🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
03-04-1445 ᴴ | 19-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
03-04-1445 ᴴ | 19-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
01-04-1445 ᴴ | 17-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ #عید_غوثیہ 52 #غوث_الاعظم ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ اِس سلسلے کی پہلی قِسط یہاں ہے↯ https://t.me/islaamic_Knowledge/10175 https://t.me/SirfUrduTahrir/6731
03-04-1445 ᴴ | 19-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#عید_غوثیہ 53 #غوث_الاعظم
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اِس سلسلے کی پہلی قِسط یہاں ہے↯
https://t.me/islaamic_Knowledge/10175
https://t.me/SirfUrduTahrir/6731
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#عید_غوثیہ 53 #غوث_الاعظم
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اِس سلسلے کی پہلی قِسط یہاں ہے↯
https://t.me/islaamic_Knowledge/10175
https://t.me/SirfUrduTahrir/6731
❤2
حضرت خواجہ ابو محمد چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آں از قید زمان ومکان آزاد، ومدام دروصل دوست خرم وشاد، خوکردہ جمال محمدی، پروردہ کمال احمدی، منزہ از طمطراق زیب وزشتی، ولی مادرازد، حضرت خواجہ ابو محمد چشتی قدس سرہٗ کرامات وخوارق میں مشہور اور نسبت تجلیات ذات میں معروف تھے۔
آپ بڑے بلند مرتبہ بزرگ اور عظیم الشان درویش تھے۔ آپ کا لقب ناصح الدین ہے۔ آپ اپنے والد ماجد حضرت خواجہ ابو احمد چشتی قدس سرہٗ کے مرید و خلیفہ تھے۔
سیر الاولیاء میں لکھا ہے کہ آپ ذوق و شوق اور غایت مجاہدہ کی وجہ سے نماز معکوس ادا کرتے تھے۔ آپ کے گھر میں ایک کنواں تھا جس میں لٹک کر آپ یہ نماز ادا کرتے تھے۔
آپ کی والدہ ماجدہ فرماتی ہیں کہ چار ماہ حمل کے بعد آپ اندر سے کملہ طیبہ کی آواز سنتی تھیں۔ ایک دن میں اس کےو الد کے ساتھ بیٹھی تھی۔ انہوں نے میرے حمل کی طرف مخاطب ہوکر فرمایا السلام علیکم یا ولی اللہ وخلیفتی (السلام علیکم ولی اللہ اور میرے خلیفہ) بطن مادر سے کچھ آواز آئی۔ لیکن معلوم نہ ہوسکا کہ کیا آواز ہے۔
آپ کی والدہ نے اپنے خاوند سے کہا کہ آپ نے اس کو السلام علیکم تو کہہ دیا لیکن معلوم نہیں وہ لڑکی ہے یا لڑکا۔ آپ نے فرمایا کی مجھے اللہ تعالیٰ بشارد دی ہے اور میرے ساتھ وعدہ فرمایا ہے نیز لوح محفوظ پر بھی میں نے لکھا دیکھا ہے کہ میرےہاں ایک مادرز ادولی اللہ پیدا ہوگا۔ سیر الاقطاب میں لکھا ہے کہ جس رات حضرت اقدس پیدا ہوئے شب عاشورہ تھی والد بزرگوار نے خواب میں دیکھا کہ سرور کائنات ﷺ کی زیارت ہوئی ہے اور آپ فرمارہے ہیں کہ اے ابو احمد تجھے مبارک ہو تمہارے گھر لڑکا پیدا ہوا۔ اس کا نام میرے نام پر رکھنا اور اس کو میرا سلام کہنا۔
جب آپ خواب سے بیدار ہوئے تو دیکھا کہ بچہ پیدا ہوا ہے۔ بچہ ابھ پانی میں نہلایا جارہا تھا کہ آپ نے سات مرتبہ کلمہ طیّبہ لا الہٰ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھا۔ حضرت خواجہ ابو احمد نے تجدید وضو کر کے بچے کو السلام علیکم کہا بچے نے جواب دیا وعلیک السلام یا شیخنا قل ما رؤیا ک ہذہٖ اللیلۃ (وعلیکم السلام اے ہمارے شیخ اور بیان فرمائیے وہ خواب جو آج رات آپ نے دیکھا ہے) یہ سن کر بچے نے سرزمین پر رکھ دیا اور سجدہ کیا حضرت شیخ نے بھی سجدہ کیا اور دعا کی کہ الٰہی اس بچے کو ولی کامل بنا۔ آواز آئی کہ اے ابو احمد میں نے تمہاری دعا قبول کی ہے اور تمہارے اس بچہ کو اپنا مقبول بنایا ہے۔ اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ جب شب عاشورہ کو آپ کا تولد ہوا تو دوسرے دن یعنی عاشورہ کے دن آپ نے والد کا دودھ نہ پیا۔
والدہ نے حضرت خواجہ ابو احمد سے شکایت کی تو فرمایا کہ تیرا بیٹا ولی مادرزاد ہے۔ انبیاء اور اولیاء کی متابعت کر رہا ہے اور یوم عاشورہ کا احترام کر رہا ہے۔ چنانچہ اسی طرح ہوا۔ جب آفتاب غروب ہوا تو آپ نے دودھ پینا شروع کیا۔ ایک دن والدہ ماجدہ آپ کو دودھ پلارہی تھیں۔ عین دودھ پیتے وقت آپ بہت ہنسے یہ دیکھ کر ان کی والدہ کو تعجب ہوا اور حضرت خواجہ ابو احمد سے عرض کیا۔ آپ نے فرمایا کہ شیطان بچے کو رلانے کے لیے آیا تھا اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا۔ کہ شیطان کو دور بھگا دو اور لعنت ملامت کرو۔ جب پیشمان ہوکر بھاگا تو بچے کو ہنسی آ گئی۔
اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت خواجہ محمد چشتی کی والدہ فرماتی ہیں کہ جس روز آپ پیدا ہوئے اسی روز سے ڈھائی سال تک آپ پنجگانہ ن ماز کے وقت آنکھیں آسمان کی طرف کر کے لا تعداد بار لا الہٰ الا اللہ کہتے تھے۔ اور آپ کے چہرہ مبارک پر ایسا نور چھا جاتا تھا کہ جس سے تمام گھر روشن ہوجاتا تھا اورچراغ کی ضرورت نہیں رہتی تھی ار روشنی اس قدر ہوتی تھی کہ اگر سوئی بھی گر جائے آپ کے نور جبیں سے مل جاتی تھی۔ سیر الاقطاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ جب آپ ڈھائی سال کے ہوئے دودھ کم پیتے تھے۔ والدہ نے حضرت خواجہ ابو احمد کی خدمت میں شکایت کی تو فرمایا کہ ابو محمد درویش ہے اور کم کھانا کمال درویشی ہے شروع ہی سے کم کھانے کی عادت ڈال رہا ہے۔
جب آپ چار سال اور چار ماہ کے ہوئے تو آپ کو مدرسہ بھیجا گیا۔ ناگاہ آپ کی تختی پر یہ الفاظ ظاہر ہوئے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم علم القرآں رب یسر ولا تعسر رب زدنی علماء وفہما وتمم بالخیر (بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اے رب فہم قرآن آسان کر مشکل نہ کر اور میرے علم و فہم میں برکت دے اور خاتمہ بالخیر فرما)چنانچہ تھوڑے عرصہ میں آپ نے قرآن پڑھ لیا۔ علوم دینی حاصل کیے اور کمال کو پہنچے۔ چودہ سال کی عمر سے آپ نے خلوت اختیار کی۔ اس وقت سے آپ کی زبان سے جو کچھ نکلا پورا ہوا۔
خلیفہ وقت اور ساری خلقت اسی وقت سے آپ کی بے حد معتقد ہوگئے اور جو شخص مراد لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا۔ کامیاب ہوتا تھا۔ آپ تیس سال تک باوضو رہے اور جو کافر آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا مسلمان ہوجاتا تھا چنانچہ شہر چشت میں کوئی کافر باقی نہ رہا۔
آں از قید زمان ومکان آزاد، ومدام دروصل دوست خرم وشاد، خوکردہ جمال محمدی، پروردہ کمال احمدی، منزہ از طمطراق زیب وزشتی، ولی مادرازد، حضرت خواجہ ابو محمد چشتی قدس سرہٗ کرامات وخوارق میں مشہور اور نسبت تجلیات ذات میں معروف تھے۔
آپ بڑے بلند مرتبہ بزرگ اور عظیم الشان درویش تھے۔ آپ کا لقب ناصح الدین ہے۔ آپ اپنے والد ماجد حضرت خواجہ ابو احمد چشتی قدس سرہٗ کے مرید و خلیفہ تھے۔
سیر الاولیاء میں لکھا ہے کہ آپ ذوق و شوق اور غایت مجاہدہ کی وجہ سے نماز معکوس ادا کرتے تھے۔ آپ کے گھر میں ایک کنواں تھا جس میں لٹک کر آپ یہ نماز ادا کرتے تھے۔
آپ کی والدہ ماجدہ فرماتی ہیں کہ چار ماہ حمل کے بعد آپ اندر سے کملہ طیبہ کی آواز سنتی تھیں۔ ایک دن میں اس کےو الد کے ساتھ بیٹھی تھی۔ انہوں نے میرے حمل کی طرف مخاطب ہوکر فرمایا السلام علیکم یا ولی اللہ وخلیفتی (السلام علیکم ولی اللہ اور میرے خلیفہ) بطن مادر سے کچھ آواز آئی۔ لیکن معلوم نہ ہوسکا کہ کیا آواز ہے۔
آپ کی والدہ نے اپنے خاوند سے کہا کہ آپ نے اس کو السلام علیکم تو کہہ دیا لیکن معلوم نہیں وہ لڑکی ہے یا لڑکا۔ آپ نے فرمایا کی مجھے اللہ تعالیٰ بشارد دی ہے اور میرے ساتھ وعدہ فرمایا ہے نیز لوح محفوظ پر بھی میں نے لکھا دیکھا ہے کہ میرےہاں ایک مادرز ادولی اللہ پیدا ہوگا۔ سیر الاقطاب میں لکھا ہے کہ جس رات حضرت اقدس پیدا ہوئے شب عاشورہ تھی والد بزرگوار نے خواب میں دیکھا کہ سرور کائنات ﷺ کی زیارت ہوئی ہے اور آپ فرمارہے ہیں کہ اے ابو احمد تجھے مبارک ہو تمہارے گھر لڑکا پیدا ہوا۔ اس کا نام میرے نام پر رکھنا اور اس کو میرا سلام کہنا۔
جب آپ خواب سے بیدار ہوئے تو دیکھا کہ بچہ پیدا ہوا ہے۔ بچہ ابھ پانی میں نہلایا جارہا تھا کہ آپ نے سات مرتبہ کلمہ طیّبہ لا الہٰ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھا۔ حضرت خواجہ ابو احمد نے تجدید وضو کر کے بچے کو السلام علیکم کہا بچے نے جواب دیا وعلیک السلام یا شیخنا قل ما رؤیا ک ہذہٖ اللیلۃ (وعلیکم السلام اے ہمارے شیخ اور بیان فرمائیے وہ خواب جو آج رات آپ نے دیکھا ہے) یہ سن کر بچے نے سرزمین پر رکھ دیا اور سجدہ کیا حضرت شیخ نے بھی سجدہ کیا اور دعا کی کہ الٰہی اس بچے کو ولی کامل بنا۔ آواز آئی کہ اے ابو احمد میں نے تمہاری دعا قبول کی ہے اور تمہارے اس بچہ کو اپنا مقبول بنایا ہے۔ اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ جب شب عاشورہ کو آپ کا تولد ہوا تو دوسرے دن یعنی عاشورہ کے دن آپ نے والد کا دودھ نہ پیا۔
والدہ نے حضرت خواجہ ابو احمد سے شکایت کی تو فرمایا کہ تیرا بیٹا ولی مادرزاد ہے۔ انبیاء اور اولیاء کی متابعت کر رہا ہے اور یوم عاشورہ کا احترام کر رہا ہے۔ چنانچہ اسی طرح ہوا۔ جب آفتاب غروب ہوا تو آپ نے دودھ پینا شروع کیا۔ ایک دن والدہ ماجدہ آپ کو دودھ پلارہی تھیں۔ عین دودھ پیتے وقت آپ بہت ہنسے یہ دیکھ کر ان کی والدہ کو تعجب ہوا اور حضرت خواجہ ابو احمد سے عرض کیا۔ آپ نے فرمایا کہ شیطان بچے کو رلانے کے لیے آیا تھا اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا۔ کہ شیطان کو دور بھگا دو اور لعنت ملامت کرو۔ جب پیشمان ہوکر بھاگا تو بچے کو ہنسی آ گئی۔
اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت خواجہ محمد چشتی کی والدہ فرماتی ہیں کہ جس روز آپ پیدا ہوئے اسی روز سے ڈھائی سال تک آپ پنجگانہ ن ماز کے وقت آنکھیں آسمان کی طرف کر کے لا تعداد بار لا الہٰ الا اللہ کہتے تھے۔ اور آپ کے چہرہ مبارک پر ایسا نور چھا جاتا تھا کہ جس سے تمام گھر روشن ہوجاتا تھا اورچراغ کی ضرورت نہیں رہتی تھی ار روشنی اس قدر ہوتی تھی کہ اگر سوئی بھی گر جائے آپ کے نور جبیں سے مل جاتی تھی۔ سیر الاقطاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ جب آپ ڈھائی سال کے ہوئے دودھ کم پیتے تھے۔ والدہ نے حضرت خواجہ ابو احمد کی خدمت میں شکایت کی تو فرمایا کہ ابو محمد درویش ہے اور کم کھانا کمال درویشی ہے شروع ہی سے کم کھانے کی عادت ڈال رہا ہے۔
جب آپ چار سال اور چار ماہ کے ہوئے تو آپ کو مدرسہ بھیجا گیا۔ ناگاہ آپ کی تختی پر یہ الفاظ ظاہر ہوئے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم علم القرآں رب یسر ولا تعسر رب زدنی علماء وفہما وتمم بالخیر (بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اے رب فہم قرآن آسان کر مشکل نہ کر اور میرے علم و فہم میں برکت دے اور خاتمہ بالخیر فرما)چنانچہ تھوڑے عرصہ میں آپ نے قرآن پڑھ لیا۔ علوم دینی حاصل کیے اور کمال کو پہنچے۔ چودہ سال کی عمر سے آپ نے خلوت اختیار کی۔ اس وقت سے آپ کی زبان سے جو کچھ نکلا پورا ہوا۔
خلیفہ وقت اور ساری خلقت اسی وقت سے آپ کی بے حد معتقد ہوگئے اور جو شخص مراد لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا۔ کامیاب ہوتا تھا۔ آپ تیس سال تک باوضو رہے اور جو کافر آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا مسلمان ہوجاتا تھا چنانچہ شہر چشت میں کوئی کافر باقی نہ رہا۔
❤2
مسلمانوں کا یہ حال تھا کہ جو شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا عرش سے تحت الثرےٰ تک اس پر منکشف ہو جاتا تھا اور ولی کامل بن جاتا تھا۔
والد کا وصال اور سجادگی:
جب آپ کی عمر چوبیس سال ہوئی تو والد ماجد کا وصال ہوگیا۔ آپ ان کے قائم مقام ہوئے اور مسند خلافت پر متمکن ہوئے اور لوگ جوق در جوق آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر مرید ہونے لگے۔ آپ بارہ سال تک اپنے حجرہ میں مشغول رہے۔ سات دن کے بعد ایک خرما کے دانہ سے افطار کرتے تھے کہتے ہیں کہ ایک دن ایام طفلی میں راستے میں خواجہ خضر سے ملاقات ہوئی۔ خضر نے فرمایا کہ اے ابو محمد مبارک ہو مجھے حضرت رب العزت سے حکم ملا ہے کہ آپ کو ظاہری و باطنی تعلیم دوں آپ نے خضر علیہ السلام کے قدم چوم کر کہا کہ اے خواجہ جو حکم ہو فرمائیں۔
چنانچہ خضر علیہ السلام نے آپ کو اسم اعظم بتایا تو اسی وقت علوم واسرار منکشف ہوگئے وہاں سے واپس گھر کو چلے گئے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا تختی دکھاؤ آج تم نے کیا پڑھا ہے۔ آپ نے فرمایا اما جان! میں نے جو کچھ پڑھا ہے تختی میں ہیں سما سکتا۔ اس کے بعد والدہ نے قرآن مجید ان کے سامنے رکھا تو فرمایا کہ اماں جان! قرآن اپنے پاس رکھو میں زبانی پڑہتا ہوں۔ چنانچہ انہوں نے تھوڑی دیر میں تمام قرآن پڑھ لیا۔ یہ دیکھ کر والدہ کو تعجب ہوا اور شکر ادا کیا۔
اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ ایک دن خواجہ ابو احمد سماع سن رہے تھے اور قوال سُر کے ساتھ اشعار پڑھ رہے تھے اور آپ وجد میں تھے کہ یکا یک آپ کی نظر فیض اثر خواجہ ابو محمد پر پڑی اور سماع میں شام ہونے کا حکم خواجہ ابو محمد مست و مدہوش ہوکر سماع میں شامل ہوئے دیر تک ذوق وشوق کی حالت میں بیٹھنے کے بعد بے ہوش ہوکر گر گئے۔ حضرت خواجہ ابو محمد سات دن تک سماع سنتے تھے نماز کے وقت سماع بند کر کے آپ نماز پڑھ لیتے تھے اور پھر سماع شروع ہوجاتا تھا۔
ان سات ایام میں حضرت خواجہ ابو محمد اسی طرح بے ہوش پڑے رہے یہ دیکھ کر آپ نے قوالوں سے فرمایا کہ سماع بند کرو تاکہ خواجہ ابو محمد ہوش میں آجائے جب قوالوں نے سماع بند کیا تو کچھ دیر کے بعد آپ نے انکھیں کھولیں اور آسمان کی طرف دیکھنے لگے اور فرمایا قولوا، قولوا (کہو کہو) چنانچہ عالم غیب سے ایسے نغمات کی آواز آنے لگی کہ کبھی کسی نے نہیں سنی تھی کہ اور ہر شخص نے اچھی طرح سنی۔ اس پر حضرت خواجہ ابو محمد پر وجد طاری ہوا اور تین دن متواتروہی آواز آتی رہی اور آپ سماع میں مشغول رہے جب ہوش میں آئے تو اپنےو الس ماجد کے قدموں پر گر گئے اور فرمایا کہ مخدوم فن جو فتح یاب سماع میں حاصل ہوئی۔
اگر کوئی شخص سو سال تک ریاضت ومجاہدہ کرے تو یہ مقام حاصل نہیں ہوتا۔ جو ایک مجلس سماع میں حاصل ہوا ہے۔ خواجہ ابو محمدﷺ نے فرمایا اے ابو محمدﷺ سماع ایک سر بستہ راز ہے جسے سر بستہ رکھنا چاہئے کیونکہ عوام بچارے اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ اگر میں یہ راز بیان کردوں تو ساری خلقت سماع میں مبتلا ہوئے۔ اور خد اسے اس نعمت کے سوا کچھ نہ طلب کریں۔
شہزادہ کا حاضر خدمت ہونا
اس کتاب میں یہ بھی لکھاہے کہ ایک دن خواجہ ابو محمد قدس سرہٗ دریائے دجلہ کے کنارے پر بیٹے کپڑا سی رہے تھے۔ اس اثناء میں بادشاہ کا لڑکا گھوڑے پر سوار ہوکر آیا اور اترک کرآپ کے سامنے سر زمین پر رکھا۔ اور با ادب ہوکر بیٹھ گیا۔ آپ نے فرمایا کہ حضرت رسالت پناہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اگر کسی بادشاہ کے ملک میں ایک بیوہ عورت رات کو بھوکی رہ گئی تو قیامت کے دن اس بادشاہ کا دامن پکڑیگی۔ جب تجھے حق تعالیٰ نے ملک اور بادشاہت عطا کی ہے تو خبردار ملک کے فقیر اور مساکین سے تم غفلت نہ کرنا اور نہ قیامت کے دن شرمندگی حاصل ہوگی۔ جب آپ نے نصیحت ختم کی تو شہزادے نے کچھ نقد جنس حضرت اقدس کی خدمت میں پیش کی حضرت اقدس نے تبسم کرتے ہوئے فرمایا کہ اے ملک زادہ ہمارے خواجگان میں سے کسی نے بھی اس چیز کو قبول نہیں فرمایا۔
میں بھی قبول نہیں کرتا ہماری دولت فقر ملک سلیمان سے بھی بڑھ کر ہے جب شہزادے نے بہت اصرار کیا تو آپ نےفرمایا کہ اے شاہزادہ حق تعالیٰ نے اپنے گیب کے خزانے اپنے بندوں کیلئے کھول دیئے ہیں۔ تمہارے عطیات کی ضرورت نہیں ہے۔ جب اسکا اصرار اور الھاج حد سے بڑھ گیا تو آپ نے آسمان کی طرف دیکھ کر فرمایا کہ الٰہی جو کچھ آپ اپنے بندوں کو دکھاتے ہو اس کو بھی دکھاؤ۔ یہ کہنا تھا کہ دریائے دجلہ کی مچھلیاں ایک ایک دینار منہ میں لے کر نکل آئیں۔ یہ دیکھ کر شہزادہ حیرت زدہ ہوا اور حضرت اقدس کے پاؤں میں رکھ دیا۔ کچھ دیر بعد رخصت طلب کی اور چلا گیا لیکن حضرت اقدس نے اس سے کچھ نہ فرمایا ۔
والد کا وصال اور سجادگی:
جب آپ کی عمر چوبیس سال ہوئی تو والد ماجد کا وصال ہوگیا۔ آپ ان کے قائم مقام ہوئے اور مسند خلافت پر متمکن ہوئے اور لوگ جوق در جوق آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر مرید ہونے لگے۔ آپ بارہ سال تک اپنے حجرہ میں مشغول رہے۔ سات دن کے بعد ایک خرما کے دانہ سے افطار کرتے تھے کہتے ہیں کہ ایک دن ایام طفلی میں راستے میں خواجہ خضر سے ملاقات ہوئی۔ خضر نے فرمایا کہ اے ابو محمد مبارک ہو مجھے حضرت رب العزت سے حکم ملا ہے کہ آپ کو ظاہری و باطنی تعلیم دوں آپ نے خضر علیہ السلام کے قدم چوم کر کہا کہ اے خواجہ جو حکم ہو فرمائیں۔
چنانچہ خضر علیہ السلام نے آپ کو اسم اعظم بتایا تو اسی وقت علوم واسرار منکشف ہوگئے وہاں سے واپس گھر کو چلے گئے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا تختی دکھاؤ آج تم نے کیا پڑھا ہے۔ آپ نے فرمایا اما جان! میں نے جو کچھ پڑھا ہے تختی میں ہیں سما سکتا۔ اس کے بعد والدہ نے قرآن مجید ان کے سامنے رکھا تو فرمایا کہ اماں جان! قرآن اپنے پاس رکھو میں زبانی پڑہتا ہوں۔ چنانچہ انہوں نے تھوڑی دیر میں تمام قرآن پڑھ لیا۔ یہ دیکھ کر والدہ کو تعجب ہوا اور شکر ادا کیا۔
اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ ایک دن خواجہ ابو احمد سماع سن رہے تھے اور قوال سُر کے ساتھ اشعار پڑھ رہے تھے اور آپ وجد میں تھے کہ یکا یک آپ کی نظر فیض اثر خواجہ ابو محمد پر پڑی اور سماع میں شام ہونے کا حکم خواجہ ابو محمد مست و مدہوش ہوکر سماع میں شامل ہوئے دیر تک ذوق وشوق کی حالت میں بیٹھنے کے بعد بے ہوش ہوکر گر گئے۔ حضرت خواجہ ابو محمد سات دن تک سماع سنتے تھے نماز کے وقت سماع بند کر کے آپ نماز پڑھ لیتے تھے اور پھر سماع شروع ہوجاتا تھا۔
ان سات ایام میں حضرت خواجہ ابو محمد اسی طرح بے ہوش پڑے رہے یہ دیکھ کر آپ نے قوالوں سے فرمایا کہ سماع بند کرو تاکہ خواجہ ابو محمد ہوش میں آجائے جب قوالوں نے سماع بند کیا تو کچھ دیر کے بعد آپ نے انکھیں کھولیں اور آسمان کی طرف دیکھنے لگے اور فرمایا قولوا، قولوا (کہو کہو) چنانچہ عالم غیب سے ایسے نغمات کی آواز آنے لگی کہ کبھی کسی نے نہیں سنی تھی کہ اور ہر شخص نے اچھی طرح سنی۔ اس پر حضرت خواجہ ابو محمد پر وجد طاری ہوا اور تین دن متواتروہی آواز آتی رہی اور آپ سماع میں مشغول رہے جب ہوش میں آئے تو اپنےو الس ماجد کے قدموں پر گر گئے اور فرمایا کہ مخدوم فن جو فتح یاب سماع میں حاصل ہوئی۔
اگر کوئی شخص سو سال تک ریاضت ومجاہدہ کرے تو یہ مقام حاصل نہیں ہوتا۔ جو ایک مجلس سماع میں حاصل ہوا ہے۔ خواجہ ابو محمدﷺ نے فرمایا اے ابو محمدﷺ سماع ایک سر بستہ راز ہے جسے سر بستہ رکھنا چاہئے کیونکہ عوام بچارے اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ اگر میں یہ راز بیان کردوں تو ساری خلقت سماع میں مبتلا ہوئے۔ اور خد اسے اس نعمت کے سوا کچھ نہ طلب کریں۔
شہزادہ کا حاضر خدمت ہونا
اس کتاب میں یہ بھی لکھاہے کہ ایک دن خواجہ ابو محمد قدس سرہٗ دریائے دجلہ کے کنارے پر بیٹے کپڑا سی رہے تھے۔ اس اثناء میں بادشاہ کا لڑکا گھوڑے پر سوار ہوکر آیا اور اترک کرآپ کے سامنے سر زمین پر رکھا۔ اور با ادب ہوکر بیٹھ گیا۔ آپ نے فرمایا کہ حضرت رسالت پناہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اگر کسی بادشاہ کے ملک میں ایک بیوہ عورت رات کو بھوکی رہ گئی تو قیامت کے دن اس بادشاہ کا دامن پکڑیگی۔ جب تجھے حق تعالیٰ نے ملک اور بادشاہت عطا کی ہے تو خبردار ملک کے فقیر اور مساکین سے تم غفلت نہ کرنا اور نہ قیامت کے دن شرمندگی حاصل ہوگی۔ جب آپ نے نصیحت ختم کی تو شہزادے نے کچھ نقد جنس حضرت اقدس کی خدمت میں پیش کی حضرت اقدس نے تبسم کرتے ہوئے فرمایا کہ اے ملک زادہ ہمارے خواجگان میں سے کسی نے بھی اس چیز کو قبول نہیں فرمایا۔
میں بھی قبول نہیں کرتا ہماری دولت فقر ملک سلیمان سے بھی بڑھ کر ہے جب شہزادے نے بہت اصرار کیا تو آپ نےفرمایا کہ اے شاہزادہ حق تعالیٰ نے اپنے گیب کے خزانے اپنے بندوں کیلئے کھول دیئے ہیں۔ تمہارے عطیات کی ضرورت نہیں ہے۔ جب اسکا اصرار اور الھاج حد سے بڑھ گیا تو آپ نے آسمان کی طرف دیکھ کر فرمایا کہ الٰہی جو کچھ آپ اپنے بندوں کو دکھاتے ہو اس کو بھی دکھاؤ۔ یہ کہنا تھا کہ دریائے دجلہ کی مچھلیاں ایک ایک دینار منہ میں لے کر نکل آئیں۔ یہ دیکھ کر شہزادہ حیرت زدہ ہوا اور حضرت اقدس کے پاؤں میں رکھ دیا۔ کچھ دیر بعد رخصت طلب کی اور چلا گیا لیکن حضرت اقدس نے اس سے کچھ نہ فرمایا ۔
❤2