🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
مولانا میاں عبد الحلیم شہداد کوٹی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی:
مولانا میاں عبد الحلیم ۔ شہداد کوٹ کی نسبت سے " شہداد کوٹی " کہلاتے ہیں ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا عبد الحلیم شہداد کوٹی بن مولانا نصیر الدین شہداد کوٹی علیہما الرحمہ ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 28 ربیع الاول 1331ھ مطابق مارچ 1913ء کو درگاہ صدیقیہ شہداد کوٹ ضلع لاڑکانہ سندھ میں ہوئی ۔

تحصیل علم:
ابتدا ء سے لے کر آخر تک تعلیم مولانا عبد الغفار کھوسہ بلوچ سے درگاہ شریف صدیقیہ پر حاصل کی ۔ اس کے بعد مبلغ اہل سنت، صحافی و نامور شاعر حضرت مولانا قمر الدین عطائی مہیسر سے درس نظامی کی تعلیم حاصل کر کے فارغ التحصیل ہوئے ۔

بیعت و خلافت:
بعد فراغت از فراغتِ علم، حضرت پیر طریقت مولانا مخدوم ہادی بخش سجادہ نشین درگاہ محمد پور شریف (پنو عاقل) کے ہاتھ پر سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے ۔ مجاہدات کے بعد خلافت سے نوازے گئے اور آپ درگاہ صدیقیہ کے سجادہ نشین دوئم قرار پائے ۔

سیرت و خصائص:
عالم و عارف، مجاہد اہل سنت، محسن اہل سنت، پیر طریقت حضرت علامہ مولانا میاں عبد الحلیم شہداد کوٹی رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ علیہ الرحمہ نے ساری زندگی دینِ متین کی حقیقی خدمت فرمائی ۔ مسلکِ حق کی اشاعت و فروغ میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی ۔ روایتی پیری مریدی سے ہٹ کر آپ نے صرف لنگر و نیاز کا کھانا اور مریدین و متوسلین سے نذرانے وصول نہیں کیے بلکہ پوری زندگی قوم میں علم و عرفاں کی نعمتِ لا زوال تقسیم فرماتے رہے ۔ ایسی دولت جس سے ان کے ایمان و اتقان میں اضافہ ہو، اور ان کی نسلیں ہر قسم کے عفریت سے محفوظ رہیں ۔

یہی وجہ ہے کہ آپ ہمہ وقت خدمت دین کے لئے سر گرم رہتے تھے ۔ جہالت کی تاریک رات کو تار تار کرنے کیلئے اُجالے کی ضرورت کو ہر وقت محسوس کرتے تھے ۔ اس لئے علم دین کو عام کرنے اور معاشرے کے سدھار و اصلاح کے لئے قرآن و سنت کی تعلیم کو ہی اسی معاشرے کا انقلاب تصور کرتے تھے ۔ اس لئے مدارس عربیہ کو قائم فرمایا ۔ صرف شہداد کوٹ میں چار دینی مدارس قائم فرمائے، ان کے علاوہ دو مدرسے قلات بلوچستان، اور ایک مدرسہ خضدار میں قائم فرمایا ۔ جہاں مدرسہ ہوگا وہاں بدمذہب کی بد عقیدگی کے جراثیم نہیں پھیل سکیں گے ۔ آج بدمذہب ناسور کی طرح بڑھ رہے ہیں اس کی بنیادی وجہ ان کے مدارس کا قیام ہے، اور ہمارے دینی مدارس کا زوال ہے ۔ آج کے سجادہ نشین اور اہل سنت کے سرکردہ راہنماؤں کو اہل سنت کی بقاء کے لئے اس طرف خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔

حضرت میاں صاحب علیہ الرحمہ نے دینی مدارس کے قیام کے ساتھ ساتھ پڑھے لکھے لوگوں میں علم دین کی سوغات تقسیم کرنے کے لئے درگاہ صدیقیہ شہداد کوٹ سے 1959ء کو ماہنامہ " فیوضاتِ صدیقیہ " جاری فرمایا ۔ اس مجلہ نے سندھی زبان میں دین اسلام، مسلک اہل سنت اور تعلیمات اولیاء اللہ کی خوب تبلیغ فرمائی ۔ معاشرہ کی اصلاح کے حوالہ سے بھی اس مجلہ کی خدمات قابل قدر ہیں ۔

عادات و خصائل:
آپ شریعت مطہرہ کے پابند، صوم صلوٰ ۃ کے پابند، عالم دین، پیر طریقت، نعتیہ شاعر، سادگی پسند، اخلاق محبت کے خوگر، حق گو ، خدمت دین سے سرشار، بلند حوصلہ ، مضبوط ارادہ کے مالک، عربی فارسی، سندھی، سرائیکی اور اردو زبانوں پر عبو ر رکھتے تھے ۔ بعد نماز فجر اور عشاء قادری ذکر بالجہر پابندی سے مسجد شریف میں جماعت کے حلقہ میں کرانا آپ کے معمول میں سے تھا ۔

تاریخِ وصال:
مولانا میاں عبد الحلیم نے 5 رمضان المبارک 1399ھ بمطابق 30 جولائی 1979ء کو انتقال فرمایا ۔ درگاہ صدیقیہ شہداد کوٹ میں مدفون ہوئے ۔

ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہل سنت سندھ ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-haleem-shahdadkoti
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
3
حضرت علامہ محمد شریف نوری قصوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

خطیب پاکستان مولانا الحاج محمد شرف نوری قصوری رحمہ اللہ تعالی ابن مولانا محمد دین مدظلہ العالی ۴ ۔۱۳۵۳ھ / ۱۹۳۵ء میں بمقام چکوڑی (ضلع گجرات) میں پیدا ہوئے ۔ کنجاہ (گجرات) میں میٹرک کا امتحان پاس کیا، اس کے بعد پاکستان کی عظیم دینی درس گاہ دار العلوم حنفیہ فرید یہ بصیر پور (ضلع ساہیوال) میں تمام متد اور کتب کی تحصیل و تکمیل کر کے فقہ عصر مولانا ابو الخیر محمد نور اللہ نعیمی دامت بر کاتہم العالیہ سے درس حدیث لیا اور ۱۳۷۳ھ / ۱۹۵۳ء میں فراغت حاصل کی اسی سال قصور میں خطیب مقرر ہوئے اور ۱۳۸۱ھ تک کمال خوبی سے فرائض خطابت انجام دئے یہیں سے ان کی شہرت دور دراز تک پہنچی ۔

آپ کی آواز میں بلاکا سوز تھا اور دوران تقریر مجمع پر چھا جایا کرتے تھے بڑے سے بڑے مجمع کر کنٹرول کرنا ان کے لئے معمولی بات تھی ۱۹۷۰ء میں جب دار السلام (ٹوبہ ٹیک سنگھ) میں شیخ الاسلام خواجہ محمد قمر الدین سیالوی دامت بر کاتہم العالیہ کی صدارت میں سنی کانفرنس منعدق ہوئی تو کسی وجہ سیلاکھوں افراد میں پھیل جانے والی بے چنی کو آپن یکنٹرول کر کے مشاہیر کو ورطۂ حیرت میںڈال دیا ۔ پاکستان کے سابق گورنر ملک امیر محمد خاں اپنے گھر پر منعقدہ مجلس میلاد کیلئے آپ کو دعوت دیاکرتے تھے ۔ آپ نے ۱۹۷۰ء کے عام انتخابات میں جمیعت العلماء پاکستان کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لیا ۔

قصور کے قیام کی نسبت سے نوری قصوری کے نام سے عوام و خواص کے طبقے میں متعارف ہوئے ۔ ۱۹۵۴ء میں پنجاب یونیورسٹی سے مولوی فاضل اور ۱۹۵۵ء میں ادیب فاضل کا امتحان نمایاں کامیابی سے پاس کیا ۔ قصوری ہی میں مشہور نعت خوان جناب محمد علی ظہوری کو ساتھ لے کر ماہنامہ نور و ظہور نکالا جسے بڑی مقبولیت حاصل ہوئی مگر زیادہ دیر تک جاری نہ رہ سکا ۔ ان کے سحر خطابت کا یہ کارنامہ نا قابل فراموش ہے کہ یکم مئی ۱۹۵۹ء کو کلاک آباد (مضافات رائے ونڈ) کے تقریباً دو ہزار عیسائی ان کی تبلیغ سے متاثر ہو کر حلقہ بگوش اسلام ہو گئے تھے [1] ۔

۱۳۸۱ھ ؍ ۲۔۱۹۶۱ء میں لاہور آ گئے [2] پہلے ایک عرصہ تک جامعی مسجد سبیل والی شاہ عالم مارکیٹ میں، پھر کچھ عرصہ سرائے رتن چند میں خطیب رہے،بعد ازاں شیشی محل ہوزری کے بالمقابل جامع مسجد محمدیہ (راوی روڈ) ل میں تشریف لے آئے، یہاں آپ نے جامعہ محمدیہ کی بنیاد رکھی، مسجد کا عظیم مینار آپ ہی کی مساعی سے پایۂ تکمیل کو پہنچا ۔

۱۳۸۴ھ میں مقامات مقدسہ کی زیارات کے لئے بغداد شریف، کربلائے معلی، نجف اشرف اور بییت المقدس کا سفر کیا اور حج و زیارت سے مشرف ہوئے ۔ ۱۳۹۱ھ میں کمال اشتیاق سے حرمین شریفین کی حاضری سے فیضیاب ہوئی واپسی پر راستے ہی میں علالت نے آ لیا، واپس وطن پہنچنے کے بعد م یو ہسپتال لاہور میں علاج معالجہ شروع کیا مگر کچھ فائدہ نہ ہوا اور جلد ہی عالم بقا کی طرف کوچ کر گئے، مولانا مرحوم نے چار مرتبہ حج و زیارت کی سعادت حاصل کی ۔

مولانا نوری بلند اخلاق کے مالک تھے، دوستوں کے دست تھے اور ملنی جلنے والوں کی بڑی فراخد لیسے توضع کیا کرتے تھے، جمعیۃ العماء پاکستان، پاک سنی تنظیم اور انجمن اصلاح المسلمین کے سر گرم رکن اور ممتاز عہدوں پر فائز رہے ۔ ۱۳۹۰ھ میں جا بجا دورے کئے اور آئین اسلام ے نفاذ کے حق میں پرزور تقریریں کیں اور عوام الناس کو آئین اسلامی کی تائید و حمایت کے لئے تیار کیا ۔
1
مولانا نوری رحمہ اللہ تعالیٰ اپنے دور کے مقبول ترین مقرر تھے، سامعین ان کی خوش نوائی کیاثر سے کیف و سرور میں ڈوب جاتے تھے، وہ جہاں ایک مرتبہ تقریر کر آتے تھے وہاں کے لوگ ہمیشہ ان کے مشتاق رہتے، تقریر اپنی مادری زبان پنجابی میں کیا کرتے ان کے عقیدت مندوں کا حلقہ نہایت وسیع تھا، انہوں نے اپنے مواعظ کے ذریعے سنیت کا پیغام پاکستان کے گوشے گوشے تک پوری بیبیا کی سے پہنچایا اور عقائد باطلہ کی تردید پوری قوت سے کی، پر خطر راستوں سے گذرے، دھمک سنیں مگر کبھی ان کا عزم متزلزل نہ ہوا ۔

مولانا نوری نور اللہ مرقدہ نے وعظ تقریر کے ساتھ تحریر کا سلسلہ بھی جاری رکھا، لاہور آنے کے بعد ماہنامہ الحبیب جاری کیا جسے کامیابی سے چلاتے رہے، ان دنوں نوجوان فاضل مولانا محمد شریف شر قپوری (فاضل بصیر پور) آپ کے معاون رہے، اس کے علاوہ آفتاب سنت رد چراغ سنت (تالیف فردوس علی شاہ دیوبندی قصوری) بارہ تقریریں، نشری تقریریں، مسئلۂ گیارہویں، حرمت تعزیہ داری اوع عرب کا مسافر ایسی مقبول عام تصانیف یادگار چھوڑ دیں ۔

۲۸ ربیع الاول / ۱۳مئی (۱۳۹۲ھ؍۱۹۷۲ئ) جمعہ ہفتہ کی درمیانی شب میو ہسپتال میں تقریباً ۲ بجے آپ کا انتقال ہوا ۔ نماز جنازہ مفتیٔ اعطم پاکستان حضرت مولانا علامہ ابو البرکات سید احمد دامت برکاتہم العالیہ نے پڑھائی [3]

آپ اپنے والد گرامی کے اکلوتے فرزند تھے، خطیب پاکستان مولانا غلام الدین قدس سرہ آپ کے عم محترم تھے، مولانا نوری قدس سرہ کے ہاںنرینہ اولاد نہیں ہوئی، اس وقت چار بچیاں بقید حیات ہیں ۔

جامع مسجد محمدیہ راوی روڈ پر آپ کا مزار تعمیر ہے ۔

[1] بارہ تقریرں، پہلا ایڈیشن ، گروپوش، ص۲

[2] غلام مہر علی، مولانا: الیواقیت المریہ ص ۱۲۹

[3] ماہنامہ رضائے مصطفی گوجرانوالہ (ربیع الآخر ۱۳۹۲ھ) ص ۱۷

( تذکرہ اکابرِ اہلسنت )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-muhammad-sharif-noori-qasoori
2