🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
حضرت سید غوث علی قلندر رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
آپ کا اسمِ گرامی حضرت سید غوث علی شاہ بن سید احمد علی ہے ۔ اورآپ کا سلسلہ نسب بتیس واسطوں سے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر منتہی ہوتا ہے ۔ آپ حسنی و حسین سید ہیں ۔

تاریخِ ولادت:
آپ جمعہ کے دن رمضان کے مہینے میں 1219ھ میں موضع استہاون میں پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
آپ کے والد ماجد نے آپ کو دہلی بلایا اور آپ کی تعلیم کی ابتدا دہلی میں ہوئی ۔ آپ نے حدیث و فقہ کی کتب حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی اور حضرت مولانا شاہ محمد اسحاق سے پڑھیں ۔ منطق و دینیات کی تعلیم آپ نے مولوی فضل امام صاحب خیر آبادی سے حاصل کی ۔ مثنوی مولانا روم رحمتہ اللہ علیہ آپ نے مولوی قلندر علی جلال آبادی سے پڑھی، آپ نے علم ہیٔت و دیگر علوم ظاہری و باطنی میں دستگاہ حاصل کی ۔ (رحمۃ اللہ علیہم) ـ

بیعت و خلافت:
آپ کئی سلسلوں میں بیعت ہوئے ۔ حضرت لعل شاہ کے روحانی فیوض سے مستفید ہوئے ۔ خاندانِ سہروردیہ میں آپ مرید و خلیفہ حضرت سید فدا حسین رسول شاہی کے ہیں ۔ خاندانِ قادریہ میں آپ مرید و خلیفہ حضرت سید اعظم علی شاہ کے ہیں ۔ نقشبندی سلسلہ میں آپ مرید و خلیفہ حضرت حبیب اللہ شاہ کے ہیں ۔ خاندانِ چشتیہ میں آپ مرید و خلیفہ حضرت امیر الدین کے ہیں ۔ (رحمۃ اللہ علیہم) ـ

سیرت و خصائص:
حضرت سید غوث علی قلندر رحمۃ اللہ علیہ کمالات باطنی میں یکتا اور توحید میں لاثانی تھے ۔ آپ کو نسبت جذب حاصل تھی ۔ ترک و تجرید، قناعت و توکل، ریاضت و مجاہدہ میں اپنی مثال آپ تھے ۔ آپ کی سخاوت کا یہ حال تھا کہ جو کچھ آتا، اسی وقت محتاجوں، بیواؤں اور مسکینوں کو تقسیم کر دیتے تھے ۔ سائل آپ کے پاس سے کبھی خالی ہاتھ نہیں گیا ۔ خوراک آپ کی بہت کم تھی ۔ کھانا سادہ پسند فرماتے تھے ۔ لباس آپ کا سفید اور سادہ ہوتا تھا ۔ رنگین کپڑے نہیں پہنتے تھے ۔ آپ کو علم ظاہر اور علم باطن میں کمال حاصل تھا ۔ آپ منبع شریعت و طریقت تھے ـ

فصاحت، بلاغت اور متانت میں بے نظیر تھے ۔ آپ کی تعلیمات اہل ذوق و شوق اہل تصوف اور اہل عرفان ہی کے لئے مفید نہیں ہیں، بلکہ ہرشخص آپ کی تعلیمات سے خاطر خواہ فائدہ اٹھا سکتا ہے ۔ آپ فرماتے ہیں: "اسلام کی ترقی کا دار و مدار اتفاق، اولو العزمی اور غیرت پر ہے " ۔ آپ نے ہندوستان کی سیر و سیاحت فرمائی ۔ مکہ معظمہ، مدینہ منورہ، بغداد، نجف اشرف، بیت المقدس بھی حاضر ہوئے اور روحانی فیوض و برکات سے مستفید ہوئے ۔ مصر، روم و شام کی سیر و سیاحت فرمائی ۔ بہت سے درویشوں سے ملاقات ہوئی ۔ آپ نواسی بزرگوں سے ملے اور ان کے باطنی فیض سے مستفید ہوئے ۔ آپ نے زندگی کے آخری ایام پانی پت میں گزارے ۔قلندر صاحب کے مزار کے ایک حجرے میں رہتے تھے ۔

تاریخِ وصال:
آپ نے 26 ربیع الاول 1297ھ / بمطابق مارچ 1880ء کواس دار فانی سے کوچ فرمایا ۔ بوقت وفات آپ کی عمر اٹھہتر سال کی تھی ۔ مزار پر انوار پانی پت میں واقع ہے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرۂ اولیاء پاک و ہند ـ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-ghous-ali-shah-qalandar
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
علامہ مولانا محمد قاسم علوی صاحب

مَوْتُ الْعَالِمِ مَوْتُ الْعَالَمِ

ممتاز العلماء، قائدِ اہلسنّت، استاذ الاساتذہ، رہبرِ قوم و ملت ، ناشرِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، صدرِ اعلیٰ مجلسِ علمائے اسلام مغربی بنگال و بزمِ رضائے مصطفٰے، حضرت علامہ مولانا قاسم علوی صاحب قبلہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا آج بتاریخ 26 دسمبر 2016 بروزِ سوموار بمطابق 26 ربیع الاول 1438 ہجری انتقال ہو گیا ہے ۔

اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن

موصوف اس وقت مغربی بنگال کے سب سے بزرگ ہستی تھے ۔ حضرت کی عمر تقریباً 76 سال تھی ۔ حضرت مولانا قاسم علوی صاحب قبلہ بڑے ملنسار ، خوش اخلاق، نرم دل اور بارعب شخصیت کے مالک تھے، سیدانہ وقار، عالمانہ وجاہت اور خانقاہی انکساری کی جیتی جاگتی مورت تھے..... ہمیشہ بڑے پیار و محبت سے ملتے اور محبت و اپنائیت کے ساتھ " بابو " کہہ کر گفتگو فرماتے .... چہرہ جتنا روبیلا تھا تو اخلاق بہت ہی دل نشیں اور من موہنا تھا ..... پورے مغربی بنگال بہار، اڈیشہ ، اور بارہ بنکی یوپی وغیرہ کے علاقوں میں آپ سے بے پناہ محبت رکھنے والوں کا ایک بڑا حلقہ ہے جن میں علماء کی بھی ایک اچھی بڑی تعداد ہے ۔

شہرِ کلکتہ میں ایک عظیم الشان ادارہ بنامِ " بزمِ رضائے مصطفٰے " قائم فرمایا جہاں درس وتدریس کے علاوہ وعظ و نصیحت اور ذکر و اذکار کا سلسلہ جاری رہتا ۔

اللہ کریم اپنے فضل وکرم سے حضرت کی مغفرت فرمائے اور جوار رحمت میں جگہ عنایت فرمائے ۔

حضرت کے خلفِ صادق کو اہل سنت کیلئے بطور نعم البدل قبول فرمائے ۔

آمین بجاہ النبی الکریم علیہ الصلوة والتسلیم ۔

وصال: 26 ربیع الاول 1438ھ

https://scholars.pk/ur/scholar/nashir-e-maslak-e-ala-hazrat-allama-molana-qasim-alvi-sahab
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
محترم صالح سراج الدین بن عثمان حنفی نقشبندی ڈیروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ اخی سراج کے نام سے مشہور تھے اور شیخ نطام الدین اولیاء کے جلیل القدر خلفاء میں سے تھے، خواجہ نظام الدین کے مریدوں میں آپ اور شیخ نصیر الدین محمود چراغ دہلوی کے دونوں سلسلے بہت مشہور ہیں، عین جوانی کے وقت جبکہ آپ کی داڑھی کے بال تک نہ نکلے تھے خواجہ نظام الدین اولیاء کے مرید ہوئے اور چند برس آپ کی خدمت میں رہنے کے بعد اپنی والدہ کی خدمت کے لیے لکھنؤ تی جس کا موجودہ نام گور ہے تشریف لے گئے، چند روز وہاں قیام فرمانے کے بعد پھر واپس شیخ کی خدمت میں حاضر ہو گئے، خلافت دیتے وقت آپ سے شیخ نے فرمایا کہ اس کام میں پہلا مقام علم کو حاصل ہے اور شیخ میں ابھی اتنا علم نہیں ہے، اس پر اس وقت جو لوگ موجود تھے ان میں سے مولانا فخر الدین زرداری نے عرض کیا کہ میں انہیں چھ ماہ میں عالم بنادوں گا، چنانچہ شیخ سراج نے مولانا زرداری سے علم حاصل کیا، مولانا زرداری نے ان کے لیے ایک کتاب بھی بنام عثمانی بھیجی، اس کے بعد شیخ سراج نے مولانا رکن الدین سے کافیہ، مفصل قدوری اور مجمع البحرین پڑھیں، اور حضرت خواجہ نظام الدین کے انتقال کے بعد مزید تین برس تک دیگر درسی کتب کی تحصیل کی پھر شیخ کے موقوفہ کتب خانے سے چند کتابیں، کچھ کپڑے اور خلافت نامہ جو شیخ نے آپ کو دیا تھا لے کر اپنے مقام لکھنؤتی تشریف لے گئے اور دیار کو ولایت کے جمال سے مزین کیا، شیخ نے عین حیات میں آپ کے متعلق فرمایا تھا کہ وہ ہندوستان کا آئینہ ہے ۔

شیخ سراج نے اپنے شیخ سے جو خرقہ وغیرہ حاصل کیا تھا اسے زمین میں دفن کیا اور اس پر قبر بنادی اور انتقال سے پیشتر اپنے ورثاء کو یہ وصیت کی کہ مجھے کپڑوں والی قبر میں دفن کیا جائے چنانچہ بعد انتقال لوگوں نے ایسا ہی کیا، آپ کے خلفاء شہر گور میں مشہور ہیں جو اب تک بھی موجود ہیں، آپ کا قیام بھی اسی شہر میں تھا، شیخ حسام الدین مانکپوری کے ملفوظات میں ہے کہ شیخ سراج الدین عثمان اودھی کے پاس ایک سہروردی درویش مہمان ہوا، عشاء کی نماز سے فراغت کے بعد شیخ سراج کپڑے اتار کر اپنے بستر پر سوگئے اور وہ درویش رات بھر نماز و عبادت میں مشغول رہا، صبح کو بستر سے اٹھ کر شیخ نے رات کے وضو سے فجر کی نماز پڑھی، یہ دیکھ کر اس درویش نے کہا کہ مجھے تعجب ہے کہ آپ تمام رات تو سوتے رہے اور نماز فجر بھی بغیر وضو ادا کی، شیخ سراج نے نہایت ہی متواضعانہ انداز میں کہا کہ آپ بزرگ ہیں، آپ نے تو تمام رات ہی عبادت میں گزار دی اور ہم سامان رکھتے ہیں اور چور تاک میں ہے اس لیے ہم اس کی حفاظت کرتے رہے

اگر عاشق بہ مسجد در نیا مد!
دل عاشق ہمیشہ در نماز است

ترجمہ: (اگر عاشق (حقیقی) عبادت کے لیے مسجد (کسی عذر کی وجہ سے) نہیں آسکتا لیکن اس کا دل ہمیشہ نماز میں مشغول ہے)

(اخبار الاخیار)

صوفی خوشلقا زاہد دلربا مولانا سراج الملۃ والدین عثمان ہیں جو تقوی و طہارت اور زہد و ورع اور مکارم اخلاق اور لطافت طبع میں مشہور اور دوسرے یاروں میں ممتاز و موصوف تھے اور جو سلطان المشائخ کے خلفا میں ایک معزز خلیفہ تھے ان کو لوگ اخی سراج بھی کہتے تھے جو لوگ ملک اودھ اور دیار ہندوستان سے سلطان المشائخ کے غلاموں کے سلسلہ میں داخل ہوئے یہ ان سب سے ارادت میں سابق تھے ۔

سلطان المشائخ کا نفس مبارک ان ہی کے حق میں باین مضمون جاری ہوا ہے کے مولانا سراج الدین آئینہ ہندوستان ہے۔ آپ میں عالم جوانی میں کہ ہنوز ڈاڑھی کے بالوں کا آغاز نہ ہوا تھا۔ لکھنوتی سے آئے اور سلطان المشائخ کے آستانہ پر سرِ ارادت رکھا اور ان یاروں کی صحبت میں پرورش پائی جو سلطان المشائخ کی خدمت و ملازمت میں ہمیشہ زندگی بسر کرتے تھے جب سال تمام ہو جاتا تو آپ اپنی والدہ مکرمہ کو دیکھنے لکھنوتی چلے جاتے اور پھر سلطان المشائخ کی خدمت میں حاضر ہو جاتے۔

آپ بیشتر اوقات سلطان المشائخ کی خدمت میں مجرد الحال اور فارغ البال رہتے اور سلطان المشائخ کے جماعت خانہ کے ایک گوشہ میں اپنی عمر عزیز بسر کرتے حتی کہ کاغذ اور کتاب کہ اس کے علاوہ کوئی سامان و اسباب آپ کے پاس نہ تھا۔ یہ بھی سب کتابت خانہ اور جماعت خانہ میں رکھتے ۔
1
الغرض جب بعض اعلیٰ یاروں کو سلطان المشائخ کے فرمان کے بموجب لوگوں نے خلافت کے لیے منتخب کیا تو ان میں ان بزرگ کو بھی شامل کیا اور جب ان تمام بزرگوں کے نام نامی سلطان المشائخ کے سامنے لیے گئے تو مولانا سراج الدین کے بارے میں ارشاد ہوا کہ اس کام میں سب سے پہلا درجہ علم کا ہے اور مولانا سراج الدین علم سے چنداں حصہ رکھتے نہیں جوں ہی یہ بات مولانا فخر الدین زادی کے کان میں پہنچی آپ کی زبانِ مبارک سے نکل گیا کہ میں اسے چھ مہینے میں عالم متبحر اور دانشمند کامل بنادوں گا ـ

چنانچہ مولانا سراج الدین نیکبر سنی میں علم پڑھنا شروع کیا اور کاتب حروف کے ساتھ آغاز تعلم میں میزان اور تصریف اور قواعد اور اس کے مقدمات کی تحقیق کی۔ خود مولانا فخر الدین رحمۃ اللہ علیہ نے ان کے لیے ایک مختصر و مفصل تصریف تالیف کی اور اس کا نام عثمانی رکھا۔ جب تک مولانا فخر الدین غیاث پور میں رہے آپ کو برابر پڑھاتے رہے بعدہ آپ مولانا رکن الدین اندر پتی کی خدمت میں پہنچے اور کاتب حروف کے ساتھ کافیہ۔ مفصل۔ قدوری۔ مجمع البحرین کی تحقیق میں مصروف رہے بہت تھوڑے دنوں میں افادت کے مرتبہ میں پہنچ گئے اور سلطان المشائخ کے خلافت نامہ سے جس پر حضور کی مہر کا نشان تھا مشرف ہوئے۔

قبل اس کے کہ مولانا سراج الدین ہندوستان کا عزم کرتے شیخ نصیر الدین محمود خلافت نامہ لے کر اودھ میں پہنچے۔ اس کے بعد آپ سلطان المشائخ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اب بھی تعلیم و تعلم میں مشغول رہے جب سلطان المشائخ جنت میں تشریف لے گئے تو اس کے تین سال بعد تک بھی تعلیم و تعلم میں مستغرق رہے اور سلطان المشائخ جعل اللہ الجنتہ مثواہ کے خطیرۂ اقدس میں گنبد کے اندر رہے۔ جب مخلوق دیار دیوگیر کی طرف جلا وطن کی گئی تو مولانا سراج الدین لکھنوتی میں تشریف لے گئے اور کچھ کتابیں حضرت سلطان المشائخ کے کتاب خانہ سے جو طلبہ کے لیے وقف تھا مطالعہ کے لیے ساتھ لیتے گئے۔

علاوہ اس کے سلطان المشائخ کے وہ کپڑے جو آپ نے وقتاً فوقتاً حضور سے پائے تھے وہ بھی ساتھ لے گئے اور اس طرف کے شہروں کو اپنے جمال ولایت سے آراستہ و منور کیا اور خلق خدا سے بیعت لینی شروع کی۔ چنانچہ اس ملک کے بادشاہ آپ کے مریدوں کے سلسلہ میں داخل ہوئے۔ مولانا سراج الدین نے عمر بہت پائی اور نہایت مقصدوری اور کامیابی کے ساتھ زندگی بسر کی۔

آپ نے آخر عمر میں مولانا رکن الدین اندر پتی کے لیے جو آپ کے استاد تھے اور کاتب حروف کے واسطے جو آپ کا ہم سبق تھا بطریق یادگار چند تنکہ چاندیکے روانہ کیئے اور پچھلے حقوق کی رعایت کما حقہ مرعی رکھی (حق تعالیٰ ان سے قبول فرمائے آمین۔) جب آپ کے انتقال کا وقت قریب آلگا تو اطراف لکھنوتی میں اپنے مدفن کے لیے ایک نہایت عمدہ مقام پسند کیا اول اس مقام میں آپ نے سلطان المشائخ کے وہ کپڑے جو اپنے ہمراہ لے گئے تھیبہ تعظیم تمام دفن کئے اور اسے بصورت قبر بنایا بعدہ جب انتقال ہونے لگا تو وصیت کی کہ مجھے سلطان المشائخ کے کپڑوں کی قبر کی پائینتی دفن کرنا چاہیے۔

چنانچہ جب آپ کا وصال ہوا تو سلطان المشائخ کے کپڑوں کی قبر کی پائینتی آپ کا مدفن قرار پایا رحمۃ اللہ علیہ رحمۃً واسعتہ۔ مولانا سراج الدین کا روضہ متبرکہ سلطان المشائخ کے کپڑوں کی برکت سے قبلۂ ہندوستان ہے اور آپ کے خلفا اس زمانہ تک ان شہروں میں خلق خدا سے بیعت لیتے ہیں ۔

( سِیَر الاولیاء )

یوم ولادت: 15 محرم الحرام 1297ھ
یوم وصال: 26 ربیع الاول 1333 ھ

https://scholars.pk/ur/scholar/mohtaram-saleh-sirajuddin-bin-usman-hanafi-naqshbandi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت شاہ صاحب عالم مارہروی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
سید شاہ صاحب عالم بن شاہ مخدوم عالم بن شاہ مقبول عالم ابن شاہ نجات اللہ بن شاہ برکت اللہ مارہروی (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین) ـ

تاریخِ ولادت:
آپ علیہ الرحمہ کی ولادت 26 ربیع الاول 1211ھ / بمطابق ستمبر 1796ء میں ہوئی ۔

سیرت و خصائص:
آپ علیہ الرحمہ جلیل القدر عالم اور ایک بلند پایہ شیخِ کامل تھے ۔ آپ " خاندانِ مارہرہ مطہرہ " کے چشم و چراغ تھے ۔ آپ اپنے خاندان کے علمی و روحانی وارث تھے ۔ آپ اپنے سلسلہ کی ترویج و ترقی کے لئے بہت کوشاں رہے ۔ تمام علومِ متداولہ پر کامل مہارت رکھتے تھے ۔

عربی، فارسی ، اردو، ہندی کے زبردست شاعر و ادیب تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ مرزا غالب کے بہت سے خطوط آپ کے نام ملتے ہیں ۔ ایک مقام پر مرزا غالب نے " بطورِ مزاح " آپ کو لکھا: " پیر و مرشد کے سنِ ولادت کا مادہ " تاریخ " ہے اور غلام کا " تاریخا " ۔ آپ مخلوق کی ذہنی و اخلاقی تربیت فرماتے تھے ۔ خلافِ شریعت کاموں کو ناپسند کرتے تھے، اور خلافِ شرع کام کرنے پر ایسی زجرو توبیخ کرتے کہ وہ شخص فوراً آپ کے ہاتھ پر توبہ کر لیتا ۔

وصال:
آپ کا وصال 2 محرم 1288ھ / بمطابق مارچ 1871ء میں ہوا ۔ درگاہ معلیٰ مارہرہ میں جانبِ عرب دفن ہوئے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ـ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-shah-alam-marharwi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، حضرت مولانا مفتی برہان الحق جبل پوری رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی:
خلیفۂ اعلیٰ حضرت مولانا مفتی برہان الحق جبل پوری ـ لقب: برہانِ ملت،برہان الدین، برہان السنت، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، ممدوحِ اعلیٰ حضرت، مظہرِ شریعت ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت علامہ مولانا مفتی برہان الحق جبل پوری بن عید الاسلام حضرت علامہ مولانا شاہ عبد السلام جبل پوری بن مولانا شاہ محمد عبد الکریم قادری نقشبندی بن مولانا شاہ محمد عبد الرحمن بن مولانا شاہ محمد عبد الرحیم بن مولانا شاہ محمد عبد اللہ بن مولانا شاہ محمد فتح بن مولانا شاہ محمد ناصر بن مولانا شاہ محمد عبد الوہاب صدیقی طائفی ۔ علیہم الرحمۃ والرضوان ۔

آپ کا خاندانی تعلق حضرت سیدنا صدیق اکبر سے ہے ۔ نویں پشت میں آپ کے جد اعلیٰ حضرت شاہ عبد الوہاب صدیقی سلطنتِ آصفیہ کے دورِ حکومت میں نواب صلابت جنگ بہادر کے ساتھ طائف سے ہندوستان تشریف لائے، اور حیدر آباد دکن میں سکونت اختیار کی۔ یہاں حکومتِ آصفیہ کی جانب سے مکہ مسجد کی امامت اور محکمۂ مذہبی امور کے جلیل القدر عہدے پر مامور ہوئے ۔ آپ کے خاندان میں مسلسل پانچ پشتوں میں پانچویں آصف جاہ کے زمانے تک برابر قائم رہا ۔

مولانا برہان الحق کے جد امجد مولانا شاہ عبد الکریم (م16/رمضان المبارک 1317ھ) اپنے وقت کے جید عالم اور شیخِ طریقت تھے ۔ تمام علومِ عقلیہ ونقلیہ کے ماہر کامل اور بالخصوص فقہ اور علم طب میں یگانۂ روزگار تھے ۔ حضرت برہانِ ملت کے والد گرامی عید الاسلام حضرت شاہ عبدالسلام جبل پوری اعلیٰ حضرت کے محبوب خلیفہ تھے۔ اعلیٰ حضرت اور آپ کے شہزادگان کا اس خاندان سے جو قرب رہا وہ انہیں کا خاصہ ہے ۔ کسی دوسرے گھرانے اور خاندان کو یہ شرف حاصل نہ ہوا۔ انہیں کی محبت میں اعلیٰ حضرت بریلی سے جبل پور تشریف لےگئے اور پھر مفتیِ اعظم ہند ایک ماہ سے زائد قیام فرما کر ان کو شرف بخشا ۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت مولانا پروفیسر مسعود احمد رقم طراز ہیں ۔ ’’کہ یہ امتیاز صرف آپ کے خاندان کو حاصل ہےکہ آپ کے خاندان کے تین جلیل القدر شخصیات کو امام احمد رضا سے خلافت حاصل ہے، اور آپ کے خاندان کو یہ بھی امتیاز حاصل ہواکہ امام احمد رضا کے خاندان کے باہر پہلے خلیفہ حضرت عید الاسلام مولانا عبد السلام قادری رضوی ہوئے اور حضرت مفتی برہان الحق قادری رضوی آخری خلیفہ ہوئے، جبکہ خاندان کے اندر یہ امتیاز صرف حجت الاسلام مولانا حامد رضا خان قادری رضوی کو حاصل ہوا کہ وہ پہلے خلیفہ اور حضرت مفتی اعظم ہند مصطفیٰ رضا خاں قادری رضوی آخری خلیفہ ہوئے ‘‘ ۔ ( جذباتِ برہان ، ص:12)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز جمعرات 21 ربیع الاول 1310ھ مطابق 13 اکتوبر 1894ء کو بعد نمازِ فجر پیدا ہوئے ۔ آپ کے جد امجد مولانا شاہ محمد عبد الکریم نقشبندی نماز فجر کے بعد قرآن مجید کی تلاوت فرما رہے تھے ۔ جب برہان ملت کی دادی محترمہ نے ولادت کی خبر سنائی تو اس وقت آیت کریمہ ’’ قد جاءکم برھان من ربکم ‘‘ جاری بزبان تھی ۔ خبر سنتے ہی فرمایا کہ ’’ الحمد للہ! برھان آ گیا ‘‘ ۔ (برھانِ ملت کی حیات و خدمات ، ص: 42) ـ

تحصیلِ علم:
حضرت برہانِ ملت کی ولادت باسعادت ایک علمی و روحانی گھرانے میں ہوئی۔جہاں شب و روز قال اللہ اور قال رسول اللہ ﷺ کا درس جاری رہتا تھا۔جس گھرانے سے پورا عالم اسلام رشد و ہدایت حاصل کر رہا تھا ۔ لہذا آپ پانچ سال کی عمر کو پہنچتے ہی کافی باشعور و صاحبِ فراست ہو گئے تھے ۔ اس کم عمری ہی میں آپ اپنے تمام ہم عمر بچوں میں بالکل ممتاز و منفرد اورایک نرالی شان رکھتے تھے ۔

چونکہ آپ کی والدہ ماجدہ اپنے وقت کی ولیہ اور رابعہ بصریہ تھیں۔ سنت و شریعت کی عاملہ اور عشقِ مصطفیٰ ﷺ سے سرشار تھیں ۔ لہذا ان کی حسنِ تربیت نے علم کی محبت اور حصول ِعلم کا جذبہ آپ کے دل میں پیدا کردیا۔ پانچ برس کی عمر 21 ربیع الاول 1315ھ کو آپ کے جد امجد نے ’’بسم اللہ شریف‘‘ کی افتتاح فرمائی ۔ عربی والد ماجد سے، فارسی چچا حافظ بشیر الدین صاحب سےپڑھی۔ اسی طرح آپ نے ناظرہ سے لے کر علوم ِ عقلیہ و نقلیہ کی تکمیل اپنے آبائی مکان جبل پور میں کی۔

اعلیٰ حضرت سے شرفِ تلمذ:
حضرت برہانِ ملت فرماتے ہیں: ’’دورانِ درس، گفتگو کے درمیان اکثر و بیشتر اعلیٰ حضرت کا ذکرِ خیر ہوتا تو میرادل زیارت اور قدم بوسی کی تمنا میں بےتاب ہوجاتا‘‘۔ تکمیلِ علوم کےبعد بھی ایک خواہش باقی تھی کہ مجددِ وقت امام اہل سنت کے بحرِ بےکنار سے کچھ موتی چُنوں۔بالآخرآپ کی یہ تمنا شوال المکرم 1332ھ کے دوسرے ہفتے میں پوری ہوئی ۔ جب آپ اعلیٰ حضرت کی خدمت میں پہلی مرتبہ حاضر ہوئے،تو انہوں نے آپ کے چہرے کے خدوخال اور آثار وقرائن سے اول ملاقات میں ہی آپ کی ذہانت و فطانت اور آثارِ سعادت کو محسوس فرمالیا تھا۔اس لئے پہلی ملاقات ہی میں فرمادیا تھا: ’’اللہ تعالیٰ تمہیں برہان الحق،برہان الدین اور برہان السنت بنائے‘‘۔
2
پھر آپ اعلیٰ حضرت کے دار الافتاء میں بیٹھ کر ارشادات نقل کرتے، اور دار العلوم منظر الاسلام کے صدر مدرس مولانا ظہو الحسن رامپوری کے پاس بھی درس میں شریک ہو جاتے ۔ اسی طرح اعلیٰ حضرت کے صاحبزادے مفتیِ اعظم ہند اور حضرت صدر الشریعہ کے ساتھ دار الافتاء میں آپ کا وقت گزرتا ۔ یہ تینوں حضرات ساتھ ہی کھانا تناول فرماتے ۔ حضرت برہانِ ملت نے کم و بیش تین سال اعلیٰ حضرت کی خدمت میں گزارے تمام علوم وفنون میں مزید پختگی اور فتویٰ نویسی میں مہارت حاصل کرلی۔ آپ کو فقہ و فتویٰ میں اس قدر مہارت ہوگئی تھی کہ خود اعلیٰ حضرت آپ کی فقہ اور افتاء سے مطمئن و خوش تھے، اور آپ کی ذات پر کامل اعتماد فرمانے لگے تھے ۔ یہی وجہ تھی کہ جب اعلیٰ حضرت کو غیر منقسم ہندوستان کےلئے قاضیِ شرع اور مفتیِ شرع کی تقرری کرنا ہوئی تو حضرت صدر الشریعہ کو قاضیِ شرع اور حضور مفتیِ اعظم ہند اور حضرت برہانِ ملت علیہما الرحمہ دونوں کو ان کامعاون مفتیانِ شرع مقرر فرمایا ۔ فقہ اور فتاویٰ کے علاوہ امام اہل سے آپ نے ہندسہ، ہیئت، زیجات، تکسیر، جفر، مقالہ، توقیت وغیرہ جیسے کثیر علوم و فنون حاصل کیے ۔ یہی وجہ ہے کہ اعلیٰ حضرت آپ کو پینتالیس علوم و فنون کی اجازت عطاء فرمائی ۔ (برہانِ ملت کی حیات و خدمات ، ص:46) ـ

جن علمائے کرام سے تحصیلِ علم کیا ان کے اسمائے گرامی: اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان، مولانا شاہ محمد عبد الکریم، مولانا شاہ محمد عبد السلام، مولانا قاری بشیر الدین، مولانا عبد الرحمن افغانی، مولانا جلال امیر پشاوری ـ

بیعت و خلافت:
1335ھ میں اعلیٰ حضرت سے بیعت کی سعادت حاصل کی، اور 26 جمادیُ الثانی 1337ھ کو جبل پور میں عیدگاہ کلاں کے جلسۂ عا م میں اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی نے آپ کو 45 علوم اور 11 سلسلوں کی اجازت عطاء فرمائی، اور آپ کے والد ماجد سے ارشاد فرمایا: ’’مولانا عید الاسلام صاحب! برہاں میاں آپ کے جسمانی فرزند ہیں اور میرے روحانی فرزند ہیں ۔ دورانِ قیام بریلی میں فقیر نے ان کا ذہنی، علمی، عملی جائزہ بخوبی لےلیا ہے ۔ اخلاق ، تقویٰ ، فتویٰ ، اتباعِ سنت و شریعت وغیرہا، ہر پہلو سے آزما لیا ہے ۔ میں اپنے اس روحانی فرزندِ سعادت مند ، برہان الحق کو دستارِ فضیلت سے مزین کرکے 45 علوم اور 11 سلسلوں کی اجازت دیتا ہوں ‘‘ ۔ (ایضا: 54) ـ

سیرت و خصائص:
برہانِ ملت،برہان الدین، برہان السنت، خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، ممدوحِ اعلیٰ حضرت، مظہرِ شریعت، آفتابِ طریقت، حامیِ سنت، ماحیِ بدعت، حضرت علامہ مولانا مفتی برہان الحق جبل پوری علیہ الرحمہ ۔

آپ کی خاندانی شرافت، علمی وجاہت، فقہی بصیرت کی گواہی مجدد اعظم نے دی ہے ۔ اگر آپ کی زندگی کا خلاصہ نکالیں تو آپ حقیقۃً ’’ عکسِ رضا ‘‘ تھے ۔ فقہ و افتاء و عزم و استقامت، تصلب فی الدین، احقاق حق، وابطال باطل، گیرائی و گہرائی، کلیات و جزئیات پر ملکہ و عبور، اسلاف کی عقیدت، سرکارِ دو عالم ﷺ سے سچی محبت ۔ الغرض ہر ہر وصف و خوبی میں اپنے پیر و مرشد کے سچے خلف تھے ۔ یہی وجہ تھی کہ بہت سے علماء و مفتیان کرام دور دراز علاقوں سے سفر کرکے آپ کی زیارت و استفادہ کے لئے حاضر ہوتے، جنہیں اعلیٰ حضرت کی زیارت یا صحبت حاصل ہوئی تھی وہی فرماتے تھے کہ حضرت برہانِ ملت کی زیارت سے اعلیٰ حضرت کی یاد تازہ ہو جاتی ہے ۔

سیاسی بصیرت:
حضرت برہانِ ملت جہاں دینی و علمی اعتبار سے بلند پایہ عالمِ دین تھے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ملی، ملکی، بین الاقوامی حالات پر گہری نظر رکھتےتھے۔اسی طرح اہل سیاست کے مکر و فریب اور دنیاوی و سماجی مسائل کی نزاکت کو بخوبی سمجھتے ۔

اللہ ﷻ نے آپ کو ایسی سیاسی بصیرت عطاء فرمائی تھی کہ بڑے بڑے سیاسی لوگ اور حکام و افسران آپ کے سامنے تابِ گفتگو نہ رکھتے تھے ۔ آپ کے زمانے میں دو چار نہیں بلکہ بے شمار قومی و ملی مسائل آئے، اور بعض مسائل میں تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کفر و باطل کی تندو تیز ہوائیں اسلام کو لے اڑیں گی، اور مسلمانوں کو ان مسائل میں شکست ہو جائے گی ۔ لیکن حضرت برہان ملت نے ہر ایک مسئلہ کا جم کر مقابلہ کیا اور اہل باطل کو مات دی ۔ گاؤ کشی کی بات ہو، یا مسلم پرسنل لاء کا مسئلہ، اوقاف کی باز یابی کی بات ہو ، یا فسادات جبل پور میں شجاعت و بہادری کے کارنامے، ہندو مسلم اتحاد کی بات ہو، یا تحریکِ پاکستان ہر جگہ اور ہر مسئلے میں آپ نے قوم و ملت کی صحیح راہ نمائی فرمائی ۔ اللہ ﷻ کی مدد سے کامیاب رہے ۔
2
تحریکِ پاکستان میں خدمات:
آپ نے مسلم لیگ کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا ۔ جبل پور اور اس کے نواح میں لوگ مسلم لیگ سے بالکل نا واقف تھے ۔ جو واقف تھے وہ بھی اس میں شمولیت پسند نہ کرتے تھے ۔ یہ حضرت کی کوششیں تھیں کہ لوگوں کو مسلم لیگ کا ممبر بنایا ۔ پھر ایک وقت ایسا آیا کہ قائد محمد علی جناح نے جبل پور میں پچاس ہزار کے مجمعِ عام میں خطاب کرتے ہوئے آپ کی بہت تعریف و توصیف فرمائی ۔ آپ کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’’ حضرت مولانا صاحب نے ہم پر احسانِ عظیم فرمایا کہ لوگوں کے دلوں میں مسلم لیگ کی محبت و اہمیت پیدا کر دی ۔ اور جبل پور سے جانے کے بعد آپ کے نام ایک طویل خط تحریر کیا جس میں آپ کو خراجِ تحسین پیش کیا اور شکریے کے الفاظ بار بار دہرائے ‘‘ ۔ یہ خط آج بھی محفوظ ہے ۔

آپ 1940ء تا قیامِ پاکستان جبل پور وغیرہ میں ’’ مسلم لیگ ‘‘ کے صدر تھے ۔ 1940ء میں قرار دادِ پاکستان کی منظوری کے بعد آپ نے ملک کے طول و عرض میں دورے کئے ۔ سرحد، پنجاب، سندھ میں تحریکِ پاکستان کی حمایت میں زور دار تقریریں کیں ۔ اس کے لئے کئی دورے کیے ۔ (تخلیقِ پاکستان میں علماء اہل سنت کا کردار ، ص: 123) ـ

یہی وجہ ہے کہ خلفاءِ اعلیٰ حضرت میں بعض حیثیتوں سے آپ کو ممتاز مقام حاصل تھا ۔ حضرت صدر الافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی اور حضرت برہانِ ملت سیاسی بصیرت اور اثر و رسوخ کے اعتبار سے نمایاں تھے ۔ آپ دونوں ہی تحریکِ پاکستان کے قائدین میں سے تھے ۔ لیکن قیامِ پاکستان کے بعد اس کے حالات سے نالاں تھے، اور اس کے کسی منصب کی نظرِ التفات بھی نہ فرمائی ۔ کیونکہ یہ ملک جس مقصد کے لئے حاصل کیا گیا تھا ۔ وہ تھا اسلام ۔ لیکن ستر سال ہو گئے نظامِ مصطفیٰ ﷺ اس ملک میں نافذ نہ ہوا ۔ وہی جاگیر دار، سرمایہ دار، چوہدری اس پر قابض ہو گئے ہیں ۔ یہ حقیقت ہے کہ قیامِ پاکستان میں علماء ِاہل سنت اور مشائخِ اہل سنت کا کردار بہت اہم ہے ۔ اگر یہ حضرات تحریکِ پاکستان کی حمایت نہ کرتے تو پاکستان کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہ ہوتا ۔ دوسری طرف کانگریسی ملاں تھے ۔ جن کی ضمیر فروشی اور ملت فروشی اور ابن الوقتی کا زمانہ معترف ہے ۔ حضرت برہانِ ملت جیسی جامع کمالات شخصیت کے لئے یہ چند صفحات نا کافی ہیں ۔ آپ کے تمام علمی کمالات اور کارناموں کے لئے کئی صفحات درکار ہیں ـ

تصنیفاتِ برہانِ ملت:
حضرت برہانِ ملت علیہ الرحمہ کی تصنیف کردہ درجنوں کتابیں ہیں ۔ صرف فتاویٰ کی 19 ضخیم جلدیں ہیں ۔ بہت سی کتب ابھی غیر مطبوعہ ہیں ۔ درجنوں کتب، ہزاروں تلامذہ و مریدین و خلفاء کے علاوہ آپ نے چار صاحبزادے اور چار صاحبزادیاں یاد گار چھوڑے ہیں ۔

آپ کے مزید حالات کے لئے کتاب: ’’ برہانِ ملت کی حیات و خدمات، تالیف: مولانا عبد الوحید مصباحی دام ظلہ ‘‘ کا مطالعہ نہایت مفید ہے ۔

تاریخِ وصال:
26 ربیع الاول 1405ھ، مطابق 20 دسمبر 1984ء، شبِ جمعہ، شام سوا چھ بجے واصل باللہ ہوئے ۔ خانقاہِ سلامیہ جبل پور مدھیہ پردیش ( انڈیا ) میں مدفون ہیں ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-burhan-ul-haq-jabalpuri
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2