🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت شاہ عبد اللہ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
شاہ عبد اللہ ابو الخیر ۔ لقب: نقشبندی مجددی، دہلوی ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت شاہ عبد اللہ دہلوی بن شاہ عمر بن شاہ احمد سعید حنفی نقشبندی ۔ سلسلۂ نسب حضرت مجدد الفِ ثانی تک منتہی ہوتا ہے ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 27 ربیع الاول 1272ھ، مطابق ماہِ دسمبر 1855ء کو دہلی میں پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
چار سال کی عمر میں والد اور دادا کے ہمراہ حرمین شریفین کا سفر کیا ۔ طویل عرصے تک وہیں قیام رہا ۔ اپنے والد گرامی اور دادا محترم سے ابتدائی تعلیم حاصل کی ۔ ان کے علاوہ شیخ الدلائل شیخ عبد الحق مہاجر مکی، شیخ رحمت اللہ کیرانوی، شیخ حبیب الرحمن ردولوی، شیخ الاسلام سید احمد دحلان مکی اور دیگر علماء کرام سے درسیات مکمل فرمائی ۔ بالخصوص شیخ دحلان مکی سے اجازتِ حدیث حاصل فرمائی ۔ علیہم الرحمہ ـ

بیعت و خلافت:
آپ کے والدِ گرامی نے حرم نبوی میں آپ کو اپنے والدِ ماجد حضرت شاہ احمد سعید دہلوی علیہ الرحمہ سے بیعت سے مرید کرا دیا تھا ۔ خلافت اپنے والد گرامی سے حاصل ہوئی ۔

سیرت و خصائص:
امام العلماء، سند الاتقیاء، شیخِ کامل، ولی ابن ولی، خاندانِ مجدد کے رجل رشید، حضرت شاہ ابو الخیر عبد اللہ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ ۔ آپ حضرت شیخ مجدد کی اولاد میں سے تھے ۔ آپ کے دادا نے آپ کا نام محی الدین رکھا، آپ کے والدِ گرامی نے عبد اللہ ابو الخیر تجویز کیا ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کا بچپن مسجد، مدرسہ، اور خانقاہی ماحول میں گزرا ۔ جہاں طرف نورانی و روحانی فضاء تھی، اور اس کے ساتھ مجدد وقت حضرت شاہ غلام علی نقشبندی مجددی علیہ الرحمہ کا قرب بھی حاصل تھا ۔ اس پر نور فضاء ماحول میں پروان چڑھے، اسی کا اثر تھا کہ پھر ساری زندگی لوگوں کواسی طرف بلاتے رہے، اور ان کے قلوب کو نور و اتقان کی دولت سے مالا مال کرتے رہے ۔

1297ھ، کو مکۃ المکرمہ سے ریاست رامپور آئے اور یہاں خاندان میں شادی ہوئی ۔ یہاں سے دہلی تشریف لے گئے، اور پھر وہاں مدینۃ المنورہ کا سفر شروع کیا ۔ وہاں کچھ عرصہ رہنے کے بعد دہلی لوٹ آئے، اور یہاں سلسلۂ رشد و ہدایت شروع کیا ۔ ہر سال 12 ربیع الاول کی شب کو گیارہ بارہ بجے کے درمیان محفل میلاد شریف منعقد کرتے اور خود وعظ کہتے،نہایت پر اثر وعظ ہوتا تھا،حاضرین کی آہ وبکا کی آواز سے مجلس نمونۂ حشر معلوم ہوتی تھی۔اس مجلس میں دور دور سے لوگ آپ کا وعظ سننے کے لیے آتے تھے۔ آپ نہایت عابد وزاہد تھے،نمازیں بہت خشوع وخضوع کے ساتھ پڑھتے تھے،جب کسی آیت کے فہم معنیٰ سے مکیف ہوتے تو رقت طاری ہوجاتی اور بے قرار ہوجاتے،مقتدیوں پر بھی اس کا اثر ہوتا اور سب زار وقطار رونے لگتے۔ مطالعہ کتب کا بھی غایت درجہ شوق تھا، ہزار ہانا یاب اور قلمی کتابیں آپ کے کتب خانہ میں تھیں ۔

ہندوستان (پاک و ہند) کے علاوہ افغانستان، شام، سرحد و بلوچستان وغیرہ میں آپ کا حلقۂ ارادت وسیع تھا ۔ ان علاقوں میں سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ کی خوب ترویج ہوئی ۔ مفتیِ اعظم حضرت مولانا شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ آپ کے خلیفہ تھے ۔

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 69 سال کی عمرمیں شبِ جمعہ 29 جمادی الاخری 1341ھ، مطابق 16 فروری 1923ء کو ہوا ۔ دہلی میں مدفون ہوئے ۔

ماخذ و مراجع: نزہۃ الخواطر ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-abdullah-abul-khair-dehlvi
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت ابو اسحاق خواص رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ کی کنیت ابواسحاق تھی۔ بغداد کے رہنے والے تھے ہمیشہ جذب و صحو اور سکر کی کیفیت میں رہتے تھے، خاصان درگاہ الٰہی میں بلند مقام پر تھے۔ سیّد جنید بغدادی اور حضرت ابوالحسن نوری کے معاصرین اور احباب میں سے تھے۔ حضرت خضر سے بھی زیارت اور صحبت کا شرف حاصل تھا۔

شیخ ممشاد دینوری﷫ فرماتے ہیں، ایک بار میں مسجد میں نیم خوابی کی حالت میں تھا، مجھے آواز آئی، اگر میرے دوستوں میں سے ایک دوست کی زیارت کرنا چاہتے ہو تو ابھی اٹھو اور تل توبہ پر جاؤ، میں اٹھا راستے میں برف باری اور طوفان تھا، میں وہاں پہنچا تو ابراہیم خواص﷫ کو دیکھا، آپ برف میں چار زانو بیٹھے ہوئے ہیں، اس برفانی فضا اور ٹھنڈک کے باوجود پسینے سے شرابور ہیں، برف آپ کے سر پر پڑتی فوراً پگل کر زمین پر بہہ جاتی تھی، میں آپ کو دیکھ کر بڑا دل خوش ہوا، میں نے پوچھا، آپ کو یہ رتبہ کیسے ملا، فرمایا: فقراء کی خدمت سے۔

آپ بے پناہ متوکل اور قناعت کے مالک تھے، لوگ آپ کو رئیس المتوکلین کہا کرتے تھے، آپ کو خواص اس لیے کہا جاتا تھ، کہ آپ زنبیل سیا کرتے، اور سوئی دھاکہ اور قینچی کے علاوہ کوئی سامان پاس نہ رکھتے، فرمایا کرتے اس قدر اسباب توکل میں ہائل نہیں ہوتے، ایک دفعہ فرمایا حضرت خضر میری مجلس میں کچھ وقت گزارنا چاہتے تھے میں نے پسند نہ کیا مجھے ڈر تھا کہ اللہ کے ساتھ جو راہ و رسم ہے اس میں خلل واقعہ نہ ہوجائے۔

حضرت خواص فرماتے ہیں ایک وادی میں دہشت ناک شیر کا سامانا ہوا، اس نے بھی مجھے دیکھ لیا، میری طرف بڑھا میں اور آگے بڑھا مجھے محسوس ہوا کہ وہ لنگڑا کر چل رہا ہے اس کی آنکھوں سے پانی بہہ رہا ہے، اس نے اپنا زخمی پاؤں میرے آگے رکھ دیا، میں نے غور سے دیکھا تو وہ سوجا ہوا تھا اور اس میں پیپ پڑی ہوئی ہے، میں نے سوئی لی اس کا پاؤں کھول دیا، قینچی سے اس کا پاؤں اتنا کھول دیا، حتی کہ ساری پیپ بہہ نکلی اس کا پاؤں خالی ہوگیا، گودڑی کا ایک ٹکڑا لے کر میں نے اس کے پاؤں کو باندھ دیا، اسے سکوں آگیا، اٹھا اور اپنی وادی میں چلا گیا کچھ وقت گزارا میں نے دیکھا کہ اپنے دو بچوں کو اپنے ساتھ لایا ہے، اور میرے پا سبٹھا دیے اور یہ بچے دم ہلانے لگے، تھوڑا سا گوشت لاکر میرے سامنے رکھ دیا۔

آپ نے ایک اور واقعہ بیان کیا کہ ایک دن میں ایک وادی میں توکلاً علی اللہ سفر کر رہا تھا ایک شخص میرے پاس آیا مجھے سلام کیا اور ساتھ رہنے کی اجازت مانگی، میں نے محسوس کیا کہ وہ مسلمان نہیں ہے، میں نے اسے کہا جہاں میں جا رہا ہوں وہاں تم نہیں جاسکتے، اس نے گزارش کی تاہم آپ کے ساتھ جانے سے فائدہ سے خالی نہ ہوگا اور ساتھ ہولیا، سفر میں پانچ دن رات کچھ کھائے پیے بغیر گزر گئے تو وہ مجھے کہنے لگا، اے توکل پر چلنے والے، اب تو گستاخی کرکے اللہ سے کچھ کھانے کے لیے مانگ لو، میں نے اللہ سے دعا مانگی اور کہا اے اللہ مجھے اس بیگانہ دین سے شرمسار نہ کرنا کچھ کھانے کا بندوبست کردے، میں نے دیکھا ایک طبق اترا اس میں کھانے کا سامان بھرا پڑا ہے، ہم دونوں بیٹھ گئے اور پیٹ بھر کر کھانا کھایا اور اللہ کا شکر ادا کیا اب سات دن مزید سفر کرتے رہے اور کچھ نہ کھایا پیا، میں نے کہا اب تم اپنے خدا سے کچھ کھانے کو مانگو، اس نے بھی میری طرح آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے اور کھانا طلب کیا، میں نے دیکھا کہ دو طبق آسمان سے اترے جن میں کئی قسم کے کھانے چکے ہوئے تھے، میں حیران رہ گیا، وہ میری حیران کو تاڑ گیا، کہنے لگا حضرت حیران نہ ہوں مجھے بھی مسلمان کیجیے، یہ سب کچھ آپ کی صحبت کا فیض ہے یہ دونوں طبق آپ کی کرامت ہیں میں نے اللہ سے دعا کی تھی اللہ اپنے اس بندے کی طفیل آج کھانا بھیج، اس دن سے وہ شخص مسلمان ہوگیا اور تربیت حاصل کرکے کامل انسان بن گیا۔

حضرت شیخ ابراہیم ۲۹۱ھ میں فوت ہوئے یوسف بن حسین﷫ نے آپ کو غسل دیا، آپ کا مزار مبارک طرک اصفہان کے قلعہ کے زیر سایہ ہے۔ حضرت جامی نے اپنی کتاب نفحات الانس میں شیخ عبداللہ انصاری﷫ کی روایت بیان کی ہے کہ حضرت شیخ ابراہیم جیسا پر ہیبت ولی اللہ دیکھنے میں نہیں آیا۔

حضرت عبداللہ انصاری فرماتے ہیں کہ میں نے آج تک کسی ولی اللہ کی قبر سے اتنی ہیبت نہیں پائی جتنی حضرت ابراہیم خواص کی قبر سے آتی تھی یوں معلوم ہوتا تھا کہ ایک شیر ہے جو سویا ہوا ہے اور ابھی اٹھ بیٹھے گا۔

چو رحلت کرد ابراہیم ثانی
عیاں شد سال وصلش قطب مسعود
۲۹۱ھ

بقرب ایزدی ازوار دنیا
وگر ہم سالک مسکین بفرما
۲۹۱ھ

قطب معلّی ۲۹۱ھ ابراہیم ہادی ۲۹۱ھ زبدۂ آفاق کامل ۲۹۱ھ

( خزینۃ الاصفیاء )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-ishaq-khawas
1