🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
06-04-1445 ᴴ | 22-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
06-04-1445 ᴴ | 22-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت خواجہ غلام فرید رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
حضرت خواجہ غلام فرید ۔ القاب: ملک الشعراء، فردِ فرید، قادر الکلام، شاعرِ ہفت زبان ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
قدوۃ العاشقین حضرت خواجہ غلام فرید بن حضرت خواجہ خدا بخش بن حضرت خواجہ احمد علی بن حضرت قاضی محمد عاقل (خلیفہ حضرت قبلہ عالم مہاروی) بن مخدوم محمد شریف بن مخدوم یعقوب بن مخدوم نور محمد ۔ آپ کا سلسلۂ نسب خلیفۂ ثانی حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے ۔ (علیہم الرحمہ) ـ

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز منگل 26 ذیقعدہ 1261ھ، مطابق 25 نومبر 1845ء کو " چاچڑاں شریف " میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
آپ نے آٹھ سال کی عمر میں قرآن کریم حفظ کیا اسی دوران آپ کے والد ماجد کا وصال ہو گیا ۔ ظاہری و باطنی علوم و معارف اپنے بڑے بھائی حضرت خواجہ فخر جہاں غلام فخر الدین رحمہ اللہ تعالیٰ اور دیگر جید علماء سے حاصل کئے اور مرتبۂ کمال کو پہنچے ۔

بیعت و خلافت:
آپ اپنے برادرِ اکبر حضرت خواجہ فخر جہاں قدس سرہ سے بیعت ہوئے، اور ان کے وصال کے بعد سجادہ نشین منتخب ہوئے ۔

سیرت و خصائص:
ملک الشعراء، فردِ فرید، قادر الکلام، شاعرِ ہفت زبان، غزالیِ گلستانِ الوہیت، رازیِ گلشنِ نبوت، بحرِ معرفت و شریعت، قدوۃ العاشقین، زبدۃ العارفین، رئیس الموحدین حضرت خواجہ غلام فرید چشتی نظامی فاروقی رحمۃ اللہ علیہ ۔

حضرت خواجہ صاحب ایک ہمہ جہت اور عبقری شخصیت کے مالک تھے ۔ ایسی شخصیات صدیوں بعد پیدا ہوتی ہیں ۔ خواجہ صاحب کے وصال کے بعد اس خطے میں ایسی نامور، جامع اور مؤثر شخصیت پیدا نہیں ہوئی ہے ۔ خواجہ صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ سرائیکی زبان کے ملک الشعراء تھے ۔ آپ کے وجد آفریں کلام میں بلا کا سوز ہے ۔ آپ کی کافیاں آج بھی اثر آفرینی میں جواب نہیں رکھتیں ۔ عوام و خواص کے لئے کیف و سرور کا خزینہ اور عشق و عرفان کا سر چشمہ ہیں ۔

اسی لئے ڈاکٹر اقبال نے کہا تھا:
" جس قوم میں خواجہ فرید اور اس کی شاعری موجود ہے، اس قوم میں عشق و محبت کا موجود نہ ہونا تعجب انگیز ہے " ۔ چونکہ آپ مسئلہ وحدۃ الوجود کے بہت بڑے حامی تھے، اس لئے آپ کے کلام میں اس مسئلہ کی نمایاں ترجمانی پائی جاتی ہے ۔ آپ نے اردو ، فارسی ، سندھی ، اور سرائیکی وغیرہ زبانوں اظہار خیال کیا ہے ۔ آپ کے مطبوعہ دیوان کے مطالعہ سے قدرتِ بیان، جودتِ طبع اور بلندی ِتخیل کا پتہ چلتا ہے ۔ آپ شریعت مطہرہ اور سنت مبارکہ پر سختی سے کار بند تھے اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرتے تھے، رسوم بد کو ختم کرنے کے لئے ہمیشہ کوشاں رہتے ۔ اپنے زمانہ کی عورتوں اور مردوں کے نا زیبا افعال پر سخت نا پسندید گی کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

" عورتیں غیر مردوں کے سامنے اوڑھنی کندھے پر ڈال کر جلوہ گر ہوتی ہیں اور اسے باعثِ فخر سمجھتی ہیں، شادی بیاہ کے موقع پر بہت سی بُری رسمیں پیدا ہو گئی ہیں مثلاً مرد عورتیں حلقہ باندھ کر رقص کرتے ہیں، تالیاں بجاتے ہیں، اور حلقہ کے درمیان نقارہ بجاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ اور کئی ممنوع اور مہلک امور کا ارتکاب کیا جاتا ہے ۔ ناہنجار کافروں کے کاموں کو مسلمانوں نے اپنا رکھا ہے اگر انہیں منع کیا جائے تو کہتے ہیں جس کام پر ہمارے باپ دادا تھے ہمیں وہی کافی ہے"۔

جود و سخا کی کوئی انتہا نہ تھی، دور و نزدیک کے کثیر التعداد غرباء و مساکین کے وظیفے مقرر کر رکھے تھے ۔ بہت سے یتیم اور بیوہ عورتیں آپ کے زیر سایہ خوشحالی سے زندگی گزارتے، کبھی سائل کو خالی ہاتھ واپس نہ کرتے ۔ آپ نے سجادۂ فقر پر فائز ہونے کے باوجود علوم باطنی کے علاوہ علومِ ظاہری کا درس بھی جاری رکھا، خاص طور پر حدیث شریف اور تصوف کی کتب کا درس ہمیشہ جاری رہتا ۔ بڑے بڑے علماء حاضر ِخدمت رہتے لیکن جب آپ کسی مسئلہ پر اظہار خیال فرماتے اور تائید میں عقلی نقلی دلائل کے انبار لگاتے تو انہیں اپنی کم مائیگی کا اعتراف کرنا پڑتا ۔ آپ کے تبحرِ علمی کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے کہ مولانا محمد شاکر ڈیروی صاحب علیہ الرحمہ اپنے وقت کے جلیل القدر عالم اور مدرس تھے، انھیں بھی خواجہ صاحب سے اکتسابِ علم کا موقع ملا ۔ ایک دن کسی دوست نے پوچھا مولانا! اب تک کتنا علم حاصل کیا؟ مولانا کہنے لگے: جس وقت حضرت نے " لا الہ الا للہ " کی تشریح فرمائی، تو میں نے اپنے آپ کو طفلِ مکتب سمجھا، اور ابھی اسی کلمۂ پاک کی توضیح ختم نہیں ہوئی ۔ (انسائیکلوپیڈیا ، ج:4، ص:233) ـ
2
شوال 1302ھ / 1885ءمیں جب مولانا غلام دستگیر قصوری علیہ الرحمہ نے " براہین قاطعہ " کی بعض عبارات پر گرفت کی اور مولوی خلیل احمد انبیٹھوی سے ان عبارات پر مناظرہ کیا تو اس مجلس کے جج نواب آف بہاول پور نواب محمد صادق عباسی کے پیر و مرشد حضرت خواجہ صاحب ہی تھے ۔ آپ نے فیصلہ دیا تھا کہ " متنازعہ فیہا عبارات وہابیت  کی ترجمانی کرتی ہیں اور مسلکِ اہلِ سنت کے خلاف ہیں " ۔ آپ کے فیصلے کی بناء پر مولوی انبیٹھوی کو گستاخانہ عبارات کی وجہ سے ریاست بہاولپور نکال دیا گیا تھا ۔ (تقدیس الوکیل) ـ

حضرت خواجہ صاحب قدس سرہ کے مریدین و معتقد ین کا حلقہ بہت وسیع تھا۔ عوام و خواص آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر مستفیض ہوتے ۔ بڑے بڑے نواب و امراء آپ کی نسبت ارادت اور خدمت کواپنے لئے باعثِ فخر سمجھتے ۔آپ کے درس ِتوحید و ہدایت سے ہزاروں بلکہ لاکھوں افراد مستفید ہوئے اور متعدد حضرات منازل سلوک طے کر کے صاحبِ کمال ہوئے ۔ خلافت عطا کرنے میں بڑی احتیاط سے کام لیتے ، فرماتے تھے :جب تک کل منازلِ سلوک طے نہ ہو جائیں شیخ کو لازم ہے کہ مرید کو خرقہ ٔخلافت نہ دے ۔

حضرت خواجہ صاحب کو سرکارِ دو عالم ﷺ سے والہانہ محبت تھی، بلکہ آپ " فنافی الرسول ﷺ " کے مقام پر فائز تھے ۔ آپ نے اپنے کلام میں اس کا جا بجا اظہار فرمایا ہے ۔ آپ فرماتے ہیں:

میڈا عشق وی توں میڈایار وی توں
میڈا جسم وی توں، میڈی روح وی توں
میڈے فرض فریضے حج زکوٰتاں
میڈا زہد عبادت طاعت تقویٰ

میڈا دین وی توں ایمان وی توں
میڈا قلب وی توں، جند جان وی توں
صوم صلوٰۃ آذان وی توں
علم وی توں عرفان وی توں

وصال:
آپ کا وصال 7 ربیع الثانی 1319ھ، مطابق جولائی 1901ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار " کوٹ مٹھن شریف " (ڈیرہ غازی خان ڈویژن) میں مرجعِ خلائقِ ہے ۔

وقتِ وصال کلمہ طیبہ
سے پہلے یہ رباعی پڑھتے رہے:

گزریا وقت ہَسَن کھِلن دا
اوکھا پینڈا یار ملن دا

آیا وقت فرید چلن دا
ہن جان لباں تے آئی اے

ماخذ و مراجع:
خواجہ غلام فرید ۔ تذکرہ اکابرِ اہلسنت ۔ انسائیکلو پیڈیا اولیائے کرام ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-ghulam-farid-farooqi-chishti
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت سیدنا امام مالک بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت سیِّدُنا حافظ ابو عمر بن عبد البَر علیہ رحمۃ اللہ الاکبر نے اپنی کتاب " الاَ نْسَاب " میں تحریر فرمایا ہے کہ حضرت سیِّدُنا امام مالک بن اَنَس بن ابی عامر اَصْبَحِیْ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینۃ الرسول عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے امام ہیں ۔

یہیں سے حق ظاہر اور غالب ہوا ۔ یہیں سے دین کی ابتدا ہوئی اور اسے شہرت ملی ۔ یہیں سے شہر فتح کئے گئے اور مسلسل مدد ملی ۔ امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو " عالِمِ مدینہ " کہا جاتا ہے ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے علم کی شہرت ہر طرف پھیلی اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اکتسابِ علم کے لئے لوگوں نے دور دراز کے سفر طے کئے ۔ (سیر اعلام النبلاء، الرقم۱۱۸0، مالک الامام، ج۷، ص۳۸۸، مفھوماً) ـ

فتاویٰ نویسی:
حضرت سیِّدُنا امام مالک بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سترہ (17) برس کی عمر میں تدریسِ علم کی مسند پر تشریف فرما ہوئے ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اساتذہ بھی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس مسائل کے حل کے لئے آتے تھے ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تقریباً نوے (90) سال کی عمر پائی اور ستر سال تک فتویٰ نویسی فرمائی اور لوگوں کو علم سکھاتے رہے ۔


جلیلُ القدر تابعینِ کرام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فقہ اور حدیث کا علم حاصل کرتے رہے ۔ مشہور ائمۂ حدیث اور علماء کرام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے احادیث روایت کیں ۔ جن میں سے چند کے نام یہ ہیں:

(۱) امامُ السنہ حضرت سیِّدُنا محمد بن شہاب زُہری
(۲) فقیہہ اہلِ مدینہ، حضرت سیِّدُناربیعہ بن عبدالرحمن
(۳) حضرت سیِّدُنایحیی بن سعید انصاری اور
(۴) حضرت سیِّدُنا موسیٰ بن عقبہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ۔

یہ تمام آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اساتذہ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام ہیں اور ان سب نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے احادیث روایت کیں ۔ (سیر اعلام النبلاء، الرقم ۱۱۸0، مالک الامام، ج۷، ص۳۸۵، مفصلًا) ـ

عالِمِ مدینہ کون ہيں؟
تابعین و تبع تابعین علیہم ر حمۃاللہ المبین فرماتے ہیں کہ امام مالک علیہ رحمۃ اللہ الرازق وہ عالم ہیں جن کی بشارت حضور سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن، جنابِ رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے دی تھی ۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی علیہ رحمۃ اللہ القوی اپنی کتاب " جَامِعِ تِرْمِذِی " میں حدیث شریف نقل فرماتے ہیں: " علم منقطع ہو جائے گا تو عالِمِ مدینہ سے زیادہ علم والا باقی نہ رہے گا ۔ (جامع الترمذی، ابواب العلم، باب ماجاء فی عالم المدینۃ، الحدیث ۲۶۸0، ص۱۹۲۲، مختصرًا) ـ

دوسری حدیثِ پاک میں ہے:
" دُنیا میں اس (عالِمِ مدینہ) سے بڑھ کر کوئی عالم نہ ہوگا، لوگ اس کی طرف سفر کر کے آئیں گے ۔ (ترتیب المدارک و تقریب المسالک، الفصل الاول فی ترجیحہ من طریق النقل، ج۱، ص۱۸) ـ

ایک حدیثِ پاک میں یوں ہے:
" عنقریب لوگ (علم کے لئے) سفر کریں گے تو عالِمِ مدینہ سے زیادہ علم والا کوئی نہ پائیں گے ۔ (المستدرک ،کتاب العلم، باب یوشک الناس ۔۔۔۔۔۔ الخ ، الحدیث ۳۱۴ ، ج۱، ص ۲۸0) ـ

حضرت سیِّدُنا ابنِ عُیَیْنَہ رحمۃ اللہ تعالیٰ عليہ فرماتے ہیں: " محدثینِ کرام کے نزدیک " عالمِ مدینہ " سے مراد حضرت سیِّدُنا امام مالک بن اَنَس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں ۔ (التمھید لابن عبد البر، زیدبن رباح، تحت الحدیث۱۲۲، ج۲، ص۶۷۴) ـ

حضرت سیِّدُنا عبد الرزّاق رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: " ہماری رائے یہ ہے کہ حضرت سیِّدُنا امام مالک بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے علاوہ کوئی بھی " عالمِ مدینہ " کے نام سے معروف نہیں ۔ لوگوں نے حصولِ علم کے لئے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف جتنا سفر کیا اتنا کسی کی طرف نہیں کیا ۔ " آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا: " میں افتاء اور حدیث کے لئے اس وقت تک مسند نشین نہ ہوا جب تک کہ ستر (70) علماءِ کرام ومشائخِ عظام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے میری اہلیت کی گواہی نہ دے دی ۔ (ترتیب المدارک و تقریب المسالک، باب فی ابتداء ظھورہ فی العلم وقعودہ للفتوی والتعلیم، ج۱، ص۳۴) ـ
2
حضرت سیِّدُنا حماد بن زید علیہ رحمۃ اللہ الواحد کی خدمت میں ایک شخص کوئی مسئلہ پوچھنے آیا جس میں لوگوں کا اختلاف تھا تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: " اے بھائی! اگر تو اپنے دین کی سلامتی چاہتا ہے تو عالِمِ مدینہ سے پوچھ اور ان کی بات توجہ سے سن کیونکہ وہ حجت (یعنی دلیل ) ہیں اور لوگوں کے امام ہیں ۔ (المرجع السابق، ص۳۷) ـ

حضرت سیِّدُنا حماد بن سلمہ علیہ رحمۃ اللہ ارشاد فرماتے ہیں: " اگر مجھے کہا جائے کہ امتِ محمدیہ عَلٰی صَاحِبِھَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے لئے کوئی امام اختیار کرو جس سے لوگ علمِ دین حاصل کریں تو میں حضرت سیِّدُنا امام مالک بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کواس کا حق دار اور اہل سمجھتا ہوں ۔ اور میری یہ رائے امت کی بہتری کے لئے ہے ۔ (المرجع السابق، ص۳۶) ـ

حضرت سیِّدُنا لیث بن سعد علیہ رحمۃ اللہ الاحد فرماتے ہیں: " حضرت سیِّدُنا امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا علم پرہیز گاری کا علم ہے اور اس کے لئے حفظ و امان کا باعث ہے جو اسے حاصل کرے ۔ (ترتیب المدارک وتقریب المسالک، باب شھادۃ السلف الصالح واھل العلم لہ بالامامۃ فی العلم، ج ۱، ص۳۶) ـ

حضرت سیِّدُنا عبد الرحمن بن قاسم رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرمایا کرتے تھے: " میں اپنے دین میں دو آدمیوں کی پیروی کرتا ہوں: عمل میں حضرت سیِّدُنا امام مالک بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اور تقویٰ میں حضرت سیِّدُنا سلیمان بن قاسم رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی ۔ " (حلیۃ الاولیاء، مالک بن انس، الحدیث۸۸۷۸، ج۶، ص۳۵0) ـ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-malik-bin-anas
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2