🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت الحاج مولانا عبد الجامع جامی صدیقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

الحاج مولانا محمد عبدالجامع جامی، مولوی حاجی عبدالقدیر صدیقی قادری کے اکلوتے فرزند تھے۔ ۲ ریبع الآخر ۱۲۹۷ھ/۱۴،مارچ ۱۸۸۰ء بروز اتوار محلہ سوتھ بدایوں (یوپی ، انڈیا) میں تولد ہوئے۔ حاجی عبدلقدیر، شیخ طریقت حضرت سید شاہ آل رسول احمدی برکاتی قادری (متوفی ۱۲۹۶ھ مارہرہ شریف) سے دست بیعت تھے۔

جامی کا سلسلہ نسب حضرت عبد الرحمن بن حضرت امیر المومنین سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہٗ سے ملتا ہے۔ ان کے مورث اعلیٰ شیخ عبد اللہ مکی علیہ الرحمۃ مکمہ معظمہ سے نقل مکانی کرکے ہرات ہوتے ہوئے بعہد سلطنت سلطان شمس الدین التمش ۶۱۰ھ کو ہندوستان پہنچتے اور بدایوں میں اقامت گزیں ہوئے۔ ان کے ورود ہند کی تاریخ لفظ ’’قریش‘‘(۶۱۰ھ) سے برآمد ہوتی ہے۔

تعلیم و تربیت:
ابتدائی تعلیم گھر پو ہوئی۔ آٹھویں جماعت تک گورنمنٹ ہائی اسکول بدایوں میں ہوئی انگریزی تعلیم کا سلسلہ منقطع کرکے مولانا ریاض الدین احمد فرشوری سے فارسی کی تعلیم حاصل کی، اس کے بعد حضرت مولانا سید یونس علی محدث بدایونی قدس سرہٗ (متوفی ۱۹۴۰ئ) کے دامن تلمذ سے وابستہ رہ کر درس نظامی کی تکمیل کی۔ آپ نے استاد محترم کے انتقال پر قطعہ تاریخ وصال کہا:

جنید عصر و شبلی زمانہ
جناب مولوی یونس علی تھے

بظاہر عالم و فاضل محدث
بباطن مولوی معنوی تھے

مجھے بھی فیض کا حصہ ملا تھا
بحمد اللہ مرے استاد بھی تھے

ادب کے ساتھ لکھ تاریخ جامی
ولی تھے مولوی تھے متقی تھے

۷+۱۹۳۳=۱۹۴۰ء

شاعری میں حضرت مولانا احسن مارہروی جانشین حضرت داغ دہلوی سے شرف تلمذ رکھتے تھے۔

شادی و اولاد:
آپ نے بدایوں مین اٹھارہ سال کی عمر میں انیس فاطمہ بنت مولوی قمر الدین احمد فرشوری سے شادی کی۔ اولاد میں ایک لڑکی اور دو لڑکے تولد ہوئے

۱۔ محمد عبدالنافع کیفی کراچی متوفی نومبر ۱۹۷۲ء

عبدالرشید صدیقی عرف عتیق

عبدالقدیر صدیقی عرف فیض (دونوں کیفی مرحوم کے لڑکے ہیں)

۲ عبدالشافع ادیب
۳۔ عروجہ خاتون

بدایوں سے پاکستان:
اہلیہ کے انتقال کے چند سال بعد ۱۹۶۰ء کو اپنے سب متعلقین (خاندان) کے ساتھ بدایوں سے پاکستان آگئے اور کراچی کو اپنا مستقر مسکن بنایا۔ آپ آسودہ حال زمیندار گھرانے کے چشم و چراغ تھے۔ تجارت و ملازمت سے کبھی سروکار نہ رہا۔ آبائی جائیداد فارغ البالی کے ساتھ زندگی گزارنے کیلئے کافی تھی۔

بیعت:
نوجوانی میں سلسلہ چشتیہ میں حضرت سید شاہ مہدی حسن عرف مہدی میاں کے والد بزرگوار حضرت سید شاہ ظہور حسین عرف چھٹو میاں خلف اصغر حضرت شیخ طعیقت سید شاہ اال رسول احمدی سے دست بیعت ہوئے۔اور ان کے بعد سلسلہ قادریہ برکاتیہ میںحضرت سید شاہ ابو الحسنین احمد نوری المعروف میاں صاحب قبلہ سے دست بیعت ہوئے جو کہ چھٹو میاں صاحب کے داماد اور سگے بڑے بھائی کے واحد فرزند تھے۔

عادات و خصائل:
عقیدتاً سنی حنفی اور مشربا قادری چشتی تھے۔ ایک متشرع دیندار، خلیق، باوضع، منکسر المزاج اور مرنجاں مرنج شخصیت کے مالک تھے۔ ان کا ظاہر اتباع نبوی سے آراتہ اور باطن عشق رسول ﷺ سے پیراستہ تھا۔ نماز باجماعت کے پابند اور نہایت خوش اوقات تھے۔ ب بزرگان دین اور والیائے امت علی الخصوص پیر ان مارہرہ سے والہانہ محبت و عقیدت رکھتے تھے ربیع الاول شریف کے مہینے میں محافل میلاد مصطفیﷺ اور گیارہ ربیع الاخر کو حضرت غوث پاک جیلانی کی نیاز کا نہایت خلوص کے ساتھ اعلیٰ پیمانے پر انتظام کرتے اور بہت سے بزرگان دین کے یوم وصال پر ہمیشہ بڑے اہتمام سے فاتحہ کراتے تھے۔

جناب رئیس امروہوی رقمطراز ہیں:
’’مولانا جامی بدایونی علیہ الرحمۃ کا شمار ان اکابر ملت میں ہوتا ہے جن کا روحانی رتبہ اور شعری عظمت مسلم ہے۔ مرحوم عربی و فارسی کے عالم، تاریخ اسلام کے مفکر، رموز قرآنی کے عارف اور علم و عرفان کے یکتا نمونہ تھے۔ شریعت و طریقت کے اسرار و معارف سے ان کا سینہ لبریز تھا۔‘‘

شہید بدایونی لکھتے ہیں:
’’آپ ذاتی کردار کے لحاظ سے بزرگان کے اخلاق اور شریفانہ وضعداری کا نمونہ تھے۔ بڑوں کا احترام معاصرین و احباب کے ساتھ خلوص ، چھوٹوں کے ساتھ شفقت ان کا شعار زندگی تھا۔ (تذکرۂ شعرائے بدایوں، جلد اول ص۳۲۳، مطبوعہ کراچی ۱۹۸۷ئ)

سفر حرمین شریفین:
۱۳۲۵ھ/۱۹۰۸ء کو اپنے والد محترم کے ہمراہ جوانی میں ہی حج بیت اللہ اور زیارت روضہ رسول ﷺ کی سعادت ابدی حاصل کی۔

تلامذہ:
آپ کے شاگردوں کا حلقہ ہندوستان و پاکستان میں پھیلا ہوا ہے، ان میں سے بعض کے نام درج ذیل ہیں:

مصطفی بخش فائق بدایونی، اخت غزنوی بدایونی مرحوم، منور بدایونی کراچی۔ مرحوم، نصرت بدایونی، دلاور فگار بدایونی کراچی، اور منشی رونق علی رونق بدایونی وغیرہ۔ رونق بدایونی بدایوں کے شعری و ادبی حلقوں کے روح رواں ہیں۔ ان کا حلقہ تلامذہ وسیع ہے۔ بدایوں میں اکثر شعراء انہیں سے مشاورت سختن کرتے ہیں۔ انہوں نے ایک ادبی تنظیم ’’بزم جامی‘‘ بدایوں میں قائم کی ہے جس کی طر ف سے پابندی کے ساتھ مشاعرے منع
2