🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
19-03-1445 ᴴ | 05-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
19-03-1445 ᴴ | 05-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
19-03-1445 ᴴ | 05-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
19-03-1445 ᴴ | 05-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت شاہ رزق اللہ قنوجی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

اسمِ گرامی:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا اسمِ گرامی رزق اللہ قنوجی ۔ اور آپ کا تخلص مشتاق تھا ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادتِ باسعادت 897 ھ میں ہوئی ۔

بیعت و خلافت:
آپ شیخ محمد ملادہ کے مریدوخلیفہ میں سے تھے اور شیخ آپ پر خصوصی عنایت فرمایا کرتے تھے ۔

سیرت و خصائص:
شیخ رزق اللہ مرد کامل، فاضل نوادر روزگار اور یاد گار سلف صالحین تھے ۔ فضائل صوری اور معنوی میں جامع تھے ۔ اسی طرح مشرب عِشق و محبت، سلامت عقل اور وسعت حوصلہ و صبر کے مالک تھے، دوام حضور اور مستقل مزاج ہونے میں یکتائے روز گار تھے ۔ بانوے برس کی عمر تک پہنچ جانے کے باوجود آپ کے اندر عشق و ذوق اسی طرح تازہ تھا جس طرح کہ جوانی کے عالم میں تھے ۔

آپ سے جو کوئی ملاقات کرتا اس سے ایسے معارف آمیز اور محبت انگیز نکات بیان فرمایا کرتے تھے کہ جنھیں اہلِ وجد اور اہل ذوق سن کر تڑپ جایا کرتے تھے ۔ قصے اور مشائخ کے احوال اور ہندوستان کے بادشاہوں کی تاریخ بڑی خوش اسلوبی اور روانی کے ساتھ بیان فرمایا کرتے تھے ۔ آپ کی مثل بہت کم اولیاء اللہ گزرے ہیں ۔

آپ نہایت اطمینان اور بے نظیر انداز سے گفتگو کیا کرتے تھے ۔ محبت کی باتوں کو بڑے شوق سے کہتے اور سنتے تھے اور اس وقت اکثر و بیشتر آبدیدہ ہوا کرتے تھے۔ آپ کثرت سے سفر کرتے تھے اور ان سفروں میں لوگوں کی صحبت حاصل کرکے بڑے تجربے کار بزرگ بن گئے ۔

آپ ہمیشہ فقیروں درویشوں اور مشائخ کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے ۔ ہندی اور فارسی کے شاعر بھی تھے ۔ مدت دراز تک ہندی زَبان میں شعر کہتے رہے آپ کی نظموں کا مجموعہ ’’ پیمان و جوت نرنجن ‘‘ نہایت مقبول ہے ۔ ہندی زَبان میں جب شعر کہتے تو اپنا تخلص راجن، اور فارسی میں مشتاق رکھتے تھے ۔

تاریخِ وصال:
شیخ رزق اللہ قنوجی رحمۃ اللہ علیہ نے ۲۰ ربیع الاول ۹۸۹ھ / بمطابق اپریل 1581 ء میں عالِم دنیا سے عالمِ پائدار میں چلے گئے ۔

ماخذ و مراجع: اخبار الاخیار

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-rizqullah-qanoji
1