🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
29-03-1445 ᴴ | 15-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
29-03-1445 ᴴ | 15-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
29-03-1445 ᴴ | 15-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
29-03-1445 ᴴ | 15-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت شیخ ابو الحسن سمنون بن محب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

اسمِ گرامی:
آپ کا اسم گرامی ابوالحسین تھا، اپنے آپ کو کذّاب کے نام سے مشتہر کر رکھا تھا، جو شخص آپ کو کذاب کہہ کر نہ پکارتا، آپ اس کی آواز کا جواب نہ دیتے، علوم شریعت و طریقت میں یگانہ روزگار تھے۔ حضرت شیخ سری سقطی، محمد بن علی قصاب، ابواحمد قلانسی رحمۃ اللہ علیہم کی مجالس میں بیٹھتے حضرت جنید بغدادی اور ابوالحسن نوری رحمۃ اللہ علیہما کے خاص مقربین میں سے تھے۔

ایک دن حضرت سمنون کعبۃ اللہ میں تقریر فرما رہے تھے، آپ نے دیکھا کہ سامعین پوری توجہ نہیں دے رہے، آپ نے چھت سے لگی ہوئی قندیلوں کو مخاطب فرماکر کہا سنو! میں تم سے محبت کی بات کرنا چاہتا ہوں، اسی وقت تمام قندیلیں حرکت کرنے لگیں رقص میں آکر جھومنے لگیں حتی کہ ٹکڑے ٹکڑے ہوکر فرش پر آگریں۔

ایک دن آپ محبت کے موضوع پر گفتگو فرما رہے تھے ایک پرندہ اڑتا ہوا آیا آپ کے سر پر آ بیٹھا، سر سے اترا، بازو پر آبیٹھا، وہاں سے اڑا ہاتھ پر آبیٹھا، تھوڑی دیر بعد زمین پر آ بیٹھا، اور اپنی چونچ زمین پر مارنے لگا، اُس کی چونچ سے خون بہنے لگا حتی کہ تڑپ کر مرگیا۔

کہتے ہیں کہ آخر ین عمر میں آپ نے سنّت نبوی پر عمل کرتے ہوئے شادی کرلی، ایک لڑکی پیدا ہوئی، جب وہ تین سال کی ہوئی تو آپ کے دل میں اس بچی کی محبت بڑھنے لگی، ایک رات حضرت سمنون نے خواب میں دیکھا کہ قیامت برپا ہے جھنڈے لہرا رہے ہیں، ہر قوم کا ایک ایک جھنڈا نصب ہے، ان جھنڈوں کے درمیان ایک بلند ترین جھنڈا ہے جس سے نور کی شعاعیں نکل رہی ہیں، یہ جھنڈا سارے میدان قیامت پر چھایا ہوا ہے، آپ نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ علم کن لوگوں کے لیے ہے، لوگوں نے بتایا محبان خدا کے لیے، سمنون بھی اس جھنڈے کے نیچے جا کھڑے ہوئے، ابھی کھڑے ہوئے ہی تھے کہ ایک شخص آگے بڑھا اور آپ کو بازو سے پکڑ کر باہر نکال دیا، آپ نے حیران ہوکر پوچھا کیا میں محب خدا نہیں ہوں میرا تو نام ہی سمنون محب اللہ ہے۔

اس شخص نے بتایا تم محب خدا تھے مگر جب سے تم اپنی تین سالہ بچی سے محبت کرنے لگے ہو، اللہ کے دفتر سے تمہارا نام مٹا دیا گیا ہے، سمنون نے چلا کر کہا، اے اللہ، مجھے اپنے محبت کرنے والوں سے دُور نہ فرما، اگر میری بچی کی محبت قاطع محبت الٰہی ہے تو اسے درمیان سے اٹھالے، کہتے ہیں آپ خواب کی اس آواز سے بیدار ہوئے اور گھر سے رونے کی آواز سنی، پوچھا کہ ہمارے گھر کیوں آہ و فغان برپا ہے، لوگوں نے بتایا، آپ کی بچی چھت سے گر کر مرگئی ہے، آپ نے فرمایا الحمدللہ، میری محبت کی قاطع کو اللہ نے اٹھالیا ہے ۔
2