🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
02-04-1445 ᴴ | 18-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
02-04-1445 ᴴ | 18-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
02-04-1445 ᴴ | 18-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
02-04-1445 ᴴ | 18-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
پیر طریقت حضرت علامہ مولانا مفتی رفاقت حسین کانپوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
آپ کا اسمِ گرامی مولانا رفاقت حسین کانپوری تھا ۔ اور آپ کا نسبی تعلق مشہور بزرگ حضرت سید شاہ جلال الدین جڑھوی رحمۃ اللہ علیہ سے ہے ۔
آپ کا سلسلۂ نسب یوں ہے:
حضرت قبلہ رفاقت حسین بن مولوی شاہ عبد الرزاق بن شاہ حسین بخش بن خدا بخش بن میر شاہ تراب علی بن حضرت شاہ جلال الدین علیہم الرحمۃ ۔
تاریخِ ولادت:
مفتی رفاقت حسین رحمۃ اللہ علیہ 1317ھ میں بھوانی، ضلع مظفر پور، ہندستان میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم مرچا اسکول میں درجہ چار تک تعلیم پائی، بعدہ قریب کی بستی عارض پور کے مولوی طاہر حسین مرحوم سے فارسی گلستاں بوستاں تک پڑھی ۔ بعد مدرسہ عزیزییہ بہار شریف میں داخل ہوئے حضرت مولانا شاہ حبیب الرحمٰن بہاری مرحوم سے شرح وقایہ شروع کی ۔
دار العلوم کے اساتذہ حضرت صدر الشریعہ حجۃ العصر مولانا حکیم امجد علی اعظمی، مولانا حکیم سید عبد الحئی افغانی مولانا مفتی متقدمین کی کتابوں کا درس لیا۔اس کے علاوہ دیگر مدارس میں مختلف علوم وفنون حاصل کئے ۔
بیعت و خلاف:
مفتی رفاقت حسین صاحب، حضرت قدوۃ الواصلین مولانا الحاج سید شاہ علی حسین محبوب ربانی سرکار کچھوچھہ کے مرید ہوئے۔ تمام سلاسل کی اجازت مرحمت ہوئی اور شجرۂ مبارکہ کی پشت پردست مبارک سے سلسلہ عالیہ قادریہ منوریہ تحریر فرماکر اجازت دی ۔
سیرت و خصائص:
برہان الاصفیاء سلطان المتکلمین، شرف الاسلام والمسلمین حضرت مولانا الحاج شاہ رفاقت حسین رحمۃ اللہ علیہ چلتی پھرتی دینی درس گاہ تھے ۔
آپ زمانۂ طالب علمی میں جس طرح دوسرے طلباء سے ممتاز تھے اسی طرح خداداد تدریسی صلاحیت نے آپ کو ایک منفرد مقام عطا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت صدر الشریعہ آپ کو اپنی معیت میں بریلی لائے،مدرسہ منظر اسلام میں درس و تدریس کا عہدہ سپرد کیا۔ ایک سال بعد مدرسہ محمدیہ جائس ضلع رائے بریلی کے صدر مدرس ہوکر تشریف لے گئے، کچھ عرصہ بعد مدرسہ محمدیہ سے علیحدگی اختیار کرلی، بعدہٗ محلہ قضیانہ میں قیام کر کے مطب کے ساتھ درس دیتے رہے۔
لکھنؤ میں شیعت کا زور تیزی سے پھیل رہا تھا، سب وشتم کا بازار گرم تھا حضرت قبلہ نے رو افض کا ردبلیغ فرمایا، جس سے اُن کا زور ٹوٹ گیا۔چند سال جامع مسجد سلطان پور کے خطیب رہے، یہاں مولوی امین نصیر آبادی کی سُنیت دشمن سرگمیوں کے انسداد کےلیے گوشش فرمائی، یہاں سے عقیدت مندانِ جائسی کی درخواست پر چندے جائس قیام فرماکر وطن مراجعت فرمائی،قضاء الٰہی شدید بیمار ہوکر صاحب فراش ہوگئے، بارے خدا نے صحت عطا فرمائی۔وطن میں طبابت کا مشغلہ رہا۔
تین سال بعد پھر جائس تشریف لے گئے،تقریباً سترہ برس بعد مدرسہ احسن المدارس کانپور کے مفتئ اعظم کا منصب رفیع سپرد کیا۔آپ کانپور سے بار ادہ حج وزارت روانہ ہوئے، مکہ معظمہ میں الگ قیام جماعت کے سبب قاضی نجدی سے گفتگو ہوئی، آپ کامیاب اور وہ خائب و خاسر ہوا۔ بعدہٗ دربار نبوی میں میں حاضری دی،حضرت قطب مدینہ منورہ مولانا شاہ محمد ضیاء الدین قادریٹ مدظلہٗ نے سند حدیث اور سلسلۂ عالیہ قادریہ کی اجازت مرحمت فرمائی۔
تاریخِ وصال:
آپ رحمۃ اللہ علیہ 3 ربیع الثانی 1403 ھ / بمطابق جنوری 1983ء کو وصال ہوا۔
ماخذ و مراجع:
تذکرۂ علماء اہلسنت ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/peer-e-tariqat-hazrat-molana-muftialhaj-shah-rafaqat
نام و نسب:
آپ کا اسمِ گرامی مولانا رفاقت حسین کانپوری تھا ۔ اور آپ کا نسبی تعلق مشہور بزرگ حضرت سید شاہ جلال الدین جڑھوی رحمۃ اللہ علیہ سے ہے ۔
آپ کا سلسلۂ نسب یوں ہے:
حضرت قبلہ رفاقت حسین بن مولوی شاہ عبد الرزاق بن شاہ حسین بخش بن خدا بخش بن میر شاہ تراب علی بن حضرت شاہ جلال الدین علیہم الرحمۃ ۔
تاریخِ ولادت:
مفتی رفاقت حسین رحمۃ اللہ علیہ 1317ھ میں بھوانی، ضلع مظفر پور، ہندستان میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم مرچا اسکول میں درجہ چار تک تعلیم پائی، بعدہ قریب کی بستی عارض پور کے مولوی طاہر حسین مرحوم سے فارسی گلستاں بوستاں تک پڑھی ۔ بعد مدرسہ عزیزییہ بہار شریف میں داخل ہوئے حضرت مولانا شاہ حبیب الرحمٰن بہاری مرحوم سے شرح وقایہ شروع کی ۔
دار العلوم کے اساتذہ حضرت صدر الشریعہ حجۃ العصر مولانا حکیم امجد علی اعظمی، مولانا حکیم سید عبد الحئی افغانی مولانا مفتی متقدمین کی کتابوں کا درس لیا۔اس کے علاوہ دیگر مدارس میں مختلف علوم وفنون حاصل کئے ۔
بیعت و خلاف:
مفتی رفاقت حسین صاحب، حضرت قدوۃ الواصلین مولانا الحاج سید شاہ علی حسین محبوب ربانی سرکار کچھوچھہ کے مرید ہوئے۔ تمام سلاسل کی اجازت مرحمت ہوئی اور شجرۂ مبارکہ کی پشت پردست مبارک سے سلسلہ عالیہ قادریہ منوریہ تحریر فرماکر اجازت دی ۔
سیرت و خصائص:
برہان الاصفیاء سلطان المتکلمین، شرف الاسلام والمسلمین حضرت مولانا الحاج شاہ رفاقت حسین رحمۃ اللہ علیہ چلتی پھرتی دینی درس گاہ تھے ۔
آپ زمانۂ طالب علمی میں جس طرح دوسرے طلباء سے ممتاز تھے اسی طرح خداداد تدریسی صلاحیت نے آپ کو ایک منفرد مقام عطا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت صدر الشریعہ آپ کو اپنی معیت میں بریلی لائے،مدرسہ منظر اسلام میں درس و تدریس کا عہدہ سپرد کیا۔ ایک سال بعد مدرسہ محمدیہ جائس ضلع رائے بریلی کے صدر مدرس ہوکر تشریف لے گئے، کچھ عرصہ بعد مدرسہ محمدیہ سے علیحدگی اختیار کرلی، بعدہٗ محلہ قضیانہ میں قیام کر کے مطب کے ساتھ درس دیتے رہے۔
لکھنؤ میں شیعت کا زور تیزی سے پھیل رہا تھا، سب وشتم کا بازار گرم تھا حضرت قبلہ نے رو افض کا ردبلیغ فرمایا، جس سے اُن کا زور ٹوٹ گیا۔چند سال جامع مسجد سلطان پور کے خطیب رہے، یہاں مولوی امین نصیر آبادی کی سُنیت دشمن سرگمیوں کے انسداد کےلیے گوشش فرمائی، یہاں سے عقیدت مندانِ جائسی کی درخواست پر چندے جائس قیام فرماکر وطن مراجعت فرمائی،قضاء الٰہی شدید بیمار ہوکر صاحب فراش ہوگئے، بارے خدا نے صحت عطا فرمائی۔وطن میں طبابت کا مشغلہ رہا۔
تین سال بعد پھر جائس تشریف لے گئے،تقریباً سترہ برس بعد مدرسہ احسن المدارس کانپور کے مفتئ اعظم کا منصب رفیع سپرد کیا۔آپ کانپور سے بار ادہ حج وزارت روانہ ہوئے، مکہ معظمہ میں الگ قیام جماعت کے سبب قاضی نجدی سے گفتگو ہوئی، آپ کامیاب اور وہ خائب و خاسر ہوا۔ بعدہٗ دربار نبوی میں میں حاضری دی،حضرت قطب مدینہ منورہ مولانا شاہ محمد ضیاء الدین قادریٹ مدظلہٗ نے سند حدیث اور سلسلۂ عالیہ قادریہ کی اجازت مرحمت فرمائی۔
تاریخِ وصال:
آپ رحمۃ اللہ علیہ 3 ربیع الثانی 1403 ھ / بمطابق جنوری 1983ء کو وصال ہوا۔
ماخذ و مراجع:
تذکرۂ علماء اہلسنت ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/peer-e-tariqat-hazrat-molana-muftialhaj-shah-rafaqat
scholars.pk
Hazrat Molana Alhaj Shah Rafaqat Hussain
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
حضرت حبیب عجمی علیہ الرحمہ
حبیب عجمی یا حبیب فارسی کے نام سے مشہور ہیں ۔ یہ حضرت حسن بصری کے مرید تھے اور پہلی صدی ہجری کے مشائخ تصوف میں شمار ہوتے ہیں ۔ آپ کی ولادت فارس میں ہوئی کنیت ابو محمد تھی شروع میں بڑے مالدار اور سودی کاروبار کرتےتھے۔ حضرت حسن بصری کے ہاتھ پر توبہ کی اور سارا مال راہ ِخدا میں خرچ کر دیا۔
حضرت سیدنا حبیب عجمی کے دروازے پر ایک سائل نے صدا لگائی، آپ کی زوجہ محترمہ گندھا ہوا آٹا رکھ کر پڑوس سے آگ لینے گئی تھیں تا کہ روٹی پکائیں۔ آپ نے وہی آٹا اٹھا کر سائل کو دے دیا، جب وہ آگ لے کر آئیں تو آٹا ندا رد (یعنی غائب) آپ نے فرمایا: اسے روٹی پکانے کے لیے لے گئے ہیں، بہت پوچھا تو آپ نے خیرات کر دینے کا واقعہ بتایا وہ بولیں: سبحن اللہ عزوجل ! یہ تو اچھی بات ہے مگر ہمیں بھی تو کچھ کھانے کے لئے درکار ہے! اتنے میں ایک شَخص ایک بڑی لگن بھر کر گوشت اور روٹی لے آیا۔ آپ نے فرمایا: دیکھو تمہیں کس قدر جلد لوٹا دیا گیا، گویا روٹی بھی پکا دی اور گوشت کا سالن مزید بھیج دیا!
ایک دن حبیب عجمی کی بیوی نے تنگدستی اور فقر و فاقہ کی شکایت کی اور مشورہ دیا کہ وہ گوشہ نشینی کی بجائے کچھ کمائے، حبیب نے کہا: فکر نہ کرو میں صبح سے مزدوری پر جاؤں گا۔ اور تمہارے لیے بہت کچھ کما کر لاؤں گا۔ دوسرے روز بھی ایک کونے میں جاکر سارا دن یاد الٰہی میں گزار دیا۔ رات کو بیوی نے مزدوری طلب کی، تو آپ نے بتایا کہ آج جس کی مزدوری کی ہے اس نے نقد نہیں دیا فکر نہ کرو کل لاؤں گا وہ ایسی ذات ہے کہ بے طلب مزدوری ادا کر دیا کرتا ہے۔
مجھے روزانہ طلب سے شرم محسوس ہوتی ہے۔ اب میں دس دن کے بعد مزدوری طلب کروں گا۔ عورت نے بڑی تکلیف سے دس دن نکالے دسویں دن حبیب گھر کو آ رہے تھے دل میں شرما رہے تھے آج بھی خالی ہاتھ ہوں۔ بچوں کے لیے کیا لے کر گھر جاؤں۔ ادھر اللہ تعالیٰ نے حبیب کے گھر ایک شخص کو بھیجا جو ایک بوری آٹا اور ایک بھنی ہوئی بکری حبیب کی بیوی کو دے آیا۔ ایک اور شخص گھی اور شہد پہنچا آیا اور ایک اور شخص تیس ہزار دینارکی تھیلی دے کر کہنے لگا آپ کے خاوند جس شخص کے گھر مزدوری کرتے ہیں۔ اس نے ساری چیزیں بھیجی ہیں۔ اب حبیب کو کہہ دیں کہ اگر وہ زیادہ محنت سے کام کرے گا تو اسے زیادہ مزدوری دی جائے گی۔
رات کے وقت حبیب شرم سار خالی ہاتھ گھر لوٹے اور اپنی بیوی کو جواب دینے کو کوئی بہانہ سمجھ میں نہ آ رہا تھا گھر سے مزے دار کھانے کی خوشبو آئی بیوی خوش خوش سامنے آئی کہ جس شخص کے پاس کام کرتے ہو وہ تو بڑا سخی ہے یہ چیزیں اور اتنی رقم پہنچا کر کہہ گیا ہے کہ اور محنت کرو زیادہ مزدوری ملے گی۔یہ سنتے ہی حبیب عجمی کے آنکھوں سے آنسوں رواں ہو گئے ۔
وصال:
ہشام بن عبد الملک کے عہد میں 3 ربیع الآخر 156 ہجری بمطابق یکم مارچ 773 عیسوی میں وصال ہوا اور بصرہ میں مدفون ہوئے ۔ (روض الریاحین) ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khwaja-habib-ajmi
حبیب عجمی یا حبیب فارسی کے نام سے مشہور ہیں ۔ یہ حضرت حسن بصری کے مرید تھے اور پہلی صدی ہجری کے مشائخ تصوف میں شمار ہوتے ہیں ۔ آپ کی ولادت فارس میں ہوئی کنیت ابو محمد تھی شروع میں بڑے مالدار اور سودی کاروبار کرتےتھے۔ حضرت حسن بصری کے ہاتھ پر توبہ کی اور سارا مال راہ ِخدا میں خرچ کر دیا۔
حضرت سیدنا حبیب عجمی کے دروازے پر ایک سائل نے صدا لگائی، آپ کی زوجہ محترمہ گندھا ہوا آٹا رکھ کر پڑوس سے آگ لینے گئی تھیں تا کہ روٹی پکائیں۔ آپ نے وہی آٹا اٹھا کر سائل کو دے دیا، جب وہ آگ لے کر آئیں تو آٹا ندا رد (یعنی غائب) آپ نے فرمایا: اسے روٹی پکانے کے لیے لے گئے ہیں، بہت پوچھا تو آپ نے خیرات کر دینے کا واقعہ بتایا وہ بولیں: سبحن اللہ عزوجل ! یہ تو اچھی بات ہے مگر ہمیں بھی تو کچھ کھانے کے لئے درکار ہے! اتنے میں ایک شَخص ایک بڑی لگن بھر کر گوشت اور روٹی لے آیا۔ آپ نے فرمایا: دیکھو تمہیں کس قدر جلد لوٹا دیا گیا، گویا روٹی بھی پکا دی اور گوشت کا سالن مزید بھیج دیا!
ایک دن حبیب عجمی کی بیوی نے تنگدستی اور فقر و فاقہ کی شکایت کی اور مشورہ دیا کہ وہ گوشہ نشینی کی بجائے کچھ کمائے، حبیب نے کہا: فکر نہ کرو میں صبح سے مزدوری پر جاؤں گا۔ اور تمہارے لیے بہت کچھ کما کر لاؤں گا۔ دوسرے روز بھی ایک کونے میں جاکر سارا دن یاد الٰہی میں گزار دیا۔ رات کو بیوی نے مزدوری طلب کی، تو آپ نے بتایا کہ آج جس کی مزدوری کی ہے اس نے نقد نہیں دیا فکر نہ کرو کل لاؤں گا وہ ایسی ذات ہے کہ بے طلب مزدوری ادا کر دیا کرتا ہے۔
مجھے روزانہ طلب سے شرم محسوس ہوتی ہے۔ اب میں دس دن کے بعد مزدوری طلب کروں گا۔ عورت نے بڑی تکلیف سے دس دن نکالے دسویں دن حبیب گھر کو آ رہے تھے دل میں شرما رہے تھے آج بھی خالی ہاتھ ہوں۔ بچوں کے لیے کیا لے کر گھر جاؤں۔ ادھر اللہ تعالیٰ نے حبیب کے گھر ایک شخص کو بھیجا جو ایک بوری آٹا اور ایک بھنی ہوئی بکری حبیب کی بیوی کو دے آیا۔ ایک اور شخص گھی اور شہد پہنچا آیا اور ایک اور شخص تیس ہزار دینارکی تھیلی دے کر کہنے لگا آپ کے خاوند جس شخص کے گھر مزدوری کرتے ہیں۔ اس نے ساری چیزیں بھیجی ہیں۔ اب حبیب کو کہہ دیں کہ اگر وہ زیادہ محنت سے کام کرے گا تو اسے زیادہ مزدوری دی جائے گی۔
رات کے وقت حبیب شرم سار خالی ہاتھ گھر لوٹے اور اپنی بیوی کو جواب دینے کو کوئی بہانہ سمجھ میں نہ آ رہا تھا گھر سے مزے دار کھانے کی خوشبو آئی بیوی خوش خوش سامنے آئی کہ جس شخص کے پاس کام کرتے ہو وہ تو بڑا سخی ہے یہ چیزیں اور اتنی رقم پہنچا کر کہہ گیا ہے کہ اور محنت کرو زیادہ مزدوری ملے گی۔یہ سنتے ہی حبیب عجمی کے آنکھوں سے آنسوں رواں ہو گئے ۔
وصال:
ہشام بن عبد الملک کے عہد میں 3 ربیع الآخر 156 ہجری بمطابق یکم مارچ 773 عیسوی میں وصال ہوا اور بصرہ میں مدفون ہوئے ۔ (روض الریاحین) ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khwaja-habib-ajmi
scholars.pk
Hazrat Khwaja Habib Ajmi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2