🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت علامہ ہدایت اللہ عاریجوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

استاد العلماء مولانا الحاج محمد ہدایت اللہ بن مولانا عبداللہ عاریجوی (متوفی ۱۹۶۵ئ) ۱۷ ربیع الاول ۱۳۵۷ھ / ۱۷ مئی ۱۹۳۸ء کو گوٹھ ٹھارو واہن متصل خیر محمد عاریجہ ضلع لاڑکانہ میں تولد ہوئے ۔

تعلیم و تربیت:
پرائمری اسکول عاریجہ سے چار جماعت پاس کی ۔ ناظرہ قرآن مجید و فارسی بوستان تک کی تعلیم اپنے والد ماجد مولانا خلیفہ عبد اللہ سے حاصل کی ۔

جامعہ راشدیہ درگاہ شریف پیر جو گوٹھ میں علامہ عبد الصمد میتلو کے پاس علم صرف کی کتب پڑھیں، اس کے بعد گوٹھ آگانی متصل لاڑکانہ میں مدرسہ نعیمیہ میں داخلہ لے کر حضرت صدر الافاضل کے تلمیذ رشید علامہ مفتی محمد صالح نعیمی کے پاس چار سال میں شرح وقایہ اور شرح نور الانوار تک درسی کتب میں تکمیل کی ۔

اس کے بعد گوٹھ پٹھان تحصیل ڈوکری میں علامہ محمد حمید اللہ انڑ کے پاس دو سال قیام کرکے تفسیر و حدیث کی کتب کا درس لیا ۔ مدرسہ احسن البرکات حیدر آباد میں علامہ مفتی محمد خلیل خان برکاتی کے پاس علم معانی ، فلسفہ کلام و منطق کا نصاب ڈھائی سال میں مکمل کیا ۔

مدرسۂ انوار العلوم ملتان شریف میں غزالئ زماں علامہ سید احمد سعید شاہ کاظمی علیہ الرحمۃ کے پاس آٹھ ماہ میں دورہ تفسیر مکمل کیا ۔

آخر میں جامعہ رضویہ مظہر اسلام فیصل آباد میں محدث اعظم پاکستان علامہ مولانا محمد سردار احمد رضوی لائل پوری علیہ الرحمہ کے پاس دورۂ حدیث شریف مکمل کرکے فارغ التحصیل ہوئے ۔

درس و تدریس:
بعد فراغت علمی والد ماجد کی قائم کردہ درس گاہ جامعہ حسینیہ رضویہ خیر محمد عاریجہ میں درس کا آغاز کیا اور ایک ررصہ تک تدریس سے وابستہ رہے۔

آپ کے بعض تلامذہ کے اسماء درج ذیل ہیں:

تلامذہ:
٭ مولانا محدم وارث قاسمی خضدار بلوچستان
٭ مولانا محمد حسن قلندرانی قاسمی خطیب صدیق اکبر مسجد حیدرآباد
٭ مخدوم زادہ مولانا منور الدین دربیلو شریف ضلع نو شہرو فیروز
٭ مولانا قاری گل محمد قاسمی مدرسہ قاسم الانوار لاڑکانہ
٭ مولانا گل حسن ابڑو مدرسہ ـ گوٹھ بگی تحصیل ڈوکری
٭ مولانا غلام مجتبیٰ سندیلومدرسہ لطیفیہ رضویہ لاڑکانہ
٭ مولانا محدم ادریس سومرو چھتو واہن تحصیل ڈوکری

وصال:
مولانا ہدایت اللہ عاریجوی نے ۵ ربیع الآخر ۱۴۲۶ھ / ۱۴ مئی ۲۰۰۵ء بروز ہفتہ بوقت صبح صادق ۶۷ سال کی عمر میں انتقال کیا۔

گوٹھ خی رمحمد رعاریجہ ( تحصیل ڈوکری ضلع لاڑکانہ) سندھ کے قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔

(مختصر حالات زندگی احسان واہن تحصیل ڈوکری کے ماسٹر غلام شبیر جیسر کے توسل سے موصول ہوئے۔ موصوف نے بڑی جفا کشی سے مولانا مرحوم کے لواحقین سے حاصل کئے ہیں۔

( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-hidayatullah-arijvi
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت سیدنا شیخ ابراہیم ایرجی

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
سید ابراہیم ۔ ایرج وطن کی نسبت سے " ایرجی " کہلاتے ہیں ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
سید ابراہیم ایرجی بن حضرت سید معین بن سید عبد القادر بن سید مرتضی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ۔

مقامِ ولادت:
حضرت سید ابراہیم ایرجی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی ولادت " ایرج " کے مقام میں ہوئی، اسی نسبت سے آپ کو ایرجی کہا جاتا ہے ۔

تحصیلِ علم:
آپ نے علمِ شریعت و طریقت کی پوری تعلیم حاصل فرمائی، اور وقت کے جید علماء و مشائخ سے استفادہ حاصل کیا ۔ حضرت شیخ علیم الدین محدث علیہ الرحمہ سے آپ نے علم ظاہر کی تکمیل کی اور اپنے شیخ طریقت حضرت شیخ بہاء الدین بن العطاء الجنیدی سے علم طریقت کی تکمیل فرمائی ۔ اور آپ کے شیخ طریقت نے آپ کے واسطے ایک رسالہ اذکار و اشغال بھی تصنیف فرمایا جسے " رسالہ شطاریہ " کے نام سے تذکرہ نگاروں نے بیان فرمایا ہے ۔

بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ قادریہ میں حضرت شیخ بہاؤ الدین قادری شطاری علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے، اور خلافت و اجازت سے مشرف ہوئے ۔

آپ علیہ الرحمہ سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کے چھبیسویں امام و شیخِ طریقت ہیں ۔

سیرت و خصائص:
استاذ العلماء ، کثیر العلم ، فاضلِ اکمل ، مصنف اعظم ، شیخِ کامل حضرت شیخ سید ابراہیم ایرجی رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ کے فضائل و بلندی کا اعتراف جملہ مؤرخین نے کیا ہے ۔ چنانچہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب " اخبار الاخیار " میں بڑی تفصیل سے آپ کے فضائل و مناقب بیان فرمائے ہیں، آپ فرماتے ہیں: حقیقت حال یہ ہے کہ آپ کے زمانہ میں اس وقت دہلی میں کوئی شخص علم و دانش میں آپ کے برابر کا نہیں تھا ۔

اور آپ کے جس ہم عصر نے آپ سے استفادہ نہیں کیا اور آپ کی علمی قابلیت کا اقرار نہیں کیا وہ بڑا ہی بے انصاف ہے ۔ آپ کا یہ دستور تھا کہ لوگوں کی جہالت، نا انصافی اور نا قدری کی وجہ سے گوشہ نشین ہو کر کتابوں کا مطالعہ فرماتے اور ان کی تصحیح میں مشغول رہتے تھے ۔ بہت کم لوگوں نے آپ سے استفادہ کیا اور صوفیاء آپ کی بارگاہ میں تحصیل علوم و فنون میں شرف تلمذ اختیار کرتے تھے ۔ کتاب مطالعہ کی غرض سے اسی آدمی کو دیتے تھے ۔ جس کو مخلص سمجھتے تھے ۔

آپ علومِ عقلیہ، نقلیہ رسمیہ اور حقیقیہ کے فارغ التحصیل تھے اور وقت کے عظیم فلسفی تھے، ہر علم کی بے انتہا کتابیں مطالعہ کی تھیں، اور ان کی تصحیح بھی فرمائی تھی ۔

آپ مشکل و سخت کتابوں کے مشکل و سخت مسائل کو اس طرح حل کر دیتے تھے ۔ کہ معمولی پڑھا لکھا آدمی بھی آپ کے حل کردہ مشکلات کو بغیر استاد کی مدد کے بھی بخوبی سمجھ جاتا تھا ۔ آپ کے وصال کے بعد آپ کے کتب خانے سے اتنی زیادہ کتابیں بر آمد ہوئیں جو ضبط تحریر سے باہر ہیں، جن میں اکثر آپ کے ہاتھ کی لکھی ہوئی تھیں ۔

وصال:
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی وفات 5 ربیع الثانی 953ھ میں ہوئی ۔ مزار شریف دہلی (ہند) میں اِحاطہ دَرگاہ ِحضرت نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ میں واقع ہے ۔

ماخذ و مراجع:
مشائخِ قادریہ رضویہ ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syedna-sheikh-ibrahim-aerji
2