مولانا نوری رحمہ اللہ تعالیٰ اپنے دور کے مقبول ترین مقرر تھے، سامعین ان کی خوش نوائی کیاثر سے کیف و سرور میں ڈوب جاتے تھے، وہ جہاں ایک مرتبہ تقریر کر آتے تھے وہاں کے لوگ ہمیشہ ان کے مشتاق رہتے، تقریر اپنی مادری زبان پنجابی میں کیا کرتے ان کے عقیدت مندوں کا حلقہ نہایت وسیع تھا، انہوں نے اپنے مواعظ کے ذریعے سنیت کا پیغام پاکستان کے گوشے گوشے تک پوری بیبیا کی سے پہنچایا اور عقائد باطلہ کی تردید پوری قوت سے کی، پر خطر راستوں سے گذرے، دھمک سنیں مگر کبھی ان کا عزم متزلزل نہ ہوا ۔
مولانا نوری نور اللہ مرقدہ نے وعظ تقریر کے ساتھ تحریر کا سلسلہ بھی جاری رکھا، لاہور آنے کے بعد ماہنامہ الحبیب جاری کیا جسے کامیابی سے چلاتے رہے، ان دنوں نوجوان فاضل مولانا محمد شریف شر قپوری (فاضل بصیر پور) آپ کے معاون رہے، اس کے علاوہ آفتاب سنت رد چراغ سنت (تالیف فردوس علی شاہ دیوبندی قصوری) بارہ تقریریں، نشری تقریریں، مسئلۂ گیارہویں، حرمت تعزیہ داری اوع عرب کا مسافر ایسی مقبول عام تصانیف یادگار چھوڑ دیں ۔
۲۸ ربیع الاول / ۱۳مئی (۱۳۹۲ھ؍۱۹۷۲ئ) جمعہ ہفتہ کی درمیانی شب میو ہسپتال میں تقریباً ۲ بجے آپ کا انتقال ہوا ۔ نماز جنازہ مفتیٔ اعطم پاکستان حضرت مولانا علامہ ابو البرکات سید احمد دامت برکاتہم العالیہ نے پڑھائی [3]
آپ اپنے والد گرامی کے اکلوتے فرزند تھے، خطیب پاکستان مولانا غلام الدین قدس سرہ آپ کے عم محترم تھے، مولانا نوری قدس سرہ کے ہاںنرینہ اولاد نہیں ہوئی، اس وقت چار بچیاں بقید حیات ہیں ۔
جامع مسجد محمدیہ راوی روڈ پر آپ کا مزار تعمیر ہے ۔
[1] بارہ تقریرں، پہلا ایڈیشن ، گروپوش، ص۲
[2] غلام مہر علی، مولانا: الیواقیت المریہ ص ۱۲۹
[3] ماہنامہ رضائے مصطفی گوجرانوالہ (ربیع الآخر ۱۳۹۲ھ) ص ۱۷
( تذکرہ اکابرِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-muhammad-sharif-noori-qasoori
مولانا نوری نور اللہ مرقدہ نے وعظ تقریر کے ساتھ تحریر کا سلسلہ بھی جاری رکھا، لاہور آنے کے بعد ماہنامہ الحبیب جاری کیا جسے کامیابی سے چلاتے رہے، ان دنوں نوجوان فاضل مولانا محمد شریف شر قپوری (فاضل بصیر پور) آپ کے معاون رہے، اس کے علاوہ آفتاب سنت رد چراغ سنت (تالیف فردوس علی شاہ دیوبندی قصوری) بارہ تقریریں، نشری تقریریں، مسئلۂ گیارہویں، حرمت تعزیہ داری اوع عرب کا مسافر ایسی مقبول عام تصانیف یادگار چھوڑ دیں ۔
۲۸ ربیع الاول / ۱۳مئی (۱۳۹۲ھ؍۱۹۷۲ئ) جمعہ ہفتہ کی درمیانی شب میو ہسپتال میں تقریباً ۲ بجے آپ کا انتقال ہوا ۔ نماز جنازہ مفتیٔ اعطم پاکستان حضرت مولانا علامہ ابو البرکات سید احمد دامت برکاتہم العالیہ نے پڑھائی [3]
آپ اپنے والد گرامی کے اکلوتے فرزند تھے، خطیب پاکستان مولانا غلام الدین قدس سرہ آپ کے عم محترم تھے، مولانا نوری قدس سرہ کے ہاںنرینہ اولاد نہیں ہوئی، اس وقت چار بچیاں بقید حیات ہیں ۔
جامع مسجد محمدیہ راوی روڈ پر آپ کا مزار تعمیر ہے ۔
[1] بارہ تقریرں، پہلا ایڈیشن ، گروپوش، ص۲
[2] غلام مہر علی، مولانا: الیواقیت المریہ ص ۱۲۹
[3] ماہنامہ رضائے مصطفی گوجرانوالہ (ربیع الآخر ۱۳۹۲ھ) ص ۱۷
( تذکرہ اکابرِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-muhammad-sharif-noori-qasoori
scholars.pk
Hazrat Allama Muhammad Sharif Noori Qasoori
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
برہان الواصلین حضرت خواجہ پیر غلام محی الدین نقشبندی (نیریاں شریف) رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
حضرت خواجہ پیر غلام محی الدین ابن خواجہ محمد اکبر خاں قدس سرہما نستان کے مروم خیز محلہ غزنی میں ۱۔۱۳۲۰ھ ؍ ۱۹۰۲ء میں پیدا ہوئے ، ابتدائی تعلیم اپنے ماموں حضرت مولانا گل محمد رحمہ اللہ تعالیٰ سے حاصل کی ۔آپ کا سلسلۂ نسب حضرت سید اخالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے [1]
اوائل عمر میں اخروٹ کی تجارت کیا کرتے تھے ، ان دنوں بھی دینداری کا یہ عالم تھا کہ رات کو عبادت الٰہی میں مصروف رہتے ۔ ایک دفعہ سر راہ بابا اقبال سے ملاقات ہو گئی ، انہوں نے استفسا ر پر بتایا کہ مین اپنے پیر و مرشد حضرت خواجہ محمد قاسم موہڑوی کی خدمت میں حاضری دینے جا رہا ہوں آپ نے اس نام میں اتنا کیف و سرور محسوس کیا کہ جو کچھ جیب میں تھا ، نکال کر بابا اقبال کو دے دیا اور کہا کہ غزنی کے ایک مسافر کا سلام اور یہ نذرانہ حضرت کی خدمت میں پیش کردینا، ’’جب حضر ت خواجہ محمد قاسم کی خدمت میں با با اقبال نے وہ نذرانہ پیش کیا تو انہوں نے فرمایا: دوبارہ ملاقات ہو تو اس شخص سے کہنا کہ :
’’ ہمیں تمہاری ضرورت ہے نذرہ و نیاز کی ضرورت نہیں ہے ‘‘
پھر کیا تھا کشاں کشاں بارگاہ شیخ میں حاضر ہو کر بیعت ہوئے اور واپس آگئے کاروبار تجارت ایک مرتبہ خوب چمکا لیکن کچھ ہی عرصہ بعد حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہتمام پس انداز رقم بھی خسارے کی نذر ہوگئی ، صرف تین سو روپے باقی رہ گئے ، اسی عالم میں بارگاہ شیخ میں حاضر ہوئے اور رقم پیش کرتے ہوئے عرض کیا کہ اسے بطور امانت رکھ لیں تاکہ بوقت ضرورت کسی سے مانگنے کی نوبت نہ آئے ۔مرشد کامل نے وہ رقم فقراء میں تقسیم کردی جس سے آپ حددرجہ کبیدہ خاطر ہوئے ۔ حضرت باباجی موہڑوی قدس سرہ نے کیفیت دیکھی تو فرمایا: پریشان ہو نے کی ضرورت نہیں ، میں نے تمہارے لئے ایسا سودار کھا ہوا ہے جس کے خرید مشرق اور مغرب سے تمہارے پاس پہنچیں گے۔‘‘ اس فرمان سے اطمینان قلبی حاصل ہو گیا اور آپ یک سوئی سے شیخ کی خدمت اور عبادت و ریاضت میں مشغول ہو گئے ۔
بارہ سال تک منازل طریقت طے کرنے کے بعد مرشد کامل نے حکم دیا کہ آزد کشمیر کے بے آباد مقام ڈناپوٹھی میر خاں(نیز یاں شریف ) کو اپنا مرکز بنا کر رشد وہدایت کا فریضہ انجام دو ، و مقام جہاں دن کے وقت بی جاتے ہوئے لوگ گھبراتے تھے آپ کے قدوم میمنت لزوم سے اس طرح آباد ہوا کہ رات کے وقت بھی وہاں کی فضا ذکر و فکر کرنے والوں کے دم قدم سے معمور رہتی ۔
سینکڑوں نہیں ہزاروں افراد آپ کے مبارک ہاتھوں پر بیعت کر کے معصیت و نافرمانی کی زندگی سے تائب ہو گئے ۔ آپ نے رولپنڈی ،کیمبل پور ، مظفر آباد، مردان ، پوـٹھوہار ، میر پور، جہلم اور ہزارہ کے علاقوں کے متعدد دور ے کئے ، عوام الناس کو اتبع شریعت کی تلقین کی ، بد مذہبوں سے کنارہ کشی اورمسلک اہل سنت و جماعت پر ثابق قدمی کا خوب درس دیا ۔ ھق یہ ہے کہ ان کے وجود مسعود کی بدولت مسلک اہل سنت کوبہار تازہ حاصل ہوئی تھی ،خدا کر ے کہ یہ بہار ان کے گرامی قدر صاحبزاد گان کے ذریعہ ترقی پذیر رہے ۔ راقم الحروف چکوال میں ان کی زیارت سے مشرف ہواتھا، کم گو ، بارعب اور پر وقار شخصیت کے مالک تھے ۔ مزاج میں استغناء بدرجۂ اتم موجود تھا ۔ اتباع شریعت اور معمولات کی ادائیگی کا بڑا اہتمام کرتے تھے ۔
حضرت خواجہ پیر غلام محی الدین ابن خواجہ محمد اکبر خاں قدس سرہما نستان کے مروم خیز محلہ غزنی میں ۱۔۱۳۲۰ھ ؍ ۱۹۰۲ء میں پیدا ہوئے ، ابتدائی تعلیم اپنے ماموں حضرت مولانا گل محمد رحمہ اللہ تعالیٰ سے حاصل کی ۔آپ کا سلسلۂ نسب حضرت سید اخالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے [1]
اوائل عمر میں اخروٹ کی تجارت کیا کرتے تھے ، ان دنوں بھی دینداری کا یہ عالم تھا کہ رات کو عبادت الٰہی میں مصروف رہتے ۔ ایک دفعہ سر راہ بابا اقبال سے ملاقات ہو گئی ، انہوں نے استفسا ر پر بتایا کہ مین اپنے پیر و مرشد حضرت خواجہ محمد قاسم موہڑوی کی خدمت میں حاضری دینے جا رہا ہوں آپ نے اس نام میں اتنا کیف و سرور محسوس کیا کہ جو کچھ جیب میں تھا ، نکال کر بابا اقبال کو دے دیا اور کہا کہ غزنی کے ایک مسافر کا سلام اور یہ نذرانہ حضرت کی خدمت میں پیش کردینا، ’’جب حضر ت خواجہ محمد قاسم کی خدمت میں با با اقبال نے وہ نذرانہ پیش کیا تو انہوں نے فرمایا: دوبارہ ملاقات ہو تو اس شخص سے کہنا کہ :
’’ ہمیں تمہاری ضرورت ہے نذرہ و نیاز کی ضرورت نہیں ہے ‘‘
پھر کیا تھا کشاں کشاں بارگاہ شیخ میں حاضر ہو کر بیعت ہوئے اور واپس آگئے کاروبار تجارت ایک مرتبہ خوب چمکا لیکن کچھ ہی عرصہ بعد حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہتمام پس انداز رقم بھی خسارے کی نذر ہوگئی ، صرف تین سو روپے باقی رہ گئے ، اسی عالم میں بارگاہ شیخ میں حاضر ہوئے اور رقم پیش کرتے ہوئے عرض کیا کہ اسے بطور امانت رکھ لیں تاکہ بوقت ضرورت کسی سے مانگنے کی نوبت نہ آئے ۔مرشد کامل نے وہ رقم فقراء میں تقسیم کردی جس سے آپ حددرجہ کبیدہ خاطر ہوئے ۔ حضرت باباجی موہڑوی قدس سرہ نے کیفیت دیکھی تو فرمایا: پریشان ہو نے کی ضرورت نہیں ، میں نے تمہارے لئے ایسا سودار کھا ہوا ہے جس کے خرید مشرق اور مغرب سے تمہارے پاس پہنچیں گے۔‘‘ اس فرمان سے اطمینان قلبی حاصل ہو گیا اور آپ یک سوئی سے شیخ کی خدمت اور عبادت و ریاضت میں مشغول ہو گئے ۔
بارہ سال تک منازل طریقت طے کرنے کے بعد مرشد کامل نے حکم دیا کہ آزد کشمیر کے بے آباد مقام ڈناپوٹھی میر خاں(نیز یاں شریف ) کو اپنا مرکز بنا کر رشد وہدایت کا فریضہ انجام دو ، و مقام جہاں دن کے وقت بی جاتے ہوئے لوگ گھبراتے تھے آپ کے قدوم میمنت لزوم سے اس طرح آباد ہوا کہ رات کے وقت بھی وہاں کی فضا ذکر و فکر کرنے والوں کے دم قدم سے معمور رہتی ۔
سینکڑوں نہیں ہزاروں افراد آپ کے مبارک ہاتھوں پر بیعت کر کے معصیت و نافرمانی کی زندگی سے تائب ہو گئے ۔ آپ نے رولپنڈی ،کیمبل پور ، مظفر آباد، مردان ، پوـٹھوہار ، میر پور، جہلم اور ہزارہ کے علاقوں کے متعدد دور ے کئے ، عوام الناس کو اتبع شریعت کی تلقین کی ، بد مذہبوں سے کنارہ کشی اورمسلک اہل سنت و جماعت پر ثابق قدمی کا خوب درس دیا ۔ ھق یہ ہے کہ ان کے وجود مسعود کی بدولت مسلک اہل سنت کوبہار تازہ حاصل ہوئی تھی ،خدا کر ے کہ یہ بہار ان کے گرامی قدر صاحبزاد گان کے ذریعہ ترقی پذیر رہے ۔ راقم الحروف چکوال میں ان کی زیارت سے مشرف ہواتھا، کم گو ، بارعب اور پر وقار شخصیت کے مالک تھے ۔ مزاج میں استغناء بدرجۂ اتم موجود تھا ۔ اتباع شریعت اور معمولات کی ادائیگی کا بڑا اہتمام کرتے تھے ۔
❤1
آپ نے قریباً تیس حضرات کو خلافت عطا فرمائی ، چند حضرات کے اسماء یہ ہیں :۔
۱۔ حضرت مولانا مفتی پیر ہدایت الحق مدظلہ ،مہتمم مدرسہ حقائق العلوم ، حضرو۔
۲۔ جناب فیض محمد آف تتا پانی ۔
۳۔ جناب غلام محمد ، ساہیوال ۔
۴۔ جناب محمد شفیع ، گوجرخاں ۔
۵۔ جناب محمد امیر ، افغانستان ۔
غالباً ۱۹۳۵ء میں آپ کی پہلی شادی ہوئی جس سے دو صاحبزادے یادگار ہیں:
۱۔ حضرت مولانا الحاج علامہ علاؤ الدین صدیقی مدظلہ ۔
۲۔ جناب نظام الدین قاسمی ۔
دوسری بیوی سے پانچ صاحبزادے ہیں:
۱۔ جناب امام ربانی
۲- غلام ربانی
۳۔ فضل ربانی
۴۔ شیر ربانی
۵۔ شمس العارفین
اول الذکر مولانا علاؤ الدین قدس سرہ کے پیٹ میں ایک گولا سا پیدا ہو گیا، آپریشن ہوا تو پانی کی خاصی مقدار خارج ہو جانے کی وجہ سے کمزوری بہت ہو گئی لیکن آپ بدستور وضو کر کے باقاعدگی سے نماز ادا کرتے رہے ۔ آپ کے معالج جناب جنرل شوکت علی اور آئی ڈی حسن نے وضو کرنے سے منع کیا اور نماز عشاء اشارے سے پڑھنے کو کہا تاکہ آپریشن کے ٹانکے ٹوٹنے نہ پائیں، آپ نے فرمایا:
" چھیالیس سال تک کوئی وقت بغیر وضو کے نہیں گزرا، اب مجھ سے یہ نہیں ہو سکتا کہ زندگی بھر کا معمول چھوڑ دوں، نماز حسبِ سابق ادا کروں گا، ٹانکے ٹوٹتے ہیں تو ٹوٹتے رہیں ۔ "
۲۸ ماہِ ربیع الاوّل ۱۱ اپریل [1] (۱۳۹۵ھ / ۱۹۷۵ء) کو نیریاں شریف کا نیّرِ تاباں چشمِ ظاہر بیں سے روپوش ہو گیا جسے خلقِ خدا حضرت خواجہ غلام محی الدین قدس سرہٗ کے نام سے یاد کرتی ہے ۔ نیریاں شریف (تراڑکھل ۔ آزاد کشمیر) میں آج بھی آپ کے مزار سے سکونِ قلبی حاصل کرتے ہیں ۔
پیر کرم شاہ ازہری، مدیّرِ اعلیٰ ضیائے حرم، تعزیتی کلمات لکھتے ہوئے رقم طراز ہیں:
" پچاس سال کے قریب یہ مردِ کامل اپنی مسیحا نفسی سے مردہ دلوں کو حیاتِ جاوید بخشتا رہا، ہزاروں گم کردہ راہ لوگوں نے ان کے دستِ حق پرست پر بیعت کی اور اپنے دلوں میں عشقِ الہی کا چراغ روشن کیا، آپ کے اخلاقِ حسنہ کا دامن اتنا وسیع تھا کہ اپنے قدموں میں حاضر ہونے والوں کو کبھی محروم واپس نہیں کیا، آپ کی ساری زندگی اللہ تعالیٰ کے ذکر اور تبلیغِ دین میں بسر ہوئی۔ آپ سنتِ نبوی کا حسین پیکر تھے، ہم انتہائی قلبی رنج و اندوہ کے ساتھ لکھ رہے کہ صدحیف! وہ چراغ ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو گیا جس کی تابناک کرنوں سے ہزاروں سینے منور ہو رہے تھے، اناللہ وانا الیہ راجعون ۔ "[2]
[1] محمد معراج الاسلام مولانا: حضرت پیر صاحب نیریاں شریف ، ماہنامہ ضیا حرم، لاہور، مئی۱۹۷۵ء، ص ۵۷-۶۲
[2] محمد کرم شاہ الازہری، مولانا پیر: اداریہ ضیائے حرم مئی ۱۹۷۵ء ، ص۱۲
[1] ریاض احمد صمدانی ،مولانا: پیر صاحب نیز یا شریف ، ماہنامہ ضیائے حرم ، بھیرہ، مئی ۱۹۷۶ء، ص ۳۵
( تذکرہ اکابرِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khuwaja-peer-ghulam-muhiyuddin-naqshbandi
۱۔ حضرت مولانا مفتی پیر ہدایت الحق مدظلہ ،مہتمم مدرسہ حقائق العلوم ، حضرو۔
۲۔ جناب فیض محمد آف تتا پانی ۔
۳۔ جناب غلام محمد ، ساہیوال ۔
۴۔ جناب محمد شفیع ، گوجرخاں ۔
۵۔ جناب محمد امیر ، افغانستان ۔
غالباً ۱۹۳۵ء میں آپ کی پہلی شادی ہوئی جس سے دو صاحبزادے یادگار ہیں:
۱۔ حضرت مولانا الحاج علامہ علاؤ الدین صدیقی مدظلہ ۔
۲۔ جناب نظام الدین قاسمی ۔
دوسری بیوی سے پانچ صاحبزادے ہیں:
۱۔ جناب امام ربانی
۲- غلام ربانی
۳۔ فضل ربانی
۴۔ شیر ربانی
۵۔ شمس العارفین
اول الذکر مولانا علاؤ الدین قدس سرہ کے پیٹ میں ایک گولا سا پیدا ہو گیا، آپریشن ہوا تو پانی کی خاصی مقدار خارج ہو جانے کی وجہ سے کمزوری بہت ہو گئی لیکن آپ بدستور وضو کر کے باقاعدگی سے نماز ادا کرتے رہے ۔ آپ کے معالج جناب جنرل شوکت علی اور آئی ڈی حسن نے وضو کرنے سے منع کیا اور نماز عشاء اشارے سے پڑھنے کو کہا تاکہ آپریشن کے ٹانکے ٹوٹنے نہ پائیں، آپ نے فرمایا:
" چھیالیس سال تک کوئی وقت بغیر وضو کے نہیں گزرا، اب مجھ سے یہ نہیں ہو سکتا کہ زندگی بھر کا معمول چھوڑ دوں، نماز حسبِ سابق ادا کروں گا، ٹانکے ٹوٹتے ہیں تو ٹوٹتے رہیں ۔ "
۲۸ ماہِ ربیع الاوّل ۱۱ اپریل [1] (۱۳۹۵ھ / ۱۹۷۵ء) کو نیریاں شریف کا نیّرِ تاباں چشمِ ظاہر بیں سے روپوش ہو گیا جسے خلقِ خدا حضرت خواجہ غلام محی الدین قدس سرہٗ کے نام سے یاد کرتی ہے ۔ نیریاں شریف (تراڑکھل ۔ آزاد کشمیر) میں آج بھی آپ کے مزار سے سکونِ قلبی حاصل کرتے ہیں ۔
پیر کرم شاہ ازہری، مدیّرِ اعلیٰ ضیائے حرم، تعزیتی کلمات لکھتے ہوئے رقم طراز ہیں:
" پچاس سال کے قریب یہ مردِ کامل اپنی مسیحا نفسی سے مردہ دلوں کو حیاتِ جاوید بخشتا رہا، ہزاروں گم کردہ راہ لوگوں نے ان کے دستِ حق پرست پر بیعت کی اور اپنے دلوں میں عشقِ الہی کا چراغ روشن کیا، آپ کے اخلاقِ حسنہ کا دامن اتنا وسیع تھا کہ اپنے قدموں میں حاضر ہونے والوں کو کبھی محروم واپس نہیں کیا، آپ کی ساری زندگی اللہ تعالیٰ کے ذکر اور تبلیغِ دین میں بسر ہوئی۔ آپ سنتِ نبوی کا حسین پیکر تھے، ہم انتہائی قلبی رنج و اندوہ کے ساتھ لکھ رہے کہ صدحیف! وہ چراغ ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو گیا جس کی تابناک کرنوں سے ہزاروں سینے منور ہو رہے تھے، اناللہ وانا الیہ راجعون ۔ "[2]
[1] محمد معراج الاسلام مولانا: حضرت پیر صاحب نیریاں شریف ، ماہنامہ ضیا حرم، لاہور، مئی۱۹۷۵ء، ص ۵۷-۶۲
[2] محمد کرم شاہ الازہری، مولانا پیر: اداریہ ضیائے حرم مئی ۱۹۷۵ء ، ص۱۲
[1] ریاض احمد صمدانی ،مولانا: پیر صاحب نیز یا شریف ، ماہنامہ ضیائے حرم ، بھیرہ، مئی ۱۹۷۶ء، ص ۳۵
( تذکرہ اکابرِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khuwaja-peer-ghulam-muhiyuddin-naqshbandi
scholars.pk
Hazrat Khuwaja Peer Ghulam Muhiyuddin Naqshbandi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2👍1
شہزادۂ غوث الاعظم، حضرت سید ابو بکر شمس الدّین عبد العزیز بن غوث الاعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ولادت:
ستائیسویں شوال ۵۳۲ھ میں متولد ہوئے۔
تعلیم:
اپنے والد بزرگوار اور ابن منصور رحمۃ اللہ علیہ اور عبد الرحمٰن بن محمد اتفراز رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ سے حدیث سنی اور تفقہ حاصل کیا ۔
آپ علیہ الرحمہ بڑے عالم فاضل اور علومِ دینی و دنیوی میں کامل ہوئے ۔
بہت سے علما و فضلا ان سے مستفید ہوئے۔
سیرت و خصائص:
نہایت متدیّن، متشرّع، صالح، پرہیزگار، اور صاحب ریاضت و مجاہدہ تھے۔ انکسار و افتقار اور غربت و خاموشی کے ساتھ موصوف تھے ۔
وصال:
اٹھائیسویں ربیع الاول ۶۰۲ھ کو انتقال کیا اور بغداد کے علاقے جبال میں مدفون ہوئے ۔
ان کے ایک فرزند سید محمد الہتّاک رحمۃ اللہ علیہ جیّد عالم مستقیم الاحوال تھے۔
مآخذ و مراجع:
شریف التواریخ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-abu-bakr-shamsuddin-abdul-aziz
ولادت:
ستائیسویں شوال ۵۳۲ھ میں متولد ہوئے۔
تعلیم:
اپنے والد بزرگوار اور ابن منصور رحمۃ اللہ علیہ اور عبد الرحمٰن بن محمد اتفراز رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ سے حدیث سنی اور تفقہ حاصل کیا ۔
آپ علیہ الرحمہ بڑے عالم فاضل اور علومِ دینی و دنیوی میں کامل ہوئے ۔
بہت سے علما و فضلا ان سے مستفید ہوئے۔
سیرت و خصائص:
نہایت متدیّن، متشرّع، صالح، پرہیزگار، اور صاحب ریاضت و مجاہدہ تھے۔ انکسار و افتقار اور غربت و خاموشی کے ساتھ موصوف تھے ۔
وصال:
اٹھائیسویں ربیع الاول ۶۰۲ھ کو انتقال کیا اور بغداد کے علاقے جبال میں مدفون ہوئے ۔
ان کے ایک فرزند سید محمد الہتّاک رحمۃ اللہ علیہ جیّد عالم مستقیم الاحوال تھے۔
مآخذ و مراجع:
شریف التواریخ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-abu-bakr-shamsuddin-abdul-aziz
scholars.pk
Hazrat Syed Abu Bakr Shamsuddin Abdul Aziz
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
27-03-1445 ᴴ | 13-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ اذان خطبہ مسجد کے اندر
28-03-1445 ᴴ | 14-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2