🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from Deleted Account
اسلام علیکم بخاری شریف کی حدیث ہے لاعدوی وفرالمجذوم کما تفر من الاسد کی مکمل تشریح دلائل کے ساتھ اور فی زماننا اسکا کیا حکم ہے مفتی بہ قول بتاؤ
*"کیا کرونا وائرس کے مریض کے پاس جانے سے بیماری اڑ کر لگ جائے گی ؟"*



تحریر: *ذیشان ضیا مصباحی*
----------------------------------------
خادم التدریس : مرکز اہل سنت، دار العلوم فیض رضا، شاہین نگر حیدرآباد (دکن)
20/رجب المرجب 1441ھ

Gmail:
z.ziyamisbahi@gmail.com
Mobile:
9151450079

آج جب کہ ہر چہار جانب *کرونا وائرس* کی وبا عام ہوتی چلی جارہی ہے، دو چار ملک نہیں بلکہ پوری دنیا اس کی وجہ سے بے چینی اور اضطراب کے عالم میں اپنی زندگی کے شب و روز بسر کر رہی ہے، کیوں کہ کرونا وائرس جو چین سے شروع ہوا تھا اب سو سے زائد ملکوں تک پھیل چکا ہے پوری دنیا میں ایک ملین سے زائد لوگ اس سے متاثر ہیں۔ اور تقریباً پانچ ہزار لوگوں کی اموات ہوچکی ہیں۔
ایسے ماحول میں *کرونا وائرس* کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی لوگوں کے مابین بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے کہ *کرونا وائرس* کے مریض سے اختلاط یعنی میل جول سے وہ بیماری لگ جاتی ہے۔
*شرعی نقطۂ نظر* سے یہ بات کہاں تک درست و صحیح ہے آئیے اس کا جائزہ لیتے ہیں۔
*کسی بیماری کا اڑ کر کسی تندرست وتوانا کو لگ جانا محض خیالِ باطل ہے ، مذہب اسلام میں اس کی کوئی حقیقت نہیں۔*
صحیح البخاری میں ہے:
*حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَغَيْرُهُ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَال: لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ ، وَلَا هَامَةَ ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا بَالُ إِبِلِي تَكُونُ فِي الرَّمْلِ كَأَنَّهَا الظِّبَاءُ فَيَأْتِي الْبَعِيرُ الْأَجْرَبُ فَيَدْخُلُ بَيْنَهَا فَيُجْرِبُهَا ، فَقَالَ : فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ ، رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، وَسِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ.*
[صحیح البخاری۔ باب: لا عدوی الحدیث: 5717]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نےارشاد فرمایا: بیماریوں کے متعدی ہونے یعنی ایک کی بیماری اڑ کر دوسرے کو لگ جانے، صفر اور الّو کی نحوست کی کوئی اصل نہیں، اس پر ایک اعرابی بولا: کہ یا رسول اللہ! پھر میرے اونٹوں کو کیا ہو گیا کہ وہ جب تک ریگستان میں رہتے ہیں تو ہرنوں کی طرح ( صاف اور خوب چکنے ) رہتے ہیں پھر ان میں ایک خارش والا اونٹ آ جاتا ہے اور ان میں گھس کر انہیں بھی خارش زدہ کر جاتا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا: لیکن یہ بتاؤ کہ پہلے اونٹ کو کس نے خارش لگائی تھی؟ اس کی روایت امام زہری نے ابوسلمہ اور سنان بن ابی سنان کے واسطہ سے کی ہے۔
یہ حدیث صحیح بخاری کے علاوہ متعدد طرق سے مختلف الفاظ کے ساتھ کثیر کتب احادیث میں وارد ہوئی ہے۔
مذکورہ حدیث پاک میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ واضح فرمادیا کہ جس طرح پہلے اونٹ کو اللہ تعالیٰ کی مشیت سے خارش لگی اسی طرح دیگر اونٹوں کو بھی اللہ تعالیٰ کی مشیت ہی سے خارش لگی ایسا نہیں کہ ایک اونٹ کی بیماری (خارش) دوسرے اونٹوں کو اڑ کر لگی ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب بیماری متعدی نہیں ہوتی، یعنی ایک کی بیماری اڑکر دوسرے کو نہیں لگتی تو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس ارشاد : *"فر من المجذوم فرارک من الاسد"* [المسند للامام احمد بن حنبل 9683 ج: 9،ص: 292 دار الحدیث القاھرہ] کا کیا مطلب ہے؟ جس سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ ایک کی بیماری اڑ کر دوسرے کو لگتی ہے کیوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں کوڑھ کے مرض میں مبتلا شخص سے اس طرح دور بھاگنے کا حکم دیا جیسا کہ آدمی شیر سے بھاگتا ہے ۔
اس سلسے میں کہا جائے گا یہ حدیث یا تو منسوخ ہے اور اس کی ناسخ وہ احادیث ہیں جن میں بیماری کے متعدی ہونے کی نفی کی گئی ہے۔
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں امام قاضی عیاض سے منقول ہے:
" *ذھب عمر رضی اللہ عنہ و جماعۃ من السلف الی الاکل معہ وان الامر باجتنابہ منسوخ* "
[ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری، کتاب الطب / باب الطیرۃ ،ج:21، ص: 367 دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور سلف کی ایک جماعت اس جانب گئی ہے کہ جذامی کے ساتھ کھانے میں حرج نہیں اور اس سے احتیاط و احتراز کا حکم منسوخ ہے۔
یا دونوں حدیثوں میں تطبیق و توفیق دی جائے گی۔
وہ یوں کہ حدیث: لا عدوی الخ کو اس کے اصلی معنی پر رکھا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یقینا کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی اور جو جذامی (کوڑھ) کے مریض سے بھاگنے کا حکم دیا گیا ہے تو وہ اس لیے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی اس مریض کے پاس جائے اور بیماری اللہ کی مرضی اور تقدیر سے اس کو لگ جائے تو شی
طان اس کے دل میں وسوسہ ڈالے گا کہ اختلاطِ مریض (مریض سے ملنے جلنے) کی وجہ سے بیماری لگی ہے جب کہ معاملہ ایسا نہیں ہے تو اس طرح اس کا عقیدہ خراب ہوگا، یعنی فسادِ عقیدہ سے بچانے کے لیے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم فرمایا، اس وجہ سے نہیں کہ ایک کی بیماری اڑ کر دوسرے کو لگتی ہے۔
نزہۃ النظر میں ہے:
*الاولیٰ فی الجمع أن یقال ان نفیہ صلی اللہ علیہ وسلم للعدوی باق علی عمومہ و قد صح قولہ صلی اللہ علیہ وسلم : لا یعدی شئی شیئا وقولہ فمن اعدی الأول یعنی ان اللہ سبحانہ و تعالیٰ ابتدأہ ذلک فی الثانی کما ابتدأہ فی الاول۔۔۔و اما الأمر بالفرار من المجذوم فمن باب سد الذرائع لئلا یتفق للشخص الذی یخالطہ شئی من ذلک بقدر اللہ تعالی ابتدا لا بالعدوی المنفیۃ فیظن ان ذلک بسبب مخالطۃ فیعتقد صحۃ العدوی فیقع فی الحرج فأمر بتجنبہ حسما للمادۃ۔*
[ نزہۃ النظر ، ص: 43_44 دار الفکر بیروت لبنان]
دونوں حدیثوں کے درمیان تطبیق کی بہتر صورت یہ ہے کہ کہا جائے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تعدیہ ( ایک کی بیماری اڑ کر دوسرے کو لگنے ) کی نفی فرمائی ہے وہ اپنے عموم پر باقی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح روایت ہے کہ *کسی چیز کا تعدیہ نہیں ہوتا* اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ *پہلے کو کس نے پہنچایا* (اس شخص کا رد کرتے ہوئے جس نے آپ سے سوال کیا تھا کہ جب خارشی اونٹ مل جاتا ہے تو تندرست کو بھی خارشی بنا دیتا ہے) یعنی اللہ تعالیٰ نے دوسرے کو اسی طرح خارشی کیا جس طرح اس نے پہلے کو ابتداء کیا تھا۔
رہا مجذوم سے فرار کا حکم تو وہ اسباب کا دروازہ بند کرنے کی قبیل سے ہے تاکہ اختلاط کرنے والے شخص کو اس مرض میں سے کچھ اتفاقا ہوجائے، جو کہ اللہ کی تقدیر سے ہو نہ کہ تعدیہ کی وجہ سے تو وہ یہ گمان نہ کرے کہ اس اختلاط سے ہوا اور وہ یہ عقیدہ رکھ لے کہ مرض متعدی ہوتا ہے اور وہ حرج میں پڑ جائے۔
پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عادۃً جاری شدہ کی بنیاد کو ختم کرنے کے لیے احتیاط کا حکم دیا۔
فتح الباری میں ہے:
*کانت الجاھلیۃ تعتقدہ أن الامراض تعدی بطبعھا من غیر اضافۃ الی اللہ فابطل النبی صلی اللہ علیہ وسلم اعتقادھم ذلک واکل مع المجزوم لییبین لھم ان اللہ ھو الذی یمرض و یشفی*
[فتح الباری شرح صحیح البخاری ،ج: 13، ص:99 کتاب الطب/ باب الجذام ، مکتبہ دار طیبہ ،ریاض]
زمانۂ جاہلیت کے لوگ اعتقاد رکھتے تھے کہ امراض اپنی طبیعت کے اعتبار سے مُتَعَدِّی ہوتے ہیں اور وہ ان کی نسبت اللّٰہ تعالٰی کی طرف نہیں کرتے تھے، لہذا نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ وسلَّم نے ان کے اعتقاد کو باطل قرار دیا اور مجذوم کے ساتھ کھانا کھایا تا کہ آپ ان کے لیے واضح فرمادیں کہ اللہ تعالیٰ ہی بیمار کرتا ہے اور شفا دیتا ہے۔
معلوم ہوا کہ بیماری اڑکر نہیں لگتی بلکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی تقدیر کا دخل ہے۔
اور اگر بیماری متعدی ہوتی تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین۔ جذام و برص وغیرہ میں مبتلا مریض کے پاس نہ جاتے اور ان کے ساتھ کھانے، پینے اور ہم کلام ہونے کا معاملہ نہ فرماتے کہ یہ اپنے آپ کو بلا پر پیش کرنا ہے جو شرعاً جائز نہیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
*وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ۔*
[القرآن الکریم ،سورۃ البقرہ:2، الآیۃ: 195]
اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو( کنز الایمان)
حالاں کہ کثیر روایتوں سے ایسے مریضوں کے ساتھ ان کا مذکورہ معاملات فرمانا ثابت ہے۔
جمع الجوامع میں ہے
*عن جابر ان رسول اللہ ﷺ أخذ بید رجل مجذوم فأقعدہ معہ فقال کل ثقۃ باللہ وتوکلا علیہ۔*
[جمع الجوامع ج: 1، ص: 229،الحديث 10348 دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جذامی کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ بٹھایا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ پر توکل اور بھروسہ کرتے ہوئے کھاؤ۔
مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے :
*حدثنا ابو بکر قال حدثنا وکیع عن سفیان عن عبد الرحمن بن القاسم عن ابیہ قال: قدم علی ابی بکر وفد من ثقیف، فاتی بطعام فدنا القوم ، و تنحی رجل بہ ھذا الداء یعنی الجذام فقال لہ ابو بکر ادنہ فدنا فقال :کل فأکل وجعل ابو بکر وضع یدہ موضع یدہ*
[المصنف لابن أبی شیبہ ج: 5،ص:141 الحدیث24525 دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان]
حضرت عبد الرحمن بن قاسم کے والد روایت کرتے ہیں کہ امیر المومنین سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے دربار میں قبیلہ ثقیف کا ایک وفد آیا،(ان کے لیے) کھانا حاضر لایا گیا وہ نزدیک آئے مگر ایک صاحب کہ اس مرض (جذام) میں مبتلا تھے الگ ہوگئے۔ صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قریب آؤ! قریب آئے فرمایا: کھانا کھاؤ! تو انہوں نے کھایا حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ( کھانے کے دوران) اپنا دست مبارک اس جگہ رکھ رہے تھے جہاں وہ
جذامی رکھ رہے تھے۔
طبقات ابن سعد میں ہے:
*عن صالح بن کیسان قال: قال ابو زیاد حدثنی خارجہ بن زید أن عمر بن الخطاب دعاھم لغداء فھابوا وکان فیھم معیقیب و کان بہ جذام فأ کل معیقیب معھم فقال لہ عمر خذ مما یلیک و من شقک ، فلو کان غیرک مااٰ کلنی فی صفحۃ ، ہلکان بینی وبینہ قید رمح*
[کتاب الطبقات الکبیر لابن سعد ج:4،ص: 110-111 مکتبہ الخانجی القاھرہ]
حضرت خارجہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے صبح کو کچھ لوگوں کی دعوت کی؛ جن میں معیقیب رضی اللہ عنہ بھی تھے جن کے ساتھ جذام کا مرض تھا وہ سب کے ساتھ کھانے میں شریک کیے گئے اور امیر المومنین نے ان سے فرمایا: اپنے قریب سے اپنی طرف سے لیجیے اگر آپ کے سوا کوئی اور اس مرض کا ہوتا تو میرے ساتھ ایک پلیٹ میں نہ کھاتا اور مجھ میں اور اس میں ایک نیزے کا فاصلہ ہوتا۔
خلاصہ یہ کہ کسی مریض کے پاس جانے سے اس کی بیماری اڑ کر نہیں لگتی۔
لیکن اگر کوئی ضعیف الیقین(کمزور عقیدے والا ) کسی کرونا وائرس کے مریض کے پاس گیا اور اللہ کی تقدیر سے کچھ مرض ہوگیا تو شیطان اس کے دل میں وسوسہ ڈالے گا کہ یہ بیماری اڑ کر لگی ہے اگر نہ جاتا تو نہ لگتی۔ اور یہ وسوسہ بہت خطرناک چیز ہے۔
اس لیے ضعیف الاعتقاد آدمی کا ایسے مریض سے دور رہنا بہتر ہے۔
ہاں جو کامل الیقین (پختہ عقیدے والے) ہیں وہ اگر ایسے مریض کے پاس جائیں تو حرج نہیں۔
فتاویٰ رضویہ میں ہے:
*(جذامی سے بھاگنے کا حکم ہے)* *اس دور اندیشی سے کہ مبادا کچھ پیدا ہو اور ابلیس لعین وسوسہ ڈالے کہ دیکھ بیماری اڑ کر لگ گئی اور اب معاذاللہ اس امر کی حقیقت اس کے خطرہ میں گزرے گی جسے مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم باطل فرما چکے ، یہ اس مرض سے بھی بد تر مرض ہوگا ان وجوہ سے شرع حکیم و رحیم نے ضعیف الیقین لوگوں کو حکم استحبابی دیا ہے کہ اس سے دور رہیں۔*
*اور کا مل الایمان بندگانِ خدا کے لیے کچھ حرج نہیں کہ وہ ان سب مفاسد سے پاک ہیں۔ خوب سمجھ لیا جائے کہ دور ہونے کا حکم ان حکمتوں کی وجہ سے ہے نہ یہ کہ معاذ اللہ بیماری اڑ کر لگ جائے گی اسے تو اللہ و رسول رد فرما چکے جل جلالہ و صلی اللہ علیہ وسلم۔*
[ فتاویٰ رضویہ ،ج: 16،ص: 747، 748، ]
پھر ضعیف الاعتقاد کو جو مریض سے دور رہنے کا حکم دیا گیا ہے وہ استحبابی ہے، اس کی وجہ سے کسی واجب کو نہیں چھوڑا جائے گا۔ مثلا: کسی کو کوئی مہلک بیماری لگی اور اسے اس کے اولاد و اقارب و زوجہ چھوڑ کر چلے جائیں یہ ہرگز جائز نہیں ہے۔
فتاوی رضویہ میں ہے :
*پھر ازاں جاکہ یہ ایک استحبابی حکم ہے واجب نہیں ہر گز کسی واجب شرعی کا معارضہ نہ کرے گا۔ مثلا: معاذ اللہ جسے یہ عارضہ ہو اس کے اولاد و اقارب و زوجہ سب اس احتیاط کے باعث اس سے دور بھاگیں اور اسے تنہا و ضائع چھوڑ دیں یہ ہرگز حلال نہیں۔*
[المرجع السابق]
تفصیل کے لیے اعلی حضرت علیہ الرحمہ کے رسالہ *الحق المجتلی فی حکم المبتلی* کا مطالعہ فرمائیں۔
واضح رہے کہ ماقبل میں ہم نے جو باتیں پیش کی ہیں وہ عین بیماری کے متعدی ہونے کے بارے میں ہے۔
رہا بیماری کے جراثیم کا متعدی ہونا یعنی ایک کی بیماری کے جراثیم کا اڑ کر دوسرے کو لگنا۔ تو ہماری شریعت اسلامیہ اس کی مخالف نہیں ہے۔
اور آج کی میڈیکل سائنس کا بھی یہی کہنا ہے کہ جراثیمِ امراض ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے ہیں اور ایک مریض کے جراثیم دوسرے میں بیماری کا سبب بنتے ہیں۔ نہ یہ کہ مرض متعدی اور منتقل ہوتا ہے کہ وہ تو ایک کیفیت کا نام ہے جس کے اندر انتقال کی صلاحیت ہی نہیں ہوتی ہے ۔
ہم یہاں اتنا اور واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اگر ایک مریض کے جراثیم اڑ کر کسی دوسرے کو لگ جائیں تو کوئی ضروری نہیں کہ اسے بھی وہ بیماری لگ جائے،جب تک اللہ تعالیٰ کی مرضی نہ ہو ایک دو کیا کروڑو جراثیم کچھ اثر نہ کریں گے۔
حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی-رحمہ اللہ علیہ- رقم طراز ہیں:
*"مرض کا اُڑ کر لگنا باطل ہے مگر یہ ہوسکتا ہے کہ کسی بیمار کے پاس کی ہوا متعفن ہو اور جس کے جسم میں اس بیماری کا مادہ ہو وہ اس تَعَفُّنْ سے اثر لے کر بیمار ہوجائے اس معنیٰ سے تَعَدِّی ہوسکتی ہے"*
[مرأۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح، ج: 6، ص:219، باب الفال والطیرۃ، نعیمی کتب خانہ گجرات]
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*ظالم کون؟؟*
📍 *کرونا یا کسی وبا سے ڈر کر مسلمانوں کو مساجد سے روکنے والے غور کریں*
اللہ تبارک و تعالی سورۃ البقرۃ آیت نمبر 114 میں فرماتا ہے:

*وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَاؕ-اُولٰٓىٕكَ مَا كَانَ لَهُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْهَاۤ اِلَّا خَآىٕفِیْنَ۬ؕ-لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ*

💥 *اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ کی مسجدوں کو روکے ان میں نامِ خدا لئے جانے سے اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے ان کو نہ پہنچتا تھا کہ مسجدوں میں جائیں مگر ڈرتے ہوئے ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لئے آخرت میں بڑا عذاب۔*💥
اللہ پاک ہمیں شعور و فکر عطا فرمائے، کرونا اور ہر قسم کی آفات، بلیات اور وبائی امراض سے اپنا حفظ و امان عطا فرمائے، ہم سب کو مساجد کے آباد کرنے والوں میں رکھے.
آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم و بحق الغوث الاعظم محی الدین رضی اللہ عنہ

📩 ترسیل: 📩
ابوسِنان عتیق الرحمٰن رضوی،مالیگاؤں
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Urdu Tahrir (Irfan Attari)
دنیا اس وقت جس عالمی وبا یعنی کورونا وائرس کی لپیٹ میں ہے۔ ہر ممکن احتیاطی تدابیر اپنائی جا رہی ہیں۔ اللہ کریم ﷻ سے دعائیں مانگی جا رہی ہیں۔ اور توبہ و استغفار کی جا رہی ہے۔
کیونکہ وبا و بلا و عذاب میں اذان دینا ایک مستحب امر جو اللہ کریم ﷻ کے غضب کو دور کرتا ہے لہذا مسلمان اپنے اپنے علاقوں میں اللہ کی توحید اور نبی کریم ﷺ کی رسالت کی گواہی اذان کے ذریعے بلند کر رہے ہیں۔
ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جو خود کو مسلمان کہتا ہے وہ اس عمل کو نہ صرف سراہتا بلکہ دعا کرتا کہ اللہ کریم ﷻ اپنے اس ذکر(یعنی اذان) کے صدقے اس وباء کو ٹال دے۔
میں ان حالات میں اس چیز پر گفتگو نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن افسوس کیساتھ کچھ لوگوں نے اذان دینے والے مسلمانوں پر فتویٰ بازی شروع کر دی اور یہ کہنا شروع کر دیا کہ معاذ اللہ وباء میں اذنیں دینا جہالت ہے ، بدعت ہے اور بدعتی جہمنی ہے۔ وبا میں اذنیں دینا ثابت نہیں۔ تو آئیے ملاحظہ کیجئے۔ کہ جب وباء عذاب کی صورت میں آ جائے تو اذان دینا مستحب و جائز ہے۔

#اذان_سےوباکےعذاب_کاٹلنا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے رویت ہے کہ حضور سیّدِ عالَم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:

"اِذَا اَذَّنَ فِیْ قَرِیَةٍ اٰمَنَھَا اللہُ مِنْ عَذَابِهٖ فِیْ ذٰلِكَ الْیَوْمِ"

جب کسی بستی میں اذان دی جائے تو اللہ تعالی اس دن اسے اپنے عذاب سے امن دے دیتا ہےـ

[المعجم الکبیر مرویات انس بن مالك، جلد 1، صفحہ257، حدیث:746، مطبوعہ المکتبة الفیصلیه بیروت]

یہی وجہ ہے کہ مسلمان اس وبائی عذاب کو ٹالنے کیلئے فرمانِ مصطفٰی ﷺ کے مطابق اذنیں دے رہے ہیں۔

#وبا_کی_وحشت_دورکرنےکیلئےاذان

ابونعیم و ابن عساکر حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راویت کرتے ہیں کہ حضور سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:

نَزَلَ آدَمُ بِالْھِندِ فَاسْتَوْحَشَ فَنَزَلَ جِبْرَئِیْلُ عَلَیْه الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام فَنَادیٰ بِالْاَذَاَنِ

یعنی: جب آدم علیہ الصلاۃ والسلام جنت سے ھندوستان میں اترے انہیں گھبراہٹ ہوئی تو جبرئیل علیہ الصلاۃ والسلام نے اتر کر اذان دی۔

[حلیة الاولیاء مرویات عمرو بن قیس الملائی ، جلد 2، صفحہ 107، رقم:299 ، مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت]

مسند الفردوس میں حضرت جناب امیرُ المومنین مولٰی المسلمین سیدنا علی مرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم سے روایت ہے:
قَالَ رَایٰ النَّبِیُّ صَلّٰی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْهِ وَسَلَّم حُزِیْناً فَقَالَ یَا ابْنَ اَبِیْ طَالِبٍ اِنِّیْ اَرَاكَ حُزِیْناً فَمُرْ بَعْضَ اَھْلِكَ یُؤَذِّنُ فِیْ اُذُنِكَ فَاِنَّهٗ دَرْءُ الْھَّمِ

یعنی: مولا علی کہتے ہیں مجھے حضور سیّدِ عالَم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے غمگین دیکھا ارشاد فرمایا: اے علی! میں تجھے غمگین پاتا ہوں اپنے کسی گھر والے سے کہہ کہ تیرے کان میں اذان کہے، اذان غم وپریشانی کی دافع ہے۔

[مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوہ المصابیح باب الاذان ، جلد 2، صفحہ 149، مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان]

اذان دینے سے جہاں وبا سے امان ملتا ہے وہاں وحشت بھی دور ہوتی ہے۔ لہذا اس ثابت شدہ امر کو بدعت و جہالت کہنا بہت بڑی زیادتی ہے۔
اور مانعین اسکے ناجائز و بدعت ہونے پر ایک بھی دلیل پیش نہیں کر سکتے۔

#محدث_وھابیہ_کی_گواہی

صاحبو ! مانعین کہتے ہیں کہ فرض نماز کے علاوہ اذان دینا کہیں سے بھی ثابت نہیں اور بدعت و جہالت ہے۔ آئیے فرض نماز وں کے علاوہ اذانوں کا ثبوت ہم انہی کے محدث سے پیش کرتے ہیں۔

وھابی مذھب کے محدث و انکے مجدد مولوی نواب صدیق حسن خان بھوپالی لکھتے ہیں کہ:

”زید بن اسلم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ بعض معاون پر والی تھے۔ لوگوں نے کہا یہاں جن بہت ہیں۔ کثرت سے اذانیں (ایک ہی) وقت پر کہا کرو ، چنانچہ ایسے ہی کیا گیا اور پھر کسی جن کو وہاں نہ دیکھا“

[کتاب الدعاء والدواء ، صفحہ 76، مطبوعہ اسلامی کتب خانہ لاھور]

وھابیہ کے محدث نے اس بات کو تسلیم کیا کہ نمازوں کے علاوہ بھی کثرت کیساتھ اکٹھی اذانیں دینے سے بلائیں بھاگ جاتی ہیں۔
تو کیا فتویٰ لگے گا آپکے محدث بھوپالی پر ؟؟

وھابیہ کے یہی محدث بھوپالی اپنی کتاب میں ھیڈنگ دے کر لکھتے ہیں ”مشکلات سے نکلنے کیلئے“ پھر اس عنوان کے تحت لکھتے ہیں کہ:

”حضرت علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مجھ کو مہموم (پریشان) دیکھ کر فرمایا کہ اپنے گھر والوں میں سے کسی کو حکم دے کہ وہ تیرے کان میں اذان کہہ دیں کہ یہ دواءِ ھم (یعنی پریشانی کی دواء) ہے چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا مجھ سے غم دور ہو گیا۔“

[کتاب الدعاء والدواء ، صفحہ 76، مطبوعہ اسلامی کتب خانہ لاھور]

تو وھابیہ کے محدث نے بھی تسلیم کیا کہ اذان سے غم دور ہوتا ہے۔ اور مشکلات ٹَلتی ہیں، تو سوچو جب مسلمانوں کی اذانوں کی آواز اتنے لوگوں کے کانوں میں پڑی تو کتنا سکون ملا ہو گا۔
اگر نماز کے علاوہ اذان دینا جہالت و بدعت ہے تو کیا حکم لگے گا آپکے محدث بھوپالی صاب پر ؟؟

#مرگی_کےعلاج_کیلئےاذا
1
Forwarded from Urdu Tahrir (Irfan Attari)
ن
وھابیہ کے مجدد بھوپالی نے اپنی کتاب میں عنوان قائم کیا جسکا نام ”مرگی کا علاج“ اسکے تحت وہ لکھتے ہیں کہ:

”بعض علماء نے مرگی والے کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی تھی ، وہ اچھا ہو گیا۔“

[کتاب الدعاء والدواء ، صفحہ 77، مطبوعہ اسلامی کتب خانہ لاھور]

مزید عنوان دیا ”راستہ بھول جانے کا علاج“ اسکے تحت لکھا کہ:

”بعض علماء صالحین نے کہا ہے کہ آدمی جب راستہ بھول جائے اور وہ اذان کہے تو اللہ اسکی رہنمائی فرماوے گا۔“

[کتاب الدعاء والدواء ، صفحہ 76، مطبوعہ اسلامی کتب خانہ لاھور]

مزید اسی کتاب میں آگے چل کر لکھتے ہیں کہ:

”جسکو شیطان خبطی کر دے یا اسکو آسیب کا سایہ ہو.... تو اسکے کان میں سات بار اذان کہےـ“

[کتاب الدعاء والدواء ، صفحہ 76،105، مطبوعہ اسلامی کتب خانہ لاھور]

تو ان دلائل سے ثابت ہوا کہ مصیبت و پریشانی کے وقت اذانیں دینے سے مصیبت وبائیں اور پریشانیاں دور ہوتی ہیں۔ بس اسی جذبے تحت مسلمانوں نے کراؤنا وائرس جیسی وباء سے جھٹکارے کیلئے اللہ کے ذکر یعنی اذان کی تدبیر کی تاکہ اللہ کریم ﷻ اپنے ذکر کی برکت سے اس آفت کو ٹال سے اور مسلمانوں کو خوف وہراس سے نکال دے۔
لیکن کچھ لوگ برا مان گئے نہ صرف برا مانے بلکہ اذانوں کا یہ سلسلہ دیکھ کر مسلمانوں کو نہ صرف بدعتی بلکہ جاھل کہنا شروع کر دیا۔
الحمد للہ ہم نے اتمام حجت کیلئے نہ صرف احادیث سے اسکے جواز کے شوھد پیش کیئے بلکہ انکے اس محدث کے حوالے بھی پیش کیئے جنکے بارے میں انہوں نے لکھا کہ وہ رب سے ہمکلام ہوا کرتے تھے۔
یقیناً اذان سن کر شیطان ہی کو تکلیف ہوتی اور مسلمانوں کو جاھل کہتا ہے کیونکہ اذان سن کر کرشیطان 36 میل دور بھاگ جاتا ہے۔
امام مسلم رحمۃ اللّٰہ علیہ روایت کرتے ہیں:

عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ ذَهَبَ حَتَّى يَكُونَ مَكَانَ الرَّوْحَاءِ» قَالَ سُلَيْمَانُ: فَسَأَلْتُهُ عَنِ الرَّوْحَاءِ فَقَالَ: «هِيَ مِنَ الْمَدِينَةِ سِتَّةٌ وَثَلَاثُونَ مِيلًا»
یعنی: حضرت جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : بلاشبہ شیطان جب اذان سنتا ہے تو ( بھاگ کر ) چلا جاتا ہے یہاں تک کہ روحاء کے مقام پر پہنچ جاتا ہے ۔ ‘
سلیمان ( اعمش ) نے کہا : میں نے ان ( اپنے استاد ابو سفیان طلحہ بن نافع ) سے روحاء کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : یہ مدینہ سے چھتیس میل ( کے فاصلے ) پر ہے ۔
[صحیح مسلم، کتاب الصلاۃ، باب فضل الأذان... إلخ، الحدیث:854، مطبوعہ دار السلام ریاض سعودیہ]

لہذا کم از کم مسلمان کو اذان سن کر خوش ہونا چاہئے اور آفت ٹلنے کی دعا کرنی چاہئے نہ کہ پڑھنے والوں کو جاھل و بدعتی کہہ اپنا رشتہ شیطان سے ظاھر کرنا چاہئے۔

اللہ کریم ﷻ سے دعا ہے کہ امت کو اس وبا سے نجات عطا فرمائے اور حق کو سمجھنے کہ توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ النبی الکریم الامین ﷺ

مدینے پاک کا بھکاری
محمداویس رضاعطاری

https://t.me/SirfUrduTahrir/2254
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Urdu Tahrir (Irfan Attari)
پاکستانی طلبہ نے کورونا کی جلد تشخیص کے لیے سسٹم ڈیٹیکٹر تیار کر لیا


پاکستانی طلبہ نے کورونا وائرس کی تشخیص کرنے کو آسان بنا دیا۔تفصیلات کے مطابق غلام اسحٰق خان انسٹیٹیوٹ صوابی میں زیر تعلیم مکینکل انجینئر محمد علیم اور ان کے ساتھی کمپیوٹر انجینئرنگ کے طالب علم راہول راج نے ایک آلہ بنایا جو 20 سیکینڈ میں کورونا وائرس کی تشخیص کر لیتا ہے۔طلبہ نے کوروناوائرس کی جلد تشخیص کے لیے سسٹم ڈیٹیکٹر بنایاہےجو پھیپھڑوں کے کمپیوٹڈ ٹومو گرافی، سی ٹی اسکین سے وائرس کو شناخت کرلےگا۔طلبہ کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس بہت تیزی سے پھیل رہاہے اس لیے انہوں نے وائرس کی تشخیص کے لیے درکار کِٹس کی کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے آرٹیفیشل انٹیلی جینس ٹول تیار کیا ہے۔محمد علیم کا دعویٰ ہے کہ ان کے بنائےگئے ماڈل کے ذریعے پھیپھڑوں کے سی ٹی اسکین کرکے کوروناوائرس کی موجودگی کی 92 فیصد تک درست تصدیق ہوسکتی ہے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ اس آلہ کے استعمال سے کورونا کی تشخیص کا عمل صرف 10سے20 سیکنڈز میں مکمل ہوجاتا ہے۔واضح رہے کہ پاکستان میں عام طور پر لیبارٹری سےکورونا وائرس کی تشخیص میں کم از کم 24 گھنٹے درکار ہوتے ہیں۔

https://t.me/SirfUrduTahrir/22
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کورونا وائرس

وبائی امراض سے متعلق دو قسم کی احادیث و آثار ہیں:
ایک قسم کی احادیث و آثار اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ بیماری یا وائرس کا بذات خود لگنا کوئی چیز نہیں؛ اسی وجہ سے حضور نبی اکرم ﷺ اور بہت سارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مجذوم کے ساتھ کھایا اور ان کے ساتھ رہے، ملاحظہ فرمائیں:

قال رسول الله - صلَّى الله عليه وسلَّم -: ((لا عدوى ولا طيرة))

قال رسول الله - صلَّى الله عليه وسلَّم -: ((لا عدوى ولا صَفَر ولا هامَة))، فقال أعرابي: يا رسول الله، فما بال الإبِل تكون في الرَّمل كأنَّها الظِّباء، فيجيء البعير الأجرب فيدخل فيها فيجربها كلَّها؟ قال: ((فمَن أعْدى الأوَّلَ؟)

عن جابر بن عبد الله أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أخذ بيد مجذوم فأدخله معه في القصعة ثم قال كل بسم الله ثقة بالله وتوكلا عليه (سنن أبي داؤد)

رَوى ابن أبي شيبة في "مصنَّفه" أنَّ "سلْمان - رضي الله عنه - كان يعمل بيديه، ثم يَشتري طعامًا، ثم يبعث إلى المجذومين، فيأكلون معه".

عن أمِّ المؤمنين عائشة - رضي الله عنها -: قالت: ((كان لي مولًى به هذا الدَّاء، فكان يأكل في صِحَافي، ويشرب في أقْداحي، وينام على فراشي)).

عن عبدالله بن جعفر قال: "لقد رأيتُ عمر بن الخطاب يُؤتَى بالإناء فيه الماء، فيعطيه مُعَيْقِيبًا، وكان رجلاً قد أسرع فيه ذاك الداء فيشرب منه، ويناوله عُمَر، فيضع فمَه موضِعَ فمه، حتَّى يشرب منه، فعرفت أنَّما يصنع عمر ذلك؛ فرارًا من أن يدْخلَه شيء من العدوى".

روى ابن أبي شيبة في "مصنفه" أنَّ أبا بكر - رضي الله عنه - قَدِم عليه وفْدٌ من ثقيف، فأُتِي بطعام، فدنا القوم وتنحَّى رجل به هذا الدَّاء - يعني الجُذام - فقال له أبو بكر: ادْنُهْ، فدنا، فقال: كُلْ، فأكل وجعل أبو بكر - رضي الله عنه - يضع يده موضع يده.

رَوى ابن أبي شيبة في "مصنَّفه" عن أبي معْشر عن رجل أنَّه رأى ابن عمر - رضي الله عنهما - يأكل مع مجذوم، فجعل يضع يده موضع يد المجذوم.

وروى عبدالرزاق في "مصنفه" قال معمر: وبلغني أنَّ رجلاً أجذم جاء إلى ابن عمر - رضي الله عنهما - فسأله، فقام ابن عمر، فأعطاه درهمًا، فوضعه في يده، وكان رجلٌ قد قال لابن عمر: أنا أعطيه، فأبَى ابنُ عمر أن يناوله الرجل الدرهم.

دوسری قسم کی احادیث اور بعض آثار اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ وبائی امراض والوں سے تعامل نہیں رکھنا چاہیے بلکہ ان سے دوری بنائے رکھنا چاہیے؛ کیوں کہ ان کا قرب اللہ تعالی کے حکم سے اس تعامل کرنے والے کے لئے بھی بیماری کا سبب بن سکتا ہے، احادیث و بعض آثار ملاحظہ فرمائیں:

قال رسول الله - صلى الله عليه وسلَّم -: ((فِرَّ من المجذوم كما تفرُّ من الأسد)) وفي لفظ: ((إذا رأيت المجذوم ففِرَّ منه كما تفر من الأسد))

2- عن عمرو بن الشَّريد عن أبيه قال: كان في وفْد ثقيف رجل مَجذوم، فأرسل إليه النبي - صلَّى الله عليه وسلَّم -: ((إنا قد بايعناك فارجع))

قال رسول الله - صلَّى الله عليه وسلَّم -: ((إن هذا الطاعون رجْزٌ سُلِّط على من كان قبلكم - أو على بني إسرائيل - فإذا كان بأرض فلا تَخْرجوا منها فرارًا منه، وإذا كان بأرض فلا تدخلوها))

قال رسول الله - صلَّى الله عليه وسلَّم -: ((لا يُورد مُمْرِض على مُصِحٍّ))، وفي لفظ البخاري: " لا توردوا الممْرِض على المصح))

قال رسول الله - صلَّى الله عليه وسلَّم -: ((لا تُدِيموا النَّظر إلى المجْذومين))

قال رسول الله - صلَّى الله عليه وسلَّم -: ((لا تحدُّوا النظر إليه)) "يعني: المجذوم".

قال رسول الله - صلَّى الله عليه وسلَّم -: ((اتَّقوا المجذوم كما يُتَّقى الأسد))

عن ابن أبي مُلَيكة: "أنَّ عمر - رضي الله عنه - مر بامرأة مجذومة - وهي تطوف بالبيت - فقال لها: يا أمَة الله، لا تُؤْذِي الناس، لو جلَسْتِ في بيتك لكان خيرًا لك، فجلسَتْ في بيتها، فمرَّ بها رجل بعدَما مات عُمَر، فقال لها: إنَّ الذي نهاك قد مات فاخْرجي، فقالت: والله، ما كنتُ لأطيعه حيًّا، وأعصيه ميتًا"۔

اعلی حضرت مجدد دین و ملت اور بعض دیگر علماے کرام رضی اللہ عنہم نے پہلی قسم کی احادیث کو قوی الاعتقاد اور دوسری قسم کی احادیث کو ضعیف الاعتقاد والوں کے لئے قرار دیا اور بعض دیگر علماے کرام نے پہلی قسم کی احادیث کو حقیقت پر محمول کیا یعنی اللہ تعالی کے ارادہ کے بغیر کوئی بیماری نہیں ہوسکتی اور دوسری قسم کی احادیث کو احتیاط کے باب سے قرار دیا لیکن اگر امعان نظر سے دیکھا جائے تو دونوں اقوال کے درمیان کوئی خاص فرق نہیں۔

بہر حال ان احادیث و آثار سے واضح ہوگیا کہ وبائی مرض والے کے ساتھ کھایا پیا جاسکتا ہے اور احتیاط برتتے ہوئے اس عمل سے بچا بھی جاسکتا ہے، دونوں ہی طریقہ سنت ہے۔ اب جو پہلی حدیث کے پیش نظر یہ کہے کہ میں وبائی مرض والے کے ساتھ طواف کروں گا یا کھاؤں گا تو اس پر کسی کا اسے بے علم کہنا یا اسے وبائی مرض والے کے پاس بھیجنے کی بات کرنا خود بے علمی اور جذبات سے پر ہونے کی دلیل ہے اور جانے انجانے میں بہت سخت ت
رین قول کرنا ہے۔ اسی طرح جو دوسری احادیث و آثار پر عمل کرتے ہوئے احتیاط کی ترغیب دلائے، اس کو برا بھلا کہنا سخت ناپسندیدہ ہے، البتہ احتیاط کے نام پر وہم کو دخل دینا اور محض شک و شبہات کی بنیاد پر مسجد بند کرنا، جماعت نہ کرنا یا پھر مصافحہ کرنے سے گریز کرنا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے بالخصوص ہندستانی ماحول کے لحاظ سے تو سخت ناپسندیدہ امر ہے؛ لہذا مسجد، جماعت یا جمعہ بند کرنے سے پہلے ہمیں حکومت ہند کے اہل کار سے احتیاطی تدابیر کے تناظر میں جماعت وغیرہ کے لئے پوری کوشش کرنی چاہیے، اگر کامیاب ہوئے فبہا اور نہیں کامیاب ہوئے تو اللہ مالک، ارشاد باری تعالی ہے: لا يكلف الله نفسا إلا وسعها.

نوٹ: بعض حضرات یک طرفہ احادیث پیش کرکے یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہی سب کچھ ہے، یہ درست نہیں خاص کر ایک عالم کے لئے تو بالکل غیر مناسب ہے۔

اللہ تعالی کرونا جیسی وبا سے پوری انسانیت کی حفاظت فرمائے اور مسلمانوں کی عزت و آبرو اور ان کے شعائر اسلام کے ساتھ کھلواڑ کرنے والوں کے لئے اسے وبال جان بنائے، آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔

أبو عاتکہ أزھار أحمد أمجدی أزھری غفرلہ
خادم مرکز تربیت إفتا و خانقاه امجدیہ، اوجھاگنج، بستی، یوپی، إنڈیا۔
٢٨/ رجب المرجب ١٤٤١ھ مطابق ٢٤/ مارچ ٢٠٢٠ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
Forwarded from Urdu Tahrir
کروناوائرس پرلعنت مت بھیجو"
21 مارچ 2020

"مستشار عدلی حسین (ایک عرب سکالر)کا فکرانگیزمقالہ ۔(ترجمہ۔محمدکمال)
...کروناوائرس پرلعنت مت بھیجو اسلئے کہ اس نےانسان کودوبارہ اس کی انسانیت کی طرف ،اس کےخالق کی طرف اوراس کےاخلاق کی طرف متوجہ کیاہے
۔
کیایہ کارنامہ اس کے لئے کافی نہی ہے کہ اس نے پوری دنیا میں تمام عیش وطرب کے مراکز بندکر دیے۔سینماگھر ،نائٹ کلب ،رقص گاہیں ،شراب خانے ،جواخانےاور جنسی بےراہ روی کےمراکز۔ بلکہ سودکی شرح بھی کم کردی۔
اس نےخاندانوں کوایک طویل جدائی کے بعدان کے گھروں میں دوبارہ اکٹھاکیا۔
اس نے اجنبی مرد اور اجنبی عورت کو بوسا دینے سے بھی روکا۔
اس نے عالمی ادارہ صحت کواس بات کے اعتراف پرمجبورکیا کہ شراب پینا تباہی ہے،لہذااس سے اجتناب کیاجائے۔
اس نے صحت کے تمام اداروں کویہ بات کہنے پرمجبورکیا کہ درندے ،شکاری پرندے ،خون ،مردار اورمریض جانور صحت کے لئے تباہ کن ہیں۔
اس نے انسان کوسکھایا کہ چھینکنے کاطریقہ کیا ہے، صفائی کس طرح کی جاتی ہے جو ہمیں ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے1450 سال پہلے بتایا تھا ۔
اس نےفوجی بجٹ کاایک تہائی حصہ صحت کی طرف منتقل کیا ہے۔اس نے دونوں جنسوں کے اختلاط کومذموم قراردیاہے۔
اس نےدنیاکے بعض بڑے ممالک کےحکمرانوں کوبتادیاکہ لوگوں کوگھروں میں پابندکرنے،جبری بٹھانےاور ان کی آزادی چھین لینےکامعنی کیاہوتاہے۔

اس نے لوگوں کواللہ سےدعامانگنے گریہ زاری کرنےاوراستغفارکرنے پرمجبور اورمنکرات اورگناہ چھوڑنے پرآمادہ کیاہے۔
اس نےمتکبرین کے کبر و غرور کا سرپھوڑ دیااورانہیں عام ا نسانوں کی طرح لباس پہنایا۔
اس نے دنیامیں کارخانوں کی زہریلی گیس اوردیگر آلودگیوں کوکم کرنے کی طرف متوجہ کیاجن آلودگیوں نے باغات، جنگلات، دریا اور سمندروں کوگندہ کیاہے۔
اس نے ٹکنالوجی کو رب ماننے والوں کودوبارہ حقیقی رب کی طرف متوجہ کیاہے۔
اس نے حکمرانوں کوجیلوں اورقیدیوں کی حالت ٹھیک کرنے پرآمادہ کیاہے۔
اورسب سے بڑاکارنامہ یہ کہ اس نے انسانوں کواللہ کی وحدانیت کی طرف متوجہ کیا،
آج عملی طورپریہ بات واضح ہوگئی کہ کس طرح بظاہر ایک وائرس ھے لیکن حقیقت میں اللہ کا ادنا سپاہی انسانیت کےلئے شر کے بجائے خیر کاباعث بن گیا۔
تواے لوگو! کرونا وائرس پرلعنت مت بھیجو یہ تمہارے خیر کے لئے آیاہے کہ اب ا نسانیت اس طرح نہ ہوگی جس طرح پہلے تھی۔۔

https://t.me/SirfUrduTahrir/2243
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Urdu Tahrir
کرونا 19 کے بارے میں قرآن کے ساتھ گفتگو۔

السلام علیکم

پوچھا:اس منحوس کرونا 19 وائرس سے دنیا کب نجات حاصل کر سکے گی؟

📖 کہا:أَيَّامًا مَّعْدُودَاتٍ
بس کچھ دنوں میں .(بقره آیه ١٨٤)

پوچھا: الله کا شکر کہ اس بیماری سے زیادہ نہیں مر رہے ہیں.

📖 کہا:الْآنَ خَفَّفَ اللَّهُ عَنكُمْ وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمْ ضَعْفًا

ابھی الله نے چھوٹ دی ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ بہت کمزور ہو .(انفال آیه٦٦)

پوچھا : ڈاکٹر اور حکما صاحبان صرف نصیحتیں اور نسخے دیتے رہتے ہیں.

📖 کہا: وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ .

جاننے والے سے بہتر جانکاری کوئی نہیں دے سکتے ہیں. (فاطر آیه ١٤)

پوچھا : صحت عامہ محکموں کی نصیحتوں اور احکامات کا کیا کروں؟

📖 کہا:وَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا

انکی سنو اور اطاعت کرو (تغابن آیه ١٦)

🥀 🥀

پوچھا: اس منحوس کرونا سے بچنے کے لئے کیا کروں؟

📖 کہا: وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ
اپنے گھروں میں محصور ہو کر آرام سے رہو. (احزاب آیه٣٣)

📖بُيُوتًا آمِنِينَ
(ایسے) گھر جو حفاظت کے اعتبار سے قابل اطمینان ہوں. (حجر آیه ٨٢)

پوچھا: یعنی اس بیماری سے بچنے کے لئے عمومی صحت و صفائی لازمی ہے لیکن اپنی سلامتی کے لئے کیا کروں؟

📖 کہا: فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ

اپنے چہرے اور ہاتھوں کو دھو لو. (مائده آیه ٦)

پوچھا : ہمارے کپڑے بھی تو بیماری پھیلا سکتے ہیں ان کا کیا کروں؟

📖 کہا: وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ
اور اپنے کپڑوں کو صاف و پاک کرو.(مدثر آیه٤)

پوچھا : کیا غیر ضروری کام کے لئے گھر سے باہر نکل سکتا ہوں؟

📖 کہا:وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ.

اپنے آپ کو خود ہی ہلاکت میں نہیں ڈالو. (بقره آیه١٩٥)

پوچھا: اگر کسی میں تپ و لرزہ یا سانس لینے میں مشکل دیکھوں اس کو کیا سمجھوں؟

📖 کہا: وَهُوَ سَقِيمٌ
وہ بیمار ہے .(صافات١٤٥)

پوچھا: ایسے میں کیا کریں؟

📖 کہا: فَلَا تَقْرَبُوهَا
ان کے قریب مت ہونا. (بقره آیه١٨٧)

پوچھا : لیکن یہ وائرس بیمار سے ہم میں کیسے منتقل ہو جاتا ہے؟

📖 کہا: تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ
ان کے منہ سے نکلتا ہے. (کهف آیه٥)

پوچھا : کیا ان دنوں رشتہ داروں اور دوستوں کو ملنے کے لئے جا سکتے ہیں؟

📖 کہا: لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ.

نہیں اپنے گھر کے بغیر کہنی نہیں جاؤ. (نور آیه ٢٧)

پوچھا : کیا قرنطینه کے دنوں میں گھر والوں کے ساتھ خرید کرنے کے لئے گھر سے باہر نکل سکتے ہیں؟

📖 کہا : فَابْعَثُوا أَحَدَكُم بِوَرِقِكُمْ هَٰذِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ فَلْيَنظُرْ أَيُّهَا أَزْكَىٰ طَعَامًا فَلْيَأْتِكُم بِرِزْقٍ مِّنْهُ

ایسے میں کوئی ایک پیسے لے کے بازار چلا جائے اور (جس دکان پر) صحیح و سالم غذا ہو خرید کرکے لے آئے اسے کھائیں.(کهف آیه ١٩)

پوچھا: کچھ لوگ صحت و صفائی سے متعلق نصیحتوں اور احکامات کو رعایت کیوں نہیں کرتے ہیں؟

📖 کہا: ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُونَ
کیونکہ وہ ایسے لوگ ہیں جو نہیں سمجھتے ہیں.(حشر آیه١٣)

پوچھا : ہم کیا کریں؟

📖 کہا: وَلَا تَمَسُّوهَا
انہیں مت چھو لیں.(اعراف ایه ٧٣)

📖 فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ
ان کے ساتھ مت بیٹھیں.(نساء١٤٠)

پوچھا: کیا قرنطینه میں رہنے اور صحت و صفائی کا خیال رکھنے سے ہماری ان دنوں کی مشکل آسان ہوجائے گی؟

📖کہا: فِيهِ شِفَاءٌ لِّلنَّاسِ

اس میں لوگوں کی شفا ہے.(نحل آیه ٦٩)

🥀 🥀

پوچھا : اس طرح گھروں میں اور قرنطینه میں محصور رہنے سے ہمارے لئے اقتصادی مشکلات پیدا ہونگے غربت اور تنگدستی پیش آئے گی .

📖 کہا:وَإِنْ خِفْتُمْ عَيْلَةً فَسَوْفَ يُغْنِيكُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ.

اور اگر غربت اور تنگدستی سے ڈر رہے ہو الله اپنے فضل و کرم سے آپ کو بے نیاز کر دے گا. (توبه آیه٢٨)

پوچھا : کچھ ایسے حالات میں جھوٹی خبریں پھیلا رہے ہیں جس سے لوگ پریشان اور ہمت ہار جاتے ہیں، یہ کون لوگ ہیں؟

📖 کہا: الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ وَالْمُرْجِفُونَ فِي الْمَدِينَةِ

منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے شہروں میں پریشان کن جھوٹے افواہیں پھیلاتے ہیں. (احزاب آیه ٦٠)

پوچھا : کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ وائرس عالمی استکباری طاقتوں نے اپنے حریفوں کو راستے سے ہٹانے کے لئے بنایا ہے.

📖 کہا : وَإِن تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا إِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ

اور اگر صبر و تقوی سے کام لیں ان کی سازشیں آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکتے ہیں، الله اس سب پر احاطہ رکھتا ہے جو کچھ وہ انجام دے رہے ہیں.(آل عمران آیه١٢٠)

پوچھا : آخر کار ہمیں اس تکلیف سے کون نجات دے گا؟

📖 کہا: اللَّهُ يُنَجِّيكُم مِّنْهَا وَمِن كُلِّ كَرْبٍ

الله آپ کو اس تکلیف اور ہر پریشانی سے نکال دے گا. (انعام آیه ٦٤)

🥀 🥀
Forwarded from Urdu Tahrir
پوچھا : گھروں اور قرنطینه میں محصور ہو کر رہنے والے افراد کے ساتھ کیسا سلوک کریں؟

📖 کہا: وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ

ان کے ساتھ نیکی کے ساتھ پیش آئیں. (نساء آیه١٩)

📖 وَلْيَتَلَطَّفْ
لطف و کرم کا مظاہرہ کریں.(کهف آیه ١٩)

پوچھا : ہمیں اپنے ساتھیوں کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہئے؟

📖کہا:قُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوفًا
ان کے ساتھ شائستگی کے ساتھ بات کریں.(نساء آیه٥)

پوچھا : اگر گھر میں بیٹھے بیٹھے آپس میں تو تو میں میں ہوا تو ایسے میں کیا کریں؟

📖 کہا: وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلَا تُحِبُّونَ أَن يَغْفِرَ اللَّهُ.

چاہئے کہ معاف اور درگذر کریں؛ کیا آپ نہیں چاہتے ہو کہ الله تمہیں معاف کرے؟(نور آیه ٢٢)

پوچھا : گھر میں بیٹھے بیٹھے وقت کیسے اچھی طرح گزاروں؟

📖 کہا: وَاذْكُر رَّبَّكَ كَثِيرًا وَسَبِّحْ بِالْعَشِيِّ وَالْإِبْكَارِ.

بہت زیادہ اپنے پروردگار کو یاد کرو اور صبح و شام اسکی تسبیح بجا لاو.(آل عمران آیه٤١)

📖وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ
.
https://t.me/SirfUrduTahrir/2244
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM