🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
27-03-1445 ᴴ | 13-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ اذان خطبہ مسجد کے اندر
27-03-1445 ᴴ | 13-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
27-03-1445 ᴴ | 13-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ اذان خطبہ مسجد کے اندر
27-03-1445 ᴴ | 13-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
مولانا میاں عبد الحلیم شہداد کوٹی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا میاں عبد الحلیم ۔ شہداد کوٹ کی نسبت سے " شہداد کوٹی " کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا عبد الحلیم شہداد کوٹی بن مولانا نصیر الدین شہداد کوٹی علیہما الرحمہ ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 28 ربیع الاول 1331ھ مطابق مارچ 1913ء کو درگاہ صدیقیہ شہداد کوٹ ضلع لاڑکانہ سندھ میں ہوئی ۔
تحصیل علم:
ابتدا ء سے لے کر آخر تک تعلیم مولانا عبد الغفار کھوسہ بلوچ سے درگاہ شریف صدیقیہ پر حاصل کی ۔ اس کے بعد مبلغ اہل سنت، صحافی و نامور شاعر حضرت مولانا قمر الدین عطائی مہیسر سے درس نظامی کی تعلیم حاصل کر کے فارغ التحصیل ہوئے ۔
بیعت و خلافت:
بعد فراغت از فراغتِ علم، حضرت پیر طریقت مولانا مخدوم ہادی بخش سجادہ نشین درگاہ محمد پور شریف (پنو عاقل) کے ہاتھ پر سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے ۔ مجاہدات کے بعد خلافت سے نوازے گئے اور آپ درگاہ صدیقیہ کے سجادہ نشین دوئم قرار پائے ۔
سیرت و خصائص:
عالم و عارف، مجاہد اہل سنت، محسن اہل سنت، پیر طریقت حضرت علامہ مولانا میاں عبد الحلیم شہداد کوٹی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ نے ساری زندگی دینِ متین کی حقیقی خدمت فرمائی ۔ مسلکِ حق کی اشاعت و فروغ میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی ۔ روایتی پیری مریدی سے ہٹ کر آپ نے صرف لنگر و نیاز کا کھانا اور مریدین و متوسلین سے نذرانے وصول نہیں کیے بلکہ پوری زندگی قوم میں علم و عرفاں کی نعمتِ لا زوال تقسیم فرماتے رہے ۔ ایسی دولت جس سے ان کے ایمان و اتقان میں اضافہ ہو، اور ان کی نسلیں ہر قسم کے عفریت سے محفوظ رہیں ۔
یہی وجہ ہے کہ آپ ہمہ وقت خدمت دین کے لئے سر گرم رہتے تھے ۔ جہالت کی تاریک رات کو تار تار کرنے کیلئے اُجالے کی ضرورت کو ہر وقت محسوس کرتے تھے ۔ اس لئے علم دین کو عام کرنے اور معاشرے کے سدھار و اصلاح کے لئے قرآن و سنت کی تعلیم کو ہی اسی معاشرے کا انقلاب تصور کرتے تھے ۔ اس لئے مدارس عربیہ کو قائم فرمایا ۔ صرف شہداد کوٹ میں چار دینی مدارس قائم فرمائے، ان کے علاوہ دو مدرسے قلات بلوچستان، اور ایک مدرسہ خضدار میں قائم فرمایا ۔ جہاں مدرسہ ہوگا وہاں بدمذہب کی بد عقیدگی کے جراثیم نہیں پھیل سکیں گے ۔ آج بدمذہب ناسور کی طرح بڑھ رہے ہیں اس کی بنیادی وجہ ان کے مدارس کا قیام ہے، اور ہمارے دینی مدارس کا زوال ہے ۔ آج کے سجادہ نشین اور اہل سنت کے سرکردہ راہنماؤں کو اہل سنت کی بقاء کے لئے اس طرف خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔
حضرت میاں صاحب علیہ الرحمہ نے دینی مدارس کے قیام کے ساتھ ساتھ پڑھے لکھے لوگوں میں علم دین کی سوغات تقسیم کرنے کے لئے درگاہ صدیقیہ شہداد کوٹ سے 1959ء کو ماہنامہ " فیوضاتِ صدیقیہ " جاری فرمایا ۔ اس مجلہ نے سندھی زبان میں دین اسلام، مسلک اہل سنت اور تعلیمات اولیاء اللہ کی خوب تبلیغ فرمائی ۔ معاشرہ کی اصلاح کے حوالہ سے بھی اس مجلہ کی خدمات قابل قدر ہیں ۔
عادات و خصائل:
آپ شریعت مطہرہ کے پابند، صوم صلوٰ ۃ کے پابند، عالم دین، پیر طریقت، نعتیہ شاعر، سادگی پسند، اخلاق محبت کے خوگر، حق گو ، خدمت دین سے سرشار، بلند حوصلہ ، مضبوط ارادہ کے مالک، عربی فارسی، سندھی، سرائیکی اور اردو زبانوں پر عبو ر رکھتے تھے ۔ بعد نماز فجر اور عشاء قادری ذکر بالجہر پابندی سے مسجد شریف میں جماعت کے حلقہ میں کرانا آپ کے معمول میں سے تھا ۔
تاریخِ وصال:
مولانا میاں عبد الحلیم نے 5 رمضان المبارک 1399ھ بمطابق 30 جولائی 1979ء کو انتقال فرمایا ۔ درگاہ صدیقیہ شہداد کوٹ میں مدفون ہوئے ۔
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہل سنت سندھ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-haleem-shahdadkoti
نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا میاں عبد الحلیم ۔ شہداد کوٹ کی نسبت سے " شہداد کوٹی " کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا عبد الحلیم شہداد کوٹی بن مولانا نصیر الدین شہداد کوٹی علیہما الرحمہ ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 28 ربیع الاول 1331ھ مطابق مارچ 1913ء کو درگاہ صدیقیہ شہداد کوٹ ضلع لاڑکانہ سندھ میں ہوئی ۔
تحصیل علم:
ابتدا ء سے لے کر آخر تک تعلیم مولانا عبد الغفار کھوسہ بلوچ سے درگاہ شریف صدیقیہ پر حاصل کی ۔ اس کے بعد مبلغ اہل سنت، صحافی و نامور شاعر حضرت مولانا قمر الدین عطائی مہیسر سے درس نظامی کی تعلیم حاصل کر کے فارغ التحصیل ہوئے ۔
بیعت و خلافت:
بعد فراغت از فراغتِ علم، حضرت پیر طریقت مولانا مخدوم ہادی بخش سجادہ نشین درگاہ محمد پور شریف (پنو عاقل) کے ہاتھ پر سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے ۔ مجاہدات کے بعد خلافت سے نوازے گئے اور آپ درگاہ صدیقیہ کے سجادہ نشین دوئم قرار پائے ۔
سیرت و خصائص:
عالم و عارف، مجاہد اہل سنت، محسن اہل سنت، پیر طریقت حضرت علامہ مولانا میاں عبد الحلیم شہداد کوٹی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ نے ساری زندگی دینِ متین کی حقیقی خدمت فرمائی ۔ مسلکِ حق کی اشاعت و فروغ میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی ۔ روایتی پیری مریدی سے ہٹ کر آپ نے صرف لنگر و نیاز کا کھانا اور مریدین و متوسلین سے نذرانے وصول نہیں کیے بلکہ پوری زندگی قوم میں علم و عرفاں کی نعمتِ لا زوال تقسیم فرماتے رہے ۔ ایسی دولت جس سے ان کے ایمان و اتقان میں اضافہ ہو، اور ان کی نسلیں ہر قسم کے عفریت سے محفوظ رہیں ۔
یہی وجہ ہے کہ آپ ہمہ وقت خدمت دین کے لئے سر گرم رہتے تھے ۔ جہالت کی تاریک رات کو تار تار کرنے کیلئے اُجالے کی ضرورت کو ہر وقت محسوس کرتے تھے ۔ اس لئے علم دین کو عام کرنے اور معاشرے کے سدھار و اصلاح کے لئے قرآن و سنت کی تعلیم کو ہی اسی معاشرے کا انقلاب تصور کرتے تھے ۔ اس لئے مدارس عربیہ کو قائم فرمایا ۔ صرف شہداد کوٹ میں چار دینی مدارس قائم فرمائے، ان کے علاوہ دو مدرسے قلات بلوچستان، اور ایک مدرسہ خضدار میں قائم فرمایا ۔ جہاں مدرسہ ہوگا وہاں بدمذہب کی بد عقیدگی کے جراثیم نہیں پھیل سکیں گے ۔ آج بدمذہب ناسور کی طرح بڑھ رہے ہیں اس کی بنیادی وجہ ان کے مدارس کا قیام ہے، اور ہمارے دینی مدارس کا زوال ہے ۔ آج کے سجادہ نشین اور اہل سنت کے سرکردہ راہنماؤں کو اہل سنت کی بقاء کے لئے اس طرف خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔
حضرت میاں صاحب علیہ الرحمہ نے دینی مدارس کے قیام کے ساتھ ساتھ پڑھے لکھے لوگوں میں علم دین کی سوغات تقسیم کرنے کے لئے درگاہ صدیقیہ شہداد کوٹ سے 1959ء کو ماہنامہ " فیوضاتِ صدیقیہ " جاری فرمایا ۔ اس مجلہ نے سندھی زبان میں دین اسلام، مسلک اہل سنت اور تعلیمات اولیاء اللہ کی خوب تبلیغ فرمائی ۔ معاشرہ کی اصلاح کے حوالہ سے بھی اس مجلہ کی خدمات قابل قدر ہیں ۔
عادات و خصائل:
آپ شریعت مطہرہ کے پابند، صوم صلوٰ ۃ کے پابند، عالم دین، پیر طریقت، نعتیہ شاعر، سادگی پسند، اخلاق محبت کے خوگر، حق گو ، خدمت دین سے سرشار، بلند حوصلہ ، مضبوط ارادہ کے مالک، عربی فارسی، سندھی، سرائیکی اور اردو زبانوں پر عبو ر رکھتے تھے ۔ بعد نماز فجر اور عشاء قادری ذکر بالجہر پابندی سے مسجد شریف میں جماعت کے حلقہ میں کرانا آپ کے معمول میں سے تھا ۔
تاریخِ وصال:
مولانا میاں عبد الحلیم نے 5 رمضان المبارک 1399ھ بمطابق 30 جولائی 1979ء کو انتقال فرمایا ۔ درگاہ صدیقیہ شہداد کوٹ میں مدفون ہوئے ۔
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہل سنت سندھ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-haleem-shahdadkoti
scholars.pk
Molana Miyah Abdul Haleem
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This Web Page have good information about Islam and contains brief introduction of a great Islamic Celaebrity / Personality (Religious Scholar).
❤2