🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
28-03-1445 ᴴ | 14-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
28-03-1445 ᴴ | 14-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
شیطان کی عبادت
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت خواجہ عبید اللہ احرار رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی:
خواجہ عبید اللہ ۔ لقب: ناصر الدین، احرار ۔ ’’ خواجۂ احرار ‘‘ کے عظیم لقب سے معروف ہیں ۔

سلسلۂ نسب:
خواجہ عبید اللہ احرار بن محمود بن قطبِ وقت خواجہ شہاب الدین ۔ آپ کا خاندانی تعلق عارف باللہ حضرت خواجہ محمد باقی بغدادی علیہ الرحمہ کی اولاد سے ہے ۔

والدہ ماجدہ کا تعلق عارف باللہ شیخ عمر یاغستانی کی اولاد امجاد سے ہے، اور مشہور بزرگ حضرت محمود شاشی کی دختر نیک اختر تھیں ۔ (تاریخ مشائخِ نقشبند؛ ص،237؛ از: مولانا صادق قصوری)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت یاغستان مضافاتِ تاشقند (ازبکستان) میں ماہِ رمضان المبارک 806ھ مطابق 1404ء کو ہوئی۔

بچپن میں آثارِ سعادت:
بچپن ہی سے آثارِ رشد و ہدایت اور انوارِ قبول و عنایت آپ کی پیشانی میں نمایاں تھے ۔ ولادت کے بعد چالیس دن تک جو کہ ایامِ نِفاس ہیں، آپ نے اپنی والدہ کا دودھ نہ پیا ۔ جب انہوں نے نفاس سے پاک ہو کر غسل کیا تو پینا شروع کر دیا ۔ تین چار سال کی عمر میں اللہ جل شانہ کی معرفت کی باتیں کرکے سب کو حیران کر دیتے تھے ۔

آپ کے جدِّ امجد خواجہ شہاب الدین جو کہ قطبِ وقت تھے ۔ ان کا جب وقتِ اخیر آیا تو اپنے پوتوں کو الوداع کہنے کے لیے بلایا ۔ خواجۂ احرار اس وقت بہت چھوٹے تھے، جب جدِّ امجد کے حضور گئے تو وہ ان کو دیکھ کر تعظیم کے لیے کھڑے ہو گئے۔ اور پھر گود میں لے کر فرمایا : ’’کہ اس فرزند کے بارے میں مجھے بشارتِ نبوی ملی ہے کہ یہ نونہال مستقبل میں ایک جہان کا پیر و مرشد ہوگا ۔ اور اس سے شریعت و طریقت دونوں کو رونق حاصل ہوگی ۔ (ایضا: 237)

تحصیلِ علم:
آپ بچپن سے ہی عام بچوں سے مختلف تھے ۔ کھیل کھود سے کوئی شغف نہیں رکھتے تھے ۔ آپ کے ماموں خواجہ ابراہیم کو آپ کی تعلیم کا بہت خیال تھا۔اس لیے وہ آپ کو تاشقند سے سمر قند لے گئے۔ چنانچہ سمر قند میں آپ اکثر مولانا نظام الدین، خلیفہ حضرت علاء الدین عطار قدس سرہ کی صحبت میں حاضر ہوتے تھے۔ آپ کی تشریف آوری سے ایک روز قبل مولانا نے مراقبہ کے بعد نعرہ مارا۔ جب سبب دریافت کیا گیا تو فرمایا مشرق کی طرف سے ایک شخص نمودار ہوا جس کا نام عبید اللہ احرار ہے۔ اُس نے تمام روئے زمین کو اپنی روحانیت میں لے لیا ہے۔ اور وہ عجیب بزرگ شخص ہے۔ سمرقند کے قیام میں ایک روز آپ مولانا کے ہاں سے نکلے تو ایک بزرگ نے پوچھا کہ یہ جوانِ رعنا کون ہے؟ مولانا نے فرمایا کہ یہی ’’خواجہ عبید اللہ احرار ہیں، عنقریب دنیا کے سلاطین ان کے در کے گدا ہوں گے‘‘۔

سمر قند ہی میں آپ حضرت سیّد قاسم تبریزی کی صحبت سے مشرف ہوئے۔ کچھ عرصہ بعد آپ وہاں سے بخارا کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں ایک ہفتہ شیخ سراج الدین کلال پر مسی خلیفہ حضرت خواجہ نقشبند قدس سرہ کی صحبت میں رہے۔ بخارا میں پہنچ کر مولانا حسام الدین شاشی کی زیارت کی جو سید امیر حمزہ بن سیّد امیر کلال قدس سرہما کے خلیفۂ اول تھے۔ حضرت خواجہ نقشبند کے خلیفہ خواجہ علاء الدین غجدوانی کی خدمت میں بھی بہت دفعہ حاضر ہوئے۔ بعد ازاں آپ نے خراسان کا سفر اختیار کیا اور مرو کے راستے ہرات میں آئے۔ ہرات میں آپ نے چار سال قیام کیا۔ اس عرصہ میں آپ اکثر سیّد قاسم تبریزی اور شیخ بہاء الدین عمر قدس سرہما کی صحبت میں رہے اور کبھی کبھی شیخ زین الدین خوافی قدس سرہ کی خدمت میں حاضر ہوتے۔خواجہ فضل اللہ ابو للیثی (جو سمر قند کے اکابر علماء میں سے تھے) فرماتے تھے: کہ ہم خواجہ عبید اللہ احرار کے باطن کے کمال کو تو نہیں جانتے مگر اتنا جانتے ہیں کہ انہوں نےظاہری طور پر مروجہ نصاب سے بہت کم پڑھا ہے۔ لیکن اللہ جل شانہ نے ان کو ظاہری علوم میں بھی ایسا کمال عطاء فرمایا ہے کہ جب وہ تفسیرِ بیضاوی کی مشکل عبارات پر علماء کے سامنے اشکال پیش کرتے۔ تو سب علماء اس کے حل سے عاجز آجاتے۔(ایضا: 237)

بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ میں حضرت یعقوب چرخی(خلیفہ خواجۂ خواجگان حضرت بہاء الدین نقشبند) کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے۔

حضرت خواجہ احرار فرماتے ہیں:
جب آپ نے بیعت کے لئے ہاتھ بڑھایا۔ تو ان کی پیشانی مبارک پر کچھ سفیدی مشابہ برص تھی جو طبیعت کی نفرت کا موجب ہوتی ہے۔ اس لیے میری طبیعت اُن کے ہاتھ پکڑنے کی طرف مائل نہ ہوئی۔ وہ میری کراہت کو سمجھ گئے اور جلدی اپنا ہاتھ ہٹالیا اور صورت تبدیل کرکے ایسی خوب صورت شکل اور شاندار لباس میں ظاہر ہوئے کہ میں بے اختیار ہو گیا۔ قریب تھا کہ بے خود ہو کر آپ سے لپٹ جاؤں۔ آپ نے دوسری دفعہ اپنا دستِ مبارک بڑھایا اور فرمایا کہ حضرت خواجہ بہاء الدین قدس سرہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا تھا کہ تیرا ہاتھ ہمارا ہاتھ ہے جس نے تمہارا ہاتھ پکڑا اُس نے ہمارا ہاتھ پکڑا۔ خواجہ بہاء الدین کا ہاتھ پکڑ لو، میں نے بلا توقف اُن کا ہاتھ پکڑ لیا ۔
2