🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
25-03-1445 ᴴ | 11-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ لڑکوں کا | مردوں کا ناک کان چھدوانا یا چھدوانے کی منت ماننا کیسا ہے ؟
25-03-1445 ᴴ | 11-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
25-03-1445 ᴴ | 11-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ لڑکوں کا | مردوں کا ناک کان چھدوانا یا چھدوانے کی منت ماننا کیسا ہے ؟
25-03-1445 ᴴ | 11-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت شیخ ابراہیم بن اسماعیل (زاہد صفار) رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ابراہیم بن اسمٰعیل بن احمد بن اسحٰق بن شیث بن حکم المعروف بہ زاہد صفار: ابو اسحٰق کنیت اور رکن الاسلام لقب [1] تھا، آپ اور آپ کے آباء و اجداد افاضل علمائے حنفیہ سے تھے اور اپنے وقت کے امام گزرے ہیں، آپ بڑے زاہد و پرہیز گار اور دین کے معاملہ میں کسی سے کچھ خوف نہ کرتے تھے، آپ کے باپ کو سلطان سنجر بن ملک شاہ نے شہر مرو میں لا کر بسایا۔
آپ نے فقہ اپنے والد سے پڑھی اور نیز ان سے کتاب آثار الطحاوی اور کتاب کشف کو جو امام اعظم کے مناقب میں عبداللہ بن محمد بن یعقوب حارثی نے لکھی ہے،سُنا اور امام اعظم کی کتاب عالم و متعلم کو ابی یعقوب سیّاری سے اور امام محمد کی کتاب سیر الکبیر کو ابی حفص سے سماعت کیا۔حدیث کو اپنے والد اور حافظ ابی حفص عمر بن منصور بن حبیب اور ابی محمد بن عبد الملک بن عبد الرحمٰن وغیرہ سے حاصل کیا ۔
صفار آپ کو اس لیے کہا کرتے تھےکہ آپ کانسی کے برتن بیچا کرتے تھے۔آپ نےکتاب تخلیص الزاہد اور کتاب السنۃ والجماعۃ وغیرہ تصنیف کیں اور فخر الدین قاضیخان حسن بن منصور وغیرہ بڑے بڑے فضلاء نے آپ سے استفادہ کیا۔
وصال:
26 ربیع الاول کو بخارا میں فوت ہوئے ۔ تاریخ وفات آپ کی فرید الدہر ہے ۔
آپ کے ایک بیٹے ابو المجاہد حماد بن ابراہیم صفار تھے جو بخارا کی جامع مسجد میں جمعہ کےروز امامت کرتے تھے اور علم ادب اصول و حدیث میں بڑے ماہر تھے جنہوں نے حدیث کو اپنے والد ماجد اور ابی علی اسمٰعیل بن احمد حسین بہیقی سے سُنا اور روایت کیا اور سمعانی شافعی نے کہا کہ میں نے بخارا میں آپ سے ملاقات توکی ہے مگر کچھ نہیں سُنا ۔
1۔ ولادت عدود ۴۶۰ھ ’’جواہر المضیۃ‘‘(مرتب)
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-ibrahim-bin-ismail-zahid-saffar
ابراہیم بن اسمٰعیل بن احمد بن اسحٰق بن شیث بن حکم المعروف بہ زاہد صفار: ابو اسحٰق کنیت اور رکن الاسلام لقب [1] تھا، آپ اور آپ کے آباء و اجداد افاضل علمائے حنفیہ سے تھے اور اپنے وقت کے امام گزرے ہیں، آپ بڑے زاہد و پرہیز گار اور دین کے معاملہ میں کسی سے کچھ خوف نہ کرتے تھے، آپ کے باپ کو سلطان سنجر بن ملک شاہ نے شہر مرو میں لا کر بسایا۔
آپ نے فقہ اپنے والد سے پڑھی اور نیز ان سے کتاب آثار الطحاوی اور کتاب کشف کو جو امام اعظم کے مناقب میں عبداللہ بن محمد بن یعقوب حارثی نے لکھی ہے،سُنا اور امام اعظم کی کتاب عالم و متعلم کو ابی یعقوب سیّاری سے اور امام محمد کی کتاب سیر الکبیر کو ابی حفص سے سماعت کیا۔حدیث کو اپنے والد اور حافظ ابی حفص عمر بن منصور بن حبیب اور ابی محمد بن عبد الملک بن عبد الرحمٰن وغیرہ سے حاصل کیا ۔
صفار آپ کو اس لیے کہا کرتے تھےکہ آپ کانسی کے برتن بیچا کرتے تھے۔آپ نےکتاب تخلیص الزاہد اور کتاب السنۃ والجماعۃ وغیرہ تصنیف کیں اور فخر الدین قاضیخان حسن بن منصور وغیرہ بڑے بڑے فضلاء نے آپ سے استفادہ کیا۔
وصال:
26 ربیع الاول کو بخارا میں فوت ہوئے ۔ تاریخ وفات آپ کی فرید الدہر ہے ۔
آپ کے ایک بیٹے ابو المجاہد حماد بن ابراہیم صفار تھے جو بخارا کی جامع مسجد میں جمعہ کےروز امامت کرتے تھے اور علم ادب اصول و حدیث میں بڑے ماہر تھے جنہوں نے حدیث کو اپنے والد ماجد اور ابی علی اسمٰعیل بن احمد حسین بہیقی سے سُنا اور روایت کیا اور سمعانی شافعی نے کہا کہ میں نے بخارا میں آپ سے ملاقات توکی ہے مگر کچھ نہیں سُنا ۔
1۔ ولادت عدود ۴۶۰ھ ’’جواہر المضیۃ‘‘(مرتب)
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-ibrahim-bin-ismail-zahid-saffar
scholars.pk
Hazrat Sheikh Ibrahim Bin Ismail
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت شیخ سید میراں حسین زنجانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ لاہور کے قدیم علماء صوفیاء میں سے تھے ظاہری اور باطنی علوم میں جامع تھے صاحب سیاحت کرامت اور خوارق تھے آپ کو خاندانِ عالیہ جنیدیہ سے خلافت ملی تھی آپ حضرت یعقوب زنجانی کے ہمراہ زنجان سے لاہور آئے تھے بے پناہ لوگ آپ کے حلقۂ ارادت میں جمع ہوئے آپ کی وفات ۶۰۰ھ میں ہوئی [۱] ۔
[۱۔سابقہ صفحات میں فاضل مولٔف نے حضرت مخدوم سید علی الہجویری لاہوری قدس سرہٗ کے حالات میں فوائد الفواد کی ایک روایت نقل کی ہے، جس میں لکھا ہے کہ جس دن حضرت داتا گنج بخش ہجویری وارد لاہور ہوئے حضرت حسین زنجانی کا جنازہ دروازے سے باہر آرہا تھا۔ اور حضرت سید علی ہجویری نے آپ کو خود دفنایا تھا پھر ساتھ ہی یہ لکھا ہے کہ حضرت علی ہجویری کئی سال لاہور میں قیام کرنے کے بعد ۴۶۴ھ میں فوت ہوئے دوسری طرف حضرت شیخ حسین زنجانی کا وصال ۶۰۰ھ لکھا جا رہا ہے یہ روایت کہاں تک درست ہے؟ آیا یہ وہی بزرگ تھے جو داتا گنج بخش کی آمد کے دن جنازہ بردوش نظر آئے (مترجم)۔ ]
شیخ دین میر زبدۂ آفاق
جستم از دل چو سال ترحیلش
پیر واقف حسین زنجانی
گفت عارف حسین زنجانی
۶۰۰ھ
( خزینۃ الاصفیاء )
وصال: 26 ربیع الاول شریف
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-syed-meeran-hussain-zanjani
آپ لاہور کے قدیم علماء صوفیاء میں سے تھے ظاہری اور باطنی علوم میں جامع تھے صاحب سیاحت کرامت اور خوارق تھے آپ کو خاندانِ عالیہ جنیدیہ سے خلافت ملی تھی آپ حضرت یعقوب زنجانی کے ہمراہ زنجان سے لاہور آئے تھے بے پناہ لوگ آپ کے حلقۂ ارادت میں جمع ہوئے آپ کی وفات ۶۰۰ھ میں ہوئی [۱] ۔
[۱۔سابقہ صفحات میں فاضل مولٔف نے حضرت مخدوم سید علی الہجویری لاہوری قدس سرہٗ کے حالات میں فوائد الفواد کی ایک روایت نقل کی ہے، جس میں لکھا ہے کہ جس دن حضرت داتا گنج بخش ہجویری وارد لاہور ہوئے حضرت حسین زنجانی کا جنازہ دروازے سے باہر آرہا تھا۔ اور حضرت سید علی ہجویری نے آپ کو خود دفنایا تھا پھر ساتھ ہی یہ لکھا ہے کہ حضرت علی ہجویری کئی سال لاہور میں قیام کرنے کے بعد ۴۶۴ھ میں فوت ہوئے دوسری طرف حضرت شیخ حسین زنجانی کا وصال ۶۰۰ھ لکھا جا رہا ہے یہ روایت کہاں تک درست ہے؟ آیا یہ وہی بزرگ تھے جو داتا گنج بخش کی آمد کے دن جنازہ بردوش نظر آئے (مترجم)۔ ]
شیخ دین میر زبدۂ آفاق
جستم از دل چو سال ترحیلش
پیر واقف حسین زنجانی
گفت عارف حسین زنجانی
۶۰۰ھ
( خزینۃ الاصفیاء )
وصال: 26 ربیع الاول شریف
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-syed-meeran-hussain-zanjani
scholars.pk
Hazrat Sheikh Syed Meeran Hussain Zanjani
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1