🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
شان و عـظمت امام اعظم ابُو حنیفہ
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَــعَــالیٰ عَـنۡـہۡ
یَومِ وِصَال ²شعبانۡ ¹⁵⁰ھ عُمر ⁷⁰سَال
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
نبئ اکرم ﷺ کی امام ابوحنیفہ
رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پر شفقت
❗️

حضرت یحییٰ بن معاذ رازی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو خواب میں دیکھا تو پوچھا میں آپ کو کہاں تلاش کروں ؟

فرمایا ابو حنیفہ کے علم کے پاس
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت داتا علی ہجویری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کشف المحجوب میں فرماتے ہیں میں نے خواب میں دیکھا کی نبئ کریم ﷺ تشریف لائے اور آپ نے اپنی بغل میں ایک بزرگ کو ایسے پکڑا ہوا ہے جیسے شفقت سے بچوں کو پکڑتے ہیں

میں نے دل میں سوچا یہ کون ہے ؟

رحمت عالم ﷺ نے میرے خیال پر
مطلع ہو کر خود ہی جواب دیا .....

یہ تمہارا اور تمہارے شہر والوں کا امام ہے (یعنی امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
تمام مُسَلمَانانِ عَالَم اِمام اعظم
کے لئے ایصال ثواب کریں 🌹🌹
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ
@islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
امام الائمہ سراج الامۃ کاشف الغمہ
امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَــعَــالیٰ عَـنۡـہۡ

کے حوالےسے تقریباً 60 آن‌لائن کتب
مطالعہ اور ڈاؤن لوڈ کرنے کا طریقہ

https://www.ataunnabi.com/search?q=%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85+%D8%A7%D8%B9%D8%B8%D9%85&m=1

آپ تابعی بزرگ – مجتہد - محدث
اور عالَمِ اسلام کی مؤثر شخصیت

فقہ حنفی کے بانی – اور کـروڑوں
حنفیوں کے امام ہیں!! سـبحان اللہ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Zubair 006
*#ایلومیناٹی_ایجنڈا اور بے بس انسانیت*

کرونا وائرس ساری دنیا میں پھیل چکا ہے. کاروبارِ حیات بند ہوچکا. تجارت، تعلیم، مذہبی اجتماعات ، سیاحت غرض تمام شعبہ ہائے زندگی pause کی حالت میں چلے گئے ہیں. پوری دنیا کی سات ارب آبادی شدید ذہنی دباؤ ، خوف و ہراس میں مبتلا ہے. بیماری کی نہ تو علامات واضح ہیں نہ ہی وجوہات. بیماری کا ٹیسٹ بھی with precision تاحال ممکن نہیں. کم ترقی یافتہ ممالک تو دور، ترقی یافتہ ممالک بھی اس وائرس سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے.

اس ساری صورتحال کے تناظر میں یقیناً یہ سوال بہت اہم ہے کہ کیا یہ کرونا وائرس واقعی ایک وبا ہے یا Bioterrorism ہے؟ یہ طاعون جیسی بیماری naturally پیدا ہوئی ہے یا یہ Biological warfare کا حصہ ہے؟ یہ ایک سانحہ ہے یا باقاعدہ planned سازش ؟

پہلے بھی متعدد بار عرض کر چکا ہوں کہ میں ایک conspiracy theorist ہوں. میری رائے سے آپ کا اتفاق ضروری نہیں ، تاہم اپنی گزارشات آپ کے سامنے ضرور رکھنا چاہوں گا.

میرے نزدیک موجودہ وبا کرونا وائرس ایک مکمل پلان کے تحت دنیا بھر میں پھیلائی گئی ہے. جس کے پیچھے عالمی خفیہ شیطانی تنظیم الومیناٹی (1776) کا ہاتھ ہے. ایلومیناٹی اور فری میسن وغیرہ کی تفصیلات کسی اور وقت، مگر مختصراً یہ بتاتا چلوں کہ یہ عالمی خفیہ شیطانی تنظیم ہے. اس کو چند انتہائی طاقتور خاندان پسِ پردہ رہ کر چلارہے ہیں. (Rothschild خاندان، Rockefeller خاندان، برطانوی شاہی خاندان، khazarians وغیرہ) یہ لوگ کسی مذہب کے پیروکار نہیں بلکہ براہِ راست شیطان کے پجاری ہیں اور اُسی کی ہدایات پہ چلتے ہیں. کچھ لوگ بظاہر یہودی ہیں اور کچھ عیسائی. اس تنظیم کا سب سے اہم مقصد یہودیوں اور یہود نواز و مذہب بیزار عیسائیوں کی مدد سے دجال کی آمد اور اسکی مطلق العنان حکمرانی کی راہ ہموار کرنا ہے. اس بنیادی مقصد کو حاصل کرنے کیلئے انہوں نے New World Order کے نام سے ایک منصوبہ بنایا ہے. یہ ایک انتہائی شاطرانہ شیطانی منصوبہ ہے جس کے بہت سے حصے اور بہت سے steps ہیں اور یہ multidimensional ہے. اس پورے منصوبے کا لُبِ لباب Crux یہ ہے::
* دنیا میں one world government کا قیام،
* دنیا میں one world religion کا نفاذ،
* دنیا میں one world currency کا نفاذ،
*اور آخر میں One World leader پہ اتفاق کا قیام (یعنی دجال یا Antichrist کو حاکم اعلی تسلیم کروانا)

ان مقاصد کو حاصل کرنے کیلئے پلان کو مزید چھوٹے پلانز میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں سب سے خطرناک پلان دنیا کی آبادی کو سات ارب سے کم کر کے ایک ارب یا پچاس کروڑ تک لانا ہے. اور یہی وہ منصوبہ ہے جسکا براہِ راست تعلق کرونا وائرس وبا سے ہے.

دنیا کی آبادی کو کم کرنے کے شیطانی منصوبہ سازوں کے نزدیک متعدد فوائد ہیں. ایک یہ کہ کم آبادی کو کنٹرول اور Manage کرنا نسبتاً آسان ہوگا. بعد ازاں Chips install کرکے ان کے behavior کو مانیٹر کرنا زیادہ آبادی کی بنسبت بہت آسان ہوگا. دوسرا یہ کہ زیادہ آبادی کو مذہب سے دور رکھنے کیلئے نفسیاتی طور پہ تیار کرنا مشکل ہے بنسبت کم آبادی کے. نیز کم آبادی پہ اپنا کلچر impose کرنا بھی زیادہ آبادی کی نسبت آسان عمل ہے. تیسری بات یہ کہ کم آبادی کی صورت میں Planet earth کی Stability اور sustainability میں اضافہ ہو جائے گا اور Natural resources پہ دباؤ کم ہو جائے گا جو کہ Ruling Elite کیلئے بہتر ہوگا. چوتھا فائیدہ یہ ہوگا کہ وائرسز اور genetically engineered بیماریوں سے ایسے لوگوں کو ہلاک کر دیا جائے گا جو ان کی نظر میں سوسائٹی پہ بوجھ ہیں یا جنکی labour productivity بہت کم ہے. اس انداز سے انہیں جوان طاقتور labour force لمبے عرصے تک میسر رہا کرے گی جس کو میں استعمال کر سکیں گے.
(اس نکتہ پہ مزید تحقیق کیلئے Transhumanism پہ ریسرچ کیجیے، یوٹیوب پہ چند اہم ویڈیوز اس پہ موجود ہیں)

دنیا کی آبادی کم کرنے کیلئے مختلف طریقے استعمال کیے جائیں گے جن میں علاقائی اور عالمی جنگیں. Fast foods اور کیمیکل زدہ packed کھانے اور مشروبات کا استعمال عام کرنا. ملٹی نیشنل فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے ذریعے شدید مگر خاموش side effects والی ادویات کی ترویج. Genetically engineered viruses اور بیماریوں کا عالمی و علاقائی پھیلاؤ. گلوبل وارمنگ کے ذریعے قحط سالی ، سیلاب برپا کرنا، پینے کے پانی اور اجناس کی کمی create کرنا وغیرہ.

یہ تو رہی الومیںاٹی کی پلاننگ ، اب آتے ہیں کرونا وائرس کی طرف. میرے نزدیک اس وائرس کا وبا کی طرح پوری دنیا میں پھیلاؤ اسی شیطانی پلان New World Order کا حصہ ہے. اس سے قبل Ebola virus, Anthrax ، HIV, Hanta virus, Dengue، روٹا وائرس، SARS VIRUS, MERS VIRUS کا کامیاب تجربہ کیا جاچکا ہے. وبا کے آغاز پہ ہی انٹرنیشنل میڈیا کا اسکو بھرپور کوریج دینا ، شہ سرخیوں میں لگانا، تمام عالمی لیڈروں کا اس پہ بات کرنا شروع کر دینا ،لوگوں کو ڈرایا اور ہراساں کیا جانا،
Forwarded from Zubair 006
فورا لاک ڈاؤن ، کرفیو کی باتیں کرنا. یہ سب وہی SOP ہے جو پراپیگنڈہ کیلئے افغانستان اور عراق حملے کے وقت استعمال کیا گیا. بیماری پھیلانے کے ساتھ ساتھ اس عالمی لیول کے پراپیگنڈہ اور میڈیا کے ذریعے ہراسگی کے پیچھے بھی ایک اہم مقصد کار فرما تھا. اور وہ مقصد تھا Mind and behavior Control جو کہ اومیناٹی کے اہم ترین ہتھیاروں میں سے ہے. کرونا وائرس وبا کا پھیلاؤ محض ایک drill ہے، ایک مشق ہے ایک تجربہ ہے. اصل War ابھی آگے ہے. موجودہ وبا کا پھیلایا جانا اور اسکے حوالے سے شدید ترین اور شاطرانہ میڈیا کمپین ایک اہم تجربہ ہے جس سے مستقبل کی مزید پلاننگ کی جانی مقصود ہے. موجودہ وبا شاید 2-3 ماہ میں کنٹرول کر لی جائے اور اس بار اموات بھی مجموعی طور پہ کم رہیں مگر مستقبل میں یہ تجربہ منصوبہ سازوں کو مزید بہتر اور خطرناک پلاننگ کرنے کی صلاحیت دے دے گا. الومیناٹی نے اس وائرس کے پھیلاؤ سے انتہائی اہم نتائج حاصل کرلیے ہیں اور باقی نتائج وقت کے ساتھ سامنے آ جائیں گے، تاہم انکا بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے. نتائج یہ ہیں.

پہلی بات یہ کہ لوگ Biological warfare کے بارے میں بالکل لاعلم نکلے ہیں اور ابھی تک اس Bioterrorism کو ایک قدرتی وبا ہی سمجھ رہے ہیں جوکہ ان کیلئے ایک positive result ہے

دنیا کو لاک ڈاؤن کرنے ایک کامیاب تجربہ کر لیا گیا اور اس لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں لوگوں حکومتوں آزاد میڈیا اور مذہبی رہنماؤں کے ردِعمل کو نوٹ کر لیا گیا اور اب اس لاخ ڈاؤن کے اثرات جانچے جائیں گے اور پلان کی خامیوں کو دور کر کے آئیندہ مزید بہتر پلان بنایا جائے گا.

اس تجربہ کے ذریعے قرنطینہ یا Quarantine کا concept ایک ہی جھٹکے میں پوری دنیا کے لوگوں تک پہنچا دیا گیا ہے اور انہیں شدید ذہنی مفلوج کر کے سمجھا دیا گیا ہے کہ جب کسی کو بیمار قرار دے کر quarantine کرنے کا حکم صادر ہوگا تو اس پہ احتجاج نہیں کرنا ، چاہے وہ شخص جسمانی بیمار ہو یا ذہنی بیمار. یوں عزیز سے عزیز تر رشتے کو بھی quarantine ہوتے دیکھ کر احتجاج نہ کرنے کی ہمیں indirectly تربیت دے دی گئی ہے. چنانچہ کل جب ہمارے مذہبی پیشواؤں کو، سیاسی سوجھ رکھنے والے رہنماؤں کو ذہنی بیمار قرار دے کر quarantine کیا جائے گا تو ہم نہ صرف خاموش رہیں گے بلکہ خوش ہونگے. ہمارے کسی عزیز کو شیطانی منصوبوں کی تکمیل میں رکاؤٹ سمجھ کر جب اسے خود ساختہ وائرس کا شکار بنا کر ہم سے دور کرنے یا وائرس کے بہانے قتل کر دیے جانے کی بات ہوگی تو ہم کرونا وائرس ٹریننگ اینڈ پروگرامنگ کی بدولت قطعاً احتجاج نہیں کر پائیں گے. (میری باتوں پہ کچھ دوستوں کو ہنسی آ رہی ہوگی مگر انتظار کیجئیے ایسا چند سالوں چند دہائیوں میں ہونے والا ہے)

ایک نتیجہ یہ بھی حاصل ہوا ہے کہ دنیا بھر کی ترقی یافتہ میڈیکل سائنس ابھی الومیناٹی کے ماتحت کام کرنے والی میڈیکل Bio-engineering labs سے بہت پیچھے ہے اور ایسے وائرس کی کئ ماہ سے مسلسل تباہی کے باوجود کوئی لیب اسکا توڑ نہیں بناسکی، جو کہ شیطانی منصوبہ سازوں کیلئے بہت خوش آئند ہے.

سب سے اہم نتیجہ یہ ہے کہ دنیا اب انہی چند فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی جانب دیکھ رہی ہے جو ان شیطانی تنظیموں کے کنٹرول میں ہیں. دنیا بے بسی کے عالم میں ہے. حکمران بھی بے بس ہو کر بِل بلا رہے ہیں اور گھٹنے ٹیک چکے ہیں. آج پوری دنیا کے عوام اور حکمران ان مغربی دوا ساز کمپنیوں کی طرف حسرت امید اور آس بھی نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں کہ کب اعلان ہوگا کہ وبا کا علاج دریافت کر لیا گیا ہے. شاید آپ اندازہ نہیں لگا سکتے کہ اس بات پہ شیطان کے پجاری کس قدر خوش ہو رہے ہونگے. وہ سوچ رہے ہونگے مستقبل کے اس منظر بارے جب وہ پوری دنیا میں مصنوعی قحط بربا کریں گے اور سارا غلّہ اور اجناس ان عالمی سرمایہ داروں کے پاس ہوگی اور ان کا سربراہ دجال کہے گا مجھے اپنا رہنما مانو تب غذا دونگا، پھر کہے گا اپنا خدا مانو تب Artificial Rain برساؤں گا اور اجناس دونگا. کیا حسین منظر ہوگا وہ. (اس بات کا اشارہ رسولِ پاک ص کی حدیث مبارکہ میں بھی ہے کہ غذا اجناس بارش سب کچھ دجال کے کنٹرول میں چلا جاۓ گا. لوگوں کیلئے ایمان بچانا مشکل ہو جائے گا).

پہلے بھی ایک پوسٹ میں عرض کر چکا ہوں کہ آنے والے سالوں میں وہی قوم سپر پاور کہلاۓ گی جس کے پاس Biotechnology ، Genetic engineering ، Biomechanics ، Medicine and pharmaceutical technology and research ہوگی. اگلی جنگیں جہاں روایتی جنگی سازوسامان سے لڑی جائیں گی وہاں میڈیکل انڈسٹری انتہائی اہم کردار ادا کرے گی.

یاد رکھیں عالمی شیطانی تنظیموں کی بھی بہت سی کمزوریاں ہیں جن میں سے ایک ہے mass awareness. جتنے زیادہ لوگ ان کے شیطانی منصوبوں سے aware ہوتے جائیں گے ان کے شیطانی منصوبے اتنی جلدی expose ہونگے اور انہیں resistance کا سامنا کرنا پڑے گا. مذہب سے لگاؤ، سطحی معلومات کے بجائے حقیقی تعلیم شعور اور critical analysis کی صلاحیت ان شیطان کے پجار
Forwarded from Zubair 006
یوں کی اصل دشمن ہے. جنسی بے راہ روی اور مذہب بیزاری، عورت کی آزادی ان کے اہم ہتھیار ہیں.

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ دجال تب ظاہر ہوگا جب اسکے بارے میں بات کرنا کم کر دی جاۓ گی. یہی صورت حال آج ہے. دجال کی بات کی جاۓ تو لوگ اسے ہنسی مذاح میں اُڑا دیتے ہیں. یہ وہ فتنہ ہے جس کے شر سے صحابہؓ اور دیگر انبیاء تو ایک طرف خود انبیاء کے سردار صلی اللہ علیہ وسلم نے پناہ مانگی ہے. کرونا وائرس وبا دجال کے شرور میں سے ایک شر ہے. اور یہ محض ایک چھوٹا laboratory test ہے. ابھی اصل وبائیں آنا باقی ہیں. یہ جو بے بسی ہم محسوس کر رہے ہیں یہ کچھ بھی نہیں ، آنے والے دجالی فتنے اور شر اس سے کہیں بڑھ کر ہونگے. (معاذ اللہ ) اندازہ لگا لیجئے کہ دجال کے شر کیسے ہونگے اور کیا وجہ ہوئی ہوگی کہ انبیاء نے بھی اس سے پناہ مانگی؟

یاد رکھیں جب اللہ کسی قوم سے ناراض ہوتا ہے تو اپنے ہی منکرین کو بسا اوقات اس چہیتی قوم پہ بطور عذاب مسلط کر دیتا ہے. قرآن اس بات کا گواہ ہے جہاں بتایا گیا ہے کہ بنی اسرائیل کی نافرمانیوں پہ دو مرتبہ یروشلم کی تباہی کروائی گئی ، ایک مرتبہ Babylonians کے ہاتھوں اور دوسری دفعہ Romans کے ہاتھوں. اور اللہ نے رومی کفار کو بھی "اپنے بندے" کہہ کر زکر کیا کہ ہم نے بنی اسرائیل پہ ان کو مسلط کیا. (QURAN- Al-isra 17:4، 17:5) اس لیے موجودہ صورتحال کو اللہ پاک کی شدید ناراضگی سمجھنے والے بھی درست ہیں اور یقیناً ہم گناہ گاروں پہ بطور عذاب یہ وبا اپنے منکرین سے مسلط کروا دی گئی ہے. اور نیک لوگوں پہ بطور آزمائش. (واللہ اعلم)

ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان سنبھل جائیں اور یکجا ہو جائیں. توبہ کریں اور اپنا راستہ درست کریں. شعائرِ اسلام اور احکاماتِ دینیہ کی پابندی کریں. عرب شہزادے عیاشیوں اور غیر ضروری عمارات بنوانے کے بجائے مسلم ممالک میں تعلیم و تحقیق پہ دولت خرچ کریں اور یہاں medical science ، Medicine ، Bioengineering ، اور genetic engineering کے شعبوں مہارت حاصل کی جاۓ اور ایسے دجالی حملوں سے بچنے نیز عوام میں عموماََ اور مسلمانوں میں خصوصاََ قوتِ مدافعت بڑھانے والی نیچرل ادویات کی تیاری ممکن بنائی جاۓ. تاکہ مسلمانوں کو مغرب کی جانب نہ دیکھنا پڑے اور سخت ترین حالات میں بھی شیطان کے پجاریوں کے سامنے گھٹنے نہ ٹیکنے کی ضرورت پڑے.

تب تک ویلڈن الومیناٹی👍، تم اس تجربے میں کامیاب رہے. مگر یاد رکھنا تم اپنے منصوبے بناتے ہو اور اللہ اپنے منصوبے بناتا ہے، اور اللہ بہترین منصوبہ ساز ہے. آخری فتح خیر ہی کی ہوگی. انشاءاللہ

(نوٹ:: تحریر کا یہ مطلب نہیں کہ مرض سے احتیاط نہ کی جاۓ یا معاملہ محض دعاؤں پہ چھوڑ دیا جائے. غیرجانبدار ماہرین کی suggestions پہ عمل کرنا، جان بچانے کیلئے احتیاطی تدابیر اپنانا انتہائی اہم ہے.
دوسرا نوٹ:: اس پوسٹ میں کرونا وائرس معاملے کا صرف ایک پہلو زیرِ بحث لایا گیا ہے، اسکے معاشی، سیاسی، دفاعی پہلو الگ ہیں.
تیسرا نوٹ:: میری باتوں پہ ہنسنے والوں سے گزارش ہے محض ایک دن مکمل فراغت کے ساتھ بیٹھ کر New World Order, اور Antichrist اور End of Times کے موضوعات پہ تحقیق کر لیجئیے)
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Zubair 006
ڈیڑھ ارب مسلمان
امریکہ، روس، جرمنی، اسرائیل اور چین کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ
کب وہ لوگ
کورونا وائرس کی ویکسین تیار کریں
اور
ہماری باجماعت نمازیں طواف اور عمرے بحال ہوں
ہمارے بچوں کی منگنیاں شادیاں نکاح دوبارہ سے شروع ہوں۔
دوست دوست سے ہاتھ ملا سکے
بھائی بھائي سے گلے مل سکے
ایران اور سعودیہ کے ویزے کھلیں
شہروں میں مزار کھلیں لنگر عرس میلوں پہ رونق لگے۔

پھر ہم کافر کی بنائی ہوئی ویکسین کھا کر مسجد جائیں گے۔
اور
جمعہ کی نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کریں گے
اے اللہ ان کفار کو تباہ و برباد کر دے۔
کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہے؟

#ذرا سوچئے!!! 😥😥
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کورونا عذابِ اِلٰہِی ہے !

اِذَا کُنْتَ بِاَرْضٍ فَوَقَعَ بِھَا فَلَا تَخْرُجْ
مِنْہَا وَ اِذَا بَلَغَکَ اَنَّہٗ بِاَرْضٍ فَلَا تَدْخُلَھَا

(مسلم شریف جـ² باب الطاعون صـ²²⁸)

آج پوری دنیا کورونا وائرس سے جنگ لڑ رہی ہے ـ آج ہم ایک بہت بڑی تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں ـ ہماری ذرا سی غفلت اور بے احتیاطی ہمیں ہزاروں سال پہلے کے کھنڈرات میں ڈھکیل سکتی ہے۔

کورونا وائرس ایسی خطرناک وبائی بیماری ہے، کہ میڈیکل سائنس نے جس کے آگے خود سپردگی کر دی ہے ـ ہزاروں کی تعداد میں لوگ لقمہ اجل بن چکے ہیں ـ اور اس سے کہیں زیادہ تعداد میں لوگ موت و زیست کی کشمکش سے دو چار ہیں ـ

مذہب اسلام نے اس کی جو تشخیص کی ہے اور اس کا جو علاج بیان کیا ہے آج دنیا کی سپر Super طاقتیں بھی دانستہ یا غیر دانستہ اسی پر عمل پیرا ہیں ـ در حقیقت اس طرح کے وبائی امراض اللہ کا عذاب ہیں ـ جب طاقتور اور صاحب اقتدار کمزوروں، ناتوانوں پر مظالم ڈھاتے ہیں، جب اللہ کے پیدا کردہ بندے اس کے احکام کی بجا آوری سے انحراف کرتے ہیں، اور صرف انحراف ہی نہیں کرتے بلکہ تمرد، سرکشی، غرور اور گھمنڈ کا مظاہرہ کرتے ہیں حتی کہ ارادی یا غیر ارادی طور پر خود اسے چیلنج دے بیٹھتے ہیں، تو منجانب اللہ اس طرح کا عذاب حرکت میں آجاتا ہے ـ

ماضی میں اس کی بہت سی مثالیں ہیں ـ خود عہد صحابہ، تابعین اور مابعد تابعین کے ادوار میں بھی اس قسم کی وباؤں نے ہزاروں کی تعداد میں بندگان خدا کو موت کے گھاٹ اتار دیا ـ

١٨؁ھ میں امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد خلافت میں طاعون عمواس کی وبا پھیلی جس میں حضرت ابو عبیدہ بن جراح ، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہما اور حضرت معاذ کی دو بیویاں اور ایک بیٹے شہید ہو گئے۔

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد ٦٩؁ھ میں طاعون جارف کی وبا پھیلی اس کی تباہ کاریوں کا اندازہ آپ یوں کر سکتے ہیں کہ ان تین دنوں میں جن میں یہ وبا زوروں پر تھی ہر دن ستر ہزار آدمی شہید ہوئے ـ اس طاعون میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے تہتر⁷³ یا تراسی⁸³ فرزند فوت ہوئے ـ اور حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر کے چالیس لڑکے فوت ہوئے ـ

اسی طرح ١٣١؁ھ میں طاعون مسلم بن قتیبہ واقع ہوا جو رجب کے مہینے سے شروع ہوا اور شعبان ، رمضان کے مہینے میں بڑی شدت کے ساتھ حملہ آور رہا ـ اس طاعون کی تباہ کاریوں کا عالم یہ تھا کہ ہر دن ایک ہزار جنازہ اٹھتا تھا ـ اسی میں مشہور محدث حضرت ایوب سختیانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ شہید ہوئے ـ اس کے بعد کے ادوار میں بھی طاعون کی مہلک وبا آتی رہی اور لوگوں کو اپنی چپیٹ میں لیتی رہی۔

کورونا وائرس بھی اسی قسم کی ایک وبا ہے جو اس وقت شدت سے دنیا پر حملہ آور ہے ـ ہم فرمان رسالت ﷺ پر کما حقہ عمل کر کے خود بھی اس سے بچ سکتے ہیں ـ اور دوسروں کو بھی بچا سکتے ہیں ـ

صحیح مسلم شریف جـ² کتاب السلام۔باب الطاعون صـ²²⁸ کی یہ حدیث اَنَّہٗ قَالَ اِنَّ ھٰذا الْوَجَعَ اَوِ السَّقْمَ رِجْزٌ عُذِّبَ بِہٖ بَعْضُ الاُمَمِ قَبْلَکُمْ ثُمَّ بَقِیَ بَعْدُ بِالاَرْض الخ آپ غور سے پڑھیں حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس حدیث کے راوی ہیں ـ

حضور پرنور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں : یہ بیماری ایک عذاب ہے جو تم سے پہلے کچھ امتوں کو ہوئی تھی پھر وہ زمین پر باقی رہ گئی کبھی چلی جاتی ہے اور کبھی چلی آتی ہے ـ لہٰذا جو سنے کہ زمین کے فلاں خطے پر طاعون ہے وہ وہاں نہ جائے ـ اور جو وہاں ہے وہ وہاں سے نہ بھاگے ـ

اور حضور ﷺ کی یہ حدیث لَا یُوْرَدُ مُمْرِضٌ عَلٰی مُصِحٍّ مسلم شریف جـ² باب لا عدوی صـ²³⁰ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس حدیث کے راوی ہیں ـ حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں : بیمار اونٹ صحت مند اونٹ کے پاس نہ لایا جائے

اس قسم کی احادیث سے فارمولے، قاعدے اور قانون جنم لیتے ہیں کورونا وائرس کو بھی ہمیں اسی آئینے میں دیکھنا چاہیے ـ ہم اس کورونا وائرس سے اسی صورت میں بچ سکتے ہیں جبکہ ہم ایک دوسرے سے خاطر خواہ دوری بنائے رکھیں تمام احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں۔ وبا کے دنوں میں جسمانی صفائی اور عام صفائی کا خاص خیال رکھیں ـ اپنے گھروں کو خوب صاف ستھرا رکھیں مکانوں کی دیواروں اور چھتوں پر سفیدی کرائیں۔ تمام کاروبار میں صفائی کو مد نظر رکھیں ۔ مکان کے احاطے اور کچن کی صفائی پر خاص دھیان دیں۔ بیت الخلا اور نالیوں کی اچھی طرح صفائی کروائیں۔ اپنے گرد و نواح اور کوچہ و بازار کو بھی صاف ستھرا رکھیں۔ کسی کو تعفن نہ پھیلانے دیں۔ ایک مقام پر بہت سے اشخاص ہرگز ہرگز جمع نہ ہوں کیوں کہ عام لوگوں کے طبائع کے کمزور اور ہوا کے کثیف ہونے کی وجہ سے مرض کے زیادہ پھیلنے کا قوی اندیشہ ہوتا ہے۔ صاف ستھرا اور قدرے گرم پانی کا استعمال کریں۔ اللہ کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کریں۔ معصیت کاری سے بچیں اور ظلم کرنے والے اپنے ظلم و تعدی سے باز آجائیں۔ ایسے موقع پر غریبوں، محتاجوں اور ضرورت مندوں کا خاص
خیال رکھیں۔
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ سبھی حضرات کو اس بلا سے محفوظ فرمائے اور جلد سے جلد ہمیں اس سے نجات عطا فرمائے

آمین بجاہ النبی الامین الکریم ﷺ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
شارح مسلم حضرت علامہ مولانا الحاج بدرالدجٰی صاحب قبلہ رضوی مصباحی صدرالمدرسین عربیہ اشرفیہ ضیاءالعلوم خیرآباد مئو
مورخہ ¹ شعبان المعظم ١۴۴١؁ھ
بمطابق ²⁷ مارچ ۰۲۰۲؁ء بروز جمعہ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
المشتہر محمد زرقانی بستوی
خیرانی روڈ ساکی ناکہ ممبئ
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ
@islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
رسالہ "نسیم الصبا في أن الأذان یحول الوبا" کہاں سے ملے گا؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــ سوال :
اعلی حضرت علیہ الرحمہ کا کوئی رسالہ: "نسیم الصبا في أن الأذان یحول الوبا" نام سے ہے؟ ہاں تو کہاں سے چھپا ہے، اس کے پی ڈی ایف فائل کے بارے میں معلومات درکار ہے. آپ کے علم میں ہو تو رہنمائی فرمائیں.
ـــــــ المستفتی : محمد اشرف رضا ہاشمی نجمی ــ (گجرات)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
الجواب :
اس رسالے کی مجھے بھی تلاش ہے. عالمی وبا "کرونا وائرس" کے دفعیہ کے لیے جب اذان دینے کا مسئلہ سامنے آیا تبھی سے بہت سے احباب کے میسج آنے لگے جو اس رسالے سے استفادہ کے خواہاں تھے .
اعلی حضرت امام احمد رضا محقق بریلوی علیہ الرحمہ نے فتاویٰ رضویہ میں جگہ جگہ اس رسالے کا حوالہ دیا ہے.
(1) ـــــــ ایک مرتبہ سوال ہوا کہ دفعِ وبا کے لئے اذان درست ہے یا نہیں؟ـــــــ اس پر اعلی حضرت علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :
"الجواب: درست ہے ، فقیر نے خاص اس مسئلہ میں رسالہ " نسیم الصبافی أن الأذان یحول الوبا" لکھا واللہ تعالٰی اعلم۔
(دیکھیں: فتاویٰ رضویہ 82/5)
(2) ـــــــ رسالہ" ایذان الأجر فی أذان القبر" جس میں بعد دفن قبر پر اذان دینے کے بارے میں نفیس تحقیقات کی ہیں، میں بھی اس رسالے کا تذکرہ فرمایا ہے. اعلی حضرت علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :
ہم نے اپنے رسالہ" نسیم الصبا فی أن الأذان یحول الوبا" میں اس مطلب پر بہت احادیث نقل کیں.
(دیکھیں :فتاویٰ رضویہ 152/5)
(3)ـــــــ اسی رسالے میں ایک جگہ رقم طراز ہیں :
جُہّال منکرین یہاں اعتراض کرتے ہیں کہ اذان تو اعلامِ نماز کے لئے ہے یہاں کون سی نماز ہوگی، جس کے لئے اذان کہی جاتی ہے؟ مگر یہ ان کی جہالت انہیں کو زیب دیتی ہے وہ نہیں جانتے کہ اذان میں کیا کیا اغراض ومنافع ہیں. اور شرع مطہر نے نماز کے سوا کن کن مواضع میں اذان مستحب فرمائی ہے. ازاں جملہ گوش مغموم میں اور دفعِ وحشت کو کہنا تو یہیں گزرا. اور بچّے کے کان میں اذان دیتا سنا ہی ہوگا ان کے سوا اور بہت مواقع ہیں جن کی تفصیل ہم نے اپنے "رسالہ نسیم الصبا" میں ذکر کی۔
(دیکھیں فتاویٰ رضویہ 157/5)
(4) ـــــــ اسی رسالے میں ایک جگہ اور لکھتے ہیں :
فقیر نے بھی بقدر حاجت اپنے رسالہ:ــ اقامۃ القیامۃ علی طاعنعن القیام لنبی تھامہ ۱۲۹۹ھ
ورسالہ:ــ منیرالعین فی حکم تقبیل الابھامین ۱۳۰۲ھ
ورسالہ:ــ نسیم الصبا فی أن الأذان یحول الوباء ۱۳۰۲ھ وغیرہا تصانیف میں ذکر کی. یہاں ان مباحث کے ایراد سے تطویل کی ضرورت نہیں، حضرات مخالفین باآنکہ ہزار ہا بار گھر تک پہنچ چکے، اگر پھر ہمت فرمائیں گے ان شاء اللہ العزیز وہ جواب باصواب پائیں گے، جس کے انوارِ باہرہ ولمعاتِ قاہرہ کے حضور باطل کی آنکھیں جھپکیں، اور اُس کی سُہانی روشنیوں ودلکشا تجلیوں سے حق وصواب کے نورانی چہرے دمکیں. وباللہ التوفیق وھوالمعین۔
(دیکھیں : فتاویٰ رضویہ بتفصيل سابق )
(5) ـــــــ ایک جگہ اور تسبیح ودعا کے فضائل بیان کرتے ہوئے رقم فرمایا :
اس معنی پر فقیر نے اپنے رسالہ ''ایذان الاجرفی اذان القبر'' میں دلائل واضحہ ذکر کئے اور اس سے زیادہ کلام مستوفی فقیر کے رسالہ "نسیم الصبا فی ان الاذان یحول الوباء" میں ہے.
(دیکھیں : فتاویٰ رضویہ 116/8)
(6) ـــــــ ایک جگہ لکھتے ہیں :
ہر دعا بالبداہۃ ذکرالٰہی ہے اور اس پرعلما نے تنصیص بھی فرمائی، مولانا قاری شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں: "کله دعاء ذکر" - تو اجازت عامہ ذکرکے دلائل بعینہا اجازت عامہ کے دلائل ہیں کہ تعمیم افراد اعم یامساوی، لاجرم تعمیم افراد اخص ومساوی ہے کمالایخفی. ان دلائلِ جلائل کا وفورِ کامل، حد احصاکا طرف مقابل، فقیرغفرلہ المولی القدیر نے اپنے رسالہ "نسیم الصبا فی أن الأذان یحول الوبا" میں اس مدعا پر بکثرت آیات وحادیث لکھیں.
(دیکھیں : فتاویٰ رضویہ ، 119/8)
(7)ـــــــ دفع وبا کے لئے اذان کی تحقیق ہمارے رسالہ نسیم الصبا ان فی الاذان یحول الوبا... میں ہے.
(دیکھیں : فتاویٰ رضویہ ،28/24)
ـــــــ اس طرح دیکھیں تو فقط فتاویٰ رضویہ میں اعلی حضرت امام احمد رضا محقق بریلوی علیہ الرحمہ نے تقریباً سات جگہ اس رسالے کا ذکر فرماکر اس کی اہمیت کی طرف توجہ دلائی ہے. گویا یہ رسالہ اپنے اندر علم وتحقیق کا قیمتی نمونہ لیے ہوئے ہے. اور آپ کے دیگر رسائل کی طرح یہ بھی اپنے موضوع پر انفرادی حیثیت کا حامل ہے.

مگر افسوس ناک امر یہ ہے کہ آپ کے دوسرے بہت سے رسائل کی طرح لگتا ہے کہ یہ رسالہ بھی مفقود ہے. لعل الله یحدث بعد ذلک أمرا. ـــــــ آپ بھی تلاش جاری رکھیں. مل جائے تو اس ناچیز کو بھی مطلع فرمائیں. تاکہ بات بات پر بـِدَّت بِــدَّت کا وظیفہ پڑھنے والوں کا مناسب علاج کیا جاسکے. واللہ تعالٰی اعلم

فیضان سرور مصباحی
31/ مارچ 2020ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
"تفریح الخاطر" کے بارے میں
ـــــــ ـــــــ ـــــــ ـــــــ ـــــــ ـــــــ

یہ "تفریح الخاطر" ایک غیر معروف مولف فاضل عبد القادر اربلی کی تصنیف ہے.
امامِ اہلِ سنت اعلی حضرت قدس سرہ نے "طرد الأفاعی" میں اس کتاب کے حوالے سے ایک واقعہ ذکر کیا ہے. اس کے علاوہ کہیں استناد نہیں کیا ہے.
کتاب میں عجیب و غریب روایات بھی ہیں. غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ کے دھوبی والی روایت بھی ہے.
میری معلومات کی حد تک کسی امام نے 'تفریح الخاطر' کے مستند ہونے کی صراحت نہیں کی ہے. استقرا سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس میں رطب و یابس سب کچھ ہے. اس لیے اس سے استناد کے وقت محتاط رہنا چاہیے.

#نثارمصباحی
7/ دسمبر 2019ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM