🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
اَللّٰهُمَّ عَافِنِیۡ فِیۡ بَــدَنِیۡ اَللّٰهُمَّ عَافِنِیۡ فِیۡ سَمۡعِیۡ اَللّٰهُمَّ عَافِنِیۡ فِیۡ بَصَرِیۡ لَآ اِلٰـهَ اِلَّآ اَنۡـتَ صبح و شام تینتین مرتبہ یہ پڑهیں إِنۡشَاءَاللّٰه ﷻ کرونا وائرس اور بہت ساری بیماریوں سے حفاظت رہےگی! 📖 سنن…
وائرس سے بچیں اور بچائیں
✍ مفتی نظام الدین اشرفیہ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
कोरोना वायरस = क्रोना वाइरस
से बचने की दुआ़ Urdu + Hindi
کرونا وائرس سے بچنے کی دعا
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
✍ مفتی نظام الدین اشرفیہ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
कोरोना वायरस = क्रोना वाइरस
से बचने की दुआ़ Urdu + Hindi
کرونا وائرس سے بچنے کی دعا
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from ◆❍ نقوشِ حدیث ❍◆
https://youtu.be/q2rQGjkA2EM
ـــــــ کرونا وائرس کے ڈر سے مسجدیں بند کرنا کیسا ہے؟
ـــــــ حدیث :صلوا فی رحالکم ــ أوــ بیوتکم کا پس منظر اور اس سے استدلال کی جہتیں کیا ہیں.؟
ـــــــ احتیاطی تدابیر کیا اپنائی جائیں.؟
ـــــــ ـــــــ ـــــــ ـــــــ ـــــــ
جانئیے :
محقق مسائل جديدہ، سراج الفقہاء، مفتی اعظم حضرت مفتی محمد نظام الدین رضوی حفظہ اللہ تعالیٰ کی زبان سے.
ـــــــ کرونا وائرس کے ڈر سے مسجدیں بند کرنا کیسا ہے؟
ـــــــ حدیث :صلوا فی رحالکم ــ أوــ بیوتکم کا پس منظر اور اس سے استدلال کی جہتیں کیا ہیں.؟
ـــــــ احتیاطی تدابیر کیا اپنائی جائیں.؟
ـــــــ ـــــــ ـــــــ ـــــــ ـــــــ
جانئیے :
محقق مسائل جديدہ، سراج الفقہاء، مفتی اعظم حضرت مفتی محمد نظام الدین رضوی حفظہ اللہ تعالیٰ کی زبان سے.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Deleted Account
اسلام علیکم بخاری شریف کی حدیث ہے لاعدوی وفرالمجذوم کما تفر من الاسد کی مکمل تشریح دلائل کے ساتھ اور فی زماننا اسکا کیا حکم ہے مفتی بہ قول بتاؤ
Forwarded from فیضان سرور مصباحی
*"کیا کرونا وائرس کے مریض کے پاس جانے سے بیماری اڑ کر لگ جائے گی ؟"*
⚡⚡⚡⚡⚡⚡⚡⚡⚡⚡
تحریر: *ذیشان ضیا مصباحی*
----------------------------------------
خادم التدریس : مرکز اہل سنت، دار العلوم فیض رضا، شاہین نگر حیدرآباد (دکن)
20/رجب المرجب 1441ھ
Gmail:
z.ziyamisbahi@gmail.com
Mobile:
9151450079
آج جب کہ ہر چہار جانب *کرونا وائرس* کی وبا عام ہوتی چلی جارہی ہے، دو چار ملک نہیں بلکہ پوری دنیا اس کی وجہ سے بے چینی اور اضطراب کے عالم میں اپنی زندگی کے شب و روز بسر کر رہی ہے، کیوں کہ کرونا وائرس جو چین سے شروع ہوا تھا اب سو سے زائد ملکوں تک پھیل چکا ہے پوری دنیا میں ایک ملین سے زائد لوگ اس سے متاثر ہیں۔ اور تقریباً پانچ ہزار لوگوں کی اموات ہوچکی ہیں۔
ایسے ماحول میں *کرونا وائرس* کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی لوگوں کے مابین بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے کہ *کرونا وائرس* کے مریض سے اختلاط یعنی میل جول سے وہ بیماری لگ جاتی ہے۔
*شرعی نقطۂ نظر* سے یہ بات کہاں تک درست و صحیح ہے آئیے اس کا جائزہ لیتے ہیں۔
*کسی بیماری کا اڑ کر کسی تندرست وتوانا کو لگ جانا محض خیالِ باطل ہے ، مذہب اسلام میں اس کی کوئی حقیقت نہیں۔*
صحیح البخاری میں ہے:
*حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَغَيْرُهُ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَال: لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ ، وَلَا هَامَةَ ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا بَالُ إِبِلِي تَكُونُ فِي الرَّمْلِ كَأَنَّهَا الظِّبَاءُ فَيَأْتِي الْبَعِيرُ الْأَجْرَبُ فَيَدْخُلُ بَيْنَهَا فَيُجْرِبُهَا ، فَقَالَ : فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ ، رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، وَسِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ.*
[صحیح البخاری۔ باب: لا عدوی الحدیث: 5717]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نےارشاد فرمایا: بیماریوں کے متعدی ہونے یعنی ایک کی بیماری اڑ کر دوسرے کو لگ جانے، صفر اور الّو کی نحوست کی کوئی اصل نہیں، اس پر ایک اعرابی بولا: کہ یا رسول اللہ! پھر میرے اونٹوں کو کیا ہو گیا کہ وہ جب تک ریگستان میں رہتے ہیں تو ہرنوں کی طرح ( صاف اور خوب چکنے ) رہتے ہیں پھر ان میں ایک خارش والا اونٹ آ جاتا ہے اور ان میں گھس کر انہیں بھی خارش زدہ کر جاتا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا: لیکن یہ بتاؤ کہ پہلے اونٹ کو کس نے خارش لگائی تھی؟ اس کی روایت امام زہری نے ابوسلمہ اور سنان بن ابی سنان کے واسطہ سے کی ہے۔
یہ حدیث صحیح بخاری کے علاوہ متعدد طرق سے مختلف الفاظ کے ساتھ کثیر کتب احادیث میں وارد ہوئی ہے۔
مذکورہ حدیث پاک میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ واضح فرمادیا کہ جس طرح پہلے اونٹ کو اللہ تعالیٰ کی مشیت سے خارش لگی اسی طرح دیگر اونٹوں کو بھی اللہ تعالیٰ کی مشیت ہی سے خارش لگی ایسا نہیں کہ ایک اونٹ کی بیماری (خارش) دوسرے اونٹوں کو اڑ کر لگی ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب بیماری متعدی نہیں ہوتی، یعنی ایک کی بیماری اڑکر دوسرے کو نہیں لگتی تو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس ارشاد : *"فر من المجذوم فرارک من الاسد"* [المسند للامام احمد بن حنبل 9683 ج: 9،ص: 292 دار الحدیث القاھرہ] کا کیا مطلب ہے؟ جس سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ ایک کی بیماری اڑ کر دوسرے کو لگتی ہے کیوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں کوڑھ کے مرض میں مبتلا شخص سے اس طرح دور بھاگنے کا حکم دیا جیسا کہ آدمی شیر سے بھاگتا ہے ۔
اس سلسے میں کہا جائے گا یہ حدیث یا تو منسوخ ہے اور اس کی ناسخ وہ احادیث ہیں جن میں بیماری کے متعدی ہونے کی نفی کی گئی ہے۔
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں امام قاضی عیاض سے منقول ہے:
" *ذھب عمر رضی اللہ عنہ و جماعۃ من السلف الی الاکل معہ وان الامر باجتنابہ منسوخ* "
[ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری، کتاب الطب / باب الطیرۃ ،ج:21، ص: 367 دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور سلف کی ایک جماعت اس جانب گئی ہے کہ جذامی کے ساتھ کھانے میں حرج نہیں اور اس سے احتیاط و احتراز کا حکم منسوخ ہے۔
یا دونوں حدیثوں میں تطبیق و توفیق دی جائے گی۔
وہ یوں کہ حدیث: لا عدوی الخ کو اس کے اصلی معنی پر رکھا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یقینا کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی اور جو جذامی (کوڑھ) کے مریض سے بھاگنے کا حکم دیا گیا ہے تو وہ اس لیے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی اس مریض کے پاس جائے اور بیماری اللہ کی مرضی اور تقدیر سے اس کو لگ جائے تو شی
⚡⚡⚡⚡⚡⚡⚡⚡⚡⚡
تحریر: *ذیشان ضیا مصباحی*
----------------------------------------
خادم التدریس : مرکز اہل سنت، دار العلوم فیض رضا، شاہین نگر حیدرآباد (دکن)
20/رجب المرجب 1441ھ
Gmail:
z.ziyamisbahi@gmail.com
Mobile:
9151450079
آج جب کہ ہر چہار جانب *کرونا وائرس* کی وبا عام ہوتی چلی جارہی ہے، دو چار ملک نہیں بلکہ پوری دنیا اس کی وجہ سے بے چینی اور اضطراب کے عالم میں اپنی زندگی کے شب و روز بسر کر رہی ہے، کیوں کہ کرونا وائرس جو چین سے شروع ہوا تھا اب سو سے زائد ملکوں تک پھیل چکا ہے پوری دنیا میں ایک ملین سے زائد لوگ اس سے متاثر ہیں۔ اور تقریباً پانچ ہزار لوگوں کی اموات ہوچکی ہیں۔
ایسے ماحول میں *کرونا وائرس* کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی لوگوں کے مابین بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے کہ *کرونا وائرس* کے مریض سے اختلاط یعنی میل جول سے وہ بیماری لگ جاتی ہے۔
*شرعی نقطۂ نظر* سے یہ بات کہاں تک درست و صحیح ہے آئیے اس کا جائزہ لیتے ہیں۔
*کسی بیماری کا اڑ کر کسی تندرست وتوانا کو لگ جانا محض خیالِ باطل ہے ، مذہب اسلام میں اس کی کوئی حقیقت نہیں۔*
صحیح البخاری میں ہے:
*حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَغَيْرُهُ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَال: لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ ، وَلَا هَامَةَ ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا بَالُ إِبِلِي تَكُونُ فِي الرَّمْلِ كَأَنَّهَا الظِّبَاءُ فَيَأْتِي الْبَعِيرُ الْأَجْرَبُ فَيَدْخُلُ بَيْنَهَا فَيُجْرِبُهَا ، فَقَالَ : فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ ، رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، وَسِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ.*
[صحیح البخاری۔ باب: لا عدوی الحدیث: 5717]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نےارشاد فرمایا: بیماریوں کے متعدی ہونے یعنی ایک کی بیماری اڑ کر دوسرے کو لگ جانے، صفر اور الّو کی نحوست کی کوئی اصل نہیں، اس پر ایک اعرابی بولا: کہ یا رسول اللہ! پھر میرے اونٹوں کو کیا ہو گیا کہ وہ جب تک ریگستان میں رہتے ہیں تو ہرنوں کی طرح ( صاف اور خوب چکنے ) رہتے ہیں پھر ان میں ایک خارش والا اونٹ آ جاتا ہے اور ان میں گھس کر انہیں بھی خارش زدہ کر جاتا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا: لیکن یہ بتاؤ کہ پہلے اونٹ کو کس نے خارش لگائی تھی؟ اس کی روایت امام زہری نے ابوسلمہ اور سنان بن ابی سنان کے واسطہ سے کی ہے۔
یہ حدیث صحیح بخاری کے علاوہ متعدد طرق سے مختلف الفاظ کے ساتھ کثیر کتب احادیث میں وارد ہوئی ہے۔
مذکورہ حدیث پاک میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ واضح فرمادیا کہ جس طرح پہلے اونٹ کو اللہ تعالیٰ کی مشیت سے خارش لگی اسی طرح دیگر اونٹوں کو بھی اللہ تعالیٰ کی مشیت ہی سے خارش لگی ایسا نہیں کہ ایک اونٹ کی بیماری (خارش) دوسرے اونٹوں کو اڑ کر لگی ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب بیماری متعدی نہیں ہوتی، یعنی ایک کی بیماری اڑکر دوسرے کو نہیں لگتی تو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس ارشاد : *"فر من المجذوم فرارک من الاسد"* [المسند للامام احمد بن حنبل 9683 ج: 9،ص: 292 دار الحدیث القاھرہ] کا کیا مطلب ہے؟ جس سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ ایک کی بیماری اڑ کر دوسرے کو لگتی ہے کیوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں کوڑھ کے مرض میں مبتلا شخص سے اس طرح دور بھاگنے کا حکم دیا جیسا کہ آدمی شیر سے بھاگتا ہے ۔
اس سلسے میں کہا جائے گا یہ حدیث یا تو منسوخ ہے اور اس کی ناسخ وہ احادیث ہیں جن میں بیماری کے متعدی ہونے کی نفی کی گئی ہے۔
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں امام قاضی عیاض سے منقول ہے:
" *ذھب عمر رضی اللہ عنہ و جماعۃ من السلف الی الاکل معہ وان الامر باجتنابہ منسوخ* "
[ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری، کتاب الطب / باب الطیرۃ ،ج:21، ص: 367 دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور سلف کی ایک جماعت اس جانب گئی ہے کہ جذامی کے ساتھ کھانے میں حرج نہیں اور اس سے احتیاط و احتراز کا حکم منسوخ ہے۔
یا دونوں حدیثوں میں تطبیق و توفیق دی جائے گی۔
وہ یوں کہ حدیث: لا عدوی الخ کو اس کے اصلی معنی پر رکھا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یقینا کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی اور جو جذامی (کوڑھ) کے مریض سے بھاگنے کا حکم دیا گیا ہے تو وہ اس لیے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی اس مریض کے پاس جائے اور بیماری اللہ کی مرضی اور تقدیر سے اس کو لگ جائے تو شی
Forwarded from فیضان سرور مصباحی
طان اس کے دل میں وسوسہ ڈالے گا کہ اختلاطِ مریض (مریض سے ملنے جلنے) کی وجہ سے بیماری لگی ہے جب کہ معاملہ ایسا نہیں ہے تو اس طرح اس کا عقیدہ خراب ہوگا، یعنی فسادِ عقیدہ سے بچانے کے لیے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم فرمایا، اس وجہ سے نہیں کہ ایک کی بیماری اڑ کر دوسرے کو لگتی ہے۔
نزہۃ النظر میں ہے:
*الاولیٰ فی الجمع أن یقال ان نفیہ صلی اللہ علیہ وسلم للعدوی باق علی عمومہ و قد صح قولہ صلی اللہ علیہ وسلم : لا یعدی شئی شیئا وقولہ فمن اعدی الأول یعنی ان اللہ سبحانہ و تعالیٰ ابتدأہ ذلک فی الثانی کما ابتدأہ فی الاول۔۔۔و اما الأمر بالفرار من المجذوم فمن باب سد الذرائع لئلا یتفق للشخص الذی یخالطہ شئی من ذلک بقدر اللہ تعالی ابتدا لا بالعدوی المنفیۃ فیظن ان ذلک بسبب مخالطۃ فیعتقد صحۃ العدوی فیقع فی الحرج فأمر بتجنبہ حسما للمادۃ۔*
[ نزہۃ النظر ، ص: 43_44 دار الفکر بیروت لبنان]
دونوں حدیثوں کے درمیان تطبیق کی بہتر صورت یہ ہے کہ کہا جائے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تعدیہ ( ایک کی بیماری اڑ کر دوسرے کو لگنے ) کی نفی فرمائی ہے وہ اپنے عموم پر باقی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح روایت ہے کہ *کسی چیز کا تعدیہ نہیں ہوتا* اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ *پہلے کو کس نے پہنچایا* (اس شخص کا رد کرتے ہوئے جس نے آپ سے سوال کیا تھا کہ جب خارشی اونٹ مل جاتا ہے تو تندرست کو بھی خارشی بنا دیتا ہے) یعنی اللہ تعالیٰ نے دوسرے کو اسی طرح خارشی کیا جس طرح اس نے پہلے کو ابتداء کیا تھا۔
رہا مجذوم سے فرار کا حکم تو وہ اسباب کا دروازہ بند کرنے کی قبیل سے ہے تاکہ اختلاط کرنے والے شخص کو اس مرض میں سے کچھ اتفاقا ہوجائے، جو کہ اللہ کی تقدیر سے ہو نہ کہ تعدیہ کی وجہ سے تو وہ یہ گمان نہ کرے کہ اس اختلاط سے ہوا اور وہ یہ عقیدہ رکھ لے کہ مرض متعدی ہوتا ہے اور وہ حرج میں پڑ جائے۔
پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عادۃً جاری شدہ کی بنیاد کو ختم کرنے کے لیے احتیاط کا حکم دیا۔
فتح الباری میں ہے:
*کانت الجاھلیۃ تعتقدہ أن الامراض تعدی بطبعھا من غیر اضافۃ الی اللہ فابطل النبی صلی اللہ علیہ وسلم اعتقادھم ذلک واکل مع المجزوم لییبین لھم ان اللہ ھو الذی یمرض و یشفی*
[فتح الباری شرح صحیح البخاری ،ج: 13، ص:99 کتاب الطب/ باب الجذام ، مکتبہ دار طیبہ ،ریاض]
زمانۂ جاہلیت کے لوگ اعتقاد رکھتے تھے کہ امراض اپنی طبیعت کے اعتبار سے مُتَعَدِّی ہوتے ہیں اور وہ ان کی نسبت اللّٰہ تعالٰی کی طرف نہیں کرتے تھے، لہذا نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ وسلَّم نے ان کے اعتقاد کو باطل قرار دیا اور مجذوم کے ساتھ کھانا کھایا تا کہ آپ ان کے لیے واضح فرمادیں کہ اللہ تعالیٰ ہی بیمار کرتا ہے اور شفا دیتا ہے۔
معلوم ہوا کہ بیماری اڑکر نہیں لگتی بلکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی تقدیر کا دخل ہے۔
اور اگر بیماری متعدی ہوتی تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین۔ جذام و برص وغیرہ میں مبتلا مریض کے پاس نہ جاتے اور ان کے ساتھ کھانے، پینے اور ہم کلام ہونے کا معاملہ نہ فرماتے کہ یہ اپنے آپ کو بلا پر پیش کرنا ہے جو شرعاً جائز نہیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
*وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ۔*
[القرآن الکریم ،سورۃ البقرہ:2، الآیۃ: 195]
اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو( کنز الایمان)
حالاں کہ کثیر روایتوں سے ایسے مریضوں کے ساتھ ان کا مذکورہ معاملات فرمانا ثابت ہے۔
جمع الجوامع میں ہے
*عن جابر ان رسول اللہ ﷺ أخذ بید رجل مجذوم فأقعدہ معہ فقال کل ثقۃ باللہ وتوکلا علیہ۔*
[جمع الجوامع ج: 1، ص: 229،الحديث 10348 دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جذامی کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ بٹھایا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ پر توکل اور بھروسہ کرتے ہوئے کھاؤ۔
مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے :
*حدثنا ابو بکر قال حدثنا وکیع عن سفیان عن عبد الرحمن بن القاسم عن ابیہ قال: قدم علی ابی بکر وفد من ثقیف، فاتی بطعام فدنا القوم ، و تنحی رجل بہ ھذا الداء یعنی الجذام فقال لہ ابو بکر ادنہ فدنا فقال :کل فأکل وجعل ابو بکر وضع یدہ موضع یدہ*
[المصنف لابن أبی شیبہ ج: 5،ص:141 الحدیث24525 دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان]
حضرت عبد الرحمن بن قاسم کے والد روایت کرتے ہیں کہ امیر المومنین سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے دربار میں قبیلہ ثقیف کا ایک وفد آیا،(ان کے لیے) کھانا حاضر لایا گیا وہ نزدیک آئے مگر ایک صاحب کہ اس مرض (جذام) میں مبتلا تھے الگ ہوگئے۔ صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قریب آؤ! قریب آئے فرمایا: کھانا کھاؤ! تو انہوں نے کھایا حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ( کھانے کے دوران) اپنا دست مبارک اس جگہ رکھ رہے تھے جہاں وہ
نزہۃ النظر میں ہے:
*الاولیٰ فی الجمع أن یقال ان نفیہ صلی اللہ علیہ وسلم للعدوی باق علی عمومہ و قد صح قولہ صلی اللہ علیہ وسلم : لا یعدی شئی شیئا وقولہ فمن اعدی الأول یعنی ان اللہ سبحانہ و تعالیٰ ابتدأہ ذلک فی الثانی کما ابتدأہ فی الاول۔۔۔و اما الأمر بالفرار من المجذوم فمن باب سد الذرائع لئلا یتفق للشخص الذی یخالطہ شئی من ذلک بقدر اللہ تعالی ابتدا لا بالعدوی المنفیۃ فیظن ان ذلک بسبب مخالطۃ فیعتقد صحۃ العدوی فیقع فی الحرج فأمر بتجنبہ حسما للمادۃ۔*
[ نزہۃ النظر ، ص: 43_44 دار الفکر بیروت لبنان]
دونوں حدیثوں کے درمیان تطبیق کی بہتر صورت یہ ہے کہ کہا جائے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تعدیہ ( ایک کی بیماری اڑ کر دوسرے کو لگنے ) کی نفی فرمائی ہے وہ اپنے عموم پر باقی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح روایت ہے کہ *کسی چیز کا تعدیہ نہیں ہوتا* اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ *پہلے کو کس نے پہنچایا* (اس شخص کا رد کرتے ہوئے جس نے آپ سے سوال کیا تھا کہ جب خارشی اونٹ مل جاتا ہے تو تندرست کو بھی خارشی بنا دیتا ہے) یعنی اللہ تعالیٰ نے دوسرے کو اسی طرح خارشی کیا جس طرح اس نے پہلے کو ابتداء کیا تھا۔
رہا مجذوم سے فرار کا حکم تو وہ اسباب کا دروازہ بند کرنے کی قبیل سے ہے تاکہ اختلاط کرنے والے شخص کو اس مرض میں سے کچھ اتفاقا ہوجائے، جو کہ اللہ کی تقدیر سے ہو نہ کہ تعدیہ کی وجہ سے تو وہ یہ گمان نہ کرے کہ اس اختلاط سے ہوا اور وہ یہ عقیدہ رکھ لے کہ مرض متعدی ہوتا ہے اور وہ حرج میں پڑ جائے۔
پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عادۃً جاری شدہ کی بنیاد کو ختم کرنے کے لیے احتیاط کا حکم دیا۔
فتح الباری میں ہے:
*کانت الجاھلیۃ تعتقدہ أن الامراض تعدی بطبعھا من غیر اضافۃ الی اللہ فابطل النبی صلی اللہ علیہ وسلم اعتقادھم ذلک واکل مع المجزوم لییبین لھم ان اللہ ھو الذی یمرض و یشفی*
[فتح الباری شرح صحیح البخاری ،ج: 13، ص:99 کتاب الطب/ باب الجذام ، مکتبہ دار طیبہ ،ریاض]
زمانۂ جاہلیت کے لوگ اعتقاد رکھتے تھے کہ امراض اپنی طبیعت کے اعتبار سے مُتَعَدِّی ہوتے ہیں اور وہ ان کی نسبت اللّٰہ تعالٰی کی طرف نہیں کرتے تھے، لہذا نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ وسلَّم نے ان کے اعتقاد کو باطل قرار دیا اور مجذوم کے ساتھ کھانا کھایا تا کہ آپ ان کے لیے واضح فرمادیں کہ اللہ تعالیٰ ہی بیمار کرتا ہے اور شفا دیتا ہے۔
معلوم ہوا کہ بیماری اڑکر نہیں لگتی بلکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی تقدیر کا دخل ہے۔
اور اگر بیماری متعدی ہوتی تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین۔ جذام و برص وغیرہ میں مبتلا مریض کے پاس نہ جاتے اور ان کے ساتھ کھانے، پینے اور ہم کلام ہونے کا معاملہ نہ فرماتے کہ یہ اپنے آپ کو بلا پر پیش کرنا ہے جو شرعاً جائز نہیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
*وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ۔*
[القرآن الکریم ،سورۃ البقرہ:2، الآیۃ: 195]
اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو( کنز الایمان)
حالاں کہ کثیر روایتوں سے ایسے مریضوں کے ساتھ ان کا مذکورہ معاملات فرمانا ثابت ہے۔
جمع الجوامع میں ہے
*عن جابر ان رسول اللہ ﷺ أخذ بید رجل مجذوم فأقعدہ معہ فقال کل ثقۃ باللہ وتوکلا علیہ۔*
[جمع الجوامع ج: 1، ص: 229،الحديث 10348 دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جذامی کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ بٹھایا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ پر توکل اور بھروسہ کرتے ہوئے کھاؤ۔
مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے :
*حدثنا ابو بکر قال حدثنا وکیع عن سفیان عن عبد الرحمن بن القاسم عن ابیہ قال: قدم علی ابی بکر وفد من ثقیف، فاتی بطعام فدنا القوم ، و تنحی رجل بہ ھذا الداء یعنی الجذام فقال لہ ابو بکر ادنہ فدنا فقال :کل فأکل وجعل ابو بکر وضع یدہ موضع یدہ*
[المصنف لابن أبی شیبہ ج: 5،ص:141 الحدیث24525 دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان]
حضرت عبد الرحمن بن قاسم کے والد روایت کرتے ہیں کہ امیر المومنین سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے دربار میں قبیلہ ثقیف کا ایک وفد آیا،(ان کے لیے) کھانا حاضر لایا گیا وہ نزدیک آئے مگر ایک صاحب کہ اس مرض (جذام) میں مبتلا تھے الگ ہوگئے۔ صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قریب آؤ! قریب آئے فرمایا: کھانا کھاؤ! تو انہوں نے کھایا حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ( کھانے کے دوران) اپنا دست مبارک اس جگہ رکھ رہے تھے جہاں وہ
Forwarded from فیضان سرور مصباحی
جذامی رکھ رہے تھے۔
طبقات ابن سعد میں ہے:
*عن صالح بن کیسان قال: قال ابو زیاد حدثنی خارجہ بن زید أن عمر بن الخطاب دعاھم لغداء فھابوا وکان فیھم معیقیب و کان بہ جذام فأ کل معیقیب معھم فقال لہ عمر خذ مما یلیک و من شقک ، فلو کان غیرک مااٰ کلنی فی صفحۃ ، ہلکان بینی وبینہ قید رمح*
[کتاب الطبقات الکبیر لابن سعد ج:4،ص: 110-111 مکتبہ الخانجی القاھرہ]
حضرت خارجہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے صبح کو کچھ لوگوں کی دعوت کی؛ جن میں معیقیب رضی اللہ عنہ بھی تھے جن کے ساتھ جذام کا مرض تھا وہ سب کے ساتھ کھانے میں شریک کیے گئے اور امیر المومنین نے ان سے فرمایا: اپنے قریب سے اپنی طرف سے لیجیے اگر آپ کے سوا کوئی اور اس مرض کا ہوتا تو میرے ساتھ ایک پلیٹ میں نہ کھاتا اور مجھ میں اور اس میں ایک نیزے کا فاصلہ ہوتا۔
خلاصہ یہ کہ کسی مریض کے پاس جانے سے اس کی بیماری اڑ کر نہیں لگتی۔
لیکن اگر کوئی ضعیف الیقین(کمزور عقیدے والا ) کسی کرونا وائرس کے مریض کے پاس گیا اور اللہ کی تقدیر سے کچھ مرض ہوگیا تو شیطان اس کے دل میں وسوسہ ڈالے گا کہ یہ بیماری اڑ کر لگی ہے اگر نہ جاتا تو نہ لگتی۔ اور یہ وسوسہ بہت خطرناک چیز ہے۔
اس لیے ضعیف الاعتقاد آدمی کا ایسے مریض سے دور رہنا بہتر ہے۔
ہاں جو کامل الیقین (پختہ عقیدے والے) ہیں وہ اگر ایسے مریض کے پاس جائیں تو حرج نہیں۔
فتاویٰ رضویہ میں ہے:
*(جذامی سے بھاگنے کا حکم ہے)* *اس دور اندیشی سے کہ مبادا کچھ پیدا ہو اور ابلیس لعین وسوسہ ڈالے کہ دیکھ بیماری اڑ کر لگ گئی اور اب معاذاللہ اس امر کی حقیقت اس کے خطرہ میں گزرے گی جسے مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم باطل فرما چکے ، یہ اس مرض سے بھی بد تر مرض ہوگا ان وجوہ سے شرع حکیم و رحیم نے ضعیف الیقین لوگوں کو حکم استحبابی دیا ہے کہ اس سے دور رہیں۔*
*اور کا مل الایمان بندگانِ خدا کے لیے کچھ حرج نہیں کہ وہ ان سب مفاسد سے پاک ہیں۔ خوب سمجھ لیا جائے کہ دور ہونے کا حکم ان حکمتوں کی وجہ سے ہے نہ یہ کہ معاذ اللہ بیماری اڑ کر لگ جائے گی اسے تو اللہ و رسول رد فرما چکے جل جلالہ و صلی اللہ علیہ وسلم۔*
[ فتاویٰ رضویہ ،ج: 16،ص: 747، 748، ]
پھر ضعیف الاعتقاد کو جو مریض سے دور رہنے کا حکم دیا گیا ہے وہ استحبابی ہے، اس کی وجہ سے کسی واجب کو نہیں چھوڑا جائے گا۔ مثلا: کسی کو کوئی مہلک بیماری لگی اور اسے اس کے اولاد و اقارب و زوجہ چھوڑ کر چلے جائیں یہ ہرگز جائز نہیں ہے۔
فتاوی رضویہ میں ہے :
*پھر ازاں جاکہ یہ ایک استحبابی حکم ہے واجب نہیں ہر گز کسی واجب شرعی کا معارضہ نہ کرے گا۔ مثلا: معاذ اللہ جسے یہ عارضہ ہو اس کے اولاد و اقارب و زوجہ سب اس احتیاط کے باعث اس سے دور بھاگیں اور اسے تنہا و ضائع چھوڑ دیں یہ ہرگز حلال نہیں۔*
[المرجع السابق]
تفصیل کے لیے اعلی حضرت علیہ الرحمہ کے رسالہ *الحق المجتلی فی حکم المبتلی* کا مطالعہ فرمائیں۔
واضح رہے کہ ماقبل میں ہم نے جو باتیں پیش کی ہیں وہ عین بیماری کے متعدی ہونے کے بارے میں ہے۔
رہا بیماری کے جراثیم کا متعدی ہونا یعنی ایک کی بیماری کے جراثیم کا اڑ کر دوسرے کو لگنا۔ تو ہماری شریعت اسلامیہ اس کی مخالف نہیں ہے۔
اور آج کی میڈیکل سائنس کا بھی یہی کہنا ہے کہ جراثیمِ امراض ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے ہیں اور ایک مریض کے جراثیم دوسرے میں بیماری کا سبب بنتے ہیں۔ نہ یہ کہ مرض متعدی اور منتقل ہوتا ہے کہ وہ تو ایک کیفیت کا نام ہے جس کے اندر انتقال کی صلاحیت ہی نہیں ہوتی ہے ۔
ہم یہاں اتنا اور واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اگر ایک مریض کے جراثیم اڑ کر کسی دوسرے کو لگ جائیں تو کوئی ضروری نہیں کہ اسے بھی وہ بیماری لگ جائے،جب تک اللہ تعالیٰ کی مرضی نہ ہو ایک دو کیا کروڑو جراثیم کچھ اثر نہ کریں گے۔
حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی-رحمہ اللہ علیہ- رقم طراز ہیں:
*"مرض کا اُڑ کر لگنا باطل ہے مگر یہ ہوسکتا ہے کہ کسی بیمار کے پاس کی ہوا متعفن ہو اور جس کے جسم میں اس بیماری کا مادہ ہو وہ اس تَعَفُّنْ سے اثر لے کر بیمار ہوجائے اس معنیٰ سے تَعَدِّی ہوسکتی ہے"*
[مرأۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح، ج: 6، ص:219، باب الفال والطیرۃ، نعیمی کتب خانہ گجرات]
طبقات ابن سعد میں ہے:
*عن صالح بن کیسان قال: قال ابو زیاد حدثنی خارجہ بن زید أن عمر بن الخطاب دعاھم لغداء فھابوا وکان فیھم معیقیب و کان بہ جذام فأ کل معیقیب معھم فقال لہ عمر خذ مما یلیک و من شقک ، فلو کان غیرک مااٰ کلنی فی صفحۃ ، ہلکان بینی وبینہ قید رمح*
[کتاب الطبقات الکبیر لابن سعد ج:4،ص: 110-111 مکتبہ الخانجی القاھرہ]
حضرت خارجہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے صبح کو کچھ لوگوں کی دعوت کی؛ جن میں معیقیب رضی اللہ عنہ بھی تھے جن کے ساتھ جذام کا مرض تھا وہ سب کے ساتھ کھانے میں شریک کیے گئے اور امیر المومنین نے ان سے فرمایا: اپنے قریب سے اپنی طرف سے لیجیے اگر آپ کے سوا کوئی اور اس مرض کا ہوتا تو میرے ساتھ ایک پلیٹ میں نہ کھاتا اور مجھ میں اور اس میں ایک نیزے کا فاصلہ ہوتا۔
خلاصہ یہ کہ کسی مریض کے پاس جانے سے اس کی بیماری اڑ کر نہیں لگتی۔
لیکن اگر کوئی ضعیف الیقین(کمزور عقیدے والا ) کسی کرونا وائرس کے مریض کے پاس گیا اور اللہ کی تقدیر سے کچھ مرض ہوگیا تو شیطان اس کے دل میں وسوسہ ڈالے گا کہ یہ بیماری اڑ کر لگی ہے اگر نہ جاتا تو نہ لگتی۔ اور یہ وسوسہ بہت خطرناک چیز ہے۔
اس لیے ضعیف الاعتقاد آدمی کا ایسے مریض سے دور رہنا بہتر ہے۔
ہاں جو کامل الیقین (پختہ عقیدے والے) ہیں وہ اگر ایسے مریض کے پاس جائیں تو حرج نہیں۔
فتاویٰ رضویہ میں ہے:
*(جذامی سے بھاگنے کا حکم ہے)* *اس دور اندیشی سے کہ مبادا کچھ پیدا ہو اور ابلیس لعین وسوسہ ڈالے کہ دیکھ بیماری اڑ کر لگ گئی اور اب معاذاللہ اس امر کی حقیقت اس کے خطرہ میں گزرے گی جسے مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم باطل فرما چکے ، یہ اس مرض سے بھی بد تر مرض ہوگا ان وجوہ سے شرع حکیم و رحیم نے ضعیف الیقین لوگوں کو حکم استحبابی دیا ہے کہ اس سے دور رہیں۔*
*اور کا مل الایمان بندگانِ خدا کے لیے کچھ حرج نہیں کہ وہ ان سب مفاسد سے پاک ہیں۔ خوب سمجھ لیا جائے کہ دور ہونے کا حکم ان حکمتوں کی وجہ سے ہے نہ یہ کہ معاذ اللہ بیماری اڑ کر لگ جائے گی اسے تو اللہ و رسول رد فرما چکے جل جلالہ و صلی اللہ علیہ وسلم۔*
[ فتاویٰ رضویہ ،ج: 16،ص: 747، 748، ]
پھر ضعیف الاعتقاد کو جو مریض سے دور رہنے کا حکم دیا گیا ہے وہ استحبابی ہے، اس کی وجہ سے کسی واجب کو نہیں چھوڑا جائے گا۔ مثلا: کسی کو کوئی مہلک بیماری لگی اور اسے اس کے اولاد و اقارب و زوجہ چھوڑ کر چلے جائیں یہ ہرگز جائز نہیں ہے۔
فتاوی رضویہ میں ہے :
*پھر ازاں جاکہ یہ ایک استحبابی حکم ہے واجب نہیں ہر گز کسی واجب شرعی کا معارضہ نہ کرے گا۔ مثلا: معاذ اللہ جسے یہ عارضہ ہو اس کے اولاد و اقارب و زوجہ سب اس احتیاط کے باعث اس سے دور بھاگیں اور اسے تنہا و ضائع چھوڑ دیں یہ ہرگز حلال نہیں۔*
[المرجع السابق]
تفصیل کے لیے اعلی حضرت علیہ الرحمہ کے رسالہ *الحق المجتلی فی حکم المبتلی* کا مطالعہ فرمائیں۔
واضح رہے کہ ماقبل میں ہم نے جو باتیں پیش کی ہیں وہ عین بیماری کے متعدی ہونے کے بارے میں ہے۔
رہا بیماری کے جراثیم کا متعدی ہونا یعنی ایک کی بیماری کے جراثیم کا اڑ کر دوسرے کو لگنا۔ تو ہماری شریعت اسلامیہ اس کی مخالف نہیں ہے۔
اور آج کی میڈیکل سائنس کا بھی یہی کہنا ہے کہ جراثیمِ امراض ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے ہیں اور ایک مریض کے جراثیم دوسرے میں بیماری کا سبب بنتے ہیں۔ نہ یہ کہ مرض متعدی اور منتقل ہوتا ہے کہ وہ تو ایک کیفیت کا نام ہے جس کے اندر انتقال کی صلاحیت ہی نہیں ہوتی ہے ۔
ہم یہاں اتنا اور واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اگر ایک مریض کے جراثیم اڑ کر کسی دوسرے کو لگ جائیں تو کوئی ضروری نہیں کہ اسے بھی وہ بیماری لگ جائے،جب تک اللہ تعالیٰ کی مرضی نہ ہو ایک دو کیا کروڑو جراثیم کچھ اثر نہ کریں گے۔
حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی-رحمہ اللہ علیہ- رقم طراز ہیں:
*"مرض کا اُڑ کر لگنا باطل ہے مگر یہ ہوسکتا ہے کہ کسی بیمار کے پاس کی ہوا متعفن ہو اور جس کے جسم میں اس بیماری کا مادہ ہو وہ اس تَعَفُّنْ سے اثر لے کر بیمار ہوجائے اس معنیٰ سے تَعَدِّی ہوسکتی ہے"*
[مرأۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح، ج: 6، ص:219، باب الفال والطیرۃ، نعیمی کتب خانہ گجرات]
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from عتیق الرحمن رضوی
⚡ *ظالم کون؟؟*⚡
📍 *کرونا یا کسی وبا سے ڈر کر مسلمانوں کو مساجد سے روکنے والے غور کریں*
اللہ تبارک و تعالی سورۃ البقرۃ آیت نمبر 114 میں فرماتا ہے:
*وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَاؕ-اُولٰٓىٕكَ مَا كَانَ لَهُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْهَاۤ اِلَّا خَآىٕفِیْنَ۬ؕ-لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ*
💥 *اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ کی مسجدوں کو روکے ان میں نامِ خدا لئے جانے سے اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے ان کو نہ پہنچتا تھا کہ مسجدوں میں جائیں مگر ڈرتے ہوئے ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لئے آخرت میں بڑا عذاب۔*💥
اللہ پاک ہمیں شعور و فکر عطا فرمائے، کرونا اور ہر قسم کی آفات، بلیات اور وبائی امراض سے اپنا حفظ و امان عطا فرمائے، ہم سب کو مساجد کے آباد کرنے والوں میں رکھے.
آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم و بحق الغوث الاعظم محی الدین رضی اللہ عنہ
📩 ترسیل: 📩
ابوسِنان عتیق الرحمٰن رضوی،مالیگاؤں
📍 *کرونا یا کسی وبا سے ڈر کر مسلمانوں کو مساجد سے روکنے والے غور کریں*
اللہ تبارک و تعالی سورۃ البقرۃ آیت نمبر 114 میں فرماتا ہے:
*وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَاؕ-اُولٰٓىٕكَ مَا كَانَ لَهُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْهَاۤ اِلَّا خَآىٕفِیْنَ۬ؕ-لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ*
💥 *اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ کی مسجدوں کو روکے ان میں نامِ خدا لئے جانے سے اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے ان کو نہ پہنچتا تھا کہ مسجدوں میں جائیں مگر ڈرتے ہوئے ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لئے آخرت میں بڑا عذاب۔*💥
اللہ پاک ہمیں شعور و فکر عطا فرمائے، کرونا اور ہر قسم کی آفات، بلیات اور وبائی امراض سے اپنا حفظ و امان عطا فرمائے، ہم سب کو مساجد کے آباد کرنے والوں میں رکھے.
آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم و بحق الغوث الاعظم محی الدین رضی اللہ عنہ
📩 ترسیل: 📩
ابوسِنان عتیق الرحمٰن رضوی،مالیگاؤں
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Urdu Tahrir (Irfan Attari)
دنیا اس وقت جس عالمی وبا یعنی کورونا وائرس کی لپیٹ میں ہے۔ ہر ممکن احتیاطی تدابیر اپنائی جا رہی ہیں۔ اللہ کریم ﷻ سے دعائیں مانگی جا رہی ہیں۔ اور توبہ و استغفار کی جا رہی ہے۔
کیونکہ وبا و بلا و عذاب میں اذان دینا ایک مستحب امر جو اللہ کریم ﷻ کے غضب کو دور کرتا ہے لہذا مسلمان اپنے اپنے علاقوں میں اللہ کی توحید اور نبی کریم ﷺ کی رسالت کی گواہی اذان کے ذریعے بلند کر رہے ہیں۔
ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جو خود کو مسلمان کہتا ہے وہ اس عمل کو نہ صرف سراہتا بلکہ دعا کرتا کہ اللہ کریم ﷻ اپنے اس ذکر(یعنی اذان) کے صدقے اس وباء کو ٹال دے۔
میں ان حالات میں اس چیز پر گفتگو نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن افسوس کیساتھ کچھ لوگوں نے اذان دینے والے مسلمانوں پر فتویٰ بازی شروع کر دی اور یہ کہنا شروع کر دیا کہ معاذ اللہ وباء میں اذنیں دینا جہالت ہے ، بدعت ہے اور بدعتی جہمنی ہے۔ وبا میں اذنیں دینا ثابت نہیں۔ تو آئیے ملاحظہ کیجئے۔ کہ جب وباء عذاب کی صورت میں آ جائے تو اذان دینا مستحب و جائز ہے۔
#اذان_سےوباکےعذاب_کاٹلنا
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے رویت ہے کہ حضور سیّدِ عالَم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
"اِذَا اَذَّنَ فِیْ قَرِیَةٍ اٰمَنَھَا اللہُ مِنْ عَذَابِهٖ فِیْ ذٰلِكَ الْیَوْمِ"
جب کسی بستی میں اذان دی جائے تو اللہ تعالی اس دن اسے اپنے عذاب سے امن دے دیتا ہےـ
[المعجم الکبیر مرویات انس بن مالك، جلد 1، صفحہ257، حدیث:746، مطبوعہ المکتبة الفیصلیه بیروت]
یہی وجہ ہے کہ مسلمان اس وبائی عذاب کو ٹالنے کیلئے فرمانِ مصطفٰی ﷺ کے مطابق اذنیں دے رہے ہیں۔
#وبا_کی_وحشت_دورکرنےکیلئےاذان
ابونعیم و ابن عساکر حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راویت کرتے ہیں کہ حضور سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
نَزَلَ آدَمُ بِالْھِندِ فَاسْتَوْحَشَ فَنَزَلَ جِبْرَئِیْلُ عَلَیْه الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام فَنَادیٰ بِالْاَذَاَنِ
یعنی: جب آدم علیہ الصلاۃ والسلام جنت سے ھندوستان میں اترے انہیں گھبراہٹ ہوئی تو جبرئیل علیہ الصلاۃ والسلام نے اتر کر اذان دی۔
[حلیة الاولیاء مرویات عمرو بن قیس الملائی ، جلد 2، صفحہ 107، رقم:299 ، مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت]
مسند الفردوس میں حضرت جناب امیرُ المومنین مولٰی المسلمین سیدنا علی مرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم سے روایت ہے:
قَالَ رَایٰ النَّبِیُّ صَلّٰی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْهِ وَسَلَّم حُزِیْناً فَقَالَ یَا ابْنَ اَبِیْ طَالِبٍ اِنِّیْ اَرَاكَ حُزِیْناً فَمُرْ بَعْضَ اَھْلِكَ یُؤَذِّنُ فِیْ اُذُنِكَ فَاِنَّهٗ دَرْءُ الْھَّمِ
یعنی: مولا علی کہتے ہیں مجھے حضور سیّدِ عالَم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے غمگین دیکھا ارشاد فرمایا: اے علی! میں تجھے غمگین پاتا ہوں اپنے کسی گھر والے سے کہہ کہ تیرے کان میں اذان کہے، اذان غم وپریشانی کی دافع ہے۔
[مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوہ المصابیح باب الاذان ، جلد 2، صفحہ 149، مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان]
اذان دینے سے جہاں وبا سے امان ملتا ہے وہاں وحشت بھی دور ہوتی ہے۔ لہذا اس ثابت شدہ امر کو بدعت و جہالت کہنا بہت بڑی زیادتی ہے۔
اور مانعین اسکے ناجائز و بدعت ہونے پر ایک بھی دلیل پیش نہیں کر سکتے۔
#محدث_وھابیہ_کی_گواہی
صاحبو ! مانعین کہتے ہیں کہ فرض نماز کے علاوہ اذان دینا کہیں سے بھی ثابت نہیں اور بدعت و جہالت ہے۔ آئیے فرض نماز وں کے علاوہ اذانوں کا ثبوت ہم انہی کے محدث سے پیش کرتے ہیں۔
وھابی مذھب کے محدث و انکے مجدد مولوی نواب صدیق حسن خان بھوپالی لکھتے ہیں کہ:
”زید بن اسلم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ بعض معاون پر والی تھے۔ لوگوں نے کہا یہاں جن بہت ہیں۔ کثرت سے اذانیں (ایک ہی) وقت پر کہا کرو ، چنانچہ ایسے ہی کیا گیا اور پھر کسی جن کو وہاں نہ دیکھا“
[کتاب الدعاء والدواء ، صفحہ 76، مطبوعہ اسلامی کتب خانہ لاھور]
وھابیہ کے محدث نے اس بات کو تسلیم کیا کہ نمازوں کے علاوہ بھی کثرت کیساتھ اکٹھی اذانیں دینے سے بلائیں بھاگ جاتی ہیں۔
تو کیا فتویٰ لگے گا آپکے محدث بھوپالی پر ؟؟
وھابیہ کے یہی محدث بھوپالی اپنی کتاب میں ھیڈنگ دے کر لکھتے ہیں ”مشکلات سے نکلنے کیلئے“ پھر اس عنوان کے تحت لکھتے ہیں کہ:
”حضرت علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مجھ کو مہموم (پریشان) دیکھ کر فرمایا کہ اپنے گھر والوں میں سے کسی کو حکم دے کہ وہ تیرے کان میں اذان کہہ دیں کہ یہ دواءِ ھم (یعنی پریشانی کی دواء) ہے چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا مجھ سے غم دور ہو گیا۔“
[کتاب الدعاء والدواء ، صفحہ 76، مطبوعہ اسلامی کتب خانہ لاھور]
تو وھابیہ کے محدث نے بھی تسلیم کیا کہ اذان سے غم دور ہوتا ہے۔ اور مشکلات ٹَلتی ہیں، تو سوچو جب مسلمانوں کی اذانوں کی آواز اتنے لوگوں کے کانوں میں پڑی تو کتنا سکون ملا ہو گا۔
اگر نماز کے علاوہ اذان دینا جہالت و بدعت ہے تو کیا حکم لگے گا آپکے محدث بھوپالی صاب پر ؟؟
#مرگی_کےعلاج_کیلئےاذا
کیونکہ وبا و بلا و عذاب میں اذان دینا ایک مستحب امر جو اللہ کریم ﷻ کے غضب کو دور کرتا ہے لہذا مسلمان اپنے اپنے علاقوں میں اللہ کی توحید اور نبی کریم ﷺ کی رسالت کی گواہی اذان کے ذریعے بلند کر رہے ہیں۔
ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جو خود کو مسلمان کہتا ہے وہ اس عمل کو نہ صرف سراہتا بلکہ دعا کرتا کہ اللہ کریم ﷻ اپنے اس ذکر(یعنی اذان) کے صدقے اس وباء کو ٹال دے۔
میں ان حالات میں اس چیز پر گفتگو نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن افسوس کیساتھ کچھ لوگوں نے اذان دینے والے مسلمانوں پر فتویٰ بازی شروع کر دی اور یہ کہنا شروع کر دیا کہ معاذ اللہ وباء میں اذنیں دینا جہالت ہے ، بدعت ہے اور بدعتی جہمنی ہے۔ وبا میں اذنیں دینا ثابت نہیں۔ تو آئیے ملاحظہ کیجئے۔ کہ جب وباء عذاب کی صورت میں آ جائے تو اذان دینا مستحب و جائز ہے۔
#اذان_سےوباکےعذاب_کاٹلنا
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے رویت ہے کہ حضور سیّدِ عالَم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
"اِذَا اَذَّنَ فِیْ قَرِیَةٍ اٰمَنَھَا اللہُ مِنْ عَذَابِهٖ فِیْ ذٰلِكَ الْیَوْمِ"
جب کسی بستی میں اذان دی جائے تو اللہ تعالی اس دن اسے اپنے عذاب سے امن دے دیتا ہےـ
[المعجم الکبیر مرویات انس بن مالك، جلد 1، صفحہ257، حدیث:746، مطبوعہ المکتبة الفیصلیه بیروت]
یہی وجہ ہے کہ مسلمان اس وبائی عذاب کو ٹالنے کیلئے فرمانِ مصطفٰی ﷺ کے مطابق اذنیں دے رہے ہیں۔
#وبا_کی_وحشت_دورکرنےکیلئےاذان
ابونعیم و ابن عساکر حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راویت کرتے ہیں کہ حضور سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
نَزَلَ آدَمُ بِالْھِندِ فَاسْتَوْحَشَ فَنَزَلَ جِبْرَئِیْلُ عَلَیْه الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام فَنَادیٰ بِالْاَذَاَنِ
یعنی: جب آدم علیہ الصلاۃ والسلام جنت سے ھندوستان میں اترے انہیں گھبراہٹ ہوئی تو جبرئیل علیہ الصلاۃ والسلام نے اتر کر اذان دی۔
[حلیة الاولیاء مرویات عمرو بن قیس الملائی ، جلد 2، صفحہ 107، رقم:299 ، مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت]
مسند الفردوس میں حضرت جناب امیرُ المومنین مولٰی المسلمین سیدنا علی مرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم سے روایت ہے:
قَالَ رَایٰ النَّبِیُّ صَلّٰی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْهِ وَسَلَّم حُزِیْناً فَقَالَ یَا ابْنَ اَبِیْ طَالِبٍ اِنِّیْ اَرَاكَ حُزِیْناً فَمُرْ بَعْضَ اَھْلِكَ یُؤَذِّنُ فِیْ اُذُنِكَ فَاِنَّهٗ دَرْءُ الْھَّمِ
یعنی: مولا علی کہتے ہیں مجھے حضور سیّدِ عالَم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے غمگین دیکھا ارشاد فرمایا: اے علی! میں تجھے غمگین پاتا ہوں اپنے کسی گھر والے سے کہہ کہ تیرے کان میں اذان کہے، اذان غم وپریشانی کی دافع ہے۔
[مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوہ المصابیح باب الاذان ، جلد 2، صفحہ 149، مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان]
اذان دینے سے جہاں وبا سے امان ملتا ہے وہاں وحشت بھی دور ہوتی ہے۔ لہذا اس ثابت شدہ امر کو بدعت و جہالت کہنا بہت بڑی زیادتی ہے۔
اور مانعین اسکے ناجائز و بدعت ہونے پر ایک بھی دلیل پیش نہیں کر سکتے۔
#محدث_وھابیہ_کی_گواہی
صاحبو ! مانعین کہتے ہیں کہ فرض نماز کے علاوہ اذان دینا کہیں سے بھی ثابت نہیں اور بدعت و جہالت ہے۔ آئیے فرض نماز وں کے علاوہ اذانوں کا ثبوت ہم انہی کے محدث سے پیش کرتے ہیں۔
وھابی مذھب کے محدث و انکے مجدد مولوی نواب صدیق حسن خان بھوپالی لکھتے ہیں کہ:
”زید بن اسلم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ بعض معاون پر والی تھے۔ لوگوں نے کہا یہاں جن بہت ہیں۔ کثرت سے اذانیں (ایک ہی) وقت پر کہا کرو ، چنانچہ ایسے ہی کیا گیا اور پھر کسی جن کو وہاں نہ دیکھا“
[کتاب الدعاء والدواء ، صفحہ 76، مطبوعہ اسلامی کتب خانہ لاھور]
وھابیہ کے محدث نے اس بات کو تسلیم کیا کہ نمازوں کے علاوہ بھی کثرت کیساتھ اکٹھی اذانیں دینے سے بلائیں بھاگ جاتی ہیں۔
تو کیا فتویٰ لگے گا آپکے محدث بھوپالی پر ؟؟
وھابیہ کے یہی محدث بھوپالی اپنی کتاب میں ھیڈنگ دے کر لکھتے ہیں ”مشکلات سے نکلنے کیلئے“ پھر اس عنوان کے تحت لکھتے ہیں کہ:
”حضرت علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مجھ کو مہموم (پریشان) دیکھ کر فرمایا کہ اپنے گھر والوں میں سے کسی کو حکم دے کہ وہ تیرے کان میں اذان کہہ دیں کہ یہ دواءِ ھم (یعنی پریشانی کی دواء) ہے چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا مجھ سے غم دور ہو گیا۔“
[کتاب الدعاء والدواء ، صفحہ 76، مطبوعہ اسلامی کتب خانہ لاھور]
تو وھابیہ کے محدث نے بھی تسلیم کیا کہ اذان سے غم دور ہوتا ہے۔ اور مشکلات ٹَلتی ہیں، تو سوچو جب مسلمانوں کی اذانوں کی آواز اتنے لوگوں کے کانوں میں پڑی تو کتنا سکون ملا ہو گا۔
اگر نماز کے علاوہ اذان دینا جہالت و بدعت ہے تو کیا حکم لگے گا آپکے محدث بھوپالی صاب پر ؟؟
#مرگی_کےعلاج_کیلئےاذا
❤1
Forwarded from Urdu Tahrir (Irfan Attari)
ن
وھابیہ کے مجدد بھوپالی نے اپنی کتاب میں عنوان قائم کیا جسکا نام ”مرگی کا علاج“ اسکے تحت وہ لکھتے ہیں کہ:
”بعض علماء نے مرگی والے کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی تھی ، وہ اچھا ہو گیا۔“
[کتاب الدعاء والدواء ، صفحہ 77، مطبوعہ اسلامی کتب خانہ لاھور]
مزید عنوان دیا ”راستہ بھول جانے کا علاج“ اسکے تحت لکھا کہ:
”بعض علماء صالحین نے کہا ہے کہ آدمی جب راستہ بھول جائے اور وہ اذان کہے تو اللہ اسکی رہنمائی فرماوے گا۔“
[کتاب الدعاء والدواء ، صفحہ 76، مطبوعہ اسلامی کتب خانہ لاھور]
مزید اسی کتاب میں آگے چل کر لکھتے ہیں کہ:
”جسکو شیطان خبطی کر دے یا اسکو آسیب کا سایہ ہو.... تو اسکے کان میں سات بار اذان کہےـ“
[کتاب الدعاء والدواء ، صفحہ 76،105، مطبوعہ اسلامی کتب خانہ لاھور]
تو ان دلائل سے ثابت ہوا کہ مصیبت و پریشانی کے وقت اذانیں دینے سے مصیبت وبائیں اور پریشانیاں دور ہوتی ہیں۔ بس اسی جذبے تحت مسلمانوں نے کراؤنا وائرس جیسی وباء سے جھٹکارے کیلئے اللہ کے ذکر یعنی اذان کی تدبیر کی تاکہ اللہ کریم ﷻ اپنے ذکر کی برکت سے اس آفت کو ٹال سے اور مسلمانوں کو خوف وہراس سے نکال دے۔
لیکن کچھ لوگ برا مان گئے نہ صرف برا مانے بلکہ اذانوں کا یہ سلسلہ دیکھ کر مسلمانوں کو نہ صرف بدعتی بلکہ جاھل کہنا شروع کر دیا۔
الحمد للہ ہم نے اتمام حجت کیلئے نہ صرف احادیث سے اسکے جواز کے شوھد پیش کیئے بلکہ انکے اس محدث کے حوالے بھی پیش کیئے جنکے بارے میں انہوں نے لکھا کہ وہ رب سے ہمکلام ہوا کرتے تھے۔
یقیناً اذان سن کر شیطان ہی کو تکلیف ہوتی اور مسلمانوں کو جاھل کہتا ہے کیونکہ اذان سن کر کرشیطان 36 میل دور بھاگ جاتا ہے۔
امام مسلم رحمۃ اللّٰہ علیہ روایت کرتے ہیں:
عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ ذَهَبَ حَتَّى يَكُونَ مَكَانَ الرَّوْحَاءِ» قَالَ سُلَيْمَانُ: فَسَأَلْتُهُ عَنِ الرَّوْحَاءِ فَقَالَ: «هِيَ مِنَ الْمَدِينَةِ سِتَّةٌ وَثَلَاثُونَ مِيلًا»
یعنی: حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : بلاشبہ شیطان جب اذان سنتا ہے تو ( بھاگ کر ) چلا جاتا ہے یہاں تک کہ روحاء کے مقام پر پہنچ جاتا ہے ۔ ‘
سلیمان ( اعمش ) نے کہا : میں نے ان ( اپنے استاد ابو سفیان طلحہ بن نافع ) سے روحاء کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : یہ مدینہ سے چھتیس میل ( کے فاصلے ) پر ہے ۔
[صحیح مسلم، کتاب الصلاۃ، باب فضل الأذان... إلخ، الحدیث:854، مطبوعہ دار السلام ریاض سعودیہ]
لہذا کم از کم مسلمان کو اذان سن کر خوش ہونا چاہئے اور آفت ٹلنے کی دعا کرنی چاہئے نہ کہ پڑھنے والوں کو جاھل و بدعتی کہہ اپنا رشتہ شیطان سے ظاھر کرنا چاہئے۔
اللہ کریم ﷻ سے دعا ہے کہ امت کو اس وبا سے نجات عطا فرمائے اور حق کو سمجھنے کہ توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ النبی الکریم الامین ﷺ
مدینے پاک کا بھکاری
محمداویس رضاعطاری
https://t.me/SirfUrduTahrir/2254
وھابیہ کے مجدد بھوپالی نے اپنی کتاب میں عنوان قائم کیا جسکا نام ”مرگی کا علاج“ اسکے تحت وہ لکھتے ہیں کہ:
”بعض علماء نے مرگی والے کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی تھی ، وہ اچھا ہو گیا۔“
[کتاب الدعاء والدواء ، صفحہ 77، مطبوعہ اسلامی کتب خانہ لاھور]
مزید عنوان دیا ”راستہ بھول جانے کا علاج“ اسکے تحت لکھا کہ:
”بعض علماء صالحین نے کہا ہے کہ آدمی جب راستہ بھول جائے اور وہ اذان کہے تو اللہ اسکی رہنمائی فرماوے گا۔“
[کتاب الدعاء والدواء ، صفحہ 76، مطبوعہ اسلامی کتب خانہ لاھور]
مزید اسی کتاب میں آگے چل کر لکھتے ہیں کہ:
”جسکو شیطان خبطی کر دے یا اسکو آسیب کا سایہ ہو.... تو اسکے کان میں سات بار اذان کہےـ“
[کتاب الدعاء والدواء ، صفحہ 76،105، مطبوعہ اسلامی کتب خانہ لاھور]
تو ان دلائل سے ثابت ہوا کہ مصیبت و پریشانی کے وقت اذانیں دینے سے مصیبت وبائیں اور پریشانیاں دور ہوتی ہیں۔ بس اسی جذبے تحت مسلمانوں نے کراؤنا وائرس جیسی وباء سے جھٹکارے کیلئے اللہ کے ذکر یعنی اذان کی تدبیر کی تاکہ اللہ کریم ﷻ اپنے ذکر کی برکت سے اس آفت کو ٹال سے اور مسلمانوں کو خوف وہراس سے نکال دے۔
لیکن کچھ لوگ برا مان گئے نہ صرف برا مانے بلکہ اذانوں کا یہ سلسلہ دیکھ کر مسلمانوں کو نہ صرف بدعتی بلکہ جاھل کہنا شروع کر دیا۔
الحمد للہ ہم نے اتمام حجت کیلئے نہ صرف احادیث سے اسکے جواز کے شوھد پیش کیئے بلکہ انکے اس محدث کے حوالے بھی پیش کیئے جنکے بارے میں انہوں نے لکھا کہ وہ رب سے ہمکلام ہوا کرتے تھے۔
یقیناً اذان سن کر شیطان ہی کو تکلیف ہوتی اور مسلمانوں کو جاھل کہتا ہے کیونکہ اذان سن کر کرشیطان 36 میل دور بھاگ جاتا ہے۔
امام مسلم رحمۃ اللّٰہ علیہ روایت کرتے ہیں:
عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ ذَهَبَ حَتَّى يَكُونَ مَكَانَ الرَّوْحَاءِ» قَالَ سُلَيْمَانُ: فَسَأَلْتُهُ عَنِ الرَّوْحَاءِ فَقَالَ: «هِيَ مِنَ الْمَدِينَةِ سِتَّةٌ وَثَلَاثُونَ مِيلًا»
یعنی: حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : بلاشبہ شیطان جب اذان سنتا ہے تو ( بھاگ کر ) چلا جاتا ہے یہاں تک کہ روحاء کے مقام پر پہنچ جاتا ہے ۔ ‘
سلیمان ( اعمش ) نے کہا : میں نے ان ( اپنے استاد ابو سفیان طلحہ بن نافع ) سے روحاء کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : یہ مدینہ سے چھتیس میل ( کے فاصلے ) پر ہے ۔
[صحیح مسلم، کتاب الصلاۃ، باب فضل الأذان... إلخ، الحدیث:854، مطبوعہ دار السلام ریاض سعودیہ]
لہذا کم از کم مسلمان کو اذان سن کر خوش ہونا چاہئے اور آفت ٹلنے کی دعا کرنی چاہئے نہ کہ پڑھنے والوں کو جاھل و بدعتی کہہ اپنا رشتہ شیطان سے ظاھر کرنا چاہئے۔
اللہ کریم ﷻ سے دعا ہے کہ امت کو اس وبا سے نجات عطا فرمائے اور حق کو سمجھنے کہ توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ النبی الکریم الامین ﷺ
مدینے پاک کا بھکاری
محمداویس رضاعطاری
https://t.me/SirfUrduTahrir/2254
Telegram
✍ اُردُو تحریر 📃
دنیا اس وقت جس عالمی وبا یعنی کورونا وائرس کی لپیٹ میں ہے۔ ہر ممکن احتیاطی تدابیر اپنائی جا رہی ہیں۔ اللہ کریم ﷻ سے دعائیں مانگی جا رہی ہیں۔ اور توبہ و استغفار کی جا رہی ہے۔
کیونکہ وبا و بلا و عذاب میں اذان دینا ایک مستحب امر جو اللہ کریم ﷻ کے غضب کو دور…
کیونکہ وبا و بلا و عذاب میں اذان دینا ایک مستحب امر جو اللہ کریم ﷻ کے غضب کو دور…