🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
۲۔ قاضی محمد منٹھار
ایک متقی عالم دین اور صاحب نسبت بزرگ تھے ۔ بتاتے ہیں کہ ایک بار ان پر فنائیت کی ایسی کیفیت طاری ہوئی جس سے دنیا جز ہے کہ مسجد میں نماز ادا کرتے ہوئے سجدہ میں چلے گئے اور ایسا چلے گئے کہ اٹھنے کا نام ہی نہیں بالااخر لوگوں نے اٹھا کر مسجد شریف کے ایک کونے میں رکھ دیا جہاں انہیں بحالت سجدہ چھ ماہ گزرگئے ۔ چھ ماہ کے بعد آپ کی کیفیت پوری ہوئی تو نماز سے باہر آئے لیکن فنافی اللہ کے مقام پر فائز ہونے کے چند روز بعد آپ نے انتقال کیا ۔ آپ کا مزار شریف سیرانی ضلع بدین میں واقع ہے ۔

۳۔قاضی گل محمد
بہترین خطاط اور نامور عالم و فاضل تھے ۔ تاریخ ’’روضۃالشھداء ‘‘ فارسی کا نقل ۱۲۵۰ ھ کو تیار کیا ۔ اس کے علاوہ بھی علمی ادبی اور فکری کاوشیں ہو ں گی لیکن اپنوں کی عدم الچسپی اور تاریخی اہمیت سے غفلت کی وجہ سے محفوظ نہ ہو سکیں ۔ آپ کا مزار مبارک شاہ بندر کے پر انہ مقام ’’دیرہ پرانہ ‘‘ میں واقع ہے ۔

۴۔ قاضی کمال الدین
ایک عالم دین و شاعر تھے ۔ آپ کی ذہنی تخلیقات میں سے ایک کتاب محفوظ ہے ۔ شیخ سلامت اللہ فاروقی قادری المعروف شیخ مغل (متوفی ۶۰۱ھ) کی درگاہ شریف جاتی (ضلع ٹھٹھہ) میں قائم اورمرجع خلائق ہے ۔ آپ کی ملفوظات ’’مقصود العارفین ‘‘ جس کو آپ کے خلیفہ مخدوم آری نے فارسی میں قلمبند کیا تھا ۔ قاضی کمال الدین نے مقصود العارفین کا ۱۲۸۶ھ کو سندھی نظم میں منتقل کیا اور اس کا نام ’’مقصود العاشقین ‘‘ تجویز کیا ۔ آپ کا مزار شریف درگاہ شیخ مغل کے متصل قبرستان میں ہے۔

۵۔قاضی محمد بلال
مولانا قاضی محمد بلال بن قاضی گل محمد اپنے سلف کی طرح علم و ادب کے پیکر تھے ۔ مشہور بزرگ و صو فی شاعر حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی ؒ کی کتاب ’’شاہ جو رسالو ‘‘ پر دسترس رکھتے تھے ۔ فارسی میں شاعری بھی آپ کی یاد گار ہے ۔ غالبا۹۵؍۱۹۹۴ء کو انتقال کیا ۔ شاہ بندر کے پرانہ مقام ’’دیرہ پرانہ کے قبرستان میں مزار واقع ہے ۔

۶۔ قاضی محمد سعید
ایک مانے ہوئے عالم دین ، اچھے اوصاف کے مالک اور عظیم خطاط تھے ۔ آپ کا مزار حضرت شیخ مغل کے متصل قبرستان میں واقع ہے۔

۷۔قاضی عبدالکریم
مولانا قاضی عبدالکریم بن قاضی محمد سعید ۱۸۸۲ء کو جاتی شہر میں تولد ہوئے ۔ تعلیم و تربیت اپنے والد محترم سے حاصل کرکے فارغ التحصیل ہوئے ۔صاحب علم و فضل کے علاوہ خوش مزاج انسان تھے ۔ تحریک خلافت میں بھی کام کیا لیکن زندگی نے وفانہ کی اور جلد ۱۹۲۵ء کو ۴۳ سال کی عمر میں انتقال کیا ۔

آپ کا مزار اپنے والد ماجد کے برابر میں درگاہ شیخ مغل تحصیل جاتی میں واقع ہے۔

[محترم حافظ حبیب سندھی (چوہڑ جمالی ) کے مضمون ‘‘جاتی کے قاضی خاندان کی علمی خدمات ( سندھی ) مطبوعہ مجلہ ’’سندھ‘‘ (سندھی ) حیدرآباد مئی ۱۹۹۲ء سے ماخوذہے ]

مولانا جمال الدین ابڑو
مولانا جمال الدین بن مولانا مفتی ابوالجمال خدا بخش ابڑو، گوٹھ ملا ابڑو ، اسٹیشن مشوری شریف ضلع لاڑکانہ میں ۱۹۰۹ ء کو تولد ہوئے ۔

تعلیم و تربیت:
اول تا آخر تعلیم مدرسہ الفیض سو نہ جتوئی ضلع لاڑکانہ میں صدر العلماء سرتاج الفقہاء علامہ مفتی ابوا لفیض غلام عمر جتوئی قادری قدس سرہسے حاصل کی۔

بیعت:
حضرت سید غلام تضی شاہ جیلانی (درگاہ جیلانیہ گمبٹ ضلع خیر پور میرس) سے سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے ۔

شروع میں رئیس گل محمد مگسی کے گوٹھ نزد سر ہاری ضلع سانگھڑ میں پندرہ (۱۵ ) سال درس دیا ۔ اس کے بعد درگاہ مرتضائیہ جیلانیہ گمبٹ (ضلع خیر پور میرس ) میں امام و مدرس کے فرائض انجام دئیے ۔ آخر میں گوٹھ واپس آکر ملا ابڑا کی درسگاہ دارالسعادات میں درس دیا ۔

وصال:
مولانا جمال الدین ابڑو نے ۱۹۸۴ء کو انتقال کیا اور تاج السالکین شیخ بریقت مولانا میاں علی محمد مشوریؒ سجادہ نشین اول مشوری شریف نے نماز جنازہ کی امامت فرمائی اور آبائی قبرستان میں تدفین عمل میں آئی ۔

( انوارِعلماءِ اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-alhaj-molana-abdul-jamay-jami-siddiqui
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
استاذ المدرسین حضرت علامہ مولانا مہر محمد اچھروی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
مولانا مہر محمد اچھروی ۔ لقب: امام المحققین، استاذ المدرسین ۔ والد کا اسمِ گرامی: جناب عبد اللہ علیہ الرحمہ ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1314ھ، مطابق 1896ء، کو موضع " چوکھنڈی " مضافات اٹک پاکستان میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
ابتداً موضع تھو ہامحرم خاں (اٹک) میں قرآن مجید حفظ کرنا شروع کیا بعد ازاں مولانا حافظ عطاء الرسول کی خدمت میں خوشاب چلے گئے اور قرآن مجید حفظ کر لیا ۔ استاذ مکرم کے وصال کے بعد ان کی مسند پر بیٹھ کر قرآن مجید پڑھانا شروع کیا ۔ مزید علم کے حصول کا شوق ہوا، تو مولانا سلطان محمود نامی کی خدمت میں بندیال (سرگودھا) حاضر ہوئے اس زمانے میں فارسی پڑھانے میں ان کی بہت شہرت تھی ـ

پھر بمقام قاضیاں (ضلع مظفر گڑھ) مولانا سید غلام حسین سے کچھ کتابیں پڑھیں بعد ازاں مولانا غلام محمد گھوٹوی کی خدمت میں حاضر ہو کر ان کے تلمیذِ رشید علامہ مولانا محمود سے استفادہ کیا اور اکثر کتابیں شیخ الجامعہ مولانا غلام محمد گھوٹوی رحمہ اللہ تعالیٰ سے پڑھیں، جب شیخ الجامعہ حج کے لئے تشریف لے گئے تو کچھ کتابیں قصبہ انھی (ضلع گجرات) میں مولانا غلام رسول سے پڑھیں اور حضرت شیخ الجامعہ کے واپس آنے پر انہی سے تمام کتب کی تکمیل کی ۔

بیعت و خلافت:
تحصیلِ علم کے دوران شیخ الاسلام حضرت خواجہ پیر مہرعلی شاہ گولڑوی قدس سرہ کے دست اقدس پر بیعت ہوئے ۔

سیرت و خصائص:
امام المحققین استاذ المدرسین حضرت مولانا مہر محمد اچھروی رحمۃ اللہ علیہ ۔ آٹھ سال کی عمر میں والد ماجد کا سایۂ شفقت سر سے اٹھ گیا ۔ حفظ مکمل کرنے کے کچھ عرصہ بعد فوجی ملازمت کا شوق پیدا ہو چنانچہ فوج میں بھرتی ہو گئے ۔ کسے خبر تھی کہ ایک وقت یہ فوجی مرجع علماء و فضلاء ہوگا ۔ ایک مرتبہ کچھ قیدی دوسری جگہ منتقل کرنے کے لئے آپ کے سپرد کئے گئے جو راستے میں موقع پاکر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے اس بنا پر آپ کو ملازمت سے بر طرف کر دیا گیا ۔ ملازمت سے بر طرف ہونے کے بعد علم حاصل کرنے کا شوق پیدا ہوا ۔

ایک دن وہ آیا کہ آپ استاذ المدرسین بن گئے ۔ تحصیلِ علم سے فراغت کے بعد جامعہ فتحیہ (اچھرہ، لاہور) میں صدر مدرس مقرر ہوئے، کچھ زمانہ کے بعد ستو کی (مضافات لاہو) چلے گئے، پھر جامعہ فتحیہ اچھرہ کے مہتمم جناب قمر الدین مرحوم کے اصرار اور استاذ محترم علامہ گھوٹوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے ایماء پر واپس جامعہ فتحیہ تشریف لے آئے اور تمام عمر اسی جگہ درس و تدریس میں صرف کردی، حضرت مولانا مہر محمد رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کو درس و تدریس اور خاص طور پر معقولات میں ید طولیٰ حاصل تھا ۔

ہمیشہ معقول و منقول کی انتہائی کتب کا درس دیا کرتے تھے ۔ دور دراز سے تشنگانِ علوم آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر سیراب ہوا کرتے تھے ۔آپ کے تلامذہ آسمان علم و فضل پر آفتاب و ماہتاب بن کر چمکے ۔ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے اجلہ مدرسین کی بہت بڑی جماعت تیار کی جنہوں نے علومِ دینیہ کی مسلک اہل سنت و جماعت کی قابل قدر خدمات انجام دیں ۔ آپ کے تلامذہ میں ملک المدرسین امام المناطقہ حضرت مولانا عطا محمد بندیالوی علیہ الرحمہ ۔ استاذ الافاضل مولانا غلام مہر علی گولڑوی مصنف " دیوبندی مذہب " الیواقیت المھریہ ۔ استاذ العلماء مولانا محمد مہر الدین ۔ مصنف " تسہیل المبانی شرح مختصر المعانی " قابلِ صد افتخار ہیں ۔

وصال:
بروز پیر 2 ربیع الثانی 1374ھ، مطابق 29 نومبر 1954ء کو آپ کاوصال ہوا ۔ قبرِ انور جامعہ فتحیہ اچھرہ، لاہور کے قریبی قبرستان میں ہے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابرِ اہلسنت ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mehr-muhammad-acharavi
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت مولانا عبد الباسط رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

اسمِ گرامی:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا اسمِ گرامی حضرت مولانا عبد الباسط بن مولانا رستم علی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما تھا ۔

سیرت و خصائص:
آپ ہندوستان کے علماء کرام اور فقہائے عظام میں سے تھے ۔ حدیث و تفسیر و فروع و اصول میں اللہ کی نشانیوں میں سے ایک علامت تھے آپ علوم قرآنیہ میں ماہر مانے جاتے تھے، اپنے زمانے میں شہرۂ آفاق عالم دین مانے جاتے تھے آپ کی شہرت سارے ہندوستان میں تھی، تفسیر ذوالفقار خانی اور رسالہ عجب البیان فی علوم القرآن کے مصنف تھے، علماء و فضلاء میں مقبول تھے ۔

ماخذ و مراجع: خزینۃ الاصفیاء

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-basit-bin-molana-rustam-ali
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
استاذ العلماء، حضرت علامہ مفتی جمیل احمد نعیمی ضیائی علیہ الرحمہ

تحریر:
ندیم احمد نؔدیم نورانی

ولادت و ہجرت:
اُستاذ الفضلاء، جمیل العلما، عمدۃ السلف، قدوۃ الخلف، جمیلِ ملّت حضرت علامہ مولانا جمیل احمد نعیمی ضیائی علیہ الرحمہ کا آبائی شہر سہارن پور ہے ـ

جہاں سے آپ کے جدِّ امجد نے حضرت سائیں توکل شاہ علیہ الرحمہ کی سر زمین مشرقی پنجاب (بھارت) کے شہر انبالہ (انبالہ چھاؤنی) میں ہجرت فرمائی ۔

اِسی شہر میں، ۱۲ فروری ۱۹۳۶ء مطابق ۱۸ ذوالقعدہ ۱۳۵۴ھ کو بدھ کے دن، آپ کی ولادت ہُوئی ۔

بعض مقامات پر، آپ کی ولادت کا سال ’’ ۱۳۵۵ھ ‘‘ لکھا ہے، جو درست نہیں ہے ۔

آپ کا تعلّق شیخ برادری سے تھا، آپ کے بزرگ زراعت پیشہ تھے، لیکن والدِ ماجد جناب قادر بخش علیہ الرحمہ (متوفّٰی ۱۹۵۸ء) انبالہ کی ایک فلور مِل میں اسسٹنٹ انجینئر تھے ۔ تقسیمِ ہند کے وقت اگست ۱۹۴۷ء / رمضان المبارک ۱۳۶۶ھ میں اپنے والدین ا ۔۔۔

مزید ...

https://scholars.pk/ur/scholar/gotodate?bd=2&day=02&month=04&year=
2
استاذ العلماء، حضرت علامہ مفتی جمیل احمد نعیمی ضیائی علیہ الرحمہ

تحریر:
ندیم احمد نؔدیم نورانی

ولادت و ہجرت:
اُستاذ الفضلاء، جمیل العلما، عمدۃ السلف، قدوۃ الخلف، جمیلِ ملّت حضرت علامہ مولانا جمیل احمد نعیمی ضیائی علیہ الرحمہ کا آبائی شہر سہارن پور ہے ـ

جہاں سے آپ کے جدِّ امجد نے حضرت سائیں توکل شاہ علیہ الرحمہ کی سر زمین مشرقی پنجاب (بھارت) کے شہر انبالہ  (انبالہ چھاؤنی) میں ہجرت فرمائی ۔

اِسی شہر میں، ۱۲ فروری ۱۹۳۶ء مطابق ۱۸ ذوالقعدہ ۱۳۵۴ھ کو بدھ کے دن، آپ  کی ولادت ہُوئی ۔

بعض مقامات پر، آپ کی ولادت کا سال ’’ ۱۳۵۵ھ ‘‘ لکھا  ہے، جو درست نہیں ہے ۔

آپ کا تعلّق شیخ برادری سے تھا، آپ کے بزرگ زراعت پیشہ تھے، لیکن والدِ ماجد جناب قادر بخش علیہ الرحمہ (متوفّٰی ۱۹۵۸ء) انبالہ کی ایک فلور مِل میں اسسٹنٹ انجینئر تھے ۔ تقسیمِ ہند کے وقت اگست ۱۹۴۷ء / رمضان المبارک ۱۳۶۶ھ میں اپنے والدین ا ۔۔۔

مزید ...

https://scholars.pk/ur/scholar/gotodate?bd=2&day=02&month=04&year=
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2