🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
حضرت سید شاہ جمال لاہوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ حسینی سادات میں سے تھے، شجرہ مرشدی آپ کا حضرت بہاء الدین زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ سے اس طرح ملتا ہے کہ حضرت شاہ جمال مرید شیخ ککو ابیگ رحمۃ اللہ علیہ کے، وہ شاہ شرف رحمۃ اللہ علیہ کے، وہ شاہ صد رالدین کے رحمۃ اللہ علیہ، وہ حضرت شیخ بہاء الدین زکریا ملتانی سہروردی رحمتہ اللہ علیہ کے، وہ حضرت شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ کے،وہ حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کے، وہ حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ کے، وہ حضرت معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ کے ، وہ حضرت حبیب عجمی رحمۃ اللہ علیہ کے، وہ حضرت داؤد طائی رحمۃ اللہ علیہ کے، وہ حضرت خواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کے اور وہ حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہ کے۔

آپ نہایت جامع کمالات بزرگ تھے، ہزارہا غیر مسلم آپ کے ہاتھوں دائرہ اسلام میں داخل ہوئے، مظہر جلال اور مصو ر کمال ہونے کے علاوہ علوم ظاہری و باطنی میں بھی یکتائے روزگار تھے، حضرت شاہ جمال اور حضرت شاہ کمال دونوں حقیقی بھائی تھے اور اصلی معنوں میں صاحب جمال اور کمال تھے ۔

مفتی غلام سرور لاہور ی لکھتے ہیں، شیخ بود جامع کمالات ظاہری و باطنی و جمال صورت و مصنوعی مظہر جلال و مصد ر کمال مرید شیخ ککر ابود

تعمیر دمدمہ:
جب آپ دمدمہ کی تعمیر شروع کی تو اس وقت اس کے گرد و نواح میں بے شمار بادشاہی عمارات اور محلا ت تعمیر ہو رہے تھے یعنی سرائے گولیاں والی بن رہی تھیں جن میں تقریباً بیس ہزار آدمی سما سکتے تھے اور راج مزدور مل نہیں رہے تھے تو آپ نے ان سے کہا کہ وہ دن کو شاہی کا م میں مصروف رہیں اور رات کو دمدمہ کی تعمیر کریں چنانچہ اسیا ہی کیا گیا اور یہ دمدمہ ساتھ منزلہ مکمل ہوگیا جو کہ بہت اونچا بن گیا جب شاہی محلا ت میں اس کی خبر پہنچتی تو سلطان بیگم ہمشیرہ شہنشاہ اکبر نے جس کا باغ دمدمہ کے قریب تھا آپ کی خدمت میں پیغام بھیجا کہ آپ کا دمدمہ بہت اونچا ہے اس سے ہمارے محل پر نظر پڑتی ہے اس پر توجہ فرما دیں چبا نچہ ایک دن سماع کی محفل میں جب آپ پر وجد ہوا اور رقص کیا تو چار منزلیں دمدمہ کی زمین کے اندر غرق ہوگئیں اور تین باقی رہ گئیں، سکھوں کی عملد اری میں اس مقبرہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا کیونکہ سکھ اس مقبرہ کے پاس آنے سے ڈرتے تھے حالانکہ انہوں نے سرائے گولیاں والی پر قبضہ کرکے ایک توپ خانہ بھی قائم کرلیا تھا اور شاہی باغات اجاڑ دیئے تھے مگر آپ کے دمدمہ کی طرف رخ کرنے کی ان میں ہمت نہ پڑ سکی ۔

آپ کی اولاد سیالکوٹ میں رہائش پذیر تھی،عہد جہانگیر ی میں خانقاہ کے لیئے بائیس گھماؤں اراضی مخصو ص تھی جو حکومت انگریزی کے دور تک قائم رہی، مہاراجہ شیر سنگھ کے عہد حکومت میں کنواں درگاہ کا گر گیا تھا جس کی مرمت راجہ دھیان سنگھ نے کروائی تھی ۔

وفات:
آپ کی وفات ۱۶۳۹ء بمطابق ۱۰۴۹ھ بعہد شہاب الدین شاہجہان لاہور میں ہوئی اور آبادی اچھرہ میں مدفون ہوئے، فیروز پور روڈ پر جواب نئی آبادی معرض وجود میں آئی ہے اس کو شاہ جمال کالونی کہتے ہیں اور اس میں آنجناب کا مقبرہ ہے جہاں سالانہ عرس ہوتا ہے، مفتی غلام سرور لاہوری نے آپ کی تاریخ وفات ۱۰۴۹ھ تحریر کی ہے،سبز گنبد پاکستان بننے کے بعد میاں خیر الدین جوہری امر تسری نے تعمیر کروایا ہے ۔

( لاہور کے اولیائے سہروردیہ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-shah-jamal-lahori
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت مولانا شاہ عبدالباقی فرنگی محلی مدنی رحمۃ اللہ علیہ

مولانا شاہ عبد الباقی بن مولانا علی محمد بن مولانا محمد معین بن مُلا محمد مبین ۱۲۸۶ھ میں فرنگی محل لکھنؤ میں پیدا ہوئے ـ

مولانا سید عبد الحئی چاٹگامی، مولانا ابو الحسنات عبد الحئی فرنگی محلی، مولانا سید عین القضاۃ مولانا فضل اللہ بن نعمت اللہ فرنگی محلی، مولانا محمد نعیم بن عبد الحکیم سے اخذ علوم کیا، اور حضرت مولانا شاہ عبد الرزاق بن مولانا شاہ جمال الدین سے بیعت کی، ایک مدت تک فرنگی محل میں درس و تدریس میں مشغول رہے، پھر حرمین شریفین کا سفر کیا، حج کے بعد مدینہ منورہ میں سکونت اختیار کی اور ملا نظام الدین بانی درس نظامی کی یاد میں مدرسہ نظامیہ قائم کیا، اور پوری توجہ سے تدریس کے کام میں مصروف ہوئے، نظام حیدر آباد میر عثمان علی مرحوم کی طرف سے مدرسہ کا وظیفہ مقرر تھا۔

سلطنت ہاشمی کے سقوط کے بعد آپ سخت آزمائش میں مبتلا ہوگئے، نجدی حکومت کی آپ پر سخت نظر تھی، مگرآپ نے اعتقادی امور میں مداہنت کبھی گوارا نہیں کی ۔۔۔۔۔

وصال:
۴ ربیع الآخر ۱۳۶۴ھ میں آپ فوت ہوئے اور جنۃ البقیع میں دفن کیے گئے ۔۔۔۔

حضرت علامہ محمد علی حسین خیر آبادی مدنی رحمۃ اللہ علیہ آپ کے ممتاز تلمیذ وخلیفہ تھے۔ حضرت علامہ شیخ ضیاء الدین احمد مدنی مدظلہٗ کو آپ نے اجازت مرحمت فرمائی تھی۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-abdul-baqi-farangi-mahalli-madani
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
مفتی عبد الحمید قادری رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
مفتی عبد الحمید قادری ۔ والد کا اسمِ گرامی: استاذ الحفاظ حافظ عبد المجید قادری رحمۃ اللہ علیہ ۔

تاریخِ ولادت:
حضرت مولانا مفتی عبد الحمید قادری 1319ھ، مطابق 1901ء میں قصبہ " آنولہ " (ضلع بریلی ۔ یو ۔ پی انڈیا) میں پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
قرآن پاک والد ماجد سے حفظ کیا ، فارسی اور عربی کی ابتداء کتابیں مونانا برکت اللہ اور مولانا رحیم بخش سے پڑھیں، بعد ازاں بریلی شرف جاکر مولانا رحم الٰہی، مولانا عبد العزیز خاں ، مولانا عبد المجید آنو لوی ، اور حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خان بریلوی قدس سرہ سے علوم دینیہ کی تحصیل و تکمیل کی ۔

سیرت و خصائص:
مدرسِ اہلسنت، مفتیِ اہلسنت ، استاذ العلماء حضرت علامہ مولانا مفتی عبد الحمید قادری رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ نے کچھ عرصہ بریلی شریف میں سلسلۂ درس و تدریس جاری رکھا ، بعد ازاں جامعہ حنفیہ رضویہ ، بنارس میں صدر مدرس اور شیخ الحدیث رہے تقریر و تحریر پر یکساں قدرت رکھتے تھے۔کتبِ درسیہ میں ید طولیٰ رکھتے تھے ، اعلاء کلمۃ الحق اور تبلیغِ دین پوری بے باکی سے انجام دیتے تھے ۔ 1946ء میں " آل انڈیا سنی کانفرنس " کے مشہور اجلاس کے انعقاد میں حصہ لیا اور اس کے سرگرم رکن رہے ۔

پاکستان کی حمایت اور کانگریس کا رد نہایت شدت سے کرتے تھے ۔ مذہبِ احناف پر دلنشین اور سہل انداز میں دلائل دیا کرتے تھے ۔ غیر مقلدین کے رد میں چند مفید رسائل سپردِ قلم کئے 1950ء میں پاکستان آکر شہداد پور (سندھ) میں قیام پذیر ہو گئے اور وعظ و تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا، آخر میں جامع مسجد نواب شاہ میں خطیب اور مفتی مقرر ہو گئے۔ کثیر مخلوق آپ کے علم سے مستفید ہوئی ۔

وصال:
بروز پیر 4 ربیع الثانی1393ھ، مطابق 7 مئی 1973ء کو " نواب شاہ " سندھ میں انتقال ہوا ۔

ماخذ و مراجع: تذکرہ اکابرِ اہلسنت

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abdul-hameed-qadri-noshahi
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
غزالیِ زماں ، علامہ سیّد احمد سعید شاہ کاظمی علیہ الرحمہ

نام و نسب:
اسم گرامی: سیّد احمد سعید شاہ کاظمی ۔ کنیت: ابو النجم ۔ اَلقاب: غزالیِ زماں، رازیِ دوراں، امامِ اہلِ سنّت ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
سیّد احمد سعید شاہ کاظمی بن حضرت سیّد مختار احمد کاظمی بن حافظ سیّد یوسف علی شاہ چشتی قادری بن مولانا سیّد شاہ وصی اللہ نقشبندی مجددی قادری بن مولانا سیّد شاہ صبغت اللہ نقشبندی مجددی چشتی صابری بن مولانا سیّد شاہ سیف اللہ چشتی قادری بن مولانا سیّد میرمحمد اشرف دہلوی ثم امروہی اِلٰی اٰخِرِہٖ ۔

آپ کا سلسلۂ نسب 44 واسطوں سے سرورِ عالم ﷺ تک پہنچتا ہے ۔ (حیاتِ غزالیِ زماں، ص:33)

آپ حضرت امام موسیٰ کاظم کی اولاد سے ہیں، اس لیے ’’کاظمی‘‘ کہلاتے ہیں ۔

غزالیِ زماں، رازیِ دوراں کی وجہ تسمیہ:
حضور محدثِ اعظم ہند، وحید العصر، قدوۃ العلماء حضرت سیّد محمد محدث کچھوچھوی نے علمائے کرام کی مجلس، جس میں علمائے کرام و دانشوران کی کثیر تعداد اور عوام کا ایک جم غفیر موجود تھا، میں ’’غزالیِ زماں، رازیِ دوراں‘‘ کا خطاب عطا فرمایا ۔ علمائے کرام اور عوام نے فلگ شگاف نعروں کے ساتھ حضور محدث اعظم ہند کچھوچھوی کے قول کی تصدیق کی، اُس وقت سے آج تک یہ اَلقاب حضرت علامہ کاظمی کا عرف قرار پائے ہیں ۔ (حیاتِ غزالیِ زماں، ص:86)

ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز جمعرات 4 ربیع الثانی 1331ھ، مطابق 13 مارچ 1913ء بوقت صبح چار بجے، محلہ کٹکوئی شہر امروہہ، ضلع مراد آباد (انڈیا) میں ہوئی ۔ (اب امروہہ ایک مستقل ضلع بن چکا ہے ۔ انسائیکلوپیڈیا)

تحصیلِ علم:
آپ ایک علمی خاندان کے روشن چراغ ہیں ۔ آپ کا خاندان علم و فضل، زہد و تقویٰ میں پورے ہندوستان میں معروف تھا ۔ بچپن میں والدِ گرامی کا سایۂ عاطفت سر سے اٹھ گیا ۔ تمام تر تعلیم و تربیت اپنے برادرِ بزرگ، محدثِ جلیل حضرت علامہ مولانا سیّد محمد خلیل محدث امروہوی سے حاصل کی ۔ وہ مدرسہ بحر العلوم شاہ جہاں پور میں مدرّس تھے اور حضرت علامہ کاظمی کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتے تھے ۔ امامِ اہلِ سنّت نے 16 سال کی عمر میں 1348ھ مطابق 1929ء میں مدرسۂ محمدیہ حنفیہ امروہہ سے سندِ فراغت حاصل کی ۔ شیخ المشائخ، ہم شکلِ غوث الاعظم حضرت شاہ علی حسین اشرفی المعروف ’’اشرفی میاں‘‘ نے دستارِ فضیلت باندھی، اس تقریبِ سعید میں حضور صدر الافاضل، علامہ سیّد نعیم الدین مراد آبادی، مناظر اسلام حضرت مولانا نثار احمد کانپوری بن علامۂ زماں مولانا احمد حسن کانپوری و دیگر جیّد علماء شریک تھے، جنہوں نے آپ کو خصوصی دعاؤں سے نوازا ۔

بیعت و خلافت:
اپنے برادرِبزرگ، محدثِ شہیر، عالمِ کبیر، اُستاذ العلماء الراسخین حضرت مولانا سیّد محمد خلیل چشتی صابری محدث امروہوی ﷫ کے دستِ حق پرست پر سلسلۂ عالیہ چشتیہ صابریہ میں بیعت ہوئے،اور خلافت سے مشرف کیے گئے۔

شہزادۂ اعلیٰ حضرت کی شفقت:
غزالیِ زماں رازیِ دوراں﷫ کو اعلیٰ حضرت مجددِ اسلام مولانا الشاہ امام احمد رضا خاں قادری ﷫کی ذاتِ گرامی سے بڑی گہری عقیدت ومحبت تھی، بلکہ آپ مسلکِ اعلیٰ حضرت کے عظیم مبلغ و داعی تھے۔قیام ِ پاکستان سے قبل اعلیٰ حضرت ﷫ کے اَعراس میں شریک ہوتے تھے۔ایک مرتبہ اپنے مرشِدو استاذِ محترم حضرت مولانا سیّد خلیل احمد محدث امروہوی ﷫ کےہمراہ عرسِ اعلیٰ حضرت میں شریک ہوئے اور عرس کی تقریب میں ہزاروں علما ومشائخ تشریف فرماتھے اور وقفے وقفے سےتقاریر کررہےتھے، شہزادۂ اعلیٰ حضرت مفتیِ اعظمِ ہند مولانا مصطفیٰ رضا خاں﷫ اپنے کاشانۂ اقدس کے باہر رضوی دارالافتاء میں رونق افروز تھے۔علامہ کاظمی صاحب کے خطاب کی باری آئی تو آپ نے اعلیٰ حضرت کےتجدیدی کارناموں پر فصیح وبلیغ انداز میں بیان فرمایا، دار الافتاء میں بیان کی آواز پہنچ رہی تھی،شہزادۂ اعلیٰ حضرت، اظہار ِ مسرت فرمارہےتھے۔

شہزادۂ اعلیٰ حضرت، حضور مفتیِ اعظمِ ہند علیہ الرحمہ نے آپ کی تقریر کی جامعیت وقوتِ استدلال کی تعریف کرتےہوئے ارشادفرمایا:

’’امروہہ کے چھوٹے شاہ صاحب تقریر کر رہے ہیں۔ ماشاء اللہ خوب فصاحت وبلاغت ہے۔ بہت اچھا مطالعہ ہے،اللہ تعالیٰ برکت دے۔‘‘

حضرت مفتیِ اعظہم ہند ﷫نے نہ صرف آپ کو سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کی اجازت عطا فرمائی، بلکہ سندِ حدیث بھی عطاء فرمائی ۔ (حیاتِ غزالیِ زماں، ص142)

سیرت و خصائص:
قدوۃ السالکین، سندالمحدثین، رئیس المفسرین، امام المدرسین، اُستاذالعلما، مرجع الفضلا، سیّد الاتقیا، رئیس الفقہا، ضیغمِ اسلام، متکلم اسلام، امام المنقولات والمعقولات، مجمع البحرین، قطبِ دوراں، غزالیِ زماں، رازیِ دوراں، امامِ اہلِ سنّت شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا سیّد احمد سعید شاہ کاظمی ۔ حضرت غزالیِ زماں رازیِ دوراں بالعموم تمام علوم اور بالخصوص تفسیر وحدیث کے مسند نشیں، محراب ومنبر کی زینت، خانقاہ و درویشی کا جمال، رشد و ہدایت کا صوفیانہ اندازِ دل نشیں، لاینحل سوالات کی عقدہ کشائی، قرآن وحدیث کی روشنی میں اہل اسلام کی راہ ن
1
مائی،اور دین اسلام کی سربلندی کےلیے سوزوگداز کی مجسم کیفیت والی عظیم شخصیت تھے۔آپ جامع کمالاتِ علمیہ وعملیہ تھے۔ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے، اسلامی علوم وفنون کے یکتائے روزگار، ماہر اور اَسرارِ معرفت کادبستان تھے۔

عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ تدریس، تصنیف، خطابت، اور مقامِ فقرو معرفت، یہ اوصاف کسی ایک شخصیت میں جمع نہیں ہوتے۔کوئی اگر عظیم خطیب ہوتا ہے تو اس درجے کا مصنف نہیں ہوتا،اور اگر میدانِ تصنیف میں بام عروج کو پہنچ جائے،تو تدریس میں اس بلند مقام کاحامل نہیں ہوتا،لیکن حضرت غزالیِ زماں، رازیِ دوراں﷫ کی شخصیت اس عمومی قاعدےسےمستثنیٰ تھی،آپ بَہ یک وقت بہترین مدرس و محدث، بلند پایہ مصنّف،جادو بیاں خطیب،اور صاحبِ کمال شیخِ طریقت تھے۔یہی سبب تھا کہ مخالفین نے آپ کاراستہ روکنے کی بارہا کوششیں کیں،یہاں تک کہ آپ پر قاتلانہ حملے کیے،مگر آپ کےپائے استقلال میں جنبش نہ آئی،اور آپ کا ہر قدم منزل کی طرف آگے ہی بڑھتا رہا اور ایک وہ وقت آیا کہ آپ ’’اہلِ سنّت وجماعت‘‘ کی آبرواور پہچان بن گئے۔

غزالیِ زماں اور علامہ اقبال:
جن دنوں آپ جامعہ نعمانیہ لاہور میں مدرّس تھے، زندہ دلانِ لاہور نے موچی دروازے کےباغ میں ’’عید میلاد النبیﷺ‘‘ کےسلسلے میں ایک عظیم الشان جلسے کا اہتمام کیا۔ مفکر اسلام شاعر مشرق علامہ محمد اقبال﷫ کرسی ِ صدارت پر بیٹھے ہوئے محویت کےعالم میں علامہ کاظمی﷫کاخطابِ لاجواب سن رہے تھے۔آپ نے صرف نبی مکرم ﷺ کےاسم گرامی’’محمد‘‘ﷺ کی عظمت میں ایک گھنٹہ تقریر فرمائی۔تقریر کےبعد علامہ اقبال نے آپ کوسینے سےلگایا اور کہا:

؏: ایسی چنگاری بھی، یا رب! اپنی خاکستر میں ہے
اور پھر مسکرا کر تھپکی دیتے ہوئے اور فرمایا:

’’برخوردار! لگتا ہے بہت نام پیدا کروگے ۔ ‘‘ (نور نور چہرے، ص16؛ حیاتِ غزالی زماں، ص40)

قومی و ملّی خدمات:
ملّتِ اسلامیہ کو جب بھی کوئی مشکل مرحلہ پیش آیا۔حضرت غزالی زماں﷫ نے ہمیشہ قائدانہ کردار اداکیا۔ 1946ء میں ’’آل انڈیا سنّی کانفرنس‘‘میں علما ومشائخ کے وفد کے ہمراہ شریک ہوئے اور مطالبۂ پاکستان کی پرزور حمایت کی۔ یاد رہے کہ یہ کانفرنس تحریک ِ پاکستان کی تاریخ میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔علما ومشائخ اہل سنّت کی پر زور حمایت کی بدولت قیام پاکستان کاخواب شرمندۂ تعبیر ہوا۔قائدِ اعظم محمد علی جناح مرحوم سے خط وکتابت کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ آپ نے تحریکِ پاکستان،تحریکِ ختمِ نبوّت، اور تحریکِ نظام مصطفیٰﷺمیں قائدانہ حصہ لیا۔ تمام عمر مقامِ مصطفیٰﷺ کےتحفّظ، اور نظامِ مصطفیٰﷺ کےنفاذ کےلیے جدوجہد کرتےرہے۔ قیامِ پاکستان کےبعد1948ء میں انوارالعلوم ملتان میں علمائے اہلِ سنّت کااجلاس بلایا،اور آل انڈیا سنّی کانفرنس کا نام تبدیل کرکے’’جمیعت علمائے پاکستان‘‘ کی تشکیل کی گئی۔ 1960ء میں اہلِ سنّت کےمدارس کو منظّم کرنے کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے ’’تنظیم المدارس‘‘ قائم کی۔ 1978ء کو ملتان قلعہ قاسم باغ میں فقید المثال ’’کل پاکستان سنّی کانفرنس‘‘ منعقد کرائی، جس میں اخباری اطلاع کےمطابق دس ہزار سے زیادہ علما و مشائخ،اور بیس سے پچیس لاکھ تک عوامِ اہلِ سنّت کا اجتماع تھا۔ اِسی موقع پر ’’جماعت ِاہلِ سنّت‘‘ کی تشکیل ہوئی۔آپ اس کےصدر منتخب کیے گئے۔تبلیغی جماعت کے مقابلے میں ’’دعوتِ اسلامی‘‘ کی تشکیل میں بھی آپ کااہم کردار ہے۔ انوارالعلوم کی صورت میں اہلِ سنّت وجماعت کو ایک عظیم ادارہ دیا، جہاں سےہزاروں علما وفضلا اپنی علمی پیاس بجھاکر پوری دنیا کوعُلوم ِ مصطفیٰﷺسے سیراب کر رہے ہیں۔

آپ ﷫تمام عظمتوں، فضیلتوں،اور کثیر تلامذہ ومریدین کے باوجود تواضع وانکساری کاپیکر تھے۔آپ کی بارگاہ میں کوئی بھی آدمی معمولی نہیں تھا، بلکہ عوام اور غریبوں سے زیادہ محبت واُنس رکھتےتھے۔معمولی آدمی سے بڑی محبت اور احترام سے ملتے تھے۔جو دینی مدارس کی خدمت،یا جامعہ انوارالعلوم کےلیے عطیات کی صورت میں خدمت کرتا اسے بہت ہی دعاؤں سےنوازتےتھے۔ جوشخص آپ کی خدمت میں ایک دفعہ بھی حاضر ہوا، وہ ہمیشہ کےلیے آپ کی عقیدت ومحبت لے کر واپس آیا۔

ماشاء اللہ! یہ اوصاف آپ کے صاحبزادگان میں بھی ہیں، تمام صاحبزادگان حتی المقدور مسلکِ اہلِ سنّت کے فروغ میں اپنا اپنا کردار ادا کر رہے ہیں ۔ اس مختصر تذکرے میں آپ کی خدمات ِ جلیلہ کا احاطہ ناممکن ہے ۔ (فقیر تونسویؔ غُفِرَلَہٗ)

وصال:
بروز بدھ، 25 رمضان المبارک 1406ھ، مطابق 4 جون 1986ء کو اِفطاری کے بعد واصل بااللہ ہوئے ۔ شاہی عید گاہ ملتان میں مزارِ پُر اَنوار مرجعِ خلائق ہے ۔

مآخذ و مَراجع:
1. تعارف علمائے اہلِ سنّت ۔
2. نور نور چہرے ۔
3. حیاتِ غزالیِ زماں ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-syed-ahmed-saeed-kazmi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👌1
حضرت قاسم بن قطلوبغا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

ولادت:
قاسم بن قطلو بغا قاہرہ میں ۸۰۲ھ میں پیدا ہوئے، ابو العدل کنیت زین الدین لقب تھا۔ اپنے وقت کے امام، فقیہ، محدث، علامہ، جامع علوم و فنون، استحضار مذہب میں کامل، مناظرہ اور اسکات خصم میں ید طولیٰ رکھتے تھے ۔

آپ صغیر سن ہی تھے کہ آپ کا باپ فوت ہوگیا پہلے آپ قرآن شریف اور چند کتابیں حفظ کر کے مدت تک خیاطت کا کام کرتے رہے پھر تحصیل علم میں مشغول ہوئے چنانچہ علم حدیث کا ھافظ ابنِ حضر عسقلانی اور سراج قاری الہدایہ اور ابنِ ہمام سے حاصل کیا ـ

اور دیگر علوم تاج احمد فرغانی نعمانی قاضی بغداد اور عزبن عبد السلام بغدادی یہاں تک کہ جتنا ان سے پڑھا تھا اس سےزیادہ ان سے سنا اور آپ سے سخوای شافعی صاحبِ ضوء اللماع نے تلمذ کیا ـ

تصانیف:
تصنیفات آپ کی فقہ و حدیث میں ستّر کتب سے زیادہ شمار کی گئی ہیں جن میں سے شرح مصابیح السنہ، حاشیہ فتح المغیث شرح الفقیہ الحدیث، حاشیہ مشارق الانوار، تحفۃ الاحیاء فی بافات من تخاریج الاحیاء، منیۃ الالمعلی فی مافات من تخریج احادیث الہدایۃ لزطیعی، تعلیقات نخیۃ الفکر، تخریج احادیث الہدایۃ لزیلعی، تعلیقات نخیۃ الفکر، تخریک احادیث تفسیرابی اللیث نصر بن محمد فقیہ سمر قندی متوفی ۳۸۳ھ، تجیح الجوہر النفی، شرح مجمع البحرین، شرح مختصر المنار، شرح در البھار، معجم، تعلیق تفسیر بیضاوی تاقولہ سبحنہ، فہم لا یرجعون

( حدائق الحنفیہ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-qasim-bin-qatlobagha
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
03-04-1445 ᴴ | 19-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
04-04-1445 ᴴ | 20-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2