فتوائے جہاد:
حضرت علامہ مولانا محمود احمد قادری نے نام نہاد مؤرخین کے بارے میں بجا فرمایا ہے کہ فرماتے ہیں: جہاد کے فتویٰ پر دستخط کرنے کے بارے میں’’تما م مؤرخین غلط فہمی کا شکار ہیں‘‘ کہ آپ نےدستخط کرتےہوئے (کتبت بالخیر یا شہدت بالخیر) کو بغیر نقطے کے لکھا تھا،داروگیر کے بعد عدالت میں عُذر پیش کیا،کہ میں نےتو (کتب بالجبر) لکھا تھا لوگوں نےبگاڑ کر (بالحر) یا بالخیر کردیا ہے۔ (تذکرہ علمائے اہل سنت:406)۔
اصل بات یہ ہے کہ انگریزوں کے خلاف جس فتوے پر مفتی صدر الدین آزردہ کے دستخط ہیں۔ اس دستخط کے ساتھ کوئی ایسی عبارت (شہدت بالحر یا کتبت بالحر) جیسی کوئی عبارت نہیں تھی۔معلوم نہیں یہ کیسے یہ افواہ پھیل گئی کہ مفتی صاحب نے اس طرح کی کوئی عبارت لکھی تھی ۔ یہ فتویٰ ’’اخبار الظفر‘‘ دہلی میں شائع ہوا تھا ۔ وہاں سے اس کی نقل انہیں دنوں ’’صادق الاخبار‘‘ دہلی مؤرخہ 26 جولائی 1857ء میں چھپی تھی ۔ یہ اخبار نیشنل آرکائیوز میں محفوظ ہے ۔ اسی طرح اس فتوے کا عکس ’’سوتنتر دہلی‘‘ ہندی اخبار اور’’نوائے آزادی‘‘ میں بھی شائع ہوچکاہے۔فتویٰ پر دستخط کرنے والوں میں مفتی صدرالدین کا نام تو ملتاہے۔لیکن آگے پیچھے ’’کتبت بالحر‘‘ وغیرہ کوئی عبارت ہی سرےسے نہیں ہے۔یہ روایت بالکل اختراعی اور من گھڑت ہے۔مشہو ر محقق جناب امتیاز علی عرشی اپنے ایک مضمون (ماہنامہ تحریک دہلی ماہ اگست1957ء) میں اس فتوےکے بارے میں بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ کر دیا ہے ۔ (مفتی صدرالدین آزردہ:80)
دہلی پر انگریزوں کے قبضے وتسلط کے بعد مفتی صدر الدین آزردہ کے خلاف مقدمہ چلا ۔ گرفتاری ہوئی،اور جائداد بھی ضبط ہوگئی۔جس میں تین لاکھ روپے کی تو صِرف کُتب تھیں ۔ پھر بڑی مشکل سے بڑی رہائی پائی۔ پھر سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ مفتی صاحب کو انگریز نے کیسےرہا کردیا؟ حالانکہ بہت سے علماء کو انگریز نے پھانسی پر لٹکا دیا: ذکاء اللہ دہلوی لکھتے ہیں: کہ ایک طریقہ اور امیروں کے لوٹنے کا تھا۔بعض ذی اختیار انگریز مجرموں کو سب طرح سے جرم سے بری ہونے کی سند دیتے اور ان سے خاطر خواہ روپیہ لیتےتھے ۔ مشہور ہے نواب حامد علی خان، مفتی صدر الدین خاں، اور مکند لال مشرا نے اس طرح زرِ کثیر دےکر اپنی جانیں بچائیں تھیں۔(چند ممتاز علمائے انقلاب57؛ بحوالہ ؛تاریخ عروج عہد انگلشیہ ص؛714)
مفتی صدر الدین کی انگریزوں کے خلاف نفرت اور مجاہدین سے محبت کا اندازہ اس سےہوتا ہےکہ آپ کا درِ دولت جس طرح عام حالات میں مرجعِ علماء رہاکرتاتھا۔اس وقت بھی انقلابی عناصر کا پناہ گاہ بنارہا۔انگریزوں کے سب سےخطرناک دشمن جن کو’’مجاہدین‘‘ کہاجاتا تھا۔جن کی انگریز دشمنی کسی وقتی اور ہنگامی بنیادوں پر نہیں تھی بلکہ ان کی حریت پسند فطرت نے اس کو عقیدہ کی حیثیت دےرکھی تھی۔ان سر بکف مجاہدین کا ہجوم جس کے درِدولت پر رہتاتھا۔وہ مفتی صدرالدین صدرالصدور ہی تھے۔چنانچہ 9/اگست 1857ء کا واقعہ ہے پچاس سپاہیوں کا دستہ مفتی صاحب کے مکان پر چڑھ دوڑا۔یہ دیکھ کر کہ وہاں ستر جہادی مقابلے کےلئے تیار ہیں وہ واپس چلاگیا۔ (روزنامچہ منشی جیون لال؛212/علمائے ہند کا شاندار ماضی جلد چہارم؛225/چند ممتاز علمائے انقلاب:66) یادرہے کہ منشی جیون لال انگریز کا ایجنٹ اور وفادار تھا۔
بڑا سیاسی کار نامہ:
آپ کا ایک بڑا سیاسی کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے انقلاب 1857ء کے مجاہد اعظم مولانا سید احمد اللہ مدراسی کو یہ مشورہ دیا کہ آپ دہلی کی بجائے آگرہ کواپنی سرگرمیوں کامرکز بنائیں۔آگرہ میں شاہ صاحب کو کوئی جانتا پہچانتا نہیں تھا۔ آپ نے وہاں کی سرکردہ شخصیات کو شاہ صاحب کے لئے تعارفی خطوط ارسال کیے۔آگرہ میں مولانا مدراسی کومختصر عرصےمیں ایسی کامیابی ملی۔جس کی نظیر مشکل ہے۔اس کامیابی کےپیچھے مفتی صاحب کی کاوش تھی۔
خوش عقیدگی:
مفتی صدرالدین آزردہ خوش عقیدہ عالمِ دین تھے۔رسول اللہ ﷺ اور اولیاء اللہ سے نہایت عقیدت ومحبت تھی۔ آپ کے ان اشعار سے آپ کی عقیدت کی جھلک واضح ہے۔چنانچہ یادِ مدینہ میں تڑپتےہوئے فرماتےہیں:
؏: مہرِ جہاں فروز دکھادوں جبیں کو میں۔۔۔۔۔۔گر سنگِ آستانۂ خیر البشر ملے
ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:
؏: آستاں ہے ترے در کا وہ تجلی پَرتَو۔۔۔۔پہنچے پاسنگ کو بھی جس کے جبلِ طور نہیں
میں ہوں اور گوشۂ طیبہ، یہ تمنا ہے اب۔۔۔۔خواہشِ سلطنت قیصر و فغفور نہیں
مدد اے پَرتَو لطفِ نبوی! کوئی عمل۔۔۔۔۔۔۔۔شمعِ تنہائی ظلمت کدۂ گور نہیں
اسی طرح حضرت نظام الدین محبوب الہی سے عقیدت کا اظہار یوں فرماتےہیں:
؏: کروں چاک سینہ کو سو بار لیکن۔۔۔۔۔نہیں داغ ِ دل یہ دکھانے کےقابل
نہ چھوڑیں گے ’’محبوبِ الہی‘‘ کے در کو۔۔۔نہیں گو ہم آستانے کےقابل
حضرت علامہ مولانا محمود احمد قادری نے نام نہاد مؤرخین کے بارے میں بجا فرمایا ہے کہ فرماتے ہیں: جہاد کے فتویٰ پر دستخط کرنے کے بارے میں’’تما م مؤرخین غلط فہمی کا شکار ہیں‘‘ کہ آپ نےدستخط کرتےہوئے (کتبت بالخیر یا شہدت بالخیر) کو بغیر نقطے کے لکھا تھا،داروگیر کے بعد عدالت میں عُذر پیش کیا،کہ میں نےتو (کتب بالجبر) لکھا تھا لوگوں نےبگاڑ کر (بالحر) یا بالخیر کردیا ہے۔ (تذکرہ علمائے اہل سنت:406)۔
اصل بات یہ ہے کہ انگریزوں کے خلاف جس فتوے پر مفتی صدر الدین آزردہ کے دستخط ہیں۔ اس دستخط کے ساتھ کوئی ایسی عبارت (شہدت بالحر یا کتبت بالحر) جیسی کوئی عبارت نہیں تھی۔معلوم نہیں یہ کیسے یہ افواہ پھیل گئی کہ مفتی صاحب نے اس طرح کی کوئی عبارت لکھی تھی ۔ یہ فتویٰ ’’اخبار الظفر‘‘ دہلی میں شائع ہوا تھا ۔ وہاں سے اس کی نقل انہیں دنوں ’’صادق الاخبار‘‘ دہلی مؤرخہ 26 جولائی 1857ء میں چھپی تھی ۔ یہ اخبار نیشنل آرکائیوز میں محفوظ ہے ۔ اسی طرح اس فتوے کا عکس ’’سوتنتر دہلی‘‘ ہندی اخبار اور’’نوائے آزادی‘‘ میں بھی شائع ہوچکاہے۔فتویٰ پر دستخط کرنے والوں میں مفتی صدرالدین کا نام تو ملتاہے۔لیکن آگے پیچھے ’’کتبت بالحر‘‘ وغیرہ کوئی عبارت ہی سرےسے نہیں ہے۔یہ روایت بالکل اختراعی اور من گھڑت ہے۔مشہو ر محقق جناب امتیاز علی عرشی اپنے ایک مضمون (ماہنامہ تحریک دہلی ماہ اگست1957ء) میں اس فتوےکے بارے میں بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ کر دیا ہے ۔ (مفتی صدرالدین آزردہ:80)
دہلی پر انگریزوں کے قبضے وتسلط کے بعد مفتی صدر الدین آزردہ کے خلاف مقدمہ چلا ۔ گرفتاری ہوئی،اور جائداد بھی ضبط ہوگئی۔جس میں تین لاکھ روپے کی تو صِرف کُتب تھیں ۔ پھر بڑی مشکل سے بڑی رہائی پائی۔ پھر سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ مفتی صاحب کو انگریز نے کیسےرہا کردیا؟ حالانکہ بہت سے علماء کو انگریز نے پھانسی پر لٹکا دیا: ذکاء اللہ دہلوی لکھتے ہیں: کہ ایک طریقہ اور امیروں کے لوٹنے کا تھا۔بعض ذی اختیار انگریز مجرموں کو سب طرح سے جرم سے بری ہونے کی سند دیتے اور ان سے خاطر خواہ روپیہ لیتےتھے ۔ مشہور ہے نواب حامد علی خان، مفتی صدر الدین خاں، اور مکند لال مشرا نے اس طرح زرِ کثیر دےکر اپنی جانیں بچائیں تھیں۔(چند ممتاز علمائے انقلاب57؛ بحوالہ ؛تاریخ عروج عہد انگلشیہ ص؛714)
مفتی صدر الدین کی انگریزوں کے خلاف نفرت اور مجاہدین سے محبت کا اندازہ اس سےہوتا ہےکہ آپ کا درِ دولت جس طرح عام حالات میں مرجعِ علماء رہاکرتاتھا۔اس وقت بھی انقلابی عناصر کا پناہ گاہ بنارہا۔انگریزوں کے سب سےخطرناک دشمن جن کو’’مجاہدین‘‘ کہاجاتا تھا۔جن کی انگریز دشمنی کسی وقتی اور ہنگامی بنیادوں پر نہیں تھی بلکہ ان کی حریت پسند فطرت نے اس کو عقیدہ کی حیثیت دےرکھی تھی۔ان سر بکف مجاہدین کا ہجوم جس کے درِدولت پر رہتاتھا۔وہ مفتی صدرالدین صدرالصدور ہی تھے۔چنانچہ 9/اگست 1857ء کا واقعہ ہے پچاس سپاہیوں کا دستہ مفتی صاحب کے مکان پر چڑھ دوڑا۔یہ دیکھ کر کہ وہاں ستر جہادی مقابلے کےلئے تیار ہیں وہ واپس چلاگیا۔ (روزنامچہ منشی جیون لال؛212/علمائے ہند کا شاندار ماضی جلد چہارم؛225/چند ممتاز علمائے انقلاب:66) یادرہے کہ منشی جیون لال انگریز کا ایجنٹ اور وفادار تھا۔
بڑا سیاسی کار نامہ:
آپ کا ایک بڑا سیاسی کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے انقلاب 1857ء کے مجاہد اعظم مولانا سید احمد اللہ مدراسی کو یہ مشورہ دیا کہ آپ دہلی کی بجائے آگرہ کواپنی سرگرمیوں کامرکز بنائیں۔آگرہ میں شاہ صاحب کو کوئی جانتا پہچانتا نہیں تھا۔ آپ نے وہاں کی سرکردہ شخصیات کو شاہ صاحب کے لئے تعارفی خطوط ارسال کیے۔آگرہ میں مولانا مدراسی کومختصر عرصےمیں ایسی کامیابی ملی۔جس کی نظیر مشکل ہے۔اس کامیابی کےپیچھے مفتی صاحب کی کاوش تھی۔
خوش عقیدگی:
مفتی صدرالدین آزردہ خوش عقیدہ عالمِ دین تھے۔رسول اللہ ﷺ اور اولیاء اللہ سے نہایت عقیدت ومحبت تھی۔ آپ کے ان اشعار سے آپ کی عقیدت کی جھلک واضح ہے۔چنانچہ یادِ مدینہ میں تڑپتےہوئے فرماتےہیں:
؏: مہرِ جہاں فروز دکھادوں جبیں کو میں۔۔۔۔۔۔گر سنگِ آستانۂ خیر البشر ملے
ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:
؏: آستاں ہے ترے در کا وہ تجلی پَرتَو۔۔۔۔پہنچے پاسنگ کو بھی جس کے جبلِ طور نہیں
میں ہوں اور گوشۂ طیبہ، یہ تمنا ہے اب۔۔۔۔خواہشِ سلطنت قیصر و فغفور نہیں
مدد اے پَرتَو لطفِ نبوی! کوئی عمل۔۔۔۔۔۔۔۔شمعِ تنہائی ظلمت کدۂ گور نہیں
اسی طرح حضرت نظام الدین محبوب الہی سے عقیدت کا اظہار یوں فرماتےہیں:
؏: کروں چاک سینہ کو سو بار لیکن۔۔۔۔۔نہیں داغ ِ دل یہ دکھانے کےقابل
نہ چھوڑیں گے ’’محبوبِ الہی‘‘ کے در کو۔۔۔نہیں گو ہم آستانے کےقابل
❤1💯1
تصانیف:
آپ کی اکثر کتب گردشِ زمانہ کی نذر ہوگئیں۔1۔حاشیہ قاضی مبارک۔2۔حاشیہ میر زاہد۔3۔شرح دیوان متنبی۔4۔امتناع النظیر۔5۔الدر المنضود فی حکم امرأۃ المفقود۔ 6۔تذکرہ شعرائے ریختہ۔7۔منتہی المقال فی شرح ِ حدیثِ لاتشد الرحال۔ابنِ تیمیہ کے رد میں لاجواب کتاب۔اس کی ایک خوبی یہ ہے کہ اس پر علامہ فضلِ حق خیر آبادی، حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی، مفتی سعد اللہ مراد آبادی (علیہم الرحمہ)کی تقریظیں ہیں۔اس کا اردو ترجمہ مولانا شاہ حسین گردیزی صاحب نے کیاہے۔
مفتی صاحب کی کوئی اولاد نہیں ہوئی۔البتہ سینکڑوں نامی گرامی تلامذہ ہیں۔مفتی سعد اللہ مراد آبادی۔مولانا فیض الحسن سہارنپوری۔ مولانا خیر الدین دہلوی (آپ نے فتنہ اسماعیلیہ وہابیہ کے خلاف ’’نجم المبین لرجم الشیاطین‘‘دس جلدوں میں تحریر فرمائی)۔پیشوائے غیر مقلدین نواب صدیق حسن قنوجی۔بانیِ مذہبِ دیوبند قاسم نانوتوی۔رشید احمد گنگوہی۔آخرالذکر اپنے ہمنواؤں میں آپ کا اہانت آمیز تذکرہ کرتےتھے ۔ یہ ان سے بعید بھی نہیں جو اللہ جل شانہ اور اس کے رسول ﷺ کی توہین کر سکتے ہیں وہ اساتذہ کی کیوں نہیں کریں گے ۔
تاریخِ وصال:
بروز جمعرات 24 ربیع الاول1285ھ مطابق 16 جولائی 1868ء کو اکیاسی سال کی عمرواصل باللہ ہوئے ۔ درگاہ حضرت شاہ نصیر الدین چراغ دہلوی ، دہلی (ہند) میں آرام فرماہیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mufti-muhammad-sadruddin-khan-dehlvi
آپ کی اکثر کتب گردشِ زمانہ کی نذر ہوگئیں۔1۔حاشیہ قاضی مبارک۔2۔حاشیہ میر زاہد۔3۔شرح دیوان متنبی۔4۔امتناع النظیر۔5۔الدر المنضود فی حکم امرأۃ المفقود۔ 6۔تذکرہ شعرائے ریختہ۔7۔منتہی المقال فی شرح ِ حدیثِ لاتشد الرحال۔ابنِ تیمیہ کے رد میں لاجواب کتاب۔اس کی ایک خوبی یہ ہے کہ اس پر علامہ فضلِ حق خیر آبادی، حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی، مفتی سعد اللہ مراد آبادی (علیہم الرحمہ)کی تقریظیں ہیں۔اس کا اردو ترجمہ مولانا شاہ حسین گردیزی صاحب نے کیاہے۔
مفتی صاحب کی کوئی اولاد نہیں ہوئی۔البتہ سینکڑوں نامی گرامی تلامذہ ہیں۔مفتی سعد اللہ مراد آبادی۔مولانا فیض الحسن سہارنپوری۔ مولانا خیر الدین دہلوی (آپ نے فتنہ اسماعیلیہ وہابیہ کے خلاف ’’نجم المبین لرجم الشیاطین‘‘دس جلدوں میں تحریر فرمائی)۔پیشوائے غیر مقلدین نواب صدیق حسن قنوجی۔بانیِ مذہبِ دیوبند قاسم نانوتوی۔رشید احمد گنگوہی۔آخرالذکر اپنے ہمنواؤں میں آپ کا اہانت آمیز تذکرہ کرتےتھے ۔ یہ ان سے بعید بھی نہیں جو اللہ جل شانہ اور اس کے رسول ﷺ کی توہین کر سکتے ہیں وہ اساتذہ کی کیوں نہیں کریں گے ۔
تاریخِ وصال:
بروز جمعرات 24 ربیع الاول1285ھ مطابق 16 جولائی 1868ء کو اکیاسی سال کی عمرواصل باللہ ہوئے ۔ درگاہ حضرت شاہ نصیر الدین چراغ دہلوی ، دہلی (ہند) میں آرام فرماہیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mufti-muhammad-sadruddin-khan-dehlvi
scholars.pk
Hazrat Mufti Muhammad Sadruddin Khan Dehlvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
مولانا ڈاکٹر سید عرفان الدین صاحب
خبرِ اِنتقال:
امام الہند حضور صدر الافاضل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے خلف اوسط رہنمائے ملت مولانا سید اختصاص الدین نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے صاحبزادے حضرت مولانا ڈاکٹر سید عرفان الدین نعیمی کا آج بتاریخ 24 دسمبر بروز ہفتہ بعد نماز ظہر انتقال ہوگیا. انا للہ وانا الیہ راجعون
ـ
موصوف اس وقت خانوادہ نعیمیہ کی سب سے بزرگ ہستی تھے. حضرت کی عمر قریب 65 سال تھی ـ
تعلیم:
تعلیمی فراغت جامعہ نعیمیہ سے ہی ہوئی اس کے بعد آپ طب کی جانب راغب ہوئے اور اس میں بھی کمال حاصل کیا ....
یونانی طریقہ علاج کے ساتھ ساتھ ایلوپیتھی طریقہ علاج میں بھی آپ کو مہارت حاصل تھی .....
حضرت ڈاکٹر سید عرفان الدین صاحب بڑے وجیہ لمبے چوڑے اور با رعب شخصیت کے مالک تھے, سیدانہ وقار, عالمانہ وجاہت اور خانقاہی انکساری کی چلتی پھرتی مورت تھے .....
ہمیشہ بڑے پیار و محبت سے ملتے اور محبت و اپنائیت کے ساتھ "بابو" کہہ کر گفتگو فرماتے....
چہرہ جتنا روبیلا تھا تو اخلاق بہت ہی دل نشیں اور من موہنا تھا.....
گونڈا بلرام پور اور بہرائچ نیپال وغیرہ کے علاقوں میں آپ کے مریدین کا ایک بڑا حلقہ ہے جن میں علماء کی بھی ایک اچھی بڑی تعداد ہے.....
گونڈہ میں ہی آپ نے خانقاہ نعیمیہ بھی قائم فرمائی تھی درس و تدریس کے علاوہ وعظ و نصیحت اور ذکر و اذکار کا سلسلہ جاری رہتا ہے....
حضرت کی تدفین کل بعد نماز ظہر خانقاہ نعیمیہ گونڈہ میں ہی کی جائے گی....
اللہ کریم اپنے فضل و کرم سے حضرت کی مغفرت فرمائے اور جوار رحمت میں جگہ عنایت فرمائے ـ آمین ۔
وصال:
24 ربیع الاول 1438ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-dr-syed-irfanuddin-naeemi-sahab
خبرِ اِنتقال:
امام الہند حضور صدر الافاضل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے خلف اوسط رہنمائے ملت مولانا سید اختصاص الدین نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے صاحبزادے حضرت مولانا ڈاکٹر سید عرفان الدین نعیمی کا آج بتاریخ 24 دسمبر بروز ہفتہ بعد نماز ظہر انتقال ہوگیا. انا للہ وانا الیہ راجعون
ـ
موصوف اس وقت خانوادہ نعیمیہ کی سب سے بزرگ ہستی تھے. حضرت کی عمر قریب 65 سال تھی ـ
تعلیم:
تعلیمی فراغت جامعہ نعیمیہ سے ہی ہوئی اس کے بعد آپ طب کی جانب راغب ہوئے اور اس میں بھی کمال حاصل کیا ....
یونانی طریقہ علاج کے ساتھ ساتھ ایلوپیتھی طریقہ علاج میں بھی آپ کو مہارت حاصل تھی .....
حضرت ڈاکٹر سید عرفان الدین صاحب بڑے وجیہ لمبے چوڑے اور با رعب شخصیت کے مالک تھے, سیدانہ وقار, عالمانہ وجاہت اور خانقاہی انکساری کی چلتی پھرتی مورت تھے .....
ہمیشہ بڑے پیار و محبت سے ملتے اور محبت و اپنائیت کے ساتھ "بابو" کہہ کر گفتگو فرماتے....
چہرہ جتنا روبیلا تھا تو اخلاق بہت ہی دل نشیں اور من موہنا تھا.....
گونڈا بلرام پور اور بہرائچ نیپال وغیرہ کے علاقوں میں آپ کے مریدین کا ایک بڑا حلقہ ہے جن میں علماء کی بھی ایک اچھی بڑی تعداد ہے.....
گونڈہ میں ہی آپ نے خانقاہ نعیمیہ بھی قائم فرمائی تھی درس و تدریس کے علاوہ وعظ و نصیحت اور ذکر و اذکار کا سلسلہ جاری رہتا ہے....
حضرت کی تدفین کل بعد نماز ظہر خانقاہ نعیمیہ گونڈہ میں ہی کی جائے گی....
اللہ کریم اپنے فضل و کرم سے حضرت کی مغفرت فرمائے اور جوار رحمت میں جگہ عنایت فرمائے ـ آمین ۔
وصال:
24 ربیع الاول 1438ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-dr-syed-irfanuddin-naeemi-sahab
scholars.pk
Hazrat Allama Molana Dr. Syed Irfanuddin Naeemi Sahab
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
23-03-1445 ᴴ | 09-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
24-03-1445 ᴴ | 10-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
شادی میں دولہے کو بغیر نگ والی انگوٹھی پہنانا
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
شادی میں دولہے کو بغیر نگ والی انگوٹھی پہنانا
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
24-03-1445 ᴴ | 10-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ شادی میں دولہے کو بغیر نگ والی انگوٹھی پہنانا
24-03-1445 ᴴ | 10-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2