حضرت شیخ سید میراں حسین زنجانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ لاہور کے قدیم علماء صوفیاء میں سے تھے ظاہری اور باطنی علوم میں جامع تھے صاحب سیاحت کرامت اور خوارق تھے آپ کو خاندانِ عالیہ جنیدیہ سے خلافت ملی تھی آپ حضرت یعقوب زنجانی کے ہمراہ زنجان سے لاہور آئے تھے بے پناہ لوگ آپ کے حلقۂ ارادت میں جمع ہوئے آپ کی وفات ۶۰۰ھ میں ہوئی [۱] ۔
[۱۔سابقہ صفحات میں فاضل مولٔف نے حضرت مخدوم سید علی الہجویری لاہوری قدس سرہٗ کے حالات میں فوائد الفواد کی ایک روایت نقل کی ہے، جس میں لکھا ہے کہ جس دن حضرت داتا گنج بخش ہجویری وارد لاہور ہوئے حضرت حسین زنجانی کا جنازہ دروازے سے باہر آرہا تھا۔ اور حضرت سید علی ہجویری نے آپ کو خود دفنایا تھا پھر ساتھ ہی یہ لکھا ہے کہ حضرت علی ہجویری کئی سال لاہور میں قیام کرنے کے بعد ۴۶۴ھ میں فوت ہوئے دوسری طرف حضرت شیخ حسین زنجانی کا وصال ۶۰۰ھ لکھا جا رہا ہے یہ روایت کہاں تک درست ہے؟ آیا یہ وہی بزرگ تھے جو داتا گنج بخش کی آمد کے دن جنازہ بردوش نظر آئے (مترجم)۔ ]
شیخ دین میر زبدۂ آفاق
جستم از دل چو سال ترحیلش
پیر واقف حسین زنجانی
گفت عارف حسین زنجانی
۶۰۰ھ
( خزینۃ الاصفیاء )
وصال: 26 ربیع الاول شریف
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-syed-meeran-hussain-zanjani
آپ لاہور کے قدیم علماء صوفیاء میں سے تھے ظاہری اور باطنی علوم میں جامع تھے صاحب سیاحت کرامت اور خوارق تھے آپ کو خاندانِ عالیہ جنیدیہ سے خلافت ملی تھی آپ حضرت یعقوب زنجانی کے ہمراہ زنجان سے لاہور آئے تھے بے پناہ لوگ آپ کے حلقۂ ارادت میں جمع ہوئے آپ کی وفات ۶۰۰ھ میں ہوئی [۱] ۔
[۱۔سابقہ صفحات میں فاضل مولٔف نے حضرت مخدوم سید علی الہجویری لاہوری قدس سرہٗ کے حالات میں فوائد الفواد کی ایک روایت نقل کی ہے، جس میں لکھا ہے کہ جس دن حضرت داتا گنج بخش ہجویری وارد لاہور ہوئے حضرت حسین زنجانی کا جنازہ دروازے سے باہر آرہا تھا۔ اور حضرت سید علی ہجویری نے آپ کو خود دفنایا تھا پھر ساتھ ہی یہ لکھا ہے کہ حضرت علی ہجویری کئی سال لاہور میں قیام کرنے کے بعد ۴۶۴ھ میں فوت ہوئے دوسری طرف حضرت شیخ حسین زنجانی کا وصال ۶۰۰ھ لکھا جا رہا ہے یہ روایت کہاں تک درست ہے؟ آیا یہ وہی بزرگ تھے جو داتا گنج بخش کی آمد کے دن جنازہ بردوش نظر آئے (مترجم)۔ ]
شیخ دین میر زبدۂ آفاق
جستم از دل چو سال ترحیلش
پیر واقف حسین زنجانی
گفت عارف حسین زنجانی
۶۰۰ھ
( خزینۃ الاصفیاء )
وصال: 26 ربیع الاول شریف
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-syed-meeran-hussain-zanjani
scholars.pk
Hazrat Sheikh Syed Meeran Hussain Zanjani
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت سید علاؤ الدین لاہوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
اسمِ گرامی:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا اسمِ گرامی سید علاؤ الدین تھا ۔
بیعت و خلافت:
آپ شیخ سراج الدین رحمۃ اللہ علیہ کے مرید و خلیفہ تھے ۔
سیرت و خصائص:
حضرت سید علاؤالدین لاہوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ابتدائی زمانے میں مالدار اور غنی ہونے کی وجہ سے نہایت ہی شان و شوکت سے رہا کرتے تھے مگر جب شیخ سراج الدین رحمۃ اللہ علیہ کے مرید ہوئے تو سب کچھ چھوڑ کر فقیرانہ اور مستانہ وار گوشہ نشینی اختیار کر لی ۔
شیخ علاؤ الدین بڑے سخی آدمی تھے اور بے انتہا خرچ کیا کرتے تھے۔ آپ کا خرچ اتنا زیادہ تھا کہ جس پر بادشاہ وقت کو بھی رشک ہوتا تھا، یہ حالت دیکھ کر اس وقت کا بادشاہ کہا کرتا تھا کہ میرا خزانہ شیخ کے باپ کے پاس ہے جو انہیں خرچ کرنے کے لیے دیا ہے ۔
اسی مغالطے کی بنا پر بادشاہ نے حکم دیا کہ شیخ میرے شہر سے باہر سنار گاؤں میں چلے جائیں، چنانچہ اس گاؤں میں پہنچ کر شیخ نے اپنے خادموں سے فرمایا کہ پہلے تم جتنا خرچ کرتے تھے اب اس سے دوگنا خرچ کرو، چنانچہ شیخ کے حکم سے پہلے سے دو گنا خرچ ہونے لگا، شیخ کے اخراجات بہت زیادہ تھے لیکن آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ نہ تھا ۔
شیخ کے آبائی دو باغ تھے جن کی سالانہ آمدنی آٹھ ہزار روپے تھی، ان پر ایک آدمی نے ناجائز قبضہ کر رکھا تھا مگر شیخ نے اس سے کبھی واپسی کا مطالبہ نہیں کیا، شیخ کا ہاتھ بہت کھلا ہوا تھا اور لوگوں کو خوب مال دیتے اور فرمایا کرتے تھے کہ میرے شیخ جتنا خرچ کرتے تھے میں اس کا عشر عشیر بھی خرچ نہیں کرتا ۔
تاریخِ وصال:
آپ کی وفات 26 ربیع الاول 800ھ / بمطابق دسمبر 1397ء میں ہوئی۔ آپ کا مزار پنڈوہ میں ہے ۔
ماخذ و مراجع: اخبار الاخیار
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-alauddin-lahori
اسمِ گرامی:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا اسمِ گرامی سید علاؤ الدین تھا ۔
بیعت و خلافت:
آپ شیخ سراج الدین رحمۃ اللہ علیہ کے مرید و خلیفہ تھے ۔
سیرت و خصائص:
حضرت سید علاؤالدین لاہوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ابتدائی زمانے میں مالدار اور غنی ہونے کی وجہ سے نہایت ہی شان و شوکت سے رہا کرتے تھے مگر جب شیخ سراج الدین رحمۃ اللہ علیہ کے مرید ہوئے تو سب کچھ چھوڑ کر فقیرانہ اور مستانہ وار گوشہ نشینی اختیار کر لی ۔
شیخ علاؤ الدین بڑے سخی آدمی تھے اور بے انتہا خرچ کیا کرتے تھے۔ آپ کا خرچ اتنا زیادہ تھا کہ جس پر بادشاہ وقت کو بھی رشک ہوتا تھا، یہ حالت دیکھ کر اس وقت کا بادشاہ کہا کرتا تھا کہ میرا خزانہ شیخ کے باپ کے پاس ہے جو انہیں خرچ کرنے کے لیے دیا ہے ۔
اسی مغالطے کی بنا پر بادشاہ نے حکم دیا کہ شیخ میرے شہر سے باہر سنار گاؤں میں چلے جائیں، چنانچہ اس گاؤں میں پہنچ کر شیخ نے اپنے خادموں سے فرمایا کہ پہلے تم جتنا خرچ کرتے تھے اب اس سے دوگنا خرچ کرو، چنانچہ شیخ کے حکم سے پہلے سے دو گنا خرچ ہونے لگا، شیخ کے اخراجات بہت زیادہ تھے لیکن آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ نہ تھا ۔
شیخ کے آبائی دو باغ تھے جن کی سالانہ آمدنی آٹھ ہزار روپے تھی، ان پر ایک آدمی نے ناجائز قبضہ کر رکھا تھا مگر شیخ نے اس سے کبھی واپسی کا مطالبہ نہیں کیا، شیخ کا ہاتھ بہت کھلا ہوا تھا اور لوگوں کو خوب مال دیتے اور فرمایا کرتے تھے کہ میرے شیخ جتنا خرچ کرتے تھے میں اس کا عشر عشیر بھی خرچ نہیں کرتا ۔
تاریخِ وصال:
آپ کی وفات 26 ربیع الاول 800ھ / بمطابق دسمبر 1397ء میں ہوئی۔ آپ کا مزار پنڈوہ میں ہے ۔
ماخذ و مراجع: اخبار الاخیار
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-alauddin-lahori
scholars.pk
Hazrat Syed Alauddin Lahori
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت سید غوث علی قلندر رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
آپ کا اسمِ گرامی حضرت سید غوث علی شاہ بن سید احمد علی ہے ۔ اورآپ کا سلسلہ نسب بتیس واسطوں سے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر منتہی ہوتا ہے ۔ آپ حسنی و حسین سید ہیں ۔
تاریخِ ولادت:
آپ جمعہ کے دن رمضان کے مہینے میں 1219ھ میں موضع استہاون میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
آپ کے والد ماجد نے آپ کو دہلی بلایا اور آپ کی تعلیم کی ابتدا دہلی میں ہوئی ۔ آپ نے حدیث و فقہ کی کتب حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی اور حضرت مولانا شاہ محمد اسحاق سے پڑھیں ۔ منطق و دینیات کی تعلیم آپ نے مولوی فضل امام صاحب خیر آبادی سے حاصل کی ۔ مثنوی مولانا روم رحمتہ اللہ علیہ آپ نے مولوی قلندر علی جلال آبادی سے پڑھی، آپ نے علم ہیٔت و دیگر علوم ظاہری و باطنی میں دستگاہ حاصل کی ۔ (رحمۃ اللہ علیہم) ـ
بیعت و خلافت:
آپ کئی سلسلوں میں بیعت ہوئے ۔ حضرت لعل شاہ کے روحانی فیوض سے مستفید ہوئے ۔ خاندانِ سہروردیہ میں آپ مرید و خلیفہ حضرت سید فدا حسین رسول شاہی کے ہیں ۔ خاندانِ قادریہ میں آپ مرید و خلیفہ حضرت سید اعظم علی شاہ کے ہیں ۔ نقشبندی سلسلہ میں آپ مرید و خلیفہ حضرت حبیب اللہ شاہ کے ہیں ۔ خاندانِ چشتیہ میں آپ مرید و خلیفہ حضرت امیر الدین کے ہیں ۔ (رحمۃ اللہ علیہم) ـ
سیرت و خصائص:
حضرت سید غوث علی قلندر رحمۃ اللہ علیہ کمالات باطنی میں یکتا اور توحید میں لاثانی تھے ۔ آپ کو نسبت جذب حاصل تھی ۔ ترک و تجرید، قناعت و توکل، ریاضت و مجاہدہ میں اپنی مثال آپ تھے ۔ آپ کی سخاوت کا یہ حال تھا کہ جو کچھ آتا، اسی وقت محتاجوں، بیواؤں اور مسکینوں کو تقسیم کر دیتے تھے ۔ سائل آپ کے پاس سے کبھی خالی ہاتھ نہیں گیا ۔ خوراک آپ کی بہت کم تھی ۔ کھانا سادہ پسند فرماتے تھے ۔ لباس آپ کا سفید اور سادہ ہوتا تھا ۔ رنگین کپڑے نہیں پہنتے تھے ۔ آپ کو علم ظاہر اور علم باطن میں کمال حاصل تھا ۔ آپ منبع شریعت و طریقت تھے ـ
فصاحت، بلاغت اور متانت میں بے نظیر تھے ۔ آپ کی تعلیمات اہل ذوق و شوق اہل تصوف اور اہل عرفان ہی کے لئے مفید نہیں ہیں، بلکہ ہرشخص آپ کی تعلیمات سے خاطر خواہ فائدہ اٹھا سکتا ہے ۔ آپ فرماتے ہیں: "اسلام کی ترقی کا دار و مدار اتفاق، اولو العزمی اور غیرت پر ہے " ۔ آپ نے ہندوستان کی سیر و سیاحت فرمائی ۔ مکہ معظمہ، مدینہ منورہ، بغداد، نجف اشرف، بیت المقدس بھی حاضر ہوئے اور روحانی فیوض و برکات سے مستفید ہوئے ۔ مصر، روم و شام کی سیر و سیاحت فرمائی ۔ بہت سے درویشوں سے ملاقات ہوئی ۔ آپ نواسی بزرگوں سے ملے اور ان کے باطنی فیض سے مستفید ہوئے ۔ آپ نے زندگی کے آخری ایام پانی پت میں گزارے ۔قلندر صاحب کے مزار کے ایک حجرے میں رہتے تھے ۔
تاریخِ وصال:
آپ نے 26 ربیع الاول 1297ھ / بمطابق مارچ 1880ء کواس دار فانی سے کوچ فرمایا ۔ بوقت وفات آپ کی عمر اٹھہتر سال کی تھی ۔ مزار پر انوار پانی پت میں واقع ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرۂ اولیاء پاک و ہند ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-ghous-ali-shah-qalandar
نام و نسب:
آپ کا اسمِ گرامی حضرت سید غوث علی شاہ بن سید احمد علی ہے ۔ اورآپ کا سلسلہ نسب بتیس واسطوں سے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر منتہی ہوتا ہے ۔ آپ حسنی و حسین سید ہیں ۔
تاریخِ ولادت:
آپ جمعہ کے دن رمضان کے مہینے میں 1219ھ میں موضع استہاون میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
آپ کے والد ماجد نے آپ کو دہلی بلایا اور آپ کی تعلیم کی ابتدا دہلی میں ہوئی ۔ آپ نے حدیث و فقہ کی کتب حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی اور حضرت مولانا شاہ محمد اسحاق سے پڑھیں ۔ منطق و دینیات کی تعلیم آپ نے مولوی فضل امام صاحب خیر آبادی سے حاصل کی ۔ مثنوی مولانا روم رحمتہ اللہ علیہ آپ نے مولوی قلندر علی جلال آبادی سے پڑھی، آپ نے علم ہیٔت و دیگر علوم ظاہری و باطنی میں دستگاہ حاصل کی ۔ (رحمۃ اللہ علیہم) ـ
بیعت و خلافت:
آپ کئی سلسلوں میں بیعت ہوئے ۔ حضرت لعل شاہ کے روحانی فیوض سے مستفید ہوئے ۔ خاندانِ سہروردیہ میں آپ مرید و خلیفہ حضرت سید فدا حسین رسول شاہی کے ہیں ۔ خاندانِ قادریہ میں آپ مرید و خلیفہ حضرت سید اعظم علی شاہ کے ہیں ۔ نقشبندی سلسلہ میں آپ مرید و خلیفہ حضرت حبیب اللہ شاہ کے ہیں ۔ خاندانِ چشتیہ میں آپ مرید و خلیفہ حضرت امیر الدین کے ہیں ۔ (رحمۃ اللہ علیہم) ـ
سیرت و خصائص:
حضرت سید غوث علی قلندر رحمۃ اللہ علیہ کمالات باطنی میں یکتا اور توحید میں لاثانی تھے ۔ آپ کو نسبت جذب حاصل تھی ۔ ترک و تجرید، قناعت و توکل، ریاضت و مجاہدہ میں اپنی مثال آپ تھے ۔ آپ کی سخاوت کا یہ حال تھا کہ جو کچھ آتا، اسی وقت محتاجوں، بیواؤں اور مسکینوں کو تقسیم کر دیتے تھے ۔ سائل آپ کے پاس سے کبھی خالی ہاتھ نہیں گیا ۔ خوراک آپ کی بہت کم تھی ۔ کھانا سادہ پسند فرماتے تھے ۔ لباس آپ کا سفید اور سادہ ہوتا تھا ۔ رنگین کپڑے نہیں پہنتے تھے ۔ آپ کو علم ظاہر اور علم باطن میں کمال حاصل تھا ۔ آپ منبع شریعت و طریقت تھے ـ
فصاحت، بلاغت اور متانت میں بے نظیر تھے ۔ آپ کی تعلیمات اہل ذوق و شوق اہل تصوف اور اہل عرفان ہی کے لئے مفید نہیں ہیں، بلکہ ہرشخص آپ کی تعلیمات سے خاطر خواہ فائدہ اٹھا سکتا ہے ۔ آپ فرماتے ہیں: "اسلام کی ترقی کا دار و مدار اتفاق، اولو العزمی اور غیرت پر ہے " ۔ آپ نے ہندوستان کی سیر و سیاحت فرمائی ۔ مکہ معظمہ، مدینہ منورہ، بغداد، نجف اشرف، بیت المقدس بھی حاضر ہوئے اور روحانی فیوض و برکات سے مستفید ہوئے ۔ مصر، روم و شام کی سیر و سیاحت فرمائی ۔ بہت سے درویشوں سے ملاقات ہوئی ۔ آپ نواسی بزرگوں سے ملے اور ان کے باطنی فیض سے مستفید ہوئے ۔ آپ نے زندگی کے آخری ایام پانی پت میں گزارے ۔قلندر صاحب کے مزار کے ایک حجرے میں رہتے تھے ۔
تاریخِ وصال:
آپ نے 26 ربیع الاول 1297ھ / بمطابق مارچ 1880ء کواس دار فانی سے کوچ فرمایا ۔ بوقت وفات آپ کی عمر اٹھہتر سال کی تھی ۔ مزار پر انوار پانی پت میں واقع ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرۂ اولیاء پاک و ہند ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-ghous-ali-shah-qalandar
scholars.pk
Hazrat Ghous Ali Shah Qalandar
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
علامہ مولانا محمد قاسم علوی صاحب
مَوْتُ الْعَالِمِ مَوْتُ الْعَالَمِ
ممتاز العلماء، قائدِ اہلسنّت، استاذ الاساتذہ، رہبرِ قوم و ملت ، ناشرِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، صدرِ اعلیٰ مجلسِ علمائے اسلام مغربی بنگال و بزمِ رضائے مصطفٰے، حضرت علامہ مولانا قاسم علوی صاحب قبلہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا آج بتاریخ 26 دسمبر 2016 بروزِ سوموار بمطابق 26 ربیع الاول 1438 ہجری انتقال ہو گیا ہے ۔
اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن
موصوف اس وقت مغربی بنگال کے سب سے بزرگ ہستی تھے ۔ حضرت کی عمر تقریباً 76 سال تھی ۔ حضرت مولانا قاسم علوی صاحب قبلہ بڑے ملنسار ، خوش اخلاق، نرم دل اور بارعب شخصیت کے مالک تھے، سیدانہ وقار، عالمانہ وجاہت اور خانقاہی انکساری کی جیتی جاگتی مورت تھے..... ہمیشہ بڑے پیار و محبت سے ملتے اور محبت و اپنائیت کے ساتھ " بابو " کہہ کر گفتگو فرماتے .... چہرہ جتنا روبیلا تھا تو اخلاق بہت ہی دل نشیں اور من موہنا تھا ..... پورے مغربی بنگال بہار، اڈیشہ ، اور بارہ بنکی یوپی وغیرہ کے علاقوں میں آپ سے بے پناہ محبت رکھنے والوں کا ایک بڑا حلقہ ہے جن میں علماء کی بھی ایک اچھی بڑی تعداد ہے ۔
شہرِ کلکتہ میں ایک عظیم الشان ادارہ بنامِ " بزمِ رضائے مصطفٰے " قائم فرمایا جہاں درس وتدریس کے علاوہ وعظ و نصیحت اور ذکر و اذکار کا سلسلہ جاری رہتا ۔
اللہ کریم اپنے فضل وکرم سے حضرت کی مغفرت فرمائے اور جوار رحمت میں جگہ عنایت فرمائے ۔
حضرت کے خلفِ صادق کو اہل سنت کیلئے بطور نعم البدل قبول فرمائے ۔
آمین بجاہ النبی الکریم علیہ الصلوة والتسلیم ۔
وصال: 26 ربیع الاول 1438ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/nashir-e-maslak-e-ala-hazrat-allama-molana-qasim-alvi-sahab
مَوْتُ الْعَالِمِ مَوْتُ الْعَالَمِ
ممتاز العلماء، قائدِ اہلسنّت، استاذ الاساتذہ، رہبرِ قوم و ملت ، ناشرِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، صدرِ اعلیٰ مجلسِ علمائے اسلام مغربی بنگال و بزمِ رضائے مصطفٰے، حضرت علامہ مولانا قاسم علوی صاحب قبلہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا آج بتاریخ 26 دسمبر 2016 بروزِ سوموار بمطابق 26 ربیع الاول 1438 ہجری انتقال ہو گیا ہے ۔
اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن
موصوف اس وقت مغربی بنگال کے سب سے بزرگ ہستی تھے ۔ حضرت کی عمر تقریباً 76 سال تھی ۔ حضرت مولانا قاسم علوی صاحب قبلہ بڑے ملنسار ، خوش اخلاق، نرم دل اور بارعب شخصیت کے مالک تھے، سیدانہ وقار، عالمانہ وجاہت اور خانقاہی انکساری کی جیتی جاگتی مورت تھے..... ہمیشہ بڑے پیار و محبت سے ملتے اور محبت و اپنائیت کے ساتھ " بابو " کہہ کر گفتگو فرماتے .... چہرہ جتنا روبیلا تھا تو اخلاق بہت ہی دل نشیں اور من موہنا تھا ..... پورے مغربی بنگال بہار، اڈیشہ ، اور بارہ بنکی یوپی وغیرہ کے علاقوں میں آپ سے بے پناہ محبت رکھنے والوں کا ایک بڑا حلقہ ہے جن میں علماء کی بھی ایک اچھی بڑی تعداد ہے ۔
شہرِ کلکتہ میں ایک عظیم الشان ادارہ بنامِ " بزمِ رضائے مصطفٰے " قائم فرمایا جہاں درس وتدریس کے علاوہ وعظ و نصیحت اور ذکر و اذکار کا سلسلہ جاری رہتا ۔
اللہ کریم اپنے فضل وکرم سے حضرت کی مغفرت فرمائے اور جوار رحمت میں جگہ عنایت فرمائے ۔
حضرت کے خلفِ صادق کو اہل سنت کیلئے بطور نعم البدل قبول فرمائے ۔
آمین بجاہ النبی الکریم علیہ الصلوة والتسلیم ۔
وصال: 26 ربیع الاول 1438ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/nashir-e-maslak-e-ala-hazrat-allama-molana-qasim-alvi-sahab
scholars.pk
Nashir e Maslak e Ala Hazrat Allama Molana Qasim Alvi Sahab
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
محترم صالح سراج الدین بن عثمان حنفی نقشبندی ڈیروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ اخی سراج کے نام سے مشہور تھے اور شیخ نطام الدین اولیاء کے جلیل القدر خلفاء میں سے تھے، خواجہ نظام الدین کے مریدوں میں آپ اور شیخ نصیر الدین محمود چراغ دہلوی کے دونوں سلسلے بہت مشہور ہیں، عین جوانی کے وقت جبکہ آپ کی داڑھی کے بال تک نہ نکلے تھے خواجہ نظام الدین اولیاء کے مرید ہوئے اور چند برس آپ کی خدمت میں رہنے کے بعد اپنی والدہ کی خدمت کے لیے لکھنؤ تی جس کا موجودہ نام گور ہے تشریف لے گئے، چند روز وہاں قیام فرمانے کے بعد پھر واپس شیخ کی خدمت میں حاضر ہو گئے، خلافت دیتے وقت آپ سے شیخ نے فرمایا کہ اس کام میں پہلا مقام علم کو حاصل ہے اور شیخ میں ابھی اتنا علم نہیں ہے، اس پر اس وقت جو لوگ موجود تھے ان میں سے مولانا فخر الدین زرداری نے عرض کیا کہ میں انہیں چھ ماہ میں عالم بنادوں گا، چنانچہ شیخ سراج نے مولانا زرداری سے علم حاصل کیا، مولانا زرداری نے ان کے لیے ایک کتاب بھی بنام عثمانی بھیجی، اس کے بعد شیخ سراج نے مولانا رکن الدین سے کافیہ، مفصل قدوری اور مجمع البحرین پڑھیں، اور حضرت خواجہ نظام الدین کے انتقال کے بعد مزید تین برس تک دیگر درسی کتب کی تحصیل کی پھر شیخ کے موقوفہ کتب خانے سے چند کتابیں، کچھ کپڑے اور خلافت نامہ جو شیخ نے آپ کو دیا تھا لے کر اپنے مقام لکھنؤتی تشریف لے گئے اور دیار کو ولایت کے جمال سے مزین کیا، شیخ نے عین حیات میں آپ کے متعلق فرمایا تھا کہ وہ ہندوستان کا آئینہ ہے ۔
شیخ سراج نے اپنے شیخ سے جو خرقہ وغیرہ حاصل کیا تھا اسے زمین میں دفن کیا اور اس پر قبر بنادی اور انتقال سے پیشتر اپنے ورثاء کو یہ وصیت کی کہ مجھے کپڑوں والی قبر میں دفن کیا جائے چنانچہ بعد انتقال لوگوں نے ایسا ہی کیا، آپ کے خلفاء شہر گور میں مشہور ہیں جو اب تک بھی موجود ہیں، آپ کا قیام بھی اسی شہر میں تھا، شیخ حسام الدین مانکپوری کے ملفوظات میں ہے کہ شیخ سراج الدین عثمان اودھی کے پاس ایک سہروردی درویش مہمان ہوا، عشاء کی نماز سے فراغت کے بعد شیخ سراج کپڑے اتار کر اپنے بستر پر سوگئے اور وہ درویش رات بھر نماز و عبادت میں مشغول رہا، صبح کو بستر سے اٹھ کر شیخ نے رات کے وضو سے فجر کی نماز پڑھی، یہ دیکھ کر اس درویش نے کہا کہ مجھے تعجب ہے کہ آپ تمام رات تو سوتے رہے اور نماز فجر بھی بغیر وضو ادا کی، شیخ سراج نے نہایت ہی متواضعانہ انداز میں کہا کہ آپ بزرگ ہیں، آپ نے تو تمام رات ہی عبادت میں گزار دی اور ہم سامان رکھتے ہیں اور چور تاک میں ہے اس لیے ہم اس کی حفاظت کرتے رہے
اگر عاشق بہ مسجد در نیا مد!
دل عاشق ہمیشہ در نماز است
ترجمہ: (اگر عاشق (حقیقی) عبادت کے لیے مسجد (کسی عذر کی وجہ سے) نہیں آسکتا لیکن اس کا دل ہمیشہ نماز میں مشغول ہے)
(اخبار الاخیار)
صوفی خوشلقا زاہد دلربا مولانا سراج الملۃ والدین عثمان ہیں جو تقوی و طہارت اور زہد و ورع اور مکارم اخلاق اور لطافت طبع میں مشہور اور دوسرے یاروں میں ممتاز و موصوف تھے اور جو سلطان المشائخ کے خلفا میں ایک معزز خلیفہ تھے ان کو لوگ اخی سراج بھی کہتے تھے جو لوگ ملک اودھ اور دیار ہندوستان سے سلطان المشائخ کے غلاموں کے سلسلہ میں داخل ہوئے یہ ان سب سے ارادت میں سابق تھے ۔
سلطان المشائخ کا نفس مبارک ان ہی کے حق میں باین مضمون جاری ہوا ہے کے مولانا سراج الدین آئینہ ہندوستان ہے۔ آپ میں عالم جوانی میں کہ ہنوز ڈاڑھی کے بالوں کا آغاز نہ ہوا تھا۔ لکھنوتی سے آئے اور سلطان المشائخ کے آستانہ پر سرِ ارادت رکھا اور ان یاروں کی صحبت میں پرورش پائی جو سلطان المشائخ کی خدمت و ملازمت میں ہمیشہ زندگی بسر کرتے تھے جب سال تمام ہو جاتا تو آپ اپنی والدہ مکرمہ کو دیکھنے لکھنوتی چلے جاتے اور پھر سلطان المشائخ کی خدمت میں حاضر ہو جاتے۔
آپ بیشتر اوقات سلطان المشائخ کی خدمت میں مجرد الحال اور فارغ البال رہتے اور سلطان المشائخ کے جماعت خانہ کے ایک گوشہ میں اپنی عمر عزیز بسر کرتے حتی کہ کاغذ اور کتاب کہ اس کے علاوہ کوئی سامان و اسباب آپ کے پاس نہ تھا۔ یہ بھی سب کتابت خانہ اور جماعت خانہ میں رکھتے ۔
آپ اخی سراج کے نام سے مشہور تھے اور شیخ نطام الدین اولیاء کے جلیل القدر خلفاء میں سے تھے، خواجہ نظام الدین کے مریدوں میں آپ اور شیخ نصیر الدین محمود چراغ دہلوی کے دونوں سلسلے بہت مشہور ہیں، عین جوانی کے وقت جبکہ آپ کی داڑھی کے بال تک نہ نکلے تھے خواجہ نظام الدین اولیاء کے مرید ہوئے اور چند برس آپ کی خدمت میں رہنے کے بعد اپنی والدہ کی خدمت کے لیے لکھنؤ تی جس کا موجودہ نام گور ہے تشریف لے گئے، چند روز وہاں قیام فرمانے کے بعد پھر واپس شیخ کی خدمت میں حاضر ہو گئے، خلافت دیتے وقت آپ سے شیخ نے فرمایا کہ اس کام میں پہلا مقام علم کو حاصل ہے اور شیخ میں ابھی اتنا علم نہیں ہے، اس پر اس وقت جو لوگ موجود تھے ان میں سے مولانا فخر الدین زرداری نے عرض کیا کہ میں انہیں چھ ماہ میں عالم بنادوں گا، چنانچہ شیخ سراج نے مولانا زرداری سے علم حاصل کیا، مولانا زرداری نے ان کے لیے ایک کتاب بھی بنام عثمانی بھیجی، اس کے بعد شیخ سراج نے مولانا رکن الدین سے کافیہ، مفصل قدوری اور مجمع البحرین پڑھیں، اور حضرت خواجہ نظام الدین کے انتقال کے بعد مزید تین برس تک دیگر درسی کتب کی تحصیل کی پھر شیخ کے موقوفہ کتب خانے سے چند کتابیں، کچھ کپڑے اور خلافت نامہ جو شیخ نے آپ کو دیا تھا لے کر اپنے مقام لکھنؤتی تشریف لے گئے اور دیار کو ولایت کے جمال سے مزین کیا، شیخ نے عین حیات میں آپ کے متعلق فرمایا تھا کہ وہ ہندوستان کا آئینہ ہے ۔
شیخ سراج نے اپنے شیخ سے جو خرقہ وغیرہ حاصل کیا تھا اسے زمین میں دفن کیا اور اس پر قبر بنادی اور انتقال سے پیشتر اپنے ورثاء کو یہ وصیت کی کہ مجھے کپڑوں والی قبر میں دفن کیا جائے چنانچہ بعد انتقال لوگوں نے ایسا ہی کیا، آپ کے خلفاء شہر گور میں مشہور ہیں جو اب تک بھی موجود ہیں، آپ کا قیام بھی اسی شہر میں تھا، شیخ حسام الدین مانکپوری کے ملفوظات میں ہے کہ شیخ سراج الدین عثمان اودھی کے پاس ایک سہروردی درویش مہمان ہوا، عشاء کی نماز سے فراغت کے بعد شیخ سراج کپڑے اتار کر اپنے بستر پر سوگئے اور وہ درویش رات بھر نماز و عبادت میں مشغول رہا، صبح کو بستر سے اٹھ کر شیخ نے رات کے وضو سے فجر کی نماز پڑھی، یہ دیکھ کر اس درویش نے کہا کہ مجھے تعجب ہے کہ آپ تمام رات تو سوتے رہے اور نماز فجر بھی بغیر وضو ادا کی، شیخ سراج نے نہایت ہی متواضعانہ انداز میں کہا کہ آپ بزرگ ہیں، آپ نے تو تمام رات ہی عبادت میں گزار دی اور ہم سامان رکھتے ہیں اور چور تاک میں ہے اس لیے ہم اس کی حفاظت کرتے رہے
اگر عاشق بہ مسجد در نیا مد!
دل عاشق ہمیشہ در نماز است
ترجمہ: (اگر عاشق (حقیقی) عبادت کے لیے مسجد (کسی عذر کی وجہ سے) نہیں آسکتا لیکن اس کا دل ہمیشہ نماز میں مشغول ہے)
(اخبار الاخیار)
صوفی خوشلقا زاہد دلربا مولانا سراج الملۃ والدین عثمان ہیں جو تقوی و طہارت اور زہد و ورع اور مکارم اخلاق اور لطافت طبع میں مشہور اور دوسرے یاروں میں ممتاز و موصوف تھے اور جو سلطان المشائخ کے خلفا میں ایک معزز خلیفہ تھے ان کو لوگ اخی سراج بھی کہتے تھے جو لوگ ملک اودھ اور دیار ہندوستان سے سلطان المشائخ کے غلاموں کے سلسلہ میں داخل ہوئے یہ ان سب سے ارادت میں سابق تھے ۔
سلطان المشائخ کا نفس مبارک ان ہی کے حق میں باین مضمون جاری ہوا ہے کے مولانا سراج الدین آئینہ ہندوستان ہے۔ آپ میں عالم جوانی میں کہ ہنوز ڈاڑھی کے بالوں کا آغاز نہ ہوا تھا۔ لکھنوتی سے آئے اور سلطان المشائخ کے آستانہ پر سرِ ارادت رکھا اور ان یاروں کی صحبت میں پرورش پائی جو سلطان المشائخ کی خدمت و ملازمت میں ہمیشہ زندگی بسر کرتے تھے جب سال تمام ہو جاتا تو آپ اپنی والدہ مکرمہ کو دیکھنے لکھنوتی چلے جاتے اور پھر سلطان المشائخ کی خدمت میں حاضر ہو جاتے۔
آپ بیشتر اوقات سلطان المشائخ کی خدمت میں مجرد الحال اور فارغ البال رہتے اور سلطان المشائخ کے جماعت خانہ کے ایک گوشہ میں اپنی عمر عزیز بسر کرتے حتی کہ کاغذ اور کتاب کہ اس کے علاوہ کوئی سامان و اسباب آپ کے پاس نہ تھا۔ یہ بھی سب کتابت خانہ اور جماعت خانہ میں رکھتے ۔
❤1
الغرض جب بعض اعلیٰ یاروں کو سلطان المشائخ کے فرمان کے بموجب لوگوں نے خلافت کے لیے منتخب کیا تو ان میں ان بزرگ کو بھی شامل کیا اور جب ان تمام بزرگوں کے نام نامی سلطان المشائخ کے سامنے لیے گئے تو مولانا سراج الدین کے بارے میں ارشاد ہوا کہ اس کام میں سب سے پہلا درجہ علم کا ہے اور مولانا سراج الدین علم سے چنداں حصہ رکھتے نہیں جوں ہی یہ بات مولانا فخر الدین زادی کے کان میں پہنچی آپ کی زبانِ مبارک سے نکل گیا کہ میں اسے چھ مہینے میں عالم متبحر اور دانشمند کامل بنادوں گا ـ
چنانچہ مولانا سراج الدین نیکبر سنی میں علم پڑھنا شروع کیا اور کاتب حروف کے ساتھ آغاز تعلم میں میزان اور تصریف اور قواعد اور اس کے مقدمات کی تحقیق کی۔ خود مولانا فخر الدین رحمۃ اللہ علیہ نے ان کے لیے ایک مختصر و مفصل تصریف تالیف کی اور اس کا نام عثمانی رکھا۔ جب تک مولانا فخر الدین غیاث پور میں رہے آپ کو برابر پڑھاتے رہے بعدہ آپ مولانا رکن الدین اندر پتی کی خدمت میں پہنچے اور کاتب حروف کے ساتھ کافیہ۔ مفصل۔ قدوری۔ مجمع البحرین کی تحقیق میں مصروف رہے بہت تھوڑے دنوں میں افادت کے مرتبہ میں پہنچ گئے اور سلطان المشائخ کے خلافت نامہ سے جس پر حضور کی مہر کا نشان تھا مشرف ہوئے۔
قبل اس کے کہ مولانا سراج الدین ہندوستان کا عزم کرتے شیخ نصیر الدین محمود خلافت نامہ لے کر اودھ میں پہنچے۔ اس کے بعد آپ سلطان المشائخ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اب بھی تعلیم و تعلم میں مشغول رہے جب سلطان المشائخ جنت میں تشریف لے گئے تو اس کے تین سال بعد تک بھی تعلیم و تعلم میں مستغرق رہے اور سلطان المشائخ جعل اللہ الجنتہ مثواہ کے خطیرۂ اقدس میں گنبد کے اندر رہے۔ جب مخلوق دیار دیوگیر کی طرف جلا وطن کی گئی تو مولانا سراج الدین لکھنوتی میں تشریف لے گئے اور کچھ کتابیں حضرت سلطان المشائخ کے کتاب خانہ سے جو طلبہ کے لیے وقف تھا مطالعہ کے لیے ساتھ لیتے گئے۔
علاوہ اس کے سلطان المشائخ کے وہ کپڑے جو آپ نے وقتاً فوقتاً حضور سے پائے تھے وہ بھی ساتھ لے گئے اور اس طرف کے شہروں کو اپنے جمال ولایت سے آراستہ و منور کیا اور خلق خدا سے بیعت لینی شروع کی۔ چنانچہ اس ملک کے بادشاہ آپ کے مریدوں کے سلسلہ میں داخل ہوئے۔ مولانا سراج الدین نے عمر بہت پائی اور نہایت مقصدوری اور کامیابی کے ساتھ زندگی بسر کی۔
آپ نے آخر عمر میں مولانا رکن الدین اندر پتی کے لیے جو آپ کے استاد تھے اور کاتب حروف کے واسطے جو آپ کا ہم سبق تھا بطریق یادگار چند تنکہ چاندیکے روانہ کیئے اور پچھلے حقوق کی رعایت کما حقہ مرعی رکھی (حق تعالیٰ ان سے قبول فرمائے آمین۔) جب آپ کے انتقال کا وقت قریب آلگا تو اطراف لکھنوتی میں اپنے مدفن کے لیے ایک نہایت عمدہ مقام پسند کیا اول اس مقام میں آپ نے سلطان المشائخ کے وہ کپڑے جو اپنے ہمراہ لے گئے تھیبہ تعظیم تمام دفن کئے اور اسے بصورت قبر بنایا بعدہ جب انتقال ہونے لگا تو وصیت کی کہ مجھے سلطان المشائخ کے کپڑوں کی قبر کی پائینتی دفن کرنا چاہیے۔
چنانچہ جب آپ کا وصال ہوا تو سلطان المشائخ کے کپڑوں کی قبر کی پائینتی آپ کا مدفن قرار پایا رحمۃ اللہ علیہ رحمۃً واسعتہ۔ مولانا سراج الدین کا روضہ متبرکہ سلطان المشائخ کے کپڑوں کی برکت سے قبلۂ ہندوستان ہے اور آپ کے خلفا اس زمانہ تک ان شہروں میں خلق خدا سے بیعت لیتے ہیں ۔
( سِیَر الاولیاء )
یوم ولادت: 15 محرم الحرام 1297ھ
یوم وصال: 26 ربیع الاول 1333 ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/mohtaram-saleh-sirajuddin-bin-usman-hanafi-naqshbandi
چنانچہ مولانا سراج الدین نیکبر سنی میں علم پڑھنا شروع کیا اور کاتب حروف کے ساتھ آغاز تعلم میں میزان اور تصریف اور قواعد اور اس کے مقدمات کی تحقیق کی۔ خود مولانا فخر الدین رحمۃ اللہ علیہ نے ان کے لیے ایک مختصر و مفصل تصریف تالیف کی اور اس کا نام عثمانی رکھا۔ جب تک مولانا فخر الدین غیاث پور میں رہے آپ کو برابر پڑھاتے رہے بعدہ آپ مولانا رکن الدین اندر پتی کی خدمت میں پہنچے اور کاتب حروف کے ساتھ کافیہ۔ مفصل۔ قدوری۔ مجمع البحرین کی تحقیق میں مصروف رہے بہت تھوڑے دنوں میں افادت کے مرتبہ میں پہنچ گئے اور سلطان المشائخ کے خلافت نامہ سے جس پر حضور کی مہر کا نشان تھا مشرف ہوئے۔
قبل اس کے کہ مولانا سراج الدین ہندوستان کا عزم کرتے شیخ نصیر الدین محمود خلافت نامہ لے کر اودھ میں پہنچے۔ اس کے بعد آپ سلطان المشائخ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اب بھی تعلیم و تعلم میں مشغول رہے جب سلطان المشائخ جنت میں تشریف لے گئے تو اس کے تین سال بعد تک بھی تعلیم و تعلم میں مستغرق رہے اور سلطان المشائخ جعل اللہ الجنتہ مثواہ کے خطیرۂ اقدس میں گنبد کے اندر رہے۔ جب مخلوق دیار دیوگیر کی طرف جلا وطن کی گئی تو مولانا سراج الدین لکھنوتی میں تشریف لے گئے اور کچھ کتابیں حضرت سلطان المشائخ کے کتاب خانہ سے جو طلبہ کے لیے وقف تھا مطالعہ کے لیے ساتھ لیتے گئے۔
علاوہ اس کے سلطان المشائخ کے وہ کپڑے جو آپ نے وقتاً فوقتاً حضور سے پائے تھے وہ بھی ساتھ لے گئے اور اس طرف کے شہروں کو اپنے جمال ولایت سے آراستہ و منور کیا اور خلق خدا سے بیعت لینی شروع کی۔ چنانچہ اس ملک کے بادشاہ آپ کے مریدوں کے سلسلہ میں داخل ہوئے۔ مولانا سراج الدین نے عمر بہت پائی اور نہایت مقصدوری اور کامیابی کے ساتھ زندگی بسر کی۔
آپ نے آخر عمر میں مولانا رکن الدین اندر پتی کے لیے جو آپ کے استاد تھے اور کاتب حروف کے واسطے جو آپ کا ہم سبق تھا بطریق یادگار چند تنکہ چاندیکے روانہ کیئے اور پچھلے حقوق کی رعایت کما حقہ مرعی رکھی (حق تعالیٰ ان سے قبول فرمائے آمین۔) جب آپ کے انتقال کا وقت قریب آلگا تو اطراف لکھنوتی میں اپنے مدفن کے لیے ایک نہایت عمدہ مقام پسند کیا اول اس مقام میں آپ نے سلطان المشائخ کے وہ کپڑے جو اپنے ہمراہ لے گئے تھیبہ تعظیم تمام دفن کئے اور اسے بصورت قبر بنایا بعدہ جب انتقال ہونے لگا تو وصیت کی کہ مجھے سلطان المشائخ کے کپڑوں کی قبر کی پائینتی دفن کرنا چاہیے۔
چنانچہ جب آپ کا وصال ہوا تو سلطان المشائخ کے کپڑوں کی قبر کی پائینتی آپ کا مدفن قرار پایا رحمۃ اللہ علیہ رحمۃً واسعتہ۔ مولانا سراج الدین کا روضہ متبرکہ سلطان المشائخ کے کپڑوں کی برکت سے قبلۂ ہندوستان ہے اور آپ کے خلفا اس زمانہ تک ان شہروں میں خلق خدا سے بیعت لیتے ہیں ۔
( سِیَر الاولیاء )
یوم ولادت: 15 محرم الحرام 1297ھ
یوم وصال: 26 ربیع الاول 1333 ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/mohtaram-saleh-sirajuddin-bin-usman-hanafi-naqshbandi
scholars.pk
Mohtaram Saleh Sirajuddin Bin Usman Hanafi Naqshbandi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت شاہ صاحب عالم مارہروی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
سید شاہ صاحب عالم بن شاہ مخدوم عالم بن شاہ مقبول عالم ابن شاہ نجات اللہ بن شاہ برکت اللہ مارہروی (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ علیہ الرحمہ کی ولادت 26 ربیع الاول 1211ھ / بمطابق ستمبر 1796ء میں ہوئی ۔
سیرت و خصائص:
آپ علیہ الرحمہ جلیل القدر عالم اور ایک بلند پایہ شیخِ کامل تھے ۔ آپ " خاندانِ مارہرہ مطہرہ " کے چشم و چراغ تھے ۔ آپ اپنے خاندان کے علمی و روحانی وارث تھے ۔ آپ اپنے سلسلہ کی ترویج و ترقی کے لئے بہت کوشاں رہے ۔ تمام علومِ متداولہ پر کامل مہارت رکھتے تھے ۔
عربی، فارسی ، اردو، ہندی کے زبردست شاعر و ادیب تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ مرزا غالب کے بہت سے خطوط آپ کے نام ملتے ہیں ۔ ایک مقام پر مرزا غالب نے " بطورِ مزاح " آپ کو لکھا: " پیر و مرشد کے سنِ ولادت کا مادہ " تاریخ " ہے اور غلام کا " تاریخا " ۔ آپ مخلوق کی ذہنی و اخلاقی تربیت فرماتے تھے ۔ خلافِ شریعت کاموں کو ناپسند کرتے تھے، اور خلافِ شرع کام کرنے پر ایسی زجرو توبیخ کرتے کہ وہ شخص فوراً آپ کے ہاتھ پر توبہ کر لیتا ۔
وصال:
آپ کا وصال 2 محرم 1288ھ / بمطابق مارچ 1871ء میں ہوا ۔ درگاہ معلیٰ مارہرہ میں جانبِ عرب دفن ہوئے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-shah-alam-marharwi
نام و نسب:
سید شاہ صاحب عالم بن شاہ مخدوم عالم بن شاہ مقبول عالم ابن شاہ نجات اللہ بن شاہ برکت اللہ مارہروی (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ علیہ الرحمہ کی ولادت 26 ربیع الاول 1211ھ / بمطابق ستمبر 1796ء میں ہوئی ۔
سیرت و خصائص:
آپ علیہ الرحمہ جلیل القدر عالم اور ایک بلند پایہ شیخِ کامل تھے ۔ آپ " خاندانِ مارہرہ مطہرہ " کے چشم و چراغ تھے ۔ آپ اپنے خاندان کے علمی و روحانی وارث تھے ۔ آپ اپنے سلسلہ کی ترویج و ترقی کے لئے بہت کوشاں رہے ۔ تمام علومِ متداولہ پر کامل مہارت رکھتے تھے ۔
عربی، فارسی ، اردو، ہندی کے زبردست شاعر و ادیب تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ مرزا غالب کے بہت سے خطوط آپ کے نام ملتے ہیں ۔ ایک مقام پر مرزا غالب نے " بطورِ مزاح " آپ کو لکھا: " پیر و مرشد کے سنِ ولادت کا مادہ " تاریخ " ہے اور غلام کا " تاریخا " ۔ آپ مخلوق کی ذہنی و اخلاقی تربیت فرماتے تھے ۔ خلافِ شریعت کاموں کو ناپسند کرتے تھے، اور خلافِ شرع کام کرنے پر ایسی زجرو توبیخ کرتے کہ وہ شخص فوراً آپ کے ہاتھ پر توبہ کر لیتا ۔
وصال:
آپ کا وصال 2 محرم 1288ھ / بمطابق مارچ 1871ء میں ہوا ۔ درگاہ معلیٰ مارہرہ میں جانبِ عرب دفن ہوئے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-shah-alam-marharwi
scholars.pk
Hazrat Syed Shah Alam Marharwi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، حضرت مولانا مفتی برہان الحق جبل پوری رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: خلیفۂ اعلیٰ حضرت مولانا مفتی برہان الحق جبل پوری ـ لقب: برہانِ ملت،برہان الدین، برہان السنت، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، ممدوحِ اعلیٰ حضرت، مظہرِ شریعت ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت علامہ مولانا مفتی برہان الحق جبل پوری بن عید الاسلام حضرت علامہ مولانا شاہ عبد السلام جبل پوری بن مولانا شاہ محمد عبد الکریم قادری نقشبندی بن مولانا شاہ محمد عبد الرحمن بن مولانا شاہ محمد عبد الرحیم بن مولانا شاہ محمد عبد اللہ بن مولانا شاہ محمد فتح بن مولانا شاہ محمد ناصر بن مولانا شاہ محمد عبد الوہاب صدیقی طائفی ۔ علیہم الرحمۃ والرضوان ۔
آپ کا خاندانی تعلق حضرت سیدنا صدیق اکبر سے ہے ۔ نویں پشت میں آپ کے جد اعلیٰ حضرت شاہ عبد الوہاب صدیقی سلطنتِ آصفیہ کے دورِ حکومت میں نواب صلابت جنگ بہادر کے ساتھ طائف سے ہندوستان تشریف لائے، اور حیدر آباد دکن میں سکونت اختیار کی۔ یہاں حکومتِ آصفیہ کی جانب سے مکہ مسجد کی امامت اور محکمۂ مذہبی امور کے جلیل القدر عہدے پر مامور ہوئے ۔ آپ کے خاندان میں مسلسل پانچ پشتوں میں پانچویں آصف جاہ کے زمانے تک برابر قائم رہا ۔
مولانا برہان الحق کے جد امجد مولانا شاہ عبد الکریم (م16/رمضان المبارک 1317ھ) اپنے وقت کے جید عالم اور شیخِ طریقت تھے ۔ تمام علومِ عقلیہ ونقلیہ کے ماہر کامل اور بالخصوص فقہ اور علم طب میں یگانۂ روزگار تھے ۔ حضرت برہانِ ملت کے والد گرامی عید الاسلام حضرت شاہ عبدالسلام جبل پوری اعلیٰ حضرت کے محبوب خلیفہ تھے۔ اعلیٰ حضرت اور آپ کے شہزادگان کا اس خاندان سے جو قرب رہا وہ انہیں کا خاصہ ہے ۔ کسی دوسرے گھرانے اور خاندان کو یہ شرف حاصل نہ ہوا۔ انہیں کی محبت میں اعلیٰ حضرت بریلی سے جبل پور تشریف لےگئے اور پھر مفتیِ اعظم ہند ایک ماہ سے زائد قیام فرما کر ان کو شرف بخشا ۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت مولانا پروفیسر مسعود احمد رقم طراز ہیں ۔ ’’کہ یہ امتیاز صرف آپ کے خاندان کو حاصل ہےکہ آپ کے خاندان کے تین جلیل القدر شخصیات کو امام احمد رضا سے خلافت حاصل ہے، اور آپ کے خاندان کو یہ بھی امتیاز حاصل ہواکہ امام احمد رضا کے خاندان کے باہر پہلے خلیفہ حضرت عید الاسلام مولانا عبد السلام قادری رضوی ہوئے اور حضرت مفتی برہان الحق قادری رضوی آخری خلیفہ ہوئے، جبکہ خاندان کے اندر یہ امتیاز صرف حجت الاسلام مولانا حامد رضا خان قادری رضوی کو حاصل ہوا کہ وہ پہلے خلیفہ اور حضرت مفتی اعظم ہند مصطفیٰ رضا خاں قادری رضوی آخری خلیفہ ہوئے ‘‘ ۔ ( جذباتِ برہان ، ص:12)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز جمعرات 21 ربیع الاول 1310ھ مطابق 13 اکتوبر 1894ء کو بعد نمازِ فجر پیدا ہوئے ۔ آپ کے جد امجد مولانا شاہ محمد عبد الکریم نقشبندی نماز فجر کے بعد قرآن مجید کی تلاوت فرما رہے تھے ۔ جب برہان ملت کی دادی محترمہ نے ولادت کی خبر سنائی تو اس وقت آیت کریمہ ’’ قد جاءکم برھان من ربکم ‘‘ جاری بزبان تھی ۔ خبر سنتے ہی فرمایا کہ ’’ الحمد للہ! برھان آ گیا ‘‘ ۔ (برھانِ ملت کی حیات و خدمات ، ص: 42) ـ
تحصیلِ علم:
حضرت برہانِ ملت کی ولادت باسعادت ایک علمی و روحانی گھرانے میں ہوئی۔جہاں شب و روز قال اللہ اور قال رسول اللہ ﷺ کا درس جاری رہتا تھا۔جس گھرانے سے پورا عالم اسلام رشد و ہدایت حاصل کر رہا تھا ۔ لہذا آپ پانچ سال کی عمر کو پہنچتے ہی کافی باشعور و صاحبِ فراست ہو گئے تھے ۔ اس کم عمری ہی میں آپ اپنے تمام ہم عمر بچوں میں بالکل ممتاز و منفرد اورایک نرالی شان رکھتے تھے ۔
چونکہ آپ کی والدہ ماجدہ اپنے وقت کی ولیہ اور رابعہ بصریہ تھیں۔ سنت و شریعت کی عاملہ اور عشقِ مصطفیٰ ﷺ سے سرشار تھیں ۔ لہذا ان کی حسنِ تربیت نے علم کی محبت اور حصول ِعلم کا جذبہ آپ کے دل میں پیدا کردیا۔ پانچ برس کی عمر 21 ربیع الاول 1315ھ کو آپ کے جد امجد نے ’’بسم اللہ شریف‘‘ کی افتتاح فرمائی ۔ عربی والد ماجد سے، فارسی چچا حافظ بشیر الدین صاحب سےپڑھی۔ اسی طرح آپ نے ناظرہ سے لے کر علوم ِ عقلیہ و نقلیہ کی تکمیل اپنے آبائی مکان جبل پور میں کی۔
اعلیٰ حضرت سے شرفِ تلمذ:
حضرت برہانِ ملت فرماتے ہیں: ’’دورانِ درس، گفتگو کے درمیان اکثر و بیشتر اعلیٰ حضرت کا ذکرِ خیر ہوتا تو میرادل زیارت اور قدم بوسی کی تمنا میں بےتاب ہوجاتا‘‘۔ تکمیلِ علوم کےبعد بھی ایک خواہش باقی تھی کہ مجددِ وقت امام اہل سنت کے بحرِ بےکنار سے کچھ موتی چُنوں۔بالآخرآپ کی یہ تمنا شوال المکرم 1332ھ کے دوسرے ہفتے میں پوری ہوئی ۔ جب آپ اعلیٰ حضرت کی خدمت میں پہلی مرتبہ حاضر ہوئے،تو انہوں نے آپ کے چہرے کے خدوخال اور آثار وقرائن سے اول ملاقات میں ہی آپ کی ذہانت و فطانت اور آثارِ سعادت کو محسوس فرمالیا تھا۔اس لئے پہلی ملاقات ہی میں فرمادیا تھا: ’’اللہ تعالیٰ تمہیں برہان الحق،برہان الدین اور برہان السنت بنائے‘‘۔
نام و نسب:
اسم گرامی: خلیفۂ اعلیٰ حضرت مولانا مفتی برہان الحق جبل پوری ـ لقب: برہانِ ملت،برہان الدین، برہان السنت، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، ممدوحِ اعلیٰ حضرت، مظہرِ شریعت ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت علامہ مولانا مفتی برہان الحق جبل پوری بن عید الاسلام حضرت علامہ مولانا شاہ عبد السلام جبل پوری بن مولانا شاہ محمد عبد الکریم قادری نقشبندی بن مولانا شاہ محمد عبد الرحمن بن مولانا شاہ محمد عبد الرحیم بن مولانا شاہ محمد عبد اللہ بن مولانا شاہ محمد فتح بن مولانا شاہ محمد ناصر بن مولانا شاہ محمد عبد الوہاب صدیقی طائفی ۔ علیہم الرحمۃ والرضوان ۔
آپ کا خاندانی تعلق حضرت سیدنا صدیق اکبر سے ہے ۔ نویں پشت میں آپ کے جد اعلیٰ حضرت شاہ عبد الوہاب صدیقی سلطنتِ آصفیہ کے دورِ حکومت میں نواب صلابت جنگ بہادر کے ساتھ طائف سے ہندوستان تشریف لائے، اور حیدر آباد دکن میں سکونت اختیار کی۔ یہاں حکومتِ آصفیہ کی جانب سے مکہ مسجد کی امامت اور محکمۂ مذہبی امور کے جلیل القدر عہدے پر مامور ہوئے ۔ آپ کے خاندان میں مسلسل پانچ پشتوں میں پانچویں آصف جاہ کے زمانے تک برابر قائم رہا ۔
مولانا برہان الحق کے جد امجد مولانا شاہ عبد الکریم (م16/رمضان المبارک 1317ھ) اپنے وقت کے جید عالم اور شیخِ طریقت تھے ۔ تمام علومِ عقلیہ ونقلیہ کے ماہر کامل اور بالخصوص فقہ اور علم طب میں یگانۂ روزگار تھے ۔ حضرت برہانِ ملت کے والد گرامی عید الاسلام حضرت شاہ عبدالسلام جبل پوری اعلیٰ حضرت کے محبوب خلیفہ تھے۔ اعلیٰ حضرت اور آپ کے شہزادگان کا اس خاندان سے جو قرب رہا وہ انہیں کا خاصہ ہے ۔ کسی دوسرے گھرانے اور خاندان کو یہ شرف حاصل نہ ہوا۔ انہیں کی محبت میں اعلیٰ حضرت بریلی سے جبل پور تشریف لےگئے اور پھر مفتیِ اعظم ہند ایک ماہ سے زائد قیام فرما کر ان کو شرف بخشا ۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت مولانا پروفیسر مسعود احمد رقم طراز ہیں ۔ ’’کہ یہ امتیاز صرف آپ کے خاندان کو حاصل ہےکہ آپ کے خاندان کے تین جلیل القدر شخصیات کو امام احمد رضا سے خلافت حاصل ہے، اور آپ کے خاندان کو یہ بھی امتیاز حاصل ہواکہ امام احمد رضا کے خاندان کے باہر پہلے خلیفہ حضرت عید الاسلام مولانا عبد السلام قادری رضوی ہوئے اور حضرت مفتی برہان الحق قادری رضوی آخری خلیفہ ہوئے، جبکہ خاندان کے اندر یہ امتیاز صرف حجت الاسلام مولانا حامد رضا خان قادری رضوی کو حاصل ہوا کہ وہ پہلے خلیفہ اور حضرت مفتی اعظم ہند مصطفیٰ رضا خاں قادری رضوی آخری خلیفہ ہوئے ‘‘ ۔ ( جذباتِ برہان ، ص:12)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز جمعرات 21 ربیع الاول 1310ھ مطابق 13 اکتوبر 1894ء کو بعد نمازِ فجر پیدا ہوئے ۔ آپ کے جد امجد مولانا شاہ محمد عبد الکریم نقشبندی نماز فجر کے بعد قرآن مجید کی تلاوت فرما رہے تھے ۔ جب برہان ملت کی دادی محترمہ نے ولادت کی خبر سنائی تو اس وقت آیت کریمہ ’’ قد جاءکم برھان من ربکم ‘‘ جاری بزبان تھی ۔ خبر سنتے ہی فرمایا کہ ’’ الحمد للہ! برھان آ گیا ‘‘ ۔ (برھانِ ملت کی حیات و خدمات ، ص: 42) ـ
تحصیلِ علم:
حضرت برہانِ ملت کی ولادت باسعادت ایک علمی و روحانی گھرانے میں ہوئی۔جہاں شب و روز قال اللہ اور قال رسول اللہ ﷺ کا درس جاری رہتا تھا۔جس گھرانے سے پورا عالم اسلام رشد و ہدایت حاصل کر رہا تھا ۔ لہذا آپ پانچ سال کی عمر کو پہنچتے ہی کافی باشعور و صاحبِ فراست ہو گئے تھے ۔ اس کم عمری ہی میں آپ اپنے تمام ہم عمر بچوں میں بالکل ممتاز و منفرد اورایک نرالی شان رکھتے تھے ۔
چونکہ آپ کی والدہ ماجدہ اپنے وقت کی ولیہ اور رابعہ بصریہ تھیں۔ سنت و شریعت کی عاملہ اور عشقِ مصطفیٰ ﷺ سے سرشار تھیں ۔ لہذا ان کی حسنِ تربیت نے علم کی محبت اور حصول ِعلم کا جذبہ آپ کے دل میں پیدا کردیا۔ پانچ برس کی عمر 21 ربیع الاول 1315ھ کو آپ کے جد امجد نے ’’بسم اللہ شریف‘‘ کی افتتاح فرمائی ۔ عربی والد ماجد سے، فارسی چچا حافظ بشیر الدین صاحب سےپڑھی۔ اسی طرح آپ نے ناظرہ سے لے کر علوم ِ عقلیہ و نقلیہ کی تکمیل اپنے آبائی مکان جبل پور میں کی۔
اعلیٰ حضرت سے شرفِ تلمذ:
حضرت برہانِ ملت فرماتے ہیں: ’’دورانِ درس، گفتگو کے درمیان اکثر و بیشتر اعلیٰ حضرت کا ذکرِ خیر ہوتا تو میرادل زیارت اور قدم بوسی کی تمنا میں بےتاب ہوجاتا‘‘۔ تکمیلِ علوم کےبعد بھی ایک خواہش باقی تھی کہ مجددِ وقت امام اہل سنت کے بحرِ بےکنار سے کچھ موتی چُنوں۔بالآخرآپ کی یہ تمنا شوال المکرم 1332ھ کے دوسرے ہفتے میں پوری ہوئی ۔ جب آپ اعلیٰ حضرت کی خدمت میں پہلی مرتبہ حاضر ہوئے،تو انہوں نے آپ کے چہرے کے خدوخال اور آثار وقرائن سے اول ملاقات میں ہی آپ کی ذہانت و فطانت اور آثارِ سعادت کو محسوس فرمالیا تھا۔اس لئے پہلی ملاقات ہی میں فرمادیا تھا: ’’اللہ تعالیٰ تمہیں برہان الحق،برہان الدین اور برہان السنت بنائے‘‘۔
❤2