حضرت شاہ صاحب عالم مارہروی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
سید شاہ صاحب عالم بن شاہ مخدوم عالم بن شاہ مقبول عالم ابن شاہ نجات اللہ بن شاہ برکت اللہ مارہروی (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ علیہ الرحمہ کی ولادت 26 ربیع الاول 1211ھ / بمطابق ستمبر 1796ء میں ہوئی ۔
سیرت و خصائص:
آپ علیہ الرحمہ جلیل القدر عالم اور ایک بلند پایہ شیخِ کامل تھے ۔ آپ " خاندانِ مارہرہ مطہرہ " کے چشم و چراغ تھے ۔ آپ اپنے خاندان کے علمی و روحانی وارث تھے ۔ آپ اپنے سلسلہ کی ترویج و ترقی کے لئے بہت کوشاں رہے ۔ تمام علومِ متداولہ پر کامل مہارت رکھتے تھے ۔
عربی، فارسی ، اردو، ہندی کے زبردست شاعر و ادیب تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ مرزا غالب کے بہت سے خطوط آپ کے نام ملتے ہیں ۔ ایک مقام پر مرزا غالب نے " بطورِ مزاح " آپ کو لکھا: " پیر و مرشد کے سنِ ولادت کا مادہ " تاریخ " ہے اور غلام کا " تاریخا " ۔ آپ مخلوق کی ذہنی و اخلاقی تربیت فرماتے تھے ۔ خلافِ شریعت کاموں کو ناپسند کرتے تھے، اور خلافِ شرع کام کرنے پر ایسی زجرو توبیخ کرتے کہ وہ شخص فوراً آپ کے ہاتھ پر توبہ کر لیتا ۔
وصال:
آپ کا وصال 2 محرم 1288ھ / بمطابق مارچ 1871ء میں ہوا ۔ درگاہ معلیٰ مارہرہ میں جانبِ عرب دفن ہوئے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-shah-alam-marharwi
نام و نسب:
سید شاہ صاحب عالم بن شاہ مخدوم عالم بن شاہ مقبول عالم ابن شاہ نجات اللہ بن شاہ برکت اللہ مارہروی (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ علیہ الرحمہ کی ولادت 26 ربیع الاول 1211ھ / بمطابق ستمبر 1796ء میں ہوئی ۔
سیرت و خصائص:
آپ علیہ الرحمہ جلیل القدر عالم اور ایک بلند پایہ شیخِ کامل تھے ۔ آپ " خاندانِ مارہرہ مطہرہ " کے چشم و چراغ تھے ۔ آپ اپنے خاندان کے علمی و روحانی وارث تھے ۔ آپ اپنے سلسلہ کی ترویج و ترقی کے لئے بہت کوشاں رہے ۔ تمام علومِ متداولہ پر کامل مہارت رکھتے تھے ۔
عربی، فارسی ، اردو، ہندی کے زبردست شاعر و ادیب تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ مرزا غالب کے بہت سے خطوط آپ کے نام ملتے ہیں ۔ ایک مقام پر مرزا غالب نے " بطورِ مزاح " آپ کو لکھا: " پیر و مرشد کے سنِ ولادت کا مادہ " تاریخ " ہے اور غلام کا " تاریخا " ۔ آپ مخلوق کی ذہنی و اخلاقی تربیت فرماتے تھے ۔ خلافِ شریعت کاموں کو ناپسند کرتے تھے، اور خلافِ شرع کام کرنے پر ایسی زجرو توبیخ کرتے کہ وہ شخص فوراً آپ کے ہاتھ پر توبہ کر لیتا ۔
وصال:
آپ کا وصال 2 محرم 1288ھ / بمطابق مارچ 1871ء میں ہوا ۔ درگاہ معلیٰ مارہرہ میں جانبِ عرب دفن ہوئے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-shah-alam-marharwi
scholars.pk
Hazrat Syed Shah Alam Marharwi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، حضرت مولانا مفتی برہان الحق جبل پوری رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: خلیفۂ اعلیٰ حضرت مولانا مفتی برہان الحق جبل پوری ـ لقب: برہانِ ملت،برہان الدین، برہان السنت، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، ممدوحِ اعلیٰ حضرت، مظہرِ شریعت ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت علامہ مولانا مفتی برہان الحق جبل پوری بن عید الاسلام حضرت علامہ مولانا شاہ عبد السلام جبل پوری بن مولانا شاہ محمد عبد الکریم قادری نقشبندی بن مولانا شاہ محمد عبد الرحمن بن مولانا شاہ محمد عبد الرحیم بن مولانا شاہ محمد عبد اللہ بن مولانا شاہ محمد فتح بن مولانا شاہ محمد ناصر بن مولانا شاہ محمد عبد الوہاب صدیقی طائفی ۔ علیہم الرحمۃ والرضوان ۔
آپ کا خاندانی تعلق حضرت سیدنا صدیق اکبر سے ہے ۔ نویں پشت میں آپ کے جد اعلیٰ حضرت شاہ عبد الوہاب صدیقی سلطنتِ آصفیہ کے دورِ حکومت میں نواب صلابت جنگ بہادر کے ساتھ طائف سے ہندوستان تشریف لائے، اور حیدر آباد دکن میں سکونت اختیار کی۔ یہاں حکومتِ آصفیہ کی جانب سے مکہ مسجد کی امامت اور محکمۂ مذہبی امور کے جلیل القدر عہدے پر مامور ہوئے ۔ آپ کے خاندان میں مسلسل پانچ پشتوں میں پانچویں آصف جاہ کے زمانے تک برابر قائم رہا ۔
مولانا برہان الحق کے جد امجد مولانا شاہ عبد الکریم (م16/رمضان المبارک 1317ھ) اپنے وقت کے جید عالم اور شیخِ طریقت تھے ۔ تمام علومِ عقلیہ ونقلیہ کے ماہر کامل اور بالخصوص فقہ اور علم طب میں یگانۂ روزگار تھے ۔ حضرت برہانِ ملت کے والد گرامی عید الاسلام حضرت شاہ عبدالسلام جبل پوری اعلیٰ حضرت کے محبوب خلیفہ تھے۔ اعلیٰ حضرت اور آپ کے شہزادگان کا اس خاندان سے جو قرب رہا وہ انہیں کا خاصہ ہے ۔ کسی دوسرے گھرانے اور خاندان کو یہ شرف حاصل نہ ہوا۔ انہیں کی محبت میں اعلیٰ حضرت بریلی سے جبل پور تشریف لےگئے اور پھر مفتیِ اعظم ہند ایک ماہ سے زائد قیام فرما کر ان کو شرف بخشا ۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت مولانا پروفیسر مسعود احمد رقم طراز ہیں ۔ ’’کہ یہ امتیاز صرف آپ کے خاندان کو حاصل ہےکہ آپ کے خاندان کے تین جلیل القدر شخصیات کو امام احمد رضا سے خلافت حاصل ہے، اور آپ کے خاندان کو یہ بھی امتیاز حاصل ہواکہ امام احمد رضا کے خاندان کے باہر پہلے خلیفہ حضرت عید الاسلام مولانا عبد السلام قادری رضوی ہوئے اور حضرت مفتی برہان الحق قادری رضوی آخری خلیفہ ہوئے، جبکہ خاندان کے اندر یہ امتیاز صرف حجت الاسلام مولانا حامد رضا خان قادری رضوی کو حاصل ہوا کہ وہ پہلے خلیفہ اور حضرت مفتی اعظم ہند مصطفیٰ رضا خاں قادری رضوی آخری خلیفہ ہوئے ‘‘ ۔ ( جذباتِ برہان ، ص:12)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز جمعرات 21 ربیع الاول 1310ھ مطابق 13 اکتوبر 1894ء کو بعد نمازِ فجر پیدا ہوئے ۔ آپ کے جد امجد مولانا شاہ محمد عبد الکریم نقشبندی نماز فجر کے بعد قرآن مجید کی تلاوت فرما رہے تھے ۔ جب برہان ملت کی دادی محترمہ نے ولادت کی خبر سنائی تو اس وقت آیت کریمہ ’’ قد جاءکم برھان من ربکم ‘‘ جاری بزبان تھی ۔ خبر سنتے ہی فرمایا کہ ’’ الحمد للہ! برھان آ گیا ‘‘ ۔ (برھانِ ملت کی حیات و خدمات ، ص: 42) ـ
تحصیلِ علم:
حضرت برہانِ ملت کی ولادت باسعادت ایک علمی و روحانی گھرانے میں ہوئی۔جہاں شب و روز قال اللہ اور قال رسول اللہ ﷺ کا درس جاری رہتا تھا۔جس گھرانے سے پورا عالم اسلام رشد و ہدایت حاصل کر رہا تھا ۔ لہذا آپ پانچ سال کی عمر کو پہنچتے ہی کافی باشعور و صاحبِ فراست ہو گئے تھے ۔ اس کم عمری ہی میں آپ اپنے تمام ہم عمر بچوں میں بالکل ممتاز و منفرد اورایک نرالی شان رکھتے تھے ۔
چونکہ آپ کی والدہ ماجدہ اپنے وقت کی ولیہ اور رابعہ بصریہ تھیں۔ سنت و شریعت کی عاملہ اور عشقِ مصطفیٰ ﷺ سے سرشار تھیں ۔ لہذا ان کی حسنِ تربیت نے علم کی محبت اور حصول ِعلم کا جذبہ آپ کے دل میں پیدا کردیا۔ پانچ برس کی عمر 21 ربیع الاول 1315ھ کو آپ کے جد امجد نے ’’بسم اللہ شریف‘‘ کی افتتاح فرمائی ۔ عربی والد ماجد سے، فارسی چچا حافظ بشیر الدین صاحب سےپڑھی۔ اسی طرح آپ نے ناظرہ سے لے کر علوم ِ عقلیہ و نقلیہ کی تکمیل اپنے آبائی مکان جبل پور میں کی۔
اعلیٰ حضرت سے شرفِ تلمذ:
حضرت برہانِ ملت فرماتے ہیں: ’’دورانِ درس، گفتگو کے درمیان اکثر و بیشتر اعلیٰ حضرت کا ذکرِ خیر ہوتا تو میرادل زیارت اور قدم بوسی کی تمنا میں بےتاب ہوجاتا‘‘۔ تکمیلِ علوم کےبعد بھی ایک خواہش باقی تھی کہ مجددِ وقت امام اہل سنت کے بحرِ بےکنار سے کچھ موتی چُنوں۔بالآخرآپ کی یہ تمنا شوال المکرم 1332ھ کے دوسرے ہفتے میں پوری ہوئی ۔ جب آپ اعلیٰ حضرت کی خدمت میں پہلی مرتبہ حاضر ہوئے،تو انہوں نے آپ کے چہرے کے خدوخال اور آثار وقرائن سے اول ملاقات میں ہی آپ کی ذہانت و فطانت اور آثارِ سعادت کو محسوس فرمالیا تھا۔اس لئے پہلی ملاقات ہی میں فرمادیا تھا: ’’اللہ تعالیٰ تمہیں برہان الحق،برہان الدین اور برہان السنت بنائے‘‘۔
نام و نسب:
اسم گرامی: خلیفۂ اعلیٰ حضرت مولانا مفتی برہان الحق جبل پوری ـ لقب: برہانِ ملت،برہان الدین، برہان السنت، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، ممدوحِ اعلیٰ حضرت، مظہرِ شریعت ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت علامہ مولانا مفتی برہان الحق جبل پوری بن عید الاسلام حضرت علامہ مولانا شاہ عبد السلام جبل پوری بن مولانا شاہ محمد عبد الکریم قادری نقشبندی بن مولانا شاہ محمد عبد الرحمن بن مولانا شاہ محمد عبد الرحیم بن مولانا شاہ محمد عبد اللہ بن مولانا شاہ محمد فتح بن مولانا شاہ محمد ناصر بن مولانا شاہ محمد عبد الوہاب صدیقی طائفی ۔ علیہم الرحمۃ والرضوان ۔
آپ کا خاندانی تعلق حضرت سیدنا صدیق اکبر سے ہے ۔ نویں پشت میں آپ کے جد اعلیٰ حضرت شاہ عبد الوہاب صدیقی سلطنتِ آصفیہ کے دورِ حکومت میں نواب صلابت جنگ بہادر کے ساتھ طائف سے ہندوستان تشریف لائے، اور حیدر آباد دکن میں سکونت اختیار کی۔ یہاں حکومتِ آصفیہ کی جانب سے مکہ مسجد کی امامت اور محکمۂ مذہبی امور کے جلیل القدر عہدے پر مامور ہوئے ۔ آپ کے خاندان میں مسلسل پانچ پشتوں میں پانچویں آصف جاہ کے زمانے تک برابر قائم رہا ۔
مولانا برہان الحق کے جد امجد مولانا شاہ عبد الکریم (م16/رمضان المبارک 1317ھ) اپنے وقت کے جید عالم اور شیخِ طریقت تھے ۔ تمام علومِ عقلیہ ونقلیہ کے ماہر کامل اور بالخصوص فقہ اور علم طب میں یگانۂ روزگار تھے ۔ حضرت برہانِ ملت کے والد گرامی عید الاسلام حضرت شاہ عبدالسلام جبل پوری اعلیٰ حضرت کے محبوب خلیفہ تھے۔ اعلیٰ حضرت اور آپ کے شہزادگان کا اس خاندان سے جو قرب رہا وہ انہیں کا خاصہ ہے ۔ کسی دوسرے گھرانے اور خاندان کو یہ شرف حاصل نہ ہوا۔ انہیں کی محبت میں اعلیٰ حضرت بریلی سے جبل پور تشریف لےگئے اور پھر مفتیِ اعظم ہند ایک ماہ سے زائد قیام فرما کر ان کو شرف بخشا ۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت مولانا پروفیسر مسعود احمد رقم طراز ہیں ۔ ’’کہ یہ امتیاز صرف آپ کے خاندان کو حاصل ہےکہ آپ کے خاندان کے تین جلیل القدر شخصیات کو امام احمد رضا سے خلافت حاصل ہے، اور آپ کے خاندان کو یہ بھی امتیاز حاصل ہواکہ امام احمد رضا کے خاندان کے باہر پہلے خلیفہ حضرت عید الاسلام مولانا عبد السلام قادری رضوی ہوئے اور حضرت مفتی برہان الحق قادری رضوی آخری خلیفہ ہوئے، جبکہ خاندان کے اندر یہ امتیاز صرف حجت الاسلام مولانا حامد رضا خان قادری رضوی کو حاصل ہوا کہ وہ پہلے خلیفہ اور حضرت مفتی اعظم ہند مصطفیٰ رضا خاں قادری رضوی آخری خلیفہ ہوئے ‘‘ ۔ ( جذباتِ برہان ، ص:12)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز جمعرات 21 ربیع الاول 1310ھ مطابق 13 اکتوبر 1894ء کو بعد نمازِ فجر پیدا ہوئے ۔ آپ کے جد امجد مولانا شاہ محمد عبد الکریم نقشبندی نماز فجر کے بعد قرآن مجید کی تلاوت فرما رہے تھے ۔ جب برہان ملت کی دادی محترمہ نے ولادت کی خبر سنائی تو اس وقت آیت کریمہ ’’ قد جاءکم برھان من ربکم ‘‘ جاری بزبان تھی ۔ خبر سنتے ہی فرمایا کہ ’’ الحمد للہ! برھان آ گیا ‘‘ ۔ (برھانِ ملت کی حیات و خدمات ، ص: 42) ـ
تحصیلِ علم:
حضرت برہانِ ملت کی ولادت باسعادت ایک علمی و روحانی گھرانے میں ہوئی۔جہاں شب و روز قال اللہ اور قال رسول اللہ ﷺ کا درس جاری رہتا تھا۔جس گھرانے سے پورا عالم اسلام رشد و ہدایت حاصل کر رہا تھا ۔ لہذا آپ پانچ سال کی عمر کو پہنچتے ہی کافی باشعور و صاحبِ فراست ہو گئے تھے ۔ اس کم عمری ہی میں آپ اپنے تمام ہم عمر بچوں میں بالکل ممتاز و منفرد اورایک نرالی شان رکھتے تھے ۔
چونکہ آپ کی والدہ ماجدہ اپنے وقت کی ولیہ اور رابعہ بصریہ تھیں۔ سنت و شریعت کی عاملہ اور عشقِ مصطفیٰ ﷺ سے سرشار تھیں ۔ لہذا ان کی حسنِ تربیت نے علم کی محبت اور حصول ِعلم کا جذبہ آپ کے دل میں پیدا کردیا۔ پانچ برس کی عمر 21 ربیع الاول 1315ھ کو آپ کے جد امجد نے ’’بسم اللہ شریف‘‘ کی افتتاح فرمائی ۔ عربی والد ماجد سے، فارسی چچا حافظ بشیر الدین صاحب سےپڑھی۔ اسی طرح آپ نے ناظرہ سے لے کر علوم ِ عقلیہ و نقلیہ کی تکمیل اپنے آبائی مکان جبل پور میں کی۔
اعلیٰ حضرت سے شرفِ تلمذ:
حضرت برہانِ ملت فرماتے ہیں: ’’دورانِ درس، گفتگو کے درمیان اکثر و بیشتر اعلیٰ حضرت کا ذکرِ خیر ہوتا تو میرادل زیارت اور قدم بوسی کی تمنا میں بےتاب ہوجاتا‘‘۔ تکمیلِ علوم کےبعد بھی ایک خواہش باقی تھی کہ مجددِ وقت امام اہل سنت کے بحرِ بےکنار سے کچھ موتی چُنوں۔بالآخرآپ کی یہ تمنا شوال المکرم 1332ھ کے دوسرے ہفتے میں پوری ہوئی ۔ جب آپ اعلیٰ حضرت کی خدمت میں پہلی مرتبہ حاضر ہوئے،تو انہوں نے آپ کے چہرے کے خدوخال اور آثار وقرائن سے اول ملاقات میں ہی آپ کی ذہانت و فطانت اور آثارِ سعادت کو محسوس فرمالیا تھا۔اس لئے پہلی ملاقات ہی میں فرمادیا تھا: ’’اللہ تعالیٰ تمہیں برہان الحق،برہان الدین اور برہان السنت بنائے‘‘۔
❤2
پھر آپ اعلیٰ حضرت کے دار الافتاء میں بیٹھ کر ارشادات نقل کرتے، اور دار العلوم منظر الاسلام کے صدر مدرس مولانا ظہو الحسن رامپوری کے پاس بھی درس میں شریک ہو جاتے ۔ اسی طرح اعلیٰ حضرت کے صاحبزادے مفتیِ اعظم ہند اور حضرت صدر الشریعہ کے ساتھ دار الافتاء میں آپ کا وقت گزرتا ۔ یہ تینوں حضرات ساتھ ہی کھانا تناول فرماتے ۔ حضرت برہانِ ملت نے کم و بیش تین سال اعلیٰ حضرت کی خدمت میں گزارے تمام علوم وفنون میں مزید پختگی اور فتویٰ نویسی میں مہارت حاصل کرلی۔ آپ کو فقہ و فتویٰ میں اس قدر مہارت ہوگئی تھی کہ خود اعلیٰ حضرت آپ کی فقہ اور افتاء سے مطمئن و خوش تھے، اور آپ کی ذات پر کامل اعتماد فرمانے لگے تھے ۔ یہی وجہ تھی کہ جب اعلیٰ حضرت کو غیر منقسم ہندوستان کےلئے قاضیِ شرع اور مفتیِ شرع کی تقرری کرنا ہوئی تو حضرت صدر الشریعہ کو قاضیِ شرع اور حضور مفتیِ اعظم ہند اور حضرت برہانِ ملت علیہما الرحمہ دونوں کو ان کامعاون مفتیانِ شرع مقرر فرمایا ۔ فقہ اور فتاویٰ کے علاوہ امام اہل سے آپ نے ہندسہ، ہیئت، زیجات، تکسیر، جفر، مقالہ، توقیت وغیرہ جیسے کثیر علوم و فنون حاصل کیے ۔ یہی وجہ ہے کہ اعلیٰ حضرت آپ کو پینتالیس علوم و فنون کی اجازت عطاء فرمائی ۔ (برہانِ ملت کی حیات و خدمات ، ص:46) ـ
جن علمائے کرام سے تحصیلِ علم کیا ان کے اسمائے گرامی: اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان، مولانا شاہ محمد عبد الکریم، مولانا شاہ محمد عبد السلام، مولانا قاری بشیر الدین، مولانا عبد الرحمن افغانی، مولانا جلال امیر پشاوری ـ
بیعت و خلافت:
1335ھ میں اعلیٰ حضرت سے بیعت کی سعادت حاصل کی، اور 26 جمادیُ الثانی 1337ھ کو جبل پور میں عیدگاہ کلاں کے جلسۂ عا م میں اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی نے آپ کو 45 علوم اور 11 سلسلوں کی اجازت عطاء فرمائی، اور آپ کے والد ماجد سے ارشاد فرمایا: ’’مولانا عید الاسلام صاحب! برہاں میاں آپ کے جسمانی فرزند ہیں اور میرے روحانی فرزند ہیں ۔ دورانِ قیام بریلی میں فقیر نے ان کا ذہنی، علمی، عملی جائزہ بخوبی لےلیا ہے ۔ اخلاق ، تقویٰ ، فتویٰ ، اتباعِ سنت و شریعت وغیرہا، ہر پہلو سے آزما لیا ہے ۔ میں اپنے اس روحانی فرزندِ سعادت مند ، برہان الحق کو دستارِ فضیلت سے مزین کرکے 45 علوم اور 11 سلسلوں کی اجازت دیتا ہوں ‘‘ ۔ (ایضا: 54) ـ
سیرت و خصائص:
برہانِ ملت،برہان الدین، برہان السنت، خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، ممدوحِ اعلیٰ حضرت، مظہرِ شریعت، آفتابِ طریقت، حامیِ سنت، ماحیِ بدعت، حضرت علامہ مولانا مفتی برہان الحق جبل پوری علیہ الرحمہ ۔
آپ کی خاندانی شرافت، علمی وجاہت، فقہی بصیرت کی گواہی مجدد اعظم نے دی ہے ۔ اگر آپ کی زندگی کا خلاصہ نکالیں تو آپ حقیقۃً ’’ عکسِ رضا ‘‘ تھے ۔ فقہ و افتاء و عزم و استقامت، تصلب فی الدین، احقاق حق، وابطال باطل، گیرائی و گہرائی، کلیات و جزئیات پر ملکہ و عبور، اسلاف کی عقیدت، سرکارِ دو عالم ﷺ سے سچی محبت ۔ الغرض ہر ہر وصف و خوبی میں اپنے پیر و مرشد کے سچے خلف تھے ۔ یہی وجہ تھی کہ بہت سے علماء و مفتیان کرام دور دراز علاقوں سے سفر کرکے آپ کی زیارت و استفادہ کے لئے حاضر ہوتے، جنہیں اعلیٰ حضرت کی زیارت یا صحبت حاصل ہوئی تھی وہی فرماتے تھے کہ حضرت برہانِ ملت کی زیارت سے اعلیٰ حضرت کی یاد تازہ ہو جاتی ہے ۔
سیاسی بصیرت:
حضرت برہانِ ملت جہاں دینی و علمی اعتبار سے بلند پایہ عالمِ دین تھے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ملی، ملکی، بین الاقوامی حالات پر گہری نظر رکھتےتھے۔اسی طرح اہل سیاست کے مکر و فریب اور دنیاوی و سماجی مسائل کی نزاکت کو بخوبی سمجھتے ۔
اللہ ﷻ نے آپ کو ایسی سیاسی بصیرت عطاء فرمائی تھی کہ بڑے بڑے سیاسی لوگ اور حکام و افسران آپ کے سامنے تابِ گفتگو نہ رکھتے تھے ۔ آپ کے زمانے میں دو چار نہیں بلکہ بے شمار قومی و ملی مسائل آئے، اور بعض مسائل میں تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کفر و باطل کی تندو تیز ہوائیں اسلام کو لے اڑیں گی، اور مسلمانوں کو ان مسائل میں شکست ہو جائے گی ۔ لیکن حضرت برہان ملت نے ہر ایک مسئلہ کا جم کر مقابلہ کیا اور اہل باطل کو مات دی ۔ گاؤ کشی کی بات ہو، یا مسلم پرسنل لاء کا مسئلہ، اوقاف کی باز یابی کی بات ہو ، یا فسادات جبل پور میں شجاعت و بہادری کے کارنامے، ہندو مسلم اتحاد کی بات ہو، یا تحریکِ پاکستان ہر جگہ اور ہر مسئلے میں آپ نے قوم و ملت کی صحیح راہ نمائی فرمائی ۔ اللہ ﷻ کی مدد سے کامیاب رہے ۔
جن علمائے کرام سے تحصیلِ علم کیا ان کے اسمائے گرامی: اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان، مولانا شاہ محمد عبد الکریم، مولانا شاہ محمد عبد السلام، مولانا قاری بشیر الدین، مولانا عبد الرحمن افغانی، مولانا جلال امیر پشاوری ـ
بیعت و خلافت:
1335ھ میں اعلیٰ حضرت سے بیعت کی سعادت حاصل کی، اور 26 جمادیُ الثانی 1337ھ کو جبل پور میں عیدگاہ کلاں کے جلسۂ عا م میں اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی نے آپ کو 45 علوم اور 11 سلسلوں کی اجازت عطاء فرمائی، اور آپ کے والد ماجد سے ارشاد فرمایا: ’’مولانا عید الاسلام صاحب! برہاں میاں آپ کے جسمانی فرزند ہیں اور میرے روحانی فرزند ہیں ۔ دورانِ قیام بریلی میں فقیر نے ان کا ذہنی، علمی، عملی جائزہ بخوبی لےلیا ہے ۔ اخلاق ، تقویٰ ، فتویٰ ، اتباعِ سنت و شریعت وغیرہا، ہر پہلو سے آزما لیا ہے ۔ میں اپنے اس روحانی فرزندِ سعادت مند ، برہان الحق کو دستارِ فضیلت سے مزین کرکے 45 علوم اور 11 سلسلوں کی اجازت دیتا ہوں ‘‘ ۔ (ایضا: 54) ـ
سیرت و خصائص:
برہانِ ملت،برہان الدین، برہان السنت، خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، ممدوحِ اعلیٰ حضرت، مظہرِ شریعت، آفتابِ طریقت، حامیِ سنت، ماحیِ بدعت، حضرت علامہ مولانا مفتی برہان الحق جبل پوری علیہ الرحمہ ۔
آپ کی خاندانی شرافت، علمی وجاہت، فقہی بصیرت کی گواہی مجدد اعظم نے دی ہے ۔ اگر آپ کی زندگی کا خلاصہ نکالیں تو آپ حقیقۃً ’’ عکسِ رضا ‘‘ تھے ۔ فقہ و افتاء و عزم و استقامت، تصلب فی الدین، احقاق حق، وابطال باطل، گیرائی و گہرائی، کلیات و جزئیات پر ملکہ و عبور، اسلاف کی عقیدت، سرکارِ دو عالم ﷺ سے سچی محبت ۔ الغرض ہر ہر وصف و خوبی میں اپنے پیر و مرشد کے سچے خلف تھے ۔ یہی وجہ تھی کہ بہت سے علماء و مفتیان کرام دور دراز علاقوں سے سفر کرکے آپ کی زیارت و استفادہ کے لئے حاضر ہوتے، جنہیں اعلیٰ حضرت کی زیارت یا صحبت حاصل ہوئی تھی وہی فرماتے تھے کہ حضرت برہانِ ملت کی زیارت سے اعلیٰ حضرت کی یاد تازہ ہو جاتی ہے ۔
سیاسی بصیرت:
حضرت برہانِ ملت جہاں دینی و علمی اعتبار سے بلند پایہ عالمِ دین تھے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ملی، ملکی، بین الاقوامی حالات پر گہری نظر رکھتےتھے۔اسی طرح اہل سیاست کے مکر و فریب اور دنیاوی و سماجی مسائل کی نزاکت کو بخوبی سمجھتے ۔
اللہ ﷻ نے آپ کو ایسی سیاسی بصیرت عطاء فرمائی تھی کہ بڑے بڑے سیاسی لوگ اور حکام و افسران آپ کے سامنے تابِ گفتگو نہ رکھتے تھے ۔ آپ کے زمانے میں دو چار نہیں بلکہ بے شمار قومی و ملی مسائل آئے، اور بعض مسائل میں تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کفر و باطل کی تندو تیز ہوائیں اسلام کو لے اڑیں گی، اور مسلمانوں کو ان مسائل میں شکست ہو جائے گی ۔ لیکن حضرت برہان ملت نے ہر ایک مسئلہ کا جم کر مقابلہ کیا اور اہل باطل کو مات دی ۔ گاؤ کشی کی بات ہو، یا مسلم پرسنل لاء کا مسئلہ، اوقاف کی باز یابی کی بات ہو ، یا فسادات جبل پور میں شجاعت و بہادری کے کارنامے، ہندو مسلم اتحاد کی بات ہو، یا تحریکِ پاکستان ہر جگہ اور ہر مسئلے میں آپ نے قوم و ملت کی صحیح راہ نمائی فرمائی ۔ اللہ ﷻ کی مدد سے کامیاب رہے ۔
❤2
تحریکِ پاکستان میں خدمات:
آپ نے مسلم لیگ کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا ۔ جبل پور اور اس کے نواح میں لوگ مسلم لیگ سے بالکل نا واقف تھے ۔ جو واقف تھے وہ بھی اس میں شمولیت پسند نہ کرتے تھے ۔ یہ حضرت کی کوششیں تھیں کہ لوگوں کو مسلم لیگ کا ممبر بنایا ۔ پھر ایک وقت ایسا آیا کہ قائد محمد علی جناح نے جبل پور میں پچاس ہزار کے مجمعِ عام میں خطاب کرتے ہوئے آپ کی بہت تعریف و توصیف فرمائی ۔ آپ کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’’ حضرت مولانا صاحب نے ہم پر احسانِ عظیم فرمایا کہ لوگوں کے دلوں میں مسلم لیگ کی محبت و اہمیت پیدا کر دی ۔ اور جبل پور سے جانے کے بعد آپ کے نام ایک طویل خط تحریر کیا جس میں آپ کو خراجِ تحسین پیش کیا اور شکریے کے الفاظ بار بار دہرائے ‘‘ ۔ یہ خط آج بھی محفوظ ہے ۔
آپ 1940ء تا قیامِ پاکستان جبل پور وغیرہ میں ’’ مسلم لیگ ‘‘ کے صدر تھے ۔ 1940ء میں قرار دادِ پاکستان کی منظوری کے بعد آپ نے ملک کے طول و عرض میں دورے کئے ۔ سرحد، پنجاب، سندھ میں تحریکِ پاکستان کی حمایت میں زور دار تقریریں کیں ۔ اس کے لئے کئی دورے کیے ۔ (تخلیقِ پاکستان میں علماء اہل سنت کا کردار ، ص: 123) ـ
یہی وجہ ہے کہ خلفاءِ اعلیٰ حضرت میں بعض حیثیتوں سے آپ کو ممتاز مقام حاصل تھا ۔ حضرت صدر الافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی اور حضرت برہانِ ملت سیاسی بصیرت اور اثر و رسوخ کے اعتبار سے نمایاں تھے ۔ آپ دونوں ہی تحریکِ پاکستان کے قائدین میں سے تھے ۔ لیکن قیامِ پاکستان کے بعد اس کے حالات سے نالاں تھے، اور اس کے کسی منصب کی نظرِ التفات بھی نہ فرمائی ۔ کیونکہ یہ ملک جس مقصد کے لئے حاصل کیا گیا تھا ۔ وہ تھا اسلام ۔ لیکن ستر سال ہو گئے نظامِ مصطفیٰ ﷺ اس ملک میں نافذ نہ ہوا ۔ وہی جاگیر دار، سرمایہ دار، چوہدری اس پر قابض ہو گئے ہیں ۔ یہ حقیقت ہے کہ قیامِ پاکستان میں علماء ِاہل سنت اور مشائخِ اہل سنت کا کردار بہت اہم ہے ۔ اگر یہ حضرات تحریکِ پاکستان کی حمایت نہ کرتے تو پاکستان کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہ ہوتا ۔ دوسری طرف کانگریسی ملاں تھے ۔ جن کی ضمیر فروشی اور ملت فروشی اور ابن الوقتی کا زمانہ معترف ہے ۔ حضرت برہانِ ملت جیسی جامع کمالات شخصیت کے لئے یہ چند صفحات نا کافی ہیں ۔ آپ کے تمام علمی کمالات اور کارناموں کے لئے کئی صفحات درکار ہیں ـ
تصنیفاتِ برہانِ ملت:
حضرت برہانِ ملت علیہ الرحمہ کی تصنیف کردہ درجنوں کتابیں ہیں ۔ صرف فتاویٰ کی 19 ضخیم جلدیں ہیں ۔ بہت سی کتب ابھی غیر مطبوعہ ہیں ۔ درجنوں کتب، ہزاروں تلامذہ و مریدین و خلفاء کے علاوہ آپ نے چار صاحبزادے اور چار صاحبزادیاں یاد گار چھوڑے ہیں ۔
آپ کے مزید حالات کے لئے کتاب: ’’ برہانِ ملت کی حیات و خدمات، تالیف: مولانا عبد الوحید مصباحی دام ظلہ ‘‘ کا مطالعہ نہایت مفید ہے ۔
تاریخِ وصال:
26 ربیع الاول 1405ھ، مطابق 20 دسمبر 1984ء، شبِ جمعہ، شام سوا چھ بجے واصل باللہ ہوئے ۔ خانقاہِ سلامیہ جبل پور مدھیہ پردیش ( انڈیا ) میں مدفون ہیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-burhan-ul-haq-jabalpuri
آپ نے مسلم لیگ کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا ۔ جبل پور اور اس کے نواح میں لوگ مسلم لیگ سے بالکل نا واقف تھے ۔ جو واقف تھے وہ بھی اس میں شمولیت پسند نہ کرتے تھے ۔ یہ حضرت کی کوششیں تھیں کہ لوگوں کو مسلم لیگ کا ممبر بنایا ۔ پھر ایک وقت ایسا آیا کہ قائد محمد علی جناح نے جبل پور میں پچاس ہزار کے مجمعِ عام میں خطاب کرتے ہوئے آپ کی بہت تعریف و توصیف فرمائی ۔ آپ کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’’ حضرت مولانا صاحب نے ہم پر احسانِ عظیم فرمایا کہ لوگوں کے دلوں میں مسلم لیگ کی محبت و اہمیت پیدا کر دی ۔ اور جبل پور سے جانے کے بعد آپ کے نام ایک طویل خط تحریر کیا جس میں آپ کو خراجِ تحسین پیش کیا اور شکریے کے الفاظ بار بار دہرائے ‘‘ ۔ یہ خط آج بھی محفوظ ہے ۔
آپ 1940ء تا قیامِ پاکستان جبل پور وغیرہ میں ’’ مسلم لیگ ‘‘ کے صدر تھے ۔ 1940ء میں قرار دادِ پاکستان کی منظوری کے بعد آپ نے ملک کے طول و عرض میں دورے کئے ۔ سرحد، پنجاب، سندھ میں تحریکِ پاکستان کی حمایت میں زور دار تقریریں کیں ۔ اس کے لئے کئی دورے کیے ۔ (تخلیقِ پاکستان میں علماء اہل سنت کا کردار ، ص: 123) ـ
یہی وجہ ہے کہ خلفاءِ اعلیٰ حضرت میں بعض حیثیتوں سے آپ کو ممتاز مقام حاصل تھا ۔ حضرت صدر الافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی اور حضرت برہانِ ملت سیاسی بصیرت اور اثر و رسوخ کے اعتبار سے نمایاں تھے ۔ آپ دونوں ہی تحریکِ پاکستان کے قائدین میں سے تھے ۔ لیکن قیامِ پاکستان کے بعد اس کے حالات سے نالاں تھے، اور اس کے کسی منصب کی نظرِ التفات بھی نہ فرمائی ۔ کیونکہ یہ ملک جس مقصد کے لئے حاصل کیا گیا تھا ۔ وہ تھا اسلام ۔ لیکن ستر سال ہو گئے نظامِ مصطفیٰ ﷺ اس ملک میں نافذ نہ ہوا ۔ وہی جاگیر دار، سرمایہ دار، چوہدری اس پر قابض ہو گئے ہیں ۔ یہ حقیقت ہے کہ قیامِ پاکستان میں علماء ِاہل سنت اور مشائخِ اہل سنت کا کردار بہت اہم ہے ۔ اگر یہ حضرات تحریکِ پاکستان کی حمایت نہ کرتے تو پاکستان کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہ ہوتا ۔ دوسری طرف کانگریسی ملاں تھے ۔ جن کی ضمیر فروشی اور ملت فروشی اور ابن الوقتی کا زمانہ معترف ہے ۔ حضرت برہانِ ملت جیسی جامع کمالات شخصیت کے لئے یہ چند صفحات نا کافی ہیں ۔ آپ کے تمام علمی کمالات اور کارناموں کے لئے کئی صفحات درکار ہیں ـ
تصنیفاتِ برہانِ ملت:
حضرت برہانِ ملت علیہ الرحمہ کی تصنیف کردہ درجنوں کتابیں ہیں ۔ صرف فتاویٰ کی 19 ضخیم جلدیں ہیں ۔ بہت سی کتب ابھی غیر مطبوعہ ہیں ۔ درجنوں کتب، ہزاروں تلامذہ و مریدین و خلفاء کے علاوہ آپ نے چار صاحبزادے اور چار صاحبزادیاں یاد گار چھوڑے ہیں ۔
آپ کے مزید حالات کے لئے کتاب: ’’ برہانِ ملت کی حیات و خدمات، تالیف: مولانا عبد الوحید مصباحی دام ظلہ ‘‘ کا مطالعہ نہایت مفید ہے ۔
تاریخِ وصال:
26 ربیع الاول 1405ھ، مطابق 20 دسمبر 1984ء، شبِ جمعہ، شام سوا چھ بجے واصل باللہ ہوئے ۔ خانقاہِ سلامیہ جبل پور مدھیہ پردیش ( انڈیا ) میں مدفون ہیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-burhan-ul-haq-jabalpuri
scholars.pk
Hazrat Molana Burhan-ul-Haq Jabalpuri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
25-03-1445 ᴴ | 11-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ لڑکوں کا | مردوں کا ناک کان چھدوانا یا چھدوانے کی منت ماننا کیسا ہے ؟
26-03-1445 ᴴ | 12-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
باریک کپڑا پہن کر نماز پڑھنا
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
باریک کپڑا پہن کر نماز پڑھنا
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1