علوم و معارف کی تمام وادیوں کی سیر کرادی اور مرد کامل بنا دیا تو ہندوستان لوٹ جانے کا حکم دیا۔آپ فرماتے ہیں: میرے دل میں حضرت غوثِ اعظم کی زیارت کااشتیاق تھا کہ یہاں سے بغداد جاؤں گا،لیکن شیخ نے اس سےبھی منع کردیا،اور فرمایا:’’اب تمہیں یہاں رہنے یا وطن اصلی کے علاوہ دوسری جگہ جانے کی اجازت نہیں۔ حضرت غوث اعظم تمہارے ساتھ ہیں جس جگہ بھی رہو ان سے محبت اور اعتقادکے ساتھ ان کی طرف توجہ رکھو ان کی پیروی کی کوشش کرو ان کے حکم پر چلو ‘‘۔اور شیخ عبدالوہاب نے بوقت روانگی حضرت غوث پاک کا ایک پیراہن مبارک عطا کیا اور فرمایا: ’’آپ بیکار نہ بیٹھیے گا ان شاء اللہ اس طرف سے امداد انوار مسلسل ہوتی رہے گی۔ شیخ عبدالحق کا مدرسۂ علم و ارشاد: شیخ حجاز مقدس سے جب ہندوستان وارد ہوئے تو یہاں کی فضا پہلے سے بھی زیادہ خراب ہوچکی تھی۔ اکبر اور اس کے حاشیۂ نشینوں نے اپنے الحادی مشن نام نہاد دین الہیٰ کی اشاعت کھلم کھلا شروع کردی تھی۔ اسلامی شریعت اور دینی روایات کا برملا مذاق اڑایا جاتا۔ اکبر کوظلِّ اِلٰہ کہنے والوں نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا:’’مرتبۂ سلطان ِعادل عنداللہ زیادہ از مرتبۂ مجتہداست‘‘۔اس محضر کی رو سے اکبر کو معاذ اللہ پیغمبر کا درجہ دینے کی ناپاک جسارت کی گئی۔ قرآن و سنت کے احکام سے بے اعتنائی عام ہونے لگی تھی۔ عوامی زندگی اور مدارس و خانقاہ اس تحریک کے مضر اثرات سے محفوظ نہ رہ سکے۔ صوفیا نے شریعت کو طریقت سے علیحدہ کرکے اپنے غیر شرعی اعمال کا جواز تلاش کرلیا۔ علماء سوء نے فقہ کو اپنی بہانہ جو فطرت کا آلہ بنایا،اور حیلہ بازی کا وہ دور شروع ہوا کہ بقول ملا عبدالقادر بدایونی’’حِیَلِ بنی اسرائیل پیش آں شرمندہ‘‘۔ (منتخب التواریخ، ج2 ص203)۔
شیخ نے انہیں روح فرسا حالات سے متاثر ہوکر ہندوستان چھوڑا تھا کیوں کہ اس فتنہ کے تدارک کی قوت ان کے اندر موجود نہ تھی۔مگر اب وہ علوم دینی کا بیکراں سرمایہ اپنے سینے میں لےکر لوٹے تھے،اور فتنوں کی مدافعت کی بھرپورتوانائی ان کے اندر پیدا ہوچکی تھی جسے بروئے کار لاکر علم نبوت کی اشاعت باطل کی تردید اور دین حق کے احیاء کا کام لینا تھا۔چناں چہ دہلی واپس آکر 1000ھ میں حلقۂ درس قائم کیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب دین ِالہیٰ مُسلم معاشرےکو پانی لپیٹ میں لینے کے لیے زورمار رہا تھا۔ اکبر کے زیر اثر علماء سوء اور مفاد پرست صوفیوں کا ایک ایسا گروہ پیدا ہوگیا تھا جو دین کی حقیقی روح کو ختم کردینے کے لیے آمادہ تھا ایسے نازک اور پر آشوب ماحول میں حضرت شیخ نے ایسا مدرسہ قائم کیا جس نے صرف شریعت و سنت کی حقیقی روح کو اجاگر ہی نہیں کیا بلکہ باطل پرستوں کی ایسی سرکوبی کی کہ دوبارہ پنپنے کا موقع بھی نہ ملا دوسری درسگاہوں کے برخلاف اس مدرسہ میں قرآن و حدیث کو تمام علوم دینی کا مرکزی نقطۂ نظر قرار دے کر تعلیم دی جاتی تھی ۔ فنِ حدیث میں شیخ کی خدمات و کمالات کا دائرہ کافی وسیع ہے ان کا سب سے بڑا اور اہم کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے ہندوستان میں علم حدیث کو غیر معمولی فروغ دیا۔ چوں کہ شیخ کے زمانہ میں حدیث شریف سے غفلت برتی جارہی تھی اور دین کی اصل سے بے اعتنائی کا نتیجہ یہ ہوا کہ دین کی حقیقی روح ماند پڑنے لگی اپنے وقت میں شیخ نے پوری قوت کے ساتھ حدیث و سنت کی تعلیم کا بیڑا اٹھا یا اور سنت ِرسول ﷺکے ذریعہ اسلامی معاشرہ کی عروق مردہ میں روح ڈال دی۔ آپ زندگی بھر کتاب و سنت کی تعلیم دیتے رہے اور پورے ہندوستان میں آپ کی درسگاہ امتیازی شان کی مالک تھی جہاں صدہا طالب علم بیک وقت تعلیم پاتے اور شیخ کے علاوہ متعدد باصلاحیت علماء مدرس تھے اس طرح شیخ کے ہزاروں ایسے باکمال مخلص تلامذہ پیدا ہوگئے جنہوں نے شیخ کی تحریک احیاء شریعت و سنت کے آگے بڑھایا۔شیخ اپنے مدرسہ میں صرف عالم ہی پیدا نہ کرتے تھے بلکہ وہ ایسے مردمجاہد تیار کرتے جو باطل کے خلاف صف آراء ہوسکیں اور دین و شریعت کی بقاء و تحفظ کے لیے پوری عمر سرگرم عمل رہیں۔حضرت شیخ کی عبقری ذات مرجع ِ خلائق بن گئی تھی۔ آپ کے علمی و روحانی کمالات سے مستفیض ہونے کے لیے صرف عوام اور طلبہ ہی نہیں علماء و مشائخ، امراء و سلاطین بارگاہِ عالی میں حاضر ہوکر سرنیاز خم کرتے اور قدم بوسی کی سعادت حاصل کرتے۔ بادشاہ ہندوستان شاہجہاں زیارت کے لیے حاضر ہوا اور نیازمندی کا ظہار کیا۔ 1028ھ میں جب وہ کشمیر کی مہم پر روانہ ہونے لگا تو شیخ سے دعاؤں کا طالب ہوا۔اس مختصر تذکرے میں حضرت محقق کی سیرتِ پاک کا احاطہ ناممکن ہے۔
تصانیف:
حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی صرف بلند پایہ مدرس اور روحانی مربی ہی نہ تھے بلکہ وہ اپنے زمانہ کے بڑے باکمال صاحب قلم مصنف بھی تھے اور انہوں نے عمر بھر درس و تدریس کے ساتھ تصنیف و تالف کا شغل بھی جاری رکھا جس طرح وہ ہندوستان کے عظیم محدث ہیں اسی طرح وہ ممتاز مصنف بھی ہیں ان کی تصانیف کی تعداد ایک سو سے زیادہ بتائی جاتی ہے جو حدیث، تفسیر، عقائد، تصوف و اخلاق، فقہ، اعمال و اوراد،
شیخ نے انہیں روح فرسا حالات سے متاثر ہوکر ہندوستان چھوڑا تھا کیوں کہ اس فتنہ کے تدارک کی قوت ان کے اندر موجود نہ تھی۔مگر اب وہ علوم دینی کا بیکراں سرمایہ اپنے سینے میں لےکر لوٹے تھے،اور فتنوں کی مدافعت کی بھرپورتوانائی ان کے اندر پیدا ہوچکی تھی جسے بروئے کار لاکر علم نبوت کی اشاعت باطل کی تردید اور دین حق کے احیاء کا کام لینا تھا۔چناں چہ دہلی واپس آکر 1000ھ میں حلقۂ درس قائم کیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب دین ِالہیٰ مُسلم معاشرےکو پانی لپیٹ میں لینے کے لیے زورمار رہا تھا۔ اکبر کے زیر اثر علماء سوء اور مفاد پرست صوفیوں کا ایک ایسا گروہ پیدا ہوگیا تھا جو دین کی حقیقی روح کو ختم کردینے کے لیے آمادہ تھا ایسے نازک اور پر آشوب ماحول میں حضرت شیخ نے ایسا مدرسہ قائم کیا جس نے صرف شریعت و سنت کی حقیقی روح کو اجاگر ہی نہیں کیا بلکہ باطل پرستوں کی ایسی سرکوبی کی کہ دوبارہ پنپنے کا موقع بھی نہ ملا دوسری درسگاہوں کے برخلاف اس مدرسہ میں قرآن و حدیث کو تمام علوم دینی کا مرکزی نقطۂ نظر قرار دے کر تعلیم دی جاتی تھی ۔ فنِ حدیث میں شیخ کی خدمات و کمالات کا دائرہ کافی وسیع ہے ان کا سب سے بڑا اور اہم کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے ہندوستان میں علم حدیث کو غیر معمولی فروغ دیا۔ چوں کہ شیخ کے زمانہ میں حدیث شریف سے غفلت برتی جارہی تھی اور دین کی اصل سے بے اعتنائی کا نتیجہ یہ ہوا کہ دین کی حقیقی روح ماند پڑنے لگی اپنے وقت میں شیخ نے پوری قوت کے ساتھ حدیث و سنت کی تعلیم کا بیڑا اٹھا یا اور سنت ِرسول ﷺکے ذریعہ اسلامی معاشرہ کی عروق مردہ میں روح ڈال دی۔ آپ زندگی بھر کتاب و سنت کی تعلیم دیتے رہے اور پورے ہندوستان میں آپ کی درسگاہ امتیازی شان کی مالک تھی جہاں صدہا طالب علم بیک وقت تعلیم پاتے اور شیخ کے علاوہ متعدد باصلاحیت علماء مدرس تھے اس طرح شیخ کے ہزاروں ایسے باکمال مخلص تلامذہ پیدا ہوگئے جنہوں نے شیخ کی تحریک احیاء شریعت و سنت کے آگے بڑھایا۔شیخ اپنے مدرسہ میں صرف عالم ہی پیدا نہ کرتے تھے بلکہ وہ ایسے مردمجاہد تیار کرتے جو باطل کے خلاف صف آراء ہوسکیں اور دین و شریعت کی بقاء و تحفظ کے لیے پوری عمر سرگرم عمل رہیں۔حضرت شیخ کی عبقری ذات مرجع ِ خلائق بن گئی تھی۔ آپ کے علمی و روحانی کمالات سے مستفیض ہونے کے لیے صرف عوام اور طلبہ ہی نہیں علماء و مشائخ، امراء و سلاطین بارگاہِ عالی میں حاضر ہوکر سرنیاز خم کرتے اور قدم بوسی کی سعادت حاصل کرتے۔ بادشاہ ہندوستان شاہجہاں زیارت کے لیے حاضر ہوا اور نیازمندی کا ظہار کیا۔ 1028ھ میں جب وہ کشمیر کی مہم پر روانہ ہونے لگا تو شیخ سے دعاؤں کا طالب ہوا۔اس مختصر تذکرے میں حضرت محقق کی سیرتِ پاک کا احاطہ ناممکن ہے۔
تصانیف:
حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی صرف بلند پایہ مدرس اور روحانی مربی ہی نہ تھے بلکہ وہ اپنے زمانہ کے بڑے باکمال صاحب قلم مصنف بھی تھے اور انہوں نے عمر بھر درس و تدریس کے ساتھ تصنیف و تالف کا شغل بھی جاری رکھا جس طرح وہ ہندوستان کے عظیم محدث ہیں اسی طرح وہ ممتاز مصنف بھی ہیں ان کی تصانیف کی تعداد ایک سو سے زیادہ بتائی جاتی ہے جو حدیث، تفسیر، عقائد، تصوف و اخلاق، فقہ، اعمال و اوراد،
❤1
منطق و فلسفہ، تاریخ، سیرو تذکرہ، نحو ادب کا احاطہ کرتی ہیں۔ بالخصوص علم ِ حدیث کے حوالےسےجو خدمات ہیں وہ رہتی دنیا تک یاد رکھی جائیں گی۔ آپ کی تعلیمات آپ کی کتب سے عیاں ہیں۔آپ کی کتب سے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ فی زمانہ اکابرین کےنقش قدم پر کون عمل پیرا ہے۔
تصانیف:
اجازۃ الحدیث فی القدیم والحدیث اجوبۃ اثنا عشر فی توجیہ الصلاۃ علٰی سیّد البشر احوال ائمۃ اثنا عشر خلاصۂ اولاد سیّد البشر اخبار الاخیار فی احوال الابرار آداب الصالحین آداب اللباس آداب المطالعۃ والمناظرۃ (مثنوی) اسمآء الاستاذین اسمآء الرجال والرواۃ المذکورین فی کتاب المشکٰوۃ اشعۃ اللمعات فی شرح المشکٰوۃ افکار الصافیۃ فی ترجمۃ کتاب الکافیۃ انتخاب المثنوی المولوی المعنوی انوار الجلیۃ فی احوال مشائخ الشاذلیۃ بناء المرفوع فی ترصیص مباحث الموضوع تحصیل التعرّف فی معرفۃ الفقہ والتصوّف تحصیل الغنآئم والبرکات بہ تفسیر سورۃ والعادیت تحقیق الاشارۃ الٰی تعمیم البشارۃ ترجمۃ الاحادیث الاربعین فی نصیحۃ الملوک والسلاطین ترجمۃ زبدۃ الآثار منتخب بہجۃ الاسرار ترغیب اہل السعادات علٰی تکثیر الصلاۃ علٰی سیّد الکائنات تسلیۃ المصاب لنیل الاجر والثواب تعلیق الحاوی علٰی تفسیر البیضاوی تکمیل الایمان وتقویۃ الایقان تنبیہ العارف بما وقع فی العوارف توصیل المرید الی المراد بہ بیان الاحزاب والاوراد جامع البرکات منتخب شرح المشکٰوۃ جمع الاحادیث الاربعین فی ابواب علوم الدین جواب بعض کلمات شیخ احمد سرہندی حاشیۃ الفوائد الضیائیۃ حسن الاشعار فی جمع الاشعار(دیوان) درۃ البھیۃ فی اختصار الرسالۃ الشمسیۃ درۃ الفرید فی قواعد التجوید ذکر ملوک (تاریخ سلاطین ہند) رسالۂ شبِ برات رسالۂ صلاۃ الاسرار رسالۂ عقد انامل رسالۂ نورانیہ سلطانیہ رسالۂ اقسام حدیث رسالۂ وجودیہ رسالۂ وظائف زاد المتقین زبدۃ الآثار منتخب بہجۃ الاسرار شرح سفرالسعادت شرح شمسیہ شرح صدور تفسیر اٰیت النور شرح فتوح الغیب شرح القصیدۃ الجزریۃ صحیفۃ المودّۃ فتح المنّان فی تائید مذھب النعمان فصول الخطب فھرس التوالیف (تالیف قلب الالیف) لمعات التنقیح فی شرح مشکٰوۃ المصابیح ما ثبت بالسُّنّۃ فی ایّام السَّنۃ مدارج النبوۃ مرج البحرین مطلب الاعلٰی فی شرح اسمآء اللہ مطلع الانوار البھیۃ فی الحلیۃ النبویۃ نکات الحق والحقیقت نکات العشق والمحبّت وصیت نامہ ھدایۃ المناسک الٰی طریق المناسک ـ
تاریخِ وصال:
21 ربیع الاول 1052ھ مطابق 19 جون 1642ء، بروز جمعرات کو آفتابِ علم ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا مگر اس کی علمی شعائیں صبح قیامت تک تابندہ رہیں گی۔ حوضِ شمسی (دہلی) کے قریب مقبرہ میں دفن ہوئے۔مزار پاک زیارت گاہِ عوام و خواص ہے۔
ماخذ و مراجع:
محدثینِ عظام حیات و خدمات ۔ شیخ عبد الحق محدث دہلوی موضوعاتی مطالعہ ۔ زاد المتقین ۔ اخبار الاخیار ۔ منتخب التواریخ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-abdul-haq-muhaddith-dehlvi
تصانیف:
اجازۃ الحدیث فی القدیم والحدیث اجوبۃ اثنا عشر فی توجیہ الصلاۃ علٰی سیّد البشر احوال ائمۃ اثنا عشر خلاصۂ اولاد سیّد البشر اخبار الاخیار فی احوال الابرار آداب الصالحین آداب اللباس آداب المطالعۃ والمناظرۃ (مثنوی) اسمآء الاستاذین اسمآء الرجال والرواۃ المذکورین فی کتاب المشکٰوۃ اشعۃ اللمعات فی شرح المشکٰوۃ افکار الصافیۃ فی ترجمۃ کتاب الکافیۃ انتخاب المثنوی المولوی المعنوی انوار الجلیۃ فی احوال مشائخ الشاذلیۃ بناء المرفوع فی ترصیص مباحث الموضوع تحصیل التعرّف فی معرفۃ الفقہ والتصوّف تحصیل الغنآئم والبرکات بہ تفسیر سورۃ والعادیت تحقیق الاشارۃ الٰی تعمیم البشارۃ ترجمۃ الاحادیث الاربعین فی نصیحۃ الملوک والسلاطین ترجمۃ زبدۃ الآثار منتخب بہجۃ الاسرار ترغیب اہل السعادات علٰی تکثیر الصلاۃ علٰی سیّد الکائنات تسلیۃ المصاب لنیل الاجر والثواب تعلیق الحاوی علٰی تفسیر البیضاوی تکمیل الایمان وتقویۃ الایقان تنبیہ العارف بما وقع فی العوارف توصیل المرید الی المراد بہ بیان الاحزاب والاوراد جامع البرکات منتخب شرح المشکٰوۃ جمع الاحادیث الاربعین فی ابواب علوم الدین جواب بعض کلمات شیخ احمد سرہندی حاشیۃ الفوائد الضیائیۃ حسن الاشعار فی جمع الاشعار(دیوان) درۃ البھیۃ فی اختصار الرسالۃ الشمسیۃ درۃ الفرید فی قواعد التجوید ذکر ملوک (تاریخ سلاطین ہند) رسالۂ شبِ برات رسالۂ صلاۃ الاسرار رسالۂ عقد انامل رسالۂ نورانیہ سلطانیہ رسالۂ اقسام حدیث رسالۂ وجودیہ رسالۂ وظائف زاد المتقین زبدۃ الآثار منتخب بہجۃ الاسرار شرح سفرالسعادت شرح شمسیہ شرح صدور تفسیر اٰیت النور شرح فتوح الغیب شرح القصیدۃ الجزریۃ صحیفۃ المودّۃ فتح المنّان فی تائید مذھب النعمان فصول الخطب فھرس التوالیف (تالیف قلب الالیف) لمعات التنقیح فی شرح مشکٰوۃ المصابیح ما ثبت بالسُّنّۃ فی ایّام السَّنۃ مدارج النبوۃ مرج البحرین مطلب الاعلٰی فی شرح اسمآء اللہ مطلع الانوار البھیۃ فی الحلیۃ النبویۃ نکات الحق والحقیقت نکات العشق والمحبّت وصیت نامہ ھدایۃ المناسک الٰی طریق المناسک ـ
تاریخِ وصال:
21 ربیع الاول 1052ھ مطابق 19 جون 1642ء، بروز جمعرات کو آفتابِ علم ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا مگر اس کی علمی شعائیں صبح قیامت تک تابندہ رہیں گی۔ حوضِ شمسی (دہلی) کے قریب مقبرہ میں دفن ہوئے۔مزار پاک زیارت گاہِ عوام و خواص ہے۔
ماخذ و مراجع:
محدثینِ عظام حیات و خدمات ۔ شیخ عبد الحق محدث دہلوی موضوعاتی مطالعہ ۔ زاد المتقین ۔ اخبار الاخیار ۔ منتخب التواریخ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-abdul-haq-muhaddith-dehlvi
scholars.pk
Hazrat Shah Abdul Haq Muhaddith Dehlvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
20-03-1445 ᴴ | 06-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
21-03-1445 ᴴ | 07-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
21-03-1445 ᴴ | 07-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
21-03-1445 ᴴ | 07-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1