🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
20-03-1445 ᴴ | 06-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
20-03-1445 ᴴ | 06-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت مولانا شاہ عبد الرحیم ( جد اعلیٰ، شاہ عبد السلام جبل پوری )

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
حضرت مولانا شاہ محمد عبد الرحیم ۔ آپ مولانا شاہ محمد عبد الرحمن کے والد اور حضرت مولانا شاہ محمد عبد الکریم نقشبندی قادری کے جد امجد، اور خلیفۂ اعلیٰ حضرت حضرت مولانا شاہ محمد عبد السلام جبل پوری کے جد امجد ہیں ۔ علیہم الرحمہ ـ

آپ کا سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا شاہ محمد عبد الرحیم بن مولانا شاہ محمد عبد اللہ بن مولانا شاہ محمد فتح بن مولانا شاہ محمد ناصر بن مولانا شاہ محمد عبد الوہاب صدیقی طائفی ۔ علیہم الرحمہ ـ

آپ کا خاندانی تعلق حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے ۔ آپ کے جدِّ اعلیٰ حضرت شاہ عبد الوہاب صدیقی علیہ الرحمہ سلطنتِ آصفیہ کے دورِ حکومت میں نواب صلابت جنگ بہادر کے ساتھ طائف سے ہندوستان تشریف لائے، اور حیدر آباد دکن میں سکونت اختیار کی ۔ یہاں حکومتِ آصفیہ کی جانب سے مکہ مسجد کی امامت اور محکمۂ مذہبی امور کے جلیل القدر عہدے پر مامور ہوئے ۔

آپ کے خاندان میں مسلسل پانچ پشتوں میں پانچویں آصف جاہ کے زمانے تک برابر اس مذہبی منصب پر فائز رہے ۔ (برہانِ ملت کی حیات و خدمات، ص:18)

سیرت و خصائص:
حضرت مولانا شاہ محمد عبد الرحیم اپنے وقت کےجید عالم دین اور عارف باللہ تھے ۔ سلطنتِ آصفیہ میں اس خاندان کے آخری مذہبی امور کے وزیر آپ تھے ۔ آپ پر یہ سلسلہ ختم ہو گیا ۔ 1264ھ / مطابق 1848ء میں حکومتِ آصفیہ کے خاندان میں کچھ برسر اقتدار افراد میں شیعہ (رافضی) مذہب و عقیدے کے دخل کے سبب پہلی بار حکومتِ آصفیہ میں اعلانیہ تبراء (صحابہ کرام اور بالخصوص خلفاءِ ثلاثہ، اور امہات المؤمنین پر سب شتم بکنے کو تبرّاء کہتے ہیں) ہوا ۔ جس سے ایک عظیم فتنہ پیدا ہوا ۔

اس فتنے کے خلاف اور سد باب کے لئے علمِ جہاد بلند کیا گیا ۔ مذہبی امور کےقاضیِ شرع، مفتیِ شہر اور تمام علماء اہل سنت اور جملہ آئمۂ مساجد نے مکہ مسجد میں جمع تبراء بند کیے جانے کا مطالبہ کیا ۔ لیکن حکومت کی حکمتِ عملی کے سبب اسی وقت عام بلوا ہو گیا ۔ مگر علماءِ اہل سنت اپنے مطالبے پر قائم رہے ۔

بالآخر علماء اہل سنت کے سامنے حکومت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گئی ۔ اعلانیہ تبراء کا سد باب ہوا ۔ لیکن علماء اہل سنت کا یہ اتحاد اور عوام پر ان کا اعتماد اربابِ حکومت کو ناگوار گزرا، اور وہ علماء اہل سنت کے در پئے آزار ہو گئے ۔ علماء کےاثر و اقتدار اور قوم کے جاں نثارانہ اعتماد کی بناء پر وہ فوری طور پر علماء اہل سنت کا تو کچھ نہ بگاڑ سکے، مگر اندر ہی اندر سازشوں میں مصروف ہو گئے ۔

مختلف طریقوں سے ان کا استحصال جاری رہا، اور حکمتِ عملی کے ساتھ دھیرے دھیرے علماء حق کی جگہ ابن الوقت اور علماءِ سوء نے موقع سے فائدہ اٹھا کر رواج پانا شروع کر دیا ۔ جوحکومت کے اشاروں پر ان کے مقاصد کو پورا کرنے لگے ۔ اس زمانے میں حضرت مولانا شاہ محمد عبد الرحیم علیہ الرحمہ مکہ مسجد کی امامت پر مامور تھے ۔ مذہبی وزارت کا منصب بھی آپ کے سپرد تھا ۔ آپ اربابِ حکومت کے طرزِ فکر، اور ان کی سازشوں اور علماءِ سوء کے باطل حیلوں سے بخوبی واقف ہو گئے تھے ۔ انہوں نے اپنی عمر شریف کے آخری ایام میں اپنے بیٹے مولانا شاہ محمد عبد الرحمن اور پوتے مولانا شاہ محمد عبد الکریم (والد حضرت عبد الاسلام) کو نصیحت و وصیت فرمائی کہ:

’’ اب اپنے خاندانِ صدیقی کے کسی بھی فرد کو حکومتِ حیدر آباد دکن کی طرف سے کوئی بھی دینی مذہبی دنیاوی عہدہ پیش ہو ۔ اسے ہر گز قبول نہ کیا جائے، کیونکہ حاکمِ وقت کے خاندان اور اقتدار کی کرسیوں پر بیٹھے افراد کے عقیدے متزلزل اور خراب ہوتے جا رہے ہیں، اور اب تو صورت حال یہ ہے کہ اصلاح کی بھی کوئی گنجائش نظر نہیں آ رہی ہے ۔ لہٰذا ضروری ہے کہ دنیاوی جاہ و حشمت کو چھوڑ کر اپنے دین و مذہب اور عقیدے کی حفاظت کی خاطر اس حکومت کے اثر اور حاکمِ وقت سے دوری ہی پر عمل پیرا رہنا ہر حال میں بہتر ہوگا ۔ اور ذریعۂ معاش کی کوئی دوسری راہ متعین کر لینے میں بھلائی ہوگی‘‘ ۔ ( برہانِ ملت کی حیات و خدمات، ص: 19)

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-abdul-rahim
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
حضرت مولانا شاہ عبد الرحیم ( جد اعلیٰ، شاہ عبد السلام جبل پوری ) نام و نسب: اسمِ گرامی: حضرت مولانا شاہ محمد عبد الرحیم ۔ آپ مولانا شاہ محمد عبد الرحمن کے والد اور حضرت مولانا شاہ محمد عبد الکریم نقشبندی قادری کے جد امجد، اور خلیفۂ اعلیٰ حضرت حضرت مولانا…
مولانا شاہ عبد الرحیم صدیقی 🌹
آپ کا سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا شاہ محمد عبد الرحیم بن مولانا شاہ محمد عبد اللہ بن مولانا شاہ محمد فتح بن مولانا شاہ محمد ناصر بن مولانا شاہ محمد عبد الوہاب صدیقی طائفی ۔ علیہم الرحمہ ـ
https://t.me/islaamic_Knowledge/60915
آپ کے پوتے مولانا شاہ عبد الکریم
ان کا سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا شاہ محمد عبد الکریم قادری نقشبندی بن مولانا شاہ محمد عبد الرحمٰن بن مولانا شاہ محمد عبد الرحیم بن مولانا شاہ محمد عبد اللہ بن مولانا شاہ محمد فتح بن مولانا شاہ محمد ناصر بن مولانا شاہ محمد عبد الوہاب صدیقی طائفی ۔ علیہم الرحمۃ والرضوان ۔
https://t.me/islaamic_Knowledge/48384
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
جامع ظاہر و باطن حضرت علامہ غلام نبی للہی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

اسمِ گرامی:
آپ کا اسمِ گرامی غلام نبی للّٰہی ابن حضرت مولانا قاضی غلا حسین تھا ۔

تاریخِ ولادت:
حضرت مولانا غلام نبی للّٰہی 1234ھ میں للہ شریف, ضلع جہلم میں پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
مولانا غلام نبی للہی رحمۃ اللہ علیہ نے صرف نحو کی کتب کے علاوہ میر قطبی، شرح وقایہ اور خیالی وغیرہ اپنے والد ماجد اور بعض دیگر علماء سے پڑھیں، بعد ازاں علامۃ العصر حضرت مولانا محمد احسن المعروف بہ حافظ دراز رحمہ اللہ تعالیٰ سے پشاور میں تحصیل و تکمیل کی ۔

بیعت و خلافت:
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت مولانا خواجہ غلام محی الدین قصوری دائم الحضوری کے دست اقدس پر بیعت ہوئے ۔ حضرت خواجہ قصوری نے توجہ فرما کر مختصر سے عرصہ میں مقامات مجددیہ طے کرادئے اور خلعت خلافت سے سر فراز فرمایا ۔

سیرت و خصائص:
غلام نبی للّٰہی ابن حضرت مولانا قاضی غلا حسین جامع ظاہر و باطن تھے ۔ حضرت خواجہ قصوری رحمہ اللہ تعالیٰ کے وصال کے بعد آپ نے للہ شریف میں خلق خد اکی اصلاح و ہدایت اور علم ظاہری و باطنی کی اشاعت شروع کی ۔ تکمیل علم کے بعد وطن واپس آ کر درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا ۔ اسی آپ کی کی خدمت میں ۷۰،۸۰ طلبہ حاضر رہا کرتے تھے ـ

آپ مبتدی اور منتہی طلبہ کو یکساں توجہ والتفات سے پڑھاتے تھے جو کتاب بھی زیرِ درس ہوتی اس کے شروح بھی سامنے رکھ لیتے اور انہیں ملاحظہ فرماتے جاتے تھے حتی کہ سکندر نامہ اور زلیخا کی شرح بھی سامنے رکھ لیا کرتے تھے ۔ طلبہ کے طعام، کتب اور دیگر ضروریا ت کا آپ خود انتظام فرماتے ، پہلے طلبہ کے لئے گھر سے کھانا بھیجواتے اور خود بعد میں کھایا کرتے تھے ۔

آپ علیہ الرحمہ اپنے تمام اوراد و وظائف پابندی اور اطمینان سے ادا کرتے ۔ آپ کے مزاج اقدس میں تکبر غرور نام کو نہ تھا ، حد درجہ منکسر المزاج تھے ۔ ایک دفعہ کسی جگہ تشریف لے گئے ، لوگ استقبال کے لئے حاضر ہوئے اور پیچھے پیچھے چلنے لگے، آپ نے فرمایا ایسے ہجوم پر فخر نہیں کرنا چاہئے، اگر کوئی بند ریا یچھ والا کسی گاؤں میں آنا ہے تو لوگ اس کے پیچھے بھی ہو جاتے ہیں ۔

تاریخِ وصال:
مولانا غلام نبی للہی رحمۃ اللہ علیہ نے 21 ربیع الاول 1307ھ / بمطابق نومبر 1889 ء مؤذن کو اذان کہنے کا حکم دیا، آپ اذان کا جواب دیتے رہے، جب مؤذن نے کہا ’’ اشہد ان لا الہ الا اللہ ‘‘ اس وقت آپ کی روح قس عنصری سے پرواز کر گئی ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہلسنت ـ

https://scholars.pk/ur/scholar/zubdatul-kamileen-hazrat-allama-molana-ghulam-nabi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت علامہ مولانا محب احمد قادری بدایونی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

اسم گرامی:
پورا نام عبد الرسول محب احمد ہے ـ

ولادت ، تعلیم اور بیعت:
بدایوں میں ولادت ہوئی، اور تعلیم پائی، حضرت تاج الفحول مولانا شاہ عبد القادر بدایونی کے شاگرد خاص، حضرت سیف اللہ المسلول مولانا شاہ معین الحق فضل رسول قدس سرہٗ کے مرید تھے، حضرت استاذ العلماء مولانا شاہ نور احمد بد ایونی سے بھی اخذ علوم کیا ـ

آپ علیہ الرحمہ کا کبار علمائے ہند میں شمار ہوتا تھا، تدریس میں خصوصی سلیقہ تھا، مارہرہ شریف کے مدرسہ خانقاہ میں بھی کچھ عرصہ درس دیا، یہاں حضرت مولانا شاہ مخدوم ابو الحسین احمد نوری قدس سرہٗ سجادہ نشین خانقاہ برکاتیہ سے خصوصی طور پر تحصیل علم کی ـ

مولانا حکیم شاہ عبد القیوم بدایونی قدس سرہٗ نے ۱۳۱۷ھ میں جب جامع شمسی میں مدرسہ شمس العلوم قائم کیا، تو آپ اس کے صدر مدرس قرار پائے، پٹنہ کے مشہور اجلاس ۱۳۱۸ھ میں رضا کارانہ طور پر شرکت کی، تردیدی دین نجدی وہابی میں اپنے استاذ حضرت تاج الفحول کے قدم بہ قدم تھے کئی کتابیں رد وہابیہ دیوبندیہ میں تالیف کیں، رد آریہ میں ‘‘ حدوث و قدم ’’ اور ‘‘ التناسخ ’’ نامی رسالے لکھے، عمر طبعی پائی ـ

وصال:
۲۱ ربیع الآخر ۱۳۴۱ھ ۱۹۲۲ء میں فوت ہوئے، درگاہ قادری کے قبرستان میں دفن کیے گئے ۔

مشہور شاگرد:
مولانا شاہ عبد الماجد مولانا شاہ عبد القدیر بدایونی وغیرہ علمائے اکابر آپ کے تلمیذ و شاگرد تھے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-mohib-ahmed-qadri-badayuni
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت علامہ مفتی عبد الہادی چانڈیو رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

ولادت:
مولانا مفتی محمد عبد الہادی بن مولانا حکیم الحاج مفتی محمد عبد الحق چانڈیو یکم جمادی الاول ۱۳۱۷ھ مطابق ۳ جون ۱۸۹۷ء بروز سوموار گوٹھ راوتسر ( تحصیل چھا چھر و ضلع تھر پار کر سندھ ) میں تولد ہوئے ۔

تعلیم و تربیت:
اسلامی تعلیم و تربیت کیلئے والد صاحب نے صاحبزادے کو اپنے مدرسہ مظہر الحق والہدایہ راوتسر میں داخل کر لیا ۔ مفتی عبد الہادی نے اپنے والد بزرگوار مفتی عبد الحق ، مولانا محمد امین گوہر ساند ، مولانا عبد الحکیم درس وغیرہ کی خدمت میں رہ کر تعلیم و تربیت حاصل کی ۔

مولانا مفتی عبد الہادی نہایت ذکی ذہین تھے دوران تعلیم پوری توجہ تعلیم کی جانب تھی، اس لئے جلد ہی کتابیں پوری کر لیں اور ۲۷ رجب المرجب ۱۳۴۲ھ / ۱۹۲۴ء کو ایک عظیم الشان جلسہ دستار فضیلت مدرسہ مظہر الحق والہدایہ کی جانب سے راوٗ تسر میں منعقد ہوا، جس میں سندھ کے نامور جید علماء و ممتاز خطباء نے شرکت کی اور دیگر طلباء کے ساتھ مولانا مفتی محمد عبد الہادی کی دستار فضیلت ہوئی ۔

دستار کا پہلا پیچ تھر کی نامور علمی شخصیت مولانا محمد عثمان قرانی مجددی نے باندھا تھا ۔ اس کے بعد مولانا عبدالہادی نے مسلم اسکول راوتسر سے پرائمری کی تعلیم حاصل کی اور جائنل کی تیاری شروع کی اور مٹھی ( ضلع تھر پار کر کا صدر مقام ) سے فائنل کا امتحان پاس کیا ۔

درس و تدریس:
مولانا مفتی عبدالہادی بعد فراغت مادر علمی میں مدرس مقرر ہوئے اور زندگی بھر درس و تدریس کا مشغلہ جاری رکھا ۔ اس طرح تھر جیسے پسماندہ علاقہ میں علم دین کو فروغ ملا ۔ درس کے بعد اکثر وقت کتب بنیی میں صرف کرتے تھے ۔

سفر حج:
مولانا صاحب ۱۳۵۵ھ / ۱۹۳۷ء میں حج بیت اللہ اور روضۂ رسول کریم ﷺ کی زیارت کی سعادت حاصل کی ۔ سفر حج میں حاجی الہہ دتہ مہران پوتہ ، حاجی یار محمد ٹالھی، حاجی مقیم میمن ٹالھی رفیق سفر تھے ۔ آپ نے دوران حج و منیٰ میں امام انقلاب ، حر تحریک کے سپہ سالار ، شیخ طریقت حضرت پیر سید صبغت اللہ شاہ ثانی راشدی شہید قدس سرہ سے شرف ملاقات و زیارت کی ۔

مدینہ منورہ میں جامعہ مدینہ کے شیخ سے ملاقات کی علمی مجلس قائم ہوئی ، شیخ نے آپ کے تجر علمی کی تعریف کی اور سند حدیث عطا فرمائی ۔

صدمے:
حج شریف سے واپسی ہوئی تو اپنے معمول کے مطابق دار العلوم میں تدریس کا مشغلہ جاری رکھا ۔ ۱۳ شعبان المعظم ۱۳۵۸ھ میں والد صاحب کا انتقال ہوا ۔پدری شفقت سے محروم ہو گئے ۔ والد صاحب کے انتقال کے بعد تمام کام کی ذمہ داریاں آپ پر عائد ہوئیں ۔ آپ نے والد صاحب کے تمام کام جاری رکھے اور صحیح جانشین ثابت ہوئے ۔

آپ علیہ الرحمہ پہلے صدمہ سے ابھی سنھبلنے نہ پائے تھے کہ بڑے بیٹے مولانا احمد علی اصغر کا ۱۹ جمادی الاول ۱۳۶۰ھ میں انتقال ہوا ۔

تیسرا صدمہ مولانا مفتی عبد الہادی کو ۱۹۷۱ء کی جنگ میں ملا کہ مال اسباب ، مسجد ، مدرسہ ، گھر ، کتب خانہ ، پریس ، دوا خانہ ، ہینڈ پمپ اور ڈاک خانہ وغیرہ دینی ور فاہی اداروں کو شدید نقصان پہنچا ۔ جنگ کے بعد مفتی عبد الہادی نے دو بارہ ان کی تعمیر و ترقی پر توجہ دی ۔

خدمات:
والد صاحب کے انتقال کے بعد مفتی عبد الہادی نے دوسرے نمبر بیٹے مولانا حاجی محمد عالم اور پوتے مولانا حاجی عبد الحق کی تعلیم و تربیت پر خاص توجہ دی ۔

بہت سارے کام آپ کے ذمہ تھے مثلاً:
تین اسکول کے ہیڈ معلم ، دار العلوم کے مہتمم ، دوا سازی ، امامت ، خطابت ، شرعی فیصلے ، فتاویٰ نویسی ، ڈاک خانہ ، مطب اور دیگر رفاعی و سماجی خدمات سر انجام دیں ۔ اپنے والد مرحوم کی طرح خدمت کے جذبہ سے سر شار تھے ، تعمیری سوچ کے حامل تھے ، ملت کی ترقی کے لئے بہت کچھ کرنے کا حوصلہ رکھتے تھے ۔

مولوی آباد کا قیام:
ایک روز راوٗ تسر کی تمام ذمہ داریاں اپنے صاحبزادے مولانا محمد عالم کے سپرد کر کے خود گوٹھ ہیرار گئے ( جو کہ آپ کا آبائی علاقہ تھا لیکن رہائش نہ ہوئی تھی ) ۔ آپ کے والد مرحوم کی خواہش تھی کہ گوٹھ ہیرار کے قریب ایک نئی بستی آباد کی جائے اس لئے والد کی خواہش کو پورا کرنے کے لئے ’’ گوٹھ مولوی آباد ‘‘ قائم کیا ۔ گوٹھ کی تعمیر و ترقی کے لئے اپنے خرچہ پر ایک کنواں کھدوایا ۔ مسجد و مدرسہ کی بنیاد رکھی اور برانچ پوسٹ آفس قائم کروائی ۔ گوٹھ کی چوڑی گلیاں اور آب نکاسی کا بہترین نظام قائم کیا اور درخت لگوائے ۔ مسجد شریف و مدرسہ کے لئے معلم مقرر کئے ۔ تھوڑے عر صہ میں گوٹھ آباد ہو گیا اور مولوی آباد میں بھی اسلام کی تعلیم کا چرچہ ہونے لگا ۔ اس کے بعد اپنے گوٹھ راوتسر واپس آ گئے ۔
تصنیف و تالیف:
بے شمار مصروفیات کے باوجود تصنیف کی جانب بھی توجہ دی ۔ درج ذیل تصنیف آپ کی یاد گار ہیں ۔

٭ فتاویٰ ھادیہ دو جلدیں
٭ وصیت نامہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی کے عربی وصیت نامہ کا سندھی ترجمہ

عبادت:
مولانا عبد الہادی چانڈیو نے سن بلوغت سے لے کر آخر عمر تک زاہد پرہیز گار رہے ۔ نماز پنج گانہ ، تہجد ، اشراق ، چاشت ، اوابین کے نوافل ، تلاوت کلام پاک اور دلائل الخیرات شریف کا ورد بلانا غہ جاری رکھا ۔ رات کا اکثر حصہ عبادت میں گذارتے تھے ، سواری پر بھی ذکر اذکار جاری رکھتے تھے، دعا کرتے وقت اکثر گریہ فرماتے تھے ۔ (سہ ماہی مہران ۱۹۹۵ئ)

مفتی عبدالہادی اور ان کے والد ماجد دلائل الخیرات شریف کے عامل تھے اس لئے اس کتاب سے ایک حدیث شریف تبر کا نقل کرتا ہوں :

عرض کی گئی رسول اللہ ﷺ سے ، کیا آپ جانتے ہیں انہیںجو آپ پر درود بھیجتے ہیں ، جو آپ سے غائب ہیں اور جو آئیں گے آپ کے بعد ، ان دو گروہوں کاحال کیسا ہے ، آپ کے نزدیک ؟

فقال اسمع صلوۃ اھل محبتی و اعر فھم و تعرض علی صلوۃ غیرھم عرضا ۔

آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں سنتا ہوں محبت سے درود و سلام پیش کرتے ہیں حضو ر انور ﷺ ان کا درود و سلام یہاں کا خودوہاں سماعت فرماتے ہیں اور درودو سلام پڑھنے والوں کو پہچانتے ہیں ۔ معلوم ہوا آپ ﷺ دور سے سنتے ہیں ، غیب کا علم رکھتے ہیں اور دنیا بھر میں بسنے والے اپنے غلاموں کو جانتے پہچانتے ہیں ۔ یہی مفتی عبد الہادی چانڈیو کا مسلک تھا ۔

دور و نزدیک کے سننے والے وہ کان
کان لعل کرامت پہ لاکھوں سلام
( حدائق بخشش )

شاعری:
مولانا عبدالہادی سخی مرد ، مہمان نواز، حلیم طبع ، کم گو ، حاذق حکیم تھے ، مفت علاج کرتے تھے ۔ دینی طبی فیوض و برکات لٹاتے تھے، مفتی تھے دور دراز علاقہ سے لوگ الجھے ہوئے مسائل کو سلجھا نے کیلئے آپ کے حضور میں آتے تھے ۔ حافظہ کی قوت کا اس سے اندازہ کریں کہ کتاب کا نامباب صفحہ اور سطر تک بتا دیتے تھے ۔ تھر پار کر ، عمر کوٹ اور میر پور خاص اضلاع سے عوام و خواص علمی مسائل میں آپ کی ہی جانب رجوع کرتے تھے ۔ ان تمام خوبیوں کے ساتھ ساتھ حضور پر نور ﷺ کی محبت میں سر شاردل رکھتے تھے، حضور ﷺ کے ثناء خواں و نعت گو شاعر تھے ۔ آپ کی شاعری حمد ، نعت ، مولود ، مناجات ، منقبت پر مشتمل ہے۔ اکثر شاعری دیگر قلمی ذخیرہ کتب کے ساتھ ۱۹۷۱ء کی جنگ میں تباہ ہو گیا۔ اناللہ وانا الیہ راجعون

اولاد:
مولانا مفتی عبدالہادی کو دو بیٹے تولد ہوئے۔ بڑے بیٹے مولانا احمد علی اصغر کا جوانی میں لاولد انتقال ہوا ۔ دوسرے بیٹے مولانا حاجی محمد عالم مدرسہ مظہر الحق والہدایہ راوتسر کے مدرس و مہتمم ہیں ۔

وصال:
مفتی عبد الہادی ہفتہ علالت میں گذار کر ۸۲سال کی عمر میں ۱۹، فروری ۱۹۷۹ء بمطابق ۲۱، ربیع الاول شریف ۱۳۹۹ھ سو موار کی شب داعی اجل کو لبیک کہہ کر حقیقی محبوب سے جا ملے ۔ گوٹھ راو تسر کے قبرستان میں والد ماجد کے پہلو میں دفن کئے گئے ، جہاں آپ کی مزار شریف ہے ۔

سن رحلت فقیر عبدالہادی
مشرف شد بلطف جود ہادی
۱۳۹۹ھ

( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-mufti-abdul-hadi-chandio
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1