🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
23-03-1445 ᴴ | 09-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
23-03-1445 ᴴ | 09-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
چین دار گھڑی پہننا کیسا ہے ؟
یا چین دار گھڑی پہن کر نماز پڑھنا
چین والی گھڑی اُتار کر نماز پڑھنا
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
23-03-1445 ᴴ | 09-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
23-03-1445 ᴴ | 09-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت شیخ حسن طاہر دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ راجی حامد شاہ کے مرید تھے سید نور بن حامد شاہ کی مجالس سے بھی فیض پایا تھا آپ کے والد شیخ طاہر ملتان سے چل کر دہلی آئے اور دینی علوم حاصل کرنے لگے ایک عرصہ تک بہار چلے گئے اور وہاں رہ کر شیخ بدہ حقانی کے مدرسہ میں پڑھتے رہے شیخ حسن بہار میں ہی پیدا ہوئے ہوش سنبھالا تو دینی علوم میں مصروف ہوگئے اور ساتھ ساتھ ہی معرفت کی منازل طے کرتے رہے اور درویشوں کی صحبت میں رہنے لگے

ان دنوں آپ نے ابن عربی کی کتاب فصوص الحکم ایک بزرگ سے پڑھنا شروع کی آپ کے والد فصوص کے اسرار سے بیگانہ بھی تھے اور خلاف بھی تھے ایک دن والد نے آپ سے توحید و جودی کے موضوع پر گفتگو کی آپ نے ظاہری علوم کی روشنی میں اس مسئلہ پر بات کی جس سے آپ کو اطمینان ہوگیا اس دن کے بعد آپ نے فصوص کی مخالفت چھوڑدی انہی دنوں شیخ راجی حامد شاہ کی مشیخیت کی شہرت سارے ہندوستان میں پھیلی تھی۔ شیخ طاہر حسن آپ کو دیکھنے گئے پہلی ملاقات میں ہی آپ مرید ہوگئے علمائے کرام میں سے جو شخص سب سے پہلے آپ کے حلقہ ارادت میں آیا حضرت شیخ حسن طاہر تھے آپ اگرچہ جونپور کے مشائخ میں سے تھے مگر سلطان سکندر لودھی لہ درخواست پر جونپور سے دہلی آئے۔

سلطان سکندر کا ایک بھائی آپ کا مرید تھا۔ اس کے دماغ میں ہمیشہ سلطنت حاصل کرنے کی کشمکش تھی ایک روز آہپ کی خدمت میں حاضر ہوکر اصرار کرنے لگا کہ میرے لیے سلطنت دہلی کی دعافرمائیں حضرے شیخ نے اسے اس ارادے سے روکا اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہارے بھائی کو امورِ سلطنت دئیے ہیں تم اس کی سلطنت میں رہ کر خدمت خلق کرو۔ یہ بات سلطان سکندر نے سنی تو وہ آپ کا مزید معتقد ہوگیا۔ آپ کو نہایت احترام سے اپنے شاہی قلعہ کے قریب کوشک بجی منڈل جو سلطان محمد تغلق کے قلعہ میں ہی ٹھہریا۔ آپ تادم وفات وہاں ہی قیام فرما رہے۔

اخبار الاخیار اور معارج الولائیت کے مولفین نے آپ کا یوم وفات چوبیس ربیع الاول ۹۰۹ھ لکھا ہے علم سلوک و توحید میں آپ کی ایک کتاب مفتاح الفیض بڑی گراں قدر ہے۔

شد ز دنیا چو در بہشت بریں
حسن آن محسن جہاں مرحوم
ہر دو تاریک رحلتش سرور
زیب فیض است قطب حق مخدوم
۹۰۹ھ ۹۰۹ھ

آپ راجی حامد شاہ کے مریدوں میں سے تھے اور راجی سید نور کے خلیفہ تھے، آپ کے والد بزرگوار کا نام شیخ طاہر تھا وہ ملتان سے بہار گئے اور عرصہ دراز تک شیخ بڈہ حقانی سے تعلیم حاصل کرتے رہے، بہار ہی میں شیخ حسن طاہر پیدا ہوئے، شیخ حسن کو جوانی ہی کے زمانہ میں طلب حق کا درد دامن گیر تھا، اس لیے درویشوں ہی کی صحبت میں رہے۔

آپ نے اسی زمانے میں فصوص الحکم ایک بزرگ سے شروع کی اور آپ کے والد صاحب فصوص الحکم کے مخالف تھے، انہوں نے ایک دن مسئلہ توحید کے متعلق آپ سے دریافت کیا تو آپ نے اس مسئلہ کو علمائے ظاہر کی طرح ایسی وضاحت سے بیان کیا کہ آپ کے والد صاحب کے بھی چند اشکال ختم ہوگئے اس کے بعد پھر آپ کو فصوص الحکم کے پڑھنے سے منع نہ فرماتے، اسی زمانے میں راجی حامد شاہ کی بزرگی اور ولایت کی عام و خاص میں شہرت ہوگئی تھی، شیخ حسن بھی امتحان کی غرض سےان کے پاس گئے اور پہلی ہی ملاقات میں اُن کے معتقد ہوگئے

زہرہ آنم کہ بایں جاذبہ شوق
رخسار ترابینم و بے تاب و نگردم

علماء میں سے آپ ہی پہلے عالِم ہیں جو سید راجی شاہ کے مرید ہوئے تھے، اور وہ جونپور کے مشائخ میں سے تھے، سلطان سکندر کے زمانے میں اسی کی خواہش سے ادھر آئے تھے۔

سلطان سکندر کا ایک بھائی جس پر سلطنت کے حصول کا جنون سوار تھا وہ آپ کا مرید تھا، اسی خیال کو لے کر وہ ایک دن آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا، کہ حضرت دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ دہلی کی حکومت مجھے عنایت فرمائے، آپ نے اس کو اس خام خیالی سے منع کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کاملہ سے تمہارے ایک بھائی کو سلطنت عطافرمائی ہے تم اس سے کوئی اختلاف و حسد وغیرہ نہ کرو بلکہ اس کے تابع ہوکر رہو، جب اس بات کی اطلاع سلطان سکندر کو ہوئی تو وہ آپ کی کرامت و دیانت کا معتقد ہوکر حاضر ہوا، وہ اس سے پہلے ہی دہلی کے مشائخ سے ملنا چاہتا تھا مگر اس بات نے اس کے اشتیاق ملاقات میں سونے پر سہاگے کا کام کیا۔

آپ ابتداً جونپور سے آگرہ تشریف لائے اور ایک عرصہ تک یہاں اقامت پذیر رہے اس کے بعد دہلی چلے گئے اور وہاں جے منڈل میں جس کا حصار و گنبد سلطان محمد تغلق نے تعمیر کرایا تھا مع اہل وعیال رہنے لگے اور یہیں آپ نے 24؍ ربیع الاول 909ھ میں وفات پائی، آپ کی اور آپ کی اکثر اولاد کی قبریں یہیں ہیں۔

طریقہ سلوک اور علم توحید پر آپ نے متعدد کتابیں لکھی ہیں، ان کتابوں میں سے ایک کتاب مفتاح الفیض ہے اس میں لکھتے ہیں۔
1
سُوال: سلوک کیا ہے اور سالک کیا ہے؟ تزکیہ قلب و نفس کیا ہے، اسی طرح تخلیہ سر اور تخلیہ روح کیا ہے، منزِل و جذبہ کیا ہیں، مقصد کہاں ہے اور وصول کہاں ہے، شریعت، طریقت، حقیقت کیا چیز ہے اور ان کا مقام کیا ہے؟

جواب: سلوک کے معنی لغت میں چلنا ہے اور حسی طور پر چلنے کے معنی ہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوجانا اور یہاں سلوک سے معنی چلنا مراد ہے اور اسی انتقال کو مرتبہ نفس میں تزکیہ کہتے ہیں۔ اور تزکیہ نفس سے مراد یہ ہے کہ حیوانی اوصاف کو ترک کرکے ملائکہ کے اوصاف سے متصف ہوجانا اور نفس امارہ کو نفس لوامہ اور مطمنہ کے تابع کردینا۔ دل کے سلوک کو تصفیہ کہتے ہیں جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اپنے دل کو دنیا کی تمام فکروں اور رنج وغم کے زنگار سے صاف رکھا جائے۔ تخلیہ سریہ ہے کہ اپنے سر میں کسی ماسوی اللہ کی کوئی خواہش نہ رکھے اور اللہ کے علاوہ خواہ وہ جنت ہی کیوں نہ ہو کوئی خیال نہ کرے اور اپنے سر کی نگہداشت کرے یعنی اپنے دماغ میں غیر اللہ کا تصور تک نہ آنے دے اور اگر اچانک ماسوی اللہ کا کوئی خیال و تصور آبھی جائے تو فوراً اس کو نکال کر پھینک دے۔ تجلی روح یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ذوق و شوق اور اسرار و انوار کے ذریعہ روح کو پاک و صاف اور ان اوصاف سے مزین رکھے،حقیقت سلوک سے مراد یہ ہے کہ حیوانی اور انسانی جملہ اوصاف سے نکل کر خدائی اوصاف اور اخلاق کو اپنالیے جیسا کہ حدیث شریف میں آتا ہے، تغلقوا باخلاق اللہ۔

حضرت قطب عالم نے اپنے رسالہ مہمات میں شریعت، طریقت اور حقیقت کے متعلق لکھا ہے کہ شریعت نام ہے اتباع و فرنبرداری کا اور طریقت کہتے ہیں تمام سے انقطاع کرنے اور حقیقت اطلاع اور خبر داری کو کہتے ہیں۔

غرضیکہ شریعت نام ہے انقیاد کا: طریقت نام ہے اپنے نفس پر تنقید کرنے کا اور حقیقت نام ہے اتحاد کا جس کی تفصیل اس طرح ہے کہ شریعت درمیانہ روی اور اعتدال کو کہتے ہیں، اور طریقت اپنے کو چھوڑ دینا، اور حقیقت دوست سے مل جانے کو کہتے ہیں یعنی بطیّب خاطر فرمانبرداری کرنا شریعت ہے، غیر سے بیزاری طریقت ہے دوست سے برخورداری کرنا حقیقت ہے۔

شریع غنا ہے اور طریقت فنا ہوجانے کو کہتے ہیں اور حقیقت بقاء کو کہتے ہیں، سالک ابتداً اچھی کیفیت رکھتا ہے، درمیان میں معاد کی عقل پیدا ہوجاتی ہے اور آخر کار وہ اللہ کا نور پہچانتا ہے، اللہ تک پہنچنے کے لیےکوئی راستہ اور منزل نہیں ہے کیونکہ راستہ تو ہمیشہ دوچیزوں کے درمیان ہونا ہے اور جب سالک اور اللہ عَزَوَّجَل کے درمیان دوری ہی نہیں تو نہ راستہ کی ضرورت ہے اور نہ منزِل کی۔

منصور حلاج سے لوگوں نے دریافت کیا تھا کہ راستہ کیاہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ راستہ دوچیزوں کے درمیان والی چیز کو کہتے ہیں اور اللہ تک پہنچنے کے لیے بے انتہا منزلیں ہیں کیونکہ اس کی بھی کوئی حد اور انتہا نہیں اور مطلب یہ ہے کہ انسان کو وحدت حقیقی تک رسائی ہو اور شرک و احساس غیریت سے نفرت ہوجائے اور جذبہ کے معنی خاص رَحَمت کے ہیں، جیسا کہ ارشاد ہے (اے اللہ میں تجھ سے اس رَحَمت کا طلب گار ہوں جس سے میرا دل راہ راست پر آجائے)اسی کا نام فیض حق بھی ہے (اور اس جذبہ کی اتنی قدرو قیمت ہے کہ) ایک جذبہ حق، جنون اور انسانوں کے عمل کے مساوی ہوتا ہے۔

یک ذرہ عنایت تو اے بندہ نواز

تیرے رب کی بعض ایام میں کچھ خصوصی رَحمتیں ہوتی ہیں انہیں ضرور حاصل کیا کرو۔

تو مستحق نظر شو کمال و قابل فیض
کہ منقطع نشو و فیض ہرگز ازفیاض

اوراسی کی طرف آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشارہ فرمایا کہ (یمن کی طرف سے مجھے نفس الرحمان کی خوشبو محسوس ہوتی ہے)

مرد باید کہ بوئے داند برد!
ورنہ عالم پر از نسیم صبا است
دریں دیار ازاں سرخوشم کہ گاہ گاہے
نسیم بوئے توام زیں دیارمے آید!

یہ کبھی دائمی تجلی اور فیض حق ہی کی طرف اشارہ ہے، جذبہ حق اور وصولی الی الحق کا مطلب یہ ہے کہ اپنے تخیلات اور غیریت سے انقطاع اور علیحدگی اختیار کرلی جائے اور وجود مطلق کی ذات میں جہل و علم کو مرتفع اور ختم کردے۔

اخبار الاخیار

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-hassan-tahir-dehlvi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت شاہ کلیم اللہ جہاں آبادی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی:
شاہ کلیم اللہ شاہ جہاں آبادی ۔ لقب: شیخ المشائخ، عالم و عارف، محدثِ کامل، مجدد سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ ۔

سلسلۂ نسب:
حضرت شاہ کلیم اللہ شاہ جہاں آبادی بن حاجی نور اللہ صدیقی بن شیخ احمد صدیقی۔علیہم الرحمہ ۔ آپ حضرت صدیقِ اکبر﷜ کی اولاد سےتھے ۔ آپ کے دادا عہدِ شاہجہانی میں ’’خُجَند‘‘ ترکمانستان موجودہ تاجکستان سے دہلی آئے ۔ وہ علوم عمارات، ہیئت، ریاضی، اور نجوم میں مہارت رکھتےتھے ۔ اسی لئے شاہ جہاں نے ان کو لال قلعہ، اور جامع مسجد دہلی کی تعمیر کےسلسلے میں بلایا تھا۔تاج محل آگرہ ،اور محل آصف خان لاہور بھی انہیں کا تعمیر کردہ ہے۔شاہ جہاں نے ان کو ’’نادر العصر‘‘کا خطاب دیا تھا ۔ ان کی وفات 1649ء کو دہلی میں ہوئی۔(چشتی خانقاہیں اور سربراہان ِ برصغیر: 142)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 24 جمادی الثانی 1060ھ مطابق 24 جون 1650ء،بروز جمعۃ المبارک دہلی میں ہوئی۔

تحصیلِ علم:
مولانا شاہ کلیم اللہ شاہ جہاں آبادی﷫ کا تعلق ایک علمی و روحانی خانوادے سےتھا۔بالخصوص فنِ تعمیر میں جہاں میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ اس وقت دہلی علوم وفنون کا مرکزتھا۔بڑے بڑے علماء و صوفیاء نے ظاہری و باطنی علوم کےمیخانے سجا رکھےتھے۔ان میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی﷫ کےبزرگ بھی تھے۔دہلی کے مختلف مدارس میں تعلیم حاصل کرتےرہے۔سندِ حدیث حضرت شیخ ابوالرضا ہندی﷫ (تایا حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی﷫) اور مولانا شیخ برہان الدین المعروف شیخ بہلول﷫ سےحاصل کی۔حضرت مولانا شاہ کلیم اللہ جہاں آبادی﷫ کو تمام علوم و فنون میں مہارتِ تامہ حاصل تھی۔دہلی کے متبحر علماء میں شمارکیے جاتےتھے۔

بیعت و خلافت:
تحصیلِ علم کے بعد کسی برترنسبت کی طلب ہوئی، تو ایک بزرگ ’’رسول نما‘‘کی خدمت میں حاضر ہوئے،اور بیعت کے خواستگارہوئے۔صاحبِ بصیرت و عرفان بزرگ نے جواب دیا کہ تمہارا حصہ یہاں نہیں،حضرت شیخ یحیٰ مدنی﷫ کےپاس ہے۔اور وہ مدینہ منورہ میں ہیں، وہاں جاؤ اور اس دسترخوانِ محبت ومعرفت سے خوشہ چینی کرو۔بس یہ سننا تھا کہ طالبِ صادق عازم حجاز مقدس ہوئے،اور مدینہ منورہ میں حضرت شیخ یحیٰ مدنی﷫ کی خدمت میں حاضر ہوگئے،ان سے بیعت ہوئے،اور کچھ عرصہ تربیت میں رہے،مجاہدات و سلوک کےبعد خلافتِ عالیہ چشتیہ سے مشرف ہوئے۔اسی طرح قیام ِ حجاز میں ہی حضرت امیرِ محترم لاہوری﷫ سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ اور سید محمد کبریٰ﷫ سے سلسلہ عالیہ قادریہ کی خلافت پائی۔(بہار ِ چشت:117)

سیرت و خصائص:
جامع العلوم، بحر العلوم، عارف باللہ، واصل باللہ، مجدد سلسلہ عالیہ چشتیہ حضرت علامہ مولانا خواجہ شاہ کلیم اللہ شاہ جہاں آبادی﷫ ۔ آپ ﷫ کا شمار اکابر و اعظام اولیائے ہند میں ہوتا ہے۔آپ کے خوارق عادات اور زہد و طاعت کا شہرہ دور دور تک پھیلا ہوا تھا۔بڑے نامور شیخ تھے۔علم و فضل میں یگانہ روزگار تھے۔بڑے بڑے علماء آپ کے تبحر علمی کے معترف تھے۔مدینۃ المنورہ سے دہلی میں واپسی پر خانم بازار کی ایک مسجد میں قیام کیااور تعلیمی بساط بچھائی۔علمی استطاعت تو حد درجہ کی تھی۔کیونکہ اپنے وقت کے عظیم محدثین اور شیوخ سے تحصیلِ علم کیا تھا۔آپ کا درس علم و معرفت کا بحرِ مواج ہوتا تھا۔دور دور سے طلبہ شریک درس ہوتے۔کھانے پینے کا انتظام مفت تھا۔حدیث کے درس کی شہرت عام ہوچکی تھی۔ایک مرتبہ حضرت مرزا جانِ جاناں ﷫ ملاقات کےلئے تشریف لائے تو آپ صحیح بخاری کا درس دے رہےتھے۔(اردو دائرہ معارف اسلامیہ:17/280)

مجدد سلسلہ عالیہ چشتیہ:
آپ﷫ کو مجدد سلسلہ عالیہ چشتیہ کہاجائے تو مبالغہ نہ ہوگا۔ کیونکہ جس وقت آپ دہلی میں مسند آرا ہوئے اس وقت سلسلہ عالیہ چشتیہ کا خانقاہی نظام زوال پذیر تھا۔خانقاہیں ویرانی کا منظر پیش کررہی تھیں۔ آپ ہی کی ذاتِ مبارکہ ہے جن کی وجہ سے سلسلہ عالیہ کو پھر سےعروج نصیب ہوا۔دورِ انحطاط کو دورِ عروج میں بدلنے کا سہرا آپ کے سر ہے۔شیخ الاسلام حضرت خواجہ نصیر الدین چراغ دہلوی﷫کےبعدایک خلا پیدا ہوگیا تھا۔اس خلا کو آپ نے ہی پر کیا۔حضرت شاہ کلیم اللہ ﷫نے خانقاہی نظام کی ایسی بنیاد رکھی جس نےبالخصوص اسلامیانِ ہند کوپھر سے ایمان وایقان کی قوت اور علم و حکمت اور معرفت کےخزینے عطاکیے۔وہ خانقاہیں پھر ایسی نہ رہیں جن میں صرف ہر وقت لنگر چلتا رہے،اور درویش صرف نعرے لگاتے رہیں۔ملت اسلامیہ اور تعلیم اسلام سے کوئی سروکار نہ ہو۔بلکہ حضرت شاہ کلیم اللہ ﷫ نے ایسی خانقاہ کی بنیاد رکھی کہ جس میں ہر مرید وخلیفہ پر لازم تھا کہ وہ پہلے علومِ ظاہری میں مہارت ِ تامہ حاصل کرے،تاکہ دین ِ اسلام کے تمام شعبہ جات کی بنیادی معلومات حاصل ہوں،اور وسیع بنیادوں پر دین کی خدمت کرسکے۔پھر عوام میں جاہل صوفیاءنے جو غلط فہمی پھیلادی تھی کہ اصل صوفی وہ ہوتا ہے کہ جس کا علم و شریعت سے دور کاواسطہ بھی نہ ہو۔حضرت شاہ صاحب نے تمام علوم ِ نقلیہ و عقلیہ کا درس دےکر اس غلط فہمی کا ازالہ کر دیا۔
1