مائی،اور دین اسلام کی سربلندی کےلیے سوزوگداز کی مجسم کیفیت والی عظیم شخصیت تھے۔آپ جامع کمالاتِ علمیہ وعملیہ تھے۔ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے، اسلامی علوم وفنون کے یکتائے روزگار، ماہر اور اَسرارِ معرفت کادبستان تھے۔
عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ تدریس، تصنیف، خطابت، اور مقامِ فقرو معرفت، یہ اوصاف کسی ایک شخصیت میں جمع نہیں ہوتے۔کوئی اگر عظیم خطیب ہوتا ہے تو اس درجے کا مصنف نہیں ہوتا،اور اگر میدانِ تصنیف میں بام عروج کو پہنچ جائے،تو تدریس میں اس بلند مقام کاحامل نہیں ہوتا،لیکن حضرت غزالیِ زماں، رازیِ دوراں کی شخصیت اس عمومی قاعدےسےمستثنیٰ تھی،آپ بَہ یک وقت بہترین مدرس و محدث، بلند پایہ مصنّف،جادو بیاں خطیب،اور صاحبِ کمال شیخِ طریقت تھے۔یہی سبب تھا کہ مخالفین نے آپ کاراستہ روکنے کی بارہا کوششیں کیں،یہاں تک کہ آپ پر قاتلانہ حملے کیے،مگر آپ کےپائے استقلال میں جنبش نہ آئی،اور آپ کا ہر قدم منزل کی طرف آگے ہی بڑھتا رہا اور ایک وہ وقت آیا کہ آپ ’’اہلِ سنّت وجماعت‘‘ کی آبرواور پہچان بن گئے۔
غزالیِ زماں اور علامہ اقبال:
جن دنوں آپ جامعہ نعمانیہ لاہور میں مدرّس تھے، زندہ دلانِ لاہور نے موچی دروازے کےباغ میں ’’عید میلاد النبیﷺ‘‘ کےسلسلے میں ایک عظیم الشان جلسے کا اہتمام کیا۔ مفکر اسلام شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کرسی ِ صدارت پر بیٹھے ہوئے محویت کےعالم میں علامہ کاظمیکاخطابِ لاجواب سن رہے تھے۔آپ نے صرف نبی مکرم ﷺ کےاسم گرامی’’محمد‘‘ﷺ کی عظمت میں ایک گھنٹہ تقریر فرمائی۔تقریر کےبعد علامہ اقبال نے آپ کوسینے سےلگایا اور کہا:
؏: ایسی چنگاری بھی، یا رب! اپنی خاکستر میں ہے
اور پھر مسکرا کر تھپکی دیتے ہوئے اور فرمایا:
’’برخوردار! لگتا ہے بہت نام پیدا کروگے ۔ ‘‘ (نور نور چہرے، ص16؛ حیاتِ غزالی زماں، ص40)
قومی و ملّی خدمات:
ملّتِ اسلامیہ کو جب بھی کوئی مشکل مرحلہ پیش آیا۔حضرت غزالی زماں نے ہمیشہ قائدانہ کردار اداکیا۔ 1946ء میں ’’آل انڈیا سنّی کانفرنس‘‘میں علما ومشائخ کے وفد کے ہمراہ شریک ہوئے اور مطالبۂ پاکستان کی پرزور حمایت کی۔ یاد رہے کہ یہ کانفرنس تحریک ِ پاکستان کی تاریخ میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔علما ومشائخ اہل سنّت کی پر زور حمایت کی بدولت قیام پاکستان کاخواب شرمندۂ تعبیر ہوا۔قائدِ اعظم محمد علی جناح مرحوم سے خط وکتابت کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ آپ نے تحریکِ پاکستان،تحریکِ ختمِ نبوّت، اور تحریکِ نظام مصطفیٰﷺمیں قائدانہ حصہ لیا۔ تمام عمر مقامِ مصطفیٰﷺ کےتحفّظ، اور نظامِ مصطفیٰﷺ کےنفاذ کےلیے جدوجہد کرتےرہے۔ قیامِ پاکستان کےبعد1948ء میں انوارالعلوم ملتان میں علمائے اہلِ سنّت کااجلاس بلایا،اور آل انڈیا سنّی کانفرنس کا نام تبدیل کرکے’’جمیعت علمائے پاکستان‘‘ کی تشکیل کی گئی۔ 1960ء میں اہلِ سنّت کےمدارس کو منظّم کرنے کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے ’’تنظیم المدارس‘‘ قائم کی۔ 1978ء کو ملتان قلعہ قاسم باغ میں فقید المثال ’’کل پاکستان سنّی کانفرنس‘‘ منعقد کرائی، جس میں اخباری اطلاع کےمطابق دس ہزار سے زیادہ علما و مشائخ،اور بیس سے پچیس لاکھ تک عوامِ اہلِ سنّت کا اجتماع تھا۔ اِسی موقع پر ’’جماعت ِاہلِ سنّت‘‘ کی تشکیل ہوئی۔آپ اس کےصدر منتخب کیے گئے۔تبلیغی جماعت کے مقابلے میں ’’دعوتِ اسلامی‘‘ کی تشکیل میں بھی آپ کااہم کردار ہے۔ انوارالعلوم کی صورت میں اہلِ سنّت وجماعت کو ایک عظیم ادارہ دیا، جہاں سےہزاروں علما وفضلا اپنی علمی پیاس بجھاکر پوری دنیا کوعُلوم ِ مصطفیٰﷺسے سیراب کر رہے ہیں۔
آپ تمام عظمتوں، فضیلتوں،اور کثیر تلامذہ ومریدین کے باوجود تواضع وانکساری کاپیکر تھے۔آپ کی بارگاہ میں کوئی بھی آدمی معمولی نہیں تھا، بلکہ عوام اور غریبوں سے زیادہ محبت واُنس رکھتےتھے۔معمولی آدمی سے بڑی محبت اور احترام سے ملتے تھے۔جو دینی مدارس کی خدمت،یا جامعہ انوارالعلوم کےلیے عطیات کی صورت میں خدمت کرتا اسے بہت ہی دعاؤں سےنوازتےتھے۔ جوشخص آپ کی خدمت میں ایک دفعہ بھی حاضر ہوا، وہ ہمیشہ کےلیے آپ کی عقیدت ومحبت لے کر واپس آیا۔
ماشاء اللہ! یہ اوصاف آپ کے صاحبزادگان میں بھی ہیں، تمام صاحبزادگان حتی المقدور مسلکِ اہلِ سنّت کے فروغ میں اپنا اپنا کردار ادا کر رہے ہیں ۔ اس مختصر تذکرے میں آپ کی خدمات ِ جلیلہ کا احاطہ ناممکن ہے ۔ (فقیر تونسویؔ غُفِرَلَہٗ)
وصال:
بروز بدھ، 25 رمضان المبارک 1406ھ، مطابق 4 جون 1986ء کو اِفطاری کے بعد واصل بااللہ ہوئے ۔ شاہی عید گاہ ملتان میں مزارِ پُر اَنوار مرجعِ خلائق ہے ۔
مآخذ و مَراجع:
1. تعارف علمائے اہلِ سنّت ۔
2. نور نور چہرے ۔
3. حیاتِ غزالیِ زماں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-syed-ahmed-saeed-kazmi
عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ تدریس، تصنیف، خطابت، اور مقامِ فقرو معرفت، یہ اوصاف کسی ایک شخصیت میں جمع نہیں ہوتے۔کوئی اگر عظیم خطیب ہوتا ہے تو اس درجے کا مصنف نہیں ہوتا،اور اگر میدانِ تصنیف میں بام عروج کو پہنچ جائے،تو تدریس میں اس بلند مقام کاحامل نہیں ہوتا،لیکن حضرت غزالیِ زماں، رازیِ دوراں کی شخصیت اس عمومی قاعدےسےمستثنیٰ تھی،آپ بَہ یک وقت بہترین مدرس و محدث، بلند پایہ مصنّف،جادو بیاں خطیب،اور صاحبِ کمال شیخِ طریقت تھے۔یہی سبب تھا کہ مخالفین نے آپ کاراستہ روکنے کی بارہا کوششیں کیں،یہاں تک کہ آپ پر قاتلانہ حملے کیے،مگر آپ کےپائے استقلال میں جنبش نہ آئی،اور آپ کا ہر قدم منزل کی طرف آگے ہی بڑھتا رہا اور ایک وہ وقت آیا کہ آپ ’’اہلِ سنّت وجماعت‘‘ کی آبرواور پہچان بن گئے۔
غزالیِ زماں اور علامہ اقبال:
جن دنوں آپ جامعہ نعمانیہ لاہور میں مدرّس تھے، زندہ دلانِ لاہور نے موچی دروازے کےباغ میں ’’عید میلاد النبیﷺ‘‘ کےسلسلے میں ایک عظیم الشان جلسے کا اہتمام کیا۔ مفکر اسلام شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کرسی ِ صدارت پر بیٹھے ہوئے محویت کےعالم میں علامہ کاظمیکاخطابِ لاجواب سن رہے تھے۔آپ نے صرف نبی مکرم ﷺ کےاسم گرامی’’محمد‘‘ﷺ کی عظمت میں ایک گھنٹہ تقریر فرمائی۔تقریر کےبعد علامہ اقبال نے آپ کوسینے سےلگایا اور کہا:
؏: ایسی چنگاری بھی، یا رب! اپنی خاکستر میں ہے
اور پھر مسکرا کر تھپکی دیتے ہوئے اور فرمایا:
’’برخوردار! لگتا ہے بہت نام پیدا کروگے ۔ ‘‘ (نور نور چہرے، ص16؛ حیاتِ غزالی زماں، ص40)
قومی و ملّی خدمات:
ملّتِ اسلامیہ کو جب بھی کوئی مشکل مرحلہ پیش آیا۔حضرت غزالی زماں نے ہمیشہ قائدانہ کردار اداکیا۔ 1946ء میں ’’آل انڈیا سنّی کانفرنس‘‘میں علما ومشائخ کے وفد کے ہمراہ شریک ہوئے اور مطالبۂ پاکستان کی پرزور حمایت کی۔ یاد رہے کہ یہ کانفرنس تحریک ِ پاکستان کی تاریخ میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔علما ومشائخ اہل سنّت کی پر زور حمایت کی بدولت قیام پاکستان کاخواب شرمندۂ تعبیر ہوا۔قائدِ اعظم محمد علی جناح مرحوم سے خط وکتابت کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ آپ نے تحریکِ پاکستان،تحریکِ ختمِ نبوّت، اور تحریکِ نظام مصطفیٰﷺمیں قائدانہ حصہ لیا۔ تمام عمر مقامِ مصطفیٰﷺ کےتحفّظ، اور نظامِ مصطفیٰﷺ کےنفاذ کےلیے جدوجہد کرتےرہے۔ قیامِ پاکستان کےبعد1948ء میں انوارالعلوم ملتان میں علمائے اہلِ سنّت کااجلاس بلایا،اور آل انڈیا سنّی کانفرنس کا نام تبدیل کرکے’’جمیعت علمائے پاکستان‘‘ کی تشکیل کی گئی۔ 1960ء میں اہلِ سنّت کےمدارس کو منظّم کرنے کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے ’’تنظیم المدارس‘‘ قائم کی۔ 1978ء کو ملتان قلعہ قاسم باغ میں فقید المثال ’’کل پاکستان سنّی کانفرنس‘‘ منعقد کرائی، جس میں اخباری اطلاع کےمطابق دس ہزار سے زیادہ علما و مشائخ،اور بیس سے پچیس لاکھ تک عوامِ اہلِ سنّت کا اجتماع تھا۔ اِسی موقع پر ’’جماعت ِاہلِ سنّت‘‘ کی تشکیل ہوئی۔آپ اس کےصدر منتخب کیے گئے۔تبلیغی جماعت کے مقابلے میں ’’دعوتِ اسلامی‘‘ کی تشکیل میں بھی آپ کااہم کردار ہے۔ انوارالعلوم کی صورت میں اہلِ سنّت وجماعت کو ایک عظیم ادارہ دیا، جہاں سےہزاروں علما وفضلا اپنی علمی پیاس بجھاکر پوری دنیا کوعُلوم ِ مصطفیٰﷺسے سیراب کر رہے ہیں۔
آپ تمام عظمتوں، فضیلتوں،اور کثیر تلامذہ ومریدین کے باوجود تواضع وانکساری کاپیکر تھے۔آپ کی بارگاہ میں کوئی بھی آدمی معمولی نہیں تھا، بلکہ عوام اور غریبوں سے زیادہ محبت واُنس رکھتےتھے۔معمولی آدمی سے بڑی محبت اور احترام سے ملتے تھے۔جو دینی مدارس کی خدمت،یا جامعہ انوارالعلوم کےلیے عطیات کی صورت میں خدمت کرتا اسے بہت ہی دعاؤں سےنوازتےتھے۔ جوشخص آپ کی خدمت میں ایک دفعہ بھی حاضر ہوا، وہ ہمیشہ کےلیے آپ کی عقیدت ومحبت لے کر واپس آیا۔
ماشاء اللہ! یہ اوصاف آپ کے صاحبزادگان میں بھی ہیں، تمام صاحبزادگان حتی المقدور مسلکِ اہلِ سنّت کے فروغ میں اپنا اپنا کردار ادا کر رہے ہیں ۔ اس مختصر تذکرے میں آپ کی خدمات ِ جلیلہ کا احاطہ ناممکن ہے ۔ (فقیر تونسویؔ غُفِرَلَہٗ)
وصال:
بروز بدھ، 25 رمضان المبارک 1406ھ، مطابق 4 جون 1986ء کو اِفطاری کے بعد واصل بااللہ ہوئے ۔ شاہی عید گاہ ملتان میں مزارِ پُر اَنوار مرجعِ خلائق ہے ۔
مآخذ و مَراجع:
1. تعارف علمائے اہلِ سنّت ۔
2. نور نور چہرے ۔
3. حیاتِ غزالیِ زماں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-syed-ahmed-saeed-kazmi
scholars.pk
Hazrat Allama Syed Ahmed Saeed Kazmi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت قاسم بن قطلوبغا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ولادت:
قاسم بن قطلو بغا قاہرہ میں ۸۰۲ھ میں پیدا ہوئے، ابو العدل کنیت زین الدین لقب تھا۔ اپنے وقت کے امام، فقیہ، محدث، علامہ، جامع علوم و فنون، استحضار مذہب میں کامل، مناظرہ اور اسکات خصم میں ید طولیٰ رکھتے تھے ۔
آپ صغیر سن ہی تھے کہ آپ کا باپ فوت ہوگیا پہلے آپ قرآن شریف اور چند کتابیں حفظ کر کے مدت تک خیاطت کا کام کرتے رہے پھر تحصیل علم میں مشغول ہوئے چنانچہ علم حدیث کا ھافظ ابنِ حضر عسقلانی اور سراج قاری الہدایہ اور ابنِ ہمام سے حاصل کیا ـ
اور دیگر علوم تاج احمد فرغانی نعمانی قاضی بغداد اور عزبن عبد السلام بغدادی یہاں تک کہ جتنا ان سے پڑھا تھا اس سےزیادہ ان سے سنا اور آپ سے سخوای شافعی صاحبِ ضوء اللماع نے تلمذ کیا ـ
تصانیف:
تصنیفات آپ کی فقہ و حدیث میں ستّر کتب سے زیادہ شمار کی گئی ہیں جن میں سے شرح مصابیح السنہ، حاشیہ فتح المغیث شرح الفقیہ الحدیث، حاشیہ مشارق الانوار، تحفۃ الاحیاء فی بافات من تخاریج الاحیاء، منیۃ الالمعلی فی مافات من تخریج احادیث الہدایۃ لزطیعی، تعلیقات نخیۃ الفکر، تخریج احادیث الہدایۃ لزیلعی، تعلیقات نخیۃ الفکر، تخریک احادیث تفسیرابی اللیث نصر بن محمد فقیہ سمر قندی متوفی ۳۸۳ھ، تجیح الجوہر النفی، شرح مجمع البحرین، شرح مختصر المنار، شرح در البھار، معجم، تعلیق تفسیر بیضاوی تاقولہ سبحنہ، فہم لا یرجعون
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-qasim-bin-qatlobagha
ولادت:
قاسم بن قطلو بغا قاہرہ میں ۸۰۲ھ میں پیدا ہوئے، ابو العدل کنیت زین الدین لقب تھا۔ اپنے وقت کے امام، فقیہ، محدث، علامہ، جامع علوم و فنون، استحضار مذہب میں کامل، مناظرہ اور اسکات خصم میں ید طولیٰ رکھتے تھے ۔
آپ صغیر سن ہی تھے کہ آپ کا باپ فوت ہوگیا پہلے آپ قرآن شریف اور چند کتابیں حفظ کر کے مدت تک خیاطت کا کام کرتے رہے پھر تحصیل علم میں مشغول ہوئے چنانچہ علم حدیث کا ھافظ ابنِ حضر عسقلانی اور سراج قاری الہدایہ اور ابنِ ہمام سے حاصل کیا ـ
اور دیگر علوم تاج احمد فرغانی نعمانی قاضی بغداد اور عزبن عبد السلام بغدادی یہاں تک کہ جتنا ان سے پڑھا تھا اس سےزیادہ ان سے سنا اور آپ سے سخوای شافعی صاحبِ ضوء اللماع نے تلمذ کیا ـ
تصانیف:
تصنیفات آپ کی فقہ و حدیث میں ستّر کتب سے زیادہ شمار کی گئی ہیں جن میں سے شرح مصابیح السنہ، حاشیہ فتح المغیث شرح الفقیہ الحدیث، حاشیہ مشارق الانوار، تحفۃ الاحیاء فی بافات من تخاریج الاحیاء، منیۃ الالمعلی فی مافات من تخریج احادیث الہدایۃ لزطیعی، تعلیقات نخیۃ الفکر، تخریج احادیث الہدایۃ لزیلعی، تعلیقات نخیۃ الفکر، تخریک احادیث تفسیرابی اللیث نصر بن محمد فقیہ سمر قندی متوفی ۳۸۳ھ، تجیح الجوہر النفی، شرح مجمع البحرین، شرح مختصر المنار، شرح در البھار، معجم، تعلیق تفسیر بیضاوی تاقولہ سبحنہ، فہم لا یرجعون
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-qasim-bin-qatlobagha
scholars.pk
Hazrat Qasim Bin Qatlobagha
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
03-04-1445 ᴴ | 19-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
04-04-1445 ᴴ | 20-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
04-04-1445 ᴴ | 20-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
04-04-1445 ᴴ | 20-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2