حضرت مولانا شاہ شہود الحق اصدقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
حضرت مولانا سید شاہ قیام الدین اصدق قدس سرہٗ کے بڑے صاحبزادے، شہود الحق نام نامی زہد و تقویٰ، فقر و توکل میں والد کے نمونہ، عالم متجر ، مجود، و قاری ـ
بیعت و خلافت:
والد ماجد کے مرید ہوئے شب سہ شنبہ ۲۷ صفر المظفر ۱۲۹۵ھ میں والد ماجد سے خلافت پائی اور سجادہ نشین ہوئے ـ
نکاح:
شادی نہیں کی، یوم شنبہ 6 ربیع الثانی ۱۳۳۱ھ میں راہئ عالم جادداں ہوئے، قطعۂ تاریخ وفات یہ ہے ـ
جانشین شہ قیام اصدق
بود آں باصفا شہود الحق
گفت تاریخ رحلتش ہاتف
بود سر خدا شہود الحق
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-shahood-ul-haq-asdaqi
حضرت مولانا سید شاہ قیام الدین اصدق قدس سرہٗ کے بڑے صاحبزادے، شہود الحق نام نامی زہد و تقویٰ، فقر و توکل میں والد کے نمونہ، عالم متجر ، مجود، و قاری ـ
بیعت و خلافت:
والد ماجد کے مرید ہوئے شب سہ شنبہ ۲۷ صفر المظفر ۱۲۹۵ھ میں والد ماجد سے خلافت پائی اور سجادہ نشین ہوئے ـ
نکاح:
شادی نہیں کی، یوم شنبہ 6 ربیع الثانی ۱۳۳۱ھ میں راہئ عالم جادداں ہوئے، قطعۂ تاریخ وفات یہ ہے ـ
جانشین شہ قیام اصدق
بود آں باصفا شہود الحق
گفت تاریخ رحلتش ہاتف
بود سر خدا شہود الحق
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-shahood-ul-haq-asdaqi
scholars.pk
Hazrat Molana Shah Shahood-ul-Haq Asdaqi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
فقیہِ اعظم ، خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، حضرت مولانا محمد شریف کوٹلوی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: محمد شریف ۔ کنیت: ابو یوسف ۔ لقب: فقیہِ اعظم ـ یہ لقب آپ کو اعلیٰ حضرت امامِ اہل سنت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عطا کیا ۔
والد کا اسمِ گرامی:
حضرت مولانا عبد الرحمن نقشبندی علیہ الرحمہ ، جو کہ ایک متبحر عالمِ دین تھے ۔ ان کے علم و فضل کا شہرہ پورے ہندوستان میں تھا ۔ اسی طرح ان کی اہلیہ محترمہ بھی ایک عابدہ زاہدہ خاتون تھیں ۔
سنِ ولادت:
1861 کو کوٹلی لوہاراں غربی " ضلع (سیالکوٹ، پنجاب، پاکستان) میں مولانا عبد الرحمن کے گھر پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم سے لے کر منتہی درجوں تک کی تعلیم اپنے والدِ گرامی سے حاصل کی، اسی طرح علمِ مناظرہ کی باریکیاں بھی اپنے والدِ گرامی سے بچپن میں ہی سیکھ لیں تھیں ۔ والد صاحب کے انتقال کے بعد مزید علم کی تحصیل کے لئے لاہور میں " دار العلوم انجمن نعمانیہ " میں داخلہ لیا ۔
حضرت فقیہِ اعظم علیہ الرحمہ زمانۂ طالب علمی سے ہی باجماعت نماز اور تہجد کے پابند تھے، اور یہ سلسلہ آخری دن تک جاری رہا ۔ آپ اپنے اسباق کے علاوہ دیگر کتب کا مطالعہ کثرت سے کرتے تھے ۔ ہر وقت مطالعہ اور تحریر میں مصروف رہتے تھے ۔
ایک روایت کے مطابق حضرت فقیہِ اعظم کو پچاس ہزار مستند احادیث یاد تھیں ۔ اس لحاظ سے آپ " فقیہِ اعظم " کے ساتھ " محدثِ اعظم " بھی تھے ۔
بیعت و خلافت:
آپ حضرت خواجہ حافظ عبد الکریم نقشبندی قدس سرہ کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے اور خلافت سے مشرف ہوئے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ سے بھی اجازت و خلافت حاصل تھی ۔
سیرت و خصائص:
سنیت و حنفیت کے بطلِ جلیل، جامع علومِ نقلیہ و عقلیہ، عارف باللہ، عاشقِ مصطفیٰ ﷺ، فقیہِ اعظم، محبوب امامِ اعظم، خلیفۂ اعلیٰ حضرت حضرت علامہ مولانا ابو یوسف محمد شریف کوٹلوی نقشبندی قادری رضوی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ کی علمی ثقاہت و فقاہت کے امامِ اہل سنت اعلیٰ حضرت، حضرت صدر الشریعہ، اور حضرت صدر الافاضل علیہم الرحمہ معترف تھے ۔ آپ نے " حنفیت " کے لئے بے بہا خدمات پیش کی ہیں ۔ امرتسر سے " ماہنامہ اہل حدیث " کے جواب میں " الفقیہ " جاری کیا ۔ جس میں حضرت امامِ اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مذہب کا دفاع کیا، اور غیر مقلدین کو دلائل سے لاجواب کیا ۔
یہاں تک کہ مولوی ثناء اللہ امرتسری جیسا غیر انصاف پسند شخص بھی آپ کی " فقاہت و علمی جلالت " کا معترف ہوا ۔ حضرت فقیہِ اعظم علیہ الرحمہ کی ذاتِ گرامی ہر قسم کے تصنع ، تفاخر ، تکلفات سے پاک اور علم و حلم و تواضع، سادگی اور اخلاقِ حسنہ سے آراستہ تھی ۔ آپ بہت بڑے مناظر تھے، لیکن آپ نے اپنے مخالفین کو کبھی گالیاں اور برے القابات نہیں دئیے ۔ آپ کو تقریر و وعظ پر بڑی مہارت حاصل تھی ۔ پورے ہندوستان میں تقریر کے لئے تشریف لے جاتے تھے ۔
نام و نسب:
اسمِ گرامی: محمد شریف ۔ کنیت: ابو یوسف ۔ لقب: فقیہِ اعظم ـ یہ لقب آپ کو اعلیٰ حضرت امامِ اہل سنت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عطا کیا ۔
والد کا اسمِ گرامی:
حضرت مولانا عبد الرحمن نقشبندی علیہ الرحمہ ، جو کہ ایک متبحر عالمِ دین تھے ۔ ان کے علم و فضل کا شہرہ پورے ہندوستان میں تھا ۔ اسی طرح ان کی اہلیہ محترمہ بھی ایک عابدہ زاہدہ خاتون تھیں ۔
سنِ ولادت:
1861 کو کوٹلی لوہاراں غربی " ضلع (سیالکوٹ، پنجاب، پاکستان) میں مولانا عبد الرحمن کے گھر پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم سے لے کر منتہی درجوں تک کی تعلیم اپنے والدِ گرامی سے حاصل کی، اسی طرح علمِ مناظرہ کی باریکیاں بھی اپنے والدِ گرامی سے بچپن میں ہی سیکھ لیں تھیں ۔ والد صاحب کے انتقال کے بعد مزید علم کی تحصیل کے لئے لاہور میں " دار العلوم انجمن نعمانیہ " میں داخلہ لیا ۔
حضرت فقیہِ اعظم علیہ الرحمہ زمانۂ طالب علمی سے ہی باجماعت نماز اور تہجد کے پابند تھے، اور یہ سلسلہ آخری دن تک جاری رہا ۔ آپ اپنے اسباق کے علاوہ دیگر کتب کا مطالعہ کثرت سے کرتے تھے ۔ ہر وقت مطالعہ اور تحریر میں مصروف رہتے تھے ۔
ایک روایت کے مطابق حضرت فقیہِ اعظم کو پچاس ہزار مستند احادیث یاد تھیں ۔ اس لحاظ سے آپ " فقیہِ اعظم " کے ساتھ " محدثِ اعظم " بھی تھے ۔
بیعت و خلافت:
آپ حضرت خواجہ حافظ عبد الکریم نقشبندی قدس سرہ کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے اور خلافت سے مشرف ہوئے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ سے بھی اجازت و خلافت حاصل تھی ۔
سیرت و خصائص:
سنیت و حنفیت کے بطلِ جلیل، جامع علومِ نقلیہ و عقلیہ، عارف باللہ، عاشقِ مصطفیٰ ﷺ، فقیہِ اعظم، محبوب امامِ اعظم، خلیفۂ اعلیٰ حضرت حضرت علامہ مولانا ابو یوسف محمد شریف کوٹلوی نقشبندی قادری رضوی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ کی علمی ثقاہت و فقاہت کے امامِ اہل سنت اعلیٰ حضرت، حضرت صدر الشریعہ، اور حضرت صدر الافاضل علیہم الرحمہ معترف تھے ۔ آپ نے " حنفیت " کے لئے بے بہا خدمات پیش کی ہیں ۔ امرتسر سے " ماہنامہ اہل حدیث " کے جواب میں " الفقیہ " جاری کیا ۔ جس میں حضرت امامِ اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مذہب کا دفاع کیا، اور غیر مقلدین کو دلائل سے لاجواب کیا ۔
یہاں تک کہ مولوی ثناء اللہ امرتسری جیسا غیر انصاف پسند شخص بھی آپ کی " فقاہت و علمی جلالت " کا معترف ہوا ۔ حضرت فقیہِ اعظم علیہ الرحمہ کی ذاتِ گرامی ہر قسم کے تصنع ، تفاخر ، تکلفات سے پاک اور علم و حلم و تواضع، سادگی اور اخلاقِ حسنہ سے آراستہ تھی ۔ آپ بہت بڑے مناظر تھے، لیکن آپ نے اپنے مخالفین کو کبھی گالیاں اور برے القابات نہیں دئیے ۔ آپ کو تقریر و وعظ پر بڑی مہارت حاصل تھی ۔ پورے ہندوستان میں تقریر کے لئے تشریف لے جاتے تھے ۔
❤2
حضرت فقیہِ اعظم علیہ الرحمہ نے جہاں بدمذہبوں کا رد کیا ہے وہاں اہلِ سنت کو بھی خوابِ غفلت سے بیدار کرنے کی کوشش کی ہے ۔ آپ " اربعینِ حنفیہ " کے تعارف میں لکھتے ہیں: " ہمارے لوگ بہت سست ہو چکے ہیں ۔ دوسرے لوگ دن بدن ترقی کر رہے ہیں اور ہم تنزلی کی طرف جا رہے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے لوگوں کو اپنے مذہب کے بارے میں علم نہیں ہے ، اور نہ ہی یہ علماء اہلسنت کی کتب خریدتے ہیں، اور نہ رسائل و جرائد کے خریدار بنتے ہیں ۔ پھر جب کوئی بدمذہب ان پر کوئی اشکال وارد کرتا ہے تو یہ اپنی لاعلمی کی وجہ سے اس کے شبہ میں پھنس جاتے ہیں ۔ ہمارے سیٹھ حضرات رات دن دنیا کے نشے میں مست ہیں ۔ غیر ضروری اور فضول کاموں پر لاکھوں روپے خرچ کر دیں گے، لیکن اشاعتِ اسلام، اور دینی اداروں پر ایک پیسہ خرچ کرنا بھی فضول سمجھیں گے ۔ ہمارے سجادہ نشین حضرات کو تو خبر ہی نہیں ہے کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے ۔ کاش یہ حضرات دینی مدارس قائم کر دیں تو ان سے ہر سال علمائے کرام کی ایک منظم جماعت تیار ہو سکتی ہے ۔ مگر افسوس! کہ اس طرف کسی کی توجہ نہیں ہے " ۔
تحریک پاکستان میں فقیہ اعظم علامہ ابو یوسف محمد شریف محدث کوٹلی علیہ الرحمہ کا کردار روز روشن کی طرح واضح ہے ۔ آپ نے تحریک آزادی اور تحریک پاکستان کے حق میں جگہ جگہ پر جوش تقریریں کرکے مسلمانانِ ہند کو پاکستان اور مسلم لیگ کے حق میں بیدار اور منظم کیا ۔ تحریک پاکستان کے آخری دور میں حضرت فقیہ اعظم علیہ الرحمۃ نے مولانا فقیر اللہ نیازی، مولانا محمد یوسف سیالکوٹی، مولانا عبد العزیز ہاشمی، مولانا محمد امام الدین قادری، مولانا محمد نور الحسن سیالکوٹی اور سیّد فتح علی شاہ قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے ہمراہ متحدہ پنجاب کے تقریباً تمام اضلاع کا دورہ کیا اور مسلمانوں کے سامنے ہندو اور انگریزوں دونوں کے سامراجی عزائم کو بے نقاب کیا اور مسلم لیگ کی حمایت پر زور دیا ۔
وصال:
آپ کا وصال بروز پیر 7 ربیع الثانی 1370ھ، مطابق 15 جنوری 1951ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار " کوٹلی لوہاراں غربی " ضلع سیالکوٹ پنجاب پاکستان میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ فقیہِ اعظم ۔ تذکرہ اکابرِ اہلسنت ۔ تحریکِ پاکستان میں خلفائے اعلیٰ حضرت کا کردار ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/faqih-e-azam-molana-muhammad-sharif-kotli-loharan
تحریک پاکستان میں فقیہ اعظم علامہ ابو یوسف محمد شریف محدث کوٹلی علیہ الرحمہ کا کردار روز روشن کی طرح واضح ہے ۔ آپ نے تحریک آزادی اور تحریک پاکستان کے حق میں جگہ جگہ پر جوش تقریریں کرکے مسلمانانِ ہند کو پاکستان اور مسلم لیگ کے حق میں بیدار اور منظم کیا ۔ تحریک پاکستان کے آخری دور میں حضرت فقیہ اعظم علیہ الرحمۃ نے مولانا فقیر اللہ نیازی، مولانا محمد یوسف سیالکوٹی، مولانا عبد العزیز ہاشمی، مولانا محمد امام الدین قادری، مولانا محمد نور الحسن سیالکوٹی اور سیّد فتح علی شاہ قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے ہمراہ متحدہ پنجاب کے تقریباً تمام اضلاع کا دورہ کیا اور مسلمانوں کے سامنے ہندو اور انگریزوں دونوں کے سامراجی عزائم کو بے نقاب کیا اور مسلم لیگ کی حمایت پر زور دیا ۔
وصال:
آپ کا وصال بروز پیر 7 ربیع الثانی 1370ھ، مطابق 15 جنوری 1951ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار " کوٹلی لوہاراں غربی " ضلع سیالکوٹ پنجاب پاکستان میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ فقیہِ اعظم ۔ تذکرہ اکابرِ اہلسنت ۔ تحریکِ پاکستان میں خلفائے اعلیٰ حضرت کا کردار ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/faqih-e-azam-molana-muhammad-sharif-kotli-loharan
scholars.pk
Faqih-e-Azam Molana Muhammad Sharif Kotli Loharan
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
مناظر اہلسنت ، ترجمان مسلکِ اعلیٰ ، حضرت علامہ مولانا مفتی محمد ابو الکلام صاحب رضوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
موت العالم موت العالم
خلیفۂ حضور قمر العلماء و حضور لیاقت ملت ، و حضور شیر بہار ، سابق امام و خطیب مرکزِ اہلسنت مسجد اعظم چترا درگہ کرناٹک ، ترجمان مسلک اعلیٰ حضرت ، مناظر اہلسنت حضرت علامہ مفتی محمد ابو الکلام صاحب رضوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بروز پیر مورخہ 6 ربیع الاول ۱۴۳۹ ہجری بمطابق ۲۵ دسمبر ۲۰۱۷ء کو روڈ حادثہ میں انتقال فرما گئے ۔
انا للہ وانا الیہ راجعون
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-mufti-muhammad-abul-kalaam-rizvi
موت العالم موت العالم
خلیفۂ حضور قمر العلماء و حضور لیاقت ملت ، و حضور شیر بہار ، سابق امام و خطیب مرکزِ اہلسنت مسجد اعظم چترا درگہ کرناٹک ، ترجمان مسلک اعلیٰ حضرت ، مناظر اہلسنت حضرت علامہ مفتی محمد ابو الکلام صاحب رضوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بروز پیر مورخہ 6 ربیع الاول ۱۴۳۹ ہجری بمطابق ۲۵ دسمبر ۲۰۱۷ء کو روڈ حادثہ میں انتقال فرما گئے ۔
انا للہ وانا الیہ راجعون
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-mufti-muhammad-abul-kalaam-rizvi
scholars.pk
Hazrat Allama Mufti Muhammad Abul Kalaam Rizvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
Munazir e AhleSunnat Hazrat Allama Mufti Muhammad Abul Kalaam Rizvi
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
05-04-1445 ᴴ | 21-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
06-04-1445 ᴴ | 22-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2👍1