🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
29-03-1445 ᴴ | 15-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
29-03-1445 ᴴ | 15-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
29-03-1445 ᴴ | 15-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
29-03-1445 ᴴ | 15-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
حضرت شیخ ابو الحسن سمنون بن محب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
اسمِ گرامی:
آپ کا اسم گرامی ابوالحسین تھا، اپنے آپ کو کذّاب کے نام سے مشتہر کر رکھا تھا، جو شخص آپ کو کذاب کہہ کر نہ پکارتا، آپ اس کی آواز کا جواب نہ دیتے، علوم شریعت و طریقت میں یگانہ روزگار تھے۔ حضرت شیخ سری سقطی، محمد بن علی قصاب، ابواحمد قلانسی رحمۃ اللہ علیہم کی مجالس میں بیٹھتے حضرت جنید بغدادی اور ابوالحسن نوری رحمۃ اللہ علیہما کے خاص مقربین میں سے تھے۔
ایک دن حضرت سمنون کعبۃ اللہ میں تقریر فرما رہے تھے، آپ نے دیکھا کہ سامعین پوری توجہ نہیں دے رہے، آپ نے چھت سے لگی ہوئی قندیلوں کو مخاطب فرماکر کہا سنو! میں تم سے محبت کی بات کرنا چاہتا ہوں، اسی وقت تمام قندیلیں حرکت کرنے لگیں رقص میں آکر جھومنے لگیں حتی کہ ٹکڑے ٹکڑے ہوکر فرش پر آگریں۔
ایک دن آپ محبت کے موضوع پر گفتگو فرما رہے تھے ایک پرندہ اڑتا ہوا آیا آپ کے سر پر آ بیٹھا، سر سے اترا، بازو پر آبیٹھا، وہاں سے اڑا ہاتھ پر آبیٹھا، تھوڑی دیر بعد زمین پر آ بیٹھا، اور اپنی چونچ زمین پر مارنے لگا، اُس کی چونچ سے خون بہنے لگا حتی کہ تڑپ کر مرگیا۔
کہتے ہیں کہ آخر ین عمر میں آپ نے سنّت نبوی پر عمل کرتے ہوئے شادی کرلی، ایک لڑکی پیدا ہوئی، جب وہ تین سال کی ہوئی تو آپ کے دل میں اس بچی کی محبت بڑھنے لگی، ایک رات حضرت سمنون نے خواب میں دیکھا کہ قیامت برپا ہے جھنڈے لہرا رہے ہیں، ہر قوم کا ایک ایک جھنڈا نصب ہے، ان جھنڈوں کے درمیان ایک بلند ترین جھنڈا ہے جس سے نور کی شعاعیں نکل رہی ہیں، یہ جھنڈا سارے میدان قیامت پر چھایا ہوا ہے، آپ نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ علم کن لوگوں کے لیے ہے، لوگوں نے بتایا محبان خدا کے لیے، سمنون بھی اس جھنڈے کے نیچے جا کھڑے ہوئے، ابھی کھڑے ہوئے ہی تھے کہ ایک شخص آگے بڑھا اور آپ کو بازو سے پکڑ کر باہر نکال دیا، آپ نے حیران ہوکر پوچھا کیا میں محب خدا نہیں ہوں میرا تو نام ہی سمنون محب اللہ ہے۔
اس شخص نے بتایا تم محب خدا تھے مگر جب سے تم اپنی تین سالہ بچی سے محبت کرنے لگے ہو، اللہ کے دفتر سے تمہارا نام مٹا دیا گیا ہے، سمنون نے چلا کر کہا، اے اللہ، مجھے اپنے محبت کرنے والوں سے دُور نہ فرما، اگر میری بچی کی محبت قاطع محبت الٰہی ہے تو اسے درمیان سے اٹھالے، کہتے ہیں آپ خواب کی اس آواز سے بیدار ہوئے اور گھر سے رونے کی آواز سنی، پوچھا کہ ہمارے گھر کیوں آہ و فغان برپا ہے، لوگوں نے بتایا، آپ کی بچی چھت سے گر کر مرگئی ہے، آپ نے فرمایا الحمدللہ، میری محبت کی قاطع کو اللہ نے اٹھالیا ہے ۔
اسمِ گرامی:
آپ کا اسم گرامی ابوالحسین تھا، اپنے آپ کو کذّاب کے نام سے مشتہر کر رکھا تھا، جو شخص آپ کو کذاب کہہ کر نہ پکارتا، آپ اس کی آواز کا جواب نہ دیتے، علوم شریعت و طریقت میں یگانہ روزگار تھے۔ حضرت شیخ سری سقطی، محمد بن علی قصاب، ابواحمد قلانسی رحمۃ اللہ علیہم کی مجالس میں بیٹھتے حضرت جنید بغدادی اور ابوالحسن نوری رحمۃ اللہ علیہما کے خاص مقربین میں سے تھے۔
ایک دن حضرت سمنون کعبۃ اللہ میں تقریر فرما رہے تھے، آپ نے دیکھا کہ سامعین پوری توجہ نہیں دے رہے، آپ نے چھت سے لگی ہوئی قندیلوں کو مخاطب فرماکر کہا سنو! میں تم سے محبت کی بات کرنا چاہتا ہوں، اسی وقت تمام قندیلیں حرکت کرنے لگیں رقص میں آکر جھومنے لگیں حتی کہ ٹکڑے ٹکڑے ہوکر فرش پر آگریں۔
ایک دن آپ محبت کے موضوع پر گفتگو فرما رہے تھے ایک پرندہ اڑتا ہوا آیا آپ کے سر پر آ بیٹھا، سر سے اترا، بازو پر آبیٹھا، وہاں سے اڑا ہاتھ پر آبیٹھا، تھوڑی دیر بعد زمین پر آ بیٹھا، اور اپنی چونچ زمین پر مارنے لگا، اُس کی چونچ سے خون بہنے لگا حتی کہ تڑپ کر مرگیا۔
کہتے ہیں کہ آخر ین عمر میں آپ نے سنّت نبوی پر عمل کرتے ہوئے شادی کرلی، ایک لڑکی پیدا ہوئی، جب وہ تین سال کی ہوئی تو آپ کے دل میں اس بچی کی محبت بڑھنے لگی، ایک رات حضرت سمنون نے خواب میں دیکھا کہ قیامت برپا ہے جھنڈے لہرا رہے ہیں، ہر قوم کا ایک ایک جھنڈا نصب ہے، ان جھنڈوں کے درمیان ایک بلند ترین جھنڈا ہے جس سے نور کی شعاعیں نکل رہی ہیں، یہ جھنڈا سارے میدان قیامت پر چھایا ہوا ہے، آپ نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ علم کن لوگوں کے لیے ہے، لوگوں نے بتایا محبان خدا کے لیے، سمنون بھی اس جھنڈے کے نیچے جا کھڑے ہوئے، ابھی کھڑے ہوئے ہی تھے کہ ایک شخص آگے بڑھا اور آپ کو بازو سے پکڑ کر باہر نکال دیا، آپ نے حیران ہوکر پوچھا کیا میں محب خدا نہیں ہوں میرا تو نام ہی سمنون محب اللہ ہے۔
اس شخص نے بتایا تم محب خدا تھے مگر جب سے تم اپنی تین سالہ بچی سے محبت کرنے لگے ہو، اللہ کے دفتر سے تمہارا نام مٹا دیا گیا ہے، سمنون نے چلا کر کہا، اے اللہ، مجھے اپنے محبت کرنے والوں سے دُور نہ فرما، اگر میری بچی کی محبت قاطع محبت الٰہی ہے تو اسے درمیان سے اٹھالے، کہتے ہیں آپ خواب کی اس آواز سے بیدار ہوئے اور گھر سے رونے کی آواز سنی، پوچھا کہ ہمارے گھر کیوں آہ و فغان برپا ہے، لوگوں نے بتایا، آپ کی بچی چھت سے گر کر مرگئی ہے، آپ نے فرمایا الحمدللہ، میری محبت کی قاطع کو اللہ نے اٹھالیا ہے ۔
❤2
ایک شخص خلیل نامی بغداد کے خلیفہ کا معتمد بن گیا، وہ چاہتا تھا کہ خلیفہ وقت کو وقت کے علماء اور اولیاء سے بے اعتقاد کردیا جائے، وہ آئے دن حضرات مشائخ اور علماء کرام کے خلاف باتیں کرتا۔ اُن کی تضحیک کے لطیفے سناتا، ان دنوں حضرت سمنون کی مشائخیت کی شہرت سارے بغداد میں گونج رہی تھی ، خلیل نے حضرت کو نشانہ بنانے کا پروگرام بنالیا، اور ازرۂ حسد خلیفہ کے سامنے رسوا کرنا چاہتا تھا۔
ایک واقعہ یوں ہوا کہ ایک عورت نے حضرت سمنون کو کہا کہ وہ اس کے ساتھ نکاح کر لیں، آپ نے انکار کر دیا وہ عورت حضرت جنید بغدادی کے پاس گئی، اور کہا کہ آپ سمنون کو لکھیں کہ اس سے نکاح کر لے، حضرت جنید نے اسے اپنے دروازے سے ہٹا دیا، وہ عورت مایوس ہو کر خلیل کے پاس جا پہنچی، اور اس کے کہنے پر انتقام لینے کے لیے آپ پر تہمت لگانے لگی کہ سمعون نے اس کے ساتھ زنا کیا ہے ـ
خلیفہ وقت کے سامنے بیان دیے، خلیل نے آپ کے قتل کے احکامات لے لیے، حضرت سمنون کو دربار میں طلب کیا گیا، جلّاد کو حکم دیا کہ آپ کی گردن اڑا دے، مگر اس حکم کے الفاظ زبان سے نکلنے نہ پائے تھے، خلیفہ نے بڑا زور لگایا، مگر قتل کے احکام کی ادائیگی نہ ہوتی تھی اور کہا کہ انہیں کل دربار میں دوبارہ پیش کیا جائے، رات کو خلیفہ نے خواب میں سنا کہ کوئی شخص کہہ رہا ہے کہ اگر تم نے حضرت سمنون کو قتل کرایا تو تمہاری سلطنت کا تختہ الٹ جائے گا۔
علی الصباح خلیفہ نے حضرت کو دربار میں طلب کیا، معافی چاہی اعزاز و اکرام سے نوازا، خلیل یہ صورت حال دیکھ کر حسد سے جل گیا، وہ حضور سے اور دشمنی کرنے لگا، حتی کہ جذام کی بیماری میں گرفتار ہو کر صاحبِ فراش ہو گیا، اس کے جسم سے پیپ اور خون رسنے لگا ـ
حضرت سمعون کو خبر ہوئی تو اپ نے ہاتھ اٹھا کر دعا کی، اے اللہ ! اسے صحت عطا فرما، خلیل نے حضرت کی دعا کی خبر سنی، تو سخت شرمندہ ہوا، توبہ کی، اور جو کچھ بھی اس کے پاس تھا بزرگان دین کی نذر کر دیا مگر بزرگان دین نے اس کے نذرانہ کو قبول کرنے سے انکار کر دیا، آخر حضرت سمنون نے اُس کی بیچارگی پر پھر دعا کی، اور پوری توجہ دی، اللہ تعالیٰ نے اُسے توبہ کی توفیق دی ۔
وصال:
شیخ سمنون نے ۲۹۸ھ میں وفات پائی۔
شیخ سمنون صاحب حسن و جمال
سن ترحیلش صبور آمد میاں
شیخ کامل شیخ اکمل باکمال
ہم رقم شد مہربان سالِ وصال
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abul-hasan-samnoon-bin-muhib
ایک واقعہ یوں ہوا کہ ایک عورت نے حضرت سمنون کو کہا کہ وہ اس کے ساتھ نکاح کر لیں، آپ نے انکار کر دیا وہ عورت حضرت جنید بغدادی کے پاس گئی، اور کہا کہ آپ سمنون کو لکھیں کہ اس سے نکاح کر لے، حضرت جنید نے اسے اپنے دروازے سے ہٹا دیا، وہ عورت مایوس ہو کر خلیل کے پاس جا پہنچی، اور اس کے کہنے پر انتقام لینے کے لیے آپ پر تہمت لگانے لگی کہ سمعون نے اس کے ساتھ زنا کیا ہے ـ
خلیفہ وقت کے سامنے بیان دیے، خلیل نے آپ کے قتل کے احکامات لے لیے، حضرت سمنون کو دربار میں طلب کیا گیا، جلّاد کو حکم دیا کہ آپ کی گردن اڑا دے، مگر اس حکم کے الفاظ زبان سے نکلنے نہ پائے تھے، خلیفہ نے بڑا زور لگایا، مگر قتل کے احکام کی ادائیگی نہ ہوتی تھی اور کہا کہ انہیں کل دربار میں دوبارہ پیش کیا جائے، رات کو خلیفہ نے خواب میں سنا کہ کوئی شخص کہہ رہا ہے کہ اگر تم نے حضرت سمنون کو قتل کرایا تو تمہاری سلطنت کا تختہ الٹ جائے گا۔
علی الصباح خلیفہ نے حضرت کو دربار میں طلب کیا، معافی چاہی اعزاز و اکرام سے نوازا، خلیل یہ صورت حال دیکھ کر حسد سے جل گیا، وہ حضور سے اور دشمنی کرنے لگا، حتی کہ جذام کی بیماری میں گرفتار ہو کر صاحبِ فراش ہو گیا، اس کے جسم سے پیپ اور خون رسنے لگا ـ
حضرت سمعون کو خبر ہوئی تو اپ نے ہاتھ اٹھا کر دعا کی، اے اللہ ! اسے صحت عطا فرما، خلیل نے حضرت کی دعا کی خبر سنی، تو سخت شرمندہ ہوا، توبہ کی، اور جو کچھ بھی اس کے پاس تھا بزرگان دین کی نذر کر دیا مگر بزرگان دین نے اس کے نذرانہ کو قبول کرنے سے انکار کر دیا، آخر حضرت سمنون نے اُس کی بیچارگی پر پھر دعا کی، اور پوری توجہ دی، اللہ تعالیٰ نے اُسے توبہ کی توفیق دی ۔
وصال:
شیخ سمنون نے ۲۹۸ھ میں وفات پائی۔
شیخ سمنون صاحب حسن و جمال
سن ترحیلش صبور آمد میاں
شیخ کامل شیخ اکمل باکمال
ہم رقم شد مہربان سالِ وصال
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abul-hasan-samnoon-bin-muhib
scholars.pk
Hazrat Sheikh Abul Hasan Samnoon Bin Muhib
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2