔

وصال:
8 ربیع الثانی 1276ھ، مطابق نومبر 1859ء کو وصال ہوا ۔ آپ کا مزار شریف " آرکاٹ " (ضلع ویلور، انڈیا) میں ہے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہلسنت ۔ نزہۃ الخواطر ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-jamaluddin-farangi-mahalli
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت امام حسن عسکری رضی اللہ عنہ

نام و نسب:
اسم گرامی:
حسن بن علی ۔ کنیت: ابو محمد ۔ القاب: زکی، سراج، خالص، عسکری ۔ امام حسن عسکری سے ہی مشہور ہیں ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت امام حسن عسکری بن امام محمد تقی بن امام محمد نقی بن امام علی رضا بن امام موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن امام زین العابدین بن امام حسین بن امام حسن بن علی المرتضی ۔ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ۔

آپ کی والدہ محترمہ ام وَلد تھیں ۔ والدہ محترمہ کا اسم گرامی سوسن تھا ۔ (خزینۃ الاصفیاء قادریہ: 119 / سفینۃ الاولیاء:45) ـ

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 8 ربیع الثانی 232ھ، مطابق 3 دسمبر 846ء بروز پیر، مدینۃ المنورہ میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
جملہ حالات میں مثل اپنے آبائے کرام رضی اللہ عنہم کے تھے، اللہ تعالیٰ نے طفولیت میں ہی اِن کو ولایت و کرامت و کمال علم و عقل و فہم و فراست عطا فرمادیاتھا۔مراۃ الاسرار میں لکھا ہے کہ وہ علوم لامتنا ہی جو خاندان اہل بیت کو آنحضرت ﷺ سے ملے تھے ہر فرزند عالی مقام پر مسند امام پر بیٹھتے ہی فوراً منکشف ہوجاتےتھے ۔ آپ اپنے وقت کےجید فقیہ اور عظیم محدث تھے ۔ (شریف التواریخ جلد اول:391) ـ

بیعت و خلافت:
آپ آئمہ اہل بیتِ اطہار میں گیارہویں امام اور حضرت امام محمد تقی کے خلیفہ ہیں ۔

سیرت و خصائص:
عارف حقائق اشیائےکمالی، مخصوص بعلوم حضرت رسالت پناہی، جگر گوشۂ مولا علی، حضرت امام حسن عسکری، آپ علوم و اسرار خاندان اہل بیت کے عارف، اور رسول اللہ ﷺ کے علمی و خاندانی وارثِ کامل تھے ۔ خاندانی نجابت کے ساتھ علمی وجاہت میں اپنی مثال آپ تھے ۔ آپ کے چہرے سے تقویٰ و عبادت کا نور عیاں تھا ۔ دیکھنے والا دیکھتے ہی محسوس کر لیتا تھا کہ امام الانبیاء خاتم النبین ﷺ کے عظیم خاندان کا عظیم فرد ہے ۔

بچپن سے ہی اللہ جل شانہ نے آپ کو کمالات و کرامات سے نواز دیا تھا ۔ زمانے کے عام بچوں سے بالکل مختلف تھے ۔ شریف التواریخ میں ہے: کہ زمانہ لڑکپن میں حضرت بہلول دانا نے دیکھا کہ اور لڑکے کھیل رہے ہیں، اور یہ پاس کھڑے رو رہے ہیں، حضرت بہلول نے کہا میاں صاحبزادے! میں تمہیں کھیلنے کی چیز لے کر دے دیتا ہوں تم بھی ان کے ساتھ کھیلو ۔ (حضرت بہلول دانا یہ سمجھے کہ شاید ان کے پاس کھیلنے کی کوئی چیز نہیں ہے اس لئے یہ نہیں کھیل رہے) ۔ حضرت امام حسن عسکری نے فرمایا اے دیوانہ! ہم کھیلنے کے لیے نہیں بلکہ علم و عبادت کے لیے پیدا ہوئے ہیں ۔

حضرت بہلول نے کہا یہ آپ کو کیسے معلوم ہوا ؟ فرمایا: افحسبتم انما خلقنٰکم عبثًا وّانّکم الینا لا ترجعون ۔ (المؤمنون) ـ حضرت بہلول نے نصیحت چاہی، انہوں نے چند اشعار پڑھے، اور بے ہوش ہو کر گِر پڑے، جب افاقہ ہوا، بہلول نے کہا ابھی تو آپ بچے ہیں، کوئی خطا نہیں کی، اِس قدر غم کیوں کرتے ہیں؟ فرمایا میں نے اپنی ماں کو آگ سُلگاتے دیکھا ہے، جب تک چھوٹی لکڑیاں نہیں جلاتیں بڑی لکڑیوں کو آگ نہیں لگتی، اِسی طرح مجھے بھی خوف ہے کہ کہیں جہنم کی چھوٹی لکڑی نہ بنوں ۔ (شریف التواریخ جلد اول:391) ـ

جن کی بچپن میں ایسی تربیت کی گئی ہو، اور پھر جس میں رسول اللہ ﷺ کا نور اور جانشین بھی ہو اس کے کمالات کیا کہنے ۔ آپ سے اس قدر کرامات کا ظہور ہوا کہ احاطۂ تحریر سے باہر ہے ۔ بالخصوص بے انتہاء سخی تھے ۔

اللہ جل شانہ نے اپنے حبیب پاک ﷺ کو فرمایا ہے: واما السائل فلا تنھر ۔ کہ کسی سائل کو خالی نہ لوٹانا، تیرے رب کے خزانے تمھاری ملکیت ہیں، جس کو جتنا چاہو عطاء کر دو ۔ حضرت امام حسن عسکری اپنے جد اعلیٰ کی سخاوت کا کامل نمونہ تھے ۔ جو سائل آیا کبھی خالی نہ بھیجا ۔

محمد بن علی ابراہیم بن موسیٰ جعفر فرماتے ہیں: کہ ایک دفعہ معیشت بڑی مشکل ہو گئی ۔ میرے باپ نے مجھے کہا کہ آؤ حضرت حسن بن علی کے پاس چلیں ۔ وہ کرم و سخا میں بڑے مشہور ہیں ۔ وُہ گھر سے نکل کر حضرت کے انتظار میں راستے میں کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا: اگر امام مجھے پانچ سو درہم دے دیں تو دو سو روپے کے کپڑے بنالوں گا ۔ ایک سو کا آٹا خرید لُوں گا ۔ ایک سو روپیہ سے متفرق اشیاء خرید لوں گا ۔ ایک سو روپیہ سے خچر خرید کر کوہستان کے علاقہ میں چلا جاؤں گا ۔
2
امام صاحب کے آنے میں کچھ دیر ہُوئی تو خود ہی امام کے دروازے پر جا پہنچے اور کسی سے گفتگو کیے بغیر دروازے کے سامنے کھڑے ہو گئے ۔ اسی اثنا میں آپ کا ایک خادم باہر آیا اور کہنے لگا علی ابن ابراہیم اور ان کے صاحبزادے اگر باہر ہوں تو اندر آجائیں ۔ ہم اندر گئے اور سلام کیا ۔ آپ نے بوچھا: علی! بتاؤ تمہیں کس چیز کی ضرورت ہے اور اتنی مدت ہوئی تمہیں ہمارے پاس آنے کو کون سی چیز مانع تھی ۔ میں نے بتایا کہ سیّد سے شرم آتی تھی کہ اس تنگ دستی میں آپ کے پاس آتا ۔ ملاقات کے بعد ہم اٹھے اور باہر نکلے ہی تھے کہ آپ کا ایک خادم پیچھے سے آیا اور پانچ سو روپیہ کی تھیلی ہمیں دے کر کہا ۔ دو سو کے کپڑے بنا لینا ۔ ایک سو کا آٹا، ایک سو کے مختلف اخراجات اور ایک سو کا خچر خرید لینا تاکہ کوہستان جانے میں آسانی ہو ۔ لیکن حضرت امام نے فرمایا کہ کوہستان نہ جانا بلکہ فلاں جگہ جانا تاکہ وہاں زیادہ فائدہ ہو ۔ میں حضرت کے حکم کے مطابق وہاں ہی گیا ۔ ( خزینۃ الاصفیاء قادریہ: 119) ـ

ایک شخص نے بتایا کہ میں خلفائے عباسیہ کے زمانے میں ناحق قید میں پڑا تھا ۔ میں قید و بند کی صعوبتوں سے تنگ آ گیا ۔ میں نے ناچار ہو کر حضرت امام کے پاس شکایت لکھی ۔ میں نے چاہا کہ اپنی تنگ دستی کی داستان بھی لکھوں لیکن مجھے شرم آئی اور میں نے نہ لکھا ۔ آپ نے میرے جواب میں تحریر کیا آج تم ظہر کی نماز اپنے گھر پڑھو گے ۔ چنانچہ ظہر سے پہلے ہی مجھے قید خانے سے رہا کر دیا گیا ۔ میں گھر گیا، نماز پڑھی ہی تھی کہ مجھے حضرت امام کا ایک خادم آتا دکھائی دیا ۔ میں استقبال کے لئے آگے بڑھا ۔ اس نے مجھے ایک تھیلی اور رقعہ دیا ۔ اس میں لکھا تھا کہ تم نے شرماتے ہوئے مجھے کچھ نہ لکھا ۔ یہ روپے لے لو، خرچ کرو اور پھر ضرورت ہو تو لکھنا ۔ (سفینۃ الاولیاء:46) ـ

ایک شخص نے اپنا واقعہ اس طرح بیان کیا ہے کہ میں نے حضرت امام کی خدمت میں ایک خط لکھا اور پوچھا: ’’ مشکٰوۃ ‘‘ کے معنی کیا ہیں؟ میری بیوی حاملہ تھی ۔ میں نے التجائے دُعا کی اور ہونے والے بچّے کا نام بھی دریافت کیا ۔ آپ نے میرے خط کے جواب میں تحریر کیا کہ مشکٰوۃ قلبِ رسول پاک ﷺ ہے لیکن میرے بیٹے یا بیوی کے متعلق کُچھ نہ لکھا سوائے اس عبارت کے جو رقعہ کے آخر میں لکھی تھی اعظم اللہ اجرک واخلف علیک ۔ چنانچہ میری بیوی کے ہاں مُردہ بچّہ پیدا ہُوا ۔ اس کے بعد دوسری بار حاملہ ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے بچّہ دیا ۔ (خزینۃ الاصفیاء قادریہ:121) ـ

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال بروز جمعۃ المبارک 8 ربیع الاول 260ھ / مطابق 29 دسمبر 873ء کو حاکمِ بغداد کے اشارے سے معاندین اہل بیت نے کھانے میں زہر دے دیا اور اسی سے آپ کی شہادت ہوئی ۔ (خزینۃ الاصفیاء ص:122) ۔

جس دن آپ کا انتقال ہوا تمام سامرہ میں ہل چل پڑ گئی، شور برپا ہوا، غم میں دکانیں بند ہو گئیں، اور سب خاص و عام جنازے میں شریک ہوئے۔سرمن رائے المعروف سامرہ (عراق) میں اپنے والدِ بزرگ وار حضرت امام علی نقی کے پہلو میں دفن ہوئے ۔

ماخذ و مراجع:
خزینۃ الاصفیاء قادریہ ۔ بارہ امام ۔ سفینۃ الاولیاء ۔ شریف التواریخ جلد اول ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syeduna-imam-hassan-askari
3👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
Forwarded from چینل صدائے حق
*جو ولی قبل ہوئے بعد ہوئے یا ہوں گے*
امام اہلسنت رضی اللہ عنہ

*قبل سے مراد*
سیدنا امام حسن عسکری رضی اللہ عنہ سے سیدنا غوث اعظم تک
*"بعد ہوئے" سے مراد*
سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ کے زمانہ یا آپ ظاہری زمانے کے بعد تشریف لانے والے اولیائے کرام
*یا ہوں گے" سے مراد*
سیدنا امام مہدی رضی اللہ عنہ تک
*خلاصہ کلام*
سیدنا امام حسن عسکری رضی اللہ عنہ اور سیدنا امام مہدی رضی اللہ عنہ کے درمیان جتنے اولیائے کرام تشریف لائے سرکار غوث اعظم رضی اللہ عنہ سب سے افضل و اعلی ہیں

لہذا جان لیجیے کہ سیدنا بدیع الدین رضی اللہ عنہ بھی فرمان سرکار غوث اعظم رضی اللہ عنہ "قدمی ھذہ" کے تحت آتے ہیں
📝حسن نوری گونڈوی امام نورانی مسجد بیگم باغ کالونی اجین ایم پی
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
07-04-1445 ᴴ | 23-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
08-04-1445 ᴴ | 24-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1