🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
02-04-1445 ᴴ | 18-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
02-04-1445 ᴴ | 18-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
پیر طریقت حضرت علامہ مولانا مفتی رفاقت حسین کانپوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
آپ کا اسمِ گرامی مولانا رفاقت حسین کانپوری تھا ۔ اور آپ کا نسبی تعلق مشہور بزرگ حضرت سید شاہ جلال الدین جڑھوی رحمۃ اللہ علیہ سے ہے ۔

آپ کا سلسلۂ نسب یوں ہے:
حضرت قبلہ رفاقت حسین بن مولوی شاہ عبد الرزاق بن شاہ حسین بخش بن خدا بخش بن میر شاہ تراب علی بن حضرت شاہ جلال الدین علیہم الرحمۃ ۔

تاریخِ ولادت:
مفتی رفاقت حسین رحمۃ اللہ علیہ 1317ھ میں بھوانی، ضلع مظفر پور، ہندستان میں پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم مرچا اسکول میں درجہ چار تک تعلیم پائی، بعدہ قریب کی بستی عارض پور کے مولوی طاہر حسین مرحوم سے فارسی گلستاں بوستاں تک پڑھی ۔ بعد مدرسہ عزیزییہ بہار شریف میں داخل ہوئے حضرت مولانا شاہ حبیب الرحمٰن بہاری مرحوم سے شرح وقایہ شروع کی ۔

دار العلوم کے اساتذہ حضرت صدر الشریعہ حجۃ العصر مولانا حکیم امجد علی اعظمی، مولانا حکیم سید عبد الحئی افغانی مولانا مفتی متقدمین کی کتابوں کا درس لیا۔اس کے علاوہ دیگر مدارس میں مختلف علوم وفنون حاصل کئے ۔

بیعت و خلاف:
مفتی رفاقت حسین صاحب، حضرت قدوۃ الواصلین مولانا الحاج سید شاہ علی حسین محبوب ربانی سرکار کچھوچھہ کے مرید ہوئے۔ تمام سلاسل کی اجازت مرحمت ہوئی اور شجرۂ مبارکہ کی پشت پردست مبارک سے سلسلہ عالیہ قادریہ منوریہ تحریر فرماکر اجازت دی ۔

سیرت و خصائص:
برہان الاصفیاء سلطان المتکلمین، شرف الاسلام والمسلمین حضرت مولانا الحاج شاہ رفاقت حسین رحمۃ اللہ علیہ چلتی پھرتی دینی درس گاہ تھے ۔

آپ زمانۂ طالب علمی میں جس طرح دوسرے طلباء سے ممتاز تھے اسی طرح خداداد تدریسی صلاحیت نے آپ کو ایک منفرد مقام عطا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت صدر الشریعہ آپ کو اپنی معیت میں بریلی لائے،مدرسہ منظر اسلام میں درس و تدریس کا عہدہ سپرد کیا۔ ایک سال بعد مدرسہ محمدیہ جائس ضلع رائے بریلی کے صدر مدرس ہوکر تشریف لے گئے، کچھ عرصہ بعد مدرسہ محمدیہ سے علیحدگی اختیار کرلی، بعدہٗ محلہ قضیانہ میں قیام کر کے مطب کے ساتھ درس دیتے رہے۔

لکھنؤ میں شیعت کا زور تیزی سے پھیل رہا تھا، سب وشتم کا بازار گرم تھا حضرت قبلہ نے رو افض کا ردبلیغ فرمایا، جس سے اُن کا زور ٹوٹ گیا۔چند سال جامع مسجد سلطان پور کے خطیب رہے، یہاں مولوی امین نصیر آبادی کی سُنیت دشمن سرگمیوں کے انسداد کےلیے گوشش فرمائی، یہاں سے عقیدت مندانِ جائسی کی درخواست پر چندے جائس قیام فرماکر وطن مراجعت فرمائی،قضاء الٰہی شدید بیمار ہوکر صاحب فراش ہوگئے، بارے خدا نے صحت عطا فرمائی۔وطن میں طبابت کا مشغلہ رہا۔

تین سال بعد پھر جائس تشریف لے گئے،تقریباً سترہ برس بعد مدرسہ احسن المدارس کانپور کے مفتئ اعظم کا منصب رفیع سپرد کیا۔آپ کانپور سے بار ادہ حج وزارت روانہ ہوئے، مکہ معظمہ میں الگ قیام جماعت کے سبب قاضی نجدی سے گفتگو ہوئی، آپ کامیاب اور وہ خائب و خاسر ہوا۔ بعدہٗ دربار نبوی میں میں حاضری دی،حضرت قطب مدینہ منورہ مولانا شاہ محمد ضیاء الدین قادریٹ مدظلہٗ نے سند حدیث اور سلسلۂ عالیہ قادریہ کی اجازت مرحمت فرمائی۔

تاریخِ وصال:
آپ رحمۃ اللہ علیہ 3 ربیع الثانی 1403 ھ / بمطابق جنوری 1983ء کو وصال ہوا۔

ماخذ و مراجع:
تذکرۂ علماء اہلسنت ـ

https://scholars.pk/ur/scholar/peer-e-tariqat-hazrat-molana-muftialhaj-shah-rafaqat
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت حبیب عجمی علیہ الرحمہ

حبیب عجمی یا حبیب فارسی کے نام سے مشہور ہیں ۔ یہ حضرت حسن بصری کے مرید تھے اور پہلی صدی ہجری کے مشائخ تصوف میں شمار ہوتے ہیں ۔ آپ کی ولادت فارس میں ہوئی کنیت ابو محمد تھی شروع میں بڑے مالدار اور سودی کاروبار کرتےتھے۔ حضرت حسن بصری کے ہاتھ پر توبہ کی اور سارا مال راہ ِخدا میں خرچ کر دیا۔

حضرت سیدنا حبیب عجمی کے دروازے پر ایک سائل نے صدا لگائی، آپ کی زوجہ محترمہ گندھا ہوا آٹا رکھ کر پڑوس سے آگ لینے گئی تھیں تا کہ روٹی پکائیں۔ آپ نے وہی آٹا اٹھا کر سائل کو دے دیا، جب وہ آگ لے کر آئیں تو آٹا ندا رد (یعنی غائب) آپ نے فرمایا: اسے روٹی پکانے کے لیے لے گئے ہیں، بہت پوچھا تو آپ نے خیرات کر دینے کا واقعہ بتایا وہ بولیں: سبحن اللہ عزوجل ! یہ تو اچھی بات ہے مگر ہمیں بھی تو کچھ کھانے کے لئے درکار ہے! اتنے میں ایک شَخص ایک بڑی لگن بھر کر گوشت اور روٹی لے آیا۔ آپ نے فرمایا: دیکھو تمہیں کس قدر جلد لوٹا دیا گیا، گویا روٹی بھی پکا دی اور گوشت کا سالن مزید بھیج دیا!

ایک دن حبیب عجمی کی بیوی نے تنگدستی اور فقر و فاقہ کی شکایت کی اور مشورہ دیا کہ وہ گوشہ نشینی کی بجائے کچھ کمائے، حبیب نے کہا: فکر نہ کرو میں صبح سے مزدوری پر جاؤں گا۔ اور تمہارے لیے بہت کچھ کما کر لاؤں گا۔ دوسرے روز بھی ایک کونے میں جاکر سارا دن یاد الٰہی میں گزار دیا۔ رات کو بیوی نے مزدوری طلب کی، تو آپ نے بتایا کہ آج جس کی مزدوری کی ہے اس نے نقد نہیں دیا فکر نہ کرو کل لاؤں گا وہ ایسی ذات ہے کہ بے طلب مزدوری ادا کر دیا کرتا ہے۔

مجھے روزانہ طلب سے شرم محسوس ہوتی ہے۔ اب میں دس دن کے بعد مزدوری طلب کروں گا۔ عورت نے بڑی تکلیف سے دس دن نکالے دسویں دن حبیب گھر کو آ رہے تھے دل میں شرما رہے تھے آج بھی خالی ہاتھ ہوں۔ بچوں کے لیے کیا لے کر گھر جاؤں۔ ادھر اللہ تعالیٰ نے حبیب کے گھر ایک شخص کو بھیجا جو ایک بوری آٹا اور ایک بھنی ہوئی بکری حبیب کی بیوی کو دے آیا۔ ایک اور شخص گھی اور شہد پہنچا آیا اور ایک اور شخص تیس ہزار دینارکی تھیلی دے کر کہنے لگا آپ کے خاوند جس شخص کے گھر مزدوری کرتے ہیں۔ اس نے ساری چیزیں بھیجی ہیں۔ اب حبیب کو کہہ دیں کہ اگر وہ زیادہ محنت سے کام کرے گا تو اسے زیادہ مزدوری دی جائے گی۔

رات کے وقت حبیب شرم سار خالی ہاتھ گھر لوٹے اور اپنی بیوی کو جواب دینے کو کوئی بہانہ سمجھ میں نہ آ رہا تھا گھر سے مزے دار کھانے کی خوشبو آئی بیوی خوش خوش سامنے آئی کہ جس شخص کے پاس کام کرتے ہو وہ تو بڑا سخی ہے یہ چیزیں اور اتنی رقم پہنچا کر کہہ گیا ہے کہ اور محنت کرو زیادہ مزدوری ملے گی۔یہ سنتے ہی حبیب عجمی کے آنکھوں سے آنسوں رواں ہو گئے ۔

وصال:
ہشام بن عبد الملک کے عہد میں 3 ربیع الآخر 156 ہجری بمطابق یکم مارچ 773 عیسوی میں وصال ہوا اور بصرہ میں مدفون ہوئے ۔ (روض الریاحین) ـ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khwaja-habib-ajmi
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
شیخ الحدیث علامہ حافظ خادم حسین رضوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

شیخ الحدیث حضرت علامہ حافظ خادم حسین رضوی ۳ ربیع الاول ۱۳۸۶ھ / ۲۲ جون ۱۹۶۶ء بروز بدھ " نکہ کلاں " اٹک میں حاجی لعل خاں علیہ الرحمۃ کے ہاں پیدا ہوئے۔ جہلم و دینہ کے مدارس میں حفظ و تجوید کی تکمیل کے بعد شہرۂ آفاق دینی درسگاہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور میں درس نظامی کی تعلیم کی۔

آپ کے اساتذہ میں مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد عبد القیوم ہزاروی، مجاہد اسلام حضرت مولانا محمد رشید نقشبندی، استاذ العلماء حضرت مولانا مفتی عبد اللطیف نقشبندی، شرف ملت حضرت علامہ عبد الحکیم شرف قادری، جامع المنقول والمعقول حضرت علامہ حافظ عبد الستار سعیدی اور استاذ العلماء حضرت مولانا محمد صدیق ہزاروی جیسی شخصیات شامل ہیں ـ

روحانی طور پر سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں عارف کامل حضرت اقدس خواجہ محمد عبد الواحد صاحب المعروف حاجی پیر صاحب سے کالا دیو شریف جہلم میں بیعت ہیں۔ تقریباً دو عشروں سے جامعہ نظامیہ میں مسند تدریس پر رونق افروز ہیں۔ بلاشبہ آپ کے ہزار شاگرد اس وقت ملک عزیز کے طول و عرض میں خدمات دینیہ میں مصروف عمل ہیں۔

درس و تدریس کے ساتھ ساتھ آپ تصنیف و تالیف میں بھی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ علم صَرف میں تیسیر ابواب الصرف اور تعلیلات خادمیہ آپ کی نوک قلم کی یادگار ہیں۔ اللہ رب العزت نے خطابت میں دلنشین و منفرد انداز عطا فرمایا ہے۔ روایتی تقاریر سے ہٹ کر آپ کے خطابات "دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے" کے مصداق پُر اثر ہوتے ہیں۔

اس وقت آپ فدایانِ ختم نبوت پاکستان اور مجلس علماء نظامیہ کے مرکزی امیر ہیں۔ اس کے علاوہ دارالعلوم انجمن نعمانیہ سمیت کئی مدارس، تنظیمات اور اداروں کے سرپرست و نگران اور معاون ہیں۔

https://scholars.pk/ur/scholar/sheikh-ul-hadees-hazrat-allama-hafiz-khadim-hussain-rizvi
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
ام المؤمنین حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
سیدہ زینب بنتِ خزیمہ رضی اللہ عنھا ۔ لقب: ام المؤمنین، ام المساکین ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
زینب بنت خزیمہ بن عبد اللہ بن عمربن عبدمناف بن ہلال بن عامربن صعصۃ بن معاویہ بن بکر بن ھوازن بن منصور بن عکرمہ بن خصفہ بن قیس بن عیلان ۔

شرفِ ام المؤمنین:
پہلے ان کا نکاح حضرت عبد ﷲ بن جحش رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے ہوا تھا مگر جب وہ جنگ احد میں شہید ہو گئے تو 3ھ میں حضور اکرم ﷺ نے ان سے نکاح فرما لیا ۔

سیرت و خصائص:
ام المومنین سیدہ حضرت زینب بنتِ خزیمہ رضی اللہ عنھا ۔ آپ زمانہ جاہلیت میں ہی غرباء اور مساکین کو بکثرت کھانا کھلایا کرتی تھیں اس لئے ان کا لقب "" ام المساکین "" (مسکینوں کی ماں) مشہورہوگیا۔

آپﷺ کی ازواج مطہرات میں سے دو بیویوں کو یہ شرف حاصل ہوا کہ آنحضور ﷺ کی حیات طیبہ میں فوت ہوئیں اور آپ نے خود ان کا جنازہ پڑھایا اور انہیں دفن کیا ۔ باقی ازواج مطہرات آپ کی رحلت کے وقت زندہ تھیں اور آپ کے بعد کم یا زیادہ عرصہ انہیں حیات عارضی کے ماہ و سال نصیب ہوئے ۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھاجو آپ کی پہلی زوجہ مطہرہ تھیں، مکہ میں ہجرت سے قبل داغ مفارقت دے گئیں ۔ ان کا غم آنحضور ﷺ زندگی بھر فراموش نہ کر سکے ۔ دوسری زوجہ مطہرہ جو آپ کی حیاتِ ظاہری میں موت سے ہمکنار ہوئیں، ام المومنین حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنھا تھیں ۔

ام المؤمنین حضرت زینب رضی اللہ عنھا قریش کی معزز خاتون تھیں ۔ اتنی فیاض اور فراخدل کہ ہمیشہ فقرا اورمساکین ان کی مدد اور خیرات سے فیض یاب ہوتے رہتے تھے ۔ امہات المومنین میں سے ان کوشرف حاصل ہوا کہ تاریخ نے انکی فیاضی اور غریب پروری کی وجہ سے انہیں " ام المساکین " کے لقب سےاپنے صفحات میں محفوظ کر لیا ۔ ان کا سلسلہ نسب بھی آنحضور ﷺ سے چند پشت اوپر جا ملتا ہے ۔

جنگ احد میں 70 صحابۂ کرام شہید ہوئے تھے ۔ مدینہ کی بہت سی جوان عورتیں بیوہ اور بہت سے معصوم بچے یتیم ہو گئے ۔ مدینہ پر غم کی چادر تنی ہوئی تھی مگر صحابہ و صحابیات کا کمال ہے کہ صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا تھا ۔

حضرت عبد اللہ بن جحش کی اہلیہ حضرت زینب بنت خزیمہ اپنے محبوب شوہر کی شہادت پر انتہائی غمزدہ تھیں ۔ ان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے مگر زبان پر انا للہ وا نا الیہ راجعون تھا ۔

جنگِ احد کے بعد آنحضور ﷺ نے تمام شہدا کے گھروں میں جا کر ان کے لواحقین کو تسلیاں دیں ۔ حضرت زینب کے غم کو آنحضور ﷺ محسوس کیا کرتے تھے ۔ عدت کے ایام گزرنے کے بعد آپ نے حضرت زینب بنت خزیمہ کو نکاح کا پیغام دیا ۔ آپ کے پیش نظر یہی تھا کہ ان کی سرپرستی کی جائے ۔ حضرت زینب نے آنحضور ﷺ کا پیغام بخوشی قبول کیا ۔ یوں 3ھ میں حضرت زینب حرم نبوی میں داخل ہوئیں ۔

وصال:
حضور ﷺ سے نکاح کے بعد صرف دو مہینے یا تین مہینے زندہ رہیں اور ربیع الآخر 4ھ میں تیس برس کی عمر پاکر وفات پا گئیں اور جنت البقیع کے قبرستان میں دوسری ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے ساتھ دفن ہوئیں یہ ماں کی جانب سے ام المؤمنین حضرت میمونہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی بہن ہیں ۔

ماخذ و مراجع:
سیرتِ مصطفیٰ ﷺ ۔ امہات المؤمنین ۔ زرقانی ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/wife-of-holy-prophet-muhammad-hazrat-zainab-bint-khuzaima
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
02-04-1445 ᴴ | 18-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
03-04-1445 ᴴ | 19-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2👍1