🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
23-03-1445 ᴴ | 09-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
23-03-1445 ᴴ | 09-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت شیخ حسن طاہر دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ راجی حامد شاہ کے مرید تھے سید نور بن حامد شاہ کی مجالس سے بھی فیض پایا تھا آپ کے والد شیخ طاہر ملتان سے چل کر دہلی آئے اور دینی علوم حاصل کرنے لگے ایک عرصہ تک بہار چلے گئے اور وہاں رہ کر شیخ بدہ حقانی کے مدرسہ میں پڑھتے رہے شیخ حسن بہار میں ہی پیدا ہوئے ہوش سنبھالا تو دینی علوم میں مصروف ہوگئے اور ساتھ ساتھ ہی معرفت کی منازل طے کرتے رہے اور درویشوں کی صحبت میں رہنے لگے
ان دنوں آپ نے ابن عربی کی کتاب فصوص الحکم ایک بزرگ سے پڑھنا شروع کی آپ کے والد فصوص کے اسرار سے بیگانہ بھی تھے اور خلاف بھی تھے ایک دن والد نے آپ سے توحید و جودی کے موضوع پر گفتگو کی آپ نے ظاہری علوم کی روشنی میں اس مسئلہ پر بات کی جس سے آپ کو اطمینان ہوگیا اس دن کے بعد آپ نے فصوص کی مخالفت چھوڑدی انہی دنوں شیخ راجی حامد شاہ کی مشیخیت کی شہرت سارے ہندوستان میں پھیلی تھی۔ شیخ طاہر حسن آپ کو دیکھنے گئے پہلی ملاقات میں ہی آپ مرید ہوگئے علمائے کرام میں سے جو شخص سب سے پہلے آپ کے حلقہ ارادت میں آیا حضرت شیخ حسن طاہر تھے آپ اگرچہ جونپور کے مشائخ میں سے تھے مگر سلطان سکندر لودھی لہ درخواست پر جونپور سے دہلی آئے۔
سلطان سکندر کا ایک بھائی آپ کا مرید تھا۔ اس کے دماغ میں ہمیشہ سلطنت حاصل کرنے کی کشمکش تھی ایک روز آہپ کی خدمت میں حاضر ہوکر اصرار کرنے لگا کہ میرے لیے سلطنت دہلی کی دعافرمائیں حضرے شیخ نے اسے اس ارادے سے روکا اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہارے بھائی کو امورِ سلطنت دئیے ہیں تم اس کی سلطنت میں رہ کر خدمت خلق کرو۔ یہ بات سلطان سکندر نے سنی تو وہ آپ کا مزید معتقد ہوگیا۔ آپ کو نہایت احترام سے اپنے شاہی قلعہ کے قریب کوشک بجی منڈل جو سلطان محمد تغلق کے قلعہ میں ہی ٹھہریا۔ آپ تادم وفات وہاں ہی قیام فرما رہے۔
اخبار الاخیار اور معارج الولائیت کے مولفین نے آپ کا یوم وفات چوبیس ربیع الاول ۹۰۹ھ لکھا ہے علم سلوک و توحید میں آپ کی ایک کتاب مفتاح الفیض بڑی گراں قدر ہے۔
شد ز دنیا چو در بہشت بریں
حسن آن محسن جہاں مرحوم
ہر دو تاریک رحلتش سرور
زیب فیض است قطب حق مخدوم
۹۰۹ھ ۹۰۹ھ
آپ راجی حامد شاہ کے مریدوں میں سے تھے اور راجی سید نور کے خلیفہ تھے، آپ کے والد بزرگوار کا نام شیخ طاہر تھا وہ ملتان سے بہار گئے اور عرصہ دراز تک شیخ بڈہ حقانی سے تعلیم حاصل کرتے رہے، بہار ہی میں شیخ حسن طاہر پیدا ہوئے، شیخ حسن کو جوانی ہی کے زمانہ میں طلب حق کا درد دامن گیر تھا، اس لیے درویشوں ہی کی صحبت میں رہے۔
آپ نے اسی زمانے میں فصوص الحکم ایک بزرگ سے شروع کی اور آپ کے والد صاحب فصوص الحکم کے مخالف تھے، انہوں نے ایک دن مسئلہ توحید کے متعلق آپ سے دریافت کیا تو آپ نے اس مسئلہ کو علمائے ظاہر کی طرح ایسی وضاحت سے بیان کیا کہ آپ کے والد صاحب کے بھی چند اشکال ختم ہوگئے اس کے بعد پھر آپ کو فصوص الحکم کے پڑھنے سے منع نہ فرماتے، اسی زمانے میں راجی حامد شاہ کی بزرگی اور ولایت کی عام و خاص میں شہرت ہوگئی تھی، شیخ حسن بھی امتحان کی غرض سےان کے پاس گئے اور پہلی ہی ملاقات میں اُن کے معتقد ہوگئے
زہرہ آنم کہ بایں جاذبہ شوق
رخسار ترابینم و بے تاب و نگردم
علماء میں سے آپ ہی پہلے عالِم ہیں جو سید راجی شاہ کے مرید ہوئے تھے، اور وہ جونپور کے مشائخ میں سے تھے، سلطان سکندر کے زمانے میں اسی کی خواہش سے ادھر آئے تھے۔
سلطان سکندر کا ایک بھائی جس پر سلطنت کے حصول کا جنون سوار تھا وہ آپ کا مرید تھا، اسی خیال کو لے کر وہ ایک دن آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا، کہ حضرت دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ دہلی کی حکومت مجھے عنایت فرمائے، آپ نے اس کو اس خام خیالی سے منع کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کاملہ سے تمہارے ایک بھائی کو سلطنت عطافرمائی ہے تم اس سے کوئی اختلاف و حسد وغیرہ نہ کرو بلکہ اس کے تابع ہوکر رہو، جب اس بات کی اطلاع سلطان سکندر کو ہوئی تو وہ آپ کی کرامت و دیانت کا معتقد ہوکر حاضر ہوا، وہ اس سے پہلے ہی دہلی کے مشائخ سے ملنا چاہتا تھا مگر اس بات نے اس کے اشتیاق ملاقات میں سونے پر سہاگے کا کام کیا۔
آپ ابتداً جونپور سے آگرہ تشریف لائے اور ایک عرصہ تک یہاں اقامت پذیر رہے اس کے بعد دہلی چلے گئے اور وہاں جے منڈل میں جس کا حصار و گنبد سلطان محمد تغلق نے تعمیر کرایا تھا مع اہل وعیال رہنے لگے اور یہیں آپ نے 24؍ ربیع الاول 909ھ میں وفات پائی، آپ کی اور آپ کی اکثر اولاد کی قبریں یہیں ہیں۔
طریقہ سلوک اور علم توحید پر آپ نے متعدد کتابیں لکھی ہیں، ان کتابوں میں سے ایک کتاب مفتاح الفیض ہے اس میں لکھتے ہیں۔
آپ راجی حامد شاہ کے مرید تھے سید نور بن حامد شاہ کی مجالس سے بھی فیض پایا تھا آپ کے والد شیخ طاہر ملتان سے چل کر دہلی آئے اور دینی علوم حاصل کرنے لگے ایک عرصہ تک بہار چلے گئے اور وہاں رہ کر شیخ بدہ حقانی کے مدرسہ میں پڑھتے رہے شیخ حسن بہار میں ہی پیدا ہوئے ہوش سنبھالا تو دینی علوم میں مصروف ہوگئے اور ساتھ ساتھ ہی معرفت کی منازل طے کرتے رہے اور درویشوں کی صحبت میں رہنے لگے
ان دنوں آپ نے ابن عربی کی کتاب فصوص الحکم ایک بزرگ سے پڑھنا شروع کی آپ کے والد فصوص کے اسرار سے بیگانہ بھی تھے اور خلاف بھی تھے ایک دن والد نے آپ سے توحید و جودی کے موضوع پر گفتگو کی آپ نے ظاہری علوم کی روشنی میں اس مسئلہ پر بات کی جس سے آپ کو اطمینان ہوگیا اس دن کے بعد آپ نے فصوص کی مخالفت چھوڑدی انہی دنوں شیخ راجی حامد شاہ کی مشیخیت کی شہرت سارے ہندوستان میں پھیلی تھی۔ شیخ طاہر حسن آپ کو دیکھنے گئے پہلی ملاقات میں ہی آپ مرید ہوگئے علمائے کرام میں سے جو شخص سب سے پہلے آپ کے حلقہ ارادت میں آیا حضرت شیخ حسن طاہر تھے آپ اگرچہ جونپور کے مشائخ میں سے تھے مگر سلطان سکندر لودھی لہ درخواست پر جونپور سے دہلی آئے۔
سلطان سکندر کا ایک بھائی آپ کا مرید تھا۔ اس کے دماغ میں ہمیشہ سلطنت حاصل کرنے کی کشمکش تھی ایک روز آہپ کی خدمت میں حاضر ہوکر اصرار کرنے لگا کہ میرے لیے سلطنت دہلی کی دعافرمائیں حضرے شیخ نے اسے اس ارادے سے روکا اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہارے بھائی کو امورِ سلطنت دئیے ہیں تم اس کی سلطنت میں رہ کر خدمت خلق کرو۔ یہ بات سلطان سکندر نے سنی تو وہ آپ کا مزید معتقد ہوگیا۔ آپ کو نہایت احترام سے اپنے شاہی قلعہ کے قریب کوشک بجی منڈل جو سلطان محمد تغلق کے قلعہ میں ہی ٹھہریا۔ آپ تادم وفات وہاں ہی قیام فرما رہے۔
اخبار الاخیار اور معارج الولائیت کے مولفین نے آپ کا یوم وفات چوبیس ربیع الاول ۹۰۹ھ لکھا ہے علم سلوک و توحید میں آپ کی ایک کتاب مفتاح الفیض بڑی گراں قدر ہے۔
شد ز دنیا چو در بہشت بریں
حسن آن محسن جہاں مرحوم
ہر دو تاریک رحلتش سرور
زیب فیض است قطب حق مخدوم
۹۰۹ھ ۹۰۹ھ
آپ راجی حامد شاہ کے مریدوں میں سے تھے اور راجی سید نور کے خلیفہ تھے، آپ کے والد بزرگوار کا نام شیخ طاہر تھا وہ ملتان سے بہار گئے اور عرصہ دراز تک شیخ بڈہ حقانی سے تعلیم حاصل کرتے رہے، بہار ہی میں شیخ حسن طاہر پیدا ہوئے، شیخ حسن کو جوانی ہی کے زمانہ میں طلب حق کا درد دامن گیر تھا، اس لیے درویشوں ہی کی صحبت میں رہے۔
آپ نے اسی زمانے میں فصوص الحکم ایک بزرگ سے شروع کی اور آپ کے والد صاحب فصوص الحکم کے مخالف تھے، انہوں نے ایک دن مسئلہ توحید کے متعلق آپ سے دریافت کیا تو آپ نے اس مسئلہ کو علمائے ظاہر کی طرح ایسی وضاحت سے بیان کیا کہ آپ کے والد صاحب کے بھی چند اشکال ختم ہوگئے اس کے بعد پھر آپ کو فصوص الحکم کے پڑھنے سے منع نہ فرماتے، اسی زمانے میں راجی حامد شاہ کی بزرگی اور ولایت کی عام و خاص میں شہرت ہوگئی تھی، شیخ حسن بھی امتحان کی غرض سےان کے پاس گئے اور پہلی ہی ملاقات میں اُن کے معتقد ہوگئے
زہرہ آنم کہ بایں جاذبہ شوق
رخسار ترابینم و بے تاب و نگردم
علماء میں سے آپ ہی پہلے عالِم ہیں جو سید راجی شاہ کے مرید ہوئے تھے، اور وہ جونپور کے مشائخ میں سے تھے، سلطان سکندر کے زمانے میں اسی کی خواہش سے ادھر آئے تھے۔
سلطان سکندر کا ایک بھائی جس پر سلطنت کے حصول کا جنون سوار تھا وہ آپ کا مرید تھا، اسی خیال کو لے کر وہ ایک دن آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا، کہ حضرت دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ دہلی کی حکومت مجھے عنایت فرمائے، آپ نے اس کو اس خام خیالی سے منع کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کاملہ سے تمہارے ایک بھائی کو سلطنت عطافرمائی ہے تم اس سے کوئی اختلاف و حسد وغیرہ نہ کرو بلکہ اس کے تابع ہوکر رہو، جب اس بات کی اطلاع سلطان سکندر کو ہوئی تو وہ آپ کی کرامت و دیانت کا معتقد ہوکر حاضر ہوا، وہ اس سے پہلے ہی دہلی کے مشائخ سے ملنا چاہتا تھا مگر اس بات نے اس کے اشتیاق ملاقات میں سونے پر سہاگے کا کام کیا۔
آپ ابتداً جونپور سے آگرہ تشریف لائے اور ایک عرصہ تک یہاں اقامت پذیر رہے اس کے بعد دہلی چلے گئے اور وہاں جے منڈل میں جس کا حصار و گنبد سلطان محمد تغلق نے تعمیر کرایا تھا مع اہل وعیال رہنے لگے اور یہیں آپ نے 24؍ ربیع الاول 909ھ میں وفات پائی، آپ کی اور آپ کی اکثر اولاد کی قبریں یہیں ہیں۔
طریقہ سلوک اور علم توحید پر آپ نے متعدد کتابیں لکھی ہیں، ان کتابوں میں سے ایک کتاب مفتاح الفیض ہے اس میں لکھتے ہیں۔
❤1
سُوال: سلوک کیا ہے اور سالک کیا ہے؟ تزکیہ قلب و نفس کیا ہے، اسی طرح تخلیہ سر اور تخلیہ روح کیا ہے، منزِل و جذبہ کیا ہیں، مقصد کہاں ہے اور وصول کہاں ہے، شریعت، طریقت، حقیقت کیا چیز ہے اور ان کا مقام کیا ہے؟
جواب: سلوک کے معنی لغت میں چلنا ہے اور حسی طور پر چلنے کے معنی ہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوجانا اور یہاں سلوک سے معنی چلنا مراد ہے اور اسی انتقال کو مرتبہ نفس میں تزکیہ کہتے ہیں۔ اور تزکیہ نفس سے مراد یہ ہے کہ حیوانی اوصاف کو ترک کرکے ملائکہ کے اوصاف سے متصف ہوجانا اور نفس امارہ کو نفس لوامہ اور مطمنہ کے تابع کردینا۔ دل کے سلوک کو تصفیہ کہتے ہیں جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اپنے دل کو دنیا کی تمام فکروں اور رنج وغم کے زنگار سے صاف رکھا جائے۔ تخلیہ سریہ ہے کہ اپنے سر میں کسی ماسوی اللہ کی کوئی خواہش نہ رکھے اور اللہ کے علاوہ خواہ وہ جنت ہی کیوں نہ ہو کوئی خیال نہ کرے اور اپنے سر کی نگہداشت کرے یعنی اپنے دماغ میں غیر اللہ کا تصور تک نہ آنے دے اور اگر اچانک ماسوی اللہ کا کوئی خیال و تصور آبھی جائے تو فوراً اس کو نکال کر پھینک دے۔ تجلی روح یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ذوق و شوق اور اسرار و انوار کے ذریعہ روح کو پاک و صاف اور ان اوصاف سے مزین رکھے،حقیقت سلوک سے مراد یہ ہے کہ حیوانی اور انسانی جملہ اوصاف سے نکل کر خدائی اوصاف اور اخلاق کو اپنالیے جیسا کہ حدیث شریف میں آتا ہے، تغلقوا باخلاق اللہ۔
حضرت قطب عالم نے اپنے رسالہ مہمات میں شریعت، طریقت اور حقیقت کے متعلق لکھا ہے کہ شریعت نام ہے اتباع و فرنبرداری کا اور طریقت کہتے ہیں تمام سے انقطاع کرنے اور حقیقت اطلاع اور خبر داری کو کہتے ہیں۔
غرضیکہ شریعت نام ہے انقیاد کا: طریقت نام ہے اپنے نفس پر تنقید کرنے کا اور حقیقت نام ہے اتحاد کا جس کی تفصیل اس طرح ہے کہ شریعت درمیانہ روی اور اعتدال کو کہتے ہیں، اور طریقت اپنے کو چھوڑ دینا، اور حقیقت دوست سے مل جانے کو کہتے ہیں یعنی بطیّب خاطر فرمانبرداری کرنا شریعت ہے، غیر سے بیزاری طریقت ہے دوست سے برخورداری کرنا حقیقت ہے۔
شریع غنا ہے اور طریقت فنا ہوجانے کو کہتے ہیں اور حقیقت بقاء کو کہتے ہیں، سالک ابتداً اچھی کیفیت رکھتا ہے، درمیان میں معاد کی عقل پیدا ہوجاتی ہے اور آخر کار وہ اللہ کا نور پہچانتا ہے، اللہ تک پہنچنے کے لیےکوئی راستہ اور منزل نہیں ہے کیونکہ راستہ تو ہمیشہ دوچیزوں کے درمیان ہونا ہے اور جب سالک اور اللہ عَزَوَّجَل کے درمیان دوری ہی نہیں تو نہ راستہ کی ضرورت ہے اور نہ منزِل کی۔
منصور حلاج سے لوگوں نے دریافت کیا تھا کہ راستہ کیاہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ راستہ دوچیزوں کے درمیان والی چیز کو کہتے ہیں اور اللہ تک پہنچنے کے لیے بے انتہا منزلیں ہیں کیونکہ اس کی بھی کوئی حد اور انتہا نہیں اور مطلب یہ ہے کہ انسان کو وحدت حقیقی تک رسائی ہو اور شرک و احساس غیریت سے نفرت ہوجائے اور جذبہ کے معنی خاص رَحَمت کے ہیں، جیسا کہ ارشاد ہے (اے اللہ میں تجھ سے اس رَحَمت کا طلب گار ہوں جس سے میرا دل راہ راست پر آجائے)اسی کا نام فیض حق بھی ہے (اور اس جذبہ کی اتنی قدرو قیمت ہے کہ) ایک جذبہ حق، جنون اور انسانوں کے عمل کے مساوی ہوتا ہے۔
یک ذرہ عنایت تو اے بندہ نواز
تیرے رب کی بعض ایام میں کچھ خصوصی رَحمتیں ہوتی ہیں انہیں ضرور حاصل کیا کرو۔
تو مستحق نظر شو کمال و قابل فیض
کہ منقطع نشو و فیض ہرگز ازفیاض
اوراسی کی طرف آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشارہ فرمایا کہ (یمن کی طرف سے مجھے نفس الرحمان کی خوشبو محسوس ہوتی ہے)
مرد باید کہ بوئے داند برد!
ورنہ عالم پر از نسیم صبا است
دریں دیار ازاں سرخوشم کہ گاہ گاہے
نسیم بوئے توام زیں دیارمے آید!
یہ کبھی دائمی تجلی اور فیض حق ہی کی طرف اشارہ ہے، جذبہ حق اور وصولی الی الحق کا مطلب یہ ہے کہ اپنے تخیلات اور غیریت سے انقطاع اور علیحدگی اختیار کرلی جائے اور وجود مطلق کی ذات میں جہل و علم کو مرتفع اور ختم کردے۔
اخبار الاخیار
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-hassan-tahir-dehlvi
جواب: سلوک کے معنی لغت میں چلنا ہے اور حسی طور پر چلنے کے معنی ہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوجانا اور یہاں سلوک سے معنی چلنا مراد ہے اور اسی انتقال کو مرتبہ نفس میں تزکیہ کہتے ہیں۔ اور تزکیہ نفس سے مراد یہ ہے کہ حیوانی اوصاف کو ترک کرکے ملائکہ کے اوصاف سے متصف ہوجانا اور نفس امارہ کو نفس لوامہ اور مطمنہ کے تابع کردینا۔ دل کے سلوک کو تصفیہ کہتے ہیں جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اپنے دل کو دنیا کی تمام فکروں اور رنج وغم کے زنگار سے صاف رکھا جائے۔ تخلیہ سریہ ہے کہ اپنے سر میں کسی ماسوی اللہ کی کوئی خواہش نہ رکھے اور اللہ کے علاوہ خواہ وہ جنت ہی کیوں نہ ہو کوئی خیال نہ کرے اور اپنے سر کی نگہداشت کرے یعنی اپنے دماغ میں غیر اللہ کا تصور تک نہ آنے دے اور اگر اچانک ماسوی اللہ کا کوئی خیال و تصور آبھی جائے تو فوراً اس کو نکال کر پھینک دے۔ تجلی روح یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ذوق و شوق اور اسرار و انوار کے ذریعہ روح کو پاک و صاف اور ان اوصاف سے مزین رکھے،حقیقت سلوک سے مراد یہ ہے کہ حیوانی اور انسانی جملہ اوصاف سے نکل کر خدائی اوصاف اور اخلاق کو اپنالیے جیسا کہ حدیث شریف میں آتا ہے، تغلقوا باخلاق اللہ۔
حضرت قطب عالم نے اپنے رسالہ مہمات میں شریعت، طریقت اور حقیقت کے متعلق لکھا ہے کہ شریعت نام ہے اتباع و فرنبرداری کا اور طریقت کہتے ہیں تمام سے انقطاع کرنے اور حقیقت اطلاع اور خبر داری کو کہتے ہیں۔
غرضیکہ شریعت نام ہے انقیاد کا: طریقت نام ہے اپنے نفس پر تنقید کرنے کا اور حقیقت نام ہے اتحاد کا جس کی تفصیل اس طرح ہے کہ شریعت درمیانہ روی اور اعتدال کو کہتے ہیں، اور طریقت اپنے کو چھوڑ دینا، اور حقیقت دوست سے مل جانے کو کہتے ہیں یعنی بطیّب خاطر فرمانبرداری کرنا شریعت ہے، غیر سے بیزاری طریقت ہے دوست سے برخورداری کرنا حقیقت ہے۔
شریع غنا ہے اور طریقت فنا ہوجانے کو کہتے ہیں اور حقیقت بقاء کو کہتے ہیں، سالک ابتداً اچھی کیفیت رکھتا ہے، درمیان میں معاد کی عقل پیدا ہوجاتی ہے اور آخر کار وہ اللہ کا نور پہچانتا ہے، اللہ تک پہنچنے کے لیےکوئی راستہ اور منزل نہیں ہے کیونکہ راستہ تو ہمیشہ دوچیزوں کے درمیان ہونا ہے اور جب سالک اور اللہ عَزَوَّجَل کے درمیان دوری ہی نہیں تو نہ راستہ کی ضرورت ہے اور نہ منزِل کی۔
منصور حلاج سے لوگوں نے دریافت کیا تھا کہ راستہ کیاہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ راستہ دوچیزوں کے درمیان والی چیز کو کہتے ہیں اور اللہ تک پہنچنے کے لیے بے انتہا منزلیں ہیں کیونکہ اس کی بھی کوئی حد اور انتہا نہیں اور مطلب یہ ہے کہ انسان کو وحدت حقیقی تک رسائی ہو اور شرک و احساس غیریت سے نفرت ہوجائے اور جذبہ کے معنی خاص رَحَمت کے ہیں، جیسا کہ ارشاد ہے (اے اللہ میں تجھ سے اس رَحَمت کا طلب گار ہوں جس سے میرا دل راہ راست پر آجائے)اسی کا نام فیض حق بھی ہے (اور اس جذبہ کی اتنی قدرو قیمت ہے کہ) ایک جذبہ حق، جنون اور انسانوں کے عمل کے مساوی ہوتا ہے۔
یک ذرہ عنایت تو اے بندہ نواز
تیرے رب کی بعض ایام میں کچھ خصوصی رَحمتیں ہوتی ہیں انہیں ضرور حاصل کیا کرو۔
تو مستحق نظر شو کمال و قابل فیض
کہ منقطع نشو و فیض ہرگز ازفیاض
اوراسی کی طرف آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشارہ فرمایا کہ (یمن کی طرف سے مجھے نفس الرحمان کی خوشبو محسوس ہوتی ہے)
مرد باید کہ بوئے داند برد!
ورنہ عالم پر از نسیم صبا است
دریں دیار ازاں سرخوشم کہ گاہ گاہے
نسیم بوئے توام زیں دیارمے آید!
یہ کبھی دائمی تجلی اور فیض حق ہی کی طرف اشارہ ہے، جذبہ حق اور وصولی الی الحق کا مطلب یہ ہے کہ اپنے تخیلات اور غیریت سے انقطاع اور علیحدگی اختیار کرلی جائے اور وجود مطلق کی ذات میں جہل و علم کو مرتفع اور ختم کردے۔
اخبار الاخیار
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-hassan-tahir-dehlvi
scholars.pk
Hazrat Sheikh Hassan Tahir Dehlvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت شاہ کلیم اللہ جہاں آبادی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: شاہ کلیم اللہ شاہ جہاں آبادی ۔ لقب: شیخ المشائخ، عالم و عارف، محدثِ کامل، مجدد سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ ۔
سلسلۂ نسب:
حضرت شاہ کلیم اللہ شاہ جہاں آبادی بن حاجی نور اللہ صدیقی بن شیخ احمد صدیقی۔علیہم الرحمہ ۔ آپ حضرت صدیقِ اکبر کی اولاد سےتھے ۔ آپ کے دادا عہدِ شاہجہانی میں ’’خُجَند‘‘ ترکمانستان موجودہ تاجکستان سے دہلی آئے ۔ وہ علوم عمارات، ہیئت، ریاضی، اور نجوم میں مہارت رکھتےتھے ۔ اسی لئے شاہ جہاں نے ان کو لال قلعہ، اور جامع مسجد دہلی کی تعمیر کےسلسلے میں بلایا تھا۔تاج محل آگرہ ،اور محل آصف خان لاہور بھی انہیں کا تعمیر کردہ ہے۔شاہ جہاں نے ان کو ’’نادر العصر‘‘کا خطاب دیا تھا ۔ ان کی وفات 1649ء کو دہلی میں ہوئی۔(چشتی خانقاہیں اور سربراہان ِ برصغیر: 142)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 24 جمادی الثانی 1060ھ مطابق 24 جون 1650ء،بروز جمعۃ المبارک دہلی میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
مولانا شاہ کلیم اللہ شاہ جہاں آبادی کا تعلق ایک علمی و روحانی خانوادے سےتھا۔بالخصوص فنِ تعمیر میں جہاں میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ اس وقت دہلی علوم وفنون کا مرکزتھا۔بڑے بڑے علماء و صوفیاء نے ظاہری و باطنی علوم کےمیخانے سجا رکھےتھے۔ان میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کےبزرگ بھی تھے۔دہلی کے مختلف مدارس میں تعلیم حاصل کرتےرہے۔سندِ حدیث حضرت شیخ ابوالرضا ہندی (تایا حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی) اور مولانا شیخ برہان الدین المعروف شیخ بہلول سےحاصل کی۔حضرت مولانا شاہ کلیم اللہ جہاں آبادی کو تمام علوم و فنون میں مہارتِ تامہ حاصل تھی۔دہلی کے متبحر علماء میں شمارکیے جاتےتھے۔
بیعت و خلافت:
تحصیلِ علم کے بعد کسی برترنسبت کی طلب ہوئی، تو ایک بزرگ ’’رسول نما‘‘کی خدمت میں حاضر ہوئے،اور بیعت کے خواستگارہوئے۔صاحبِ بصیرت و عرفان بزرگ نے جواب دیا کہ تمہارا حصہ یہاں نہیں،حضرت شیخ یحیٰ مدنی کےپاس ہے۔اور وہ مدینہ منورہ میں ہیں، وہاں جاؤ اور اس دسترخوانِ محبت ومعرفت سے خوشہ چینی کرو۔بس یہ سننا تھا کہ طالبِ صادق عازم حجاز مقدس ہوئے،اور مدینہ منورہ میں حضرت شیخ یحیٰ مدنی کی خدمت میں حاضر ہوگئے،ان سے بیعت ہوئے،اور کچھ عرصہ تربیت میں رہے،مجاہدات و سلوک کےبعد خلافتِ عالیہ چشتیہ سے مشرف ہوئے۔اسی طرح قیام ِ حجاز میں ہی حضرت امیرِ محترم لاہوری سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ اور سید محمد کبریٰ سے سلسلہ عالیہ قادریہ کی خلافت پائی۔(بہار ِ چشت:117)
سیرت و خصائص:
جامع العلوم، بحر العلوم، عارف باللہ، واصل باللہ، مجدد سلسلہ عالیہ چشتیہ حضرت علامہ مولانا خواجہ شاہ کلیم اللہ شاہ جہاں آبادی ۔ آپ کا شمار اکابر و اعظام اولیائے ہند میں ہوتا ہے۔آپ کے خوارق عادات اور زہد و طاعت کا شہرہ دور دور تک پھیلا ہوا تھا۔بڑے نامور شیخ تھے۔علم و فضل میں یگانہ روزگار تھے۔بڑے بڑے علماء آپ کے تبحر علمی کے معترف تھے۔مدینۃ المنورہ سے دہلی میں واپسی پر خانم بازار کی ایک مسجد میں قیام کیااور تعلیمی بساط بچھائی۔علمی استطاعت تو حد درجہ کی تھی۔کیونکہ اپنے وقت کے عظیم محدثین اور شیوخ سے تحصیلِ علم کیا تھا۔آپ کا درس علم و معرفت کا بحرِ مواج ہوتا تھا۔دور دور سے طلبہ شریک درس ہوتے۔کھانے پینے کا انتظام مفت تھا۔حدیث کے درس کی شہرت عام ہوچکی تھی۔ایک مرتبہ حضرت مرزا جانِ جاناں ملاقات کےلئے تشریف لائے تو آپ صحیح بخاری کا درس دے رہےتھے۔(اردو دائرہ معارف اسلامیہ:17/280)
مجدد سلسلہ عالیہ چشتیہ:
آپ کو مجدد سلسلہ عالیہ چشتیہ کہاجائے تو مبالغہ نہ ہوگا۔ کیونکہ جس وقت آپ دہلی میں مسند آرا ہوئے اس وقت سلسلہ عالیہ چشتیہ کا خانقاہی نظام زوال پذیر تھا۔خانقاہیں ویرانی کا منظر پیش کررہی تھیں۔ آپ ہی کی ذاتِ مبارکہ ہے جن کی وجہ سے سلسلہ عالیہ کو پھر سےعروج نصیب ہوا۔دورِ انحطاط کو دورِ عروج میں بدلنے کا سہرا آپ کے سر ہے۔شیخ الاسلام حضرت خواجہ نصیر الدین چراغ دہلویکےبعدایک خلا پیدا ہوگیا تھا۔اس خلا کو آپ نے ہی پر کیا۔حضرت شاہ کلیم اللہ نے خانقاہی نظام کی ایسی بنیاد رکھی جس نےبالخصوص اسلامیانِ ہند کوپھر سے ایمان وایقان کی قوت اور علم و حکمت اور معرفت کےخزینے عطاکیے۔وہ خانقاہیں پھر ایسی نہ رہیں جن میں صرف ہر وقت لنگر چلتا رہے،اور درویش صرف نعرے لگاتے رہیں۔ملت اسلامیہ اور تعلیم اسلام سے کوئی سروکار نہ ہو۔بلکہ حضرت شاہ کلیم اللہ نے ایسی خانقاہ کی بنیاد رکھی کہ جس میں ہر مرید وخلیفہ پر لازم تھا کہ وہ پہلے علومِ ظاہری میں مہارت ِ تامہ حاصل کرے،تاکہ دین ِ اسلام کے تمام شعبہ جات کی بنیادی معلومات حاصل ہوں،اور وسیع بنیادوں پر دین کی خدمت کرسکے۔پھر عوام میں جاہل صوفیاءنے جو غلط فہمی پھیلادی تھی کہ اصل صوفی وہ ہوتا ہے کہ جس کا علم و شریعت سے دور کاواسطہ بھی نہ ہو۔حضرت شاہ صاحب نے تمام علوم ِ نقلیہ و عقلیہ کا درس دےکر اس غلط فہمی کا ازالہ کر دیا۔
نام و نسب:
اسم گرامی: شاہ کلیم اللہ شاہ جہاں آبادی ۔ لقب: شیخ المشائخ، عالم و عارف، محدثِ کامل، مجدد سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ ۔
سلسلۂ نسب:
حضرت شاہ کلیم اللہ شاہ جہاں آبادی بن حاجی نور اللہ صدیقی بن شیخ احمد صدیقی۔علیہم الرحمہ ۔ آپ حضرت صدیقِ اکبر کی اولاد سےتھے ۔ آپ کے دادا عہدِ شاہجہانی میں ’’خُجَند‘‘ ترکمانستان موجودہ تاجکستان سے دہلی آئے ۔ وہ علوم عمارات، ہیئت، ریاضی، اور نجوم میں مہارت رکھتےتھے ۔ اسی لئے شاہ جہاں نے ان کو لال قلعہ، اور جامع مسجد دہلی کی تعمیر کےسلسلے میں بلایا تھا۔تاج محل آگرہ ،اور محل آصف خان لاہور بھی انہیں کا تعمیر کردہ ہے۔شاہ جہاں نے ان کو ’’نادر العصر‘‘کا خطاب دیا تھا ۔ ان کی وفات 1649ء کو دہلی میں ہوئی۔(چشتی خانقاہیں اور سربراہان ِ برصغیر: 142)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 24 جمادی الثانی 1060ھ مطابق 24 جون 1650ء،بروز جمعۃ المبارک دہلی میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
مولانا شاہ کلیم اللہ شاہ جہاں آبادی کا تعلق ایک علمی و روحانی خانوادے سےتھا۔بالخصوص فنِ تعمیر میں جہاں میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ اس وقت دہلی علوم وفنون کا مرکزتھا۔بڑے بڑے علماء و صوفیاء نے ظاہری و باطنی علوم کےمیخانے سجا رکھےتھے۔ان میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کےبزرگ بھی تھے۔دہلی کے مختلف مدارس میں تعلیم حاصل کرتےرہے۔سندِ حدیث حضرت شیخ ابوالرضا ہندی (تایا حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی) اور مولانا شیخ برہان الدین المعروف شیخ بہلول سےحاصل کی۔حضرت مولانا شاہ کلیم اللہ جہاں آبادی کو تمام علوم و فنون میں مہارتِ تامہ حاصل تھی۔دہلی کے متبحر علماء میں شمارکیے جاتےتھے۔
بیعت و خلافت:
تحصیلِ علم کے بعد کسی برترنسبت کی طلب ہوئی، تو ایک بزرگ ’’رسول نما‘‘کی خدمت میں حاضر ہوئے،اور بیعت کے خواستگارہوئے۔صاحبِ بصیرت و عرفان بزرگ نے جواب دیا کہ تمہارا حصہ یہاں نہیں،حضرت شیخ یحیٰ مدنی کےپاس ہے۔اور وہ مدینہ منورہ میں ہیں، وہاں جاؤ اور اس دسترخوانِ محبت ومعرفت سے خوشہ چینی کرو۔بس یہ سننا تھا کہ طالبِ صادق عازم حجاز مقدس ہوئے،اور مدینہ منورہ میں حضرت شیخ یحیٰ مدنی کی خدمت میں حاضر ہوگئے،ان سے بیعت ہوئے،اور کچھ عرصہ تربیت میں رہے،مجاہدات و سلوک کےبعد خلافتِ عالیہ چشتیہ سے مشرف ہوئے۔اسی طرح قیام ِ حجاز میں ہی حضرت امیرِ محترم لاہوری سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ اور سید محمد کبریٰ سے سلسلہ عالیہ قادریہ کی خلافت پائی۔(بہار ِ چشت:117)
سیرت و خصائص:
جامع العلوم، بحر العلوم، عارف باللہ، واصل باللہ، مجدد سلسلہ عالیہ چشتیہ حضرت علامہ مولانا خواجہ شاہ کلیم اللہ شاہ جہاں آبادی ۔ آپ کا شمار اکابر و اعظام اولیائے ہند میں ہوتا ہے۔آپ کے خوارق عادات اور زہد و طاعت کا شہرہ دور دور تک پھیلا ہوا تھا۔بڑے نامور شیخ تھے۔علم و فضل میں یگانہ روزگار تھے۔بڑے بڑے علماء آپ کے تبحر علمی کے معترف تھے۔مدینۃ المنورہ سے دہلی میں واپسی پر خانم بازار کی ایک مسجد میں قیام کیااور تعلیمی بساط بچھائی۔علمی استطاعت تو حد درجہ کی تھی۔کیونکہ اپنے وقت کے عظیم محدثین اور شیوخ سے تحصیلِ علم کیا تھا۔آپ کا درس علم و معرفت کا بحرِ مواج ہوتا تھا۔دور دور سے طلبہ شریک درس ہوتے۔کھانے پینے کا انتظام مفت تھا۔حدیث کے درس کی شہرت عام ہوچکی تھی۔ایک مرتبہ حضرت مرزا جانِ جاناں ملاقات کےلئے تشریف لائے تو آپ صحیح بخاری کا درس دے رہےتھے۔(اردو دائرہ معارف اسلامیہ:17/280)
مجدد سلسلہ عالیہ چشتیہ:
آپ کو مجدد سلسلہ عالیہ چشتیہ کہاجائے تو مبالغہ نہ ہوگا۔ کیونکہ جس وقت آپ دہلی میں مسند آرا ہوئے اس وقت سلسلہ عالیہ چشتیہ کا خانقاہی نظام زوال پذیر تھا۔خانقاہیں ویرانی کا منظر پیش کررہی تھیں۔ آپ ہی کی ذاتِ مبارکہ ہے جن کی وجہ سے سلسلہ عالیہ کو پھر سےعروج نصیب ہوا۔دورِ انحطاط کو دورِ عروج میں بدلنے کا سہرا آپ کے سر ہے۔شیخ الاسلام حضرت خواجہ نصیر الدین چراغ دہلویکےبعدایک خلا پیدا ہوگیا تھا۔اس خلا کو آپ نے ہی پر کیا۔حضرت شاہ کلیم اللہ نے خانقاہی نظام کی ایسی بنیاد رکھی جس نےبالخصوص اسلامیانِ ہند کوپھر سے ایمان وایقان کی قوت اور علم و حکمت اور معرفت کےخزینے عطاکیے۔وہ خانقاہیں پھر ایسی نہ رہیں جن میں صرف ہر وقت لنگر چلتا رہے،اور درویش صرف نعرے لگاتے رہیں۔ملت اسلامیہ اور تعلیم اسلام سے کوئی سروکار نہ ہو۔بلکہ حضرت شاہ کلیم اللہ نے ایسی خانقاہ کی بنیاد رکھی کہ جس میں ہر مرید وخلیفہ پر لازم تھا کہ وہ پہلے علومِ ظاہری میں مہارت ِ تامہ حاصل کرے،تاکہ دین ِ اسلام کے تمام شعبہ جات کی بنیادی معلومات حاصل ہوں،اور وسیع بنیادوں پر دین کی خدمت کرسکے۔پھر عوام میں جاہل صوفیاءنے جو غلط فہمی پھیلادی تھی کہ اصل صوفی وہ ہوتا ہے کہ جس کا علم و شریعت سے دور کاواسطہ بھی نہ ہو۔حضرت شاہ صاحب نے تمام علوم ِ نقلیہ و عقلیہ کا درس دےکر اس غلط فہمی کا ازالہ کر دیا۔
❤1
سلسلۃ الذہب:آپ کی ذات والاصفات سے سلسلہ عالیہ چشتیہ کو ایک اور منہج ملا ۔بآپ کے خلیفہ حضرت شاہ نظام الدین اورنگ آبادی جید عالم دین کے ساتھ شیخِ طریقت بھی تھے۔اسی طرح ان کے صاحبزادے و جانشین حضرت فخر الدین فخرِ جہاں اپنے زمانے کےتمام علماء میں ممتاز مقام کے حامل تھے ۔ پھر ان کےخلیفہ حضرت قبلۂ عالم خواجہ نور محمد مہاروی، اور شاہ نیاز بریلوی وغیرہ رحمہم اللہ، اور پھرآپ کےخلفاء، حضرت خواجہ نور محمد نارو والا، حضرت قاضی عاقل محمد کوٹ مٹھن شریف، حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی، حضرت خواجہ حافظ محمد جمال اللہ ملتانی، پھر ان سے حضرت خواجہ خدا بخش خیر پوری، حضرت خواجہ عبید اللہ ملتانی، مولانا عبد العزیز پرہاروی ، حضرت خواجہ شمس العارفین، حضرت شیخ الاسلام پیر مہر علی شاہ، حضرت خواجہ فیض محمد شاہ جمالی یہ سب حضرات اور پھر ان کے خلفاء در خلفاء سب آفتابِ شریعت اور ماہتابِ طریقت تھے۔اپنے وقت میں یہ ہستیاں علم و معرفت میں اپنا ثانی نہ رکھتی تھیں۔اس نظام کی بنیاد رکھنے والے حضرت شاہ کلیم اللہ شاہ جہاں آبادی ہیں۔اللہ تعالیٰ پھر سے کوئی مرد قلندر بھیج دے جو پھر سے ہماری ویران خانقاہوں کا آباد کردے۔آمین بجاہ النبی الامینﷺ۔(فقیرتونسویؔ غفرلہ)
فیضِ عام:
آپ کی خدمت میں مخلوقِ خدا جوق در جوق حاضر ہونے لگی۔حتیٰ کہ امراء و وزراء اور اورنگ زیب عالمگیر حاضر ہوئے،اور پھر باربار حاضر ہوتے رہے۔آپ سے فیض حاصل کرتے رہے۔اورنگ زیب عالمگیر کے بعد ان کے فرزندبھی عاجزانہ حاضر ہوتے رہے،اور محمد شاہ بادشاہ تک جتنے سلاطین بھی تختِ دہلی پر متمکن ہوئے سب ہی اس آستانہ کے غلام تھے ۔ (شانِ اولیاء:469) ـ
توکل و استغناء:
دہلی میں حضرت شاہ صاحب کی مالی حالت اچھی نہ تھی۔لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو توکل اور قناعت کی بے پناہ دولت دے رکھی تھی۔ کبھی کبھار تو فاقے بھی ہو جاتے تھے، لیکن اس مردِ قلندر نے کبھی کسی حاکم سے نذرانہ نہیں لیا۔ہمارے زمانے (1449ھ/2018ء) میں، میں نے کوئی ایسا پیر نہیں دیکھا جس کا رہن سہن ٹھاٹھ باٹھ،کسی بادشاہ یا وزیر سے کم ہو۔الا ماشاء اللہ۔اور پھر عوام کا بھی یہی نظریہ بن چکا ہے کہ جو خود بھوکا بیٹھا ہے وہ ہمیں کیا دےگا۔بلکہ جس کا لنگر اچھا ہوتا ہے وہاں رش بھی زیادہ ہوتا ہے۔
کئی مرتبہ شاہِ دہلی فخر سیر نے بڑی عاجزی سے اصرار کیا کہ حضرت اپنی ضروریات کےلئے سرکاری خازنے سےرقم لےلیاکریں۔لیکن آپ نے ہر بار پیشکش مسترد کردی اور فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے اتنا دیا ہےکہ مجھے زیادہ کی حاجت ہی نہیں ہے‘‘۔اسی نے ایک بڑی حویلی دینے کی پیشکش کی،آپ نہ مانے۔اس نے حاضری کی اجازت چاہی مگر آپ نے ٹال دیا اور فرمایا: تمھارے آنے سے ہمارے معاملات متأثر ہوں گے۔لہذا بذاتِ خود آنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔بادشاہ نے اس کے بعد یہ وطیرہ اختیار کرلیاتھاکہ جمعۃ المبارک کےدن جامع مسجدمیں حضرت بھی تشریف لےجاتے تھے،اور بادشاہ بھی اسی مسجد میں جمعہ ادا کرتا تھا۔پھر بھی وہ اجازت لےبڑی عاجزی اور تعظیم سے آپ کی قدم بوسی کرلیتا تھا۔(بہارِ چشت:118)
تصانیف:
حضرت شاہ کلیم اللہ صاحبِ تصنیف بزرگ تھے۔تیس کے قریب تصانیف کا نام ملتا ہے۔1۔قرآن القرآن۔2۔عشرہ کاملہ۔ 3۔سواء السبیل۔4۔کشکول۔5۔مرقع۔6۔تسنیم۔7۔الہاماتِ کلیمی۔8۔رسالہ تشریح الافلاک۔9۔شرح القانون۔رد رافض میں بھی بعض کتب تھیں،اور اسی طرح شاعری کا مجموعہ بھی تاریخ میں ملتاہے۔لیکن یہ سب کچھ ہنگاموں اور اپنوں کی بے اعتنائی کی نذر ہوگیاہے۔
تاریخِ وصال:
24 ربیع الاول 1142ھ کو واصل باللہ ہوئے ۔ دہلی میں قلعہ اور جامع مسجد کے درمیان اپنی خانقاہ میں دفن ہوئے ۔ (بہارِ چشت: 119) ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-kaleemullah-jahanabadi
فیضِ عام:
آپ کی خدمت میں مخلوقِ خدا جوق در جوق حاضر ہونے لگی۔حتیٰ کہ امراء و وزراء اور اورنگ زیب عالمگیر حاضر ہوئے،اور پھر باربار حاضر ہوتے رہے۔آپ سے فیض حاصل کرتے رہے۔اورنگ زیب عالمگیر کے بعد ان کے فرزندبھی عاجزانہ حاضر ہوتے رہے،اور محمد شاہ بادشاہ تک جتنے سلاطین بھی تختِ دہلی پر متمکن ہوئے سب ہی اس آستانہ کے غلام تھے ۔ (شانِ اولیاء:469) ـ
توکل و استغناء:
دہلی میں حضرت شاہ صاحب کی مالی حالت اچھی نہ تھی۔لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو توکل اور قناعت کی بے پناہ دولت دے رکھی تھی۔ کبھی کبھار تو فاقے بھی ہو جاتے تھے، لیکن اس مردِ قلندر نے کبھی کسی حاکم سے نذرانہ نہیں لیا۔ہمارے زمانے (1449ھ/2018ء) میں، میں نے کوئی ایسا پیر نہیں دیکھا جس کا رہن سہن ٹھاٹھ باٹھ،کسی بادشاہ یا وزیر سے کم ہو۔الا ماشاء اللہ۔اور پھر عوام کا بھی یہی نظریہ بن چکا ہے کہ جو خود بھوکا بیٹھا ہے وہ ہمیں کیا دےگا۔بلکہ جس کا لنگر اچھا ہوتا ہے وہاں رش بھی زیادہ ہوتا ہے۔
کئی مرتبہ شاہِ دہلی فخر سیر نے بڑی عاجزی سے اصرار کیا کہ حضرت اپنی ضروریات کےلئے سرکاری خازنے سےرقم لےلیاکریں۔لیکن آپ نے ہر بار پیشکش مسترد کردی اور فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے اتنا دیا ہےکہ مجھے زیادہ کی حاجت ہی نہیں ہے‘‘۔اسی نے ایک بڑی حویلی دینے کی پیشکش کی،آپ نہ مانے۔اس نے حاضری کی اجازت چاہی مگر آپ نے ٹال دیا اور فرمایا: تمھارے آنے سے ہمارے معاملات متأثر ہوں گے۔لہذا بذاتِ خود آنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔بادشاہ نے اس کے بعد یہ وطیرہ اختیار کرلیاتھاکہ جمعۃ المبارک کےدن جامع مسجدمیں حضرت بھی تشریف لےجاتے تھے،اور بادشاہ بھی اسی مسجد میں جمعہ ادا کرتا تھا۔پھر بھی وہ اجازت لےبڑی عاجزی اور تعظیم سے آپ کی قدم بوسی کرلیتا تھا۔(بہارِ چشت:118)
تصانیف:
حضرت شاہ کلیم اللہ صاحبِ تصنیف بزرگ تھے۔تیس کے قریب تصانیف کا نام ملتا ہے۔1۔قرآن القرآن۔2۔عشرہ کاملہ۔ 3۔سواء السبیل۔4۔کشکول۔5۔مرقع۔6۔تسنیم۔7۔الہاماتِ کلیمی۔8۔رسالہ تشریح الافلاک۔9۔شرح القانون۔رد رافض میں بھی بعض کتب تھیں،اور اسی طرح شاعری کا مجموعہ بھی تاریخ میں ملتاہے۔لیکن یہ سب کچھ ہنگاموں اور اپنوں کی بے اعتنائی کی نذر ہوگیاہے۔
تاریخِ وصال:
24 ربیع الاول 1142ھ کو واصل باللہ ہوئے ۔ دہلی میں قلعہ اور جامع مسجد کے درمیان اپنی خانقاہ میں دفن ہوئے ۔ (بہارِ چشت: 119) ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-kaleemullah-jahanabadi
scholars.pk
Hazrat Sheikh Kaleemullah Jahanabadi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
مفتی صدر الدین آزردہ رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: محمد صدرالدین ۔ لقب: صدر الصدور، مجاہدِ جنگِ آزادی ۔ تخلص: آزردہ ۔ والد کا اسم گرامی: شیخ لطف اللہ کشمیری ۔ آپ کا آبائی وطن کشمیر تھا ۔ آپ کے آباؤ اجداد صاحبِ علم و تقویٰ تھے ۔ وادیِ کشمیر میں عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے ۔ (حدائق الحنفیہ: 499) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1204ھ مطابق 1789ء کو دہلی میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ کی ولادت با سعادت دہلی میں ہوئی ،اس وقت دہلی علوم فنون کا مرکز تھا۔بڑے بڑے اساطین ِ علم موجود تھے۔معقولات کی تحصیل امام المعقولات حضرت علامہ مولانا فضل ِ امام خیر آبادی (والد گرامی مولانا فضلِ حق خیر آبادی) سے تحصیل کی ۔ منقولات خاتم المحدثین حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی، شاہ رفیع الدین دہلوی،شاہ عبد القادر دہلوی، اور شیخ محمد اسحاق دہلوی (علیہم الرحمہ) سے اخذ کرکے سند حدیث حاصل کی۔(چند ممتاز علمائے انقلاب1857: 52)۔
مولانا فضلِ حق خیر آبادی آپ کے ہم سبق تھے۔(مقدمہ منتہی المقال فی شرحِ حدیث لا تشد الرحال:6) آپ نے اپنے زمانے کے رواج کے مطابق خوش نویسی کی بھی باقاعدہ مشق کی تھی،اور اس میں بہادر شاہ ظفر مرحوم کے شاگردتھے۔اردو کلام ابتداءً نصیر دہلوی، رحمت اللہ مجرمؔ اکبر آبادی، اور میر نظام الدین ممنونؔ سےاصلاح لی۔(تذکرہ ٔآزردہ: 9)
انیسویں صدی میں کے ربعِ اول میں دہلی میں علم وحکمت کے دو دریا ایسے رواں تھے،جن سے اکتساب ِ فیض کرنے والے طلبہ اپنے عہد کےآسمان ِ علم کے نیر تاباں بن کر چمکے،صرف خود ہی نہیں چمکے بلکہ ایک جہاں کو منور وفیض یاب کیا۔مولانا عبد الشاہد شیروانی (م1984ء) تحریرکرتےہیں: ’’علمی قابلیت کا اندازہ تو اسی کے کیا جاسکتاہے کہ ایک جانب شاہ عبدالعزیز اور شاہ عبد القادر کا ڈنکا منقولات میں بج رہاتھا اور دوسری طرف اسی دہلی میں مولانا فضلِ امام خیر آبادی کے معقولات کا سکہ چل رہاتھا۔طلبہ دونوں دریاؤں سے سیراب ہوتےتھے۔مفتی صدرالدین آزردہ اور علامہ فضلِ حق خیر آبادی وغیرہما بھی دوسرے طلبہ کی طرح حدیث ایک جگہ پڑھتے تھے،اور منطق وفلسفہ دوسری جگہ‘‘۔(باغیِ ہندوستان: 138)
بیعت و خلافت:
اس بارے کوئی صراحت نہیں ملی ۔ البتہ حضرت شاہ ابوسعید مجددی کے ہاں آنا جانا بہت زیادہ تھا ۔
سیرت و خصائص:
جامع کمالاتِ علمیہ و عملیہ، متبحر علوم عقلیہ ونقلیہ، بطلِ حُریّت،ماحیِ بدعت،حامیِ اہل سنت، قاطعِ وہابیت، مجاہدِ جنگِ آزادی، صدر الصدور حضرت علامہ مولانا مفتی صدر الدین آزردہ ۔ حضرت صدرالصدور ایک جامع کمالات شخصیت تھے۔ تمام علوم وفنون پر یکساں مہارت حاصل تھی۔
سخن گوئی استاد کا درجہ حاصل تھا۔حضرت مولانا فقیرمحمدجہلمی نےآپ سے علمی استفادہ کیاہے۔ وہ فرماتے ہیں: تمام علوم صرف،نحو، منطق، حکمت، ریاضیات،معانی،بیان،ادب،انشاء، فقہ، حدیث، اورتفسیر وغیرہ میں یدِ طولیٰ رکھتے تھے اور درس دیتے تھے ۔ آپ بڑے صاحبِ وجاہت و ریاست، اور اپنے زمانے میں یگانۂ روزگاراور نادرۂ عصر تھے ۔ ریاستِ درس و تدریس خصوصاً افتائے ممالک محروسہ مغربیہ بلکہ شرقیہ و شمالیہ دہلی اور امتحانِ مدارس و صدارت حکومتِ دیوانی کی آپ پر منتہی ہوئی ۔ بجز شاہِ دہلی کے تمام اعیان و اکابر اور علماء وعلماء خاص دھلی اور اس کے نواح کے آپ کے مکان پر حاضر ہوتے تھے ۔
طلباء تحصیلِ علم کے لئے، اور اہلِ دنیا مشاورتِ معاملات اور منشی لوگ بغرضِ اصلاحِ انشاء اور شعراء مشاعرہ کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوتےتھے۔ اس اخیر وقت میں ایسا فاضل بایں جمعیت اور قوّتِ حفظ وحُسنِ تحریر، و متانتِ تقریر اور فصاحتِ بیان اور بلاغتِ معانی، صاحبِ مروّت واخلاق اور احسان نہیں دیکھا گیا ۔ طلباء مدرسہ دار البقاء جو جامع مسجد کے نیچے تھا اکثر طعام و لباس اور بعض ماہانہ وظیفہ جناب سے پاتے تھے۔میں 1276ھ کو جب مولانا موصوف بستی حضرت نظام الدین اولیاء میں اقامت گزیں تھے، ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور تیرہ ماہ تک ان کی خدمت میں مشرف رہ کر علوم نقلی و عقلی کا استفادہ کرتا رہا۔ اس وقت میں مولانا موصوف باوجود ےکہ چوہتّر سال کے تھے مگر ذوقِ شعرو سخن میں جو انان عاشق مزاج سے زیادہ مذّاق رکھتے تھے۔ عربی، فارسی،اردو میں نہایت عمدہ شعر کہتے تھے۔آزردہ تخلص تھا اور بمقتضاء اس کے ہمیشہ فرطِ عشق اورولولۂ محبت سے آزردہ خاطر افسردہ طبع دیدہ گریاں سینہ بریاں رہتے تھے اور اشعار کے پڑھنے میں نہایت دل شگاف آواز اورلحنِ حزیں اور صورت دردانگیز رکھتےتھے ۔
جس نے آپ کی زباں سے سخن موزوں سنا ہے وہی اس کیفیت کو جانتا ہے کہ کیا انشادِ شعر تھا اور ایجاد سحر۔ فضلائے زمانہ نے آپ کے تلمذ و شاگردی کو باعثِ تفاخر تصور کیا ہے، بہت لوگ دور دراز سے علومِ متداولہ اور فنون مروّجہ حاصل کر کے آپ کی خدمت میں آتے اور ایک دو سبق یا کوئی مختصر کتاب پڑھ کر فراغت حاصل کرتے اور محصّلین و اہلِ فضیلت میں شمار کیے جاتے تھے ۔ (حدائق الحنفیہ:500)
نام و نسب:
اسم گرامی: محمد صدرالدین ۔ لقب: صدر الصدور، مجاہدِ جنگِ آزادی ۔ تخلص: آزردہ ۔ والد کا اسم گرامی: شیخ لطف اللہ کشمیری ۔ آپ کا آبائی وطن کشمیر تھا ۔ آپ کے آباؤ اجداد صاحبِ علم و تقویٰ تھے ۔ وادیِ کشمیر میں عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے ۔ (حدائق الحنفیہ: 499) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1204ھ مطابق 1789ء کو دہلی میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ کی ولادت با سعادت دہلی میں ہوئی ،اس وقت دہلی علوم فنون کا مرکز تھا۔بڑے بڑے اساطین ِ علم موجود تھے۔معقولات کی تحصیل امام المعقولات حضرت علامہ مولانا فضل ِ امام خیر آبادی (والد گرامی مولانا فضلِ حق خیر آبادی) سے تحصیل کی ۔ منقولات خاتم المحدثین حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی، شاہ رفیع الدین دہلوی،شاہ عبد القادر دہلوی، اور شیخ محمد اسحاق دہلوی (علیہم الرحمہ) سے اخذ کرکے سند حدیث حاصل کی۔(چند ممتاز علمائے انقلاب1857: 52)۔
مولانا فضلِ حق خیر آبادی آپ کے ہم سبق تھے۔(مقدمہ منتہی المقال فی شرحِ حدیث لا تشد الرحال:6) آپ نے اپنے زمانے کے رواج کے مطابق خوش نویسی کی بھی باقاعدہ مشق کی تھی،اور اس میں بہادر شاہ ظفر مرحوم کے شاگردتھے۔اردو کلام ابتداءً نصیر دہلوی، رحمت اللہ مجرمؔ اکبر آبادی، اور میر نظام الدین ممنونؔ سےاصلاح لی۔(تذکرہ ٔآزردہ: 9)
انیسویں صدی میں کے ربعِ اول میں دہلی میں علم وحکمت کے دو دریا ایسے رواں تھے،جن سے اکتساب ِ فیض کرنے والے طلبہ اپنے عہد کےآسمان ِ علم کے نیر تاباں بن کر چمکے،صرف خود ہی نہیں چمکے بلکہ ایک جہاں کو منور وفیض یاب کیا۔مولانا عبد الشاہد شیروانی (م1984ء) تحریرکرتےہیں: ’’علمی قابلیت کا اندازہ تو اسی کے کیا جاسکتاہے کہ ایک جانب شاہ عبدالعزیز اور شاہ عبد القادر کا ڈنکا منقولات میں بج رہاتھا اور دوسری طرف اسی دہلی میں مولانا فضلِ امام خیر آبادی کے معقولات کا سکہ چل رہاتھا۔طلبہ دونوں دریاؤں سے سیراب ہوتےتھے۔مفتی صدرالدین آزردہ اور علامہ فضلِ حق خیر آبادی وغیرہما بھی دوسرے طلبہ کی طرح حدیث ایک جگہ پڑھتے تھے،اور منطق وفلسفہ دوسری جگہ‘‘۔(باغیِ ہندوستان: 138)
بیعت و خلافت:
اس بارے کوئی صراحت نہیں ملی ۔ البتہ حضرت شاہ ابوسعید مجددی کے ہاں آنا جانا بہت زیادہ تھا ۔
سیرت و خصائص:
جامع کمالاتِ علمیہ و عملیہ، متبحر علوم عقلیہ ونقلیہ، بطلِ حُریّت،ماحیِ بدعت،حامیِ اہل سنت، قاطعِ وہابیت، مجاہدِ جنگِ آزادی، صدر الصدور حضرت علامہ مولانا مفتی صدر الدین آزردہ ۔ حضرت صدرالصدور ایک جامع کمالات شخصیت تھے۔ تمام علوم وفنون پر یکساں مہارت حاصل تھی۔
سخن گوئی استاد کا درجہ حاصل تھا۔حضرت مولانا فقیرمحمدجہلمی نےآپ سے علمی استفادہ کیاہے۔ وہ فرماتے ہیں: تمام علوم صرف،نحو، منطق، حکمت، ریاضیات،معانی،بیان،ادب،انشاء، فقہ، حدیث، اورتفسیر وغیرہ میں یدِ طولیٰ رکھتے تھے اور درس دیتے تھے ۔ آپ بڑے صاحبِ وجاہت و ریاست، اور اپنے زمانے میں یگانۂ روزگاراور نادرۂ عصر تھے ۔ ریاستِ درس و تدریس خصوصاً افتائے ممالک محروسہ مغربیہ بلکہ شرقیہ و شمالیہ دہلی اور امتحانِ مدارس و صدارت حکومتِ دیوانی کی آپ پر منتہی ہوئی ۔ بجز شاہِ دہلی کے تمام اعیان و اکابر اور علماء وعلماء خاص دھلی اور اس کے نواح کے آپ کے مکان پر حاضر ہوتے تھے ۔
طلباء تحصیلِ علم کے لئے، اور اہلِ دنیا مشاورتِ معاملات اور منشی لوگ بغرضِ اصلاحِ انشاء اور شعراء مشاعرہ کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوتےتھے۔ اس اخیر وقت میں ایسا فاضل بایں جمعیت اور قوّتِ حفظ وحُسنِ تحریر، و متانتِ تقریر اور فصاحتِ بیان اور بلاغتِ معانی، صاحبِ مروّت واخلاق اور احسان نہیں دیکھا گیا ۔ طلباء مدرسہ دار البقاء جو جامع مسجد کے نیچے تھا اکثر طعام و لباس اور بعض ماہانہ وظیفہ جناب سے پاتے تھے۔میں 1276ھ کو جب مولانا موصوف بستی حضرت نظام الدین اولیاء میں اقامت گزیں تھے، ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور تیرہ ماہ تک ان کی خدمت میں مشرف رہ کر علوم نقلی و عقلی کا استفادہ کرتا رہا۔ اس وقت میں مولانا موصوف باوجود ےکہ چوہتّر سال کے تھے مگر ذوقِ شعرو سخن میں جو انان عاشق مزاج سے زیادہ مذّاق رکھتے تھے۔ عربی، فارسی،اردو میں نہایت عمدہ شعر کہتے تھے۔آزردہ تخلص تھا اور بمقتضاء اس کے ہمیشہ فرطِ عشق اورولولۂ محبت سے آزردہ خاطر افسردہ طبع دیدہ گریاں سینہ بریاں رہتے تھے اور اشعار کے پڑھنے میں نہایت دل شگاف آواز اورلحنِ حزیں اور صورت دردانگیز رکھتےتھے ۔
جس نے آپ کی زباں سے سخن موزوں سنا ہے وہی اس کیفیت کو جانتا ہے کہ کیا انشادِ شعر تھا اور ایجاد سحر۔ فضلائے زمانہ نے آپ کے تلمذ و شاگردی کو باعثِ تفاخر تصور کیا ہے، بہت لوگ دور دراز سے علومِ متداولہ اور فنون مروّجہ حاصل کر کے آپ کی خدمت میں آتے اور ایک دو سبق یا کوئی مختصر کتاب پڑھ کر فراغت حاصل کرتے اور محصّلین و اہلِ فضیلت میں شمار کیے جاتے تھے ۔ (حدائق الحنفیہ:500)
❤1
سر سید احمد خان جو آپ کے ہم عصر تھے۔وہ لکھتے ہیں: اکمل کملائے روزگار، افضل فضلائے ہر دیار، حاکمِ محاکم جاہ و جلال، متکیِ ارایکِ اقبال، کلید درِ دائرہ ِعلم، لوحِ طلسمِ حلم، عالم محقق تجرید، مدققِ سر جملہ علمائے متاھلین، رافعِ مناقشاتِ حکماء و متکلمین، مجبول الفضل، خصومات العدل، بفیصل مقدمات، مجلیِ آئینہ ناظر صور تقدیر، نخل بندِ حدائق فضل و افضال، مظہرِ صفات ِجلال و جمال، جامع محاسنِ صوری و معنوی، مستجمعِ کمالات ظاہری و باطنی، کاشفِ دقائق معقول و منقول واقفِ حقائق فروع و اصول، تونگر صورت، درویش سیرت، انسان پیکر ملک سریرت (خصلت)، مرجع مآرب جہاں و جہانیاں،مولانا و مخدومنا مفتی محمد صدر الدین خاں بہادر ۔
قلم کو کیا طاقت کہ ان کے اوصافِ حمیدہ سے ایک حرف لکھے ۔ اور زبان کو کیا یارا کہ ان کے محامدِ پسندیدہ سے ایک لفظ کہے۔ قطعِ نظر اس سے کہ اس زبدۂ جہاں و جہانیاں کی صفات کا اِحصا محالات سے اور کمالات کا حصر مرتبہ متعسرات سے ہے، جس وقت قلم چاہتا ہے کہ کوئی صفت صفات میں سے لکھے، یا زبان ارادہ کرتی ہے کہ کوئی مدح مدائح میں سے کہے جو کہ ہر صفتِ قابلیت اول لکھنے کے اور مدح لیاقت پہلے بیان کرنے کی رکھتی ہے۔ مدت تک یہی عقدہ بند زبان تحریر اور گرہ لسان رکھتا ہے کہ کون سی صفت سے آغاز اور کون سی مدح سے ابتداء کرے۔ بے شائبہ تکلف و بے آمیزش مبالغہ ایسا فاضل اور ایسا کامل کہ جامعِ فنون شتٰی اورمستجمعِ علوم بے منتہا ہو، اب سوا اس سر گروہِ علمائے روز گار کے بساط عالم پر جلوہ گرنہیں۔ ؏: مجلس تمام گشت و بپایاں رسید عمر۔۔۔۔۔۔ ما ہم چناں در اولِ وصفِ تو ماندہ ایم۔۔۔اگر مولانا جامیؔ زندہ ہوتے تو یہ بیت۔ ؏: چو فقر اندر لباس ِ شاہی آمد۔۔۔۔۔بہ تدبیر عبید اللہی آمد۔۔۔۔سوا اس برگزیدۂ انفس و آفاق کے اور کسی کی شان میں نہ کہتے۔جو کہ ارباب ِمعنٰی پر یہ بات ظاہر ہے کہ لباسِ فقر میں مصروفِ اطاعت ہونا اور گوشۂ خلوت کو واسطے فراغتِ عبادت کے اختیار کرنا موجبِ شہرت اور صیتِ بلند (اعلیٰ مقام) بہ سبب کثرت اہل دنیا کےا س شغل سے باز رکھتی ہے،لباسِ ظاہر کو اختیار کیا اور از بس کہ اِحقاق حق اور فریاد رسیِ عباد اور عدل و انصاف افضلِ عبادات ہے۔منصب صدات کو اپنے ذمہ لیا۔
شوکتِ ظاہری سے ان کے دربارمیں دارا کو گزر نہیں، اور جلالتِ باطنی سے ان کی خلوت میں فرشتے کو بار نہیں۔ باوجود ان مراتب ِ بلند اور اس منصبِ ارجمندکے خُلقِ محمدی اختیار کیا ہےکہ افادہ علوم اور افاضہ مسائلِ دین کے وقت ہر ادنیٰ کو اجازتِ سخن ہے۔ (آثار الصنا دید:ص 524)
حکیم عبد الحئی رائے بریلوی لکھتے ہیں: مفتی صدر الدین خان بہادر عالی خاندان ،سرمایۂ نازشِ ہندوستانِ، فضل و کمال اور فنون ادبیہ میں آپ اپنا جواب تھے۔سر زمینِ ہند میں اس جامعیت کے دو چار ہی ایسے اشخاص ہوئے ہوں گے۔اس کے ساتھ مزاج دیکھو تو خُلقِ مجسّم اور اور لطفِ مصوّر، علم و کمال میں بقول نواب مصطفیٰ خاں شیفتہؔ : ’’در فنون ادبیہ ثانی اعشیٰ (مشہور شاعر) و جریرست ودر مراتب حکمیہ ثالثِ باقر و نصیر‘‘۔ علما کی مجلس ہوتو صدر نشیں، مشاعرہ ہو تو میرِ مجلس، حکام کے جلسوں میں مؤقر و ممتاز ،بیکسوں اور محتاجوں کے ملجاو ماویٰ ، منصب اعلیٰ پر فائز و حکام رس ہونے کے باوجود آپ کی طبیعت ظاہری نمائش سے کوسوں دور تھی۔دنیاوی آسائش کے تمام سامان بہم ہوتے ہوئے بھی سیدھی سادھی وضع سے زندگی بسر کرتے تھے۔(گلِ رعنا: 227)
عام طور پر اگرچہ ان کی عالمانہ اور فقیہانہ حیثیت نمایاں رہی لیکن احباب اور دوستوں کی مجلسوں میں ان کی شاعر انہ صلاحیتوں کے بھی جوہر چمکے۔ عربی ، فارسی اور اردو تینوں زبانوں میں شعر کہتے تھے ۔ اور اپنی قادر الکلامی کالوہا بڑے بڑے شاعرانِ گفتارسے منوا لیا ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے فضل و کمال کا جہاں تذکرہ کیا جاتا ہے وہاں اردو کے بلند پایہ شاعروں میں بھی ان کا شمار ہوتا ہے ۔ وہ جید عالمِ دین ہوتے ہوئے بھی ایک حسّاس اور خوش مذّاق انسان تھے ۔ (چند ممتاز علمائے انقلاب:46) ۔
قلم کو کیا طاقت کہ ان کے اوصافِ حمیدہ سے ایک حرف لکھے ۔ اور زبان کو کیا یارا کہ ان کے محامدِ پسندیدہ سے ایک لفظ کہے۔ قطعِ نظر اس سے کہ اس زبدۂ جہاں و جہانیاں کی صفات کا اِحصا محالات سے اور کمالات کا حصر مرتبہ متعسرات سے ہے، جس وقت قلم چاہتا ہے کہ کوئی صفت صفات میں سے لکھے، یا زبان ارادہ کرتی ہے کہ کوئی مدح مدائح میں سے کہے جو کہ ہر صفتِ قابلیت اول لکھنے کے اور مدح لیاقت پہلے بیان کرنے کی رکھتی ہے۔ مدت تک یہی عقدہ بند زبان تحریر اور گرہ لسان رکھتا ہے کہ کون سی صفت سے آغاز اور کون سی مدح سے ابتداء کرے۔ بے شائبہ تکلف و بے آمیزش مبالغہ ایسا فاضل اور ایسا کامل کہ جامعِ فنون شتٰی اورمستجمعِ علوم بے منتہا ہو، اب سوا اس سر گروہِ علمائے روز گار کے بساط عالم پر جلوہ گرنہیں۔ ؏: مجلس تمام گشت و بپایاں رسید عمر۔۔۔۔۔۔ ما ہم چناں در اولِ وصفِ تو ماندہ ایم۔۔۔اگر مولانا جامیؔ زندہ ہوتے تو یہ بیت۔ ؏: چو فقر اندر لباس ِ شاہی آمد۔۔۔۔۔بہ تدبیر عبید اللہی آمد۔۔۔۔سوا اس برگزیدۂ انفس و آفاق کے اور کسی کی شان میں نہ کہتے۔جو کہ ارباب ِمعنٰی پر یہ بات ظاہر ہے کہ لباسِ فقر میں مصروفِ اطاعت ہونا اور گوشۂ خلوت کو واسطے فراغتِ عبادت کے اختیار کرنا موجبِ شہرت اور صیتِ بلند (اعلیٰ مقام) بہ سبب کثرت اہل دنیا کےا س شغل سے باز رکھتی ہے،لباسِ ظاہر کو اختیار کیا اور از بس کہ اِحقاق حق اور فریاد رسیِ عباد اور عدل و انصاف افضلِ عبادات ہے۔منصب صدات کو اپنے ذمہ لیا۔
شوکتِ ظاہری سے ان کے دربارمیں دارا کو گزر نہیں، اور جلالتِ باطنی سے ان کی خلوت میں فرشتے کو بار نہیں۔ باوجود ان مراتب ِ بلند اور اس منصبِ ارجمندکے خُلقِ محمدی اختیار کیا ہےکہ افادہ علوم اور افاضہ مسائلِ دین کے وقت ہر ادنیٰ کو اجازتِ سخن ہے۔ (آثار الصنا دید:ص 524)
حکیم عبد الحئی رائے بریلوی لکھتے ہیں: مفتی صدر الدین خان بہادر عالی خاندان ،سرمایۂ نازشِ ہندوستانِ، فضل و کمال اور فنون ادبیہ میں آپ اپنا جواب تھے۔سر زمینِ ہند میں اس جامعیت کے دو چار ہی ایسے اشخاص ہوئے ہوں گے۔اس کے ساتھ مزاج دیکھو تو خُلقِ مجسّم اور اور لطفِ مصوّر، علم و کمال میں بقول نواب مصطفیٰ خاں شیفتہؔ : ’’در فنون ادبیہ ثانی اعشیٰ (مشہور شاعر) و جریرست ودر مراتب حکمیہ ثالثِ باقر و نصیر‘‘۔ علما کی مجلس ہوتو صدر نشیں، مشاعرہ ہو تو میرِ مجلس، حکام کے جلسوں میں مؤقر و ممتاز ،بیکسوں اور محتاجوں کے ملجاو ماویٰ ، منصب اعلیٰ پر فائز و حکام رس ہونے کے باوجود آپ کی طبیعت ظاہری نمائش سے کوسوں دور تھی۔دنیاوی آسائش کے تمام سامان بہم ہوتے ہوئے بھی سیدھی سادھی وضع سے زندگی بسر کرتے تھے۔(گلِ رعنا: 227)
عام طور پر اگرچہ ان کی عالمانہ اور فقیہانہ حیثیت نمایاں رہی لیکن احباب اور دوستوں کی مجلسوں میں ان کی شاعر انہ صلاحیتوں کے بھی جوہر چمکے۔ عربی ، فارسی اور اردو تینوں زبانوں میں شعر کہتے تھے ۔ اور اپنی قادر الکلامی کالوہا بڑے بڑے شاعرانِ گفتارسے منوا لیا ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے فضل و کمال کا جہاں تذکرہ کیا جاتا ہے وہاں اردو کے بلند پایہ شاعروں میں بھی ان کا شمار ہوتا ہے ۔ وہ جید عالمِ دین ہوتے ہوئے بھی ایک حسّاس اور خوش مذّاق انسان تھے ۔ (چند ممتاز علمائے انقلاب:46) ۔
❤1
فتوائے جہاد:
حضرت علامہ مولانا محمود احمد قادری نے نام نہاد مؤرخین کے بارے میں بجا فرمایا ہے کہ فرماتے ہیں: جہاد کے فتویٰ پر دستخط کرنے کے بارے میں’’تما م مؤرخین غلط فہمی کا شکار ہیں‘‘ کہ آپ نےدستخط کرتےہوئے (کتبت بالخیر یا شہدت بالخیر) کو بغیر نقطے کے لکھا تھا،داروگیر کے بعد عدالت میں عُذر پیش کیا،کہ میں نےتو (کتب بالجبر) لکھا تھا لوگوں نےبگاڑ کر (بالحر) یا بالخیر کردیا ہے۔ (تذکرہ علمائے اہل سنت:406)۔
اصل بات یہ ہے کہ انگریزوں کے خلاف جس فتوے پر مفتی صدر الدین آزردہ کے دستخط ہیں۔ اس دستخط کے ساتھ کوئی ایسی عبارت (شہدت بالحر یا کتبت بالحر) جیسی کوئی عبارت نہیں تھی۔معلوم نہیں یہ کیسے یہ افواہ پھیل گئی کہ مفتی صاحب نے اس طرح کی کوئی عبارت لکھی تھی ۔ یہ فتویٰ ’’اخبار الظفر‘‘ دہلی میں شائع ہوا تھا ۔ وہاں سے اس کی نقل انہیں دنوں ’’صادق الاخبار‘‘ دہلی مؤرخہ 26 جولائی 1857ء میں چھپی تھی ۔ یہ اخبار نیشنل آرکائیوز میں محفوظ ہے ۔ اسی طرح اس فتوے کا عکس ’’سوتنتر دہلی‘‘ ہندی اخبار اور’’نوائے آزادی‘‘ میں بھی شائع ہوچکاہے۔فتویٰ پر دستخط کرنے والوں میں مفتی صدرالدین کا نام تو ملتاہے۔لیکن آگے پیچھے ’’کتبت بالحر‘‘ وغیرہ کوئی عبارت ہی سرےسے نہیں ہے۔یہ روایت بالکل اختراعی اور من گھڑت ہے۔مشہو ر محقق جناب امتیاز علی عرشی اپنے ایک مضمون (ماہنامہ تحریک دہلی ماہ اگست1957ء) میں اس فتوےکے بارے میں بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ کر دیا ہے ۔ (مفتی صدرالدین آزردہ:80)
دہلی پر انگریزوں کے قبضے وتسلط کے بعد مفتی صدر الدین آزردہ کے خلاف مقدمہ چلا ۔ گرفتاری ہوئی،اور جائداد بھی ضبط ہوگئی۔جس میں تین لاکھ روپے کی تو صِرف کُتب تھیں ۔ پھر بڑی مشکل سے بڑی رہائی پائی۔ پھر سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ مفتی صاحب کو انگریز نے کیسےرہا کردیا؟ حالانکہ بہت سے علماء کو انگریز نے پھانسی پر لٹکا دیا: ذکاء اللہ دہلوی لکھتے ہیں: کہ ایک طریقہ اور امیروں کے لوٹنے کا تھا۔بعض ذی اختیار انگریز مجرموں کو سب طرح سے جرم سے بری ہونے کی سند دیتے اور ان سے خاطر خواہ روپیہ لیتےتھے ۔ مشہور ہے نواب حامد علی خان، مفتی صدر الدین خاں، اور مکند لال مشرا نے اس طرح زرِ کثیر دےکر اپنی جانیں بچائیں تھیں۔(چند ممتاز علمائے انقلاب57؛ بحوالہ ؛تاریخ عروج عہد انگلشیہ ص؛714)
مفتی صدر الدین کی انگریزوں کے خلاف نفرت اور مجاہدین سے محبت کا اندازہ اس سےہوتا ہےکہ آپ کا درِ دولت جس طرح عام حالات میں مرجعِ علماء رہاکرتاتھا۔اس وقت بھی انقلابی عناصر کا پناہ گاہ بنارہا۔انگریزوں کے سب سےخطرناک دشمن جن کو’’مجاہدین‘‘ کہاجاتا تھا۔جن کی انگریز دشمنی کسی وقتی اور ہنگامی بنیادوں پر نہیں تھی بلکہ ان کی حریت پسند فطرت نے اس کو عقیدہ کی حیثیت دےرکھی تھی۔ان سر بکف مجاہدین کا ہجوم جس کے درِدولت پر رہتاتھا۔وہ مفتی صدرالدین صدرالصدور ہی تھے۔چنانچہ 9/اگست 1857ء کا واقعہ ہے پچاس سپاہیوں کا دستہ مفتی صاحب کے مکان پر چڑھ دوڑا۔یہ دیکھ کر کہ وہاں ستر جہادی مقابلے کےلئے تیار ہیں وہ واپس چلاگیا۔ (روزنامچہ منشی جیون لال؛212/علمائے ہند کا شاندار ماضی جلد چہارم؛225/چند ممتاز علمائے انقلاب:66) یادرہے کہ منشی جیون لال انگریز کا ایجنٹ اور وفادار تھا۔
بڑا سیاسی کار نامہ:
آپ کا ایک بڑا سیاسی کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے انقلاب 1857ء کے مجاہد اعظم مولانا سید احمد اللہ مدراسی کو یہ مشورہ دیا کہ آپ دہلی کی بجائے آگرہ کواپنی سرگرمیوں کامرکز بنائیں۔آگرہ میں شاہ صاحب کو کوئی جانتا پہچانتا نہیں تھا۔ آپ نے وہاں کی سرکردہ شخصیات کو شاہ صاحب کے لئے تعارفی خطوط ارسال کیے۔آگرہ میں مولانا مدراسی کومختصر عرصےمیں ایسی کامیابی ملی۔جس کی نظیر مشکل ہے۔اس کامیابی کےپیچھے مفتی صاحب کی کاوش تھی۔
خوش عقیدگی:
مفتی صدرالدین آزردہ خوش عقیدہ عالمِ دین تھے۔رسول اللہ ﷺ اور اولیاء اللہ سے نہایت عقیدت ومحبت تھی۔ آپ کے ان اشعار سے آپ کی عقیدت کی جھلک واضح ہے۔چنانچہ یادِ مدینہ میں تڑپتےہوئے فرماتےہیں:
؏: مہرِ جہاں فروز دکھادوں جبیں کو میں۔۔۔۔۔۔گر سنگِ آستانۂ خیر البشر ملے
ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:
؏: آستاں ہے ترے در کا وہ تجلی پَرتَو۔۔۔۔پہنچے پاسنگ کو بھی جس کے جبلِ طور نہیں
میں ہوں اور گوشۂ طیبہ، یہ تمنا ہے اب۔۔۔۔خواہشِ سلطنت قیصر و فغفور نہیں
مدد اے پَرتَو لطفِ نبوی! کوئی عمل۔۔۔۔۔۔۔۔شمعِ تنہائی ظلمت کدۂ گور نہیں
اسی طرح حضرت نظام الدین محبوب الہی سے عقیدت کا اظہار یوں فرماتےہیں:
؏: کروں چاک سینہ کو سو بار لیکن۔۔۔۔۔نہیں داغ ِ دل یہ دکھانے کےقابل
نہ چھوڑیں گے ’’محبوبِ الہی‘‘ کے در کو۔۔۔نہیں گو ہم آستانے کےقابل
حضرت علامہ مولانا محمود احمد قادری نے نام نہاد مؤرخین کے بارے میں بجا فرمایا ہے کہ فرماتے ہیں: جہاد کے فتویٰ پر دستخط کرنے کے بارے میں’’تما م مؤرخین غلط فہمی کا شکار ہیں‘‘ کہ آپ نےدستخط کرتےہوئے (کتبت بالخیر یا شہدت بالخیر) کو بغیر نقطے کے لکھا تھا،داروگیر کے بعد عدالت میں عُذر پیش کیا،کہ میں نےتو (کتب بالجبر) لکھا تھا لوگوں نےبگاڑ کر (بالحر) یا بالخیر کردیا ہے۔ (تذکرہ علمائے اہل سنت:406)۔
اصل بات یہ ہے کہ انگریزوں کے خلاف جس فتوے پر مفتی صدر الدین آزردہ کے دستخط ہیں۔ اس دستخط کے ساتھ کوئی ایسی عبارت (شہدت بالحر یا کتبت بالحر) جیسی کوئی عبارت نہیں تھی۔معلوم نہیں یہ کیسے یہ افواہ پھیل گئی کہ مفتی صاحب نے اس طرح کی کوئی عبارت لکھی تھی ۔ یہ فتویٰ ’’اخبار الظفر‘‘ دہلی میں شائع ہوا تھا ۔ وہاں سے اس کی نقل انہیں دنوں ’’صادق الاخبار‘‘ دہلی مؤرخہ 26 جولائی 1857ء میں چھپی تھی ۔ یہ اخبار نیشنل آرکائیوز میں محفوظ ہے ۔ اسی طرح اس فتوے کا عکس ’’سوتنتر دہلی‘‘ ہندی اخبار اور’’نوائے آزادی‘‘ میں بھی شائع ہوچکاہے۔فتویٰ پر دستخط کرنے والوں میں مفتی صدرالدین کا نام تو ملتاہے۔لیکن آگے پیچھے ’’کتبت بالحر‘‘ وغیرہ کوئی عبارت ہی سرےسے نہیں ہے۔یہ روایت بالکل اختراعی اور من گھڑت ہے۔مشہو ر محقق جناب امتیاز علی عرشی اپنے ایک مضمون (ماہنامہ تحریک دہلی ماہ اگست1957ء) میں اس فتوےکے بارے میں بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ کر دیا ہے ۔ (مفتی صدرالدین آزردہ:80)
دہلی پر انگریزوں کے قبضے وتسلط کے بعد مفتی صدر الدین آزردہ کے خلاف مقدمہ چلا ۔ گرفتاری ہوئی،اور جائداد بھی ضبط ہوگئی۔جس میں تین لاکھ روپے کی تو صِرف کُتب تھیں ۔ پھر بڑی مشکل سے بڑی رہائی پائی۔ پھر سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ مفتی صاحب کو انگریز نے کیسےرہا کردیا؟ حالانکہ بہت سے علماء کو انگریز نے پھانسی پر لٹکا دیا: ذکاء اللہ دہلوی لکھتے ہیں: کہ ایک طریقہ اور امیروں کے لوٹنے کا تھا۔بعض ذی اختیار انگریز مجرموں کو سب طرح سے جرم سے بری ہونے کی سند دیتے اور ان سے خاطر خواہ روپیہ لیتےتھے ۔ مشہور ہے نواب حامد علی خان، مفتی صدر الدین خاں، اور مکند لال مشرا نے اس طرح زرِ کثیر دےکر اپنی جانیں بچائیں تھیں۔(چند ممتاز علمائے انقلاب57؛ بحوالہ ؛تاریخ عروج عہد انگلشیہ ص؛714)
مفتی صدر الدین کی انگریزوں کے خلاف نفرت اور مجاہدین سے محبت کا اندازہ اس سےہوتا ہےکہ آپ کا درِ دولت جس طرح عام حالات میں مرجعِ علماء رہاکرتاتھا۔اس وقت بھی انقلابی عناصر کا پناہ گاہ بنارہا۔انگریزوں کے سب سےخطرناک دشمن جن کو’’مجاہدین‘‘ کہاجاتا تھا۔جن کی انگریز دشمنی کسی وقتی اور ہنگامی بنیادوں پر نہیں تھی بلکہ ان کی حریت پسند فطرت نے اس کو عقیدہ کی حیثیت دےرکھی تھی۔ان سر بکف مجاہدین کا ہجوم جس کے درِدولت پر رہتاتھا۔وہ مفتی صدرالدین صدرالصدور ہی تھے۔چنانچہ 9/اگست 1857ء کا واقعہ ہے پچاس سپاہیوں کا دستہ مفتی صاحب کے مکان پر چڑھ دوڑا۔یہ دیکھ کر کہ وہاں ستر جہادی مقابلے کےلئے تیار ہیں وہ واپس چلاگیا۔ (روزنامچہ منشی جیون لال؛212/علمائے ہند کا شاندار ماضی جلد چہارم؛225/چند ممتاز علمائے انقلاب:66) یادرہے کہ منشی جیون لال انگریز کا ایجنٹ اور وفادار تھا۔
بڑا سیاسی کار نامہ:
آپ کا ایک بڑا سیاسی کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے انقلاب 1857ء کے مجاہد اعظم مولانا سید احمد اللہ مدراسی کو یہ مشورہ دیا کہ آپ دہلی کی بجائے آگرہ کواپنی سرگرمیوں کامرکز بنائیں۔آگرہ میں شاہ صاحب کو کوئی جانتا پہچانتا نہیں تھا۔ آپ نے وہاں کی سرکردہ شخصیات کو شاہ صاحب کے لئے تعارفی خطوط ارسال کیے۔آگرہ میں مولانا مدراسی کومختصر عرصےمیں ایسی کامیابی ملی۔جس کی نظیر مشکل ہے۔اس کامیابی کےپیچھے مفتی صاحب کی کاوش تھی۔
خوش عقیدگی:
مفتی صدرالدین آزردہ خوش عقیدہ عالمِ دین تھے۔رسول اللہ ﷺ اور اولیاء اللہ سے نہایت عقیدت ومحبت تھی۔ آپ کے ان اشعار سے آپ کی عقیدت کی جھلک واضح ہے۔چنانچہ یادِ مدینہ میں تڑپتےہوئے فرماتےہیں:
؏: مہرِ جہاں فروز دکھادوں جبیں کو میں۔۔۔۔۔۔گر سنگِ آستانۂ خیر البشر ملے
ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:
؏: آستاں ہے ترے در کا وہ تجلی پَرتَو۔۔۔۔پہنچے پاسنگ کو بھی جس کے جبلِ طور نہیں
میں ہوں اور گوشۂ طیبہ، یہ تمنا ہے اب۔۔۔۔خواہشِ سلطنت قیصر و فغفور نہیں
مدد اے پَرتَو لطفِ نبوی! کوئی عمل۔۔۔۔۔۔۔۔شمعِ تنہائی ظلمت کدۂ گور نہیں
اسی طرح حضرت نظام الدین محبوب الہی سے عقیدت کا اظہار یوں فرماتےہیں:
؏: کروں چاک سینہ کو سو بار لیکن۔۔۔۔۔نہیں داغ ِ دل یہ دکھانے کےقابل
نہ چھوڑیں گے ’’محبوبِ الہی‘‘ کے در کو۔۔۔نہیں گو ہم آستانے کےقابل
❤1💯1
تصانیف:
آپ کی اکثر کتب گردشِ زمانہ کی نذر ہوگئیں۔1۔حاشیہ قاضی مبارک۔2۔حاشیہ میر زاہد۔3۔شرح دیوان متنبی۔4۔امتناع النظیر۔5۔الدر المنضود فی حکم امرأۃ المفقود۔ 6۔تذکرہ شعرائے ریختہ۔7۔منتہی المقال فی شرح ِ حدیثِ لاتشد الرحال۔ابنِ تیمیہ کے رد میں لاجواب کتاب۔اس کی ایک خوبی یہ ہے کہ اس پر علامہ فضلِ حق خیر آبادی، حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی، مفتی سعد اللہ مراد آبادی (علیہم الرحمہ)کی تقریظیں ہیں۔اس کا اردو ترجمہ مولانا شاہ حسین گردیزی صاحب نے کیاہے۔
مفتی صاحب کی کوئی اولاد نہیں ہوئی۔البتہ سینکڑوں نامی گرامی تلامذہ ہیں۔مفتی سعد اللہ مراد آبادی۔مولانا فیض الحسن سہارنپوری۔ مولانا خیر الدین دہلوی (آپ نے فتنہ اسماعیلیہ وہابیہ کے خلاف ’’نجم المبین لرجم الشیاطین‘‘دس جلدوں میں تحریر فرمائی)۔پیشوائے غیر مقلدین نواب صدیق حسن قنوجی۔بانیِ مذہبِ دیوبند قاسم نانوتوی۔رشید احمد گنگوہی۔آخرالذکر اپنے ہمنواؤں میں آپ کا اہانت آمیز تذکرہ کرتےتھے ۔ یہ ان سے بعید بھی نہیں جو اللہ جل شانہ اور اس کے رسول ﷺ کی توہین کر سکتے ہیں وہ اساتذہ کی کیوں نہیں کریں گے ۔
تاریخِ وصال:
بروز جمعرات 24 ربیع الاول1285ھ مطابق 16 جولائی 1868ء کو اکیاسی سال کی عمرواصل باللہ ہوئے ۔ درگاہ حضرت شاہ نصیر الدین چراغ دہلوی ، دہلی (ہند) میں آرام فرماہیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mufti-muhammad-sadruddin-khan-dehlvi
آپ کی اکثر کتب گردشِ زمانہ کی نذر ہوگئیں۔1۔حاشیہ قاضی مبارک۔2۔حاشیہ میر زاہد۔3۔شرح دیوان متنبی۔4۔امتناع النظیر۔5۔الدر المنضود فی حکم امرأۃ المفقود۔ 6۔تذکرہ شعرائے ریختہ۔7۔منتہی المقال فی شرح ِ حدیثِ لاتشد الرحال۔ابنِ تیمیہ کے رد میں لاجواب کتاب۔اس کی ایک خوبی یہ ہے کہ اس پر علامہ فضلِ حق خیر آبادی، حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی، مفتی سعد اللہ مراد آبادی (علیہم الرحمہ)کی تقریظیں ہیں۔اس کا اردو ترجمہ مولانا شاہ حسین گردیزی صاحب نے کیاہے۔
مفتی صاحب کی کوئی اولاد نہیں ہوئی۔البتہ سینکڑوں نامی گرامی تلامذہ ہیں۔مفتی سعد اللہ مراد آبادی۔مولانا فیض الحسن سہارنپوری۔ مولانا خیر الدین دہلوی (آپ نے فتنہ اسماعیلیہ وہابیہ کے خلاف ’’نجم المبین لرجم الشیاطین‘‘دس جلدوں میں تحریر فرمائی)۔پیشوائے غیر مقلدین نواب صدیق حسن قنوجی۔بانیِ مذہبِ دیوبند قاسم نانوتوی۔رشید احمد گنگوہی۔آخرالذکر اپنے ہمنواؤں میں آپ کا اہانت آمیز تذکرہ کرتےتھے ۔ یہ ان سے بعید بھی نہیں جو اللہ جل شانہ اور اس کے رسول ﷺ کی توہین کر سکتے ہیں وہ اساتذہ کی کیوں نہیں کریں گے ۔
تاریخِ وصال:
بروز جمعرات 24 ربیع الاول1285ھ مطابق 16 جولائی 1868ء کو اکیاسی سال کی عمرواصل باللہ ہوئے ۔ درگاہ حضرت شاہ نصیر الدین چراغ دہلوی ، دہلی (ہند) میں آرام فرماہیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mufti-muhammad-sadruddin-khan-dehlvi
scholars.pk
Hazrat Mufti Muhammad Sadruddin Khan Dehlvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
مولانا ڈاکٹر سید عرفان الدین صاحب
خبرِ اِنتقال:
امام الہند حضور صدر الافاضل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے خلف اوسط رہنمائے ملت مولانا سید اختصاص الدین نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے صاحبزادے حضرت مولانا ڈاکٹر سید عرفان الدین نعیمی کا آج بتاریخ 24 دسمبر بروز ہفتہ بعد نماز ظہر انتقال ہوگیا. انا للہ وانا الیہ راجعون
ـ
موصوف اس وقت خانوادہ نعیمیہ کی سب سے بزرگ ہستی تھے. حضرت کی عمر قریب 65 سال تھی ـ
تعلیم:
تعلیمی فراغت جامعہ نعیمیہ سے ہی ہوئی اس کے بعد آپ طب کی جانب راغب ہوئے اور اس میں بھی کمال حاصل کیا ....
یونانی طریقہ علاج کے ساتھ ساتھ ایلوپیتھی طریقہ علاج میں بھی آپ کو مہارت حاصل تھی .....
حضرت ڈاکٹر سید عرفان الدین صاحب بڑے وجیہ لمبے چوڑے اور با رعب شخصیت کے مالک تھے, سیدانہ وقار, عالمانہ وجاہت اور خانقاہی انکساری کی چلتی پھرتی مورت تھے .....
ہمیشہ بڑے پیار و محبت سے ملتے اور محبت و اپنائیت کے ساتھ "بابو" کہہ کر گفتگو فرماتے....
چہرہ جتنا روبیلا تھا تو اخلاق بہت ہی دل نشیں اور من موہنا تھا.....
گونڈا بلرام پور اور بہرائچ نیپال وغیرہ کے علاقوں میں آپ کے مریدین کا ایک بڑا حلقہ ہے جن میں علماء کی بھی ایک اچھی بڑی تعداد ہے.....
گونڈہ میں ہی آپ نے خانقاہ نعیمیہ بھی قائم فرمائی تھی درس و تدریس کے علاوہ وعظ و نصیحت اور ذکر و اذکار کا سلسلہ جاری رہتا ہے....
حضرت کی تدفین کل بعد نماز ظہر خانقاہ نعیمیہ گونڈہ میں ہی کی جائے گی....
اللہ کریم اپنے فضل و کرم سے حضرت کی مغفرت فرمائے اور جوار رحمت میں جگہ عنایت فرمائے ـ آمین ۔
وصال:
24 ربیع الاول 1438ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-dr-syed-irfanuddin-naeemi-sahab
خبرِ اِنتقال:
امام الہند حضور صدر الافاضل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے خلف اوسط رہنمائے ملت مولانا سید اختصاص الدین نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے صاحبزادے حضرت مولانا ڈاکٹر سید عرفان الدین نعیمی کا آج بتاریخ 24 دسمبر بروز ہفتہ بعد نماز ظہر انتقال ہوگیا. انا للہ وانا الیہ راجعون
ـ
موصوف اس وقت خانوادہ نعیمیہ کی سب سے بزرگ ہستی تھے. حضرت کی عمر قریب 65 سال تھی ـ
تعلیم:
تعلیمی فراغت جامعہ نعیمیہ سے ہی ہوئی اس کے بعد آپ طب کی جانب راغب ہوئے اور اس میں بھی کمال حاصل کیا ....
یونانی طریقہ علاج کے ساتھ ساتھ ایلوپیتھی طریقہ علاج میں بھی آپ کو مہارت حاصل تھی .....
حضرت ڈاکٹر سید عرفان الدین صاحب بڑے وجیہ لمبے چوڑے اور با رعب شخصیت کے مالک تھے, سیدانہ وقار, عالمانہ وجاہت اور خانقاہی انکساری کی چلتی پھرتی مورت تھے .....
ہمیشہ بڑے پیار و محبت سے ملتے اور محبت و اپنائیت کے ساتھ "بابو" کہہ کر گفتگو فرماتے....
چہرہ جتنا روبیلا تھا تو اخلاق بہت ہی دل نشیں اور من موہنا تھا.....
گونڈا بلرام پور اور بہرائچ نیپال وغیرہ کے علاقوں میں آپ کے مریدین کا ایک بڑا حلقہ ہے جن میں علماء کی بھی ایک اچھی بڑی تعداد ہے.....
گونڈہ میں ہی آپ نے خانقاہ نعیمیہ بھی قائم فرمائی تھی درس و تدریس کے علاوہ وعظ و نصیحت اور ذکر و اذکار کا سلسلہ جاری رہتا ہے....
حضرت کی تدفین کل بعد نماز ظہر خانقاہ نعیمیہ گونڈہ میں ہی کی جائے گی....
اللہ کریم اپنے فضل و کرم سے حضرت کی مغفرت فرمائے اور جوار رحمت میں جگہ عنایت فرمائے ـ آمین ۔
وصال:
24 ربیع الاول 1438ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-dr-syed-irfanuddin-naeemi-sahab
scholars.pk
Hazrat Allama Molana Dr. Syed Irfanuddin Naeemi Sahab
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1