🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
30-03-1445 ᴴ | 16-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
فلسطین بیت المقدس
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
شیخ المشائخ الحاج شاہ محمد تیغ علی

تحریر:
سیّد شاہ شمیم الدین احمد منعمی۔

نام و القاب:
اسمِ گرامی: محمد تیغ علی ۔ القاب: شیخ المشائخ، الحاج، شاہ

ولادت:
حضرت شیخ المشائخ الحاج شاہ محمد تیغ علی قادری مجددی آبادانی مظفر پوری قصبہ گوریارہ ضلع مظفر پور میں 1300ھ میں پیدا ہوئے ۔

تعلیم:
کم سنی ہی سے آپ کے شب وروز لہوولعب سے پاک اور غیر معمولی گزرتے تھے۔ آپ کی والدۂ ماجدہ عہدِ طفلی میں پیش آنے والے کئی غیر معمولی واقعات کی راویہ ہیں ۔ غرض کہ عہدِ شعور کی آمد سے قبل ہی آپ کی ولایت کے چرچے ہونے لگے تھے۔ ابتدائی علم کے حصول کے بعد جن اساتذہ کی صحبت میں آپ نے علومِ درسیہ حاصل فرمایا، ان میں حضرت مولانا شاہ سبحان علی کا نام سب سے اہم ہے۔ بعدہ مدرسۂ عالیہ کلکتہ میں داخل ہوکر طلب علم فرمایا۔ اسی دوران مردانِ خدا کے دیدار اور ان کی خدمت کا شرف حاصل کرنے کا شوق اُبھرا۔ چنانچہ حضرت مولانا شاہ سمیع احمد مونگیری قادری آبادانی کا چرچا سن کر کمال شوق کے ساتھ حاضرِ خدمت ہوئے۔ حضرت مولانا سمیع احمد، حضرت حافظ شاہ فرید الدین آروی قادری آبادانی کے مرید ومجاز تھے۔ آپ کا وطن خان پور ضلع مونگیر تھا ۔ اس زمانے میں آپ کا قیام بڑی پاڑہ کلکتہ میں تھا۔

بیعت:
مشائخ سلسلۂ عالیہ قادریہ میں حضرت صوفی شاہ آبادانی سیالکوٹی رحمۃ اللہ علیہ (م۱۸؍ربیع الثانی ۱۲۲۰ ھ) کی شخصیت بھی کافی اہمیت کی حامل ہے۔ اواخر بارھویں صدی ہجری سے اوائل تیرھویں صدی ہجری تک آپ کا فیضان شمالی ہند میں عام تھا۔ حضرت سیّدنا شیخ احمد سرہندی المعروف بہ مجددالف ثانی کے بعد آپ ساتویں پشت میں تھے۔ آپ ہی کے نام ِنامی سے منسوب ہوکر آپ کا سلسلہ سلسلۂ قادریہ مجددیہ آبادانیہ کہلاتا ہے۔ حضرت صوفی شاہ آبادانی کو اپنے مرشد حضرت صوفی شاہ محمد زکریا سے شیخ سرہندی کے تمام سلاسل کی اجازت حاصل تھی۔ آپ کے احوال ومناقب میں بزبانِ فارسی رسالہ نور القلوب (قلمی) بہت خوب ہے۔

سلسلۂ قادریہ مجددیہ آبادانیہ کا فیضان جس ذاتِ بابرکات سے سب سے زیادہ ہوا وہ حضرت صوفی شاہ آبادانی کی چھٹی پشت میں حضرت شیخ المشائخ الحاج شاہ محمد تیغ علی قادری مجددی آبادانی مظفر پوری کی ذات والا صفات ہے۔ سلسلۂ آبادانیہ کے کئی شیوخ سے حضرت تیغ علی کو فیض پہنچا تھا اور اجازتِ سلسلہ حاصل تھی۔ غرض کہ اس دور میں اس سلسلے کے شیخ المشائخ اور سر دفتر حضرت موصوف ہی تھے۔

حضرت شاہ محمد تیغ علی کو حضرت مولانا سمیع احمد مونگیری کے دیدار و حصول نیاز سے قلبی اطمینان حاصل ہوا۔ یہاں تک کہ انہیں کے دست حق پرست پر سلسلۂ قادریہ مجددیہ آبادانیہ میں بیعت ہوگئے۔ روزانہ اپنی قیام گاہ سے چلتے اور چار میل کی دوری طےکر کے اپنے پیر دستگیر کی خدمت میں باریاب ہوتے اوربھرپور استفادہ فرماتے اور ریاضات و مجاہدات میں کافی محنت اور لگن کے ساتھ مصروف رہتے، لیکن تکمیل سے قبل ہی حضرت مولانا سمیع احمد کو اپنے وطن مونگیر کو لوٹ جانے کا اتفاق ہوا۔ چنانچہ انہوں نے اپنے خلیفۂ اعظم حضرت مولا علی لال گنجوی کے سپرد آپ کو فرمایا۔ حضرت تیغ علی حضرت مولا علی لال گنجوی کی نگہداشت میں 14 سال تک مصروفِ ریاضات وعبادات رہے یہاں تک کہ ۲۰؍ جمادی الآخرہ ۱۳۴۱ ھ کو خان پور ضلع مونگیر میں حضرت مولانا سمیع احمد مونگیری کے آستانے پر حضرت مولاعلی لال گنجوی نے آپ کو سندِ خلافت واجازت سے نوازا۔

تکمیلِ طریقت کے بعد ۱۳۴۹ ھ ہی میں آپ نے سفر سیاحت کے لیے کمر باندھی اور سب سے پہلے آرہ میں اپنے دادا پیر حضرت حافظ شاہ فریدالدین کے مزار پر حاضر ہوئے اور وہیں حضرت حافظ شاہ محمد صاحب (سجادہ نشین حضرت فریدالدین) نے بھی سلسلۂ قادریہ مجددیہ آبادانیہ فریدیہ کی اجازت آپ کو عطا فرمائی۔ وہاں سے روانہ ہوکر آپ پھلواری شریف میں واقع خانقاہ مجیبیہ پہنچے اور حضرت شاہ مجیب اللہ قادری کے آستانۂ پُر انوار پر شرفِ حاضری حاصل کیا اور دو روز خانقاہ میں قیام پذیر رہے۔ اسی دوران ۲۸؍ رجب المرجب ۱۳۴۹ ھ کو زیبِ سجادہ حضرت مولانا شاہ محی الدین قادری مجیبی پھلواروی نے آپ کو خرقۂ خلافت سے نوازا اور سلسلۂ قادریہ وارثیہ وعمادیہ جنیدیہ و سلسلۂ چشتیہ نظامیہ اور صابریہ قلندریہ کی اجازت مرحمت فرمائی۔ وہاں سے رخصت ہوکرا پنے وطن گوریارہ پہنچے اور یہیں حضرت شاہ فرید الدین آروی کے خلیفہ ومجاز حضرت حکیم شاہ جلال الدین جڑہوی کی خدمت کا موقع ملا۔ حصولِ نیاز کے بعد حاصل کردہ خلافت نامے ان کی خدمت میں پیش کر دیے۔ حضرت حکیم صاحب نے بھی اپنے شیخ سے حاصل کردہ آبادانیہ سلاسل کی اجازت مرحمت فرمائی اور دعاؤں سے نوازا۔ حضرت شاہ محمد تیغ علی قدس سرہ کی خانقاہ میں مریدوں کو حضرت حکیم شاہ جلال الدین جڑہوی کے واسطے والا ہی شجرہ زیادہ تر دیا جاتا ہے اور یہی واسطہ زیادہ رائج ہے ۔
3