🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
25-03-1445 ᴴ | 11-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ لڑکوں کا | مردوں کا ناک کان چھدوانا یا چھدوانے کی منت ماننا کیسا ہے ؟
25-03-1445 ᴴ | 11-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت شیخ ابراہیم بن اسماعیل (زاہد صفار) رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ابراہیم بن اسمٰعیل بن احمد بن اسحٰق بن شیث بن حکم المعروف بہ زاہد صفار: ابو اسحٰق کنیت اور رکن الاسلام لقب [1] تھا، آپ اور آپ کے آباء و اجداد افاضل علمائے حنفیہ سے تھے اور اپنے وقت کے امام گزرے ہیں، آپ بڑے زاہد و پرہیز گار اور دین کے معاملہ میں کسی سے کچھ خوف نہ کرتے تھے، آپ کے باپ کو سلطان سنجر بن ملک شاہ نے شہر مرو میں لا کر بسایا۔
آپ نے فقہ اپنے والد سے پڑھی اور نیز ان سے کتاب آثار الطحاوی اور کتاب کشف کو جو امام اعظم کے مناقب میں عبداللہ بن محمد بن یعقوب حارثی نے لکھی ہے،سُنا اور امام اعظم کی کتاب عالم و متعلم کو ابی یعقوب سیّاری سے اور امام محمد کی کتاب سیر الکبیر کو ابی حفص سے سماعت کیا۔حدیث کو اپنے والد اور حافظ ابی حفص عمر بن منصور بن حبیب اور ابی محمد بن عبد الملک بن عبد الرحمٰن وغیرہ سے حاصل کیا ۔
صفار آپ کو اس لیے کہا کرتے تھےکہ آپ کانسی کے برتن بیچا کرتے تھے۔آپ نےکتاب تخلیص الزاہد اور کتاب السنۃ والجماعۃ وغیرہ تصنیف کیں اور فخر الدین قاضیخان حسن بن منصور وغیرہ بڑے بڑے فضلاء نے آپ سے استفادہ کیا۔
وصال:
26 ربیع الاول کو بخارا میں فوت ہوئے ۔ تاریخ وفات آپ کی فرید الدہر ہے ۔
آپ کے ایک بیٹے ابو المجاہد حماد بن ابراہیم صفار تھے جو بخارا کی جامع مسجد میں جمعہ کےروز امامت کرتے تھے اور علم ادب اصول و حدیث میں بڑے ماہر تھے جنہوں نے حدیث کو اپنے والد ماجد اور ابی علی اسمٰعیل بن احمد حسین بہیقی سے سُنا اور روایت کیا اور سمعانی شافعی نے کہا کہ میں نے بخارا میں آپ سے ملاقات توکی ہے مگر کچھ نہیں سُنا ۔
1۔ ولادت عدود ۴۶۰ھ ’’جواہر المضیۃ‘‘(مرتب)
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-ibrahim-bin-ismail-zahid-saffar
ابراہیم بن اسمٰعیل بن احمد بن اسحٰق بن شیث بن حکم المعروف بہ زاہد صفار: ابو اسحٰق کنیت اور رکن الاسلام لقب [1] تھا، آپ اور آپ کے آباء و اجداد افاضل علمائے حنفیہ سے تھے اور اپنے وقت کے امام گزرے ہیں، آپ بڑے زاہد و پرہیز گار اور دین کے معاملہ میں کسی سے کچھ خوف نہ کرتے تھے، آپ کے باپ کو سلطان سنجر بن ملک شاہ نے شہر مرو میں لا کر بسایا۔
آپ نے فقہ اپنے والد سے پڑھی اور نیز ان سے کتاب آثار الطحاوی اور کتاب کشف کو جو امام اعظم کے مناقب میں عبداللہ بن محمد بن یعقوب حارثی نے لکھی ہے،سُنا اور امام اعظم کی کتاب عالم و متعلم کو ابی یعقوب سیّاری سے اور امام محمد کی کتاب سیر الکبیر کو ابی حفص سے سماعت کیا۔حدیث کو اپنے والد اور حافظ ابی حفص عمر بن منصور بن حبیب اور ابی محمد بن عبد الملک بن عبد الرحمٰن وغیرہ سے حاصل کیا ۔
صفار آپ کو اس لیے کہا کرتے تھےکہ آپ کانسی کے برتن بیچا کرتے تھے۔آپ نےکتاب تخلیص الزاہد اور کتاب السنۃ والجماعۃ وغیرہ تصنیف کیں اور فخر الدین قاضیخان حسن بن منصور وغیرہ بڑے بڑے فضلاء نے آپ سے استفادہ کیا۔
وصال:
26 ربیع الاول کو بخارا میں فوت ہوئے ۔ تاریخ وفات آپ کی فرید الدہر ہے ۔
آپ کے ایک بیٹے ابو المجاہد حماد بن ابراہیم صفار تھے جو بخارا کی جامع مسجد میں جمعہ کےروز امامت کرتے تھے اور علم ادب اصول و حدیث میں بڑے ماہر تھے جنہوں نے حدیث کو اپنے والد ماجد اور ابی علی اسمٰعیل بن احمد حسین بہیقی سے سُنا اور روایت کیا اور سمعانی شافعی نے کہا کہ میں نے بخارا میں آپ سے ملاقات توکی ہے مگر کچھ نہیں سُنا ۔
1۔ ولادت عدود ۴۶۰ھ ’’جواہر المضیۃ‘‘(مرتب)
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-ibrahim-bin-ismail-zahid-saffar
scholars.pk
Hazrat Sheikh Ibrahim Bin Ismail
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت شیخ سید میراں حسین زنجانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ لاہور کے قدیم علماء صوفیاء میں سے تھے ظاہری اور باطنی علوم میں جامع تھے صاحب سیاحت کرامت اور خوارق تھے آپ کو خاندانِ عالیہ جنیدیہ سے خلافت ملی تھی آپ حضرت یعقوب زنجانی کے ہمراہ زنجان سے لاہور آئے تھے بے پناہ لوگ آپ کے حلقۂ ارادت میں جمع ہوئے آپ کی وفات ۶۰۰ھ میں ہوئی [۱] ۔
[۱۔سابقہ صفحات میں فاضل مولٔف نے حضرت مخدوم سید علی الہجویری لاہوری قدس سرہٗ کے حالات میں فوائد الفواد کی ایک روایت نقل کی ہے، جس میں لکھا ہے کہ جس دن حضرت داتا گنج بخش ہجویری وارد لاہور ہوئے حضرت حسین زنجانی کا جنازہ دروازے سے باہر آرہا تھا۔ اور حضرت سید علی ہجویری نے آپ کو خود دفنایا تھا پھر ساتھ ہی یہ لکھا ہے کہ حضرت علی ہجویری کئی سال لاہور میں قیام کرنے کے بعد ۴۶۴ھ میں فوت ہوئے دوسری طرف حضرت شیخ حسین زنجانی کا وصال ۶۰۰ھ لکھا جا رہا ہے یہ روایت کہاں تک درست ہے؟ آیا یہ وہی بزرگ تھے جو داتا گنج بخش کی آمد کے دن جنازہ بردوش نظر آئے (مترجم)۔ ]
شیخ دین میر زبدۂ آفاق
جستم از دل چو سال ترحیلش
پیر واقف حسین زنجانی
گفت عارف حسین زنجانی
۶۰۰ھ
( خزینۃ الاصفیاء )
وصال: 26 ربیع الاول شریف
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-syed-meeran-hussain-zanjani
آپ لاہور کے قدیم علماء صوفیاء میں سے تھے ظاہری اور باطنی علوم میں جامع تھے صاحب سیاحت کرامت اور خوارق تھے آپ کو خاندانِ عالیہ جنیدیہ سے خلافت ملی تھی آپ حضرت یعقوب زنجانی کے ہمراہ زنجان سے لاہور آئے تھے بے پناہ لوگ آپ کے حلقۂ ارادت میں جمع ہوئے آپ کی وفات ۶۰۰ھ میں ہوئی [۱] ۔
[۱۔سابقہ صفحات میں فاضل مولٔف نے حضرت مخدوم سید علی الہجویری لاہوری قدس سرہٗ کے حالات میں فوائد الفواد کی ایک روایت نقل کی ہے، جس میں لکھا ہے کہ جس دن حضرت داتا گنج بخش ہجویری وارد لاہور ہوئے حضرت حسین زنجانی کا جنازہ دروازے سے باہر آرہا تھا۔ اور حضرت سید علی ہجویری نے آپ کو خود دفنایا تھا پھر ساتھ ہی یہ لکھا ہے کہ حضرت علی ہجویری کئی سال لاہور میں قیام کرنے کے بعد ۴۶۴ھ میں فوت ہوئے دوسری طرف حضرت شیخ حسین زنجانی کا وصال ۶۰۰ھ لکھا جا رہا ہے یہ روایت کہاں تک درست ہے؟ آیا یہ وہی بزرگ تھے جو داتا گنج بخش کی آمد کے دن جنازہ بردوش نظر آئے (مترجم)۔ ]
شیخ دین میر زبدۂ آفاق
جستم از دل چو سال ترحیلش
پیر واقف حسین زنجانی
گفت عارف حسین زنجانی
۶۰۰ھ
( خزینۃ الاصفیاء )
وصال: 26 ربیع الاول شریف
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-syed-meeran-hussain-zanjani
scholars.pk
Hazrat Sheikh Syed Meeran Hussain Zanjani
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت سید علاؤ الدین لاہوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
اسمِ گرامی:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا اسمِ گرامی سید علاؤ الدین تھا ۔
بیعت و خلافت:
آپ شیخ سراج الدین رحمۃ اللہ علیہ کے مرید و خلیفہ تھے ۔
سیرت و خصائص:
حضرت سید علاؤالدین لاہوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ابتدائی زمانے میں مالدار اور غنی ہونے کی وجہ سے نہایت ہی شان و شوکت سے رہا کرتے تھے مگر جب شیخ سراج الدین رحمۃ اللہ علیہ کے مرید ہوئے تو سب کچھ چھوڑ کر فقیرانہ اور مستانہ وار گوشہ نشینی اختیار کر لی ۔
شیخ علاؤ الدین بڑے سخی آدمی تھے اور بے انتہا خرچ کیا کرتے تھے۔ آپ کا خرچ اتنا زیادہ تھا کہ جس پر بادشاہ وقت کو بھی رشک ہوتا تھا، یہ حالت دیکھ کر اس وقت کا بادشاہ کہا کرتا تھا کہ میرا خزانہ شیخ کے باپ کے پاس ہے جو انہیں خرچ کرنے کے لیے دیا ہے ۔
اسی مغالطے کی بنا پر بادشاہ نے حکم دیا کہ شیخ میرے شہر سے باہر سنار گاؤں میں چلے جائیں، چنانچہ اس گاؤں میں پہنچ کر شیخ نے اپنے خادموں سے فرمایا کہ پہلے تم جتنا خرچ کرتے تھے اب اس سے دوگنا خرچ کرو، چنانچہ شیخ کے حکم سے پہلے سے دو گنا خرچ ہونے لگا، شیخ کے اخراجات بہت زیادہ تھے لیکن آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ نہ تھا ۔
شیخ کے آبائی دو باغ تھے جن کی سالانہ آمدنی آٹھ ہزار روپے تھی، ان پر ایک آدمی نے ناجائز قبضہ کر رکھا تھا مگر شیخ نے اس سے کبھی واپسی کا مطالبہ نہیں کیا، شیخ کا ہاتھ بہت کھلا ہوا تھا اور لوگوں کو خوب مال دیتے اور فرمایا کرتے تھے کہ میرے شیخ جتنا خرچ کرتے تھے میں اس کا عشر عشیر بھی خرچ نہیں کرتا ۔
تاریخِ وصال:
آپ کی وفات 26 ربیع الاول 800ھ / بمطابق دسمبر 1397ء میں ہوئی۔ آپ کا مزار پنڈوہ میں ہے ۔
ماخذ و مراجع: اخبار الاخیار
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-alauddin-lahori
اسمِ گرامی:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا اسمِ گرامی سید علاؤ الدین تھا ۔
بیعت و خلافت:
آپ شیخ سراج الدین رحمۃ اللہ علیہ کے مرید و خلیفہ تھے ۔
سیرت و خصائص:
حضرت سید علاؤالدین لاہوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ابتدائی زمانے میں مالدار اور غنی ہونے کی وجہ سے نہایت ہی شان و شوکت سے رہا کرتے تھے مگر جب شیخ سراج الدین رحمۃ اللہ علیہ کے مرید ہوئے تو سب کچھ چھوڑ کر فقیرانہ اور مستانہ وار گوشہ نشینی اختیار کر لی ۔
شیخ علاؤ الدین بڑے سخی آدمی تھے اور بے انتہا خرچ کیا کرتے تھے۔ آپ کا خرچ اتنا زیادہ تھا کہ جس پر بادشاہ وقت کو بھی رشک ہوتا تھا، یہ حالت دیکھ کر اس وقت کا بادشاہ کہا کرتا تھا کہ میرا خزانہ شیخ کے باپ کے پاس ہے جو انہیں خرچ کرنے کے لیے دیا ہے ۔
اسی مغالطے کی بنا پر بادشاہ نے حکم دیا کہ شیخ میرے شہر سے باہر سنار گاؤں میں چلے جائیں، چنانچہ اس گاؤں میں پہنچ کر شیخ نے اپنے خادموں سے فرمایا کہ پہلے تم جتنا خرچ کرتے تھے اب اس سے دوگنا خرچ کرو، چنانچہ شیخ کے حکم سے پہلے سے دو گنا خرچ ہونے لگا، شیخ کے اخراجات بہت زیادہ تھے لیکن آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ نہ تھا ۔
شیخ کے آبائی دو باغ تھے جن کی سالانہ آمدنی آٹھ ہزار روپے تھی، ان پر ایک آدمی نے ناجائز قبضہ کر رکھا تھا مگر شیخ نے اس سے کبھی واپسی کا مطالبہ نہیں کیا، شیخ کا ہاتھ بہت کھلا ہوا تھا اور لوگوں کو خوب مال دیتے اور فرمایا کرتے تھے کہ میرے شیخ جتنا خرچ کرتے تھے میں اس کا عشر عشیر بھی خرچ نہیں کرتا ۔
تاریخِ وصال:
آپ کی وفات 26 ربیع الاول 800ھ / بمطابق دسمبر 1397ء میں ہوئی۔ آپ کا مزار پنڈوہ میں ہے ۔
ماخذ و مراجع: اخبار الاخیار
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-alauddin-lahori
scholars.pk
Hazrat Syed Alauddin Lahori
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت سید غوث علی قلندر رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
آپ کا اسمِ گرامی حضرت سید غوث علی شاہ بن سید احمد علی ہے ۔ اورآپ کا سلسلہ نسب بتیس واسطوں سے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر منتہی ہوتا ہے ۔ آپ حسنی و حسین سید ہیں ۔
تاریخِ ولادت:
آپ جمعہ کے دن رمضان کے مہینے میں 1219ھ میں موضع استہاون میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
آپ کے والد ماجد نے آپ کو دہلی بلایا اور آپ کی تعلیم کی ابتدا دہلی میں ہوئی ۔ آپ نے حدیث و فقہ کی کتب حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی اور حضرت مولانا شاہ محمد اسحاق سے پڑھیں ۔ منطق و دینیات کی تعلیم آپ نے مولوی فضل امام صاحب خیر آبادی سے حاصل کی ۔ مثنوی مولانا روم رحمتہ اللہ علیہ آپ نے مولوی قلندر علی جلال آبادی سے پڑھی، آپ نے علم ہیٔت و دیگر علوم ظاہری و باطنی میں دستگاہ حاصل کی ۔ (رحمۃ اللہ علیہم) ـ
بیعت و خلافت:
آپ کئی سلسلوں میں بیعت ہوئے ۔ حضرت لعل شاہ کے روحانی فیوض سے مستفید ہوئے ۔ خاندانِ سہروردیہ میں آپ مرید و خلیفہ حضرت سید فدا حسین رسول شاہی کے ہیں ۔ خاندانِ قادریہ میں آپ مرید و خلیفہ حضرت سید اعظم علی شاہ کے ہیں ۔ نقشبندی سلسلہ میں آپ مرید و خلیفہ حضرت حبیب اللہ شاہ کے ہیں ۔ خاندانِ چشتیہ میں آپ مرید و خلیفہ حضرت امیر الدین کے ہیں ۔ (رحمۃ اللہ علیہم) ـ
سیرت و خصائص:
حضرت سید غوث علی قلندر رحمۃ اللہ علیہ کمالات باطنی میں یکتا اور توحید میں لاثانی تھے ۔ آپ کو نسبت جذب حاصل تھی ۔ ترک و تجرید، قناعت و توکل، ریاضت و مجاہدہ میں اپنی مثال آپ تھے ۔ آپ کی سخاوت کا یہ حال تھا کہ جو کچھ آتا، اسی وقت محتاجوں، بیواؤں اور مسکینوں کو تقسیم کر دیتے تھے ۔ سائل آپ کے پاس سے کبھی خالی ہاتھ نہیں گیا ۔ خوراک آپ کی بہت کم تھی ۔ کھانا سادہ پسند فرماتے تھے ۔ لباس آپ کا سفید اور سادہ ہوتا تھا ۔ رنگین کپڑے نہیں پہنتے تھے ۔ آپ کو علم ظاہر اور علم باطن میں کمال حاصل تھا ۔ آپ منبع شریعت و طریقت تھے ـ
فصاحت، بلاغت اور متانت میں بے نظیر تھے ۔ آپ کی تعلیمات اہل ذوق و شوق اہل تصوف اور اہل عرفان ہی کے لئے مفید نہیں ہیں، بلکہ ہرشخص آپ کی تعلیمات سے خاطر خواہ فائدہ اٹھا سکتا ہے ۔ آپ فرماتے ہیں: "اسلام کی ترقی کا دار و مدار اتفاق، اولو العزمی اور غیرت پر ہے " ۔ آپ نے ہندوستان کی سیر و سیاحت فرمائی ۔ مکہ معظمہ، مدینہ منورہ، بغداد، نجف اشرف، بیت المقدس بھی حاضر ہوئے اور روحانی فیوض و برکات سے مستفید ہوئے ۔ مصر، روم و شام کی سیر و سیاحت فرمائی ۔ بہت سے درویشوں سے ملاقات ہوئی ۔ آپ نواسی بزرگوں سے ملے اور ان کے باطنی فیض سے مستفید ہوئے ۔ آپ نے زندگی کے آخری ایام پانی پت میں گزارے ۔قلندر صاحب کے مزار کے ایک حجرے میں رہتے تھے ۔
تاریخِ وصال:
آپ نے 26 ربیع الاول 1297ھ / بمطابق مارچ 1880ء کواس دار فانی سے کوچ فرمایا ۔ بوقت وفات آپ کی عمر اٹھہتر سال کی تھی ۔ مزار پر انوار پانی پت میں واقع ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرۂ اولیاء پاک و ہند ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-ghous-ali-shah-qalandar
نام و نسب:
آپ کا اسمِ گرامی حضرت سید غوث علی شاہ بن سید احمد علی ہے ۔ اورآپ کا سلسلہ نسب بتیس واسطوں سے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر منتہی ہوتا ہے ۔ آپ حسنی و حسین سید ہیں ۔
تاریخِ ولادت:
آپ جمعہ کے دن رمضان کے مہینے میں 1219ھ میں موضع استہاون میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
آپ کے والد ماجد نے آپ کو دہلی بلایا اور آپ کی تعلیم کی ابتدا دہلی میں ہوئی ۔ آپ نے حدیث و فقہ کی کتب حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی اور حضرت مولانا شاہ محمد اسحاق سے پڑھیں ۔ منطق و دینیات کی تعلیم آپ نے مولوی فضل امام صاحب خیر آبادی سے حاصل کی ۔ مثنوی مولانا روم رحمتہ اللہ علیہ آپ نے مولوی قلندر علی جلال آبادی سے پڑھی، آپ نے علم ہیٔت و دیگر علوم ظاہری و باطنی میں دستگاہ حاصل کی ۔ (رحمۃ اللہ علیہم) ـ
بیعت و خلافت:
آپ کئی سلسلوں میں بیعت ہوئے ۔ حضرت لعل شاہ کے روحانی فیوض سے مستفید ہوئے ۔ خاندانِ سہروردیہ میں آپ مرید و خلیفہ حضرت سید فدا حسین رسول شاہی کے ہیں ۔ خاندانِ قادریہ میں آپ مرید و خلیفہ حضرت سید اعظم علی شاہ کے ہیں ۔ نقشبندی سلسلہ میں آپ مرید و خلیفہ حضرت حبیب اللہ شاہ کے ہیں ۔ خاندانِ چشتیہ میں آپ مرید و خلیفہ حضرت امیر الدین کے ہیں ۔ (رحمۃ اللہ علیہم) ـ
سیرت و خصائص:
حضرت سید غوث علی قلندر رحمۃ اللہ علیہ کمالات باطنی میں یکتا اور توحید میں لاثانی تھے ۔ آپ کو نسبت جذب حاصل تھی ۔ ترک و تجرید، قناعت و توکل، ریاضت و مجاہدہ میں اپنی مثال آپ تھے ۔ آپ کی سخاوت کا یہ حال تھا کہ جو کچھ آتا، اسی وقت محتاجوں، بیواؤں اور مسکینوں کو تقسیم کر دیتے تھے ۔ سائل آپ کے پاس سے کبھی خالی ہاتھ نہیں گیا ۔ خوراک آپ کی بہت کم تھی ۔ کھانا سادہ پسند فرماتے تھے ۔ لباس آپ کا سفید اور سادہ ہوتا تھا ۔ رنگین کپڑے نہیں پہنتے تھے ۔ آپ کو علم ظاہر اور علم باطن میں کمال حاصل تھا ۔ آپ منبع شریعت و طریقت تھے ـ
فصاحت، بلاغت اور متانت میں بے نظیر تھے ۔ آپ کی تعلیمات اہل ذوق و شوق اہل تصوف اور اہل عرفان ہی کے لئے مفید نہیں ہیں، بلکہ ہرشخص آپ کی تعلیمات سے خاطر خواہ فائدہ اٹھا سکتا ہے ۔ آپ فرماتے ہیں: "اسلام کی ترقی کا دار و مدار اتفاق، اولو العزمی اور غیرت پر ہے " ۔ آپ نے ہندوستان کی سیر و سیاحت فرمائی ۔ مکہ معظمہ، مدینہ منورہ، بغداد، نجف اشرف، بیت المقدس بھی حاضر ہوئے اور روحانی فیوض و برکات سے مستفید ہوئے ۔ مصر، روم و شام کی سیر و سیاحت فرمائی ۔ بہت سے درویشوں سے ملاقات ہوئی ۔ آپ نواسی بزرگوں سے ملے اور ان کے باطنی فیض سے مستفید ہوئے ۔ آپ نے زندگی کے آخری ایام پانی پت میں گزارے ۔قلندر صاحب کے مزار کے ایک حجرے میں رہتے تھے ۔
تاریخِ وصال:
آپ نے 26 ربیع الاول 1297ھ / بمطابق مارچ 1880ء کواس دار فانی سے کوچ فرمایا ۔ بوقت وفات آپ کی عمر اٹھہتر سال کی تھی ۔ مزار پر انوار پانی پت میں واقع ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرۂ اولیاء پاک و ہند ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-ghous-ali-shah-qalandar
scholars.pk
Hazrat Ghous Ali Shah Qalandar
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1