🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت سیدنا شیخ ابراہیم ایرجی

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
سید ابراہیم ۔ ایرج وطن کی نسبت سے " ایرجی " کہلاتے ہیں ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
سید ابراہیم ایرجی بن حضرت سید معین بن سید عبد القادر بن سید مرتضی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ۔

مقامِ ولادت:
حضرت سید ابراہیم ایرجی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی ولادت " ایرج " کے مقام میں ہوئی، اسی نسبت سے آپ کو ایرجی کہا جاتا ہے ۔

تحصیلِ علم:
آپ نے علمِ شریعت و طریقت کی پوری تعلیم حاصل فرمائی، اور وقت کے جید علماء و مشائخ سے استفادہ حاصل کیا ۔ حضرت شیخ علیم الدین محدث علیہ الرحمہ سے آپ نے علم ظاہر کی تکمیل کی اور اپنے شیخ طریقت حضرت شیخ بہاء الدین بن العطاء الجنیدی سے علم طریقت کی تکمیل فرمائی ۔ اور آپ کے شیخ طریقت نے آپ کے واسطے ایک رسالہ اذکار و اشغال بھی تصنیف فرمایا جسے " رسالہ شطاریہ " کے نام سے تذکرہ نگاروں نے بیان فرمایا ہے ۔

بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ قادریہ میں حضرت شیخ بہاؤ الدین قادری شطاری علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے، اور خلافت و اجازت سے مشرف ہوئے ۔

آپ علیہ الرحمہ سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کے چھبیسویں امام و شیخِ طریقت ہیں ۔

سیرت و خصائص:
استاذ العلماء ، کثیر العلم ، فاضلِ اکمل ، مصنف اعظم ، شیخِ کامل حضرت شیخ سید ابراہیم ایرجی رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ کے فضائل و بلندی کا اعتراف جملہ مؤرخین نے کیا ہے ۔ چنانچہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب " اخبار الاخیار " میں بڑی تفصیل سے آپ کے فضائل و مناقب بیان فرمائے ہیں، آپ فرماتے ہیں: حقیقت حال یہ ہے کہ آپ کے زمانہ میں اس وقت دہلی میں کوئی شخص علم و دانش میں آپ کے برابر کا نہیں تھا ۔

اور آپ کے جس ہم عصر نے آپ سے استفادہ نہیں کیا اور آپ کی علمی قابلیت کا اقرار نہیں کیا وہ بڑا ہی بے انصاف ہے ۔ آپ کا یہ دستور تھا کہ لوگوں کی جہالت، نا انصافی اور نا قدری کی وجہ سے گوشہ نشین ہو کر کتابوں کا مطالعہ فرماتے اور ان کی تصحیح میں مشغول رہتے تھے ۔ بہت کم لوگوں نے آپ سے استفادہ کیا اور صوفیاء آپ کی بارگاہ میں تحصیل علوم و فنون میں شرف تلمذ اختیار کرتے تھے ۔ کتاب مطالعہ کی غرض سے اسی آدمی کو دیتے تھے ۔ جس کو مخلص سمجھتے تھے ۔

آپ علومِ عقلیہ، نقلیہ رسمیہ اور حقیقیہ کے فارغ التحصیل تھے اور وقت کے عظیم فلسفی تھے، ہر علم کی بے انتہا کتابیں مطالعہ کی تھیں، اور ان کی تصحیح بھی فرمائی تھی ۔

آپ مشکل و سخت کتابوں کے مشکل و سخت مسائل کو اس طرح حل کر دیتے تھے ۔ کہ معمولی پڑھا لکھا آدمی بھی آپ کے حل کردہ مشکلات کو بغیر استاد کی مدد کے بھی بخوبی سمجھ جاتا تھا ۔ آپ کے وصال کے بعد آپ کے کتب خانے سے اتنی زیادہ کتابیں بر آمد ہوئیں جو ضبط تحریر سے باہر ہیں، جن میں اکثر آپ کے ہاتھ کی لکھی ہوئی تھیں ۔

وصال:
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی وفات 5 ربیع الثانی 953ھ میں ہوئی ۔ مزار شریف دہلی (ہند) میں اِحاطہ دَرگاہ ِحضرت نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ میں واقع ہے ۔

ماخذ و مراجع:
مشائخِ قادریہ رضویہ ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syedna-sheikh-ibrahim-aerji
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت قاری محمد عبد الرحمٰن پانی پتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ کو بھی میاں صاحب قبلہ سے اجازت و خلافت ہے ۔

ایک روز میاں صاحب قبلہ حلقہ میں فرمانے لگے ۔ سراج الدین! دیکھ حافظ کی طرف کیسا فیض جاری ہے ۔

آپ کو پہلے مولوی سید غوث علی شاہ صاحب سے بھی فیض ہوا ہے ۔ میاں صاحب قبلہ کے وصال کے بعد دستار خلافت آپ کو ملی ۔ مگر فقراء کی ناراضی سے یہ اس منصب پر قائم نہ رہے ۔

( مشائخ نقشبند )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-qari-muhammad-abdul-rahman-panipati
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
تلمیذ امام اعظم ابو حنیفہ علیہ‌الرحمہ
حضرت امام ابو یوسف علیہ الرحمہ

مکمل نام مع القابات:
حضرت قاضی القضاۃ امام المسلمین سیدنا یعقوب بغدادی المعروف امام ابو یوسف رضی اللہ تعالیٰ عنه

نام و نسب:
یعقوب بن ابراہیم بن حبیب بن خنیس بن سعد بن عتبہ انصاری صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ـ

ولادت:
آپ علیہ الرحمک کوفہ میں عہد ہشام بن عبد الملک میں ۱۱۳ھ میں پیدا ہوئے ـ ابو یوسف کنیت تھی ۔

امام اجل ، فقیہ اکمل ، عالم ماہر ، فاضل متجر ، حافظ سنن ، صاحب حدیث ، ثقہ ، مجتہد فی المذہب اور امام ابو حنیفہ کے اصحاب میں سب سے متقدم تھے ۔

آپ ہی نے پہلے پہل امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مذہب پر کتابیں لکھیں اور مسائل کو املاء و نشر کیا اور ان کے مذہب کو اقطار عالم میں پھیلایا، آپ ہی سب سے پہلے قاضی القضاۃ اور افقہ العلماء و سید العلماء کے لقب سے ملقب ہوئے اور آپ نے ہی اس ہئیت کا لباس علماء کا جو آج کل مروج ہے ، ایجاد کیا ۔

حدیث کو امام ابو حنیفہ و ابا اسحٰق شیبابی و سلیمان تیمی و یحیٰ بن سعد و سلیمان اعمش و ہشام بن عروہ و عبید اللہ بن عمر عمری و عطاء بن سائب و محمد بن اسحٰق بن یسار ولیث بن سعد وغیرہم سے سماعت کیا اور فقہ کو پہلے ابن لیلیٰ پھر امام ابو حنیفہ سے اخذ کیا ۔

آپ سے امام محمد بن حسن شیبانی اور بشرین ولید کندی اور امام احمد بن حنبل اریحیٰ بن معین و احمد بن منیع و علی بن جعدہ وغیرہ نے روایت کی ۔

امام احمد بن ضیل و یحیٰ بن معین اور علی بن مدینی نے آپ کی ثقاہت نقل فی الحدیث میں کچھ اختلاف نہیں کیا بلکہ امام غزالی نے کہا ہے کہ حدیث میں آپ کی متابعت سب سے اولیٰ ہے ۔

آپ کے تلامذہ میں سے محمد بن سماعہ ، معلی بن منصور ، بشرین ولید کندی بشیر بن غیاث مریسی ، خلف بن ایوب ، عصام بن یوسف، ہشام بن عبد اللہ : حسن بن ابی مالک ، ابو علی رازی ، بالل راز یعلی بن جعد وغیر ہم ہیں ۔

آپ کا قول ہے کہ میں امام ابو حنیفہ کی خدمت میں ۲۹ سال جاتا رہا اور میری صبح کی نماز فوت نہیں ہوئی ۔ آپ بغداد میں ساکن ہوئے اور وہاں کی قضا خلفائے ثلاثہ مہدی اور اس کے بیٹے ہاوی اور ہارون رشید کے زمانے میں آپ کے سپرد ہوئی ۔

ہارون رشید آپ کی بڑی عزت و توقیر کرتا تھا ایک دفعہ خلیفہ ہارون اور ایک یہودی کا مقدمہ آپ کے پاس آیا اور یہودی خلیفہ سے ذرا پیچھے ہٹ کر آپ کے سامنے بیٹھا ۔

آپ نے اس کو فرمایا کہ ورے آکر خلیفہ کے برابر بیٹھ ، عدالت میں کسی کو تقدم نہیں ، یہان شاہ و گدا برابر ہیں ۔

تصنیفات:
آپ علیہ الرحمہ نے ❶ کتاب الخراج ـ ❷ کتاب الامالی ـ ❸ کتاب النوار ـ تصنیف فرمائیں ۔

وصال:
آپ کی بغداد میں بحالت عہدہ قضا پنج شنبہ کے روز ۵ ربیع الآ خر ۱۸۱ھ یا ۱۸۲ھ کو واقع ہوئی ۔ ( حدائق الحنفیہ ) ـ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-abu-yousuf
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
04-04-1445 ᴴ | 20-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
05-04-1445 ᴴ | 21-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1