🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
19-03-1445 ᴴ | 05-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
19-03-1445 ᴴ | 05-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
19-03-1445 ᴴ | 05-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
19-03-1445 ᴴ | 05-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
حضرت شاہ رزق اللہ قنوجی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
اسمِ گرامی:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا اسمِ گرامی رزق اللہ قنوجی ۔ اور آپ کا تخلص مشتاق تھا ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادتِ باسعادت 897 ھ میں ہوئی ۔
بیعت و خلافت:
آپ شیخ محمد ملادہ کے مریدوخلیفہ میں سے تھے اور شیخ آپ پر خصوصی عنایت فرمایا کرتے تھے ۔
سیرت و خصائص:
شیخ رزق اللہ مرد کامل، فاضل نوادر روزگار اور یاد گار سلف صالحین تھے ۔ فضائل صوری اور معنوی میں جامع تھے ۔ اسی طرح مشرب عِشق و محبت، سلامت عقل اور وسعت حوصلہ و صبر کے مالک تھے، دوام حضور اور مستقل مزاج ہونے میں یکتائے روز گار تھے ۔ بانوے برس کی عمر تک پہنچ جانے کے باوجود آپ کے اندر عشق و ذوق اسی طرح تازہ تھا جس طرح کہ جوانی کے عالم میں تھے ۔
آپ سے جو کوئی ملاقات کرتا اس سے ایسے معارف آمیز اور محبت انگیز نکات بیان فرمایا کرتے تھے کہ جنھیں اہلِ وجد اور اہل ذوق سن کر تڑپ جایا کرتے تھے ۔ قصے اور مشائخ کے احوال اور ہندوستان کے بادشاہوں کی تاریخ بڑی خوش اسلوبی اور روانی کے ساتھ بیان فرمایا کرتے تھے ۔ آپ کی مثل بہت کم اولیاء اللہ گزرے ہیں ۔
آپ نہایت اطمینان اور بے نظیر انداز سے گفتگو کیا کرتے تھے ۔ محبت کی باتوں کو بڑے شوق سے کہتے اور سنتے تھے اور اس وقت اکثر و بیشتر آبدیدہ ہوا کرتے تھے۔ آپ کثرت سے سفر کرتے تھے اور ان سفروں میں لوگوں کی صحبت حاصل کرکے بڑے تجربے کار بزرگ بن گئے ۔
آپ ہمیشہ فقیروں درویشوں اور مشائخ کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے ۔ ہندی اور فارسی کے شاعر بھی تھے ۔ مدت دراز تک ہندی زَبان میں شعر کہتے رہے آپ کی نظموں کا مجموعہ ’’ پیمان و جوت نرنجن ‘‘ نہایت مقبول ہے ۔ ہندی زَبان میں جب شعر کہتے تو اپنا تخلص راجن، اور فارسی میں مشتاق رکھتے تھے ۔
تاریخِ وصال:
شیخ رزق اللہ قنوجی رحمۃ اللہ علیہ نے ۲۰ ربیع الاول ۹۸۹ھ / بمطابق اپریل 1581 ء میں عالِم دنیا سے عالمِ پائدار میں چلے گئے ۔
ماخذ و مراجع: اخبار الاخیار
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-rizqullah-qanoji
اسمِ گرامی:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا اسمِ گرامی رزق اللہ قنوجی ۔ اور آپ کا تخلص مشتاق تھا ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادتِ باسعادت 897 ھ میں ہوئی ۔
بیعت و خلافت:
آپ شیخ محمد ملادہ کے مریدوخلیفہ میں سے تھے اور شیخ آپ پر خصوصی عنایت فرمایا کرتے تھے ۔
سیرت و خصائص:
شیخ رزق اللہ مرد کامل، فاضل نوادر روزگار اور یاد گار سلف صالحین تھے ۔ فضائل صوری اور معنوی میں جامع تھے ۔ اسی طرح مشرب عِشق و محبت، سلامت عقل اور وسعت حوصلہ و صبر کے مالک تھے، دوام حضور اور مستقل مزاج ہونے میں یکتائے روز گار تھے ۔ بانوے برس کی عمر تک پہنچ جانے کے باوجود آپ کے اندر عشق و ذوق اسی طرح تازہ تھا جس طرح کہ جوانی کے عالم میں تھے ۔
آپ سے جو کوئی ملاقات کرتا اس سے ایسے معارف آمیز اور محبت انگیز نکات بیان فرمایا کرتے تھے کہ جنھیں اہلِ وجد اور اہل ذوق سن کر تڑپ جایا کرتے تھے ۔ قصے اور مشائخ کے احوال اور ہندوستان کے بادشاہوں کی تاریخ بڑی خوش اسلوبی اور روانی کے ساتھ بیان فرمایا کرتے تھے ۔ آپ کی مثل بہت کم اولیاء اللہ گزرے ہیں ۔
آپ نہایت اطمینان اور بے نظیر انداز سے گفتگو کیا کرتے تھے ۔ محبت کی باتوں کو بڑے شوق سے کہتے اور سنتے تھے اور اس وقت اکثر و بیشتر آبدیدہ ہوا کرتے تھے۔ آپ کثرت سے سفر کرتے تھے اور ان سفروں میں لوگوں کی صحبت حاصل کرکے بڑے تجربے کار بزرگ بن گئے ۔
آپ ہمیشہ فقیروں درویشوں اور مشائخ کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے ۔ ہندی اور فارسی کے شاعر بھی تھے ۔ مدت دراز تک ہندی زَبان میں شعر کہتے رہے آپ کی نظموں کا مجموعہ ’’ پیمان و جوت نرنجن ‘‘ نہایت مقبول ہے ۔ ہندی زَبان میں جب شعر کہتے تو اپنا تخلص راجن، اور فارسی میں مشتاق رکھتے تھے ۔
تاریخِ وصال:
شیخ رزق اللہ قنوجی رحمۃ اللہ علیہ نے ۲۰ ربیع الاول ۹۸۹ھ / بمطابق اپریل 1581 ء میں عالِم دنیا سے عالمِ پائدار میں چلے گئے ۔
ماخذ و مراجع: اخبار الاخیار
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-rizqullah-qanoji
scholars.pk
Hazrat Shah Rizqullah Qanoji
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت مفتی وقار الدین قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مفتی محمد وقار الدین ۔ لقب: فقیہ العصر، مفتیِ اعظم پاکستان، وقار الملت والدین ۔ والد کا اسم گرامی: حافظ حمید الدین علیہ الرحمہ ۔
حضرت مفتی صاحب کے آباؤ اجداد زراعت سے وابستہ اور زمیندار تھے ۔مذہب کے اعتبار سے سب صوم و صلوٰۃ کے پابند ،اور عقیدتاً سنی تھے۔آپ کے والد اور چچا حافظ قرآن تھے۔اسی طرح آپ کے خاندان میں حفاظِ کرام کافی تعداد میں تھے۔ (حیات وقار الملت:4)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت با سعادت بروز جمعۃ المبارک، 14 صفر المظفر 1333ھ مطابق یکم جنوری 1915ء کو قصبہ ’’کھمریہ‘‘ ضلع پیلی بھیت (انڈیا) میں ہوئی ۔ (ایضا: 4)
تحصیلِ علم:
اسکول کی ابتدائی تعلیم چوتھی کلاس تک اپنے گاؤں میں حاصل کی۔ پانچویں کلاس میں بریلی شریف کے اسکول میں داخلہ لیا۔ پانچویں کلاس کا امتحان ہوا تو ضلع بھر میں فرسٹ پوزیشن حاصل کی اور انعام بھی ملا ۔ آپ کے بے حد اصرار پر آپ کے والد صاحب نے آپ کو پیلی بھیت میں مدرسہ ’’آستانہ شیریہ ‘‘ میں دینی تعلیم کیلئے داخل کروایا۔ اس مدرسہ میں آپ کے اساتذہ میں ایک مولانا حبیب الرحمن تھے جو کہ حضرت مولانا مفتی وصی احمد محدث سورتی کے خاص شاگردوں میں سے تھے اور دوسرے مولانا عبد الحق تھے جن کو اکثر کتابوں کی عبارات زبانی یاد تھیں ۔ چار سال اس مدرسہ میں تعلیم حاصل کی۔ ایک روز آپ کے استاد محترم مولانا حبیب الرحمن نے آپ کو مشورہ دیا کہ مزید تعلیم کیلئے بریلی شریف چلے جائیں ، چنانچہ مولانا حبیب الرحمن نے آپ کو خانقاہ رضویہ بریلی شریف کے مدرسہ ’’جامعہ رضویہ منظر الاسلام ‘‘ میں داخلہ دلوایا۔ وہیں آپ نے صدر الشریعۃ مفتی محمد امجد علی اعظمی،محدث اعظم پاکستان مولانا سر دار احمد، شیخ الحدیث علامہ تقدس علی خان رضوی ، مولانا سردار علی خان رضوی ، مولانا احسان الہی وغیرہ اساتذہ کرام سے تعلیم حاصل کی۔ جب مفتی امجد علی اعظمی بریلی شریف سے ’’دادوں‘‘ چلے گئے تو آپ صدر الشریعہ کی خدمت میں دادوں حاضر ہو گئے اور مزید تین سال تک وہیں تعلیم حاصل کی۔ 1938ء میں دورہ حدیث شریف مکمل کیا اور اسی سال دستار بندی ہوئی۔ (انوار علمائے اہل سنت سندھ: 1008)
حضرت مفتی وقار الدین کو اللہ جل شانہ نے قوت حافظہ کی نعمت عطاء فرمائی تھی۔جو بات ایک بار پڑھ لیتے وہ ذہن میں نقش ہوجاتی۔ کتبِ فقہ کی عبارات اور اختلاف آئمہ سب ذہن میں محفوظ تھا۔آپ نے خود بیان کیا کہ: ’’صدر الشریعہ مولانا امجد علی اعظمی فرماتے تھے، کہ اساتذہ سے پوچھا کرو ،آج اگر شرم کروگے تو پھر کب سیکھوگے۔ اس لیے کلاس میں سب سےزیادہ سوالات میں ہی کرتاتھا۔بعض دوسرے ساتھی جو صدرالشریعہ کے رعب کی وجہ سے گھبراتےتھے،وہ بھی مجھے کہتےتھے کہ میرا سوال حضرت سےپوچھو، چنانچہ میں پوچھ لیا کرتا تھا‘‘۔ (مقدمہ وقارالفتاویٰ جلد اول)
ساری رات مطالعہ کرنا:
حضرت مولانا مفتی وقار الدین اکثر پوری پوری رات مطالعے میں گزار دیتےتھے۔ بخاری شریف پڑھنے کے لیے ’’عینی‘‘ کا مطالعہ کرنا اپنے اوپر لازم کرلیا تھا۔روزانہ بخاری شریف کے آٹھ صفحات پڑھنے ہوتے تھے،اور بخاری کے ایک صفحہ کی تشریح عینی کے کئی صفحات بن جاتے ہیں۔ آپ کی محنت اور صلاحیت کی بناء پر فراغت کے بعد دارالعلوم منظر اسلام میں تدریس کےلئے منتخب کیا گیا ۔
بیعت و خلافت:
آپ بعد فراغتِ تحصیلِ علم حجۃ الاسلام حضرت علامہ مولانا حامد رضا خان بریلوی کے دست مبارک پر بیعت ہوئے اور ان کے چھوٹے بھائی مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی مصطفی رضا خان بریلوی نے خلافت سے نوازا ۔
سیرت و خصائص:
جامع المنقول والمعقول، حاوی الفروع والاصول، فقیہ العصر، مفتیِ اعظم پاکستان، وقار الملت والدین حضرت علامہ مولانا مفتی وقار الدین ۔ مفتی صاحب علماء اہل سنت میں ایک علمی مقام رکھتے ہیں، آپ کی تدریسی، تصنیفی، قومی و ملی خدمات بہت زیادہ ہیں ۔ آپ تمام علوم و فنون پر کامل مہارت رکھتے تھے۔ بالخصوص فقہ میں تو فقیہ العصر اور اپنے وقت کے مفتیِ اعظم پاکستان تھے۔یہ سب کچھ آپ کی زمانۂ طالب علمی کی محنت،اور خداد صلاحیت، اور حضرت صدرالشریعہ کی تربیت و محنت کی بدولت تھا۔دارالعلوم منظر اسلام بریلی شریف، کے پرنور ماحول میں طلباء کی ایسی ہی تربیت ہوا کرتی تھی،کہ ان کو دین و مسلک اور ملک و ملت کا درد ملتا تھا۔یہی وجہ ہے کہ اس دار العلوم کے فیض یافتگان کی فہرست پر نظر کریں کہ ایک ایک طالب علم یہاں سے ایسا منور ہوا، کہ اس نے پھر ایک جہان کو منور کر دیا ۔ مفتی صاحب بھی منظر اسلام کے خوشہ چیں تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ ساری زندگی درس و تدریس، تصنیف و تالیف، وعظ و نصیحت، اور ملک وملت کی خدمت میں گزری ۔
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مفتی محمد وقار الدین ۔ لقب: فقیہ العصر، مفتیِ اعظم پاکستان، وقار الملت والدین ۔ والد کا اسم گرامی: حافظ حمید الدین علیہ الرحمہ ۔
حضرت مفتی صاحب کے آباؤ اجداد زراعت سے وابستہ اور زمیندار تھے ۔مذہب کے اعتبار سے سب صوم و صلوٰۃ کے پابند ،اور عقیدتاً سنی تھے۔آپ کے والد اور چچا حافظ قرآن تھے۔اسی طرح آپ کے خاندان میں حفاظِ کرام کافی تعداد میں تھے۔ (حیات وقار الملت:4)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت با سعادت بروز جمعۃ المبارک، 14 صفر المظفر 1333ھ مطابق یکم جنوری 1915ء کو قصبہ ’’کھمریہ‘‘ ضلع پیلی بھیت (انڈیا) میں ہوئی ۔ (ایضا: 4)
تحصیلِ علم:
اسکول کی ابتدائی تعلیم چوتھی کلاس تک اپنے گاؤں میں حاصل کی۔ پانچویں کلاس میں بریلی شریف کے اسکول میں داخلہ لیا۔ پانچویں کلاس کا امتحان ہوا تو ضلع بھر میں فرسٹ پوزیشن حاصل کی اور انعام بھی ملا ۔ آپ کے بے حد اصرار پر آپ کے والد صاحب نے آپ کو پیلی بھیت میں مدرسہ ’’آستانہ شیریہ ‘‘ میں دینی تعلیم کیلئے داخل کروایا۔ اس مدرسہ میں آپ کے اساتذہ میں ایک مولانا حبیب الرحمن تھے جو کہ حضرت مولانا مفتی وصی احمد محدث سورتی کے خاص شاگردوں میں سے تھے اور دوسرے مولانا عبد الحق تھے جن کو اکثر کتابوں کی عبارات زبانی یاد تھیں ۔ چار سال اس مدرسہ میں تعلیم حاصل کی۔ ایک روز آپ کے استاد محترم مولانا حبیب الرحمن نے آپ کو مشورہ دیا کہ مزید تعلیم کیلئے بریلی شریف چلے جائیں ، چنانچہ مولانا حبیب الرحمن نے آپ کو خانقاہ رضویہ بریلی شریف کے مدرسہ ’’جامعہ رضویہ منظر الاسلام ‘‘ میں داخلہ دلوایا۔ وہیں آپ نے صدر الشریعۃ مفتی محمد امجد علی اعظمی،محدث اعظم پاکستان مولانا سر دار احمد، شیخ الحدیث علامہ تقدس علی خان رضوی ، مولانا سردار علی خان رضوی ، مولانا احسان الہی وغیرہ اساتذہ کرام سے تعلیم حاصل کی۔ جب مفتی امجد علی اعظمی بریلی شریف سے ’’دادوں‘‘ چلے گئے تو آپ صدر الشریعہ کی خدمت میں دادوں حاضر ہو گئے اور مزید تین سال تک وہیں تعلیم حاصل کی۔ 1938ء میں دورہ حدیث شریف مکمل کیا اور اسی سال دستار بندی ہوئی۔ (انوار علمائے اہل سنت سندھ: 1008)
حضرت مفتی وقار الدین کو اللہ جل شانہ نے قوت حافظہ کی نعمت عطاء فرمائی تھی۔جو بات ایک بار پڑھ لیتے وہ ذہن میں نقش ہوجاتی۔ کتبِ فقہ کی عبارات اور اختلاف آئمہ سب ذہن میں محفوظ تھا۔آپ نے خود بیان کیا کہ: ’’صدر الشریعہ مولانا امجد علی اعظمی فرماتے تھے، کہ اساتذہ سے پوچھا کرو ،آج اگر شرم کروگے تو پھر کب سیکھوگے۔ اس لیے کلاس میں سب سےزیادہ سوالات میں ہی کرتاتھا۔بعض دوسرے ساتھی جو صدرالشریعہ کے رعب کی وجہ سے گھبراتےتھے،وہ بھی مجھے کہتےتھے کہ میرا سوال حضرت سےپوچھو، چنانچہ میں پوچھ لیا کرتا تھا‘‘۔ (مقدمہ وقارالفتاویٰ جلد اول)
ساری رات مطالعہ کرنا:
حضرت مولانا مفتی وقار الدین اکثر پوری پوری رات مطالعے میں گزار دیتےتھے۔ بخاری شریف پڑھنے کے لیے ’’عینی‘‘ کا مطالعہ کرنا اپنے اوپر لازم کرلیا تھا۔روزانہ بخاری شریف کے آٹھ صفحات پڑھنے ہوتے تھے،اور بخاری کے ایک صفحہ کی تشریح عینی کے کئی صفحات بن جاتے ہیں۔ آپ کی محنت اور صلاحیت کی بناء پر فراغت کے بعد دارالعلوم منظر اسلام میں تدریس کےلئے منتخب کیا گیا ۔
بیعت و خلافت:
آپ بعد فراغتِ تحصیلِ علم حجۃ الاسلام حضرت علامہ مولانا حامد رضا خان بریلوی کے دست مبارک پر بیعت ہوئے اور ان کے چھوٹے بھائی مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی مصطفی رضا خان بریلوی نے خلافت سے نوازا ۔
سیرت و خصائص:
جامع المنقول والمعقول، حاوی الفروع والاصول، فقیہ العصر، مفتیِ اعظم پاکستان، وقار الملت والدین حضرت علامہ مولانا مفتی وقار الدین ۔ مفتی صاحب علماء اہل سنت میں ایک علمی مقام رکھتے ہیں، آپ کی تدریسی، تصنیفی، قومی و ملی خدمات بہت زیادہ ہیں ۔ آپ تمام علوم و فنون پر کامل مہارت رکھتے تھے۔ بالخصوص فقہ میں تو فقیہ العصر اور اپنے وقت کے مفتیِ اعظم پاکستان تھے۔یہ سب کچھ آپ کی زمانۂ طالب علمی کی محنت،اور خداد صلاحیت، اور حضرت صدرالشریعہ کی تربیت و محنت کی بدولت تھا۔دارالعلوم منظر اسلام بریلی شریف، کے پرنور ماحول میں طلباء کی ایسی ہی تربیت ہوا کرتی تھی،کہ ان کو دین و مسلک اور ملک و ملت کا درد ملتا تھا۔یہی وجہ ہے کہ اس دار العلوم کے فیض یافتگان کی فہرست پر نظر کریں کہ ایک ایک طالب علم یہاں سے ایسا منور ہوا، کہ اس نے پھر ایک جہان کو منور کر دیا ۔ مفتی صاحب بھی منظر اسلام کے خوشہ چیں تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ ساری زندگی درس و تدریس، تصنیف و تالیف، وعظ و نصیحت، اور ملک وملت کی خدمت میں گزری ۔
❤2