Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
حضرت خواجہ عبید اللہ احرار رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: خواجہ عبید اللہ ۔ لقب: ناصر الدین، احرار ۔ ’’ خواجۂ احرار ‘‘ کے عظیم لقب سے معروف ہیں ۔
سلسلۂ نسب:
خواجہ عبید اللہ احرار بن محمود بن قطبِ وقت خواجہ شہاب الدین ۔ آپ کا خاندانی تعلق عارف باللہ حضرت خواجہ محمد باقی بغدادی علیہ الرحمہ کی اولاد سے ہے ۔
والدہ ماجدہ کا تعلق عارف باللہ شیخ عمر یاغستانی کی اولاد امجاد سے ہے، اور مشہور بزرگ حضرت محمود شاشی کی دختر نیک اختر تھیں ۔ (تاریخ مشائخِ نقشبند؛ ص،237؛ از: مولانا صادق قصوری)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت یاغستان مضافاتِ تاشقند (ازبکستان) میں ماہِ رمضان المبارک 806ھ مطابق 1404ء کو ہوئی۔
بچپن میں آثارِ سعادت:
بچپن ہی سے آثارِ رشد و ہدایت اور انوارِ قبول و عنایت آپ کی پیشانی میں نمایاں تھے ۔ ولادت کے بعد چالیس دن تک جو کہ ایامِ نِفاس ہیں، آپ نے اپنی والدہ کا دودھ نہ پیا ۔ جب انہوں نے نفاس سے پاک ہو کر غسل کیا تو پینا شروع کر دیا ۔ تین چار سال کی عمر میں اللہ جل شانہ کی معرفت کی باتیں کرکے سب کو حیران کر دیتے تھے ۔
آپ کے جدِّ امجد خواجہ شہاب الدین جو کہ قطبِ وقت تھے ۔ ان کا جب وقتِ اخیر آیا تو اپنے پوتوں کو الوداع کہنے کے لیے بلایا ۔ خواجۂ احرار اس وقت بہت چھوٹے تھے، جب جدِّ امجد کے حضور گئے تو وہ ان کو دیکھ کر تعظیم کے لیے کھڑے ہو گئے۔ اور پھر گود میں لے کر فرمایا : ’’کہ اس فرزند کے بارے میں مجھے بشارتِ نبوی ملی ہے کہ یہ نونہال مستقبل میں ایک جہان کا پیر و مرشد ہوگا ۔ اور اس سے شریعت و طریقت دونوں کو رونق حاصل ہوگی ۔ (ایضا: 237)
تحصیلِ علم:
آپ بچپن سے ہی عام بچوں سے مختلف تھے ۔ کھیل کھود سے کوئی شغف نہیں رکھتے تھے ۔ آپ کے ماموں خواجہ ابراہیم کو آپ کی تعلیم کا بہت خیال تھا۔اس لیے وہ آپ کو تاشقند سے سمر قند لے گئے۔ چنانچہ سمر قند میں آپ اکثر مولانا نظام الدین، خلیفہ حضرت علاء الدین عطار قدس سرہ کی صحبت میں حاضر ہوتے تھے۔ آپ کی تشریف آوری سے ایک روز قبل مولانا نے مراقبہ کے بعد نعرہ مارا۔ جب سبب دریافت کیا گیا تو فرمایا مشرق کی طرف سے ایک شخص نمودار ہوا جس کا نام عبید اللہ احرار ہے۔ اُس نے تمام روئے زمین کو اپنی روحانیت میں لے لیا ہے۔ اور وہ عجیب بزرگ شخص ہے۔ سمرقند کے قیام میں ایک روز آپ مولانا کے ہاں سے نکلے تو ایک بزرگ نے پوچھا کہ یہ جوانِ رعنا کون ہے؟ مولانا نے فرمایا کہ یہی ’’خواجہ عبید اللہ احرار ہیں، عنقریب دنیا کے سلاطین ان کے در کے گدا ہوں گے‘‘۔
سمر قند ہی میں آپ حضرت سیّد قاسم تبریزی کی صحبت سے مشرف ہوئے۔ کچھ عرصہ بعد آپ وہاں سے بخارا کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں ایک ہفتہ شیخ سراج الدین کلال پر مسی خلیفہ حضرت خواجہ نقشبند قدس سرہ کی صحبت میں رہے۔ بخارا میں پہنچ کر مولانا حسام الدین شاشی کی زیارت کی جو سید امیر حمزہ بن سیّد امیر کلال قدس سرہما کے خلیفۂ اول تھے۔ حضرت خواجہ نقشبند کے خلیفہ خواجہ علاء الدین غجدوانی کی خدمت میں بھی بہت دفعہ حاضر ہوئے۔ بعد ازاں آپ نے خراسان کا سفر اختیار کیا اور مرو کے راستے ہرات میں آئے۔ ہرات میں آپ نے چار سال قیام کیا۔ اس عرصہ میں آپ اکثر سیّد قاسم تبریزی اور شیخ بہاء الدین عمر قدس سرہما کی صحبت میں رہے اور کبھی کبھی شیخ زین الدین خوافی قدس سرہ کی خدمت میں حاضر ہوتے۔خواجہ فضل اللہ ابو للیثی (جو سمر قند کے اکابر علماء میں سے تھے) فرماتے تھے: کہ ہم خواجہ عبید اللہ احرار کے باطن کے کمال کو تو نہیں جانتے مگر اتنا جانتے ہیں کہ انہوں نےظاہری طور پر مروجہ نصاب سے بہت کم پڑھا ہے۔ لیکن اللہ جل شانہ نے ان کو ظاہری علوم میں بھی ایسا کمال عطاء فرمایا ہے کہ جب وہ تفسیرِ بیضاوی کی مشکل عبارات پر علماء کے سامنے اشکال پیش کرتے۔ تو سب علماء اس کے حل سے عاجز آجاتے۔(ایضا: 237)
بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ میں حضرت یعقوب چرخی(خلیفہ خواجۂ خواجگان حضرت بہاء الدین نقشبند) کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے۔
حضرت خواجہ احرار فرماتے ہیں:
جب آپ نے بیعت کے لئے ہاتھ بڑھایا۔ تو ان کی پیشانی مبارک پر کچھ سفیدی مشابہ برص تھی جو طبیعت کی نفرت کا موجب ہوتی ہے۔ اس لیے میری طبیعت اُن کے ہاتھ پکڑنے کی طرف مائل نہ ہوئی۔ وہ میری کراہت کو سمجھ گئے اور جلدی اپنا ہاتھ ہٹالیا اور صورت تبدیل کرکے ایسی خوب صورت شکل اور شاندار لباس میں ظاہر ہوئے کہ میں بے اختیار ہو گیا۔ قریب تھا کہ بے خود ہو کر آپ سے لپٹ جاؤں۔ آپ نے دوسری دفعہ اپنا دستِ مبارک بڑھایا اور فرمایا کہ حضرت خواجہ بہاء الدین قدس سرہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا تھا کہ تیرا ہاتھ ہمارا ہاتھ ہے جس نے تمہارا ہاتھ پکڑا اُس نے ہمارا ہاتھ پکڑا۔ خواجہ بہاء الدین کا ہاتھ پکڑ لو، میں نے بلا توقف اُن کا ہاتھ پکڑ لیا ۔
نام و نسب:
اسم گرامی: خواجہ عبید اللہ ۔ لقب: ناصر الدین، احرار ۔ ’’ خواجۂ احرار ‘‘ کے عظیم لقب سے معروف ہیں ۔
سلسلۂ نسب:
خواجہ عبید اللہ احرار بن محمود بن قطبِ وقت خواجہ شہاب الدین ۔ آپ کا خاندانی تعلق عارف باللہ حضرت خواجہ محمد باقی بغدادی علیہ الرحمہ کی اولاد سے ہے ۔
والدہ ماجدہ کا تعلق عارف باللہ شیخ عمر یاغستانی کی اولاد امجاد سے ہے، اور مشہور بزرگ حضرت محمود شاشی کی دختر نیک اختر تھیں ۔ (تاریخ مشائخِ نقشبند؛ ص،237؛ از: مولانا صادق قصوری)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت یاغستان مضافاتِ تاشقند (ازبکستان) میں ماہِ رمضان المبارک 806ھ مطابق 1404ء کو ہوئی۔
بچپن میں آثارِ سعادت:
بچپن ہی سے آثارِ رشد و ہدایت اور انوارِ قبول و عنایت آپ کی پیشانی میں نمایاں تھے ۔ ولادت کے بعد چالیس دن تک جو کہ ایامِ نِفاس ہیں، آپ نے اپنی والدہ کا دودھ نہ پیا ۔ جب انہوں نے نفاس سے پاک ہو کر غسل کیا تو پینا شروع کر دیا ۔ تین چار سال کی عمر میں اللہ جل شانہ کی معرفت کی باتیں کرکے سب کو حیران کر دیتے تھے ۔
آپ کے جدِّ امجد خواجہ شہاب الدین جو کہ قطبِ وقت تھے ۔ ان کا جب وقتِ اخیر آیا تو اپنے پوتوں کو الوداع کہنے کے لیے بلایا ۔ خواجۂ احرار اس وقت بہت چھوٹے تھے، جب جدِّ امجد کے حضور گئے تو وہ ان کو دیکھ کر تعظیم کے لیے کھڑے ہو گئے۔ اور پھر گود میں لے کر فرمایا : ’’کہ اس فرزند کے بارے میں مجھے بشارتِ نبوی ملی ہے کہ یہ نونہال مستقبل میں ایک جہان کا پیر و مرشد ہوگا ۔ اور اس سے شریعت و طریقت دونوں کو رونق حاصل ہوگی ۔ (ایضا: 237)
تحصیلِ علم:
آپ بچپن سے ہی عام بچوں سے مختلف تھے ۔ کھیل کھود سے کوئی شغف نہیں رکھتے تھے ۔ آپ کے ماموں خواجہ ابراہیم کو آپ کی تعلیم کا بہت خیال تھا۔اس لیے وہ آپ کو تاشقند سے سمر قند لے گئے۔ چنانچہ سمر قند میں آپ اکثر مولانا نظام الدین، خلیفہ حضرت علاء الدین عطار قدس سرہ کی صحبت میں حاضر ہوتے تھے۔ آپ کی تشریف آوری سے ایک روز قبل مولانا نے مراقبہ کے بعد نعرہ مارا۔ جب سبب دریافت کیا گیا تو فرمایا مشرق کی طرف سے ایک شخص نمودار ہوا جس کا نام عبید اللہ احرار ہے۔ اُس نے تمام روئے زمین کو اپنی روحانیت میں لے لیا ہے۔ اور وہ عجیب بزرگ شخص ہے۔ سمرقند کے قیام میں ایک روز آپ مولانا کے ہاں سے نکلے تو ایک بزرگ نے پوچھا کہ یہ جوانِ رعنا کون ہے؟ مولانا نے فرمایا کہ یہی ’’خواجہ عبید اللہ احرار ہیں، عنقریب دنیا کے سلاطین ان کے در کے گدا ہوں گے‘‘۔
سمر قند ہی میں آپ حضرت سیّد قاسم تبریزی کی صحبت سے مشرف ہوئے۔ کچھ عرصہ بعد آپ وہاں سے بخارا کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں ایک ہفتہ شیخ سراج الدین کلال پر مسی خلیفہ حضرت خواجہ نقشبند قدس سرہ کی صحبت میں رہے۔ بخارا میں پہنچ کر مولانا حسام الدین شاشی کی زیارت کی جو سید امیر حمزہ بن سیّد امیر کلال قدس سرہما کے خلیفۂ اول تھے۔ حضرت خواجہ نقشبند کے خلیفہ خواجہ علاء الدین غجدوانی کی خدمت میں بھی بہت دفعہ حاضر ہوئے۔ بعد ازاں آپ نے خراسان کا سفر اختیار کیا اور مرو کے راستے ہرات میں آئے۔ ہرات میں آپ نے چار سال قیام کیا۔ اس عرصہ میں آپ اکثر سیّد قاسم تبریزی اور شیخ بہاء الدین عمر قدس سرہما کی صحبت میں رہے اور کبھی کبھی شیخ زین الدین خوافی قدس سرہ کی خدمت میں حاضر ہوتے۔خواجہ فضل اللہ ابو للیثی (جو سمر قند کے اکابر علماء میں سے تھے) فرماتے تھے: کہ ہم خواجہ عبید اللہ احرار کے باطن کے کمال کو تو نہیں جانتے مگر اتنا جانتے ہیں کہ انہوں نےظاہری طور پر مروجہ نصاب سے بہت کم پڑھا ہے۔ لیکن اللہ جل شانہ نے ان کو ظاہری علوم میں بھی ایسا کمال عطاء فرمایا ہے کہ جب وہ تفسیرِ بیضاوی کی مشکل عبارات پر علماء کے سامنے اشکال پیش کرتے۔ تو سب علماء اس کے حل سے عاجز آجاتے۔(ایضا: 237)
بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ میں حضرت یعقوب چرخی(خلیفہ خواجۂ خواجگان حضرت بہاء الدین نقشبند) کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے۔
حضرت خواجہ احرار فرماتے ہیں:
جب آپ نے بیعت کے لئے ہاتھ بڑھایا۔ تو ان کی پیشانی مبارک پر کچھ سفیدی مشابہ برص تھی جو طبیعت کی نفرت کا موجب ہوتی ہے۔ اس لیے میری طبیعت اُن کے ہاتھ پکڑنے کی طرف مائل نہ ہوئی۔ وہ میری کراہت کو سمجھ گئے اور جلدی اپنا ہاتھ ہٹالیا اور صورت تبدیل کرکے ایسی خوب صورت شکل اور شاندار لباس میں ظاہر ہوئے کہ میں بے اختیار ہو گیا۔ قریب تھا کہ بے خود ہو کر آپ سے لپٹ جاؤں۔ آپ نے دوسری دفعہ اپنا دستِ مبارک بڑھایا اور فرمایا کہ حضرت خواجہ بہاء الدین قدس سرہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا تھا کہ تیرا ہاتھ ہمارا ہاتھ ہے جس نے تمہارا ہاتھ پکڑا اُس نے ہمارا ہاتھ پکڑا۔ خواجہ بہاء الدین کا ہاتھ پکڑ لو، میں نے بلا توقف اُن کا ہاتھ پکڑ لیا ۔
❤2
حسبِ طریقہ حضراتِ خواجگان نقشبندیہ مجھے نفی و اثبات کے اذکار سکھائے اور فرمایا کہ جو کچھ ہمیں خواجہ نقشبند سے پہنچا ہے یہی ہے اگر تم بطریقِ جذب طالبوں کی تربیت کرو تو تمہیں اختیار ہے، سلسلۂ نقشبندیہ کی اشاعت میں کوشش کرنا اور کسی کا خوف مت کرنا۔ اہل لوگوں کی تربیت کرنا‘‘۔
حضرت خواجہ احرار کو بیعت کے ساتھ خلافت و اجازت سے نواز دیا گیا۔ وہاں پہلے سے جو درویش موجود تھے ان کو غیرت آئی کہ ہمیں عرصۂ دراز ہو چکا ہے کہ کبھی ایسا لطف نہیں جو اس نو وارد پر کیا ہے۔ مولانا عبد الرحمن جامیؔ لکھتے ہیں: ’’کہ مولانا خواجہ یعقوب چرخی فرماتے تھے کہ جو طالب کسی بزرگ کی صحبت میں آنا چاہے تو اسے خواجہ عبید اللہ احرار کی طرح آنا چاہئے کہ چراغ، تیل، اور بتی سب تیار ہے، صرف دیا سلائی دکھانےکی دیر ہے‘‘۔ (ایضا:239)
سیرت و خصائص:
ناصر الاسلام والدین، شیخ الاسلام، قطب الوقت، سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ کے نیرِ تاباں، سید الاحرار، عارف باللہ، عاشقِ رسول اللہ، صاحبِ معارفِ و اسرار، حضرت خواجہ عبید اللہ احرار ۔
آپ مادر زاد ولی کامل تھے۔ خاندانی لحاظ سے بھی آپ کا تعلق ایک علمی و روحانی خانوادے سے تھا۔ لیکن آپ ہمارے زمانے کے اخلاف کی طرح ’’پدرم سلطان بود‘‘ کی طرح نہ تھے۔
بلکہ علم و عمل، تقویٰ و فضیلت کے اعلیٰ معیار پر فائز تھے ۔ آپ کا لقب ’’احرار‘‘ ہے ۔ اس لقب میں آپ کی بڑی منقبت ہے کیونکہ اہل اللہ کے نزدیک حر (واحد؛احرار) اُسے کہتے ہیں، جو عبودیت کی حدود کو بدرجۂ کمال قائم کرے، اور ماسوی اللہ کی غلامی سے آزاد ہو جائے۔
بچپن ہی سے اہل اللہ سے سچی عقیدت تھی۔ کم سنی میں ہی مزاراتِ مشائخ پر حاضر ہوتے۔ جب سن بلوغ کو پہنچے تو تاشقند کے مزارات پر روزانہ حاضری دیتے۔ حضرت خواجہ عبید اللہ احرار خواجہ یعقوب چرخی قدس سرہ کی خدمت سے رخصت ہو کر پھر ہرات میں آئے اور کم و بیش ایک سال وہاں رہے۔ انتیس سال کی عمر میں اپنے وطن کی طرف واپس آئے، اور تاشقند میں مقیم ہو کر اپنے معاش کے لئے زراعت کا کام شروع کیا اس کام میں اللہ تعالیٰ نے بڑی برکت پیدا فرمائی، اور آپ کے ہاں مال و متاع، جانور و مویشی، اور اجناس وغیرہ کی فراوانی ہو گئی۔ یوں بظاہر آپ کی زندگی شاہانہ تھی، لیکن یہ سب کچھ درویشوں کی خدمت اور فقراء کے لئے تھا۔
علامہ عبد الرحمن جامی علیہ الرحمہ آپ کے ہم عصر اور نامور شاعر تھے ۔ انہوں نے آپ کو پہلی دفعہ اس حالت میں دیکھا کہ آپ کی سواری جا رہی تھی اور آپ کے جلوس میں خدام کی ایک جماعت تھی ۔ یہ ظاہری شان و شوکت، اور مال و اسباب اور گھوڑے دیکھ کر مولانا جامیؔ کی شاعری والی حس بیدار ہوئی اور ان کے دلی جذبات اس مصرعے کی صورت میں زبان پر آئے۔ ؏:
نہ مرد است آں کہ دنیا دوست دارد
یعنی: وہ مرد نہیں جو دنیا کو دوست رکھے ۔ پھر جب مولانا جامی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ جامی تم نے صرف ایک مصرعہ کہا ہے، مکمل شعر نہیں کہا۔ دوسرا مصرعہ بھی کہو۔ مولانا آپ کی باطنی بصیرت دیکھ کر ششدر رہ گئے، اور خاموش رہے۔چنانچہ حضرت نے خود ہی دوسرا مصرع بناتے ہوئے فرمایا کہ پورا شعر یوں ہونا چاہئے۔
؏: نہ مرد است آں کہ دنیا دوست دارد
اگر دارد برائے دوست دارد
پھر مولانا جامی آپ کے ایسے معتقد ہوئے کہ آپ کے ہی ہوکر رہ گئے۔ آپ کے زیرِ تربیت سلوک کی منازل طے کیں، اور آپ کی شان میں ’’ تحفۃ الاحرار ‘‘ کتاب لکھ کر عقیدت کا اظہار کیا ۔ (تاریخ مشائخِ نقشبندیہ؛ص؛320؛ از پروفیسر عبد الرسول للہی) ـ
سلسلۂ نقشبندیہ کی اشاعت:
حضرت خواجہ عبید اللہ احرار کی بدولت مختلف قبائل میں اسلام وسیع پیمانے پر پھیلا۔ خاص طور پر ازبک قبائل نے بڑی تعداد میں اسلام قبول کیا۔اسی طرح آپ کے ذریعے سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ کی وسیع ترویج و اشاعت ہوئی۔ وسط ایشیاء کے قدیم شہر مرکز تھے۔ اس میں سمرقند، مرو، خیوا، تاشقند، بخارا، ہرات، کے شہر اہم روحانی مراکز تھے۔ اسی طرح مغرب میں آپ کے خلیفہ عارف باللہ شیخ عبد اللہ سماؤ کے ذریعے مغرب میں اناطولیہ اور ترکی میں اشاعت۔
یاد رہے کہ اناطولیہ بر اعظموں کے وسط میں واقع ہے۔ اس کے اثرات کوہِ قاف اور وسطی ایشیائی ریاستوں تک پھیلے، اور امام شامل جیسا عظیم مجاہد پیدا کیا۔(امام مجاہد سلسلۂ نقشبندیہ کے شیخِ طریقت، اور اسم بامسمیّٰ تھے۔ وسط ایشیائی ریاستوں میں ان کا کردار ہندوستان، کے ٹیپو سلطان شہید، اور الجزائر کے عبد القادر الجزائری جیسا تھا) ـ
حضرت خواجہ احرار کو بیعت کے ساتھ خلافت و اجازت سے نواز دیا گیا۔ وہاں پہلے سے جو درویش موجود تھے ان کو غیرت آئی کہ ہمیں عرصۂ دراز ہو چکا ہے کہ کبھی ایسا لطف نہیں جو اس نو وارد پر کیا ہے۔ مولانا عبد الرحمن جامیؔ لکھتے ہیں: ’’کہ مولانا خواجہ یعقوب چرخی فرماتے تھے کہ جو طالب کسی بزرگ کی صحبت میں آنا چاہے تو اسے خواجہ عبید اللہ احرار کی طرح آنا چاہئے کہ چراغ، تیل، اور بتی سب تیار ہے، صرف دیا سلائی دکھانےکی دیر ہے‘‘۔ (ایضا:239)
سیرت و خصائص:
ناصر الاسلام والدین، شیخ الاسلام، قطب الوقت، سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ کے نیرِ تاباں، سید الاحرار، عارف باللہ، عاشقِ رسول اللہ، صاحبِ معارفِ و اسرار، حضرت خواجہ عبید اللہ احرار ۔
آپ مادر زاد ولی کامل تھے۔ خاندانی لحاظ سے بھی آپ کا تعلق ایک علمی و روحانی خانوادے سے تھا۔ لیکن آپ ہمارے زمانے کے اخلاف کی طرح ’’پدرم سلطان بود‘‘ کی طرح نہ تھے۔
بلکہ علم و عمل، تقویٰ و فضیلت کے اعلیٰ معیار پر فائز تھے ۔ آپ کا لقب ’’احرار‘‘ ہے ۔ اس لقب میں آپ کی بڑی منقبت ہے کیونکہ اہل اللہ کے نزدیک حر (واحد؛احرار) اُسے کہتے ہیں، جو عبودیت کی حدود کو بدرجۂ کمال قائم کرے، اور ماسوی اللہ کی غلامی سے آزاد ہو جائے۔
بچپن ہی سے اہل اللہ سے سچی عقیدت تھی۔ کم سنی میں ہی مزاراتِ مشائخ پر حاضر ہوتے۔ جب سن بلوغ کو پہنچے تو تاشقند کے مزارات پر روزانہ حاضری دیتے۔ حضرت خواجہ عبید اللہ احرار خواجہ یعقوب چرخی قدس سرہ کی خدمت سے رخصت ہو کر پھر ہرات میں آئے اور کم و بیش ایک سال وہاں رہے۔ انتیس سال کی عمر میں اپنے وطن کی طرف واپس آئے، اور تاشقند میں مقیم ہو کر اپنے معاش کے لئے زراعت کا کام شروع کیا اس کام میں اللہ تعالیٰ نے بڑی برکت پیدا فرمائی، اور آپ کے ہاں مال و متاع، جانور و مویشی، اور اجناس وغیرہ کی فراوانی ہو گئی۔ یوں بظاہر آپ کی زندگی شاہانہ تھی، لیکن یہ سب کچھ درویشوں کی خدمت اور فقراء کے لئے تھا۔
علامہ عبد الرحمن جامی علیہ الرحمہ آپ کے ہم عصر اور نامور شاعر تھے ۔ انہوں نے آپ کو پہلی دفعہ اس حالت میں دیکھا کہ آپ کی سواری جا رہی تھی اور آپ کے جلوس میں خدام کی ایک جماعت تھی ۔ یہ ظاہری شان و شوکت، اور مال و اسباب اور گھوڑے دیکھ کر مولانا جامیؔ کی شاعری والی حس بیدار ہوئی اور ان کے دلی جذبات اس مصرعے کی صورت میں زبان پر آئے۔ ؏:
نہ مرد است آں کہ دنیا دوست دارد
یعنی: وہ مرد نہیں جو دنیا کو دوست رکھے ۔ پھر جب مولانا جامی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ جامی تم نے صرف ایک مصرعہ کہا ہے، مکمل شعر نہیں کہا۔ دوسرا مصرعہ بھی کہو۔ مولانا آپ کی باطنی بصیرت دیکھ کر ششدر رہ گئے، اور خاموش رہے۔چنانچہ حضرت نے خود ہی دوسرا مصرع بناتے ہوئے فرمایا کہ پورا شعر یوں ہونا چاہئے۔
؏: نہ مرد است آں کہ دنیا دوست دارد
اگر دارد برائے دوست دارد
پھر مولانا جامی آپ کے ایسے معتقد ہوئے کہ آپ کے ہی ہوکر رہ گئے۔ آپ کے زیرِ تربیت سلوک کی منازل طے کیں، اور آپ کی شان میں ’’ تحفۃ الاحرار ‘‘ کتاب لکھ کر عقیدت کا اظہار کیا ۔ (تاریخ مشائخِ نقشبندیہ؛ص؛320؛ از پروفیسر عبد الرسول للہی) ـ
سلسلۂ نقشبندیہ کی اشاعت:
حضرت خواجہ عبید اللہ احرار کی بدولت مختلف قبائل میں اسلام وسیع پیمانے پر پھیلا۔ خاص طور پر ازبک قبائل نے بڑی تعداد میں اسلام قبول کیا۔اسی طرح آپ کے ذریعے سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ کی وسیع ترویج و اشاعت ہوئی۔ وسط ایشیاء کے قدیم شہر مرکز تھے۔ اس میں سمرقند، مرو، خیوا، تاشقند، بخارا، ہرات، کے شہر اہم روحانی مراکز تھے۔ اسی طرح مغرب میں آپ کے خلیفہ عارف باللہ شیخ عبد اللہ سماؤ کے ذریعے مغرب میں اناطولیہ اور ترکی میں اشاعت۔
یاد رہے کہ اناطولیہ بر اعظموں کے وسط میں واقع ہے۔ اس کے اثرات کوہِ قاف اور وسطی ایشیائی ریاستوں تک پھیلے، اور امام شامل جیسا عظیم مجاہد پیدا کیا۔(امام مجاہد سلسلۂ نقشبندیہ کے شیخِ طریقت، اور اسم بامسمیّٰ تھے۔ وسط ایشیائی ریاستوں میں ان کا کردار ہندوستان، کے ٹیپو سلطان شہید، اور الجزائر کے عبد القادر الجزائری جیسا تھا) ـ
❤2
اشاعتِ اسلام:
آپ کے عہد میں وسط ایشیا سیاسی انتشار کی لپیٹ میں تھا۔ امیر تیمور نے 1405ء کو وفات پائی، اور اس کے بعد اس کی اولاد کے باہمی اختلاف کی وجہ سے سلطنت میں انتشار پیدا ہو گیا، اور خانہ جنگی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ یہی حال بر صغیر کا تھا۔ مرکزی حکومت کمزور ہو چکی تھی۔ امراء و حکام کی طرف سے رعایا پر بے پناہ ظلم ڈھایا جاتا۔ عدل و انصاف، دین داری کے تصورات ناپید تھے۔ مزید مغرب یعنی اندلس میں عیسائی حکمرانوں نے 1492ء کو غرناطہ پر قبضہ کرکے انتہائی بربریت سے کام لیتے ہوئے مسلم تہذیب و تمدن کے نام و نشان تک مٹا دئیے۔
اس وقت عالم اسلام کی حالت بعینہ اسی طرح تھی جیسے ہمارے زمانے اکیسویں صدی میں ہے۔ اُس وقت حکمران مطلق العنان آمر و جابر ہوتے تھے۔ کسی کو ان کے خلاف حق بات تک کرنے کی جرأت نہیں ہوتی تھی۔ یہاں تک کہ ان کے درباری وزراء جان کی معافی مانگ کر شاہ سے بات کرتے تھے ۔
ایسے ماحول میں صرف ایسی عظیم شخصیات تھیں، جن کے دلوں میں ماسوی اللہ کسی کا خوف کانہ ہوتا تھا۔وہی ان کو للکارتے تھے، اور ان کے ظلم و جبر کی خوب خبر لیتے تھے ۔ حضرت امام حسین، حضرت امام اعظم، امام احمد بن حنبل، امام غزالی، شیخ عبد القادر جیلانی، خواجہ عبید اللہ احرار، امام شامل، مجدد الفِ ثانی، پیر پٹھان خواجہ تونسوی، علامہ فضلِ حق خیر آبادی، وغیرہ علیہم الرحمہ کی سیرت کا مطالعہ کریں، تو یہ حضرات صرف خانقاہوں کے خرقہ پوش صوفی ہی نہ تھے، بلکہ مردِ میدان اور حق کی آواز بھی تھے۔
ہمارے زمانے میں معاملہ اس کےبرعکس ہے۔عوام کے ذہن میں ’’غیرسیاسی دین‘‘ کی ایک نئی اصطلاح ڈال دی گئی ہے کہ اہل اللہ کا اربابِ اقتدار اور حکومت سےکوئی واسطہ نہیں ہوتا۔چاہے وہ حدود اللہ کو پامال کریں،حقوق العبادکی خلاف ورزی کریں،انسانیت کی تذلیل ہورہی ہو،عدل و انصاف کےضابطےامیر و غریب کےالگ الگ ہوں،اللہ ﷻ کےدین؛ دینِ اسلام کےمقابلے میں لبرل ازم،سیکولر ازم کے قوانین ملک میں رائج ہوں۔ان کےخلاف آواز نہ اٹھانا، نہ یہ تصوف ہے،اور نہ ہی شریعت ہے۔
خواجہ عبید اللہ احرار فرماتے ہیں:
’’اگر ہم محض پیری مریدی کرتے،تو اس زمانے میں کسی اور پیر کو کوئی مرید نہ ملتا۔لیکن ہمارے ذمےایک اور کام لگایا گیا ہےکہ ظالم کے شر سےمسلمانوں کی حفاظت کریں۔اس مقصد کےلئےبادشاہوں سےتعلق پیدا کرنا اور ان کےنفوس کو مسخرکرنا،اور اس طریقے سے مسلمانوں کےمقاصد پوراکرنا ضروری ہے‘‘۔(تاریخ مشائخِ نقشبندیہ: 302)
نفاذِ اسلام کے لئے عملی کوشش:
مولانا ناصر الدین اتراری فرماتے ہیں: حضرت خواجہ عبیداللہ سمرقند تشریف لے گئے، جو اس وقت تیموری حکمرانوں کا دار الخلافہ تھا۔ تاکہ حاکم سے ملاقات کرکے رعایا پر ظلم و جبر اور شریعت کی پاسدرای پر بات کریں اس وقت امیر تیمور کا پڑپوتا مرزا عبد اللہ حاکم تھا۔حاکمِ کے عہدیداران میں سے ایک سے آپ کی ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا ہم تمھارے سلطان سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ اگر تمھارے ذریعے سے ایسا ہو جائے تو اچھا ہے۔ اس نےایک درویش سمجھتے ہوئے لاپرواہی سے جواب دیا کہ ہمارا حاکم ایک لاپرواہ نوجوان ہے۔ اس سے ملاقات مشکل ہے، اور ویسے بھی درویشوں کو بادشاہ سے ملاقاتوں سے کیا مطلب؟
آپ کو اس کے اس بے تکے سے جواب سے جلال آگیا۔ فرمایا: اگر تمھارے مرزا کو پرواہ نہیں تو اس کی جگہ دوسرا حاکم لائیں گے جسے پرواہ ہوگی۔ وہیں سے واپس تاشقند آگئے۔ ایک دیوار پر اس کا نام لکھ کر مٹادیا۔ ایک ہفتے کے بعد وہ مرگیا۔ اس کی جگہ ابو سعید مرزا تخت نشین ہوا، جو حضرت کامعتقد اور شریعت کا پاسدار تھا۔ یہ 855ھ کا واقعہ ہے۔ (تاریخ مشائخِ نقشبندیہ: 306)
تاریخِ وصال:
29 ربیع الاول 1490ھ مطابق 21 فروری 1490ء کو شبِ ہفتہ، مغرب اور عشاء کے مابین واصل باللہ ہوئے ۔ مزار مبارک سمرقند میں مرجعِ خلائق ہے ۔
سنہری تعلیمات:
آپ کے ملفوظات و تعلیمات آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔ یہاں پر چند خصوصی ارشادات نقل کیے جاتے ہیں۔
(1) پیر وہ ہے جو رسول اللہ ﷺ کی مرضی میں فنا ہو گیا ہو۔ جو کچھ آپ نے فرما دیا اس پر قائم گیا، اور اس کی ذات میں اخلاق و اوصافِ نبوی کے علاوہ کچھ بھی نہ ہو۔ یوں وہ اوصافِ نبوی سےمتصف ہوکر تصرفِ حق تعالیٰ کا مظہر بن جاتا ہے۔
(2) آپ فرماتے تھے کہ اگر تمام احوال اور مواجید (تصوف کی اصطلاحات میں مقامات کے نام ہیں) ہمیں عطا کیے جائیں اور ہمیں اہل سنت و جماعت کے عقائد سے آراستہ نہ کیا جائے، تو ہم اُسے بجز خرابی کچھ نہیں سمجھتے اور اگر تمام خرابیاں ہم پر جمع کی جائیں اور اہل سنت و جماعت کے عقائد سے سرفراز فرمایا دجائے تو ہمیں کچھ ڈر نہیں۔
(3) شریعت، طریقت اور حقیقت تین چیزیں ہیں۔ احکامِ ظاہری پرعمل کرنا شریعت ہے۔ جمعیت باطن میں تعمل و تکلف طریقت ہے اور اس جمعیت میں رُسوخ حقیقت ہے۔
(4) محققین کے نزدیک یہ بات ثابت ہے کہ موت کے بعد اولیاء اللہ ترقی کرتے ہیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khwaja-nasiruddin-ubaidullah-ahrar
آپ کے عہد میں وسط ایشیا سیاسی انتشار کی لپیٹ میں تھا۔ امیر تیمور نے 1405ء کو وفات پائی، اور اس کے بعد اس کی اولاد کے باہمی اختلاف کی وجہ سے سلطنت میں انتشار پیدا ہو گیا، اور خانہ جنگی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ یہی حال بر صغیر کا تھا۔ مرکزی حکومت کمزور ہو چکی تھی۔ امراء و حکام کی طرف سے رعایا پر بے پناہ ظلم ڈھایا جاتا۔ عدل و انصاف، دین داری کے تصورات ناپید تھے۔ مزید مغرب یعنی اندلس میں عیسائی حکمرانوں نے 1492ء کو غرناطہ پر قبضہ کرکے انتہائی بربریت سے کام لیتے ہوئے مسلم تہذیب و تمدن کے نام و نشان تک مٹا دئیے۔
اس وقت عالم اسلام کی حالت بعینہ اسی طرح تھی جیسے ہمارے زمانے اکیسویں صدی میں ہے۔ اُس وقت حکمران مطلق العنان آمر و جابر ہوتے تھے۔ کسی کو ان کے خلاف حق بات تک کرنے کی جرأت نہیں ہوتی تھی۔ یہاں تک کہ ان کے درباری وزراء جان کی معافی مانگ کر شاہ سے بات کرتے تھے ۔
ایسے ماحول میں صرف ایسی عظیم شخصیات تھیں، جن کے دلوں میں ماسوی اللہ کسی کا خوف کانہ ہوتا تھا۔وہی ان کو للکارتے تھے، اور ان کے ظلم و جبر کی خوب خبر لیتے تھے ۔ حضرت امام حسین، حضرت امام اعظم، امام احمد بن حنبل، امام غزالی، شیخ عبد القادر جیلانی، خواجہ عبید اللہ احرار، امام شامل، مجدد الفِ ثانی، پیر پٹھان خواجہ تونسوی، علامہ فضلِ حق خیر آبادی، وغیرہ علیہم الرحمہ کی سیرت کا مطالعہ کریں، تو یہ حضرات صرف خانقاہوں کے خرقہ پوش صوفی ہی نہ تھے، بلکہ مردِ میدان اور حق کی آواز بھی تھے۔
ہمارے زمانے میں معاملہ اس کےبرعکس ہے۔عوام کے ذہن میں ’’غیرسیاسی دین‘‘ کی ایک نئی اصطلاح ڈال دی گئی ہے کہ اہل اللہ کا اربابِ اقتدار اور حکومت سےکوئی واسطہ نہیں ہوتا۔چاہے وہ حدود اللہ کو پامال کریں،حقوق العبادکی خلاف ورزی کریں،انسانیت کی تذلیل ہورہی ہو،عدل و انصاف کےضابطےامیر و غریب کےالگ الگ ہوں،اللہ ﷻ کےدین؛ دینِ اسلام کےمقابلے میں لبرل ازم،سیکولر ازم کے قوانین ملک میں رائج ہوں۔ان کےخلاف آواز نہ اٹھانا، نہ یہ تصوف ہے،اور نہ ہی شریعت ہے۔
خواجہ عبید اللہ احرار فرماتے ہیں:
’’اگر ہم محض پیری مریدی کرتے،تو اس زمانے میں کسی اور پیر کو کوئی مرید نہ ملتا۔لیکن ہمارے ذمےایک اور کام لگایا گیا ہےکہ ظالم کے شر سےمسلمانوں کی حفاظت کریں۔اس مقصد کےلئےبادشاہوں سےتعلق پیدا کرنا اور ان کےنفوس کو مسخرکرنا،اور اس طریقے سے مسلمانوں کےمقاصد پوراکرنا ضروری ہے‘‘۔(تاریخ مشائخِ نقشبندیہ: 302)
نفاذِ اسلام کے لئے عملی کوشش:
مولانا ناصر الدین اتراری فرماتے ہیں: حضرت خواجہ عبیداللہ سمرقند تشریف لے گئے، جو اس وقت تیموری حکمرانوں کا دار الخلافہ تھا۔ تاکہ حاکم سے ملاقات کرکے رعایا پر ظلم و جبر اور شریعت کی پاسدرای پر بات کریں اس وقت امیر تیمور کا پڑپوتا مرزا عبد اللہ حاکم تھا۔حاکمِ کے عہدیداران میں سے ایک سے آپ کی ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا ہم تمھارے سلطان سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ اگر تمھارے ذریعے سے ایسا ہو جائے تو اچھا ہے۔ اس نےایک درویش سمجھتے ہوئے لاپرواہی سے جواب دیا کہ ہمارا حاکم ایک لاپرواہ نوجوان ہے۔ اس سے ملاقات مشکل ہے، اور ویسے بھی درویشوں کو بادشاہ سے ملاقاتوں سے کیا مطلب؟
آپ کو اس کے اس بے تکے سے جواب سے جلال آگیا۔ فرمایا: اگر تمھارے مرزا کو پرواہ نہیں تو اس کی جگہ دوسرا حاکم لائیں گے جسے پرواہ ہوگی۔ وہیں سے واپس تاشقند آگئے۔ ایک دیوار پر اس کا نام لکھ کر مٹادیا۔ ایک ہفتے کے بعد وہ مرگیا۔ اس کی جگہ ابو سعید مرزا تخت نشین ہوا، جو حضرت کامعتقد اور شریعت کا پاسدار تھا۔ یہ 855ھ کا واقعہ ہے۔ (تاریخ مشائخِ نقشبندیہ: 306)
تاریخِ وصال:
29 ربیع الاول 1490ھ مطابق 21 فروری 1490ء کو شبِ ہفتہ، مغرب اور عشاء کے مابین واصل باللہ ہوئے ۔ مزار مبارک سمرقند میں مرجعِ خلائق ہے ۔
سنہری تعلیمات:
آپ کے ملفوظات و تعلیمات آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔ یہاں پر چند خصوصی ارشادات نقل کیے جاتے ہیں۔
(1) پیر وہ ہے جو رسول اللہ ﷺ کی مرضی میں فنا ہو گیا ہو۔ جو کچھ آپ نے فرما دیا اس پر قائم گیا، اور اس کی ذات میں اخلاق و اوصافِ نبوی کے علاوہ کچھ بھی نہ ہو۔ یوں وہ اوصافِ نبوی سےمتصف ہوکر تصرفِ حق تعالیٰ کا مظہر بن جاتا ہے۔
(2) آپ فرماتے تھے کہ اگر تمام احوال اور مواجید (تصوف کی اصطلاحات میں مقامات کے نام ہیں) ہمیں عطا کیے جائیں اور ہمیں اہل سنت و جماعت کے عقائد سے آراستہ نہ کیا جائے، تو ہم اُسے بجز خرابی کچھ نہیں سمجھتے اور اگر تمام خرابیاں ہم پر جمع کی جائیں اور اہل سنت و جماعت کے عقائد سے سرفراز فرمایا دجائے تو ہمیں کچھ ڈر نہیں۔
(3) شریعت، طریقت اور حقیقت تین چیزیں ہیں۔ احکامِ ظاہری پرعمل کرنا شریعت ہے۔ جمعیت باطن میں تعمل و تکلف طریقت ہے اور اس جمعیت میں رُسوخ حقیقت ہے۔
(4) محققین کے نزدیک یہ بات ثابت ہے کہ موت کے بعد اولیاء اللہ ترقی کرتے ہیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khwaja-nasiruddin-ubaidullah-ahrar
www.scholars.pk
Hazrat Ubaidullah Ahrar
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
حضرت شمس الدین محمد احمد آبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ شیخ حسن محمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے صاجزادے اور خلیفہ ہیں، صاحب تصنیف و تالیف بزرگ تھے تقریباً بیالس کتابیں تحریر فرمائیں جو سب کی سب تصوف کے حوالے سے صوفیانہ افکار و نظریات کی ترجمان ہیں، ان میں آداب الطالبین، راحت المریدین، تحفۃ السلوک اور تفسیر حسینی خاص طور پر قابل ذکر ہیں ـ
آپ علیہ الرحمہ فرماتے تھے:
* کھانا شروع کرو تو ہر لقمہ پر بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھو، اس سے تمہارے باطن میں نورانیت پیدا ہوگی ۔
* سونے لگو تو وضو کر لیا کرو، ممکن نہ ہو تو تیمّم کر لو، تمام رات عبادت میں شمار ہوگی ۔
* اتباع رسالت سے ہی رب العالمین کے محبوب بن سکیں گے ۔
* انسان کو چاہیے کہ وہ صرف رضائے الہٰی کا طالب ہو اور دنیا کی حرص و طمع سے اپنا دامن چھڑالے ۔
* نماز ہر شخص کے پیچھے پڑھ لینا چائز ہے مگر بیعت ہر کسی سے کر لینا چائز نہیں ہے۔ یہ باکمال صوفی ۲۹ / ربیع الاول ۱۰۴۰ھ کو راہی ملک عدم ہوا، مزار احمدآباد گجرات میں والد گرامی کے ساتھ ہے۔
( حوالہ: بہارِ چشت، ص: ۱۱۵ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shamsuddin-muhammad-ahmedabadi
آپ شیخ حسن محمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے صاجزادے اور خلیفہ ہیں، صاحب تصنیف و تالیف بزرگ تھے تقریباً بیالس کتابیں تحریر فرمائیں جو سب کی سب تصوف کے حوالے سے صوفیانہ افکار و نظریات کی ترجمان ہیں، ان میں آداب الطالبین، راحت المریدین، تحفۃ السلوک اور تفسیر حسینی خاص طور پر قابل ذکر ہیں ـ
آپ علیہ الرحمہ فرماتے تھے:
* کھانا شروع کرو تو ہر لقمہ پر بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھو، اس سے تمہارے باطن میں نورانیت پیدا ہوگی ۔
* سونے لگو تو وضو کر لیا کرو، ممکن نہ ہو تو تیمّم کر لو، تمام رات عبادت میں شمار ہوگی ۔
* اتباع رسالت سے ہی رب العالمین کے محبوب بن سکیں گے ۔
* انسان کو چاہیے کہ وہ صرف رضائے الہٰی کا طالب ہو اور دنیا کی حرص و طمع سے اپنا دامن چھڑالے ۔
* نماز ہر شخص کے پیچھے پڑھ لینا چائز ہے مگر بیعت ہر کسی سے کر لینا چائز نہیں ہے۔ یہ باکمال صوفی ۲۹ / ربیع الاول ۱۰۴۰ھ کو راہی ملک عدم ہوا، مزار احمدآباد گجرات میں والد گرامی کے ساتھ ہے۔
( حوالہ: بہارِ چشت، ص: ۱۱۵ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shamsuddin-muhammad-ahmedabadi
scholars.pk
Hazrat Shamsuddin Muhammad Ahmedabadi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
28-03-1445 ᴴ | 14-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
29-03-1445 ᴴ | 15-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2