🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
26-03-1445 ᴴ | 12-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ باریک کپڑا پہن کر نماز پڑھنا
26-03-1445 ᴴ | 12-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
حضرت شاہ عبد اللہ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: شاہ عبد اللہ ابو الخیر ۔ لقب: نقشبندی مجددی، دہلوی ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت شاہ عبد اللہ دہلوی بن شاہ عمر بن شاہ احمد سعید حنفی نقشبندی ۔ سلسلۂ نسب حضرت مجدد الفِ ثانی تک منتہی ہوتا ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 27 ربیع الاول 1272ھ، مطابق ماہِ دسمبر 1855ء کو دہلی میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
چار سال کی عمر میں والد اور دادا کے ہمراہ حرمین شریفین کا سفر کیا ۔ طویل عرصے تک وہیں قیام رہا ۔ اپنے والد گرامی اور دادا محترم سے ابتدائی تعلیم حاصل کی ۔ ان کے علاوہ شیخ الدلائل شیخ عبد الحق مہاجر مکی، شیخ رحمت اللہ کیرانوی، شیخ حبیب الرحمن ردولوی، شیخ الاسلام سید احمد دحلان مکی اور دیگر علماء کرام سے درسیات مکمل فرمائی ۔ بالخصوص شیخ دحلان مکی سے اجازتِ حدیث حاصل فرمائی ۔ علیہم الرحمہ ـ
بیعت و خلافت:
آپ کے والدِ گرامی نے حرم نبوی میں آپ کو اپنے والدِ ماجد حضرت شاہ احمد سعید دہلوی علیہ الرحمہ سے بیعت سے مرید کرا دیا تھا ۔ خلافت اپنے والد گرامی سے حاصل ہوئی ۔
سیرت و خصائص:
امام العلماء، سند الاتقیاء، شیخِ کامل، ولی ابن ولی، خاندانِ مجدد کے رجل رشید، حضرت شاہ ابو الخیر عبد اللہ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ ۔ آپ حضرت شیخ مجدد کی اولاد میں سے تھے ۔ آپ کے دادا نے آپ کا نام محی الدین رکھا، آپ کے والدِ گرامی نے عبد اللہ ابو الخیر تجویز کیا ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کا بچپن مسجد، مدرسہ، اور خانقاہی ماحول میں گزرا ۔ جہاں طرف نورانی و روحانی فضاء تھی، اور اس کے ساتھ مجدد وقت حضرت شاہ غلام علی نقشبندی مجددی علیہ الرحمہ کا قرب بھی حاصل تھا ۔ اس پر نور فضاء ماحول میں پروان چڑھے، اسی کا اثر تھا کہ پھر ساری زندگی لوگوں کواسی طرف بلاتے رہے، اور ان کے قلوب کو نور و اتقان کی دولت سے مالا مال کرتے رہے ۔
1297ھ، کو مکۃ المکرمہ سے ریاست رامپور آئے اور یہاں خاندان میں شادی ہوئی ۔ یہاں سے دہلی تشریف لے گئے، اور پھر وہاں مدینۃ المنورہ کا سفر شروع کیا ۔ وہاں کچھ عرصہ رہنے کے بعد دہلی لوٹ آئے، اور یہاں سلسلۂ رشد و ہدایت شروع کیا ۔ ہر سال 12 ربیع الاول کی شب کو گیارہ بارہ بجے کے درمیان محفل میلاد شریف منعقد کرتے اور خود وعظ کہتے،نہایت پر اثر وعظ ہوتا تھا،حاضرین کی آہ وبکا کی آواز سے مجلس نمونۂ حشر معلوم ہوتی تھی۔اس مجلس میں دور دور سے لوگ آپ کا وعظ سننے کے لیے آتے تھے۔ آپ نہایت عابد وزاہد تھے،نمازیں بہت خشوع وخضوع کے ساتھ پڑھتے تھے،جب کسی آیت کے فہم معنیٰ سے مکیف ہوتے تو رقت طاری ہوجاتی اور بے قرار ہوجاتے،مقتدیوں پر بھی اس کا اثر ہوتا اور سب زار وقطار رونے لگتے۔ مطالعہ کتب کا بھی غایت درجہ شوق تھا، ہزار ہانا یاب اور قلمی کتابیں آپ کے کتب خانہ میں تھیں ۔
ہندوستان (پاک و ہند) کے علاوہ افغانستان، شام، سرحد و بلوچستان وغیرہ میں آپ کا حلقۂ ارادت وسیع تھا ۔ ان علاقوں میں سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ کی خوب ترویج ہوئی ۔ مفتیِ اعظم حضرت مولانا شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ آپ کے خلیفہ تھے ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 69 سال کی عمرمیں شبِ جمعہ 29 جمادی الاخری 1341ھ، مطابق 16 فروری 1923ء کو ہوا ۔ دہلی میں مدفون ہوئے ۔
ماخذ و مراجع: نزہۃ الخواطر ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-abdullah-abul-khair-dehlvi
نام و نسب:
اسمِ گرامی: شاہ عبد اللہ ابو الخیر ۔ لقب: نقشبندی مجددی، دہلوی ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت شاہ عبد اللہ دہلوی بن شاہ عمر بن شاہ احمد سعید حنفی نقشبندی ۔ سلسلۂ نسب حضرت مجدد الفِ ثانی تک منتہی ہوتا ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 27 ربیع الاول 1272ھ، مطابق ماہِ دسمبر 1855ء کو دہلی میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
چار سال کی عمر میں والد اور دادا کے ہمراہ حرمین شریفین کا سفر کیا ۔ طویل عرصے تک وہیں قیام رہا ۔ اپنے والد گرامی اور دادا محترم سے ابتدائی تعلیم حاصل کی ۔ ان کے علاوہ شیخ الدلائل شیخ عبد الحق مہاجر مکی، شیخ رحمت اللہ کیرانوی، شیخ حبیب الرحمن ردولوی، شیخ الاسلام سید احمد دحلان مکی اور دیگر علماء کرام سے درسیات مکمل فرمائی ۔ بالخصوص شیخ دحلان مکی سے اجازتِ حدیث حاصل فرمائی ۔ علیہم الرحمہ ـ
بیعت و خلافت:
آپ کے والدِ گرامی نے حرم نبوی میں آپ کو اپنے والدِ ماجد حضرت شاہ احمد سعید دہلوی علیہ الرحمہ سے بیعت سے مرید کرا دیا تھا ۔ خلافت اپنے والد گرامی سے حاصل ہوئی ۔
سیرت و خصائص:
امام العلماء، سند الاتقیاء، شیخِ کامل، ولی ابن ولی، خاندانِ مجدد کے رجل رشید، حضرت شاہ ابو الخیر عبد اللہ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ ۔ آپ حضرت شیخ مجدد کی اولاد میں سے تھے ۔ آپ کے دادا نے آپ کا نام محی الدین رکھا، آپ کے والدِ گرامی نے عبد اللہ ابو الخیر تجویز کیا ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کا بچپن مسجد، مدرسہ، اور خانقاہی ماحول میں گزرا ۔ جہاں طرف نورانی و روحانی فضاء تھی، اور اس کے ساتھ مجدد وقت حضرت شاہ غلام علی نقشبندی مجددی علیہ الرحمہ کا قرب بھی حاصل تھا ۔ اس پر نور فضاء ماحول میں پروان چڑھے، اسی کا اثر تھا کہ پھر ساری زندگی لوگوں کواسی طرف بلاتے رہے، اور ان کے قلوب کو نور و اتقان کی دولت سے مالا مال کرتے رہے ۔
1297ھ، کو مکۃ المکرمہ سے ریاست رامپور آئے اور یہاں خاندان میں شادی ہوئی ۔ یہاں سے دہلی تشریف لے گئے، اور پھر وہاں مدینۃ المنورہ کا سفر شروع کیا ۔ وہاں کچھ عرصہ رہنے کے بعد دہلی لوٹ آئے، اور یہاں سلسلۂ رشد و ہدایت شروع کیا ۔ ہر سال 12 ربیع الاول کی شب کو گیارہ بارہ بجے کے درمیان محفل میلاد شریف منعقد کرتے اور خود وعظ کہتے،نہایت پر اثر وعظ ہوتا تھا،حاضرین کی آہ وبکا کی آواز سے مجلس نمونۂ حشر معلوم ہوتی تھی۔اس مجلس میں دور دور سے لوگ آپ کا وعظ سننے کے لیے آتے تھے۔ آپ نہایت عابد وزاہد تھے،نمازیں بہت خشوع وخضوع کے ساتھ پڑھتے تھے،جب کسی آیت کے فہم معنیٰ سے مکیف ہوتے تو رقت طاری ہوجاتی اور بے قرار ہوجاتے،مقتدیوں پر بھی اس کا اثر ہوتا اور سب زار وقطار رونے لگتے۔ مطالعہ کتب کا بھی غایت درجہ شوق تھا، ہزار ہانا یاب اور قلمی کتابیں آپ کے کتب خانہ میں تھیں ۔
ہندوستان (پاک و ہند) کے علاوہ افغانستان، شام، سرحد و بلوچستان وغیرہ میں آپ کا حلقۂ ارادت وسیع تھا ۔ ان علاقوں میں سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ کی خوب ترویج ہوئی ۔ مفتیِ اعظم حضرت مولانا شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ آپ کے خلیفہ تھے ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 69 سال کی عمرمیں شبِ جمعہ 29 جمادی الاخری 1341ھ، مطابق 16 فروری 1923ء کو ہوا ۔ دہلی میں مدفون ہوئے ۔
ماخذ و مراجع: نزہۃ الخواطر ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-abdullah-abul-khair-dehlvi
scholars.pk
Hazrat Molana Shah Abdullah Abul Khair Dehlvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
حضرت ابو اسحاق خواص رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ کی کنیت ابواسحاق تھی۔ بغداد کے رہنے والے تھے ہمیشہ جذب و صحو اور سکر کی کیفیت میں رہتے تھے، خاصان درگاہ الٰہی میں بلند مقام پر تھے۔ سیّد جنید بغدادی اور حضرت ابوالحسن نوری کے معاصرین اور احباب میں سے تھے۔ حضرت خضر سے بھی زیارت اور صحبت کا شرف حاصل تھا۔
شیخ ممشاد دینوری فرماتے ہیں، ایک بار میں مسجد میں نیم خوابی کی حالت میں تھا، مجھے آواز آئی، اگر میرے دوستوں میں سے ایک دوست کی زیارت کرنا چاہتے ہو تو ابھی اٹھو اور تل توبہ پر جاؤ، میں اٹھا راستے میں برف باری اور طوفان تھا، میں وہاں پہنچا تو ابراہیم خواص کو دیکھا، آپ برف میں چار زانو بیٹھے ہوئے ہیں، اس برفانی فضا اور ٹھنڈک کے باوجود پسینے سے شرابور ہیں، برف آپ کے سر پر پڑتی فوراً پگل کر زمین پر بہہ جاتی تھی، میں آپ کو دیکھ کر بڑا دل خوش ہوا، میں نے پوچھا، آپ کو یہ رتبہ کیسے ملا، فرمایا: فقراء کی خدمت سے۔
آپ بے پناہ متوکل اور قناعت کے مالک تھے، لوگ آپ کو رئیس المتوکلین کہا کرتے تھے، آپ کو خواص اس لیے کہا جاتا تھ، کہ آپ زنبیل سیا کرتے، اور سوئی دھاکہ اور قینچی کے علاوہ کوئی سامان پاس نہ رکھتے، فرمایا کرتے اس قدر اسباب توکل میں ہائل نہیں ہوتے، ایک دفعہ فرمایا حضرت خضر میری مجلس میں کچھ وقت گزارنا چاہتے تھے میں نے پسند نہ کیا مجھے ڈر تھا کہ اللہ کے ساتھ جو راہ و رسم ہے اس میں خلل واقعہ نہ ہوجائے۔
حضرت خواص فرماتے ہیں ایک وادی میں دہشت ناک شیر کا سامانا ہوا، اس نے بھی مجھے دیکھ لیا، میری طرف بڑھا میں اور آگے بڑھا مجھے محسوس ہوا کہ وہ لنگڑا کر چل رہا ہے اس کی آنکھوں سے پانی بہہ رہا ہے، اس نے اپنا زخمی پاؤں میرے آگے رکھ دیا، میں نے غور سے دیکھا تو وہ سوجا ہوا تھا اور اس میں پیپ پڑی ہوئی ہے، میں نے سوئی لی اس کا پاؤں کھول دیا، قینچی سے اس کا پاؤں اتنا کھول دیا، حتی کہ ساری پیپ بہہ نکلی اس کا پاؤں خالی ہوگیا، گودڑی کا ایک ٹکڑا لے کر میں نے اس کے پاؤں کو باندھ دیا، اسے سکوں آگیا، اٹھا اور اپنی وادی میں چلا گیا کچھ وقت گزارا میں نے دیکھا کہ اپنے دو بچوں کو اپنے ساتھ لایا ہے، اور میرے پا سبٹھا دیے اور یہ بچے دم ہلانے لگے، تھوڑا سا گوشت لاکر میرے سامنے رکھ دیا۔
آپ نے ایک اور واقعہ بیان کیا کہ ایک دن میں ایک وادی میں توکلاً علی اللہ سفر کر رہا تھا ایک شخص میرے پاس آیا مجھے سلام کیا اور ساتھ رہنے کی اجازت مانگی، میں نے محسوس کیا کہ وہ مسلمان نہیں ہے، میں نے اسے کہا جہاں میں جا رہا ہوں وہاں تم نہیں جاسکتے، اس نے گزارش کی تاہم آپ کے ساتھ جانے سے فائدہ سے خالی نہ ہوگا اور ساتھ ہولیا، سفر میں پانچ دن رات کچھ کھائے پیے بغیر گزر گئے تو وہ مجھے کہنے لگا، اے توکل پر چلنے والے، اب تو گستاخی کرکے اللہ سے کچھ کھانے کے لیے مانگ لو، میں نے اللہ سے دعا مانگی اور کہا اے اللہ مجھے اس بیگانہ دین سے شرمسار نہ کرنا کچھ کھانے کا بندوبست کردے، میں نے دیکھا ایک طبق اترا اس میں کھانے کا سامان بھرا پڑا ہے، ہم دونوں بیٹھ گئے اور پیٹ بھر کر کھانا کھایا اور اللہ کا شکر ادا کیا اب سات دن مزید سفر کرتے رہے اور کچھ نہ کھایا پیا، میں نے کہا اب تم اپنے خدا سے کچھ کھانے کو مانگو، اس نے بھی میری طرح آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے اور کھانا طلب کیا، میں نے دیکھا کہ دو طبق آسمان سے اترے جن میں کئی قسم کے کھانے چکے ہوئے تھے، میں حیران رہ گیا، وہ میری حیران کو تاڑ گیا، کہنے لگا حضرت حیران نہ ہوں مجھے بھی مسلمان کیجیے، یہ سب کچھ آپ کی صحبت کا فیض ہے یہ دونوں طبق آپ کی کرامت ہیں میں نے اللہ سے دعا کی تھی اللہ اپنے اس بندے کی طفیل آج کھانا بھیج، اس دن سے وہ شخص مسلمان ہوگیا اور تربیت حاصل کرکے کامل انسان بن گیا۔
حضرت شیخ ابراہیم ۲۹۱ھ میں فوت ہوئے یوسف بن حسین نے آپ کو غسل دیا، آپ کا مزار مبارک طرک اصفہان کے قلعہ کے زیر سایہ ہے۔ حضرت جامی نے اپنی کتاب نفحات الانس میں شیخ عبداللہ انصاری کی روایت بیان کی ہے کہ حضرت شیخ ابراہیم جیسا پر ہیبت ولی اللہ دیکھنے میں نہیں آیا۔
حضرت عبداللہ انصاری فرماتے ہیں کہ میں نے آج تک کسی ولی اللہ کی قبر سے اتنی ہیبت نہیں پائی جتنی حضرت ابراہیم خواص کی قبر سے آتی تھی یوں معلوم ہوتا تھا کہ ایک شیر ہے جو سویا ہوا ہے اور ابھی اٹھ بیٹھے گا۔
چو رحلت کرد ابراہیم ثانی
عیاں شد سال وصلش قطب مسعود
۲۹۱ھ
بقرب ایزدی ازوار دنیا
وگر ہم سالک مسکین بفرما
۲۹۱ھ
قطب معلّی ۲۹۱ھ ابراہیم ہادی ۲۹۱ھ زبدۂ آفاق کامل ۲۹۱ھ
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-ishaq-khawas
آپ کی کنیت ابواسحاق تھی۔ بغداد کے رہنے والے تھے ہمیشہ جذب و صحو اور سکر کی کیفیت میں رہتے تھے، خاصان درگاہ الٰہی میں بلند مقام پر تھے۔ سیّد جنید بغدادی اور حضرت ابوالحسن نوری کے معاصرین اور احباب میں سے تھے۔ حضرت خضر سے بھی زیارت اور صحبت کا شرف حاصل تھا۔
شیخ ممشاد دینوری فرماتے ہیں، ایک بار میں مسجد میں نیم خوابی کی حالت میں تھا، مجھے آواز آئی، اگر میرے دوستوں میں سے ایک دوست کی زیارت کرنا چاہتے ہو تو ابھی اٹھو اور تل توبہ پر جاؤ، میں اٹھا راستے میں برف باری اور طوفان تھا، میں وہاں پہنچا تو ابراہیم خواص کو دیکھا، آپ برف میں چار زانو بیٹھے ہوئے ہیں، اس برفانی فضا اور ٹھنڈک کے باوجود پسینے سے شرابور ہیں، برف آپ کے سر پر پڑتی فوراً پگل کر زمین پر بہہ جاتی تھی، میں آپ کو دیکھ کر بڑا دل خوش ہوا، میں نے پوچھا، آپ کو یہ رتبہ کیسے ملا، فرمایا: فقراء کی خدمت سے۔
آپ بے پناہ متوکل اور قناعت کے مالک تھے، لوگ آپ کو رئیس المتوکلین کہا کرتے تھے، آپ کو خواص اس لیے کہا جاتا تھ، کہ آپ زنبیل سیا کرتے، اور سوئی دھاکہ اور قینچی کے علاوہ کوئی سامان پاس نہ رکھتے، فرمایا کرتے اس قدر اسباب توکل میں ہائل نہیں ہوتے، ایک دفعہ فرمایا حضرت خضر میری مجلس میں کچھ وقت گزارنا چاہتے تھے میں نے پسند نہ کیا مجھے ڈر تھا کہ اللہ کے ساتھ جو راہ و رسم ہے اس میں خلل واقعہ نہ ہوجائے۔
حضرت خواص فرماتے ہیں ایک وادی میں دہشت ناک شیر کا سامانا ہوا، اس نے بھی مجھے دیکھ لیا، میری طرف بڑھا میں اور آگے بڑھا مجھے محسوس ہوا کہ وہ لنگڑا کر چل رہا ہے اس کی آنکھوں سے پانی بہہ رہا ہے، اس نے اپنا زخمی پاؤں میرے آگے رکھ دیا، میں نے غور سے دیکھا تو وہ سوجا ہوا تھا اور اس میں پیپ پڑی ہوئی ہے، میں نے سوئی لی اس کا پاؤں کھول دیا، قینچی سے اس کا پاؤں اتنا کھول دیا، حتی کہ ساری پیپ بہہ نکلی اس کا پاؤں خالی ہوگیا، گودڑی کا ایک ٹکڑا لے کر میں نے اس کے پاؤں کو باندھ دیا، اسے سکوں آگیا، اٹھا اور اپنی وادی میں چلا گیا کچھ وقت گزارا میں نے دیکھا کہ اپنے دو بچوں کو اپنے ساتھ لایا ہے، اور میرے پا سبٹھا دیے اور یہ بچے دم ہلانے لگے، تھوڑا سا گوشت لاکر میرے سامنے رکھ دیا۔
آپ نے ایک اور واقعہ بیان کیا کہ ایک دن میں ایک وادی میں توکلاً علی اللہ سفر کر رہا تھا ایک شخص میرے پاس آیا مجھے سلام کیا اور ساتھ رہنے کی اجازت مانگی، میں نے محسوس کیا کہ وہ مسلمان نہیں ہے، میں نے اسے کہا جہاں میں جا رہا ہوں وہاں تم نہیں جاسکتے، اس نے گزارش کی تاہم آپ کے ساتھ جانے سے فائدہ سے خالی نہ ہوگا اور ساتھ ہولیا، سفر میں پانچ دن رات کچھ کھائے پیے بغیر گزر گئے تو وہ مجھے کہنے لگا، اے توکل پر چلنے والے، اب تو گستاخی کرکے اللہ سے کچھ کھانے کے لیے مانگ لو، میں نے اللہ سے دعا مانگی اور کہا اے اللہ مجھے اس بیگانہ دین سے شرمسار نہ کرنا کچھ کھانے کا بندوبست کردے، میں نے دیکھا ایک طبق اترا اس میں کھانے کا سامان بھرا پڑا ہے، ہم دونوں بیٹھ گئے اور پیٹ بھر کر کھانا کھایا اور اللہ کا شکر ادا کیا اب سات دن مزید سفر کرتے رہے اور کچھ نہ کھایا پیا، میں نے کہا اب تم اپنے خدا سے کچھ کھانے کو مانگو، اس نے بھی میری طرح آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے اور کھانا طلب کیا، میں نے دیکھا کہ دو طبق آسمان سے اترے جن میں کئی قسم کے کھانے چکے ہوئے تھے، میں حیران رہ گیا، وہ میری حیران کو تاڑ گیا، کہنے لگا حضرت حیران نہ ہوں مجھے بھی مسلمان کیجیے، یہ سب کچھ آپ کی صحبت کا فیض ہے یہ دونوں طبق آپ کی کرامت ہیں میں نے اللہ سے دعا کی تھی اللہ اپنے اس بندے کی طفیل آج کھانا بھیج، اس دن سے وہ شخص مسلمان ہوگیا اور تربیت حاصل کرکے کامل انسان بن گیا۔
حضرت شیخ ابراہیم ۲۹۱ھ میں فوت ہوئے یوسف بن حسین نے آپ کو غسل دیا، آپ کا مزار مبارک طرک اصفہان کے قلعہ کے زیر سایہ ہے۔ حضرت جامی نے اپنی کتاب نفحات الانس میں شیخ عبداللہ انصاری کی روایت بیان کی ہے کہ حضرت شیخ ابراہیم جیسا پر ہیبت ولی اللہ دیکھنے میں نہیں آیا۔
حضرت عبداللہ انصاری فرماتے ہیں کہ میں نے آج تک کسی ولی اللہ کی قبر سے اتنی ہیبت نہیں پائی جتنی حضرت ابراہیم خواص کی قبر سے آتی تھی یوں معلوم ہوتا تھا کہ ایک شیر ہے جو سویا ہوا ہے اور ابھی اٹھ بیٹھے گا۔
چو رحلت کرد ابراہیم ثانی
عیاں شد سال وصلش قطب مسعود
۲۹۱ھ
بقرب ایزدی ازوار دنیا
وگر ہم سالک مسکین بفرما
۲۹۱ھ
قطب معلّی ۲۹۱ھ ابراہیم ہادی ۲۹۱ھ زبدۂ آفاق کامل ۲۹۱ھ
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-ishaq-khawas
scholars.pk
Hazrat Abu Ishaq Khawas
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت شمس الدین محمد بن علی تبریزی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
اسم گرامی محمد بن ملک داد ہے۔ شیخ سلر باف تبریزی قدس سرہ سے بیعت تھے۔ بعض تذکرہ نگار آپ کو کمال خخبدی یار کن دین سبحانی قدس سرہما کا مرید قرار دیتے ہیں صاحب نفحات الانس لکھتے ہیں آپ نے ان تین بزرگوں کی صحبت سے استفادہ کیا تھا۔
آپ ولی مادر زار تھے آپ فرمایا کرتے تھے کہ چودہ سال کی عمر میں اپنے مکتب میں عشق محمدی میں یوں محویت اختیار کرتا تھا کہ چالیس روز و شب لگاتار کھائے پئے بغیر رہتا لوگ مجھے کھانے کا کہتے تو میں سر یا ہاتھ سے ارشارے سے معذرت کردیا کرتا تھا۔ حضرت مولانا جلال الدین رومی صاحب مثنوی معنوی آپ کے عقیدت مندوں میں سے تھے آپ سے ایک عرصہ تک فیض صحبت پایا اپنے اشعار میں حضرت شمس الدین تبریزی کی تعریف کہی بلکہ اپنے اشعار اور دیوان (دیوان شمس تبریز) آپ کے نام سے منسوب کردیا دونوں بزرگ بسا اوقات خلوت میں رہا کرتے ایک بار تین ماہ تک ایک ہی مکان میں خلوت گزین ہوئے اور (صدِم وصال) بلا کھائے پئے رہے اس دوران کسی کی جرأت نہ تھی کہ ان دونوں بزرگوں کی خلوت میں مخّل ہو۔
خلوت سے باہر نکلے تو حضرت شمس تبریزی نے مولانا جلال الدین رومی کو حکم دیا مجھے ایک خوبصورت عورت مہیا کی جائے آپ اٹھے اور اپنی بیوی شیخ کے حوالے کی آپ نے فرمایا مولانا یہ تو میری بہن ہے تم نے یہ کیا کیا؟ اچھا اب ایسا کرو کوئی خوبصورت سا لڑکا لاؤ حضرت مولانا اٹھے اپنے بیٹے سلطان ولد جو ابھی خوش شکل نو خیز نوجوان تھے کو لے آئے حضرت نے دیکھ کر فرمایا مولانا تم نے پھر یہ کیا کیا یہ تو میرا فرزند ہے اب تھوڑی سی شراب لے آؤ میں اسی پر اکتفا کرلوں گا۔ مولانا رومی اٹھے یہودیوں کے محلے پہنچے کسی یہودی سے شراب لی اور صراحی سر پر اٹھائے آپہنچے حضرت شمس تبریزی نے دیکھ کر فرمایا زمین پر پھینک دو میں تو تمہاری قوت برداشت اور ذوق اتباع کو آزما رہا تھا۔ اب تمہارے مشرب کو وسعت کا امتحان ہوگیا ہے میں سرمست بادۂ حق ہوں مجھے عورت اُمرو یا شراب سے کوئی سروکار نہیں۔
ابتدائی دَور میں آپ قونیہ پہنچے پھرتے پھراتے مولانا روم کے درس میں جا پہنچے مولانا جلال الدین اس وقت حوض کے کنارے اپنے شاگردوں کو پڑھا رہے تھے چند کتابیں پاس رکھیں ہوئی تھیں آپ نے پوچھا مولانا یہ کیسی کتابیں ہیں آپ نے فرمایا یہ قیل و قال کی تحریریں ہیں شیخ شمس الدین نے کتابیں اٹھائیں حوض میں پھینک دیں۔ مولانا جلال الدین اپنی علمی کتابوں کا یہ حال دیکھ کر بے پناہ پریشان ہوئے فرمانے لگے آپ نے یہ کیا کردیا۔ ان میں بعض کتابیں میرے والد بزرگوار کے نوادر تھے جو کہیں سے نہیں ملتے شیخ نے مولانا کو انتہائی مضطرب دیکھا تو پانی میں ہاتھ ڈال کر کتابیں نکال دیں وہ صیح و سالم تھیں مولانا نے پوچھا کہ یہ کیسے ہوا آپ نے فرمایا یہ حال ہے صاحب قال کو اس کی کیا خبر کہتے ہیں اس واقعہ نے مولانا جلال الدین رومی کی دنیا بدل دی اور ہر وقت حضرت شمس تبریزی کی صحبت میں رہنے لگے۔
آپ کی وفات کا واقعہ تذکرہ نگاروں نے بڑا دردناک لکھا ہے ایک رات مولانا جلال الدین رومی اور حضرت شمس تبریز ایک خلوت کدہ میں بیٹھے تھے ایک شخص باہر سے آیا اور حضرت شیخ تبریزی کو باہر بلایا حضرت اٹھے اور حضرت مولانا روم کو خدا حافظ کہتے ہوئے بتایا کہ مجھے قتل کرنے کے لیے بلایا جا رہا ہے مولوی رومی نے کہا اَلا لَہٗ الَخلقَ والامَر تَبارکَ اللہ رَبَ اللِعَالمین حضرت شیخ شمس تبریزی باہر آئے تو سات آدمی کمین گاہ میں چھپے بیٹھے تھے انہوں نے اچانک چھریوں سے حملہ کردیا۔ شیخ نے نعرہ مارا اور زمین پر گرپڑے افسوس کا مقام یہ ہے کہ ان حملہ آوروں میں مولانا جلال الدین رومی کا ایک نا خلف بیٹا علاؤالدین محمد بھی تھا مولانا نے باہر نکل کر دیکھا تو لاش کی بجائے خون کے چند قطرے فرشِ زمین پر نظر آئے لاش کا پتہ نہ چلا کہ کہاں چلی گئی قاتلانِ شیخ کی موت بڑی عبرتناک ہوئی اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو تھوڑے ہی وقت میں درناک بیماریوں میں مبتلا کرکے مارا مولانا کا بیٹا علاؤالدین بھی جذام کی بیماری میں تڑپ تڑپ کر مرا مولانا اس کے جنازے میں شریک نہیں ہوئے تھے۔
بعض تذکرہ نگاروں نے لکھا ہے کہ حضرت شیخ تبریزی مولانا کے بیٹے بہاؤالدین کے مزار کے پہلو میں دفن ہیں بعض کہتے ہیں کہ ان نا مرادوں نے آپ کی لاش کو ایک کنویں میں پھینک دیا تھا حضرت مولانا کے دوسرے بیٹے سلطان ولد نے خواب میں دیکھا آپ نے اسے اطلاع دی کہ میں فلاں کنویں میں ہوں آپ کے عقیدت مند کنویں پر پہنچے آپ کو نکالا اور حضرت مولانا رومی کے مدرسہ کے احاطے میں مدرسہ کے بانی امیر بدرالدین کے مزار کے پہلو میں دفن کردیا۔ سالِ وفات ۶۴۵ھ ہے۔[۱]
[۱۔حضرت مولانا جامی نے آپ کے متعلق ایک بڑا لطیف واقعہ نقل کیا ہے کہ شیخ شمس الدین ۶۴۲ھ دوران سفر قونیہ پہنچے تو خانہ شکر ریزاں میں قیام کیا۔ ایک دن مولانا رومی اپنے تلامذہ کے ساتھ مدرسہ سے باہر نکلے تو آپ سے ملاقات ہوگئی حضرت شیخ نے مولانا کو گھوڑے کی لگام کر
اسم گرامی محمد بن ملک داد ہے۔ شیخ سلر باف تبریزی قدس سرہ سے بیعت تھے۔ بعض تذکرہ نگار آپ کو کمال خخبدی یار کن دین سبحانی قدس سرہما کا مرید قرار دیتے ہیں صاحب نفحات الانس لکھتے ہیں آپ نے ان تین بزرگوں کی صحبت سے استفادہ کیا تھا۔
آپ ولی مادر زار تھے آپ فرمایا کرتے تھے کہ چودہ سال کی عمر میں اپنے مکتب میں عشق محمدی میں یوں محویت اختیار کرتا تھا کہ چالیس روز و شب لگاتار کھائے پئے بغیر رہتا لوگ مجھے کھانے کا کہتے تو میں سر یا ہاتھ سے ارشارے سے معذرت کردیا کرتا تھا۔ حضرت مولانا جلال الدین رومی صاحب مثنوی معنوی آپ کے عقیدت مندوں میں سے تھے آپ سے ایک عرصہ تک فیض صحبت پایا اپنے اشعار میں حضرت شمس الدین تبریزی کی تعریف کہی بلکہ اپنے اشعار اور دیوان (دیوان شمس تبریز) آپ کے نام سے منسوب کردیا دونوں بزرگ بسا اوقات خلوت میں رہا کرتے ایک بار تین ماہ تک ایک ہی مکان میں خلوت گزین ہوئے اور (صدِم وصال) بلا کھائے پئے رہے اس دوران کسی کی جرأت نہ تھی کہ ان دونوں بزرگوں کی خلوت میں مخّل ہو۔
خلوت سے باہر نکلے تو حضرت شمس تبریزی نے مولانا جلال الدین رومی کو حکم دیا مجھے ایک خوبصورت عورت مہیا کی جائے آپ اٹھے اور اپنی بیوی شیخ کے حوالے کی آپ نے فرمایا مولانا یہ تو میری بہن ہے تم نے یہ کیا کیا؟ اچھا اب ایسا کرو کوئی خوبصورت سا لڑکا لاؤ حضرت مولانا اٹھے اپنے بیٹے سلطان ولد جو ابھی خوش شکل نو خیز نوجوان تھے کو لے آئے حضرت نے دیکھ کر فرمایا مولانا تم نے پھر یہ کیا کیا یہ تو میرا فرزند ہے اب تھوڑی سی شراب لے آؤ میں اسی پر اکتفا کرلوں گا۔ مولانا رومی اٹھے یہودیوں کے محلے پہنچے کسی یہودی سے شراب لی اور صراحی سر پر اٹھائے آپہنچے حضرت شمس تبریزی نے دیکھ کر فرمایا زمین پر پھینک دو میں تو تمہاری قوت برداشت اور ذوق اتباع کو آزما رہا تھا۔ اب تمہارے مشرب کو وسعت کا امتحان ہوگیا ہے میں سرمست بادۂ حق ہوں مجھے عورت اُمرو یا شراب سے کوئی سروکار نہیں۔
ابتدائی دَور میں آپ قونیہ پہنچے پھرتے پھراتے مولانا روم کے درس میں جا پہنچے مولانا جلال الدین اس وقت حوض کے کنارے اپنے شاگردوں کو پڑھا رہے تھے چند کتابیں پاس رکھیں ہوئی تھیں آپ نے پوچھا مولانا یہ کیسی کتابیں ہیں آپ نے فرمایا یہ قیل و قال کی تحریریں ہیں شیخ شمس الدین نے کتابیں اٹھائیں حوض میں پھینک دیں۔ مولانا جلال الدین اپنی علمی کتابوں کا یہ حال دیکھ کر بے پناہ پریشان ہوئے فرمانے لگے آپ نے یہ کیا کردیا۔ ان میں بعض کتابیں میرے والد بزرگوار کے نوادر تھے جو کہیں سے نہیں ملتے شیخ نے مولانا کو انتہائی مضطرب دیکھا تو پانی میں ہاتھ ڈال کر کتابیں نکال دیں وہ صیح و سالم تھیں مولانا نے پوچھا کہ یہ کیسے ہوا آپ نے فرمایا یہ حال ہے صاحب قال کو اس کی کیا خبر کہتے ہیں اس واقعہ نے مولانا جلال الدین رومی کی دنیا بدل دی اور ہر وقت حضرت شمس تبریزی کی صحبت میں رہنے لگے۔
آپ کی وفات کا واقعہ تذکرہ نگاروں نے بڑا دردناک لکھا ہے ایک رات مولانا جلال الدین رومی اور حضرت شمس تبریز ایک خلوت کدہ میں بیٹھے تھے ایک شخص باہر سے آیا اور حضرت شیخ تبریزی کو باہر بلایا حضرت اٹھے اور حضرت مولانا روم کو خدا حافظ کہتے ہوئے بتایا کہ مجھے قتل کرنے کے لیے بلایا جا رہا ہے مولوی رومی نے کہا اَلا لَہٗ الَخلقَ والامَر تَبارکَ اللہ رَبَ اللِعَالمین حضرت شیخ شمس تبریزی باہر آئے تو سات آدمی کمین گاہ میں چھپے بیٹھے تھے انہوں نے اچانک چھریوں سے حملہ کردیا۔ شیخ نے نعرہ مارا اور زمین پر گرپڑے افسوس کا مقام یہ ہے کہ ان حملہ آوروں میں مولانا جلال الدین رومی کا ایک نا خلف بیٹا علاؤالدین محمد بھی تھا مولانا نے باہر نکل کر دیکھا تو لاش کی بجائے خون کے چند قطرے فرشِ زمین پر نظر آئے لاش کا پتہ نہ چلا کہ کہاں چلی گئی قاتلانِ شیخ کی موت بڑی عبرتناک ہوئی اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو تھوڑے ہی وقت میں درناک بیماریوں میں مبتلا کرکے مارا مولانا کا بیٹا علاؤالدین بھی جذام کی بیماری میں تڑپ تڑپ کر مرا مولانا اس کے جنازے میں شریک نہیں ہوئے تھے۔
بعض تذکرہ نگاروں نے لکھا ہے کہ حضرت شیخ تبریزی مولانا کے بیٹے بہاؤالدین کے مزار کے پہلو میں دفن ہیں بعض کہتے ہیں کہ ان نا مرادوں نے آپ کی لاش کو ایک کنویں میں پھینک دیا تھا حضرت مولانا کے دوسرے بیٹے سلطان ولد نے خواب میں دیکھا آپ نے اسے اطلاع دی کہ میں فلاں کنویں میں ہوں آپ کے عقیدت مند کنویں پر پہنچے آپ کو نکالا اور حضرت مولانا رومی کے مدرسہ کے احاطے میں مدرسہ کے بانی امیر بدرالدین کے مزار کے پہلو میں دفن کردیا۔ سالِ وفات ۶۴۵ھ ہے۔[۱]
[۱۔حضرت مولانا جامی نے آپ کے متعلق ایک بڑا لطیف واقعہ نقل کیا ہے کہ شیخ شمس الدین ۶۴۲ھ دوران سفر قونیہ پہنچے تو خانہ شکر ریزاں میں قیام کیا۔ ایک دن مولانا رومی اپنے تلامذہ کے ساتھ مدرسہ سے باہر نکلے تو آپ سے ملاقات ہوگئی حضرت شیخ نے مولانا کو گھوڑے کی لگام کر
❤1
روک لیا اور پوچھا مولانا بایزید بسطامی کا رتبہ بلند تھا یا جناب رسول مقبولﷺ کا۔ رومی فرماتے ہیں کہ میں اس سوال کی ہیبت سے کانپ اٹھا مجھے محسوس ہوا کہ ساتوں آسمان مجھ پر آپڑے ہیں میرے تن بدن میں آگ سی محسوس ہونے لگی اور جذبات کا دھواں آسمان تک پہنچا میں نے اپنے آپ کو سنبھالا اور کہا حضور سرور عالیاں میں بایزید کو آپ کے مقام سے کیا موازنہ شمس تبریزی کہنے لگے پھر یہ کیا بات ہے کہ حضور تو فرمائیں کہ ما عَرفَناَ حَق مَعرفَتِکَ (ہم نے تجھے اس طرح نہیں پہنچا جس طرح حق ہے) دوسری طرف حضرت بایزید دعوی کرتے ہیں۔ سُبْحانی ما اعظم شانی وانا سلطان السلاطین‘‘ (میں پاک ہوں میری شان بہت بڑی ہے۔ میں ہی سلطان السلاطین ہوں) حضرت مولانا نے فرمایا۔ بایزید شربت معرفت کا ایک کائسہ طلب اتنا ہی تھا۔ وہ ایک گھونٹ پی کر سیر ہوگئے اور مطمئن ہوگئے ان کے خلوت کدہ کو روشن دان کی روشنی نے درخشاں کردیا تھا مگر حضور سرور کائناتﷺ ایک بحر بے کراں کے سامنے اپنی تشنگی سے طلب حق کے سلسلہ کو وسیع سے وسیع تر رکھتے تھے آپ کا سینہ مبارک اَلم نَشرحَ لَکَ صَدرکَ وَالاضِ واسعَۃٌ (کیا ہم نے آپ کا سینہ نہیں کھولا اور اللہ کی زمین وسیع ہے) یہ سنتے ہی شیخ شمس تبریزی نے نعرہ مارا بے ہوش ہوکر زمین پر گرپڑے شاگردوں کی امداد سے آپ کو مدرسہ لے جایا گیا۔ ان کے سر کو اپنے زانو پر لیے تسلی دیتے رہے ہوش آیا تو تین ماہ تک دونوں خلوت گزین رہے اور صومِ وصال میں رہے کسی کو خلوت کہ ؟؟؟ میں مخل ہونے کی جرأت نہ تھی۔ (ماخوذ ازنفحات الانس جامی)]
جناب شیخ شمس الدین تبریز
بخواں سلطان شمس الدین وصالش
۶۴۵ھ
کہ روشن بود انہ نور تجلیٰ
رقم کن نیر شمس الدین معلیٰ
۶۴۵ھ
نوٹ: یاد رہے کہ ملتان (پاکستان) میں جس بزرگ شمس الدّین تبریزی کی قبر ہے وہ شمس الدین سبزواری تھے ان کا شمس تبریزی سے کوئی تعلق نہیں ہے شمس سبزواری سادات موسوی میں سے تھے ان کی اولاد نے شیعہ مذہب اختیار کرلیا ہے یہی لوگ لاہور میں آکر بسے تو اپنے آپ کو شمس سبزواری کی نسبت سے شمسی کہلانے لگے۔[۱]
[۱۔ملتانی شمس تبریز سبزواری اسماعیل فرقہ کے داعی بن کر برصغیر میں آئے ان کے ہمراہ دو شخص تھے ایک کا نام پیر صدرالدین اور دوسرے کا نام پیر امام الدین تھا۔ صدرالدین نے سندھ بمبیٔ میں دعوت اسلام شروع کی اور امام الدین گجرات و کاٹھیا وار کے علاقوں میں کام کرتے رہے شمس الدین تبریز پنجاب میں ملتان آئے اور اپنا مشن جاری کیا اسماعیل نکتہ نظر کی اشاعت کرنے لگے امام الدین نے اوّل اوّل بحیثیت اسماعیل داعی کے کام کیا مگر چند روز کے بعد خود مختار ہوکر اپنا علیٰحدہ طریقہ امام شاہی جاری کردیا۔ امام شاہی طریقہ کے اصول بھی قریب قریب اسماعیلی تھے لیکن اپنے تین نائب امام اور مظہر ذات مولیٰ علی بیان کرتے تھے امام الدین کا مزار پیرانہ میں ہے جو احمد آباد گجرات کے قریب ہے ایک قصبہ ہے۔ آج ہندوستان اور پاکستان کے بعض حصوں میں کم از کم بیس لاکھ آدمی ہوں گے جو مومن اور گیتی کے لقب سے یاد کیے جاتے ہیں وہ اپنے عقائد ظاہر نہیں کرتے ان امام شاہیوں کا نظام اتنا پوشیدہ اور پراسرار ہے کہ بعض ہندو گھرانوں میں بھی امام شاہی عقائد کے لوگ موجود ہیں۔ پیرانہ میں خانقاہیں ہیں اور امام شاہیوں کے امراء کی قبریں جن پر ہندو مہنت بیٹھے ہوئے ہیں یہ ہندومہنت ظاہری طور پر ہندوانہ لباس میں ہیں مگر باطنی طور پر امام شاہی ہیں اس مہنت کے سینکڑوں داعی ہندوانہ لباس میں اپنے مشن کو پھیلانے اور جماعت سے عشر اور نذر نیاز وصول کرنے کے لیے دورے کرتے ہیں مہنت پیر امام الدین کی موجودہ اولاد میں کچھ حصہ تقسیم کرتے ہیں باقی خانقاہ کے اخراجات پر صرف کرتے ہیں۔ اس خانقاہ میں جنیؤ کی قبر ہے۔ ہند و امام شاہی اپنا جنحواس قبر کو چڑھا کر مسلمان ہوجاتے ہیں اور پھر مومن کہلاتے ہیں۔
شمس الدین تبریزی سبزواری نے ملتان کے اردگرد کے علاقوں کے کہاروں اور سناروں میں اپنا طریقہ رائج کیا۔ اور لوگوں کو ہند و شمسی کا لقب دیا۔ ان دنوں شمسی ہند و بھی آغا خاں اسمعٰیلی کے معتقد ہیں اور اب ان کی نذر و نیاز کا رُخ سر آغا خان کی اولاد کی طرف گیا ہے۔ ان کی تعداد تیس لاکھ کے قریب ہے۔
شمس سبزواری نے اپنے عقائد و نظریات کو کن کن طریقوں سے رائج کیا۔ اس کی تفصیل کے لیے ایک مستقل کتاب کی ضرورت ہے عوام میں ان کے متعلق بڑی عجیب و غریب حکامات اور کرامات مشہور ہیں۔یہاں یہ بتانا مقصود ہے کہ حضرت مولانا شمس الدین تبریزی جو مولانا روم کے پیرومرشد تھے ان کا شمس الدین ملتانی سے کوئی تعلق نہیں اور یہ ملتان میں سینکڑوں سال بعد میں آئے (ماخوذ مقدمہ مثنوی مولوی رومی جلد اول مترجم قاضی سجاد حسین صاحب دہلوی مطبوعہ حامد اینڈ کمپنی لاہور)]
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shamsuddin-muhammad-bin-ali-tabrizi
جناب شیخ شمس الدین تبریز
بخواں سلطان شمس الدین وصالش
۶۴۵ھ
کہ روشن بود انہ نور تجلیٰ
رقم کن نیر شمس الدین معلیٰ
۶۴۵ھ
نوٹ: یاد رہے کہ ملتان (پاکستان) میں جس بزرگ شمس الدّین تبریزی کی قبر ہے وہ شمس الدین سبزواری تھے ان کا شمس تبریزی سے کوئی تعلق نہیں ہے شمس سبزواری سادات موسوی میں سے تھے ان کی اولاد نے شیعہ مذہب اختیار کرلیا ہے یہی لوگ لاہور میں آکر بسے تو اپنے آپ کو شمس سبزواری کی نسبت سے شمسی کہلانے لگے۔[۱]
[۱۔ملتانی شمس تبریز سبزواری اسماعیل فرقہ کے داعی بن کر برصغیر میں آئے ان کے ہمراہ دو شخص تھے ایک کا نام پیر صدرالدین اور دوسرے کا نام پیر امام الدین تھا۔ صدرالدین نے سندھ بمبیٔ میں دعوت اسلام شروع کی اور امام الدین گجرات و کاٹھیا وار کے علاقوں میں کام کرتے رہے شمس الدین تبریز پنجاب میں ملتان آئے اور اپنا مشن جاری کیا اسماعیل نکتہ نظر کی اشاعت کرنے لگے امام الدین نے اوّل اوّل بحیثیت اسماعیل داعی کے کام کیا مگر چند روز کے بعد خود مختار ہوکر اپنا علیٰحدہ طریقہ امام شاہی جاری کردیا۔ امام شاہی طریقہ کے اصول بھی قریب قریب اسماعیلی تھے لیکن اپنے تین نائب امام اور مظہر ذات مولیٰ علی بیان کرتے تھے امام الدین کا مزار پیرانہ میں ہے جو احمد آباد گجرات کے قریب ہے ایک قصبہ ہے۔ آج ہندوستان اور پاکستان کے بعض حصوں میں کم از کم بیس لاکھ آدمی ہوں گے جو مومن اور گیتی کے لقب سے یاد کیے جاتے ہیں وہ اپنے عقائد ظاہر نہیں کرتے ان امام شاہیوں کا نظام اتنا پوشیدہ اور پراسرار ہے کہ بعض ہندو گھرانوں میں بھی امام شاہی عقائد کے لوگ موجود ہیں۔ پیرانہ میں خانقاہیں ہیں اور امام شاہیوں کے امراء کی قبریں جن پر ہندو مہنت بیٹھے ہوئے ہیں یہ ہندومہنت ظاہری طور پر ہندوانہ لباس میں ہیں مگر باطنی طور پر امام شاہی ہیں اس مہنت کے سینکڑوں داعی ہندوانہ لباس میں اپنے مشن کو پھیلانے اور جماعت سے عشر اور نذر نیاز وصول کرنے کے لیے دورے کرتے ہیں مہنت پیر امام الدین کی موجودہ اولاد میں کچھ حصہ تقسیم کرتے ہیں باقی خانقاہ کے اخراجات پر صرف کرتے ہیں۔ اس خانقاہ میں جنیؤ کی قبر ہے۔ ہند و امام شاہی اپنا جنحواس قبر کو چڑھا کر مسلمان ہوجاتے ہیں اور پھر مومن کہلاتے ہیں۔
شمس الدین تبریزی سبزواری نے ملتان کے اردگرد کے علاقوں کے کہاروں اور سناروں میں اپنا طریقہ رائج کیا۔ اور لوگوں کو ہند و شمسی کا لقب دیا۔ ان دنوں شمسی ہند و بھی آغا خاں اسمعٰیلی کے معتقد ہیں اور اب ان کی نذر و نیاز کا رُخ سر آغا خان کی اولاد کی طرف گیا ہے۔ ان کی تعداد تیس لاکھ کے قریب ہے۔
شمس سبزواری نے اپنے عقائد و نظریات کو کن کن طریقوں سے رائج کیا۔ اس کی تفصیل کے لیے ایک مستقل کتاب کی ضرورت ہے عوام میں ان کے متعلق بڑی عجیب و غریب حکامات اور کرامات مشہور ہیں۔یہاں یہ بتانا مقصود ہے کہ حضرت مولانا شمس الدین تبریزی جو مولانا روم کے پیرومرشد تھے ان کا شمس الدین ملتانی سے کوئی تعلق نہیں اور یہ ملتان میں سینکڑوں سال بعد میں آئے (ماخوذ مقدمہ مثنوی مولوی رومی جلد اول مترجم قاضی سجاد حسین صاحب دہلوی مطبوعہ حامد اینڈ کمپنی لاہور)]
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shamsuddin-muhammad-bin-ali-tabrizi
scholars.pk
Hazrat Shamsuddin Muhammad Bin Ali Tabrizi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت خواجہ پیر محمد اعظم شاہ جمالی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
انجمن ضیائے طیبہ کے دفتر آمد:
خانقاہِ سندیلہ شریف (ڈیرہ غازی خاں، پاکستان) کی عظیم روحانی شخصیت حضرت خواجہ فیض محمد شاہ جمالی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے شہزادے اورحضرت خواجہ غلام یاسین شاہ جمالی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے برادرِ اصغر حضرت خواجہ پیر محمد اعظم شاہ جمالی دَامَتْ بَرَکَاتُھُمُ الْعَالِیَۃ پیر کے دن، 11؍ ذُو القعدہ 1437ھ مطابق 15؍ اگست 2016ء کو دوپہر کے وقت، انجمن ضیائے طیبہ کے دفتر تشریف لائے، جہاں ضیائے طیبہ کے سرپرست مفتی محمد اکرام المحسن فیضی صاحب اور نگرانِ اعلیٰ سیّد محمد مبشر قادری صاحب سمیت دیگر حضرات نے اُن کا پُر تپاک استقبال کیا۔
وصال پر ملال:
جگر گوشۂ شاہجمالی کریم پیرِ طریقت رہبر ِشریعت قدوة السالكين زبدة العارفين استاذالعلماء سیدی وسندی حضرت علامہ خواجہ پیر محمد اعظم شاہجمالی رَحْمَةُ اللهِ تَعَالیٰ عَلَيْه بروز منگل 27 دسمبر 2016 بمطابق 27 ربیع الاول 1438 ہجری رضائے الہی سے وصال فرما گئے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khwaja-peer-muhammad-azam-shah-jamali
انجمن ضیائے طیبہ کے دفتر آمد:
خانقاہِ سندیلہ شریف (ڈیرہ غازی خاں، پاکستان) کی عظیم روحانی شخصیت حضرت خواجہ فیض محمد شاہ جمالی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے شہزادے اورحضرت خواجہ غلام یاسین شاہ جمالی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے برادرِ اصغر حضرت خواجہ پیر محمد اعظم شاہ جمالی دَامَتْ بَرَکَاتُھُمُ الْعَالِیَۃ پیر کے دن، 11؍ ذُو القعدہ 1437ھ مطابق 15؍ اگست 2016ء کو دوپہر کے وقت، انجمن ضیائے طیبہ کے دفتر تشریف لائے، جہاں ضیائے طیبہ کے سرپرست مفتی محمد اکرام المحسن فیضی صاحب اور نگرانِ اعلیٰ سیّد محمد مبشر قادری صاحب سمیت دیگر حضرات نے اُن کا پُر تپاک استقبال کیا۔
وصال پر ملال:
جگر گوشۂ شاہجمالی کریم پیرِ طریقت رہبر ِشریعت قدوة السالكين زبدة العارفين استاذالعلماء سیدی وسندی حضرت علامہ خواجہ پیر محمد اعظم شاہجمالی رَحْمَةُ اللهِ تَعَالیٰ عَلَيْه بروز منگل 27 دسمبر 2016 بمطابق 27 ربیع الاول 1438 ہجری رضائے الہی سے وصال فرما گئے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khwaja-peer-muhammad-azam-shah-jamali
scholars.pk
Hazrat Khwaja Peer Muhammad Azam Shah Jamali
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
محمد ابراہیم خوشتر صدیقی
ولادت: 6 شوال 1348ھ
وصال: 27 ربیع الاول 1423ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-muhammad-ibrahim-khushtar-siddiqui-rizvi
ولادت: 6 شوال 1348ھ
وصال: 27 ربیع الاول 1423ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-muhammad-ibrahim-khushtar-siddiqui-rizvi
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
26-03-1445 ᴴ | 12-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ باریک کپڑا پہن کر نماز پڑھنا
27-03-1445 ᴴ | 13-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اذان خطبہ مسجد کے اندر
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اذان خطبہ مسجد کے اندر
❤1